تصنیف کے لیے سازگار ماحول کا انتخاب

امام ابن الوزیر الیمانی (وفات 840ھ) مجتہد مطلق، علوم شرعیہ وعقلیہ میں اوجِ کمال کو پہنچے ہوے، آٹھویں صدی ہجری کے مجدد، شاعر، ادیب، نسابہ، اصولی، المتکلم اور مفسر تھے. آپ کے کلام میں بلا کی گہرائی اور غور وفکر کی گیرائی تھی، ان کا علم ان کے سبھی اساتذہ کے علم پر بھاری تھا، جب دلائل کے انبار لگاتے اور فریقِ مخالف کا تعاقب کرتے تو شیخ الاسلام ابن تیمیہ، شیخ الاسلام ابن قیم الجوزیہ اور حافظ ابن حزم رحمھم اللہ  کی یاد تازہ کر دیتے، غرض کہ اسلوب نگارش ہی یگانہ ہوتا.علمی وسعتوں کا دائرہ اتنا طویل کہ “ارداہ” کے بارے میں 1200عربی اشعار لکھ ڈالے.ابن الوزیر للحربی( :90).ایثار الحق لابن الوزیر :(2/183).

بعض اوقات ایک ہی مسئلہ میں دو سو سے زائد احادیث ذکر کرتے چلے جاتے،اسی پر بس نہیں بلکہ ان کے راویوں پر بڑی گہری نگاہ تھی.مقدمہ :الروض الباسم للشیخ عمران :(1/11).

ان کی معرکہ کتب میں العواصم والقواصم فی الذب عن سنۃ ابی القاسم ﷺ،جو 3 ضخیم جلدوں میں شائع شدہ ہے. یہ کتاب انھوں نے ملک یمن کے مشہور شہر صنعاء سے 200کلو میٹر دور بنی مسلم کے پہاڑی سلسلے میں جا کر لکھی. کچھ حصہ صنعا کی مشرقی جانب جبلِ نقم کے غار میں جا کر لکھا. ابن الوزیر وآراؤہ الاعتقادیہ للعلی بن علی جابر الحربی :(97).مقدمہ تحقیق :ایثار الحق لابی نوح الیمنی: (1/54).

اسی طرح دوسری کتاب :ایثار الحق علی الخلق فی رد الخلافات الی المذھب الحق من اصول التوحید، بھی یحصب کے پہاڑی سلسلے میں جا کر لکھی.مقدمہ تحقیق :ایثار الحق (1/54).

اسی طرح دو مزید کتب میں پہاڑی سلسلے میں جا کر لکھیں.

1:انیس الاکیاس فی الاعتزال عن الناس.ابن الوزیر للحربی :(90).

2:کتاب العزلۃ.ابن الوزیر للحربی :(100).

انھوں نے کل 42کتب ورسائل لکھے، جو اپنے موضوع پر مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں. جن میں تنقیح الأنظار فی علوم الآثار(اس کی شرح :توضیح الافکار للصنعانی ہے). الروض الباسم (العواصم والقواصم کا اختصار) ہے. نیز ملاحظہ ہو :ابن الوزیر :(89_101).

مصنف/ مقرر کے بارے میں

الشیخ محمد خبیب احمد حفظہ اللہ