بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
پیر, 02 اپریل 2018 14:56

حدیث کی صحت و ضعف میں اختلاف اور اس کے اسباب

Written by  الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف

حدیث کی صحت و ضعف میں اختلاف  اور اس کے اسباب

حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ[1]

علم عِللِ حدیث دنیا کا سب سے زیادہ نازک اور باریک ترین علم ہے ،اس میں صحت وضعف کے فیصلے کی تبدیلی کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔یہ فن ایک بحرِ ناپیدا کنار ہے ، اس کی غوّاصی سے نئی نئی چیزیں بر آمد ہوتی رہتی ہیں۔مثلا َ

ایک محقق نے ایک مدلّس کی روایت کوعنعنہ کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ،لیکن ایک دوسرے محقق کو اس کی تحدیث یا سماع کی صراحت مل گئی ،اور اس طرح وجہ ضعف ختم ہو گئی۔

یا کسی ضعیف روایت کے متابعات وشواہد صحیح سند کےساتھ مل گئے، جو پہلے علم میں نہیں آئے تھے، ان متابعات و شواہد کی وجہ سے روایت کاضعف دور ہو گیا ۔

یا کسی مرسل روایت کا ایسا طریق مل گیا ،جو موصول تھا ،اس لیے ارسال کی وجہ سے جو ضعف تھا، وہ دور ہو گیا ۔یا کسی مختلط راوی کی روایت کو اس کے اختلاط کی وجہ سے ضعیف قرار دیا گیا، لیکن دوسرے محقق کو اس بات کے شواہد مل گئے کہ اس کی یہ روایت تو اختلاط سےقبل کی ہے،اور یوں وجہ ضعف دور ہو گئی ۔

بہر حال یہ اور اس قسم کے دوسرے اسباب ضعف بعض دفعہ دور ہو جاتے ہیں اورروایت صحیح قرار پاتی ہے ۔اور یہی معاملہ صحیح روایت کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک محقق کے نزدیک اس میں بظاہر ضعف کی کوئی وجہ نہیں ہو تی ،اس لیے وہ اسے صحیح قراردے دیتا ہے ۔ لیکن کسی اور محقق کے علم میں اس کے ضعف کے اسباب آجاتے ہیں جن کی بنا پر اس کے لیے اسے ضعیف قرار دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو تا۔

اور یہ بھی ضروری نہیںکہ دوسرے محقق ہی کے علم میں ایسی معلومات آئیں جن سے حدیث کا حکم بدل جا ئے ،بلکہ خود فیصلہ کرنے والے کے علم میں بھی کوئی نئی معلومات آسکتی ہیں جن کی وجہ اس کا پہلا فیصلہ غلط قرار پائے ۔ شیخ البانی رحمہ اللہ کی عمر فنّ ِ حدیث کی خدمت میں گزری، اور ان کا ایک ایک لمحہ اسی کام کے لیے وقف رہا ۔انہوں نے سیکڑوں حدیثوں کی بابت اپنا فیصلہ تبدیل کیا ،جن کو ان کے بعض تلامذہ نے ’’ تراجع العلامۃ الالبانی فیما نصّ علیہ تصحیحاّ وّ تضعیفاً‘‘کے نا م سے شائع بھی کر دیا ہے۔

جب واقعہ یہ ہے تو حدیث کی بابت دو محققوں کے ایک دوسرے سے مختلف فیصلے سے عوام کو گھبرانا یا تشویش میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے ۔اہل علم کے لیے دونوں فیصلوں کا سامنے رہنا مفید ہے ۔ شاید کوئی اور محقق اس میدان میں آمنے سامنے آئے اور وہ موازنہ کر کے دونوں میں سے کسی ایک کے فیصلے کو دلائل کی رو سے راجح قرار دے دے۔یا اپنا حقِ نظر ثانی استعما ل کر کے خود محقق ہی اپنا فیصلہ تبدیل کرلے۔ علاوہ ازیں ایسی مختلف فیہ روایت پر عمل کرنے میں عوام کو اختیار ہے ،اگر وہ ایک ضعیف حدیث پر اس وجہ سے عمل کر لیں گے کہ ایک محقق نے اس کو صحیح قرار دیا ہے،تو امید ہے وہ محقق ہی کی طرح عنداللہ ماجور ہوں گے ،کیونکہ محقق اور عوام دونوں کے سامنے کوئی مخصوص فقہ اور اس کے مسائل نہیں ہیں،بلکہ حدیث کی عظمت ہی اس پر عمل کرنے کی محرک ہے۔اوراگر اس پر عمل نہیں کریں گے تو وہ انشاء اللہ گناہ گار نہیں ہوں گے،کیونکہ ایک محقق نے بہر حال اس کی تحقیق کر کے ہی اسے ضعیف قرار دیا ہے ،گو نفس الامر میں وہ صحیح ہی ہو ۔

اس میں اصل بنیاد دو چیزیں ہیں ،ایک نیت، دوسرا دیانتدارانہ محنت۔نیت یہ ہو کہ حدیث رسول پر عمل کرنا ہے ۔دوسرے ،یہ کہ حدیث کی تلاش وجستجو اور اس کی صحت وضعف کی تحقیق میں اس نے کوتا ہی نہ کی ہو۔ان دو چیزوں کے بعد وہ اُن میں کامیاب ہوگیا۔ تب بھی، اور ناکام رہا تب بھی۔ دونوں ہی صورتوں میں وہ عنداللہ فائز المرام ہی رہے گا۔محدثین کے بیان کر دہ اصولوں اور وضاحتوں سے بھی اس کی تا ئید ہوتی ہے جو ہم بیان کر رہے ہیں۔ مثلاً محدثین کی بعض وضاحتیں حسب ذیل ہیں :

جب کسی حدیث کی بابت کہا جائے ’’ ھذا حدیث صحیح‘‘تو اس سےمراد نفس الامر میں حدیث کا قطعی صحیح ہو نا نہیں ہو تا ،کیونکہ اس میں ثقہ رواۃ کی خطا و نسیان کی گنجائش باقی رہتی ہے ۔[2]

اسی طرح’’ ھذا حدیث غیر صحیح‘(یہ حدیث صحیح نہیں ہے)سے مرا دنفس الامر میں حدیث کا کذب (جھوٹا)ہونا نہیں ہوتا ، کیونکہ کاذب راوی کے صدق کا اور کثیر الخطا راوی کی اصابت کا امکان باقی رہتا ہے۔[3]

’’رجالہ رجال الصحیح‘‘(اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں)کہنا بھی صحتِ حدیث کی قطعی دلیل نہیں ہو تا ،کیونکہ صحیحین یاصحیح کے بعض راوی متکلم فیہ بھی ہیں۔ اور شیخین (امام بخاری ،و امام مسلم) ان سے صرف اسی وقت روایت کرتےہیں۔جب ان کی متابعت پائی جاتی ہو یا ان کے شواہد ہوں یا ان کو علم ہو کہ ان کی کوئی اصل موجود ہے ۔اسی لیے اگر وہ راوی کسی روایت میں منفرد ہوں یا ثقات کے خلاف راویت کریں ،تو ایسی صورت میں وہ ان سے روایت نہیں کرتے ،پس صحیح کے راوی ہونے کے باوجود اس بات کا احتما ل رہتا ہےکہ اس محدث کی شرائط میں سے ایسی کوئی شرط مفقود ہوجس کو صاحب صحیح نے بہ وقت تصحیح و تخریج ملحوظ رکھا تھا۔ (تفصیل کے لیے ملا حظہ ہو۔ کتاب’’ ضعیف احادیث کی معرفت اور ان کی شرعی حیثیت ‘‘ تالیف غازی عزیر الجبیل،سعودی عرب )

ان اصولوں یا وضاحتوں سے مقصود اس بات کو واضح کرنا ہے کہ احادیث کی تحقیق کا فن کثیر الجہات ہونے کی وجہ سے نہایت دقیق اور ازحد مشکل ہے ۔اس میں پوری کوشش کرنے کے باوجود دوسرے پہلو کا امکان رہتا ہے ،تا ہم جب تک دوسرے پہلو کی واضح اور قطعی دلیل نہ ملے ،پہلی ہی بات اور فیصلےپر عمل کیا جائے گا ،اس لیے جن احادیث کی صحت و ضعف میں دو محققین کا اختلاف ہو ، وہاں تو دوسرے پہلو کا امکان زیادہ ہے ۔بنا بریں کسی حدیث کی صحت وضعف میں اختلاف کی صور ت میں عوام کے لیے اختیار کی گنجائش بھی ہے جیسا کہ پہلے وضاحت کی گئی ہے ۔

ضعیف حدیث مطلقاََ ناقابل عمل ہے

یہ بات یاد رہے کہ یہ اختیار صرف مختلف فیہ روایات میں ہے لیکن جو روایت متفقہ طور پر ضعیف ہے ،اس پر عمل کرنا جائز نہیںہے ۔ضعیف حدیث کے بارے میں اگر چہ اختلاف ہے لیکن راجح مسلک اس پر عمل نہ کرنا ہی ہے۔اس کی بابت چارمسلک مشہور ہیں۔ جو حسب ذیل ہیں۔

(1)ضعیف حدیث مطلقاََ قابلِ قبول اور بلا شرط لائق عمل ہے ۔

(2) ضعیف حدیث مطلقاََ مقبول نہیں ،صرف فضائل اعمال اور ترغیب و ترہیب میں بلا قید شرط مقبول ہے ۔

(3)فضائل اعمال وغیرہ میں ضعیف حدیث چند شرائط کے ساتھ مقبول ہے ،مثلاً (ضعف شدید نہ ہو ، یعنی راوی کذّاب ،متّہم بالکذب اور فاش غلطی کرنے والا نہ ہو ۔وہ حدیث کسی اصلِ عام کے تحت داخل ہو ۔) اور اس حدیث پر عمل کرتے وقت اس کے ثبوت کا اعتقاد نہ رکھا جائے ۔

(4)ضعیف حدیث پر عمل مطلقاََ ناجائز ہے ،یعنی نہ احکام و مسائل میں اس پر عمل کرنا جائز ہے ،نہ فضائل اعمال میں ،اورنہ مشروط اور نہ غیر مشروط طور پر ، یعنی ضعیف حدیث کسی لحاظ سے قابل عمل نہیں ہے۔[4]

قُصّاص واعظین قسم کے علماء کا ایک گروہ صدیوں سے ایسا چلا آرہا ہے اور جس کی اب بھی کثرت ہے ،جو دوسرے مسلک کا قائل ہے اور وہ فضائلِ اعمال میں ضعیف بلکہ موضوع روایا ت تک بیان کرنے سے دریغ نہیں کرتا ۔اسی گروہ کی بدولت مسلمان معاشروں میں ضعیف احادیث عوام میں بہت مشہور ہیں اور ان پر عمل بھی عام ہے ،حالانکہ علما ئے محققین کے نزدیک یہ مسلک صحیح نہیں ہے ۔ جب ضعیف حدیث کی نسبت ہی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کی طرف محقّق (ثابت) نہیں۔ تو اس حدیث سے کسی عمل کا استحباب کیوں کر ثابت ہو سکتا ہے؟تاہم محدثین کا ایک گروہ تیسرے مسلک کا قائل ہے ،لیکن یہ مسلک چوتھے مسلک ہی کے ساتھ جاملتا ہے ،جب اس میں یہ شرط بھی موجود ہے کہ اس میں ضعف بھی شدید نہ ہو اور وہ کسی اصل عام کی تحت بھی داخل ہو تو گو یاعمل تو صحیح حدیث کے عموم پر ہی ہوا، نہ کہ ضعیف حدیث پر ،اس لیے سیدھے طریقے پر یہی کہا جائے کہ چوتھا مسلک ہی صحیح اور قابل عمل ہے اور وہ یہ ہے کہ ضعیف حدیث ،اس کا تعلق احکام و مسائل سے ہو یا فضائل سے،ناقابل عمل ہے ۔

جن علمائے محققین نے اس نقطہ نظر سے احادیث کی جانچ پرکھ کی ہے، انہوں نے محدثین ہی کا منہج اختیار کیا ہے اور وہی کام کیا ہے جو امام بخاری وامام مسلم ،مؤلفین سنن اربعہ اور دیگر محدثین نے کیا ہے، اس لیے اسی مسلک ومنہج کو اختیارکرنے اور اسے ہی فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔

اہل حدیث عوام و خواص سے چند گزارشات

اس موقع پر ہم مناسب اور ضروری سمجھتے ہیںکہ اہل حدیث عوام و خواص سے بھی کچھ گزارشات کریں۔ ہم جانتے ہیں کہ ضعیف حدیث اور اس کے بارے میں محدثین کے جس مسلک کی ہم نے وضاحت کی ہے ،وہ اہل حدیث حضرات کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے ،ان کا الحمد اللہ یہی مسلک ہے اور اسی پروہ عمل پیرا ہیں ،کیونکہ وہ محدثین ہی کی جماعت ہیں اور ان کے فکر ومنہج کے وہ واحد علم بردار ہیں۔اور یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو تقلیدی مذاہب سے بچایا ہے ۔اسی طرح وہ اکابر پرستی سے بھی محفوظ ہیں،اس لیے ا ن کے ہاں یہ بات بھی نہیں ہے کہ فلاںبزرگ نے یہ فرمایاہےیا فلاں بزرگ کا یہ عمل ہے ،قطع نظر اس سے کہ بزرگ کافرمودہ یا عمل حدیث کے مخالف ہے یا موافق؟ان کے ہاں کسی بزرگ کی بات یا عمل اسی وقت قابل قبول ہوتا ہے جب اس کی بنیاد کسی نصّ شرعی پر ہوتی ہے،وہ نص واضح ہو قیاس صحیح کے طریقے پر نص سےمستنبط ہو ۔اس کے بغیر کسی بھی بڑے سے بڑے بزرگ کی کوئی بات یا اس کاعمل اہل حدیث کےہاں کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔

لیکن اس دور میں تحقیقِ حدیث کا جو ذوق عام ہوا ہے اس کے نتیجے میںسنن وغیرہ کی بعض روایات جو تحقیق کے بغیر معمول بہ چلی آرہی تھیں یاعلمائے اہل حدیث کی بعض تالیفات میں درج تھیں۔ علاوہ ازیں ان روایات یا تالیفات کو قبول اور عام درجہ بھی حاصل تھا اورہے ،لیکن تحقیق کے بعد وہ روایت پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچیں گے ،تو اہل حدیث نے الحمدللہ بلا تأمل ان روایات پر عمل کرنا یا ان کو صحیح سمجھنا چھوڑدیا ۔ان کا یہ عمل ان کے فکری منہج کے عین مطابق بھی ہے اور ان کے مزاج و تر بیت کا حصہ بھی ۔

لیکن ہمیں افسوس ہے کہ بعض اہل حدیث عوام وخواص کی طرف سے اس مسلکی منہج اور مزاج و تر بیت کے برعکس یہ باتیں سننے میں آرہی ہے کہ فلاں بزرگ تو اتنے بڑے عالم تھے ،انہوں نے اپنی کتاب میں یہ روایات بیان کی ہیں ، یا عرصۂ دراز سے اہل حدیث ان پر عمل کرتے چلے آرہے ہیں یا ہم شیخ البانی رحمہ اللہ کے یا فلاں محقق کے مقلد تھوڑ ے ہی ہیں !

یہ کہنے والے اگر چہ تعدا د میں نہایت تھوڑے ہیں لیکن ہم ان سے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ان کی مذکورہ باتیں یکسر سطحی بھی ہیں اور اُس مسلکِ محدثین سے انحراف بھی ، جس کے حامل اور علم برادر اہلِ حدیث ہیں۔علاوہ ازیں ان کی باتیںاس مقلدانہ ذ ہن کی غمّاز ہیں،جس کے خلاف اہل حدیث نے بھر پور جہاد کیاہے ۔

 

واقعہ یہ ہے کہ جن بزرگوں نے وہ روایات اپنی بعض تالیفا ت میں درج کی ہیں ،تو انہوں نے تحقیق کے بغیر درج کردی ہیں ،ان کی تحقیق کی طرف انہوں نے توجہ نہیں دی ۔ اس لیے وہ تو یقینا معذور ہیں اور جو حضرات ان پرعمل کرتے آئے ہیں وہ بھی مأجور ہی ہوں گے، اس لیے کہ ان کی نیت حدیث پر عمل کرنے کی تھی اور وہ ان شاء اللہ ،اللہ تعالیٰ کے ہاں عامل بالحدیث ہی شمار ہوں گے۔ لیکن اب یا کسی وقت بھی ان کا ضعف ثابت ہو گیا ،تو پھر ایسی احادیث پر عمل کا کوئی جواز نہیں ہو گا ۔

ضعف ثابت ہونے کے بعد ان پر محض اِس لیے عمل کرناکہ فلاں بزرگ یہ لکھ گئے ہیں ، یا فلاں بڑے عالم نے اسے اپنی کتاب میں درج کیا ہے، یا ان پر عمل کرتے ہوئے ہماری عمریں گزر گئی ہیں۔ یہ سب باتیں محدثین کے منہج کے خلاف ہیں ، اہلِ حدیث کے مزاج و تربیتِ صحیح کے خلاف ہیں اور اسی تقلیدی ذہنیت کا مظاہرہ ہے جس کو اہل حدیث بجا طور پر حرام قرار دیتے ہیں۔

باقی رہی بات شیخ البانی رحمہ اللہ یا کسی اور محقق کی ۔ تو ان کی کسی تحقیق کی روشنی میں کسی سابقہ بڑے عالم اور بزرگ کی بات کو یا ان کی درج کردہ ضعیف حدیث کو چھوڑ دینا ، یہ شیخ البانی یا کسی اور کی بات اس لئے نہیں مان لی جاتی ہے کہ وہ کوئی مامور من اللہ ہیں یا ان کو مامور من اللہ باور کر لیا گیا ہے، بلکہ ان کی بات صرف اس لئے مانی جاتی ہے کہ انہوں نے محدثانہ اصول ہی کی روشنی میں احادیث کی تحقیق کی ہے، اسی لئے جہاںان سے غلطی ہوئی ہے یا ان کی کسی فکر میں منہجِ محدثین سے انحراف ہے، وہاں ان کی باتیں بھی مردود ہیں اور اس کی کئی مثالیں موجود ہیںجن سے اہلحدیث نے شدید اختلاف کیا ہے۔ لیکن ان کی بعض غلطیوں یا ان سے اختلافات کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی جلیل القدر خدماتِ حدیث کو اہمیت نہ دی جائے یا ان کی خدمات و تحقیقات سے استفادہ کرنے والوں کو ان کا مقلد قرار دے دیا جائے۔

یہ تو بالکل وہی بات ہے جو بعض جاہل قسم کے لوگ اہلِ حدیثوں کی بابت کہتے ہیں کہ ہم فلاں کے مقلد ہیں ، تو تم بھی تو امام بخاری وغیرہ کے مقلد ہو۔ ہم فلاں فقہ کی پابندی کرتے ہیں ، تو تم بھی تو صحیح بخاری وغیرہ کی پابندی کرتے ہو۔ کیا ان کی بات صحیح ہے؟ یہ الزام درست ہے؟ نہیں ، یقیناً نہیں ، اس


 

لئے کہ ہم امام بخاری کے مقلد تھوڑے ہی ہیں ، وہ تو نبی  صلی اللہ علیہ وسلم   کی احادیث ہم تک پہنچانے والے ہیں ۔ ہم نے تو صرف ان کی امانت و دیانت اور تحقیق پر اعتماد کیا ہے۔ بات تو ہم نے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم   ہی کی مانی ہے جس کی بات کے ماننے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ اس کا تقلید سے کیا واسطہ ؟ اسی طرح شیخ البانی وغیرہ محققین کی تحقیقات ہیں جن کی امانت و دیانت اور تحقیق پر اعتماد کیا جاتا ہے کیوں کہ انہوں نے بھی اس دور میں وہی کام کیا ہے جواس سے پہلے ائمہ حدیث اور فقہائے محدثین نے کیا ہے۔ اس کا بھی تقلید سے کیا واسطہ؟

ایک اور خلط مبحث یا خلافِ حقیقت تعبیر:

بعض حضرات خلط مبحث کا ارتکاب کرکے اہل علم و تحقیق کے بعض علمی اختلافات کو بنیاد بنا کر یہ بات بھی کہہ رہے ہیں کہ بعض محقق یہ کہہ رہے ہیں ، اور دوسرے حضرات اس کے برعکس یا اس سے قدرے مختلف یہ بات کہہ رہے ہیں۔ اور پھر تحقیق ، یا استنباط یا فہم کے اس اختلاف کو انتشارِ فکر سے تعبیر کررہے ہیں یا اسے بھی سابقہ علماء سے اختلاف کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، حالانکہ یہ دونوں ہی باتیں غلط ہیں۔ تحقیق کا اختلاف تو ایسا اختلاف ہے جو ہمیشہ سے چلا آرہا ہے اور اسے آئندہ بھی بالکلیہ ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ صحابہ و تابعین کے عہد میں بھی تھا، فہمِ حدیث اور اس سے اخذِ مسائل میں محدثین کے درمیان بھی یہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس قسم کا علمی اختلاف علمائے اہلحدیث کے درمیان بھی ہے اور رہے گا۔ اسے فکری انتشار سے تعبیر کرنا یا علمائے مرحومین سے اختلاف کا نتیجہ قرار دینا یکسر غلط اور حقائق کو مسخ کرنا ہے۔ بات کی وضاحت کے لئے چند مثالیں یہاں پیشِ خدمت ہیں۔

1۔ جیسے عاشورے ( 10 محرم) کے دن روزہ رکھنے کا مسئلہ ہے

 نبی  صلی اللہ علیہ وسلم   یہ روزہ رکھا کرتے تھے ، لیکن جب آپ کے علم میں یہ بات آئی کہ یہودی بھی عاشورے کا روزہ رکھتے ہیں، اور اس طرح ان سے موافقت یا مشابہت ہو جاتی ہے ، تو آپ نے یہودیوں کی مخالفت کے نقطۂ نظر سے فرمایا :


 

 

’’لئن بقیت الی قابل لاصومن التاسعۃ‘‘[5]

            ’’اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو میں نویں محرم کا روزہ رکھوں گا۔‘‘

اس فرمانِ رسول کے فہم میں اختلاف ہوا ، جس سے مسئلے کی نوعیت میں بھی اختلاف ہو گیا۔ علماء کے ایک گروہ نے کہا ، اس کا مطلب ہے کہ میں صرف 9 محرم کا روزہ رکھوں گا ، یعنی دس محرم کا روزہ نہیں ، اس لئے وہ کہتے ہیں کہ اب صرف 9 محرم کا روزہ رکھنا مسنون عمل ہے۔ 10 محرم کا روزہ رکھنا بھی صحیح نہیں اور 10 محرم کے ساتھ 9 محرم کا روزہ ملا کر رکھنا بھی سنت نہیں۔ دوسرے علماء نے مذکورہ فرمانِ رسول کا مطلب یہ سمجھا کہ میں 10محرم کے ساتھ 9 محرم کا روزہ بھی رکھوں گا کیونکہ 10 محرم کا روزہ تو آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نجات پانے کی خوشی میں رکھا تھا۔ اس اعتبار سے 10 محرم کے روزے کی مسنونیت تو مسلّم ہے، لیکن یہودیوں کی مخالفت کے لئے آپ نے اس کے ساتھ 9 محرم کا روزہ رکھنے کی بھی خواہش کا اظہار فرمایا جس پر عمل کرنے کا موقع آپ کو نہیں ملا۔ بعض دیگر روایات سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے ۔ اسی لئے صاحبِ مرعاۃ مولانا عبید اللہ رحمانی ، امام ابن القیم اور حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ وغیرھم نے اسی مفہوم کو زیادہ صحیح اور راجح قرار دیا ہے۔ ( ملاحظہ ہو: مرعاۃ المفاتیح 3/ 270 ، طبع قدیم)

2۔ دعائے قنوتِ وتر کا مسئلہ ہے ، اس میں 3 مسئلے مختلف فیہ ہیں۔

دعائے قنوتِ وتر رکوع سے پہلے پڑھی جائے یا بعد از رکوع؟ ۔ اس میں روایات کی رو سے راجح بات قبل از رکوع کی ہے ، تاہم کچھ علماء بعد از رکوع کے بھی قائل ہیں۔

دوسرا مسئلہ ہے کہ دعائے قنوت ِ وتر میں ہاتھ اٹھائے جائیں یا ہاتھ اٹھائے بغیر دعا پڑھی جائے۔ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم   سے دعائے قنوتِ نازلہ میں ( جو آپ نے ایک مہینہ پانچوں نمازوںمیں پڑھی ) ہاتھوں کا اٹھانا ثابت ہے، جو علماء دعائے قنوت ِ وتر میں ہاتھ اٹھانے کے قائل ہیں ، وہ دعائے قنوت ِ نازلہ پر


 

 قیاس کر کے ، قنوتِ وتر کیے لئے بھی ہاتھ اٹھانے کا اثبات کرتے ہیں، علاوہ ازیں بعض صحابہ کا عمل بھی اس کا مؤید ہے ( جو قیام اللیل ، للمروزی میں دیکھا جا سکتا ہے۔)

تیسرا مسئلہ دعائے قنوت پڑھنے کے بعد ہاتھوں کو منہ پر پھیرنے کا ہے ۔ عام رواج تو ہاتھوں کا منہ پر پھیرنا ہی ہے، لیکن یہ عمل کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے،اس لئے علمائے محققین اس سے روکتے ہیں۔ البتہ عام دعا کرنے کے بعد منہ پر ہاتھ پھیرنا جائز ہے اور اس کی دلیل بعض صحابہ کا عمل ہے۔ کسی صحیح حدیث سے اس کا بھی ثبوت مہیا نہیں ہوتا۔

اس میں ایک مسئلہ دعائے قنوت میںنستَغفرک و نتوب الیک کے پڑھنے نہ پڑھنے کا بھی ہے۔ یہ دعائے قنوت حصن حصین میں ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے ، لیکن ظاہر بات ہے کہ حصن حصین حدیث کی کتاب نہیں ہے ، بلکہ دعاؤں کا مجموعہ ہے اور اس میں ضعیف روایات بھی ہیں ۔ جب براہِ راست کتب احادیث میں یہ الفاظ تلاش کئے گئے ، تو محولہ کتب حدیث میں ، یہ یہ دعائے قنوت نستَغفرک ونتوب الیک کے بغیر ہے، اس لئے علمائے محققین نے کہا کہ یہ الفاظ نہ پڑھے جائیں کیونکہ یہ ثابت نہیں ہیں۔

لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بعض بزرگوں کی کتابوں میں یہ دعا ان الفاظ کے ساتھ ہے، اس لئے اس کو اسی طرح پڑھنا چاہئے۔ اب یہ کیسی عجیب بات ہے کہ ان الفاظ کا وجود تو محولہ کتبِ حدیث میں نہیں ہے، لیکن ان کے پڑھنے پر اس لئے اصرار کیا جائے کہ بعض بزرگوں نے اس دعا کو ان الفاظ کے ساتھ اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے، حالانکہ ان الفاظ کی صحت پر اصرار ہے تو اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان الفاظ کو محدثانہ منہج اور اصول سے ثابت کیا جائے اور حدیث کی کسی کتاب سے ان کو نکال کر دکھایا جائے۔ جب تک ایسا نہیں کیا جائے گا ، اُن حضرات کا مؤقف ہی صحیح سمجھا جائے گا جو ان الفاظ کو غیر ثابت قرار دے رہے ہیں۔

تاہم دعائے قنوت کی بابت پہلے تین مسئلوں کے اختلاف کی بنیاد چونکہ دلائل پر یا عملِ عام (رواج) پر ہے، اس لئے ان میں راجح مؤقف ان کا ہوگا جن کی دلیل زیادہ مضبوط ہوگی، بصورتِ


 

دیگر دونوں صورتیں جائز متصور ہوں گی۔ اور عملِ عام (رواج) عدم دلیل کی وجہ سے قابلِ ترک ہوگا، جیسے دعائے قنوت کے بعد ہاتھوں کا منہ پر پھیرنا حدیث سے ثابت ہے نہ عمل صحابہ سے۔ اس لئے اس کا ترک ضروری ہوگا۔ الّا یہ کہ اس کو دلیل سے ثابت کر دیا جائے۔

3 : رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کا مسئلہ ہے

 بعض علمانے سنن نسائی کی ایک روایت کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے قومے میں (بعد از رکوع ) ہاتھ باندھنے کو ضروری قرار دیا ، جب کہ دوسرے علماء نے اس استدلال سے اتفاق نہیں کیا اور اس کا مفہوم یہ بیان کیا کہ آپ جب بھی نماز کے لئے قیام فرماتے ، تو ہاتھ باندھ لیتے ۔ اذا قام سے مراد نماز کا اولین قیام ہے کہ جب بھی نبی  صلی اللہ علیہ وسلم   نماز پڑھنے کی نیت سے کھڑے ہوتے، تو ( تکبیرِ تحریمہ کے بعد ) ہاتھ باندھ لیتے، نہ کہ مطلق قیام ، جس میں رکوع کے بعد کا قومہ بھی شامل ہو جائے، کیونکہ اگر نبی  صلی اللہ علیہ وسلم   نے رکوع کے بعد بھی ہاتھ باندھے ہوتے، تو صحابہ کرام آپ کی کیفیتِ نماز میں اس کو بھی ضرور بیان کرتے۔ جب صحابہ نے یہ کیفیت بیان نہیں کی تو اذا قام کے عموم سے اس کا اثبات نہیں ہوسکتا۔ کسی خاص بات کے اثبات کے لئے دلیلِ خاص کا ہونا بھی ضروری ہے، اس کے بغیر اس کا اثبات نہیں ہو سکتا۔

4 : اس کی ایک اور مثال یہ ہے کہ کھانا کھانے سے قبل اور اسی طرح وضو کرنے سے قبل بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پوری پڑھی جائے ، یا صرف بسم اللہ کے الفاظ کا پڑھ لینا ہی کافی ہے ؟

 علمائے اہلِ حدیث میں سے بعض نے کہا کہ بسم اللہ پوری پڑھی جائے، اور بعض نے کہا کہ چونکہ حدیث کے الفاظ ہیں بسم اللہ ( اللہ کا نام لو ) تو صرف بسم اللہ ہی کے الفاظ پڑھے جائیں ۔ یہ اختلاف صرف فہمِ حدیث کا اختلاف ہے۔ دونوں ہی رائیں ایسی ہیں کہ ان کی کچھ نہ کچھ بنیاد ہے، اس لئے یہاں راجح مرجوح کی بات تو ہو سکتی ہے ، لیکن غلط کسی کو بھی نہیں کہا جا سکتا ، مگر بعض لوگ اسے علمائے اہلِ حدیث کا باہمی تضاد اور تعارض قرار دے رہے ہیں۔

ناطقہ سر بہ گریباں ہے ، اسے کیا کہیے؟


 

 

بہر حال اسی طرح فہمِ حدیث کا اختلاف یا قیاس و استنباط کا اختلاف یا حدیث کی صحت و ضعف کی وجہ سے اختلاف اور بھی بعض مسائل میں اہلِ حدیث علماء کے مابین ہے۔یہ علمی اختلافات اس بات کی دلیل ہیں کہ اہلِ حدیث کے ہاں کسی قسم کا تقلیدی جمود ہے نہ اکابر پرستی کا سلسلہ ۔ ان کے ہاں دلیل کی بنیاد پر بحث و مذاکرہ اور نقد و تحقیق کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اور جوبات ، جب بھی ، دلیل کی رُو سے راجح قرار پاتی ہے ، وہی ان کا مسلک بن جاتی ہے اور دوسری بات مرجوح یا متروک قرار پاتی ہے۔ اسی لئے اہلِ حدیث کے ہاں فقہ اہلِ حدیث کے نام سے کوئی متعین کتاب ایسی نہیں ہے جس کی پابندی ان کے ہاں ضروری سمجھی جاتی ہو۔ وہ ہر مسئلے میں احادیثِ صحیحہ اور فقہ الحدیث پر مرتب کتابوں سے براہِ راست استفادہ کرتے ہیں اور جو بات سمجھ میں آتی ہے، اسی پر وہ عمل کرتے ہیں اور اپنے عوام کو بھی اسی پر عمل کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ایسی تحقیق کرتے وقت ان کے کوئی ذہنی تحفظات ہوتے ہیں نہ حزبی مفادات ، نہ کسی کی شخصی عظمت ہوتی ہے اور نہ کسی قسم کا فقہی جمود۔ اس میں ان کے درمیان کوئی اختلاف واقع ہوتا ہے تو وہ فہم و استنباط اور تعبیر و توجیہ کا ہوتا ہے، جس میں دونوں توجیہوں اور تعبیروں پر عمل کی گنجائش ہوتی ہے، کیونکہ مقصد دونوں کا ایک ہی ہو تا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم   کی بات پر عمل کرنا ہے، نہ کہ ان کو نظر انداز کر کے کسی تیسرے شخص کے قول اور رائے پر ، بنا بریں اس علمی اختلاف کو تضاد و تعارض کہنا صحیح ہے نہ اسے فکری انتشار سے تعبیر کرنا ہی درست ہے۔

 


 

 

 



[1] نگران شعبہ تحقیق و تصنیف: المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

[2] لیکن محض ظن کی بنیاد پر اس کی صحت میں شک نہیں کیا جاسکتا بلکہ اسے صحیح ہی تصور کیا جائے گا اور اس پر عمل کیا جائے گا تاوقتیکہ اس کا ضعف واضح ہوجائے۔

[3] لیکن اس امکان کے پیش نظر کہ ممکن ہے وہ صحیح ہو اس پر عمل درست نہیں ہے، تاوقتیکہ اس کی صحت کی دلیل مل جائے، اس لئے صحت حدیث ہونے کے بعد وہ صحت قطعی ہی ہوگی تاوقتیکہ ضعف کی دلیل مل جائے اسی طرح وہ ضعف بھی قطعی ہی ہوگا تاوقتیکہ اس کی صحت واضح ہوجائے۔

[4] ضعیف احادیث کی معرفت اور ان کی شرعی حیثیت

[5] صحیح مسلم: الصیام باب ای یوم یصام فی عاشوراء

Read 704 times Last modified on پیر, 02 اپریل 2018 15:26
  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

حدیث کی صحت و ضعف میں اختلاف  اور اس کے اسباب

حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ[1]

علم عِللِ حدیث دنیا کا سب سے زیادہ نازک اور باریک ترین علم ہے ،اس میں صحت وضعف کے فیصلے کی تبدیلی کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔یہ فن ایک بحرِ ناپیدا کنار ہے ، اس کی غوّاصی سے نئی نئی چیزیں بر آمد ہوتی رہتی ہیں۔مثلا َ

ایک محقق نے ایک مدلّس کی روایت کوعنعنہ کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ،لیکن ایک دوسرے محقق کو اس کی تحدیث یا سماع کی صراحت مل گئی ،اور اس طرح وجہ ضعف ختم ہو گئی۔

یا کسی ضعیف روایت کے متابعات وشواہد صحیح سند کےساتھ مل گئے، جو پہلے علم میں نہیں آئے تھے، ان متابعات و شواہد کی وجہ سے روایت کاضعف دور ہو گیا ۔

یا کسی مرسل روایت کا ایسا طریق مل گیا ،جو موصول تھا ،اس لیے ارسال کی وجہ سے جو ضعف تھا، وہ دور ہو گیا ۔یا کسی مختلط راوی کی روایت کو اس کے اختلاط کی وجہ سے ضعیف قرار دیا گیا، لیکن دوسرے محقق کو اس بات کے شواہد مل گئے کہ اس کی یہ روایت تو اختلاط سےقبل کی ہے،اور یوں وجہ ضعف دور ہو گئی ۔

بہر حال یہ اور اس قسم کے دوسرے اسباب ضعف بعض دفعہ دور ہو جاتے ہیں اورروایت صحیح قرار پاتی ہے ۔اور یہی معاملہ صحیح روایت کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک محقق کے نزدیک اس میں بظاہر ضعف کی کوئی وجہ نہیں ہو تی ،اس لیے وہ اسے صحیح قراردے دیتا ہے ۔ لیکن کسی اور محقق کے علم میں اس کے ضعف کے اسباب آجاتے ہیں جن کی بنا پر اس کے لیے اسے ضعیف قرار دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو تا۔

اور یہ بھی ضروری نہیںکہ دوسرے محقق ہی کے علم میں ایسی معلومات آئیں جن سے حدیث کا حکم بدل جا ئے ،بلکہ خود فیصلہ کرنے والے کے علم میں بھی کوئی نئی معلومات آسکتی ہیں جن کی وجہ اس کا پہلا فیصلہ غلط قرار پائے ۔ شیخ البانی رحمہ اللہ کی عمر فنّ ِ حدیث کی خدمت میں گزری، اور ان کا ایک ایک لمحہ اسی کام کے لیے وقف رہا ۔انہوں نے سیکڑوں حدیثوں کی بابت اپنا فیصلہ تبدیل کیا ،جن کو ان کے بعض تلامذہ نے ’’ تراجع العلامۃ الالبانی فیما نصّ علیہ تصحیحاّ وّ تضعیفاً‘‘کے نا م سے شائع بھی کر دیا ہے۔

جب واقعہ یہ ہے تو حدیث کی بابت دو محققوں کے ایک دوسرے سے مختلف فیصلے سے عوام کو گھبرانا یا تشویش میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے ۔اہل علم کے لیے دونوں فیصلوں کا سامنے رہنا مفید ہے ۔ شاید کوئی اور محقق اس میدان میں آمنے سامنے آئے اور وہ موازنہ کر کے دونوں میں سے کسی ایک کے فیصلے کو دلائل کی رو سے راجح قرار دے دے۔یا اپنا حقِ نظر ثانی استعما ل کر کے خود محقق ہی اپنا فیصلہ تبدیل کرلے۔ علاوہ ازیں ایسی مختلف فیہ روایت پر عمل کرنے میں عوام کو اختیار ہے ،اگر وہ ایک ضعیف حدیث پر اس وجہ سے عمل کر لیں گے کہ ایک محقق نے اس کو صحیح قرار دیا ہے،تو امید ہے وہ محقق ہی کی طرح عنداللہ ماجور ہوں گے ،کیونکہ محقق اور عوام دونوں کے سامنے کوئی مخصوص فقہ اور اس کے مسائل نہیں ہیں،بلکہ حدیث کی عظمت ہی اس پر عمل کرنے کی محرک ہے۔اوراگر اس پر عمل نہیں کریں گے تو وہ انشاء اللہ گناہ گار نہیں ہوں گے،کیونکہ ایک محقق نے بہر حال اس کی تحقیق کر کے ہی اسے ضعیف قرار دیا ہے ،گو نفس الامر میں وہ صحیح ہی ہو ۔

اس میں اصل بنیاد دو چیزیں ہیں ،ایک نیت، دوسرا دیانتدارانہ محنت۔نیت یہ ہو کہ حدیث رسول پر عمل کرنا ہے ۔دوسرے ،یہ کہ حدیث کی تلاش وجستجو اور اس کی صحت وضعف کی تحقیق میں اس نے کوتا ہی نہ کی ہو۔ان دو چیزوں کے بعد وہ اُن میں کامیاب ہوگیا۔ تب بھی، اور ناکام رہا تب بھی۔ دونوں ہی صورتوں میں وہ عنداللہ فائز المرام ہی رہے گا۔محدثین کے بیان کر دہ اصولوں اور وضاحتوں سے بھی اس کی تا ئید ہوتی ہے جو ہم بیان کر رہے ہیں۔ مثلاً محدثین کی بعض وضاحتیں حسب ذیل ہیں :

جب کسی حدیث کی بابت کہا جائے ’’ ھذا حدیث صحیح‘‘تو اس سےمراد نفس الامر میں حدیث کا قطعی صحیح ہو نا نہیں ہو تا ،کیونکہ اس میں ثقہ رواۃ کی خطا و نسیان کی گنجائش باقی رہتی ہے ۔[2]

اسی طرح’’ ھذا حدیث غیر صحیح‘(یہ حدیث صحیح نہیں ہے)سے مرا دنفس الامر میں حدیث کا کذب (جھوٹا)ہونا نہیں ہوتا ، کیونکہ کاذب راوی کے صدق کا اور کثیر الخطا راوی کی اصابت کا امکان باقی رہتا ہے۔[3]

’’رجالہ رجال الصحیح‘‘(اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں)کہنا بھی صحتِ حدیث کی قطعی دلیل نہیں ہو تا ،کیونکہ صحیحین یاصحیح کے بعض راوی متکلم فیہ بھی ہیں۔ اور شیخین (امام بخاری ،و امام مسلم) ان سے صرف اسی وقت روایت کرتےہیں۔جب ان کی متابعت پائی جاتی ہو یا ان کے شواہد ہوں یا ان کو علم ہو کہ ان کی کوئی اصل موجود ہے ۔اسی لیے اگر وہ راوی کسی روایت میں منفرد ہوں یا ثقات کے خلاف راویت کریں ،تو ایسی صورت میں وہ ان سے روایت نہیں کرتے ،پس صحیح کے راوی ہونے کے باوجود اس بات کا احتما ل رہتا ہےکہ اس محدث کی شرائط میں سے ایسی کوئی شرط مفقود ہوجس کو صاحب صحیح نے بہ وقت تصحیح و تخریج ملحوظ رکھا تھا۔ (تفصیل کے لیے ملا حظہ ہو۔ کتاب’’ ضعیف احادیث کی معرفت اور ان کی شرعی حیثیت ‘‘ تالیف غازی عزیر الجبیل،سعودی عرب )

ان اصولوں یا وضاحتوں سے مقصود اس بات کو واضح کرنا ہے کہ احادیث کی تحقیق کا فن کثیر الجہات ہونے کی وجہ سے نہایت دقیق اور ازحد مشکل ہے ۔اس میں پوری کوشش کرنے کے باوجود دوسرے پہلو کا امکان رہتا ہے ،تا ہم جب تک دوسرے پہلو کی واضح اور قطعی دلیل نہ ملے ،پہلی ہی بات اور فیصلےپر عمل کیا جائے گا ،اس لیے جن احادیث کی صحت و ضعف میں دو محققین کا اختلاف ہو ، وہاں تو دوسرے پہلو کا امکان زیادہ ہے ۔بنا بریں کسی حدیث کی صحت وضعف میں اختلاف کی صور ت میں عوام کے لیے اختیار کی گنجائش بھی ہے جیسا کہ پہلے وضاحت کی گئی ہے ۔

ضعیف حدیث مطلقاََ ناقابل عمل ہے

یہ بات یاد رہے کہ یہ اختیار صرف مختلف فیہ روایات میں ہے لیکن جو روایت متفقہ طور پر ضعیف ہے ،اس پر عمل کرنا جائز نہیںہے ۔ضعیف حدیث کے بارے میں اگر چہ اختلاف ہے لیکن راجح مسلک اس پر عمل نہ کرنا ہی ہے۔اس کی بابت چارمسلک مشہور ہیں۔ جو حسب ذیل ہیں۔

(1)ضعیف حدیث مطلقاََ قابلِ قبول اور بلا شرط لائق عمل ہے ۔

(2) ضعیف حدیث مطلقاََ مقبول نہیں ،صرف فضائل اعمال اور ترغیب و ترہیب میں بلا قید شرط مقبول ہے ۔

(3)فضائل اعمال وغیرہ میں ضعیف حدیث چند شرائط کے ساتھ مقبول ہے ،مثلاً (ضعف شدید نہ ہو ، یعنی راوی کذّاب ،متّہم بالکذب اور فاش غلطی کرنے والا نہ ہو ۔وہ حدیث کسی اصلِ عام کے تحت داخل ہو ۔) اور اس حدیث پر عمل کرتے وقت اس کے ثبوت کا اعتقاد نہ رکھا جائے ۔

(4)ضعیف حدیث پر عمل مطلقاََ ناجائز ہے ،یعنی نہ احکام و مسائل میں اس پر عمل کرنا جائز ہے ،نہ فضائل اعمال میں ،اورنہ مشروط اور نہ غیر مشروط طور پر ، یعنی ضعیف حدیث کسی لحاظ سے قابل عمل نہیں ہے۔[4]

قُصّاص واعظین قسم کے علماء کا ایک گروہ صدیوں سے ایسا چلا آرہا ہے اور جس کی اب بھی کثرت ہے ،جو دوسرے مسلک کا قائل ہے اور وہ فضائلِ اعمال میں ضعیف بلکہ موضوع روایا ت تک بیان کرنے سے دریغ نہیں کرتا ۔اسی گروہ کی بدولت مسلمان معاشروں میں ضعیف احادیث عوام میں بہت مشہور ہیں اور ان پر عمل بھی عام ہے ،حالانکہ علما ئے محققین کے نزدیک یہ مسلک صحیح نہیں ہے ۔ جب ضعیف حدیث کی نسبت ہی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کی طرف محقّق (ثابت) نہیں۔ تو اس حدیث سے کسی عمل کا استحباب کیوں کر ثابت ہو سکتا ہے؟تاہم محدثین کا ایک گروہ تیسرے مسلک کا قائل ہے ،لیکن یہ مسلک چوتھے مسلک ہی کے ساتھ جاملتا ہے ،جب اس میں یہ شرط بھی موجود ہے کہ اس میں ضعف بھی شدید نہ ہو اور وہ کسی اصل عام کی تحت بھی داخل ہو تو گو یاعمل تو صحیح حدیث کے عموم پر ہی ہوا، نہ کہ ضعیف حدیث پر ،اس لیے سیدھے طریقے پر یہی کہا جائے کہ چوتھا مسلک ہی صحیح اور قابل عمل ہے اور وہ یہ ہے کہ ضعیف حدیث ،اس کا تعلق احکام و مسائل سے ہو یا فضائل سے،ناقابل عمل ہے ۔

جن علمائے محققین نے اس نقطہ نظر سے احادیث کی جانچ پرکھ کی ہے، انہوں نے محدثین ہی کا منہج اختیار کیا ہے اور وہی کام کیا ہے جو امام بخاری وامام مسلم ،مؤلفین سنن اربعہ اور دیگر محدثین نے کیا ہے، اس لیے اسی مسلک ومنہج کو اختیارکرنے اور اسے ہی فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔

اہل حدیث عوام و خواص سے چند گزارشات

اس موقع پر ہم مناسب اور ضروری سمجھتے ہیںکہ اہل حدیث عوام و خواص سے بھی کچھ گزارشات کریں۔ ہم جانتے ہیں کہ ضعیف حدیث اور اس کے بارے میں محدثین کے جس مسلک کی ہم نے وضاحت کی ہے ،وہ اہل حدیث حضرات کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے ،ان کا الحمد اللہ یہی مسلک ہے اور اسی پروہ عمل پیرا ہیں ،کیونکہ وہ محدثین ہی کی جماعت ہیں اور ان کے فکر ومنہج کے وہ واحد علم بردار ہیں۔اور یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو تقلیدی مذاہب سے بچایا ہے ۔اسی طرح وہ اکابر پرستی سے بھی محفوظ ہیں،اس لیے ا ن کے ہاں یہ بات بھی نہیں ہے کہ فلاںبزرگ نے یہ فرمایاہےیا فلاں بزرگ کا یہ عمل ہے ،قطع نظر اس سے کہ بزرگ کافرمودہ یا عمل حدیث کے مخالف ہے یا موافق؟ان کے ہاں کسی بزرگ کی بات یا عمل اسی وقت قابل قبول ہوتا ہے جب اس کی بنیاد کسی نصّ شرعی پر ہوتی ہے،وہ نص واضح ہو قیاس صحیح کے طریقے پر نص سےمستنبط ہو ۔اس کے بغیر کسی بھی بڑے سے بڑے بزرگ کی کوئی بات یا اس کاعمل اہل حدیث کےہاں کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔

لیکن اس دور میں تحقیقِ حدیث کا جو ذوق عام ہوا ہے اس کے نتیجے میںسنن وغیرہ کی بعض روایات جو تحقیق کے بغیر معمول بہ چلی آرہی تھیں یاعلمائے اہل حدیث کی بعض تالیفات میں درج تھیں۔ علاوہ ازیں ان روایات یا تالیفات کو قبول اور عام درجہ بھی حاصل تھا اورہے ،لیکن تحقیق کے بعد وہ روایت پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچیں گے ،تو اہل حدیث نے الحمدللہ بلا تأمل ان روایات پر عمل کرنا یا ان کو صحیح سمجھنا چھوڑدیا ۔ان کا یہ عمل ان کے فکری منہج کے عین مطابق بھی ہے اور ان کے مزاج و تر بیت کا حصہ بھی ۔

لیکن ہمیں افسوس ہے کہ بعض اہل حدیث عوام وخواص کی طرف سے اس مسلکی منہج اور مزاج و تر بیت کے برعکس یہ باتیں سننے میں آرہی ہے کہ فلاں بزرگ تو اتنے بڑے عالم تھے ،انہوں نے اپنی کتاب میں یہ روایات بیان کی ہیں ، یا عرصۂ دراز سے اہل حدیث ان پر عمل کرتے چلے آرہے ہیں یا ہم شیخ البانی رحمہ اللہ کے یا فلاں محقق کے مقلد تھوڑ ے ہی ہیں !

یہ کہنے والے اگر چہ تعدا د میں نہایت تھوڑے ہیں لیکن ہم ان سے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ان کی مذکورہ باتیں یکسر سطحی بھی ہیں اور اُس مسلکِ محدثین سے انحراف بھی ، جس کے حامل اور علم برادر اہلِ حدیث ہیں۔علاوہ ازیں ان کی باتیںاس مقلدانہ ذ ہن کی غمّاز ہیں،جس کے خلاف اہل حدیث نے بھر پور جہاد کیاہے ۔

 

واقعہ یہ ہے کہ جن بزرگوں نے وہ روایات اپنی بعض تالیفا ت میں درج کی ہیں ،تو انہوں نے تحقیق کے بغیر درج کردی ہیں ،ان کی تحقیق کی طرف انہوں نے توجہ نہیں دی ۔ اس لیے وہ تو یقینا معذور ہیں اور جو حضرات ان پرعمل کرتے آئے ہیں وہ بھی مأجور ہی ہوں گے، اس لیے کہ ان کی نیت حدیث پر عمل کرنے کی تھی اور وہ ان شاء اللہ ،اللہ تعالیٰ کے ہاں عامل بالحدیث ہی شمار ہوں گے۔ لیکن اب یا کسی وقت بھی ان کا ضعف ثابت ہو گیا ،تو پھر ایسی احادیث پر عمل کا کوئی جواز نہیں ہو گا ۔

ضعف ثابت ہونے کے بعد ان پر محض اِس لیے عمل کرناکہ فلاں بزرگ یہ لکھ گئے ہیں ، یا فلاں بڑے عالم نے اسے اپنی کتاب میں درج کیا ہے، یا ان پر عمل کرتے ہوئے ہماری عمریں گزر گئی ہیں۔ یہ سب باتیں محدثین کے منہج کے خلاف ہیں ، اہلِ حدیث کے مزاج و تربیتِ صحیح کے خلاف ہیں اور اسی تقلیدی ذہنیت کا مظاہرہ ہے جس کو اہل حدیث بجا طور پر حرام قرار دیتے ہیں۔

باقی رہی بات شیخ البانی رحمہ اللہ یا کسی اور محقق کی ۔ تو ان کی کسی تحقیق کی روشنی میں کسی سابقہ بڑے عالم اور بزرگ کی بات کو یا ان کی درج کردہ ضعیف حدیث کو چھوڑ دینا ، یہ شیخ البانی یا کسی اور کی بات اس لئے نہیں مان لی جاتی ہے کہ وہ کوئی مامور من اللہ ہیں یا ان کو مامور من اللہ باور کر لیا گیا ہے، بلکہ ان کی بات صرف اس لئے مانی جاتی ہے کہ انہوں نے محدثانہ اصول ہی کی روشنی میں احادیث کی تحقیق کی ہے، اسی لئے جہاںان سے غلطی ہوئی ہے یا ان کی کسی فکر میں منہجِ محدثین سے انحراف ہے، وہاں ان کی باتیں بھی مردود ہیں اور اس کی کئی مثالیں موجود ہیںجن سے اہلحدیث نے شدید اختلاف کیا ہے۔ لیکن ان کی بعض غلطیوں یا ان سے اختلافات کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی جلیل القدر خدماتِ حدیث کو اہمیت نہ دی جائے یا ان کی خدمات و تحقیقات سے استفادہ کرنے والوں کو ان کا مقلد قرار دے دیا جائے۔

یہ تو بالکل وہی بات ہے جو بعض جاہل قسم کے لوگ اہلِ حدیثوں کی بابت کہتے ہیں کہ ہم فلاں کے مقلد ہیں ، تو تم بھی تو امام بخاری وغیرہ کے مقلد ہو۔ ہم فلاں فقہ کی پابندی کرتے ہیں ، تو تم بھی تو صحیح بخاری وغیرہ کی پابندی کرتے ہو۔ کیا ان کی بات صحیح ہے؟ یہ الزام درست ہے؟ نہیں ، یقیناً نہیں ، اس


 

لئے کہ ہم امام بخاری کے مقلد تھوڑے ہی ہیں ، وہ تو نبی  صلی اللہ علیہ وسلم   کی احادیث ہم تک پہنچانے والے ہیں ۔ ہم نے تو صرف ان کی امانت و دیانت اور تحقیق پر اعتماد کیا ہے۔ بات تو ہم نے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم   ہی کی مانی ہے جس کی بات کے ماننے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ اس کا تقلید سے کیا واسطہ ؟ اسی طرح شیخ البانی وغیرہ محققین کی تحقیقات ہیں جن کی امانت و دیانت اور تحقیق پر اعتماد کیا جاتا ہے کیوں کہ انہوں نے بھی اس دور میں وہی کام کیا ہے جواس سے پہلے ائمہ حدیث اور فقہائے محدثین نے کیا ہے۔ اس کا بھی تقلید سے کیا واسطہ؟

ایک اور خلط مبحث یا خلافِ حقیقت تعبیر:

بعض حضرات خلط مبحث کا ارتکاب کرکے اہل علم و تحقیق کے بعض علمی اختلافات کو بنیاد بنا کر یہ بات بھی کہہ رہے ہیں کہ بعض محقق یہ کہہ رہے ہیں ، اور دوسرے حضرات اس کے برعکس یا اس سے قدرے مختلف یہ بات کہہ رہے ہیں۔ اور پھر تحقیق ، یا استنباط یا فہم کے اس اختلاف کو انتشارِ فکر سے تعبیر کررہے ہیں یا اسے بھی سابقہ علماء سے اختلاف کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، حالانکہ یہ دونوں ہی باتیں غلط ہیں۔ تحقیق کا اختلاف تو ایسا اختلاف ہے جو ہمیشہ سے چلا آرہا ہے اور اسے آئندہ بھی بالکلیہ ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ صحابہ و تابعین کے عہد میں بھی تھا، فہمِ حدیث اور اس سے اخذِ مسائل میں محدثین کے درمیان بھی یہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس قسم کا علمی اختلاف علمائے اہلحدیث کے درمیان بھی ہے اور رہے گا۔ اسے فکری انتشار سے تعبیر کرنا یا علمائے مرحومین سے اختلاف کا نتیجہ قرار دینا یکسر غلط اور حقائق کو مسخ کرنا ہے۔ بات کی وضاحت کے لئے چند مثالیں یہاں پیشِ خدمت ہیں۔

1۔ جیسے عاشورے ( 10 محرم) کے دن روزہ رکھنے کا مسئلہ ہے

 نبی  صلی اللہ علیہ وسلم   یہ روزہ رکھا کرتے تھے ، لیکن جب آپ کے علم میں یہ بات آئی کہ یہودی بھی عاشورے کا روزہ رکھتے ہیں، اور اس طرح ان سے موافقت یا مشابہت ہو جاتی ہے ، تو آپ نے یہودیوں کی مخالفت کے نقطۂ نظر سے فرمایا :


 

 

’’لئن بقیت الی قابل لاصومن التاسعۃ‘‘[5]

            ’’اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو میں نویں محرم کا روزہ رکھوں گا۔‘‘

اس فرمانِ رسول کے فہم میں اختلاف ہوا ، جس سے مسئلے کی نوعیت میں بھی اختلاف ہو گیا۔ علماء کے ایک گروہ نے کہا ، اس کا مطلب ہے کہ میں صرف 9 محرم کا روزہ رکھوں گا ، یعنی دس محرم کا روزہ نہیں ، اس لئے وہ کہتے ہیں کہ اب صرف 9 محرم کا روزہ رکھنا مسنون عمل ہے۔ 10 محرم کا روزہ رکھنا بھی صحیح نہیں اور 10 محرم کے ساتھ 9 محرم کا روزہ ملا کر رکھنا بھی سنت نہیں۔ دوسرے علماء نے مذکورہ فرمانِ رسول کا مطلب یہ سمجھا کہ میں 10محرم کے ساتھ 9 محرم کا روزہ بھی رکھوں گا کیونکہ 10 محرم کا روزہ تو آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نجات پانے کی خوشی میں رکھا تھا۔ اس اعتبار سے 10 محرم کے روزے کی مسنونیت تو مسلّم ہے، لیکن یہودیوں کی مخالفت کے لئے آپ نے اس کے ساتھ 9 محرم کا روزہ رکھنے کی بھی خواہش کا اظہار فرمایا جس پر عمل کرنے کا موقع آپ کو نہیں ملا۔ بعض دیگر روایات سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے ۔ اسی لئے صاحبِ مرعاۃ مولانا عبید اللہ رحمانی ، امام ابن القیم اور حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ وغیرھم نے اسی مفہوم کو زیادہ صحیح اور راجح قرار دیا ہے۔ ( ملاحظہ ہو: مرعاۃ المفاتیح 3/ 270 ، طبع قدیم)

2۔ دعائے قنوتِ وتر کا مسئلہ ہے ، اس میں 3 مسئلے مختلف فیہ ہیں۔

دعائے قنوتِ وتر رکوع سے پہلے پڑھی جائے یا بعد از رکوع؟ ۔ اس میں روایات کی رو سے راجح بات قبل از رکوع کی ہے ، تاہم کچھ علماء بعد از رکوع کے بھی قائل ہیں۔

دوسرا مسئلہ ہے کہ دعائے قنوت ِ وتر میں ہاتھ اٹھائے جائیں یا ہاتھ اٹھائے بغیر دعا پڑھی جائے۔ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم   سے دعائے قنوتِ نازلہ میں ( جو آپ نے ایک مہینہ پانچوں نمازوںمیں پڑھی ) ہاتھوں کا اٹھانا ثابت ہے، جو علماء دعائے قنوت ِ وتر میں ہاتھ اٹھانے کے قائل ہیں ، وہ دعائے قنوت ِ نازلہ پر


 

 قیاس کر کے ، قنوتِ وتر کیے لئے بھی ہاتھ اٹھانے کا اثبات کرتے ہیں، علاوہ ازیں بعض صحابہ کا عمل بھی اس کا مؤید ہے ( جو قیام اللیل ، للمروزی میں دیکھا جا سکتا ہے۔)

تیسرا مسئلہ دعائے قنوت پڑھنے کے بعد ہاتھوں کو منہ پر پھیرنے کا ہے ۔ عام رواج تو ہاتھوں کا منہ پر پھیرنا ہی ہے، لیکن یہ عمل کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے،اس لئے علمائے محققین اس سے روکتے ہیں۔ البتہ عام دعا کرنے کے بعد منہ پر ہاتھ پھیرنا جائز ہے اور اس کی دلیل بعض صحابہ کا عمل ہے۔ کسی صحیح حدیث سے اس کا بھی ثبوت مہیا نہیں ہوتا۔

اس میں ایک مسئلہ دعائے قنوت میںنستَغفرک و نتوب الیک کے پڑھنے نہ پڑھنے کا بھی ہے۔ یہ دعائے قنوت حصن حصین میں ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے ، لیکن ظاہر بات ہے کہ حصن حصین حدیث کی کتاب نہیں ہے ، بلکہ دعاؤں کا مجموعہ ہے اور اس میں ضعیف روایات بھی ہیں ۔ جب براہِ راست کتب احادیث میں یہ الفاظ تلاش کئے گئے ، تو محولہ کتب حدیث میں ، یہ یہ دعائے قنوت نستَغفرک ونتوب الیک کے بغیر ہے، اس لئے علمائے محققین نے کہا کہ یہ الفاظ نہ پڑھے جائیں کیونکہ یہ ثابت نہیں ہیں۔

لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بعض بزرگوں کی کتابوں میں یہ دعا ان الفاظ کے ساتھ ہے، اس لئے اس کو اسی طرح پڑھنا چاہئے۔ اب یہ کیسی عجیب بات ہے کہ ان الفاظ کا وجود تو محولہ کتبِ حدیث میں نہیں ہے، لیکن ان کے پڑھنے پر اس لئے اصرار کیا جائے کہ بعض بزرگوں نے اس دعا کو ان الفاظ کے ساتھ اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے، حالانکہ ان الفاظ کی صحت پر اصرار ہے تو اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان الفاظ کو محدثانہ منہج اور اصول سے ثابت کیا جائے اور حدیث کی کسی کتاب سے ان کو نکال کر دکھایا جائے۔ جب تک ایسا نہیں کیا جائے گا ، اُن حضرات کا مؤقف ہی صحیح سمجھا جائے گا جو ان الفاظ کو غیر ثابت قرار دے رہے ہیں۔

تاہم دعائے قنوت کی بابت پہلے تین مسئلوں کے اختلاف کی بنیاد چونکہ دلائل پر یا عملِ عام (رواج) پر ہے، اس لئے ان میں راجح مؤقف ان کا ہوگا جن کی دلیل زیادہ مضبوط ہوگی، بصورتِ


 

دیگر دونوں صورتیں جائز متصور ہوں گی۔ اور عملِ عام (رواج) عدم دلیل کی وجہ سے قابلِ ترک ہوگا، جیسے دعائے قنوت کے بعد ہاتھوں کا منہ پر پھیرنا حدیث سے ثابت ہے نہ عمل صحابہ سے۔ اس لئے اس کا ترک ضروری ہوگا۔ الّا یہ کہ اس کو دلیل سے ثابت کر دیا جائے۔

3 : رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کا مسئلہ ہے

 بعض علمانے سنن نسائی کی ایک روایت کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے قومے میں (بعد از رکوع ) ہاتھ باندھنے کو ضروری قرار دیا ، جب کہ دوسرے علماء نے اس استدلال سے اتفاق نہیں کیا اور اس کا مفہوم یہ بیان کیا کہ آپ جب بھی نماز کے لئے قیام فرماتے ، تو ہاتھ باندھ لیتے ۔ اذا قام سے مراد نماز کا اولین قیام ہے کہ جب بھی نبی  صلی اللہ علیہ وسلم   نماز پڑھنے کی نیت سے کھڑے ہوتے، تو ( تکبیرِ تحریمہ کے بعد ) ہاتھ باندھ لیتے، نہ کہ مطلق قیام ، جس میں رکوع کے بعد کا قومہ بھی شامل ہو جائے، کیونکہ اگر نبی  صلی اللہ علیہ وسلم   نے رکوع کے بعد بھی ہاتھ باندھے ہوتے، تو صحابہ کرام آپ کی کیفیتِ نماز میں اس کو بھی ضرور بیان کرتے۔ جب صحابہ نے یہ کیفیت بیان نہیں کی تو اذا قام کے عموم سے اس کا اثبات نہیں ہوسکتا۔ کسی خاص بات کے اثبات کے لئے دلیلِ خاص کا ہونا بھی ضروری ہے، اس کے بغیر اس کا اثبات نہیں ہو سکتا۔

4 : اس کی ایک اور مثال یہ ہے کہ کھانا کھانے سے قبل اور اسی طرح وضو کرنے سے قبل بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پوری پڑھی جائے ، یا صرف بسم اللہ کے الفاظ کا پڑھ لینا ہی کافی ہے ؟

 علمائے اہلِ حدیث میں سے بعض نے کہا کہ بسم اللہ پوری پڑھی جائے، اور بعض نے کہا کہ چونکہ حدیث کے الفاظ ہیں بسم اللہ ( اللہ کا نام لو ) تو صرف بسم اللہ ہی کے الفاظ پڑھے جائیں ۔ یہ اختلاف صرف فہمِ حدیث کا اختلاف ہے۔ دونوں ہی رائیں ایسی ہیں کہ ان کی کچھ نہ کچھ بنیاد ہے، اس لئے یہاں راجح مرجوح کی بات تو ہو سکتی ہے ، لیکن غلط کسی کو بھی نہیں کہا جا سکتا ، مگر بعض لوگ اسے علمائے اہلِ حدیث کا باہمی تضاد اور تعارض قرار دے رہے ہیں۔

ناطقہ سر بہ گریباں ہے ، اسے کیا کہیے؟


 

 

بہر حال اسی طرح فہمِ حدیث کا اختلاف یا قیاس و استنباط کا اختلاف یا حدیث کی صحت و ضعف کی وجہ سے اختلاف اور بھی بعض مسائل میں اہلِ حدیث علماء کے مابین ہے۔یہ علمی اختلافات اس بات کی دلیل ہیں کہ اہلِ حدیث کے ہاں کسی قسم کا تقلیدی جمود ہے نہ اکابر پرستی کا سلسلہ ۔ ان کے ہاں دلیل کی بنیاد پر بحث و مذاکرہ اور نقد و تحقیق کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اور جوبات ، جب بھی ، دلیل کی رُو سے راجح قرار پاتی ہے ، وہی ان کا مسلک بن جاتی ہے اور دوسری بات مرجوح یا متروک قرار پاتی ہے۔ اسی لئے اہلِ حدیث کے ہاں فقہ اہلِ حدیث کے نام سے کوئی متعین کتاب ایسی نہیں ہے جس کی پابندی ان کے ہاں ضروری سمجھی جاتی ہو۔ وہ ہر مسئلے میں احادیثِ صحیحہ اور فقہ الحدیث پر مرتب کتابوں سے براہِ راست استفادہ کرتے ہیں اور جو بات سمجھ میں آتی ہے، اسی پر وہ عمل کرتے ہیں اور اپنے عوام کو بھی اسی پر عمل کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ایسی تحقیق کرتے وقت ان کے کوئی ذہنی تحفظات ہوتے ہیں نہ حزبی مفادات ، نہ کسی کی شخصی عظمت ہوتی ہے اور نہ کسی قسم کا فقہی جمود۔ اس میں ان کے درمیان کوئی اختلاف واقع ہوتا ہے تو وہ فہم و استنباط اور تعبیر و توجیہ کا ہوتا ہے، جس میں دونوں توجیہوں اور تعبیروں پر عمل کی گنجائش ہوتی ہے، کیونکہ مقصد دونوں کا ایک ہی ہو تا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم   کی بات پر عمل کرنا ہے، نہ کہ ان کو نظر انداز کر کے کسی تیسرے شخص کے قول اور رائے پر ، بنا بریں اس علمی اختلاف کو تضاد و تعارض کہنا صحیح ہے نہ اسے فکری انتشار سے تعبیر کرنا ہی درست ہے۔

 


 

 

 



[1] نگران شعبہ تحقیق و تصنیف: المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

[2] لیکن محض ظن کی بنیاد پر اس کی صحت میں شک نہیں کیا جاسکتا بلکہ اسے صحیح ہی تصور کیا جائے گا اور اس پر عمل کیا جائے گا تاوقتیکہ اس کا ضعف واضح ہوجائے۔

[3] لیکن اس امکان کے پیش نظر کہ ممکن ہے وہ صحیح ہو اس پر عمل درست نہیں ہے، تاوقتیکہ اس کی صحت کی دلیل مل جائے، اس لئے صحت حدیث ہونے کے بعد وہ صحت قطعی ہی ہوگی تاوقتیکہ ضعف کی دلیل مل جائے اسی طرح وہ ضعف بھی قطعی ہی ہوگا تاوقتیکہ اس کی صحت واضح ہوجائے۔

[4] ضعیف احادیث کی معرفت اور ان کی شرعی حیثیت

[5] صحیح مسلم: الصیام باب ای یوم یصام فی عاشوراء