بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
جمعرات, 02 نومبر 2017 17:34

دینِ اسلام میں تفریح کا تصور

Written by  ڈاکٹر فیض الابرار شاہ

 

دینِ اسلام میں تفریح کا تصور ۔

 شاہ فیض الابرار صدیقی [1]

 تفریح کا تصور ہر زمانے اورہر قوم میں پایا جاتا ہے البتہ ہر قوم اپنی تہذیب وتمدن کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کا اہتمام کرتی رہی ہے ، مثلا رقص ،ڈرامے،موسیقی،گانے اور مختلف طرح کے کھیل کو دوغیرہ۔ اور کچھ اقوام میں تو تفریح کے ان مظاہر کو مذہبی حیثیت بھی حاصل ہے اور کچھ اقوام میں اس کا تعلق صرف ثقافت سے ہے۔

لیکن عصر حاضر میں نت نئی ایجادات نے تفریح کا تصور بالکل ہی تبدیل کر دیا ہے ۔عمومی طور پر زمانہ ماضی میں تفریح کا تصور جسمانی تربیت و نشوونما کے ساتھ وابستہ تھا اور بغور جائزہ لیا جائے تو زمانہ ماضی میں تفریح و کھیل کے جتنے بھی مظاھر تھے ان سب میں یہی پہلو اجاگر تھا،یہاں تک کہ گھریلو خواتین کے کھیل بھی اسی نوعیت سے تعلق رکھتے تھے اس کے بالکل برخلاف جدید ایجادات جیسے ڈش،کیبل،ٹیلی ویژن ، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور اسمارٹ موبائل فونز جن کو ذرائع ابلاغ بھی کہا جاتا ہےنے تفریح کے تصور کو بہت وسیع بنا دیا ہے اور اس وسعت نے سب سے پہلے سابقہ تصور تفریح میں موجود اجتماعیت کو ختم کر دیا اور انفرادیت کو رائج کیا ۔ اور المیہ تو یہ ہوا کہ ان وسائل کے ذریعہ پیش کیے جانے والے پروگرام جس میں فلمیں ، کارٹونز، کھیل، گانے، فیشن اور ٹی وی شو وغیرہ کو بھی تفریح کا نام دے دیا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس وقت تہذیبی جنگ میدان میں یا اسلحے کے ساتھ نہیں لڑی جا رہی بلکہ عقیدہ اور اخلاق کے میدان میں لڑی جارہی ہے اور تفریح کے نام پرغیر اسلامی تہذیب و ثقافت کو فروغ دیا جارہا ہے۔

اسلام صرف عقائد کے باب میں میانہ روی یا اعتدال پرستی کا تعلق تمام شعبہ حیات سے ہے اور اس کا یہی خاصہ بھی ہے، اور اس کی دوسری سب سے بڑی خوبی اس کے کسی بھی ضابطے کا تعلق غیر فطری یا غیر عقلی تصورات سے نہیں، یعنی کہیں بھی اس نے انسان کی جائز ضروریات پر کوئی قدغن نہیں لگائی البتہ کچھ اصول و ضوابط کے ذریعے اس کی حد بندیاں ضرور کر دیں تاکہ فساد بپا نہ ہو۔

اقوامِ یورپ کی طرح پوری زندگی کو کھیل کود بنادینا اور ”زندگی برائے کھیل“ کا نظریہ اسلام کے نقطہ نظر سے درست نہیں ہے، بلکہ آداب کی رعایت کرتے ہوئے، اخلاقی حدود میں رہ کر کھیل کود، زندہ دلی، خوش مزاجی اور تفریح کی نہ صرف یہ کہ اجازت ہے، بلکہ بعض اوقات چند مفید کھیلوں کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اسلام سستی اور کاہلی کو پسندنہیں کرتا، بلکہ چستی اور خوش طبعی کو پسند کرتا ہے۔

 اس سے قبل کہ ہم اسلام کےتصورِ تفریح پر بات کریں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس عنوان کا تعارف کروا دیا جائے۔

تفریح کیا ہے ؟

تفریح کا لفظ دراصل عربی زبان کا لفظ ہے جو ”فرح“ سے مشتق ہے جس کے معنی گپ شپ، دل لگی ، ہنسی مذاق ،خوشی و مسرت ، فرحت ا ور اطمینان وغیرہ حاصل کرنے کے آتے ہیں۔ فرح کے بارے میں علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں: ’’ الفرح لذة تقع في القلب بإدراك المحبوب‘‘[2]

کہ محبوب چیز کے پالینے سے جو لذت حاصل ہوتی ہے،اسی کو فرحت اور خوشی کہتے ہیں۔

اگر یہ فرحت محض قلبی ہو اور احساس نعمت یعنی شکر گذاری سے تعبیر ہو اور اس کے فضل وکرم کے استحضار پر مبنی ہو تو وہ شرعاً مطلوب،مستحسن اور پسندیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

[قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا] [یونس:58]

ترجمہـ’’آپ کہہ دیجیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور مہربانی سے ہے، تو چاہیے کہ وہ لوگ خوش ہوں۔ ‘‘

دوسری جگہ ارشاد ہے:

[فَرِحِيْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ۝۰ۙ][آل عمران:170]

ترجمہ:’’ جنتی لوگ خوش ہوں گے،ان نعمتوں پر جو اللہ نے انھیں اپنے فضل سے عطا کی ہیں‘‘۔

 ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"رَوِّحُوا الْقُلُوْبَ سَاعَةً‘‘[3]

کہ دلوں کو وقتاً فوقتاً خوش کرتے رہا کرو۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سےمروی ہے:

’’القلوب تمل كما تمل الأبدان فابتغوا لها طرائف الحكمة‘‘[4]

ترجمہ:’’ دل اسی طرح اکتانے لگتا ہے، جیسے بدن تھک جاتے ہیں، لہٰذا اس کی تفریح کے لیے حکیمانہ طریقے تلاش کیا کرو‘‘۔

مزاح کا شرعی حکم 

 اسلام کےتصور تفریح کی اساس قرآنی تعلیمات اور احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  پر ہے۔ جس میں حلال و حرام، شرم و حیا اور اخلاقی پابندیوں کو اہم مقام حاصل ہے۔ ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی نمونہ ہے۔آپ جہاں ایک طرف اتنی نمازیں پڑھتے تھے کہ قدمِ مبارک پرورم آجاتا تھا وہیں آپ صحابہ کرام سے ہنسی مذاق اور دل لگی بھی کرتے تھے۔اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ اسلام سستی اور کاہلی کوناپسنداور چستی اور خوش طبعی کو پسند کرتا ہے۔ شریعت کی تعلیمات اس امر کا تقاضہ کرتی ہیں کہ مسلمان شریعت کے تمام احکام پر خوشی خوشی عمل کرے۔ یہ عمل تنگ دلی کے ساتھ نہ ہو کیوں کہ سستی اور تنگ دلی کے ساتھ عبادات کو انجام دینا نفاق کی علامت ہے۔ باری جل وعلا نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

[ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوۃِ قَامُوْا كُسَالٰى۰ۙ][ النساء :142]

’’منافقین جب نماز کیلئے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی اور کاہلی سے کھڑے ہوتے ہیں ‘‘۔

سستی اور کاہلی بے جا فکرمندی اتنی ناپسندیدہ چیز ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان امور سے پناہ مانگی ہے۔اسی لیے آپ دعا فرماتے تھے:

" وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ"۔[5]

اے اللہ میں عاجزی اور سستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔

اسی طرح صحابہ کرام بھی آپس میں ہنستے کھیلتے اور دل لگی کی باتیں کرتے تھے۔ کیونکہ تفریح کرنا کوئی ناجائز کام نہیں بشرطیکہ اسے مستقل عادت نہ بنالیا جائے کہ آدمی اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے لگے اور یہ بھی مناسب نہیں کہ لوگوں کو ہنسانے کی خاطر جھوٹ سے کام لے ۔ حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’تباہی ہے اس شخص کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کی خاطر جھوٹی باتیں کرتا ہے ۔ اس کے لیے تباہی ہے۔ اس کے لیے تباہی ہے‘‘۔[6]

اسی طرح یہ بھی صحیح نہیں کہ وہ لوگوں کی قدر ومنزلت اور عزت کا خیال نہ رکھے اور ان کا مذاق اڑانے لگے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

[يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَاۗءٌ مِّنْ نِّسَاۗءٍ عَسٰٓى اَنْ يَّكُنَّ خَيْرًا مِّنْہُنَّ][الحجرات:11]

ترجمہ: اے ایمان والو! مرد دوسرے مرد وں کامذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔

مزاح اور زندہ دلی وخوش طبعی انسانی زندگی کا ایک خوش کن عنصر ہے، اور جس طرح اس کا حد سے متجاوز ہوجانا نازیبا اور مضر ہے،اسی طرح اس لطیف احساس سے آدمی کا بالکل خالی ہونا بھی ایک نقص ہے۔ جو بسا اوقات انسان کو خشک محض بنادیتاہے۔ بسا اوقات ہمجولیوں اور ہمنشینوں اور ماتحتوں کے ساتھ لطیف ظرافت و مزاح کا برتاؤ ان کے لیے بے پناہ مسرت کے حصول کا ذریعہ اور بعض اوقات عزت افزائی کا باعث بھی ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام تر عظمت و رفعت اور شان وشوکت کے باوجود، بسا اوقات اپنے جاں نثاروں اور نیازمندوں سے مزاح فرماتے تھے۔ ذیل کی احادیث سے اندازہ لگایا جاسکتاہے  کہ آپ کا پرشفقت مزاح کس طرح ہواکرتا تھا۔

سنت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  سے مزاح کی چند مثالیں :

               ابوہریرہ سے روایت ہے کہ بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول  صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہم سے مزاح فرماتے ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایاکہ :’’میں مزاح میں بھی حق بات ہی کہتا ہوں (یعنی اس میں کوئی بات غلط اور باطل نہیں ہوتی)‘‘۔[7]

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھی عورت سے فرمایاکہ’ ’بڑھیا جنت میں نہیں جائے گی۔ اس بے چاری نے عرض کیا ان بوڑھیوں میں کیا ایسی بات ہے جس کی وجہ سے وہ جنت میں نہیں جاسکیں گی۔ وہ بوڑھی قرآن خواں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم نے قرآن میں یہ آیت نہیں پڑھی ؟[8]

[إنَّا أنْشْأنَاہُنَّ انْشَاءً ا فَجَعَلْنَاہُنَّ أبْکَارًا] [الواقعہ:36]

کہ جنت کی عورتوں کی ہم نئے سرے سے نشوونما کریں گے اور ان کو نوخیز دوشیزائیں بنادیں گے۔

جناب انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لیے اونٹ مانگا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’ہاں! میں تم کو سواری کے لیے اونٹ کا بچہ دوں گا، اس شخص نے عرض کیا کہ میں اونٹنی کے بچےکا کیا کروں گا؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: اونٹ بھی تو اونٹنی ہی کے بچے ہوتے ہیں‘‘۔ [9]

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں (ازراہِ مزاح وشفقت) "یا ذالأذنین"اے دو کان والے کہہ کر مخاطب کیا۔ (حالاں کہ ہر شخص دوکان والا ہوتاہے)۔ [10]

سیدنا نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت چاہی۔ اسی درمیان آپ کو گھریلومعاملات میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی آواز بلند محسوس ہوئی۔ جب آپ گھر میں داخل ہوئے توسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف مارنے کے لیے لپکے اور اپنی بیٹی عائشہ کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  سے

 

 اونچی آواز میں گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھ رہا ہوں؟! یہ دیکھ کر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ کو ان کے والد کی مار سے بچانے کی کوشش کرنے لگے۔ اسی دوران ابوبکر غصّہ کی حالت میں گھر سے نکل گئے۔ ابوبکررضی اللہ عنہ کونکلتے دیکھ کررسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: کیا خیال ہے؟ میں نے تمہیں اس شخص (الرجل)سے بچایا کہ نہیں؟ راوی کہتے ہیں کہ ابوبکررضی اللہ عنہ کچھ دنوں تک ناراض رہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   کے یہاں حاضر ہوکر اندر آنے کی اجازت چاہی، گھر جاکر محسوس کیا کہ آپ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے مابین صلح ہوچکی ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ: ’’ آپ دونوں مجھے اپنی صلح میں شامل کرلیجیے،جس طرح آپ دونوں نے مجھے اپنے جھگڑے میں شامل کیا تھا، تو آپ نے فرمایا کہ: جی ہاں آپ کو صلح میں شامل کرلیا ۔

                (اس حدیث میں ابوّت کے رشتہ کے حامل بزرگ جناب ابوبکررضی اللہ عنہ کو محض (الرجل) کہنے سے جو مزاح پیدا ہوتا ہے، اسے کوئی بھی شخص محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا)۔

سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ’’ میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں غزوہ تبوک میں حاضر ہوا، جب کہ آپ چمڑے سے بنے سائبان میں قیام پذیر تھے۔ میں نے سلام کیا، تو انھوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا آجاؤ میں نے عرض کیا: پورا کا پورا آجاؤں؟ آپ نے فرمایا: ہاں پورا کاپورا۔ (جگہ کی قلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان صحابی رضی اللہ عنہ نے جس محبت کے ساتھ مزاح کیا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے کمالِ اخلاق مندی سے انہیں کے مزاحیانہ اسلوب میں جواب دیا)‘‘ ۔[11]

 مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ آداب کی رعایت کرتے ہوئے کبھی کبھی مزاح کی نہ صرف گنجائش ہے، بلکہ مستحسن ہے اور اسوہ نبوی کی اتباع ہے،لیکن اگرمزاح دوسرے آدمی کے لیے ناگواری اور اذیت کا باعث بن جائے، یا حد سے زیادہ ہنسی کا ذریعہ بن جائے یا مزاح کا عمل کبھی کبھار کے بجائے کثرت سے ہونے لگے، تو ایسے مزاح کی ممانعت ہوگی اور اس کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

مزاح سے متعلق چند شرعی قواعد وضوابط

(1) ہنسی مذاق میں دین حنیف کا مذاق نہیں ہونا چاہئے:

 ایسا کرنے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے ۔ فرمان باری جل وعلا ہے :

[وَلَىِٕنْ سَاَلْتَہُمْ لَيَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ] [التوبة:65]

اگر ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو کھیل مزاح کررہے تھے ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

               ’’ اللہ تعالیٰ ، اس کی آیات ، اور اس کے رسول کے ساتھ مذاق کرنا کفر ہے اس عمل سے بندہ ایمان لانے کے بعد کافر ہوجاتاہے ‘‘ [12]

علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ نے اسے ارتداد قرار دیاہے ۔ اس میں وہ مذاق بھی شامل ہے جیسا کہ بعض لوگ چند شرعی احکام کو مذاق بناتے ہیں جن میں ٹخنے سے کپڑا اونچا رکھنا ، داڑھی بڑھانا ، نماز اور روزہ وغیرہ ۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ جس نے ہنستے ہوئے گناہ کیا وہ روتے ہوئے جہنم میں داخل ہوگا ‘‘[13]

(1)مزاح سچائی پر مشتمل ہونا چاہئے نہ کہ جھوٹ پر :

امام احمد رحمہ اللہ اپنی مسند میں روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا ’’ اس شخص کیلئے ہلاکت ہے جو بات کرتا ہے اس میں جھوٹ بولتاہے تاکہ قوم کا ہنسا سکے اس کے لئے تباہی اور ہلاکت ہے‘‘۔ [14]

ایک اور روایت میں منقول ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا :’’ بندہ ایسی بات کرجاتاہے کہ جس  سے اپنے ساتھ بیٹھے لوگوں کو ہنسا سکے اور اس بات کی وجہ سے جہنم میں اتنا دور جاگرتاہے جیسا کہ دنیا سے ثریا‘‘ ۔[15]

مذکورہ احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مزاح کے طور پر جو گفتگو کی جائے، وہ ظرافت ولطافت کے باوصف فی نفسہ صحیح اور درست ہو، خوش طبعی کے لیے جھوٹ کا سہارا لینا بھی مذموم ہے۔

(3)  مزاح میں کسی کا تمسخر اور استہزاء مقصود نہ ہو

یہ ایک حرام اور ناجائز عمل ہے جسے شریعت نے حرام قرار دیا ہے چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے :

{يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓى ....}[الحجرات: 11]

علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’ اس سے مراد لوگوں کو حقیرکمتر سمجھنا ، ان کا مذاق اڑانا ، یہ ایک حرام کام ہے اور منافقین کی صفت ہے ‘‘۔ [16]

امام بیہقی رحمہ اللہ نے شعب الایمان میں روایت نقل کی کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا :’’ لوگوں کا تمسخر اور ٹھٹھ اڑانے والوں کیلئے جنت کا دروازہ کھولا جائے ۔ ان میں سے ایک کو کہا جائے گا کہ آجاؤ ، جب وہ اپنے غم وکرب اور تکلیف میں مبتلا دروازے پر پہنچے گا جب وہ قریب آئے گا تو دروازہ بند کردیا جائے گا ‘‘[17]

کسی کا مذاق اڑانے والے کو اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ کسی کا مذاق اڑا رہا ہے تو کہیں اللہ تعالیٰ بطور سزا اس پر وہ کیفیت اور صفت مسلط نہ کردے ۔ اور وہ اس مرض میں مبتلا ہوجائے ۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا :’’ اپنے بھائی کا تمسخر نہ اڑاؤ ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے اور تمہیں کسی آزمائش میں مبتلا کردے ‘‘۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مسلمانوں کا مذاق اڑانے ،مسلمانوں کو تکلیف دینےسے منع فرمایا اور کسی بھی مسلمان کی تحقیر کے سلسلے میں احادیث میں سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔ ارشاد نبوی ہے:

’’ اَلْمُسْلِمُ أخُو الْمُسْلِمِ لاَ یَظْلِمه وَلاَ یَخْذُله وَلاَ یُحَقِّرُہ‘‘[18]

ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے،اس پر کوئی ظلم وزیادتی نہ کرے۔ اس کو بے یار ومددگار نہ چھوڑے اور اس کو حقیر نہ جانے اورنہ اس کے ساتھ حقارت کابرتاؤ نہ کرے۔ پھر آپ نے فرمایا: آدمی کے برا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے، کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے اور اس کے ساتھ حقارت سے پیش آئے۔

 تکلیف دہ مزاح کی ممانعت کی دلیل مندرجہ ذیل حدیث ہے: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے بھائی سے جھگڑا نہ کرو اور اس سے مذاق نہ کرو اور اس سے تم ایسا وعدہ نہ کرو جس کی وعدہ خلافی کرو۔اس حدیث میں دیگر تکلیف دہ اعمال (جھگڑا، وعدہ خلافی) کے ساتھ اس مزاح کی بھی ممانعت کی گئی ہے؛ جو اذیّت ناک اور ناگواری کا باعث ہو۔

(4)مسلمان بھائی کو بطور مذاق ڈرائے یا دھمکائے نہیں

 امام ابوداؤ د نے سنن میں ابن ابی لیلیٰ سے روایت نقل کی کہ ’’ ہمیں اصحاب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بیان فرمایا کہ وہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ کسی سفر میں تھے ان میں سے ایک شخص سوگیا تو ایک اور فرد نے اس کے پاس موجودرسی سے اسے پکڑا وہ گھبراکر اٹھ بیٹھا اس پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو ڈرائے ‘‘۔[19]

ایک اور روایت میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشادفرمایا :’’ تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کا سامان کھیل کود میں یا سنجیدگی میں نہ لے ‘‘۔ [20]

(5) مذاق میں حد سے زیادہ انہماک نہ ہو

مذاق میں حد سے زیادہ منہمک ہونا ، طول دینا، اور مبالغہ آمیزی کرنا بھی جائز نہیں ہے ۔ مذاق کا بنیادی ضابطہ یہ ہے کہ وہ وقتی اور محض کچھ دیر کی خوش طبعی کیلئے ہونا چاہئے نہ کہ اسے پیشہ بنایا جائے ۔ مومنین کی صفات سنجیدگی ہے ، ہنسی مذاق محض بطور رخصت کے اجازت دی گئی ہے بعض لوگ سنجیدگی اور کھیل کے وقت میں فرق نہیں کرتے ۔ امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ لوگوں کی ایک بہت بڑی غلطی اور جرم یہ ہے انہوں نے مذاق کو پیشہ بنا لیا ہے ‘‘[21]

اتفاقیہ طور پر حسبِ موقع مزاحیہ گفتگو کرلینا اور تفریحی اشعار کہہ سن لینا اگرچہ جائز ہے؛ لیکن اس کے لیے اہتمام سے اجتماع کرنا اوراس میں گھنٹوں لگانا کسی طرح بھی درست نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:

’’ مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکه مَا لاَیَعْنيه‘‘[22]

یعنی آدمی کے اچھے اسلام کی علامت یہ ہے کہ وہ ان امور کو ترک کردے جن سے انہیں سروکار نہیں ۔

مستقل طور پر مزاح میں لگے رہنا ممنوع ہے، اس لیے کہ وہ زیادہ ہنسنے کا سبب، قلب کے بگاڑ کا ذریعہ اور ذکر اللہ سے اعراض کا موجب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار ہی مزاح فرماتے تھے، وہ بھی کسی خاص مصلحت کے لیے یا مخاطب کو مانوس کرنے کے لیے ۔

ہنسی کے مواقع پر ہنسنا اور مسکرانا بھی انسانی فطرت کا تقاضا ہے اور بلا موقع اور محل تکلف سے ہنسنا اور قہقہہ لگانا فطرت کے خلاف عمل ہے۔ موجودہ دور میں ڈاکٹروں کی رائے میں اگرچہ ہنسنا انسانی صحت کی برقراری اور اس کو چست ونشیط رکھنے کے لیے معاون فعل ہے، اس کے لیے خاص طور پر ہنسنے کے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں لوگ تکلف قہقہہ لگاتے ہیں اور دیر تک ہنسنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہ عمل شرعی لحاظ سے مناسب نہیں، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’ لاَتُکْثِرِ الضِّحْکَ فَانَّ کَثْرَةَ الضِّحْکِ تُمِیْتُ الْقَلْبَ ‘‘[23]

کہ تم زیادہ مت ہنسا کرو، اس لیے کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کردیتا ہے۔

اس کے علاوہ قہقہہ لگانا یہاں تک کہ کھل کھلاکر ہنسنا بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (جو بالیقین ایمان والوں کے لیے ہر عمل میں بہترین اسوہ ہیں) سے ثابت نہیں،بلکہ آپ خوشی کے مواقع پر صرف زیر لب مسکرایا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طور پر کھل کھلاکر ہنستے ہوئے کہ آپ کے دہن مبارک کا اندرونی حصہ نظر آجائے، کبھی نہیں دیکھا۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  تو صرف تبسم فرمایا کرتے تھے ‘‘۔

معلوم ہوا کہ اگر سلسلہٴ کلام میں کوئی تعجب خیز، حیرت انگیز یا مضحکہ خیز بات زیر تذکرہ آجائے؛ تو ان پر ہنسنے اور مسکرانے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ ایسے مواقع پر ہنسنا اور مسکرانا چاہیے،تاکہ دل کا بوجھ ہلکا اور غبار کم ہو اور موجودہ زمانے کی تحقیق کے مطابق صحت، مستعدی اور نشاط میں اضافہ ہو، لیکن شرط یہ ہے کہ یہ ہنسنا اور مسکرانا غافلین کا سا نہ ہو،اس لیے کہ اس طرح کا ہنسنا دلوں کو مردہ کردیتا ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی ہنسا کرتے تھے؟ انھوں نے فرمایا: ہاں! بیشک! وہ ہنسنے کے موقع پر ہنستے بھی تھے، لیکن اس وقت بھی ان کے قلوب میں ایمان پہاڑ سے زیادہ عظیم ہوتا تھا۔

 لہٰذا موجودہ دور کے ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق عمل کرتے ہوئے بہ تکلف قہقہے لگانے کی مجلس منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے بلکہ بے تکلف فطری انداز میں جس قدر انسان ہنس لے، وہی اس کی صحت وتندرستی کے لیے کافی ہے۔ اس لیے کہ زیادہ ہنسنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق صحت وتندرستی کا سبب نہیں بلکہ دلوں کے مردہ ہونے کا سبب ہے۔ اگر مزاح کے پہلوؤں کی حامل، مفید امور پر مشتمل کوئی کہانی ہو، تو اسے افادیاتی نقطۂ نظر سے انگیز کیا جاسکتا ہے۔ ایک باررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنھاکو عرب کی تیرہ عورتوں اور ان کے شوہروں کا قصہ سنایا جو’’حدیثِ امّ ِذرع‘‘ کے نام سے حدیث کی کتابوں میں مذکور ہے۔

لطیفہ گوئی اور مزاح کو ذریعہٴ معاش بنانا: کبھی کبھار لطیفہ کہہ دینے یا مزاح اور تفریح کرلینے کی تو گنجائش ہے، لیکن مستقل لطیفہ گوئی کرنا اور اس کو ذریعہٴ معاش بنالینا، یہ اس مقصد حیات کے برخلاف ہے، جو اسلام افراد اورمعاشرے میں پیدا کرنا چاہتا ہے اور مستقل لطیفہ گوئی اور مزاح وتفریح میں مشغول رہنا انسان کو فکرِآخرت، ذکر اللہ، عبادت اور تلاوت قرآن سے غافل کردیتا ہے۔ زیادہ ہنسنے ہنسانے سے دل مردہ ہوجاتا ہے۔ انھی اسباب کی وجہ سے شعر وشاعری کی مذمت کی گئی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ انسان اپنا پیٹ پیپ سے بھرے، یہ اس سے بہتر ہے کہ اشعار سے بھرے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ: شعر جب ذکر اللہ، قرآن کریم کی تلاوت اور علم کے اشتغال پر غالب آجائے، اور اگر شعر مغلوب ہے تو پھر برا نہیں۔ یہی حال لطیفہ گوئی اور مزاح نویسی کا ہے۔ اس کو مستقل پیشہ بنالینا انہماک کی دلیل ہے اور ایسی چیزوں میں غالب انہماک ممنوع ہے،لہٰذا اس کی اجرت وصول کرنا بھی درست نہیں، ازخود کوئی بطور انعام کے دے دے، تو اس کے لینے کی گنجائش ہے۔

(6) دوران مذاق عزت و مرتبہ کا خیال رکھا جائے

 دوران مذاق لوگوں کے مقام ومرتبہ اور عزت وشرف اور ہیبت وورقار کالحاظ رکھا جائے ۔

کیونکہ صاحب حیثیت ومنزلت افراد کے ساتھ مذاق بسا اوقات دائرہ ادب سے نکل جاتاہے اور بے ادبی کا احتمال ہوتاہے اس لئے ایسے افراد سے مذاق کرنے میں احتیاط برتی جائے ۔ اور دائرہ ٔادب کا خیال رکھاجائے ۔ جیسا کہ بسا اوقات طالب علم استاد سے مذاق کرتاہے تو وہ بھی دائرہ ادب سے نکل جاتاہے اور ایک احترام کا رشتہ قائم رہنا چاہئے ۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:

"إن من إجلال الله إكرام ذي الشيبة المسلم"[24]

اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں یہ امر بھی شامل ہے کہ باریش مسلمان کی تکریم کی جائے ۔

امام طاؤس رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:’’ عالم کی عزت وتوقیر کرنا سنت ہے‘‘۔

یہ بھی اسلامی آداب میں سے ہے کہ کسی اجنبی سے مذاق کرنے سے اجتناب کیا جائے جس کی طبیعت نفس اور مزاج سے ناآشنائی ہو ۔ کیونکہ اس سے مزاح سے حقارت کے برتاؤ کا پہلو نکلتا ہے۔

سیدنا عمر بن عبد العزیز نے عدی بن ارطاۃ کو لکھاکہ ’’مذاق سے بچو کیونکہ اس سے مروّت جاتی رہتی ہے ‘‘ ۔

 

(7)  بیوقوف اور کم عقل افراد سے مذاق کرنے سے اجتناب کیا جائے

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :’’ مذاق میں میانہ روی اختیار کرو، اس میں افراط سے کام لینے سےہیئت جاتی رہتی ہے اور بے وقوف لوگوں کوآپ کے خلاف جرأت ہوجاتی ہے ‘‘ ۔

8  مذاق میں کسی مسلمان بھائی کی غیبت اور چغل خوری نہیں ہونی چاہئے

مسلمان بھائی کی غیبت کرنا اس کے مردہ گوشت کھانے کے مترادف ہے ۔ غیبت اور چغل خوری کا نتیجہ فتنہ ہے۔ عصر حاضر میں مزاح کی غالب صورتیں اس قبیح اور ناپاک جرم سے خالی نہیں ،اور غیبت کی شرعی اصطلاح میں یہ تعریف بیان کی گئی ہے کہ’’ذكرك أخاك بما يكره‘‘[25]اپنے مسلمان بھائی کا اس انداز میں تذکرہ کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو ۔ لہٰذا غیبت اور چغل خوری ایک بہت بڑا اخلاقی جرم ہے مزاح کرنے میں اس سے پرہیز کیا جائے۔

تفریحی کھیل شرعی نقطہ نظر سے

اسلام کے تصور تفریح کا مقصد صرف وقت گزاری نہیں ہے بلکہ اس نے عملی، تربیتی عسکری اور جسمانی ورزش کے مقاصد بھی مد نظر رکھے ہیں۔ تفریح کے نام پر جھوٹ، تہمت، مبالغہ آمیزی اور دوسروں کی نقل اتارنے کی اجازت نہیں دی ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی کہ اسلام نے ان مجلسوں میں شرکت کرنے سے روک دیاجس میں انسان اس قدر منہمک ہوجائے کہ اسے نماز ودیگر فرائض کا پاس وخیال نہ رہے یامردوزن کا بے محابا اختلاط ہو۔

اسی لیے اسلام نے تفریح اور کھیل میں سے صرف انہی چیزوں کی اجازت دی ہے جو جسمانی یا روحانی فوائد کے حامل ہوں اورجو محض ضیاعِ اوقات کا ذریعہ ہوں، فکر آخرت سے غافل کرنے والے ہوں یا دوسروں کے ساتھ دھوکہ فریب یا ضررسانی پر مبنی ہوں،ان کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسلامی نظام کوئی خشک نظام نہیں جس میں تفریحِ طبع اور زندہ دلی کی کوئی گنجائش نہ ہو، بلکہ وہ فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ اور فطری مقاصد کو بروئے کار لانے والا مذہب ہے۔

1۔ اصولی ہدایت: اسلام انسان کو ایک بامقصد زندگی گزارنے کی ہدایت دیتا ہے اور کھیل وکود اور لہوولعب پرمشتمل زندگی کی مذمت کرتا ہے۔ بامقصد زندگی جس کی اساس ہمہ وقت اللہ کی خوشنودی کی جستجو، تعمیر آخرت کی فکر مندی اور لہوولعب سے اِعراض ہووہ زندگی اہل ایمان کی پہچان ہے اور جس کی بنیاد لہوولعب پر مشتمل غفلت و بے پرواہی ہو وہ کفار کا شعار ہے۔ ارشاد الٰہی ہے: [وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ ][المومنون:3]کہ اہل ایمان کی صفت یہ ہے کہ وہ لغو اور فضول باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔ لہٰذا شرعی نقطہ نظر سے ہر وہ کام، قابلِ تعریف ہے، جو انسان کو مقصدِ اصلی پر گامزن رکھے۔ ہر اس کام کی اجازت ہے، جس میں دنیا وآخرت کا یقینی فائدہ ہو۔ یا کم از کم دنیا وآخرت کا خسارہ نہ ہو۔ کھیلوں میں سے بھی صرف انہی اقسام کی اجازت ہے، جو جسمانی یا روحانی فوائد کےحامل ہوں۔ وہ کھیل جو محض ضیاعِ اوقات کا ذریعہ ہوں، فکر آخرت سے غافل کرنے والے ہوںوہ کھیل جو دوسروں کے ساتھ دھوکہ فریب یا ضررسانی پر مبنی ہوں، ان کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’ کُلُّ مَا یَلهوابه الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ بَاطِلٌ الَّا رَمْیَةٌ بِقَوْسه وَتَأدِیْببه فَرَسه وَمُلاَعَبَته اِمْرَأته فَانّهن مِنَ الْحَقِّ‘‘[26]

               یعنی مرد مومن کا ہر کھیل بیکار ہے سوائے تین چیزوں کے: (۱) تیر اندازی کرنا، (۲) گھوڑے سدھانا (۳) اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، کیوں کہ یہ تینوں کھیل حق ہیں۔

2۔ لباس وپوشاک سے متعلق: لباس اور پوشاک کے سلسلے میں یہ ضروری ہے کہ کھلاڑی کھیل کے دوران ایسا لباس پہنے، جو ساتر ہو یعنی جسم کا وہ حصہ چھپ جائے، جن کا چھپانا واجب ہے، یعنی مرد کے لیے ناف سے لے کر گھٹنے تک اور عورت کے لیے پورا جسم ستر میں داخل ہے، ان کا ڈھکا ہوا ہونا واجب ہے۔ لباس اتنا باریک اور چست بھی نہ ہو کہ جسم کے اعضا نمایاں ہوں۔ اسی طرح  اس لباس میں کفّار کے ساتھ ایسی مشابہت نہ ہو کہ اس لباس کو دیکھنے سے کوئی خاص قوم سے مشابہت سمجھ میں آتی ہو۔ اور نہ اس لباس کا تعلق غیر اسلامی شعار سے ہو۔ مردوں کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ وہ لباس ٹخنوں سے نیچے نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’مَاأسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ مِنَ الازَارِ فِی النَّارِ‘‘[27]کہ جو شخص بھی ٹخنوں سے نیچے پاجامہ پہنے گا، وہ جہنم کی آگ میں جلے گا۔ ایک دوسری روایت میں ہےعبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو زعفرانی رنگ کا کپڑا پہنے دیکھا، تو آپ نے فرمایا : ’’یہ کفار کا لباس ہے اس لیے اسے مت پہنو‘‘۔[28]

عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مَنْ تَشَبه بِقَوْمٍ فهوَ مِنهم‘‘ ۔[29]

کہ جس نے کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کی اس کا تعلق اسی قوم کے ساتھ سمجھا جائے گا۔

3۔ پسندیدہ کھیل: تیراندازی اور نشانہ بازی، سواری کی مشق، دوڑلگانا، بیوی کے ساتھ بے تکلّفانہ کھیل، نیزہ بازی، تیراکی، کُشتی اورکبڈی۔ مذکورہ تمام کھیل چوں کہ احادیث وآثار سے ثابت ہیں اس لیے ان کے جوازبلکہ استحباب میں کوئی کلام نہیں ہوسکتا، اورکبڈی کا حکم بھی کشتی کی طرح ہے۔

4۔ ناپسندیدہ کھیل: ان کے علاوہ جو کھیل کود رائج ہیں ان کی شرعی حیثیت کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ جن کھیلوں کی ممانعت کی گئی ہے، وہ سب ناجائز ہیں: جیسے نرد، شطرنج، کبوتربازی، اور جانوروں کو لڑانا۔

               البتہ موجودہ زمانے کے چند معروف کھیلوں کے حوالے سے مقاصدشریعت اور اھداف شریعت کی طرف دیکھا جائے گا اور بنیادی اصول و ضوابط کو مدنظر رکھا جائے گا ۔

أ)  مثلا پتنگ بازی جوکہ کبوتر بازی کے حکم کے ذیل میں آتی ہے یعنی ناجائز۔ اس میں بھی دیگر ناجائز کھیلوں کی طرح متعدد مفاسد پائے جاتے ہیں اور بعض علاقوں میں خاص مواقع پر ”بسنت منانے“ کے عنوان سے وہ ہلڑبازی ہوتی ہے کہ خدا کی پناہ! اس کے علاوہ قوم کے لاکھوں کروڑوں روپے محض پتنگ بازی کے نذر ہوجاتے ہیں۔ بعض اوقات چھتوں سے گرکر جان کا ضیاع بھی ہوتا ہے، کٹے ہوئے پتنگ کو زبردستی لوٹ لیا جاتا ہے، بے پردگی الگ ہوتی ہے، ان امورِ قبیحہ کی وجہ سے پتنگ بازی بھی شرعی نقطۂ نظر سے ممنوع ہے۔

ب)  تاش بازی: یہ کھیل بھی شرعی نقطۂ نظر سے ممنوع ہے، اس لیے کہ تاش عام طور پر باتصویر ہوا کرتے ہیں۔ تاش کھیلنا عام طور پر فاسق وفاجر لوگوں کا معمول ہے۔ بالعموم اس میں جوا اور قمار کی شمولیت ہوتی ہے۔ اس کھیل میں تفریح کی جگہ پرالٹا ذہنی تکان ہوتی ہے۔ اگر جوے کے بغیر بھی کھیلاجائے، تو شطرنج کے حکم میں ہوکر مکروہ تحریمی کہلائے گا۔ بعض احادیث میں شطرنج کی ممانعت آئی ہے۔ جو مصلحت شطرنج کو منع کرنے میں ہے، وہی بات تاش کھیلنے میں پائی جاتی ہے۔

ج) باکسنگ، فائٹنگ: موجودہ زمانہ میں باکسنگ مُکّا بازی، فری اسٹائل فائٹنگ کے جو مقابلے منعقد ہوتے ہیں، وہ شریعتِ اسلامی میں بالکل حرام ہیں، اسے جائز ورزش کا نام نہیں دیا جاسکتا، ایسے باکسنگ مقابلوں کو ٹی وی پر براہِ راست نشر کرنا بھی جائز نہیں، کیوں کہ اس میں فریق مقابل کو شدید جسمانی اذیت پہنچانے کو جائز تصور کیاجاتا ہے جس سے ہوسکتا ہے کہ مدِمقابل اندھے پن، سخت نقصان، دماغی چوٹ یا گہری ٹوٹ پھوٹ،بلکہ موت سے بھی دوچار ہوجائے۔اس میں مارنے والے پراس نقصان کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ہے، جیتنے والے کے حامیوں کو اس کی جیت پر خوشی اور مقابل کی اذیت پر مسرت ہوتی ہے، جو اسلام میں ہرحال میں حرام اور ناقابل قبول ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} [البقرة: 195] اور تم اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں مت ڈالو۔

د)  بل فائٹنگ : اسی طرح بیلوں کے ساتھ کشتی جس میں تربیت یافتہ مسلح افراد اپنی مہارت سے بیل کو موت کے گھاٹ اتاردیتے ہیں، یہ بھی حرام ہے،کیوں کہ اس میں جانور کو ایذاء پہنچاکر اور جسم میں نیزے بھونک کر قتل کیاجاتا ہے اور بعض اوقات بیل بھی مدِمقابل انسان کو ختم کردیتا ہے یہ عمل کسی

 

بھی حال میں درست نہیں، اس لیے کہ روایت میں ایک بلی کو بھوکا مارنے پر جہنم میں ڈالنے کا مضمون آیا ہے۔

ھ) کیرم بورڈ: یہ بھی فساق و فجار کا کھیل ہے اس سے بھی اجتناب کیا جائے تو بہتر ہے بعض علماء احناف کے نزدیک یہ کھیل اگر انہماک اور جوے کے بغیر کھیلا جائے تواس کی گنجائش ہے۔

و)  لوڈو: شطرنج اور کیرم بورڈ کے حکم میں ہے ۔

ز)  ویڈیوگیم: ان کا تعلق اگر تعلیم و تربیت سے ہو او ر تصاویر و دیگر شرعی قباحتیں نہ پائی جائیں تو کوئی حرج نہیں جیسا کہ ایک کھیل scrabble جس میں طالب علم حروف جوڑ کر ایک بامعنی لفظ یا کلمہ بناتے ہیں اور ان بامعنی لفظ کو بنانے کے لیے مختلف معاجم و غیرہ کا استعمال بھی کیا جاتا ہے

ح) ہاکی، فٹ بال، والی بال، ٹینس، بیڈمنٹن، کرکٹ: اگر ان کھیلوں کی نوعیت کسی معصیت، حرام یا ناجائز کام پرمشتمل ہو وہ بھی اس مقصد حرام کی وجہ سے ناجائز ہوں گے۔ مثلاً کسی کھیل میں ستر کھولاجائے، یا اس کھیل میں جوابازی ہو، یا اس میں مرد وعورت کا مخلوط اجتماع ہو، یا اس میں موسیقی کا اہتمام ہو، یا کفار کی خاص مشابہت ہو، یا اس کی وجہ سے فرائض وواجبات میں غفلت ہورہی ہو۔

ط )  اسی طرح وہ کھیل جو بلامقصد محض وقت گزاری کے لیے کھیلے جاتے ہیں، وہ بھی ناجائز ہوں گے۔ اس لیے کہ قرآن کریم میں تو مومنوں کی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ {وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ} [المؤمنون: 3]’’ بیکار باتوں سے اعراض کرتے ہیں‘‘۔

معلوم ہوا کہ موجودہ دور میں مروّج کھیل مثلاً: ہاکی، فٹ بال، والی بال، ٹینس، بیڈ منٹن، کشتی، کرکٹ کی بعض شکلیں وغیرہ، جس میں بھرپور ورزش کا امکان ہوتا ہے، فی نفسہ ان کاکھیل درست ہے، لیکن چوں کہ عام طور پر ان کھیلوں میں اور ان کے لیے منعقد ہونے والے مقابلوں میں مندرجہ ذیل خرابیاں درآئی ہیں: (1) انہماک زیادہ ہونا (2) لوگ فرائض وواجبات سے غافل ہوجاتے ہیں (3)اسراف وتبذیر کی نوبت آتی ہے (4) وقت کا بے پناہ ضیاع ہوتا ہے (5) اکثر کھیلوں میں سترپوشی کا اہتمام نہیں کیا جاتا ہے۔ (6)اکثر جگہوں پر مرد وعورت کا اختلاط ہوتا ہے (7) محرمات: مثلاً بدنظری، گانا، ڈانس، ہلڑبازی کا ارتکاب ہوتا ہے (8) بعض کھیل کے ماہرین کو قومی ہیرو اور آئیڈیل کا  درجہ دے کر نونہالوں کے مستقبل سے کھلواڑ کیاجاتا ہے۔ (9) سٹے بازی، جوے بازی، میچ فکسنگ اور اسپاٹ فکسنگ کا سیلاب بلاخیز آیا ہوا ہے لہٰذا مذکورہ خرابیوں کی وجہ سے ان کھیلوں کے عدمِ جواز کا حکم لگایا جاتا ہے۔

ی) تعلیم وتذکیر کے لیے فلموں کا استعمال: فلم درحقیقت عکس بندی کا نام ہے۔ یہ عکس بندی جاندارچیزوں کی بھی ہوتی ہے اور بے جان چیزوں کی بھی۔ کسی بھی جاندار کی تصویر کھینچنا اور کھینچوانا کسی حال میں بھی درست نہیں ہے۔ خواہ ہاتھ کے ذریعہ ہو، یا قلم سے یا کیمرہ کے ذریعہ ہو یا پریس پر چھاپ کر۔ یا سانچہ اورمشین میں ڈھال کر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’اَشَدُّ النَّاسِ عَذَاباً یَومَ القِیَامَةِ الْمُصَوِّرُوْن‘‘ ۔[30]’’ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا‘‘۔ اس کے علاوہ اور بھی متعدد صحیح احادیث ہیں،جن میں تصویر سازی کی مذمت کی گئی ہے۔ ویڈیو اور کیمرہ کی تصویر بھی درحقیقت تصویر ہی ہے۔ اس سلسلہ میں بعض غیرمحتاط علماء کے ضعیف اقوال کو وجہ جواز نہیں بنایا جاسکتا، لہٰذا جان دار چیزوں کی فلم بندی کسی حال میں درست نہیں ہے، ضرورت کے مواقع مستثنیٰ ہیں۔ تعلیمی مقاصد وتذکیری مقاصد ضرورت میں شامل نہیں۔جیسا کہ موجودہ دور میں کارٹون میں بچوں کی رغبت بہت زیادہ پائی جاتی ہے اور کارٹونز بچوں کی نفسیات اور ان کے مزاج پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب کرتے ہیں اور بنیادی طور پر ان کا شمار بھی فلموں میں کیا جا سکتا ہے گو کہ بعض فقہاء نے نابالغ بچوں کے لیے باتصویر کھلونوں سے کھیلنے کو درست قرار دیا ہے لیکن اس سے کہیں بھی کارٹونز کے جواز پر کوئی دلیل نہیں ملتی ۔

ک)  اسٹیج ڈرامہ: موجودہ زمانے میں جو ”اسٹیج شو“ کے نام سے ڈرامے مروّج ہیں، وہ مفاسد سے پُرہوتے ہیں۔ اس لیے ممنوع ہیں۔ البتہ مدارس میں منعقد ہونے والے مکالمے، محادثے بالعموم اصلاحی تذکیری ہوتے ہیں اور مذکورہ مفاسد سے پاک ہوتے ہیں،اس لیے ان کی گنجائش ہے۔ تمام تفریحات اور کھیل کود میں اصل یہ ہے کہ انسان کسی حال میں اپنے مقصدِ حیات اور فکر آخرت سے غافل نہ ہو۔

عہد رسالت کے حوالے سے متعدد اقسام کے کھیل کود اور مختلف تفریحات کا پتہ چلتا ہے اور ان کا ذکر بہت زیادہ روایات میں ملتا ہے ان میں سے چند معروف کا ذکر سطور ذیل میں کیا جائے گا ان میں سے کچھ جنگی کھیل ہیں جو صرف مرد حضرات کھیلتے تھے بچوں کے لیے الگ مردانہ قسم کے کھیل کود تھے بعض روایات میں لڑکوں اور لڑکیوں کے مشترکہ کھیلوں کا بھی ذکر ملتا ہے اسی طرح معصوم بچیوں اور لڑکیوں کے خاص نسوانی کھیلوں کا ذکر بہت دلچسپ انداز میں ملتا ہے اسی طرح خواتین اور عورتوں کے بعض تفریحی مشاغل کا پتہ چلتا ہے ان میں سے معروف کا ذکر درج ذیل ہے:

فوجی کھیل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں مختلف طبقات و افراد کو تیر اندازی، شہسواری ، تلوار بازی ، نیزہ بازی، حربہ انگیزی او ر دوسرے فوجی کھیلوں کی ہمت افزائی کی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ان کے حصول اور کمال پر ترغیب بھی دلائی۔ بالعموم یہ تفاصیل’’ کتاب الجہادوالسیر‘‘ کے ابواب میں ملتی ہیں جیسا کہ صحیح بخاری کا ’’ باب التحریض علی القتال‘‘ ’’باب السبق من الخیل‘‘،’’باب التحریض علی الرمی‘‘ وغیرہ بلکہ عید الاضحی کے موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آڑ میں حبشی حضرات کے حربی کمالات دیکھنا ۔ اس واقعہ سے اور اس کی شروح سے واضح ہوتا ہے کہ وہ مستقل قسم کے کھیل تھے صرف اسی موقع پر نہیں پیش کیے بلکہ ہر عید پر ان کا اہتمام کیا جاتا تھا حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں اس پر مفصل بحث کی ہے۔ اور اصل بات یہ ہے کہ کھیلنے والوں کے لیے اجازت نبوی بلکہ منشائے نبوی بھی حاصل تھا۔یعنی یہ کھیلنا جائز اور مباح بلکہ ان کا دیکھنا اور دکھانا بھی جائز اور مباح ہے اس قسم کے کھیلوں کی عصری مثالیں 6 ستمبر میں یوم فضائیہ پر فضائی مظاہرے اور فوجی کمالات کا تعلق اسی نوعیت سے ہے جنہیں دیکھا جا سکتا ہے ۔

نشانہ بازی: نشانہ بازی خواہ تیر کے ذریعہ ہو یا نیزہ، بندوق اور پستول یا کسی اور ہتھیار کے ذریعہ ہو۔ اس کے سیکھنے کو باعثِ اجر وثواب قرار دیاگیا ہے ۔یوں بھی یہ کھیل انسان کے ذاتی دفاع کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ اگر جسم کی پھرتی، اعصاب کی مضبوطی اور نظر کی تیزی کا ذریعہ ہے۔ وہیں یہ خاص حالات میں دشمنوں سے مقابلہ آرائی کے کام آتا ہے۔ قرآن کریم میں باضابطہ مسلمانوں کو

 

 حکم دیاگیاہے: {وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ} [الأنفال: 60]

ترجمہ:اے مسلمانو! تمہارے بس میں جتنی قوت ہو، اسے کافروں کے لیے تیار کرکے رکھو۔

 رسول کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس ”قوة“ کی تفسیر رمی (تیراندازی) سے کی ہے۔ آپ نے تین مرتبہ فرمایا:

’’ ألاَ أَنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ‘‘ [31]یعنی خبردار ”قوة“ پھینکنا ہے۔

               اس پھینکنے میں جس طرح تیر کا پھینکنا داخل ہے، اسی طرح اس میں کسی بھی ہتھیار کے ذریعہ مطلوبہ چیز کو نشانہ بنانا، راکٹ، میزائل وغیرہ کوٹھیک نشانہ تک پہنچانا بھی داخل ہے اور ان میں سے ہر ایک کی مشق جہاں جسمانی لحاظ سے بہترین ورزش ہے، وہیں باعث اجر وثواب بھی ہے۔[32]

               ایک حدیث میں جناب نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ’’ بے شک ایک تیر کے ذریعہ اللہ تعالیٰ تین افراد کو جنت میں داخل کردیتا ہے۔ ایک تیر بنانے والا،جبکہ وہ تیر بنانے میں ثواب کی نیت رکھے۔ دوسرا تیر پھینکنے والا اور تیسرا پکڑنے والا، پس اے لوگو! تیر اندازی سیکھو‘‘ ۔[33]

               بلکہ تیر اندازی تو ایک ایسا فن تھا جس کی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچپن میں اس کی مشق کی تھی اور یہ عرب میں بطور مشغلہ بھی تھا لیکن اس میں ایک بات بہت اہم ہے کہ تیر اندازی جائز اور مباح ہے لیکن پرندوں اور جانورں پر مشق کرنا اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قطعی طور پر منع کیاہے ۔ اس میں ایک دلچسپ واقعہ جو کہ صحیح بخاری میں مذکور ہے سید نا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر قبیلہ بنو اسلم کے کچھ افراد پر ہوا تو ان کو تیر اندازی کرتے ہوئے پایاآپ نے ان کو بنو اسماعیل قرار دے کر فرمایا کہ تمہارے جد امجد بھی تیر اندازتھے لہٰذا تم تیر اندازی کرتے رہو اور میں بھی بنو فلاں کے ساتھ ہوں دوسرے فریق نے تیر چلانے سے ہاتھ روک لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کو کیا ہو گیا ہے تم تیر کیوں نہیں چلاتے انہوں نے عرض کیا کہ ہم تیر کیسے چلائیں کہ آپ تو ان کے ساتھ ہیں تو آپ نے فرمایا کہ تم  بھی تیر چلاؤ اور میں تم سب کے ساتھ ہوں۔[34]

               اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تیر اندازی کو عرب بطور ایک تفریحی مشغلہ اور کھیل کے طور پر بھی اختیار کیا کرتے تھے بلکہ بعد میں یہی تفریحی کھیل ان کی فوجی تربیت میں بدل جاتا تھا کہ سابقہ زمانے کی جنگوں میں تیر اندازی ایک بہت اہم ہتھیار تھا لہٰذا اس جنگی مہارت کا حاصل کرنا عمومی طور پر ایک فن حرب کی حیثیت سے معروف تھا۔

سواری : اس سے جسم کی پوری ورزش کے ساتھ انسان میں مہارت، ہمت وجرات اور بلند حوصلہ جیسی اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں اور سفریا جہاد میں خوب کام آتا ہے۔ گو کہ قرآن وحدیث میں عام طور پر گھوڑے کاذکر آیا ہے مگر اس سے ہر وہ سواری مراد ہے جواس مقصد کو پورا کر سکے مثلاً ہوائی جہاز،ہیلی کاپٹر، بس، موٹر سائیکل، سائیکل وغیرہ۔ ان سب سواریوں کے چلانے کی مشق اور ٹریننگ اسلامی نقطۂ نظر سے پسندیدہ ہے۔ اس شرط کے ساتھ کہ جائز اور نیک مقاصد کے لیے انھیں سیکھا جائے اور استعمال کیاجائے۔

               عربوں کی زندگی میں جن چند عناصر کو مرکزیت حاصل تھی ان میں ایک گھڑسواری تھی مردوں کی مردانگی کا تو یہ ایک معیار تھا ہی خواتین بھی اس میں مہارت حاصل کرتی تھی قرن اول کی بے شمار جنگوں میں خواتین کی شہسواری ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکی تھی۔ بلکہ کسی شخص کے لیے یہ امر باعث ندامت و شرمندگی ہوتا تھا کہ وہ گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھنا نہ جانتا ہو بلکہ اسے بزدل کہا جاتا تھا اور بعض احادیث میں یہ دلچسپ درخواست بھی بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین کی طرف سے خدمت رسالت میں پیش کی گئی کہ وہ گھوڑے کی پیٹھ پر جم کر نہیں بیٹھ سکتے لہٰذا ان کی یہ کمزوری دور ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے یہ دعا کی اور کئی کمزور پشت حضرات کو صلابت حاصل ہوئی ۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہسواری معروف تھی اور اس مقصد کے لیے آپ کے پاس کئی اونٹ اور گھوڑے تھے بلکہ حالت امن میں آپ نے کئی مرتبہ

 

صحابہ کرام کے ساتھ شہسواری کے مقابلوں میں پہلا درجہ حاصل کیا (فتح الباری)جیسا کہ مختلف سیرت نگاروں اور مورخین نے ان کا ذکر کیا ہے جیسا کہ بلاذری نے بہت تفصیل سے ایسے مقابلوں کا ذکر کیا ہے

دوڑ: صحت اور توانائی کے مطابق ہلکی یا تیز دوڑ بہترین جسمانی ورزش ہے۔ اس کی افادیت پر سارے علماءکرام اور ڈاکٹر متفق ہیں۔

               دوڑنے کی اسی افادیت کی وجہ سے صحابہ کرام عام طور پر دوڑ لگایا کرتے تھے اور ان میں آپس میں پیدل دوڑ کا مقابلہ بھی ہوا کرتا تھا۔ بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے صحابہ کرام کو دیکھا ہے کہ وہ نشانوں کے درمیان دوڑتے تھے اور بعض بعض سے دل لگی کرتے تھے، ہنستے تھے، ہاں! جب رات آتی، تو عبادت میں مشغول ہوجاتے تھے۔[35]

بیوی کے ساتھ بے تکلّفانہ کھیل: مرد کا اپنی بیوی کے ساتھ بے تکلفی کا کھیل بھی اسلام کی نظر میں مستحسن ہے۔ ممکن ہے بعض کو گراں گزرے کہ اس سے عورت سر پہ چڑھ جائے گی مگرعائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ کے ساتھ تھی۔ میں نے آپ سے دوڑ لگائی اور آگے نکل گئی۔ کچھ عرصہ بعد پھر ایک سفر میں، میں نے رسول اللہ سے دوڑلگائی اب میرے جسم پر گوشت چڑھ گیا تھا تو آپ مجھ سے آگے نکل گئے اور آپ نے فرمایا یہ اس کے بدلہ میں ہے۔[36]مذکورہ حدیث نبوی سے بیوی کے ساتھ تفریح کرنے اور دوڑ لگانے دونوں کی افادیت سمجھ میں آتی ہے، لیکن واضح رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ واقعات اس وقت کے ہیں،جب کہ قافلہ آپ کے حکم سے آگے جاچکا تھا اور وہاں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کوئی نہ تھا، وہ تنہا تھے۔ کسی اور کی موجودگی میں ایسا نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ یہ حیا کے خلاف ہے۔

بچوں کے کھیل: بچوں میں چونکہ کھیل کی طرف رغبت فطری طور پر پائی جاتی ہے لہٰذا عہد رسالت کے بچے بھی اس سے محروم نہ تھے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچپن اور لڑکپن میں ان جائز اور پسندیدہ کھیلوں میں حصہ لیا بالخصوص قبیلہ بنو سعد میں گزارا ہوا وقت اس امرپر شاہد ہے اور بعض روایات بھی اس پر شاہد ہیں جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ سید نا جبریل علیہ السلام آئے اور آپ کا سینہ چاک کیا ...الخ [37]اسی طرح جب آپ اپنی والدہ کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لے گئے تھے وہاں بنو عدی بن نجار کے تالاب میں پہلی مرتبہ تیرنا سیکھا وغیرہ ۔[38]انہی کھیلوں میں ایک کھیل کشتی کا بھی تھا جو کہ آپ نے اپنے لڑکپن میں سیکھا تھا ۔ اسی طرح صحابہ کرام اور ابناء الصحابہ کے بچپن کے کھیلوں کے واقعات کثرت سے روایات میں مذکور ہیں۔ لیکن ان تمام کھیلوں میں جسمانی تربیت و نشوونما کا پہلو بطور خاص ہمیں نظر آتا ہے ۔ بلکہ یہاں یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ کچھ کھیل تو لڑکوں اور لڑکیوں کے مابین مشترکہ ہوا کرتے تھے لیکن کچھ کھیل صرف لڑکیاں آپس میں اپنی ہم جولیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھیں اور یہ کھیل عمومی طور پر گڑیوں اور دوسرے کھلونوں کے ساتھ ہوا کرتا تھا یہ نسوانی جبلت کے عین مطابق ہو تا ہے جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا گڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا ذکر بعض صحیح احادیث میں بھی بیان کیا گیا ہے اور ان میں سے بعض کھیلوں میں تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو بنفس نفیس دلچسپی لیا کرتے تھےجیسا کہ یہ روایات صحیح بخاری، سنن ابو داود وغیرہ میں مذکور ہیں ۔ قاضی عیاض اسی سے ایک فائدہ اخذ کرتے ہیں کہ اس طرح کے کھیلوں سے بچیوں میں خانگی تربیت کا موقع ملتا ہے ۔ اسی طرح جھولا جھولنا بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے مذکور ہے جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قبل از نکاح انہیں جب بلایا گیا تھا تو اس وقت وہ جھولا جھول رہی تھی۔[39]

               لڑکیوں کے ان کھیلوں سے متعدد سماجی روایات کا علم ہوتا ہے کہ زیادہ تر کھیل اندرون خانہ ہوا کرتے تھے، یہ گڑیائیں ان کی والدہ بنا کر دیتی تھی جو کہ تربیت کا ایک پہلو ہے، ان کھلونوں کی

 

صورتیں اور تصویریں بھی ہوا کرتی تھیں جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس دو پر والا گھوڑا تھا۔

تیراکی: تیرنے کی مشق ایک بہترین اور مکمل جسمانی ورزش ہے، جس میں جسم کے تمام اعضا وجوارح کی بھرپور ورزش ہوتی ہے، یہاں تک کہ سانس کی بھی ورزش ہوتی ہے۔ سیلاب آنے کی صورت میں ایک ماہر تیراک انسانیت کی بہترین خدمت کرسکتا ہے۔ نشیبی علاقوں میں عام طور پر قریب میں ندی نالے تالاب وغیرہ ہوتے ہیں اور ان میں ڈوبنے کے واقعات بھی عام طور پر پیش آتے رہتے ہیں۔ ایسے حادثاتی مواقع پر ماہر تیراک لوگوں کی جان بچانے کی کامیاب کوشش کرسکتا ہے۔ لہٰذا تیراکی جہاں تفریحِ طبع اور جسمانی ورزش کا عمدہ ذریعہ ہے، وہیں بہت سے دیگر سماجی فوائد کی حامل بھی ہے۔

کشتی اورکبڈی: اس کھیل میں ورزش کا بھرپور سامان ہے۔ اگر ستر کی رعایت اور انہماک کے بغیر کھیلا جائے تو جائز ہوگا بلکہ نیک مقصد کے لیے مستحسن ہے۔ عرب کے ایک مشہور پہلوان رکانہ نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے کشتی لڑی، تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کشتی میں بچھاڑ دیا۔[40]کبڈی کا حکم بھی کشتی کی طرح ہے۔

مخصوص مواقع پر بھی کھیلوں کا ثبوت ملتا ہے جیسا کہ درج ذیل کچھ مواقع درج کیے جا رہے ہیں:

خیر مقدمی کھیل:

               بسااوقات مہمانوں اور اقارب کی آمد کے استقبال میں کچھ کھیلوں کا جس میں کچھ جسمانی کرتب یا فضائی مظاہرے منعقد کئےجاتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ بنیادی آداب کو مدنظر رکھا جائے۔ جیسا سنن ابی داؤد کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ ہجرت کی آمد کے موقع پر جہاں بچیوں سے کچھ اشعار منسوب ملتے ہیں وہاں ماہر فنون حبشیوں نے اپنے کرتب اور کھیل بھی دکھائے تھے ۔[41]اور صحیح ابن حبان کی روایت میں ہے کہ جب حبشہ کا وفد آیا تو حبشی مسجد میں اپنے کھیل دکھانے لگے ۔

 

عید کے کھیل کود:

               جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عید یعنی خوشی کی مناسبت سے مدینہ میں کچھ حبشیوں نے فوجی کرتب دکھائے بلکہ اس پر قیاس کرتے ہوئے موجودہ معاشرت میں بھی عید کی مناسبت سے اگر کچھ کھیلوں کا انعقاد کر لیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن بنیادی آداب کی مخالفت نہ ہو۔صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد رسالت میں ایام عید بطور قومی تقریبات کے طور پر منائی جاتی تھی ان میں شرعی حدود وقیود کی پابندی کرتے ہوئے کھیل کھیلے جاتے تھے۔

عصر حاضراور کھیل و تفریح:

               اگر عصر حاضر کو دیکھا جائے تو ذرائع ابلاغ کاعوام الناس کو تفریح فراہم کرنے میں بہت اہم کردار ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ان پر مغرب کا تسلط و قبضہ ہے جن کے نزدیک تفریح صرف اور صرف ”شراب ، عورت اور موسیقی“ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ تفریح اور کھیل کے نام پر عریانی و فحاشی، بے ہنگم موسیقی، شراب نوشی، جوئے بازی ، لاٹری ، فحش ایپی سوڈ،مخلوط مجالس، اور گرل فرینڈ،بوائے فرینڈ کا تصورپیش کرتے ہیں جس سے معاشرے میں حرص و ہوس، صحت و اخلاق کی خرابی ، ذہنی بے سکونی اور جنسی پیاس میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان کو’’آرٹ یا فن‘‘ کا نام دیا جاتا ہے اور اعلی تہذیب کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ جس کا نمونہ وہ مختلف طرح کی پارٹیوں،کرسمس ڈے، ویلینٹائن ڈے اور نئے سال کی آمدوغیرہ پر پیش کرتے ہیں۔ ان تمام چیزوں نے عوام الناس میں اخلاقی بے راہ روی، دین و اخلاق سے بے زاری اور خاندانی نظام کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔جس کی مثال خود مغربی معاشرے ہی میں دیکھی جا سکتی ہے۔

               خود ہمارے یہاں نوجوانوں کا دین ،اخلاق اور صحت و توانائی برباد ہو رہی ہے۔ بچے قبل از وقت جوان ہو رہے ہیں اور اپنے نا پختہ ذہن و شرم کی وجہ سے وہ والدین یا دوسرے اعزہ و اقارب کو بتا بھی نہیں سکتے۔ان کے والدین ان کو معصوم سمجھ کر غافل رہتے ہیں۔اس وقت مسلم نوجوان لڑکے لڑکیوں کے آئیڈیل ہیرو اور ہیروئن ہیں۔ ان کی ہی نقل کی جاتی ہے ، ان کے جیسا لباس، حلیہ، بات چیت اور طور طریقہ اپنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔دیکھا جائے تو لڑکوں نے نازک اداؤں اور بننے سنورنے میں لڑکیوں کو بھی مات دے دی ہے۔ظاہر ہے ان سے دین کی اشاعت و تبلیغ تو دور فسادات میں اپنا دفاع کرنے اور ماؤں بہنوں کو بچانے کی امید کیوں کر کی جا سکتی ہے؟؟

اسلامی تعلیمات کا تقاضا ہے کہ عوام الناس کے لیے تفریح کا سامان ضرور فراہم کیا جائے لیکن اس میں مغربی معاشرے کی نقالی نہ ہو۔اس مقصد کے لیے معلوماتی پروگرام، سائنسی کمالات، اہم مقامات،تاریخی عمارتیں، باغات، مصوری(جاندار کے علاوہ)، آرٹ، مناظرِ فطرت،مزاحیہ خاکے، سمندری دنیا کے مشاہدے، اصلاحی و پروگرامز، جانوروں کی دنیا، مجاہدین ِ اسلام کی داستانیں وغیرہ پیش کی جا سکتی ہیں۔

 وآخر دعوانا أن الحمدلله رب العالمين

یہ مضمون البیان ، ثقافت نمبر سے ماخوذ ہے۔

 

 

 

 

 

 



[1] مدرس جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کراچی

[2] بدائع الفوائد

[3] الجامع الصغير لجلال الدين السيوطي (3/ 18)،مسند الشهاب:باب من يزرع خيرا يحصد رغبة....(موضوع(

[4] بخاري: كتاب الجهاد و السير,باب من يعوذ من الجبن

[5] بخاري: كتاب الجهاد و السير,باب من يعوذ من الجبن

[6] ترمذي :كتاب الزهد باب في من تكلم بكلمة ليضحك الناس

[7] المعجم الاوسط للطبرانی: باب میم (حسن لغیرہ) و معجم الزوائد ص 8/303

[8] الشمائل المحمدیہ للترمذی: باب الجنۃ لا تدخلھا عجوز

[9] جامع  ترمذی: کتاب البر و صلۃ، باب ماجاء فی المزاح

[10] جامع ترمذی: کتاب البر وصلۃ،باب یا ذا الأذنین

[11] سنن أبی داود: کتاب الأدب، باب ماجاء فی المزاح

[12] مجموع الفتاویٰ: 7 / 273:

[13] الحلية لأبي نعيم : 4/96،والفردوس ، للديلمي و3/ 578:

[14] ابوداؤد:كتاب الأدب، باب في التشديد في الكذب

[15] مسند احمد :

[16] تفسير ابن كثير :7/376

[17] شعب الایمان للبيهقی5 / 310

[18]  صحیح مسلم: كتاب البر و الصلة,باب تحريم الظلم...

[19] رواه ابوداؤد :كتاب الأدب , باب من يأخذ الشيء علي المزاح

[20]  رواه ابوداؤد :كتاب الأدب ,باب لا يأخذن أحدكم متاع أخيه....

[21]  احیاء علوم الدین للغزالی 3/ 129

[22] ترمذي: كتاب الزهد باب في من تكلم بكلمة ليضحك الناس

[23] ترمذي: كتاب الزهد، باب من اتقى المحارم

[24]  رواه أبو داود:كتاب الأدب ,باب في تنزيل الناس منازلهم

[25] رواه مسلم : كتاب البر و الصلة و الآداب , باب تحريم الغيبة

[26] سنن الدارمي:كتاب الجهاد، باب في فضل الرمي

[27] بخاري: كتاب اللباس, باب ماأسفل من الکعبین فھو فی النار

[28] مسلم: كتاب اللباس و الزينة, باب النهي عن لبس الرجل....

[29]  ابوداؤد : كتاب اللباس، باب في لبس الشھرة

[30] بخاري : كتاب اللباس, باب عذاب المصورين يوم القيامة

[31] مسلم:كتاب الإمارة ، باب فضل الرمي

[32]  بذل المجهود:11/428

[33] سنن أبو داؤد: كتاب الجهاد، باب في الرمي

[34] صحیح بخاري :كتاب الجهاد و السير،باب التحريض علي الرمي

[35] مشکوٰة: 407

[36] سنن ابی داؤد

[37] کتاب الایمان، باب الاسراء برسول الله

[38] ابن سعد ، ج 1 ص 73

[39] مسلم ، کتاب النکاح

[40] ابوداؤد فی المراسیل

[41] سنن ابو داود: کتاب الادب، باب فی الغنا

Read 3122 times Last modified on جمعرات, 02 نومبر 2017 17:41
  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

 

دینِ اسلام میں تفریح کا تصور ۔

 شاہ فیض الابرار صدیقی [1]

 تفریح کا تصور ہر زمانے اورہر قوم میں پایا جاتا ہے البتہ ہر قوم اپنی تہذیب وتمدن کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کا اہتمام کرتی رہی ہے ، مثلا رقص ،ڈرامے،موسیقی،گانے اور مختلف طرح کے کھیل کو دوغیرہ۔ اور کچھ اقوام میں تو تفریح کے ان مظاہر کو مذہبی حیثیت بھی حاصل ہے اور کچھ اقوام میں اس کا تعلق صرف ثقافت سے ہے۔

لیکن عصر حاضر میں نت نئی ایجادات نے تفریح کا تصور بالکل ہی تبدیل کر دیا ہے ۔عمومی طور پر زمانہ ماضی میں تفریح کا تصور جسمانی تربیت و نشوونما کے ساتھ وابستہ تھا اور بغور جائزہ لیا جائے تو زمانہ ماضی میں تفریح و کھیل کے جتنے بھی مظاھر تھے ان سب میں یہی پہلو اجاگر تھا،یہاں تک کہ گھریلو خواتین کے کھیل بھی اسی نوعیت سے تعلق رکھتے تھے اس کے بالکل برخلاف جدید ایجادات جیسے ڈش،کیبل،ٹیلی ویژن ، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور اسمارٹ موبائل فونز جن کو ذرائع ابلاغ بھی کہا جاتا ہےنے تفریح کے تصور کو بہت وسیع بنا دیا ہے اور اس وسعت نے سب سے پہلے سابقہ تصور تفریح میں موجود اجتماعیت کو ختم کر دیا اور انفرادیت کو رائج کیا ۔ اور المیہ تو یہ ہوا کہ ان وسائل کے ذریعہ پیش کیے جانے والے پروگرام جس میں فلمیں ، کارٹونز، کھیل، گانے، فیشن اور ٹی وی شو وغیرہ کو بھی تفریح کا نام دے دیا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس وقت تہذیبی جنگ میدان میں یا اسلحے کے ساتھ نہیں لڑی جا رہی بلکہ عقیدہ اور اخلاق کے میدان میں لڑی جارہی ہے اور تفریح کے نام پرغیر اسلامی تہذیب و ثقافت کو فروغ دیا جارہا ہے۔

اسلام صرف عقائد کے باب میں میانہ روی یا اعتدال پرستی کا تعلق تمام شعبہ حیات سے ہے اور اس کا یہی خاصہ بھی ہے، اور اس کی دوسری سب سے بڑی خوبی اس کے کسی بھی ضابطے کا تعلق غیر فطری یا غیر عقلی تصورات سے نہیں، یعنی کہیں بھی اس نے انسان کی جائز ضروریات پر کوئی قدغن نہیں لگائی البتہ کچھ اصول و ضوابط کے ذریعے اس کی حد بندیاں ضرور کر دیں تاکہ فساد بپا نہ ہو۔

اقوامِ یورپ کی طرح پوری زندگی کو کھیل کود بنادینا اور ”زندگی برائے کھیل“ کا نظریہ اسلام کے نقطہ نظر سے درست نہیں ہے، بلکہ آداب کی رعایت کرتے ہوئے، اخلاقی حدود میں رہ کر کھیل کود، زندہ دلی، خوش مزاجی اور تفریح کی نہ صرف یہ کہ اجازت ہے، بلکہ بعض اوقات چند مفید کھیلوں کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اسلام سستی اور کاہلی کو پسندنہیں کرتا، بلکہ چستی اور خوش طبعی کو پسند کرتا ہے۔

 اس سے قبل کہ ہم اسلام کےتصورِ تفریح پر بات کریں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس عنوان کا تعارف کروا دیا جائے۔

تفریح کیا ہے ؟

تفریح کا لفظ دراصل عربی زبان کا لفظ ہے جو ”فرح“ سے مشتق ہے جس کے معنی گپ شپ، دل لگی ، ہنسی مذاق ،خوشی و مسرت ، فرحت ا ور اطمینان وغیرہ حاصل کرنے کے آتے ہیں۔ فرح کے بارے میں علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں: ’’ الفرح لذة تقع في القلب بإدراك المحبوب‘‘[2]

کہ محبوب چیز کے پالینے سے جو لذت حاصل ہوتی ہے،اسی کو فرحت اور خوشی کہتے ہیں۔

اگر یہ فرحت محض قلبی ہو اور احساس نعمت یعنی شکر گذاری سے تعبیر ہو اور اس کے فضل وکرم کے استحضار پر مبنی ہو تو وہ شرعاً مطلوب،مستحسن اور پسندیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

[قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا] [یونس:58]

ترجمہـ’’آپ کہہ دیجیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور مہربانی سے ہے، تو چاہیے کہ وہ لوگ خوش ہوں۔ ‘‘

دوسری جگہ ارشاد ہے:

[فَرِحِيْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ۝۰ۙ][آل عمران:170]

ترجمہ:’’ جنتی لوگ خوش ہوں گے،ان نعمتوں پر جو اللہ نے انھیں اپنے فضل سے عطا کی ہیں‘‘۔

 ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"رَوِّحُوا الْقُلُوْبَ سَاعَةً‘‘[3]

کہ دلوں کو وقتاً فوقتاً خوش کرتے رہا کرو۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سےمروی ہے:

’’القلوب تمل كما تمل الأبدان فابتغوا لها طرائف الحكمة‘‘[4]

ترجمہ:’’ دل اسی طرح اکتانے لگتا ہے، جیسے بدن تھک جاتے ہیں، لہٰذا اس کی تفریح کے لیے حکیمانہ طریقے تلاش کیا کرو‘‘۔

مزاح کا شرعی حکم 

 اسلام کےتصور تفریح کی اساس قرآنی تعلیمات اور احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  پر ہے۔ جس میں حلال و حرام، شرم و حیا اور اخلاقی پابندیوں کو اہم مقام حاصل ہے۔ ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی نمونہ ہے۔آپ جہاں ایک طرف اتنی نمازیں پڑھتے تھے کہ قدمِ مبارک پرورم آجاتا تھا وہیں آپ صحابہ کرام سے ہنسی مذاق اور دل لگی بھی کرتے تھے۔اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ اسلام سستی اور کاہلی کوناپسنداور چستی اور خوش طبعی کو پسند کرتا ہے۔ شریعت کی تعلیمات اس امر کا تقاضہ کرتی ہیں کہ مسلمان شریعت کے تمام احکام پر خوشی خوشی عمل کرے۔ یہ عمل تنگ دلی کے ساتھ نہ ہو کیوں کہ سستی اور تنگ دلی کے ساتھ عبادات کو انجام دینا نفاق کی علامت ہے۔ باری جل وعلا نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

[ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوۃِ قَامُوْا كُسَالٰى۰ۙ][ النساء :142]

’’منافقین جب نماز کیلئے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی اور کاہلی سے کھڑے ہوتے ہیں ‘‘۔

سستی اور کاہلی بے جا فکرمندی اتنی ناپسندیدہ چیز ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان امور سے پناہ مانگی ہے۔اسی لیے آپ دعا فرماتے تھے:

" وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ"۔[5]

اے اللہ میں عاجزی اور سستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔

اسی طرح صحابہ کرام بھی آپس میں ہنستے کھیلتے اور دل لگی کی باتیں کرتے تھے۔ کیونکہ تفریح کرنا کوئی ناجائز کام نہیں بشرطیکہ اسے مستقل عادت نہ بنالیا جائے کہ آدمی اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے لگے اور یہ بھی مناسب نہیں کہ لوگوں کو ہنسانے کی خاطر جھوٹ سے کام لے ۔ حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’تباہی ہے اس شخص کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کی خاطر جھوٹی باتیں کرتا ہے ۔ اس کے لیے تباہی ہے۔ اس کے لیے تباہی ہے‘‘۔[6]

اسی طرح یہ بھی صحیح نہیں کہ وہ لوگوں کی قدر ومنزلت اور عزت کا خیال نہ رکھے اور ان کا مذاق اڑانے لگے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

[يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَاۗءٌ مِّنْ نِّسَاۗءٍ عَسٰٓى اَنْ يَّكُنَّ خَيْرًا مِّنْہُنَّ][الحجرات:11]

ترجمہ: اے ایمان والو! مرد دوسرے مرد وں کامذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔

مزاح اور زندہ دلی وخوش طبعی انسانی زندگی کا ایک خوش کن عنصر ہے، اور جس طرح اس کا حد سے متجاوز ہوجانا نازیبا اور مضر ہے،اسی طرح اس لطیف احساس سے آدمی کا بالکل خالی ہونا بھی ایک نقص ہے۔ جو بسا اوقات انسان کو خشک محض بنادیتاہے۔ بسا اوقات ہمجولیوں اور ہمنشینوں اور ماتحتوں کے ساتھ لطیف ظرافت و مزاح کا برتاؤ ان کے لیے بے پناہ مسرت کے حصول کا ذریعہ اور بعض اوقات عزت افزائی کا باعث بھی ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام تر عظمت و رفعت اور شان وشوکت کے باوجود، بسا اوقات اپنے جاں نثاروں اور نیازمندوں سے مزاح فرماتے تھے۔ ذیل کی احادیث سے اندازہ لگایا جاسکتاہے  کہ آپ کا پرشفقت مزاح کس طرح ہواکرتا تھا۔

سنت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  سے مزاح کی چند مثالیں :

               ابوہریرہ سے روایت ہے کہ بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول  صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہم سے مزاح فرماتے ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایاکہ :’’میں مزاح میں بھی حق بات ہی کہتا ہوں (یعنی اس میں کوئی بات غلط اور باطل نہیں ہوتی)‘‘۔[7]

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھی عورت سے فرمایاکہ’ ’بڑھیا جنت میں نہیں جائے گی۔ اس بے چاری نے عرض کیا ان بوڑھیوں میں کیا ایسی بات ہے جس کی وجہ سے وہ جنت میں نہیں جاسکیں گی۔ وہ بوڑھی قرآن خواں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم نے قرآن میں یہ آیت نہیں پڑھی ؟[8]

[إنَّا أنْشْأنَاہُنَّ انْشَاءً ا فَجَعَلْنَاہُنَّ أبْکَارًا] [الواقعہ:36]

کہ جنت کی عورتوں کی ہم نئے سرے سے نشوونما کریں گے اور ان کو نوخیز دوشیزائیں بنادیں گے۔

جناب انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لیے اونٹ مانگا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’ہاں! میں تم کو سواری کے لیے اونٹ کا بچہ دوں گا، اس شخص نے عرض کیا کہ میں اونٹنی کے بچےکا کیا کروں گا؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: اونٹ بھی تو اونٹنی ہی کے بچے ہوتے ہیں‘‘۔ [9]

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں (ازراہِ مزاح وشفقت) "یا ذالأذنین"اے دو کان والے کہہ کر مخاطب کیا۔ (حالاں کہ ہر شخص دوکان والا ہوتاہے)۔ [10]

سیدنا نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت چاہی۔ اسی درمیان آپ کو گھریلومعاملات میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی آواز بلند محسوس ہوئی۔ جب آپ گھر میں داخل ہوئے توسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف مارنے کے لیے لپکے اور اپنی بیٹی عائشہ کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  سے

 

 اونچی آواز میں گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھ رہا ہوں؟! یہ دیکھ کر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ کو ان کے والد کی مار سے بچانے کی کوشش کرنے لگے۔ اسی دوران ابوبکر غصّہ کی حالت میں گھر سے نکل گئے۔ ابوبکررضی اللہ عنہ کونکلتے دیکھ کررسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: کیا خیال ہے؟ میں نے تمہیں اس شخص (الرجل)سے بچایا کہ نہیں؟ راوی کہتے ہیں کہ ابوبکررضی اللہ عنہ کچھ دنوں تک ناراض رہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   کے یہاں حاضر ہوکر اندر آنے کی اجازت چاہی، گھر جاکر محسوس کیا کہ آپ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے مابین صلح ہوچکی ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ: ’’ آپ دونوں مجھے اپنی صلح میں شامل کرلیجیے،جس طرح آپ دونوں نے مجھے اپنے جھگڑے میں شامل کیا تھا، تو آپ نے فرمایا کہ: جی ہاں آپ کو صلح میں شامل کرلیا ۔

                (اس حدیث میں ابوّت کے رشتہ کے حامل بزرگ جناب ابوبکررضی اللہ عنہ کو محض (الرجل) کہنے سے جو مزاح پیدا ہوتا ہے، اسے کوئی بھی شخص محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا)۔

سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ’’ میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں غزوہ تبوک میں حاضر ہوا، جب کہ آپ چمڑے سے بنے سائبان میں قیام پذیر تھے۔ میں نے سلام کیا، تو انھوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا آجاؤ میں نے عرض کیا: پورا کا پورا آجاؤں؟ آپ نے فرمایا: ہاں پورا کاپورا۔ (جگہ کی قلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان صحابی رضی اللہ عنہ نے جس محبت کے ساتھ مزاح کیا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے کمالِ اخلاق مندی سے انہیں کے مزاحیانہ اسلوب میں جواب دیا)‘‘ ۔[11]

 مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ آداب کی رعایت کرتے ہوئے کبھی کبھی مزاح کی نہ صرف گنجائش ہے، بلکہ مستحسن ہے اور اسوہ نبوی کی اتباع ہے،لیکن اگرمزاح دوسرے آدمی کے لیے ناگواری اور اذیت کا باعث بن جائے، یا حد سے زیادہ ہنسی کا ذریعہ بن جائے یا مزاح کا عمل کبھی کبھار کے بجائے کثرت سے ہونے لگے، تو ایسے مزاح کی ممانعت ہوگی اور اس کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

مزاح سے متعلق چند شرعی قواعد وضوابط

(1) ہنسی مذاق میں دین حنیف کا مذاق نہیں ہونا چاہئے:

 ایسا کرنے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے ۔ فرمان باری جل وعلا ہے :

[وَلَىِٕنْ سَاَلْتَہُمْ لَيَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ] [التوبة:65]

اگر ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو کھیل مزاح کررہے تھے ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

               ’’ اللہ تعالیٰ ، اس کی آیات ، اور اس کے رسول کے ساتھ مذاق کرنا کفر ہے اس عمل سے بندہ ایمان لانے کے بعد کافر ہوجاتاہے ‘‘ [12]

علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ نے اسے ارتداد قرار دیاہے ۔ اس میں وہ مذاق بھی شامل ہے جیسا کہ بعض لوگ چند شرعی احکام کو مذاق بناتے ہیں جن میں ٹخنے سے کپڑا اونچا رکھنا ، داڑھی بڑھانا ، نماز اور روزہ وغیرہ ۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ جس نے ہنستے ہوئے گناہ کیا وہ روتے ہوئے جہنم میں داخل ہوگا ‘‘[13]

(1)مزاح سچائی پر مشتمل ہونا چاہئے نہ کہ جھوٹ پر :

امام احمد رحمہ اللہ اپنی مسند میں روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا ’’ اس شخص کیلئے ہلاکت ہے جو بات کرتا ہے اس میں جھوٹ بولتاہے تاکہ قوم کا ہنسا سکے اس کے لئے تباہی اور ہلاکت ہے‘‘۔ [14]

ایک اور روایت میں منقول ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا :’’ بندہ ایسی بات کرجاتاہے کہ جس  سے اپنے ساتھ بیٹھے لوگوں کو ہنسا سکے اور اس بات کی وجہ سے جہنم میں اتنا دور جاگرتاہے جیسا کہ دنیا سے ثریا‘‘ ۔[15]

مذکورہ احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مزاح کے طور پر جو گفتگو کی جائے، وہ ظرافت ولطافت کے باوصف فی نفسہ صحیح اور درست ہو، خوش طبعی کے لیے جھوٹ کا سہارا لینا بھی مذموم ہے۔

(3)  مزاح میں کسی کا تمسخر اور استہزاء مقصود نہ ہو

یہ ایک حرام اور ناجائز عمل ہے جسے شریعت نے حرام قرار دیا ہے چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے :

{يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓى ....}[الحجرات: 11]

علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’ اس سے مراد لوگوں کو حقیرکمتر سمجھنا ، ان کا مذاق اڑانا ، یہ ایک حرام کام ہے اور منافقین کی صفت ہے ‘‘۔ [16]

امام بیہقی رحمہ اللہ نے شعب الایمان میں روایت نقل کی کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا :’’ لوگوں کا تمسخر اور ٹھٹھ اڑانے والوں کیلئے جنت کا دروازہ کھولا جائے ۔ ان میں سے ایک کو کہا جائے گا کہ آجاؤ ، جب وہ اپنے غم وکرب اور تکلیف میں مبتلا دروازے پر پہنچے گا جب وہ قریب آئے گا تو دروازہ بند کردیا جائے گا ‘‘[17]

کسی کا مذاق اڑانے والے کو اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ کسی کا مذاق اڑا رہا ہے تو کہیں اللہ تعالیٰ بطور سزا اس پر وہ کیفیت اور صفت مسلط نہ کردے ۔ اور وہ اس مرض میں مبتلا ہوجائے ۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا :’’ اپنے بھائی کا تمسخر نہ اڑاؤ ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے اور تمہیں کسی آزمائش میں مبتلا کردے ‘‘۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مسلمانوں کا مذاق اڑانے ،مسلمانوں کو تکلیف دینےسے منع فرمایا اور کسی بھی مسلمان کی تحقیر کے سلسلے میں احادیث میں سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔ ارشاد نبوی ہے:

’’ اَلْمُسْلِمُ أخُو الْمُسْلِمِ لاَ یَظْلِمه وَلاَ یَخْذُله وَلاَ یُحَقِّرُہ‘‘[18]

ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے،اس پر کوئی ظلم وزیادتی نہ کرے۔ اس کو بے یار ومددگار نہ چھوڑے اور اس کو حقیر نہ جانے اورنہ اس کے ساتھ حقارت کابرتاؤ نہ کرے۔ پھر آپ نے فرمایا: آدمی کے برا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے، کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے اور اس کے ساتھ حقارت سے پیش آئے۔

 تکلیف دہ مزاح کی ممانعت کی دلیل مندرجہ ذیل حدیث ہے: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے بھائی سے جھگڑا نہ کرو اور اس سے مذاق نہ کرو اور اس سے تم ایسا وعدہ نہ کرو جس کی وعدہ خلافی کرو۔اس حدیث میں دیگر تکلیف دہ اعمال (جھگڑا، وعدہ خلافی) کے ساتھ اس مزاح کی بھی ممانعت کی گئی ہے؛ جو اذیّت ناک اور ناگواری کا باعث ہو۔

(4)مسلمان بھائی کو بطور مذاق ڈرائے یا دھمکائے نہیں

 امام ابوداؤ د نے سنن میں ابن ابی لیلیٰ سے روایت نقل کی کہ ’’ ہمیں اصحاب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بیان فرمایا کہ وہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ کسی سفر میں تھے ان میں سے ایک شخص سوگیا تو ایک اور فرد نے اس کے پاس موجودرسی سے اسے پکڑا وہ گھبراکر اٹھ بیٹھا اس پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو ڈرائے ‘‘۔[19]

ایک اور روایت میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشادفرمایا :’’ تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کا سامان کھیل کود میں یا سنجیدگی میں نہ لے ‘‘۔ [20]

(5) مذاق میں حد سے زیادہ انہماک نہ ہو

مذاق میں حد سے زیادہ منہمک ہونا ، طول دینا، اور مبالغہ آمیزی کرنا بھی جائز نہیں ہے ۔ مذاق کا بنیادی ضابطہ یہ ہے کہ وہ وقتی اور محض کچھ دیر کی خوش طبعی کیلئے ہونا چاہئے نہ کہ اسے پیشہ بنایا جائے ۔ مومنین کی صفات سنجیدگی ہے ، ہنسی مذاق محض بطور رخصت کے اجازت دی گئی ہے بعض لوگ سنجیدگی اور کھیل کے وقت میں فرق نہیں کرتے ۔ امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ لوگوں کی ایک بہت بڑی غلطی اور جرم یہ ہے انہوں نے مذاق کو پیشہ بنا لیا ہے ‘‘[21]

اتفاقیہ طور پر حسبِ موقع مزاحیہ گفتگو کرلینا اور تفریحی اشعار کہہ سن لینا اگرچہ جائز ہے؛ لیکن اس کے لیے اہتمام سے اجتماع کرنا اوراس میں گھنٹوں لگانا کسی طرح بھی درست نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:

’’ مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکه مَا لاَیَعْنيه‘‘[22]

یعنی آدمی کے اچھے اسلام کی علامت یہ ہے کہ وہ ان امور کو ترک کردے جن سے انہیں سروکار نہیں ۔

مستقل طور پر مزاح میں لگے رہنا ممنوع ہے، اس لیے کہ وہ زیادہ ہنسنے کا سبب، قلب کے بگاڑ کا ذریعہ اور ذکر اللہ سے اعراض کا موجب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار ہی مزاح فرماتے تھے، وہ بھی کسی خاص مصلحت کے لیے یا مخاطب کو مانوس کرنے کے لیے ۔

ہنسی کے مواقع پر ہنسنا اور مسکرانا بھی انسانی فطرت کا تقاضا ہے اور بلا موقع اور محل تکلف سے ہنسنا اور قہقہہ لگانا فطرت کے خلاف عمل ہے۔ موجودہ دور میں ڈاکٹروں کی رائے میں اگرچہ ہنسنا انسانی صحت کی برقراری اور اس کو چست ونشیط رکھنے کے لیے معاون فعل ہے، اس کے لیے خاص طور پر ہنسنے کے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں لوگ تکلف قہقہہ لگاتے ہیں اور دیر تک ہنسنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہ عمل شرعی لحاظ سے مناسب نہیں، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’ لاَتُکْثِرِ الضِّحْکَ فَانَّ کَثْرَةَ الضِّحْکِ تُمِیْتُ الْقَلْبَ ‘‘[23]

کہ تم زیادہ مت ہنسا کرو، اس لیے کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کردیتا ہے۔

اس کے علاوہ قہقہہ لگانا یہاں تک کہ کھل کھلاکر ہنسنا بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (جو بالیقین ایمان والوں کے لیے ہر عمل میں بہترین اسوہ ہیں) سے ثابت نہیں،بلکہ آپ خوشی کے مواقع پر صرف زیر لب مسکرایا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طور پر کھل کھلاکر ہنستے ہوئے کہ آپ کے دہن مبارک کا اندرونی حصہ نظر آجائے، کبھی نہیں دیکھا۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  تو صرف تبسم فرمایا کرتے تھے ‘‘۔

معلوم ہوا کہ اگر سلسلہٴ کلام میں کوئی تعجب خیز، حیرت انگیز یا مضحکہ خیز بات زیر تذکرہ آجائے؛ تو ان پر ہنسنے اور مسکرانے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ ایسے مواقع پر ہنسنا اور مسکرانا چاہیے،تاکہ دل کا بوجھ ہلکا اور غبار کم ہو اور موجودہ زمانے کی تحقیق کے مطابق صحت، مستعدی اور نشاط میں اضافہ ہو، لیکن شرط یہ ہے کہ یہ ہنسنا اور مسکرانا غافلین کا سا نہ ہو،اس لیے کہ اس طرح کا ہنسنا دلوں کو مردہ کردیتا ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی ہنسا کرتے تھے؟ انھوں نے فرمایا: ہاں! بیشک! وہ ہنسنے کے موقع پر ہنستے بھی تھے، لیکن اس وقت بھی ان کے قلوب میں ایمان پہاڑ سے زیادہ عظیم ہوتا تھا۔

 لہٰذا موجودہ دور کے ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق عمل کرتے ہوئے بہ تکلف قہقہے لگانے کی مجلس منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے بلکہ بے تکلف فطری انداز میں جس قدر انسان ہنس لے، وہی اس کی صحت وتندرستی کے لیے کافی ہے۔ اس لیے کہ زیادہ ہنسنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق صحت وتندرستی کا سبب نہیں بلکہ دلوں کے مردہ ہونے کا سبب ہے۔ اگر مزاح کے پہلوؤں کی حامل، مفید امور پر مشتمل کوئی کہانی ہو، تو اسے افادیاتی نقطۂ نظر سے انگیز کیا جاسکتا ہے۔ ایک باررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنھاکو عرب کی تیرہ عورتوں اور ان کے شوہروں کا قصہ سنایا جو’’حدیثِ امّ ِذرع‘‘ کے نام سے حدیث کی کتابوں میں مذکور ہے۔

لطیفہ گوئی اور مزاح کو ذریعہٴ معاش بنانا: کبھی کبھار لطیفہ کہہ دینے یا مزاح اور تفریح کرلینے کی تو گنجائش ہے، لیکن مستقل لطیفہ گوئی کرنا اور اس کو ذریعہٴ معاش بنالینا، یہ اس مقصد حیات کے برخلاف ہے، جو اسلام افراد اورمعاشرے میں پیدا کرنا چاہتا ہے اور مستقل لطیفہ گوئی اور مزاح وتفریح میں مشغول رہنا انسان کو فکرِآخرت، ذکر اللہ، عبادت اور تلاوت قرآن سے غافل کردیتا ہے۔ زیادہ ہنسنے ہنسانے سے دل مردہ ہوجاتا ہے۔ انھی اسباب کی وجہ سے شعر وشاعری کی مذمت کی گئی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ انسان اپنا پیٹ پیپ سے بھرے، یہ اس سے بہتر ہے کہ اشعار سے بھرے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ: شعر جب ذکر اللہ، قرآن کریم کی تلاوت اور علم کے اشتغال پر غالب آجائے، اور اگر شعر مغلوب ہے تو پھر برا نہیں۔ یہی حال لطیفہ گوئی اور مزاح نویسی کا ہے۔ اس کو مستقل پیشہ بنالینا انہماک کی دلیل ہے اور ایسی چیزوں میں غالب انہماک ممنوع ہے،لہٰذا اس کی اجرت وصول کرنا بھی درست نہیں، ازخود کوئی بطور انعام کے دے دے، تو اس کے لینے کی گنجائش ہے۔

(6) دوران مذاق عزت و مرتبہ کا خیال رکھا جائے

 دوران مذاق لوگوں کے مقام ومرتبہ اور عزت وشرف اور ہیبت وورقار کالحاظ رکھا جائے ۔

کیونکہ صاحب حیثیت ومنزلت افراد کے ساتھ مذاق بسا اوقات دائرہ ادب سے نکل جاتاہے اور بے ادبی کا احتمال ہوتاہے اس لئے ایسے افراد سے مذاق کرنے میں احتیاط برتی جائے ۔ اور دائرہ ٔادب کا خیال رکھاجائے ۔ جیسا کہ بسا اوقات طالب علم استاد سے مذاق کرتاہے تو وہ بھی دائرہ ادب سے نکل جاتاہے اور ایک احترام کا رشتہ قائم رہنا چاہئے ۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:

"إن من إجلال الله إكرام ذي الشيبة المسلم"[24]

اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں یہ امر بھی شامل ہے کہ باریش مسلمان کی تکریم کی جائے ۔

امام طاؤس رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:’’ عالم کی عزت وتوقیر کرنا سنت ہے‘‘۔

یہ بھی اسلامی آداب میں سے ہے کہ کسی اجنبی سے مذاق کرنے سے اجتناب کیا جائے جس کی طبیعت نفس اور مزاج سے ناآشنائی ہو ۔ کیونکہ اس سے مزاح سے حقارت کے برتاؤ کا پہلو نکلتا ہے۔

سیدنا عمر بن عبد العزیز نے عدی بن ارطاۃ کو لکھاکہ ’’مذاق سے بچو کیونکہ اس سے مروّت جاتی رہتی ہے ‘‘ ۔

 

(7)  بیوقوف اور کم عقل افراد سے مذاق کرنے سے اجتناب کیا جائے

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :’’ مذاق میں میانہ روی اختیار کرو، اس میں افراط سے کام لینے سےہیئت جاتی رہتی ہے اور بے وقوف لوگوں کوآپ کے خلاف جرأت ہوجاتی ہے ‘‘ ۔

8  مذاق میں کسی مسلمان بھائی کی غیبت اور چغل خوری نہیں ہونی چاہئے

مسلمان بھائی کی غیبت کرنا اس کے مردہ گوشت کھانے کے مترادف ہے ۔ غیبت اور چغل خوری کا نتیجہ فتنہ ہے۔ عصر حاضر میں مزاح کی غالب صورتیں اس قبیح اور ناپاک جرم سے خالی نہیں ،اور غیبت کی شرعی اصطلاح میں یہ تعریف بیان کی گئی ہے کہ’’ذكرك أخاك بما يكره‘‘[25]اپنے مسلمان بھائی کا اس انداز میں تذکرہ کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو ۔ لہٰذا غیبت اور چغل خوری ایک بہت بڑا اخلاقی جرم ہے مزاح کرنے میں اس سے پرہیز کیا جائے۔

تفریحی کھیل شرعی نقطہ نظر سے

اسلام کے تصور تفریح کا مقصد صرف وقت گزاری نہیں ہے بلکہ اس نے عملی، تربیتی عسکری اور جسمانی ورزش کے مقاصد بھی مد نظر رکھے ہیں۔ تفریح کے نام پر جھوٹ، تہمت، مبالغہ آمیزی اور دوسروں کی نقل اتارنے کی اجازت نہیں دی ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی کہ اسلام نے ان مجلسوں میں شرکت کرنے سے روک دیاجس میں انسان اس قدر منہمک ہوجائے کہ اسے نماز ودیگر فرائض کا پاس وخیال نہ رہے یامردوزن کا بے محابا اختلاط ہو۔

اسی لیے اسلام نے تفریح اور کھیل میں سے صرف انہی چیزوں کی اجازت دی ہے جو جسمانی یا روحانی فوائد کے حامل ہوں اورجو محض ضیاعِ اوقات کا ذریعہ ہوں، فکر آخرت سے غافل کرنے والے ہوں یا دوسروں کے ساتھ دھوکہ فریب یا ضررسانی پر مبنی ہوں،ان کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسلامی نظام کوئی خشک نظام نہیں جس میں تفریحِ طبع اور زندہ دلی کی کوئی گنجائش نہ ہو، بلکہ وہ فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ اور فطری مقاصد کو بروئے کار لانے والا مذہب ہے۔

1۔ اصولی ہدایت: اسلام انسان کو ایک بامقصد زندگی گزارنے کی ہدایت دیتا ہے اور کھیل وکود اور لہوولعب پرمشتمل زندگی کی مذمت کرتا ہے۔ بامقصد زندگی جس کی اساس ہمہ وقت اللہ کی خوشنودی کی جستجو، تعمیر آخرت کی فکر مندی اور لہوولعب سے اِعراض ہووہ زندگی اہل ایمان کی پہچان ہے اور جس کی بنیاد لہوولعب پر مشتمل غفلت و بے پرواہی ہو وہ کفار کا شعار ہے۔ ارشاد الٰہی ہے: [وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ ][المومنون:3]کہ اہل ایمان کی صفت یہ ہے کہ وہ لغو اور فضول باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔ لہٰذا شرعی نقطہ نظر سے ہر وہ کام، قابلِ تعریف ہے، جو انسان کو مقصدِ اصلی پر گامزن رکھے۔ ہر اس کام کی اجازت ہے، جس میں دنیا وآخرت کا یقینی فائدہ ہو۔ یا کم از کم دنیا وآخرت کا خسارہ نہ ہو۔ کھیلوں میں سے بھی صرف انہی اقسام کی اجازت ہے، جو جسمانی یا روحانی فوائد کےحامل ہوں۔ وہ کھیل جو محض ضیاعِ اوقات کا ذریعہ ہوں، فکر آخرت سے غافل کرنے والے ہوںوہ کھیل جو دوسروں کے ساتھ دھوکہ فریب یا ضررسانی پر مبنی ہوں، ان کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’ کُلُّ مَا یَلهوابه الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ بَاطِلٌ الَّا رَمْیَةٌ بِقَوْسه وَتَأدِیْببه فَرَسه وَمُلاَعَبَته اِمْرَأته فَانّهن مِنَ الْحَقِّ‘‘[26]

               یعنی مرد مومن کا ہر کھیل بیکار ہے سوائے تین چیزوں کے: (۱) تیر اندازی کرنا، (۲) گھوڑے سدھانا (۳) اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، کیوں کہ یہ تینوں کھیل حق ہیں۔

2۔ لباس وپوشاک سے متعلق: لباس اور پوشاک کے سلسلے میں یہ ضروری ہے کہ کھلاڑی کھیل کے دوران ایسا لباس پہنے، جو ساتر ہو یعنی جسم کا وہ حصہ چھپ جائے، جن کا چھپانا واجب ہے، یعنی مرد کے لیے ناف سے لے کر گھٹنے تک اور عورت کے لیے پورا جسم ستر میں داخل ہے، ان کا ڈھکا ہوا ہونا واجب ہے۔ لباس اتنا باریک اور چست بھی نہ ہو کہ جسم کے اعضا نمایاں ہوں۔ اسی طرح  اس لباس میں کفّار کے ساتھ ایسی مشابہت نہ ہو کہ اس لباس کو دیکھنے سے کوئی خاص قوم سے مشابہت سمجھ میں آتی ہو۔ اور نہ اس لباس کا تعلق غیر اسلامی شعار سے ہو۔ مردوں کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ وہ لباس ٹخنوں سے نیچے نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’مَاأسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ مِنَ الازَارِ فِی النَّارِ‘‘[27]کہ جو شخص بھی ٹخنوں سے نیچے پاجامہ پہنے گا، وہ جہنم کی آگ میں جلے گا۔ ایک دوسری روایت میں ہےعبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو زعفرانی رنگ کا کپڑا پہنے دیکھا، تو آپ نے فرمایا : ’’یہ کفار کا لباس ہے اس لیے اسے مت پہنو‘‘۔[28]

عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مَنْ تَشَبه بِقَوْمٍ فهوَ مِنهم‘‘ ۔[29]

کہ جس نے کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کی اس کا تعلق اسی قوم کے ساتھ سمجھا جائے گا۔

3۔ پسندیدہ کھیل: تیراندازی اور نشانہ بازی، سواری کی مشق، دوڑلگانا، بیوی کے ساتھ بے تکلّفانہ کھیل، نیزہ بازی، تیراکی، کُشتی اورکبڈی۔ مذکورہ تمام کھیل چوں کہ احادیث وآثار سے ثابت ہیں اس لیے ان کے جوازبلکہ استحباب میں کوئی کلام نہیں ہوسکتا، اورکبڈی کا حکم بھی کشتی کی طرح ہے۔

4۔ ناپسندیدہ کھیل: ان کے علاوہ جو کھیل کود رائج ہیں ان کی شرعی حیثیت کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ جن کھیلوں کی ممانعت کی گئی ہے، وہ سب ناجائز ہیں: جیسے نرد، شطرنج، کبوتربازی، اور جانوروں کو لڑانا۔

               البتہ موجودہ زمانے کے چند معروف کھیلوں کے حوالے سے مقاصدشریعت اور اھداف شریعت کی طرف دیکھا جائے گا اور بنیادی اصول و ضوابط کو مدنظر رکھا جائے گا ۔

أ)  مثلا پتنگ بازی جوکہ کبوتر بازی کے حکم کے ذیل میں آتی ہے یعنی ناجائز۔ اس میں بھی دیگر ناجائز کھیلوں کی طرح متعدد مفاسد پائے جاتے ہیں اور بعض علاقوں میں خاص مواقع پر ”بسنت منانے“ کے عنوان سے وہ ہلڑبازی ہوتی ہے کہ خدا کی پناہ! اس کے علاوہ قوم کے لاکھوں کروڑوں روپے محض پتنگ بازی کے نذر ہوجاتے ہیں۔ بعض اوقات چھتوں سے گرکر جان کا ضیاع بھی ہوتا ہے، کٹے ہوئے پتنگ کو زبردستی لوٹ لیا جاتا ہے، بے پردگی الگ ہوتی ہے، ان امورِ قبیحہ کی وجہ سے پتنگ بازی بھی شرعی نقطۂ نظر سے ممنوع ہے۔

ب)  تاش بازی: یہ کھیل بھی شرعی نقطۂ نظر سے ممنوع ہے، اس لیے کہ تاش عام طور پر باتصویر ہوا کرتے ہیں۔ تاش کھیلنا عام طور پر فاسق وفاجر لوگوں کا معمول ہے۔ بالعموم اس میں جوا اور قمار کی شمولیت ہوتی ہے۔ اس کھیل میں تفریح کی جگہ پرالٹا ذہنی تکان ہوتی ہے۔ اگر جوے کے بغیر بھی کھیلاجائے، تو شطرنج کے حکم میں ہوکر مکروہ تحریمی کہلائے گا۔ بعض احادیث میں شطرنج کی ممانعت آئی ہے۔ جو مصلحت شطرنج کو منع کرنے میں ہے، وہی بات تاش کھیلنے میں پائی جاتی ہے۔

ج) باکسنگ، فائٹنگ: موجودہ زمانہ میں باکسنگ مُکّا بازی، فری اسٹائل فائٹنگ کے جو مقابلے منعقد ہوتے ہیں، وہ شریعتِ اسلامی میں بالکل حرام ہیں، اسے جائز ورزش کا نام نہیں دیا جاسکتا، ایسے باکسنگ مقابلوں کو ٹی وی پر براہِ راست نشر کرنا بھی جائز نہیں، کیوں کہ اس میں فریق مقابل کو شدید جسمانی اذیت پہنچانے کو جائز تصور کیاجاتا ہے جس سے ہوسکتا ہے کہ مدِمقابل اندھے پن، سخت نقصان، دماغی چوٹ یا گہری ٹوٹ پھوٹ،بلکہ موت سے بھی دوچار ہوجائے۔اس میں مارنے والے پراس نقصان کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ہے، جیتنے والے کے حامیوں کو اس کی جیت پر خوشی اور مقابل کی اذیت پر مسرت ہوتی ہے، جو اسلام میں ہرحال میں حرام اور ناقابل قبول ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} [البقرة: 195] اور تم اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں مت ڈالو۔

د)  بل فائٹنگ : اسی طرح بیلوں کے ساتھ کشتی جس میں تربیت یافتہ مسلح افراد اپنی مہارت سے بیل کو موت کے گھاٹ اتاردیتے ہیں، یہ بھی حرام ہے،کیوں کہ اس میں جانور کو ایذاء پہنچاکر اور جسم میں نیزے بھونک کر قتل کیاجاتا ہے اور بعض اوقات بیل بھی مدِمقابل انسان کو ختم کردیتا ہے یہ عمل کسی

 

بھی حال میں درست نہیں، اس لیے کہ روایت میں ایک بلی کو بھوکا مارنے پر جہنم میں ڈالنے کا مضمون آیا ہے۔

ھ) کیرم بورڈ: یہ بھی فساق و فجار کا کھیل ہے اس سے بھی اجتناب کیا جائے تو بہتر ہے بعض علماء احناف کے نزدیک یہ کھیل اگر انہماک اور جوے کے بغیر کھیلا جائے تواس کی گنجائش ہے۔

و)  لوڈو: شطرنج اور کیرم بورڈ کے حکم میں ہے ۔

ز)  ویڈیوگیم: ان کا تعلق اگر تعلیم و تربیت سے ہو او ر تصاویر و دیگر شرعی قباحتیں نہ پائی جائیں تو کوئی حرج نہیں جیسا کہ ایک کھیل scrabble جس میں طالب علم حروف جوڑ کر ایک بامعنی لفظ یا کلمہ بناتے ہیں اور ان بامعنی لفظ کو بنانے کے لیے مختلف معاجم و غیرہ کا استعمال بھی کیا جاتا ہے

ح) ہاکی، فٹ بال، والی بال، ٹینس، بیڈمنٹن، کرکٹ: اگر ان کھیلوں کی نوعیت کسی معصیت، حرام یا ناجائز کام پرمشتمل ہو وہ بھی اس مقصد حرام کی وجہ سے ناجائز ہوں گے۔ مثلاً کسی کھیل میں ستر کھولاجائے، یا اس کھیل میں جوابازی ہو، یا اس میں مرد وعورت کا مخلوط اجتماع ہو، یا اس میں موسیقی کا اہتمام ہو، یا کفار کی خاص مشابہت ہو، یا اس کی وجہ سے فرائض وواجبات میں غفلت ہورہی ہو۔

ط )  اسی طرح وہ کھیل جو بلامقصد محض وقت گزاری کے لیے کھیلے جاتے ہیں، وہ بھی ناجائز ہوں گے۔ اس لیے کہ قرآن کریم میں تو مومنوں کی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ {وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ} [المؤمنون: 3]’’ بیکار باتوں سے اعراض کرتے ہیں‘‘۔

معلوم ہوا کہ موجودہ دور میں مروّج کھیل مثلاً: ہاکی، فٹ بال، والی بال، ٹینس، بیڈ منٹن، کشتی، کرکٹ کی بعض شکلیں وغیرہ، جس میں بھرپور ورزش کا امکان ہوتا ہے، فی نفسہ ان کاکھیل درست ہے، لیکن چوں کہ عام طور پر ان کھیلوں میں اور ان کے لیے منعقد ہونے والے مقابلوں میں مندرجہ ذیل خرابیاں درآئی ہیں: (1) انہماک زیادہ ہونا (2) لوگ فرائض وواجبات سے غافل ہوجاتے ہیں (3)اسراف وتبذیر کی نوبت آتی ہے (4) وقت کا بے پناہ ضیاع ہوتا ہے (5) اکثر کھیلوں میں سترپوشی کا اہتمام نہیں کیا جاتا ہے۔ (6)اکثر جگہوں پر مرد وعورت کا اختلاط ہوتا ہے (7) محرمات: مثلاً بدنظری، گانا، ڈانس، ہلڑبازی کا ارتکاب ہوتا ہے (8) بعض کھیل کے ماہرین کو قومی ہیرو اور آئیڈیل کا  درجہ دے کر نونہالوں کے مستقبل سے کھلواڑ کیاجاتا ہے۔ (9) سٹے بازی، جوے بازی، میچ فکسنگ اور اسپاٹ فکسنگ کا سیلاب بلاخیز آیا ہوا ہے لہٰذا مذکورہ خرابیوں کی وجہ سے ان کھیلوں کے عدمِ جواز کا حکم لگایا جاتا ہے۔

ی) تعلیم وتذکیر کے لیے فلموں کا استعمال: فلم درحقیقت عکس بندی کا نام ہے۔ یہ عکس بندی جاندارچیزوں کی بھی ہوتی ہے اور بے جان چیزوں کی بھی۔ کسی بھی جاندار کی تصویر کھینچنا اور کھینچوانا کسی حال میں بھی درست نہیں ہے۔ خواہ ہاتھ کے ذریعہ ہو، یا قلم سے یا کیمرہ کے ذریعہ ہو یا پریس پر چھاپ کر۔ یا سانچہ اورمشین میں ڈھال کر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’اَشَدُّ النَّاسِ عَذَاباً یَومَ القِیَامَةِ الْمُصَوِّرُوْن‘‘ ۔[30]’’ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا‘‘۔ اس کے علاوہ اور بھی متعدد صحیح احادیث ہیں،جن میں تصویر سازی کی مذمت کی گئی ہے۔ ویڈیو اور کیمرہ کی تصویر بھی درحقیقت تصویر ہی ہے۔ اس سلسلہ میں بعض غیرمحتاط علماء کے ضعیف اقوال کو وجہ جواز نہیں بنایا جاسکتا، لہٰذا جان دار چیزوں کی فلم بندی کسی حال میں درست نہیں ہے، ضرورت کے مواقع مستثنیٰ ہیں۔ تعلیمی مقاصد وتذکیری مقاصد ضرورت میں شامل نہیں۔جیسا کہ موجودہ دور میں کارٹون میں بچوں کی رغبت بہت زیادہ پائی جاتی ہے اور کارٹونز بچوں کی نفسیات اور ان کے مزاج پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب کرتے ہیں اور بنیادی طور پر ان کا شمار بھی فلموں میں کیا جا سکتا ہے گو کہ بعض فقہاء نے نابالغ بچوں کے لیے باتصویر کھلونوں سے کھیلنے کو درست قرار دیا ہے لیکن اس سے کہیں بھی کارٹونز کے جواز پر کوئی دلیل نہیں ملتی ۔

ک)  اسٹیج ڈرامہ: موجودہ زمانے میں جو ”اسٹیج شو“ کے نام سے ڈرامے مروّج ہیں، وہ مفاسد سے پُرہوتے ہیں۔ اس لیے ممنوع ہیں۔ البتہ مدارس میں منعقد ہونے والے مکالمے، محادثے بالعموم اصلاحی تذکیری ہوتے ہیں اور مذکورہ مفاسد سے پاک ہوتے ہیں،اس لیے ان کی گنجائش ہے۔ تمام تفریحات اور کھیل کود میں اصل یہ ہے کہ انسان کسی حال میں اپنے مقصدِ حیات اور فکر آخرت سے غافل نہ ہو۔

عہد رسالت کے حوالے سے متعدد اقسام کے کھیل کود اور مختلف تفریحات کا پتہ چلتا ہے اور ان کا ذکر بہت زیادہ روایات میں ملتا ہے ان میں سے چند معروف کا ذکر سطور ذیل میں کیا جائے گا ان میں سے کچھ جنگی کھیل ہیں جو صرف مرد حضرات کھیلتے تھے بچوں کے لیے الگ مردانہ قسم کے کھیل کود تھے بعض روایات میں لڑکوں اور لڑکیوں کے مشترکہ کھیلوں کا بھی ذکر ملتا ہے اسی طرح معصوم بچیوں اور لڑکیوں کے خاص نسوانی کھیلوں کا ذکر بہت دلچسپ انداز میں ملتا ہے اسی طرح خواتین اور عورتوں کے بعض تفریحی مشاغل کا پتہ چلتا ہے ان میں سے معروف کا ذکر درج ذیل ہے:

فوجی کھیل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں مختلف طبقات و افراد کو تیر اندازی، شہسواری ، تلوار بازی ، نیزہ بازی، حربہ انگیزی او ر دوسرے فوجی کھیلوں کی ہمت افزائی کی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ان کے حصول اور کمال پر ترغیب بھی دلائی۔ بالعموم یہ تفاصیل’’ کتاب الجہادوالسیر‘‘ کے ابواب میں ملتی ہیں جیسا کہ صحیح بخاری کا ’’ باب التحریض علی القتال‘‘ ’’باب السبق من الخیل‘‘،’’باب التحریض علی الرمی‘‘ وغیرہ بلکہ عید الاضحی کے موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آڑ میں حبشی حضرات کے حربی کمالات دیکھنا ۔ اس واقعہ سے اور اس کی شروح سے واضح ہوتا ہے کہ وہ مستقل قسم کے کھیل تھے صرف اسی موقع پر نہیں پیش کیے بلکہ ہر عید پر ان کا اہتمام کیا جاتا تھا حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں اس پر مفصل بحث کی ہے۔ اور اصل بات یہ ہے کہ کھیلنے والوں کے لیے اجازت نبوی بلکہ منشائے نبوی بھی حاصل تھا۔یعنی یہ کھیلنا جائز اور مباح بلکہ ان کا دیکھنا اور دکھانا بھی جائز اور مباح ہے اس قسم کے کھیلوں کی عصری مثالیں 6 ستمبر میں یوم فضائیہ پر فضائی مظاہرے اور فوجی کمالات کا تعلق اسی نوعیت سے ہے جنہیں دیکھا جا سکتا ہے ۔

نشانہ بازی: نشانہ بازی خواہ تیر کے ذریعہ ہو یا نیزہ، بندوق اور پستول یا کسی اور ہتھیار کے ذریعہ ہو۔ اس کے سیکھنے کو باعثِ اجر وثواب قرار دیاگیا ہے ۔یوں بھی یہ کھیل انسان کے ذاتی دفاع کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ اگر جسم کی پھرتی، اعصاب کی مضبوطی اور نظر کی تیزی کا ذریعہ ہے۔ وہیں یہ خاص حالات میں دشمنوں سے مقابلہ آرائی کے کام آتا ہے۔ قرآن کریم میں باضابطہ مسلمانوں کو

 

 حکم دیاگیاہے: {وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ} [الأنفال: 60]

ترجمہ:اے مسلمانو! تمہارے بس میں جتنی قوت ہو، اسے کافروں کے لیے تیار کرکے رکھو۔

 رسول کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس ”قوة“ کی تفسیر رمی (تیراندازی) سے کی ہے۔ آپ نے تین مرتبہ فرمایا:

’’ ألاَ أَنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ‘‘ [31]یعنی خبردار ”قوة“ پھینکنا ہے۔

               اس پھینکنے میں جس طرح تیر کا پھینکنا داخل ہے، اسی طرح اس میں کسی بھی ہتھیار کے ذریعہ مطلوبہ چیز کو نشانہ بنانا، راکٹ، میزائل وغیرہ کوٹھیک نشانہ تک پہنچانا بھی داخل ہے اور ان میں سے ہر ایک کی مشق جہاں جسمانی لحاظ سے بہترین ورزش ہے، وہیں باعث اجر وثواب بھی ہے۔[32]

               ایک حدیث میں جناب نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ’’ بے شک ایک تیر کے ذریعہ اللہ تعالیٰ تین افراد کو جنت میں داخل کردیتا ہے۔ ایک تیر بنانے والا،جبکہ وہ تیر بنانے میں ثواب کی نیت رکھے۔ دوسرا تیر پھینکنے والا اور تیسرا پکڑنے والا، پس اے لوگو! تیر اندازی سیکھو‘‘ ۔[33]

               بلکہ تیر اندازی تو ایک ایسا فن تھا جس کی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچپن میں اس کی مشق کی تھی اور یہ عرب میں بطور مشغلہ بھی تھا لیکن اس میں ایک بات بہت اہم ہے کہ تیر اندازی جائز اور مباح ہے لیکن پرندوں اور جانورں پر مشق کرنا اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قطعی طور پر منع کیاہے ۔ اس میں ایک دلچسپ واقعہ جو کہ صحیح بخاری میں مذکور ہے سید نا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر قبیلہ بنو اسلم کے کچھ افراد پر ہوا تو ان کو تیر اندازی کرتے ہوئے پایاآپ نے ان کو بنو اسماعیل قرار دے کر فرمایا کہ تمہارے جد امجد بھی تیر اندازتھے لہٰذا تم تیر اندازی کرتے رہو اور میں بھی بنو فلاں کے ساتھ ہوں دوسرے فریق نے تیر چلانے سے ہاتھ روک لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کو کیا ہو گیا ہے تم تیر کیوں نہیں چلاتے انہوں نے عرض کیا کہ ہم تیر کیسے چلائیں کہ آپ تو ان کے ساتھ ہیں تو آپ نے فرمایا کہ تم  بھی تیر چلاؤ اور میں تم سب کے ساتھ ہوں۔[34]

               اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تیر اندازی کو عرب بطور ایک تفریحی مشغلہ اور کھیل کے طور پر بھی اختیار کیا کرتے تھے بلکہ بعد میں یہی تفریحی کھیل ان کی فوجی تربیت میں بدل جاتا تھا کہ سابقہ زمانے کی جنگوں میں تیر اندازی ایک بہت اہم ہتھیار تھا لہٰذا اس جنگی مہارت کا حاصل کرنا عمومی طور پر ایک فن حرب کی حیثیت سے معروف تھا۔

سواری : اس سے جسم کی پوری ورزش کے ساتھ انسان میں مہارت، ہمت وجرات اور بلند حوصلہ جیسی اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں اور سفریا جہاد میں خوب کام آتا ہے۔ گو کہ قرآن وحدیث میں عام طور پر گھوڑے کاذکر آیا ہے مگر اس سے ہر وہ سواری مراد ہے جواس مقصد کو پورا کر سکے مثلاً ہوائی جہاز،ہیلی کاپٹر، بس، موٹر سائیکل، سائیکل وغیرہ۔ ان سب سواریوں کے چلانے کی مشق اور ٹریننگ اسلامی نقطۂ نظر سے پسندیدہ ہے۔ اس شرط کے ساتھ کہ جائز اور نیک مقاصد کے لیے انھیں سیکھا جائے اور استعمال کیاجائے۔

               عربوں کی زندگی میں جن چند عناصر کو مرکزیت حاصل تھی ان میں ایک گھڑسواری تھی مردوں کی مردانگی کا تو یہ ایک معیار تھا ہی خواتین بھی اس میں مہارت حاصل کرتی تھی قرن اول کی بے شمار جنگوں میں خواتین کی شہسواری ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکی تھی۔ بلکہ کسی شخص کے لیے یہ امر باعث ندامت و شرمندگی ہوتا تھا کہ وہ گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھنا نہ جانتا ہو بلکہ اسے بزدل کہا جاتا تھا اور بعض احادیث میں یہ دلچسپ درخواست بھی بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین کی طرف سے خدمت رسالت میں پیش کی گئی کہ وہ گھوڑے کی پیٹھ پر جم کر نہیں بیٹھ سکتے لہٰذا ان کی یہ کمزوری دور ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے یہ دعا کی اور کئی کمزور پشت حضرات کو صلابت حاصل ہوئی ۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہسواری معروف تھی اور اس مقصد کے لیے آپ کے پاس کئی اونٹ اور گھوڑے تھے بلکہ حالت امن میں آپ نے کئی مرتبہ

 

صحابہ کرام کے ساتھ شہسواری کے مقابلوں میں پہلا درجہ حاصل کیا (فتح الباری)جیسا کہ مختلف سیرت نگاروں اور مورخین نے ان کا ذکر کیا ہے جیسا کہ بلاذری نے بہت تفصیل سے ایسے مقابلوں کا ذکر کیا ہے

دوڑ: صحت اور توانائی کے مطابق ہلکی یا تیز دوڑ بہترین جسمانی ورزش ہے۔ اس کی افادیت پر سارے علماءکرام اور ڈاکٹر متفق ہیں۔

               دوڑنے کی اسی افادیت کی وجہ سے صحابہ کرام عام طور پر دوڑ لگایا کرتے تھے اور ان میں آپس میں پیدل دوڑ کا مقابلہ بھی ہوا کرتا تھا۔ بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے صحابہ کرام کو دیکھا ہے کہ وہ نشانوں کے درمیان دوڑتے تھے اور بعض بعض سے دل لگی کرتے تھے، ہنستے تھے، ہاں! جب رات آتی، تو عبادت میں مشغول ہوجاتے تھے۔[35]

بیوی کے ساتھ بے تکلّفانہ کھیل: مرد کا اپنی بیوی کے ساتھ بے تکلفی کا کھیل بھی اسلام کی نظر میں مستحسن ہے۔ ممکن ہے بعض کو گراں گزرے کہ اس سے عورت سر پہ چڑھ جائے گی مگرعائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ کے ساتھ تھی۔ میں نے آپ سے دوڑ لگائی اور آگے نکل گئی۔ کچھ عرصہ بعد پھر ایک سفر میں، میں نے رسول اللہ سے دوڑلگائی اب میرے جسم پر گوشت چڑھ گیا تھا تو آپ مجھ سے آگے نکل گئے اور آپ نے فرمایا یہ اس کے بدلہ میں ہے۔[36]مذکورہ حدیث نبوی سے بیوی کے ساتھ تفریح کرنے اور دوڑ لگانے دونوں کی افادیت سمجھ میں آتی ہے، لیکن واضح رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ واقعات اس وقت کے ہیں،جب کہ قافلہ آپ کے حکم سے آگے جاچکا تھا اور وہاں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کوئی نہ تھا، وہ تنہا تھے۔ کسی اور کی موجودگی میں ایسا نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ یہ حیا کے خلاف ہے۔

بچوں کے کھیل: بچوں میں چونکہ کھیل کی طرف رغبت فطری طور پر پائی جاتی ہے لہٰذا عہد رسالت کے بچے بھی اس سے محروم نہ تھے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچپن اور لڑکپن میں ان جائز اور پسندیدہ کھیلوں میں حصہ لیا بالخصوص قبیلہ بنو سعد میں گزارا ہوا وقت اس امرپر شاہد ہے اور بعض روایات بھی اس پر شاہد ہیں جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ سید نا جبریل علیہ السلام آئے اور آپ کا سینہ چاک کیا ...الخ [37]اسی طرح جب آپ اپنی والدہ کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لے گئے تھے وہاں بنو عدی بن نجار کے تالاب میں پہلی مرتبہ تیرنا سیکھا وغیرہ ۔[38]انہی کھیلوں میں ایک کھیل کشتی کا بھی تھا جو کہ آپ نے اپنے لڑکپن میں سیکھا تھا ۔ اسی طرح صحابہ کرام اور ابناء الصحابہ کے بچپن کے کھیلوں کے واقعات کثرت سے روایات میں مذکور ہیں۔ لیکن ان تمام کھیلوں میں جسمانی تربیت و نشوونما کا پہلو بطور خاص ہمیں نظر آتا ہے ۔ بلکہ یہاں یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ کچھ کھیل تو لڑکوں اور لڑکیوں کے مابین مشترکہ ہوا کرتے تھے لیکن کچھ کھیل صرف لڑکیاں آپس میں اپنی ہم جولیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھیں اور یہ کھیل عمومی طور پر گڑیوں اور دوسرے کھلونوں کے ساتھ ہوا کرتا تھا یہ نسوانی جبلت کے عین مطابق ہو تا ہے جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا گڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا ذکر بعض صحیح احادیث میں بھی بیان کیا گیا ہے اور ان میں سے بعض کھیلوں میں تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو بنفس نفیس دلچسپی لیا کرتے تھےجیسا کہ یہ روایات صحیح بخاری، سنن ابو داود وغیرہ میں مذکور ہیں ۔ قاضی عیاض اسی سے ایک فائدہ اخذ کرتے ہیں کہ اس طرح کے کھیلوں سے بچیوں میں خانگی تربیت کا موقع ملتا ہے ۔ اسی طرح جھولا جھولنا بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے مذکور ہے جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قبل از نکاح انہیں جب بلایا گیا تھا تو اس وقت وہ جھولا جھول رہی تھی۔[39]

               لڑکیوں کے ان کھیلوں سے متعدد سماجی روایات کا علم ہوتا ہے کہ زیادہ تر کھیل اندرون خانہ ہوا کرتے تھے، یہ گڑیائیں ان کی والدہ بنا کر دیتی تھی جو کہ تربیت کا ایک پہلو ہے، ان کھلونوں کی

 

صورتیں اور تصویریں بھی ہوا کرتی تھیں جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس دو پر والا گھوڑا تھا۔

تیراکی: تیرنے کی مشق ایک بہترین اور مکمل جسمانی ورزش ہے، جس میں جسم کے تمام اعضا وجوارح کی بھرپور ورزش ہوتی ہے، یہاں تک کہ سانس کی بھی ورزش ہوتی ہے۔ سیلاب آنے کی صورت میں ایک ماہر تیراک انسانیت کی بہترین خدمت کرسکتا ہے۔ نشیبی علاقوں میں عام طور پر قریب میں ندی نالے تالاب وغیرہ ہوتے ہیں اور ان میں ڈوبنے کے واقعات بھی عام طور پر پیش آتے رہتے ہیں۔ ایسے حادثاتی مواقع پر ماہر تیراک لوگوں کی جان بچانے کی کامیاب کوشش کرسکتا ہے۔ لہٰذا تیراکی جہاں تفریحِ طبع اور جسمانی ورزش کا عمدہ ذریعہ ہے، وہیں بہت سے دیگر سماجی فوائد کی حامل بھی ہے۔

کشتی اورکبڈی: اس کھیل میں ورزش کا بھرپور سامان ہے۔ اگر ستر کی رعایت اور انہماک کے بغیر کھیلا جائے تو جائز ہوگا بلکہ نیک مقصد کے لیے مستحسن ہے۔ عرب کے ایک مشہور پہلوان رکانہ نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے کشتی لڑی، تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کشتی میں بچھاڑ دیا۔[40]کبڈی کا حکم بھی کشتی کی طرح ہے۔

مخصوص مواقع پر بھی کھیلوں کا ثبوت ملتا ہے جیسا کہ درج ذیل کچھ مواقع درج کیے جا رہے ہیں:

خیر مقدمی کھیل:

               بسااوقات مہمانوں اور اقارب کی آمد کے استقبال میں کچھ کھیلوں کا جس میں کچھ جسمانی کرتب یا فضائی مظاہرے منعقد کئےجاتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ بنیادی آداب کو مدنظر رکھا جائے۔ جیسا سنن ابی داؤد کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ ہجرت کی آمد کے موقع پر جہاں بچیوں سے کچھ اشعار منسوب ملتے ہیں وہاں ماہر فنون حبشیوں نے اپنے کرتب اور کھیل بھی دکھائے تھے ۔[41]اور صحیح ابن حبان کی روایت میں ہے کہ جب حبشہ کا وفد آیا تو حبشی مسجد میں اپنے کھیل دکھانے لگے ۔

 

عید کے کھیل کود:

               جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عید یعنی خوشی کی مناسبت سے مدینہ میں کچھ حبشیوں نے فوجی کرتب دکھائے بلکہ اس پر قیاس کرتے ہوئے موجودہ معاشرت میں بھی عید کی مناسبت سے اگر کچھ کھیلوں کا انعقاد کر لیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن بنیادی آداب کی مخالفت نہ ہو۔صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد رسالت میں ایام عید بطور قومی تقریبات کے طور پر منائی جاتی تھی ان میں شرعی حدود وقیود کی پابندی کرتے ہوئے کھیل کھیلے جاتے تھے۔

عصر حاضراور کھیل و تفریح:

               اگر عصر حاضر کو دیکھا جائے تو ذرائع ابلاغ کاعوام الناس کو تفریح فراہم کرنے میں بہت اہم کردار ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ان پر مغرب کا تسلط و قبضہ ہے جن کے نزدیک تفریح صرف اور صرف ”شراب ، عورت اور موسیقی“ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ تفریح اور کھیل کے نام پر عریانی و فحاشی، بے ہنگم موسیقی، شراب نوشی، جوئے بازی ، لاٹری ، فحش ایپی سوڈ،مخلوط مجالس، اور گرل فرینڈ،بوائے فرینڈ کا تصورپیش کرتے ہیں جس سے معاشرے میں حرص و ہوس، صحت و اخلاق کی خرابی ، ذہنی بے سکونی اور جنسی پیاس میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان کو’’آرٹ یا فن‘‘ کا نام دیا جاتا ہے اور اعلی تہذیب کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ جس کا نمونہ وہ مختلف طرح کی پارٹیوں،کرسمس ڈے، ویلینٹائن ڈے اور نئے سال کی آمدوغیرہ پر پیش کرتے ہیں۔ ان تمام چیزوں نے عوام الناس میں اخلاقی بے راہ روی، دین و اخلاق سے بے زاری اور خاندانی نظام کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔جس کی مثال خود مغربی معاشرے ہی میں دیکھی جا سکتی ہے۔

               خود ہمارے یہاں نوجوانوں کا دین ،اخلاق اور صحت و توانائی برباد ہو رہی ہے۔ بچے قبل از وقت جوان ہو رہے ہیں اور اپنے نا پختہ ذہن و شرم کی وجہ سے وہ والدین یا دوسرے اعزہ و اقارب کو بتا بھی نہیں سکتے۔ان کے والدین ان کو معصوم سمجھ کر غافل رہتے ہیں۔اس وقت مسلم نوجوان لڑکے لڑکیوں کے آئیڈیل ہیرو اور ہیروئن ہیں۔ ان کی ہی نقل کی جاتی ہے ، ان کے جیسا لباس، حلیہ، بات چیت اور طور طریقہ اپنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔دیکھا جائے تو لڑکوں نے نازک اداؤں اور بننے سنورنے میں لڑکیوں کو بھی مات دے دی ہے۔ظاہر ہے ان سے دین کی اشاعت و تبلیغ تو دور فسادات میں اپنا دفاع کرنے اور ماؤں بہنوں کو بچانے کی امید کیوں کر کی جا سکتی ہے؟؟

اسلامی تعلیمات کا تقاضا ہے کہ عوام الناس کے لیے تفریح کا سامان ضرور فراہم کیا جائے لیکن اس میں مغربی معاشرے کی نقالی نہ ہو۔اس مقصد کے لیے معلوماتی پروگرام، سائنسی کمالات، اہم مقامات،تاریخی عمارتیں، باغات، مصوری(جاندار کے علاوہ)، آرٹ، مناظرِ فطرت،مزاحیہ خاکے، سمندری دنیا کے مشاہدے، اصلاحی و پروگرامز، جانوروں کی دنیا، مجاہدین ِ اسلام کی داستانیں وغیرہ پیش کی جا سکتی ہیں۔

 وآخر دعوانا أن الحمدلله رب العالمين

یہ مضمون البیان ، ثقافت نمبر سے ماخوذ ہے۔

 

 

 

 

 

 



[1] مدرس جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کراچی

[2] بدائع الفوائد

[3] الجامع الصغير لجلال الدين السيوطي (3/ 18)،مسند الشهاب:باب من يزرع خيرا يحصد رغبة....(موضوع(

[4] بخاري: كتاب الجهاد و السير,باب من يعوذ من الجبن

[5] بخاري: كتاب الجهاد و السير,باب من يعوذ من الجبن

[6] ترمذي :كتاب الزهد باب في من تكلم بكلمة ليضحك الناس

[7] المعجم الاوسط للطبرانی: باب میم (حسن لغیرہ) و معجم الزوائد ص 8/303

[8] الشمائل المحمدیہ للترمذی: باب الجنۃ لا تدخلھا عجوز

[9] جامع  ترمذی: کتاب البر و صلۃ، باب ماجاء فی المزاح

[10] جامع ترمذی: کتاب البر وصلۃ،باب یا ذا الأذنین

[11] سنن أبی داود: کتاب الأدب، باب ماجاء فی المزاح

[12] مجموع الفتاویٰ: 7 / 273:

[13] الحلية لأبي نعيم : 4/96،والفردوس ، للديلمي و3/ 578:

[14] ابوداؤد:كتاب الأدب، باب في التشديد في الكذب

[15] مسند احمد :

[16] تفسير ابن كثير :7/376

[17] شعب الایمان للبيهقی5 / 310

[18]  صحیح مسلم: كتاب البر و الصلة,باب تحريم الظلم...

[19] رواه ابوداؤد :كتاب الأدب , باب من يأخذ الشيء علي المزاح

[20]  رواه ابوداؤد :كتاب الأدب ,باب لا يأخذن أحدكم متاع أخيه....

[21]  احیاء علوم الدین للغزالی 3/ 129

[22] ترمذي: كتاب الزهد باب في من تكلم بكلمة ليضحك الناس

[23] ترمذي: كتاب الزهد، باب من اتقى المحارم

[24]  رواه أبو داود:كتاب الأدب ,باب في تنزيل الناس منازلهم

[25] رواه مسلم : كتاب البر و الصلة و الآداب , باب تحريم الغيبة

[26] سنن الدارمي:كتاب الجهاد، باب في فضل الرمي

[27] بخاري: كتاب اللباس, باب ماأسفل من الکعبین فھو فی النار

[28] مسلم: كتاب اللباس و الزينة, باب النهي عن لبس الرجل....

[29]  ابوداؤد : كتاب اللباس، باب في لبس الشھرة

[30] بخاري : كتاب اللباس, باب عذاب المصورين يوم القيامة

[31] مسلم:كتاب الإمارة ، باب فضل الرمي

[32]  بذل المجهود:11/428

[33] سنن أبو داؤد: كتاب الجهاد، باب في الرمي

[34] صحیح بخاري :كتاب الجهاد و السير،باب التحريض علي الرمي

[35] مشکوٰة: 407

[36] سنن ابی داؤد

[37] کتاب الایمان، باب الاسراء برسول الله

[38] ابن سعد ، ج 1 ص 73

[39] مسلم ، کتاب النکاح

[40] ابوداؤد فی المراسیل

[41] سنن ابو داود: کتاب الادب، باب فی الغنا