محدثِ عصر حافظ زبیر علی زئی رحمۃ اللہ علیہ

شیخ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ا ور تعلیم و تربیت :

شیخ رحمۃ اللہ علیہ25جون 1957ء کو حضرو، ضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد کا نام حاجی مجدد خان تھا۔آپ نےتین سے چار ماہ میں قرآن مجید حفظ کرلیا تھا۔آپ نے جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ سے سند فراغت حاصل کی ۔وفاق المدارس السلفیہ سے الشھادۃ العالمیہ بھی حاصل کی ۔نیز آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے بھی کیا تھا۔آپ اپنی مادری زبان ہندکو کے ساتھ ساتھ کئی ایک زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ جن میں عربی،اردو،پشتو،انگلش،یونانی، فارسی (پڑھ اور سمجھ سکتے تھے ،بول نہیں سکتےتھے) اور پنجابی۔ (راقم الحروف نے خود انہیں فون پر پنجابی میں گفتگو کرتے ہوئے سنا تھا) شامل ہے۔

آپ کو علم الرجال سےبڑی دلچسپی تھی،چنانچہ ایک مقام پر اپنے بارے میں خود لکھتے ہیں :

’’راقم الحروف کو علم اسماء الرجال سے بڑا لگاؤ ہے‘‘۔(مقالات : 498/1)

اساتذہ :

آپ کے اساتذہ میں جن عظیم علماء کے نام آتے ہیں،ان میں سے چند ایک یہ ہیں۔

الشیخ محب اللہ شاہ راشدی رحمۃ اللہ علیہ:

اپنے استاذ کے بارے میں آپ لکھتے ہیں : ’’استاذ محترم مولانا ابو القاسم محب اللہ شاہ الراشدی رحمۃ اللہ علیہ سے میری پہلی ملاقات ان کی لائبریری’’مکتبہ راشدیہ‘‘ میں ہوئی تھی،میرے ساتھ کچھ اور طالب علم بھی تھے ‘‘۔(مقالات :494/1)

اسی طرح ایک اورجگہ لکھتے ہیں :’’اگرمجھے رکن و مقام کے درمیان کھڑا کر کے قسم دی جائے تو یہی کہوں گا کہ میں نے شیخنا محب اللہ شاہ راشدی رحمۃ اللہ علیہ سے زیادہ نیک،زاہد اور افضل اور شیخ بدیع الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ سے زیادہ عالم و فقیہ انسان کوئی نہیں دیکھا۔ رحمھما اللہ‘‘۔(مقالات : 505/1)

الشیخ بدیع الدین شاہ راشدی رحمۃ اللہ علیہ:

شاہ صاحب سے تعلق ِتلّمذ کا ذکر کرتے ہوئے حافظ زبیر علی زئی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے خود لکھا ہے :

’’راقم الحروف کو بھی شرفِ تلمذ حاصل ہے‘‘۔(مقالات : 491/1)

اسی طرح ایک مقام پر الشیخ محب اللہ شاہ الراشدی اور الشیخ بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہما اللہ کے حوالے سے کچھ یوں لکھتے ہیں :

’’آپ انتہائی خشوع و خضوع اور سکون و اطمینان کے ساتھ نماز پڑھاتے تھے۔اس کا اثر یہ ہوتا تھا کہ ہمیں آپ کے پیچھے نماز پڑھنے میں انتہائی سکون و اطمینان حاصل ہوتا،گویا یہ سمجھ لیں کہ آپ کی ہر نماز آخری نماز ہوتی تھی،یہی سکون واطمینان ہمیں شیخ العرب والعجم مولانا ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ(متوفی ۱۴۱۶ھ) کے پیچھے نماز پڑھنے میں حاصل ہوتا تھا ‘‘۔(مقالات :494/1)

اسی طرح ایک جگہ کچھ یوں لکھا :’’راقم الحروف سے آپ کا رویہ شفقت سے بھرپورتھا۔ایک دفعہ آپ ایک پروگرام کے سلسلے میں راولپنڈی تشریف لائے تو کافی دیر تک مجھے سینے سے لگائے رکھا‘‘۔(مقالات : 492/1)

الشیخ اللہ دتہ سوہدروی رحمۃ اللہ علیہ:

حافظ زبیر علی زئی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے بارے میں لکھا :’’جن شیوخ سے میں نے بہت زیادہ استفادہ کیا ہے،حاجی اللہ دتہ صاحب ان میں سر فہرست ہیں‘‘۔مقالات : (509/1)

علامہ مولانا فیض الرحمن الثوری رحمۃ اللہ علیہ:

الشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمۃ اللہ علیہ ان کے بارے میں لکھتے ہیں :

’’راقم الحروف کو آپ سے استفادہ کا موقع استاذ محترم شیخ ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتبہ راشدیہ،نیو سعید آباد میں ملا۔آپ نے سند حدیث اور اس کی اجازت اپنے دستخط کے ساتھ ۱۳ صفر ۱۴۰۸ھ کو مرحمت فرمائی۔ آپ مولانا ابو تراب عبدالتواب الملتانی رحمۃ اللہ علیہ سے اور وہ سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں۔رحمھم اللہ اجمعین‘‘۔(مقالات : 508/1)

الشیخ عطاءاللہ حنیف بھوجیانی رحمۃ اللہ علیہ:

آپ مسلک کے عظیم علماء میں سے ایک نامور عالم دین تھے ۔آپ کی متعدد تصانیف ہیں ،جن میں سے ایک سنن النسائی کی عربی شرح التعلیقات السلفیۃ ہے ۔

الشیخ حافظ عبدالمنان نورپوری رحمۃ اللہ علیہ:

آپ عالم با عمل شخصیت تھے ۔کچھ عرصہ قبل ہی آپ اس دار فانی سے کوچ کرگئے ۔حافظ عبدالمنان نورپوری رحمۃ اللہ علیہ بحر علم تھے۔آپ کی کتب میں سے ارشاد القاری الی نقد فیض الباری،مرآۃ البخاری ،مکالمات نورپوری ،مقالات نورپوری اور احکام و مسائل، جیسی بلند پایہ کتب اہل علم میں مقام عالی حاصل کر چکی ہیں ۔

الشیخ حافظ عبدالسلام بھٹوی حفظہ اللہ:

آپ جماعت کے جید علماءمیں سے ہیں ۔آپ کی مختلف کتب میں سے ایک معروف کتاب تفسیر دعوۃ القرآن ہے  اور اس وقت صحیح البخاری کی اردو شرح لکھ رہے ہیں ۔

الشیخ عبدالحمید ازہر حفظہ اللہ:

حافظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ الشیخ عبدالحمید ازہر صاحب کو اپنا استاد مانتے تھے اور وقتاً فوقتاً ان سے مختلف موضوعات میں رجوع فرماتے رہتے تھے۔

تلامذہ :

پورے ملک سےطلبہ کی کثیر تعداد نے آپ سے استفادہ کیا۔ جب راقم الحروف اصول حدیث کے دورہ میں جو حیدرآباد میں واقع مدرسہ تعلیم القرآن میں منعقد ہوا میں شریک ہوا تو اس موقع پر بھی اندرونِ سندھ سے مختلف مدارس کے اساتذہ و طلباء نے شرکت کی تھی۔

آپ کے تلامذہ میں سے جن چند ایک کے بارے میں ہم مطلع ہوسکے جن کے نام درج ذیل ہیں۔

شیخ حافظ ندیم ظہیرحفظہ اللہ:

آپ حافظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ملازم شاگردوں میں سے ہیں جنھوں نے خصوصی التزام کے ساتھ شیخ صاحب سے استفادہ کیا۔شیخ صاحب کو آپ سے کافی امیدیں بھی تھیں۔آپ شیخ صاحب کی زندگی سے ہی ماہنامہ الحدیث حضرو کے نائب مد یر رہے ہیں۔آپ ماشاءاللہ تحقیق کا اچھا ذوق رکھتے ہیں آپ کے بعض مقالات منظر عام پر آئے ہیں،جنھیں پڑھنے کا موقع ملا،جس میں حافظ زبیر علی زئی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریر کی جھلک بھی کبھی کبھی نظر آتی ہے۔

شیخ حافظ شیر محمد صاحب حفظہ اللہ:

 آپ بھی شیخ رحمہ اللہ کے ملازم شاگردوں میں سے ہیں اور حضرو میں واقع مدرسے کے مدرس بھی ہیں۔

شیخ صدیق رضاصاحب حفظہ اللہ:

آپ جامعۃ الدراسات کے استاذ ہیں۔آپ کے بعض مقالات اور کتب پڑھنے کا موقع ملا۔ میدان مناظرہ میں آپ کی محنتیں اور جہود کافی ہیں ۔آپ مختلف موضوعات پر مختلف مکاتب فکر سے کئی کامیاب مناظرے بھی کر چکے ہیں۔

شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ:

آپ کا شمار جماعت کے ممتاز علماء میں ہوتا ہے ،آپ ماہنامہ ’’السنۃ ‘‘ کے مدیر بھی ہیں ،جوکہ بڑا مؤقر رسالہ ہے ۔اس وقت جامعہ امام بخاری سرگودھا کے شیخ الحدیث بھی ہیں۔

تصانیف :

شیخ رحمۃ اللہ علیہ کی متعدد علمی و تحقیقی تصانیف ہیں ،جن میں سے چند ایک یہ ہیں۔

اثبات عذاب القبر للبیھقی تحقیق و تخریج

نیل المقصود فی التعلیق علی سنن ابی داؤد : اس میں فقہی فوائد کے ساتھ ساتھ تخریج و تحقیق بھی ہے۔

نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام

نور العینین فی اثبات رفع الیدین(یہ کتاب یقیناً اپنے باب میں انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے،یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کے مطالعہ سے بڑی تعدادنے اس سنت متواترہ کو اپنی نماز کی زینت بنالیا)

اہل حدیث ایک صفاتی نام

آل دیوبند کے تین سو(۳۰۰)جھوٹ

ہدیۃ المسلمین نماز کے اہم مسائل مع مکمل نماز نبوی

اختصارعلوم الحدیث(حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب کا ترجمہ ہے)

تحقیقی اصلاحی اورعلمی مقالات جلد اول تا چہارم (ان میں ماہنامہ الحدیث میں شائع ہونے والے مضامین کو جمع کیا گیا ہے)

فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام دو جلدیں

القول المتين فی الجھربالتأمین

آل دیوبند سے ۲۰۰سوالات

صحیح بخاری پر اعتراضات کا علمی جائزہ(یہ کتاب منکرین حدیث کی کتاب اسلام کے مجرم کا جواب ہے)

مؤطا امام مالک،روایۃ ابن القاسم (تحقیق، تخریج و شرح)

مختصر صحیح نماز نبوی

دین میں تقلید کا مسئلہ

امین اوکاڑوی کا تعاقب

بدعتی کے پیچھے نماز کا حکم

انوارالصحیفۃ فی احادیث الضعیفۃ

تحفۃ الاقویاء فی تحقیق کتاب الضعفاء 

اس کےعلاوہ اور بھی کتب ہیں۔نیز کتب احادیث پر تحقیق و تخریج کا کام بھی کیا۔

تصنیفی خدمات کے علاوہ آپ نے ابطال باطل کے لئے مناظرے بھی کئے،بلکہ مناظروں کے لئے دور دراز کا سفر بھی کیا۔

شیخ رحمۃ اللہ علیہ کے بعض خصائل نبیلہ : 

شیخ رحمۃ اللہ علیہ کی تحریر انتہائی سلیس عام فہم اردو پر مشتمل ہوتی تھی،اور انداز ایسا تھا کہ انتہائی اختصارجوجامع و مانع ہو۔تطویل و اطناب آپ کی تحریر میں نظر نہیں آتا۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ایک عادت، شیخ خبیب صاحب حفظہ اللہ کو بہت اچھی لگی،جس کا انہوں نے تذکرہ کیا تھا،کہ دوران مطالعہ کوئی بھی لطیف نکتہ یا اہم بات آپ کو مل جاتی، تو اسے اپنی ذات تک یا اپنے حلقے تک محدود نہیں رکھتے تھے،بلکہ ماہنامہ الحدیث میں اسے ایک شذرے کے طور پر شائع کرکے تمام قارئین  کے لئے عام کردیتے۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ انتہائی سادہ لوح،بے تکلف، ہنس مکھ و نرم مزاج آدمی تھے۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ اہم معاملات میں اپنے اساتذہ سے بھی رجوع فرماتے تھے۔جیسا کہ انہوں نے تعلیم و تعلم کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خود بتلایا تھا کہ وہ الشیخ عبدالحمید ازہر صاحب سے رجوع کرتے رہتے ہیں ۔ شیخ رحمۃ اللہ علیہ کا انداز تدریس بھی ممتاز تھا۔ مسئلہ کی تفہیم اس آسانی سے فرماتے کہ طلاب العلم بآسانی سمجھ جاتے۔

شیخ رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے اہلِ علم کے تاثرات :

الشیخ رفیق اثری صاحب حفظہ اللہ ورعاہ:

میں ان کی وفات کو جماعت کے لئے بہت بڑا نقصاناور سانحہ سمجھتا ہوں،رجال پر ان کی بہت گہری نظر تھی اللہ انہیں غریق رحمت کرے،آل دیوبند وغیرہ کے حوالے سے لکھنے میں بھی ان کا انداز منفرد تھا،اگر چہ بہت سے لوگ ان کے پیچھے پڑے ہوئے تھے لیکن وہ کسی کی پرواہ نہیں کرتے تھے،مستحکم دلائل کے ساتھ اچھے انداز میں جواب دیتے تھے۔اللہ انہیں غریق رحمت کرے اور جماعت کو ان کا اچھا کوئی نعم البدل عطا کرے۔

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی صاحب حفظہ اللہ ورعاہ:

 وہ بڑے عظیم عالم دین تھے،بالخصوص علم الرجال میں وہ خاص ملکہ رکھتےتھے، کہ پورے پاکستان میں اس فن میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔وہ نہایت سادہ طبیعت کے مالک تھے،زہدو تقوی اور قوی حافظہ ان کی شخصیت کے نمایاں پہلو ہیں۔

الشیخ ارشادالحق اثری صاحب حفظہ اللہ ورعاہ:

(راقم الحروف نے جب شیخ اثری صاحب حفظہ اللہ سے پوچھا کہ بعض لوگ اہل علم کی علمی آراء کو مختلف رنگ دے دیتے ہیں یا کچھ زیادہ ہی مبالغہ سے پیش کرتے ہیں۔۔۔۔اس پر شیخ صاحب فرمانے لگے) میرے ذہن میں رائی برابر اس قسم کا کوئی تحفظ نہیں تھا۔ یہ علمی آراء ہوتی ہیں، محدثین کے دور میں بھی اختلاف رہا ہے۔ اس میں نہ کوئی تڑپ کی بات ہے نہ سسک کی بات ہے۔ ویسے الشیخ زبیر علی زئی صاحب ماشاءاللہ! اللہ نے انہیں جو صلاحیتیں عطا فرمائی تھیں اور جو ودیعتیں بخشی تھیں وہ انہی کا خاصہ ہیں۔حدیث و رجال پر ان کی بڑی گہری نظر تھی۔اللہ تعالی نے انہیں بڑا حفظ و ضبط عطا فرمایا تھا۔میں تو انہیں اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ ابھی تعلیم حاصل کر رہے تھے، بلکہ اس سے بھی پہلے ان کی دکان پر بھی ان کے پاس آتا جاتا تھا۔پھر وہ دارالدعوۃ سلفیہ آگئے تھے۔وہاں انہوں نے 3،4مہینوں میں قرآن مجید یاد کیا۔اللہ نے انہیں بڑی صلاحیتیں عطا فرمائی تھیں۔لیکن ہر آدمی کا وقت اللہ کے یہاں مقرر ہے، آنے کا وقت بھی جانے کا وقت بھی۔لیکن آپ بہت جلد ہی چلے گئے،جتنی ان سے توقعات تھیں کہ وہ اللہ کے فضل و کرم سے بہت کچھ حدیث کی خدمت سر انجام دیں گے لیکن وہ ادھوری رہ گئی ہیں اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو قبول فرمائے اور جو مساعی ہیں قبول فرمائیں اور جو کمی بیشی،کمزوریاں ہیں اللہ تعالیٰ ہم سب کی معاف فرمائے۔(آمین)

تنبیہ :

شیخ ارشاد الحق اثری صاحب حفظہ اللہ کی یہ باتیں بڑی قابل غور ہیں۔خصوصاًاس لئے بھی کہ حافظ زبیر علی زئی رحمۃ اللہ علیہ اور الشیخ ارشادالحق اثری و الشیخ خبیب صاحب  وغیرہ کے علمی آراء کے مختلف ہونے کی وجہ سے تقلیدی طبقے کسی قسم کی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں ۔اسی طرح مسلک اہلحدیث کے بعض سادہ لوح عوام کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ اہل علم کے یہ اختلافات علمی نوعیت کے ہوتے ہیں اس سے علی الاطلاق ان کے مابین تعلقات کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہئے اور نہ ہی ایسے موقع پر ہمیں ان علمی موضوعات کی کنہ کو سمجھے بغیر اپنی زبانیں ایسے عظیم علماء کے بارے میں دراز کرنی چاہئیں۔اور یہاں یہ بات بھی واضح کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ حافظ صاحب رحمہ اللہ نے بڑی وضاحت کے ساتھ اس بات کا رد کیااور افسوس کا اظہار کیا تھا کہ بعض لوگوں نے حافظ صاحب کی طرف یہ بات منسوب کی کہ حافظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ،ارشادالحق اثری صاحب حفظہ اللہ کو اہل حدیث نہیں سمجھتے تھے۔حافظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے سختی سے اس بہتان کو رد کیا تھا کہ یہ میری طرف جھوٹ منسوب کیا گیا ہے۔لہذا حافظ صاحب نے جب یہ وضاحت کردی تھی تو یہ بات واضح ہوگئی کہ ان اہل علم یا دیگر اہل علم کے درمیان اختلاف کا ہوجانا کوئی قابلِ طعن بات نہیں۔محدثین کے درمیان بھی باہم اختلافات رہے بلکہ وہ طبقہ جو خود کو مقلد کہلاتا ہے ان کے درمیان بھی اختلافات ہیں اور ماضی میں بھی رہے ہیں ۔

الشیخ مسعود عالم صاحب حفظہ اللہ ورعاہ:

 وہ اپنے زمانے کےبہت نادر آدمی تھے۔اللہ نے انہیں بہت علم اور حافظہ عطا فرمایا تھا۔جماعت کے لئے انہوں نے بہت مخلصانہ کوششیں کی ہیں ۔خاص طور پر حدیث نبوی کی خدمت کی۔ہر محاذ پرجہاں کہیں بھی سنت کے خلاف کسی نے آواز اٹھائی،آپ نےدفاع کیا۔مسالک کے متعصبین پیروکاروں کے خلاف انہوں نے بڑا عالمانہ جہاد کیا ہے۔اللہ رب العزت ان کے درجات بلند فرمائے۔اور اللہ رب العزت انہیں اپنے مقرب بندوں میں شامل فرمائے۔(آمین)

الشیخ مبشر احمد ربانی صاحب حفظہ اللہ ورعاہ:

آپ بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔اور اپنے ہم عصر علماء میں سے پاکستان کے اندر اسماء الرجال کے زیادہ ماہر تھے۔اور گمراہ کن افکار کے حامل افراد کے خلاف کتاب و سنت کی روشنی میں بہت جلد میدان میں اتر آتے تھے، ماہنامہ الحدیث اس بات پر بہت بڑا شاہد ہے۔اسی طرح خدمت حدیث پر ان کی کتب اور مقالات ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہیں۔اسی طرح جب بھی اہل بدعت کے خلاف کوئی بھی مناظرے کا محاذ گرم ہوا تو شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ اپنے رفقاء کے شانہ بشانہ چلے اور اپنے ساتھیوں سے بڑھ کر دلائل کی تیاری کے ساتھ میدان میں اترے۔اس طرح کا عبقری شخص سالوں بعد پیدا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو انبیاء ،شھداء اور صالحین کا ساتھ نصیب فرمائے،اور انہیں جنت الفردوس کے اونچے مقام پر فائز کرے۔ اللہ تعالیٰ اہل حدیث علماء میں جو خلاء پیدا ہوا ہے،اس کو اپنی رحمت اور فضل کے ساتھ پُر فرمادے۔اور شیخ صاحب جیسی خوبیوں کا حامل عالم عطا فرمادے۔آمین یا رب العالمین

الشیخ عبدالستارحماد صاحب حفظہ اللہ ورعاہ:

اسماء الرجال کے فن میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔حنفیت کے حوالے سے بڑا جاندار تبصرہ ہوتا تھا۔اختلاف کو برداشت کرنے والے تھے۔اللہ انہیں غریق رحمت کرے۔(آمین)

الشیخ خلیل الرحمن لکھوی صاحب حفظہ اللہ ورعاہ:

میدان تحقیق کے شہہ سوار تھے،آپ کی وفات سے جماعت کا بڑا نقصان ہوا ہے۔

الشیخ خبیب احمدصاحب حفظہ اللہ ورعاہ:

میری سب سے پہلی ملاقات ان سے 2006میں ہوئی جب میں سخت سردی کے موسم میں ان سے استفادہ کے لئے ان کے علاقہ گیا تھا۔رات وہاں قیام کرنے کے بعد فجر کے بعد ہی شیخ صاحب سے ملاقات ہوئی تھی ہم نے شیخ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے صحیح مسلم کی’’کتاب الامارۃ‘‘ سے چند احادیث پڑھی تھیں۔پھر اس کے بعد بھی شیخ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سےوقتاً فوقتاً فون پر گفتگو کا سلسلہ قائم رہا۔شیخ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کوکسی کتاب کے حوالے سے متعلق جب کوئی ضرورت محسوس ہوتی تو آپ فون پررابطہ کرتےتھے۔اسی طرح جب ہمیں کسی کتاب کے حوالے سے کوئی پیچیدگی آتی ہم بھی شیخ رحمۃ اللہ علیہ سے فون پر رجوع کرتے تھے۔کئی بار شیخ صاحب رحمۃ اللہ علیہ ادارہ اثریہ تشریف بھی لائے۔بلکہ ایک بار شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے رات کا قیام بھی کیا تھا۔شیخ رحمۃ اللہ علیہ کی علمیت و خدادصلاحیت کے حوالے سے کوئی دو رائے نہیں ۔

الشیخ محمود الحسن صاحب حفظہ اللہ ورعاہ:

محدث شہیر حافظ زبیر علی زئی( تغمدہ اللہ بغفرانہ و اسکنہ فرادیس جنانہ و فضلہ علی فوق کثیر من الناس یوم القیامۃ )بہت ہی عظیم عالم اور محدث تھے،میرا ان سے تعارف میرے دوست خورشید احمد صاحب کے ذریعے ہوا۔شیخ مرحوم جب بھی کراچی تشریف لاتے،انہی (خورشید صاحب) کے گھر قیام فرماتے۔اللہ نے ان کو علم کا بحرِ بیکراں بنایا تھا۔احادیث رسول اللہ ﷺ پر ان کی بڑی گہری نظر تھی۔چند سال پہلے دارالحدیث رحمانیہ کراچی میں ان کا درس بخاری بھی سنا تھا،بڑا علمی اور محققانہ درس تھا۔ان کے درس سے میں نے بھی اپنی بہت سی غلط معلومات کی اصلاح کی تھی۔ اسی طرح خورشید احمد صاحب کےگھر پران کا ایک درس توحید کے موضوع پر ہواتھا،میں بھی اس سے بڑا مستفید ہوا۔نصف شعبان کی فضیلت پر ٹیلیفون پر ان سے گفتگو بھی ہوئی تھی جس میں کچھ تلخی بھی آگئی تھی۔اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔

بہرحال وہ علم کا پہاڑ تھے۔ اللہ انکے درجات بلند فرمائے۔اسی طرح نابالغ بچے کی امامت کے موضوع پر بھی ان سے فتوی طلب کیا تھا جو آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔بڑا ہی علمی اور مدلل جواب تھا،احناف کے مؤقف کی انہوں نے بڑی مؤثر تردید فرمائی تھی۔اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔(آمین)

یہ چند معلومات اور حافظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حوالےسے علماء کے تاثرات قارئین نے ملاحظہ فرمائے۔یہ تاثرات اہل علم کےشیخ رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ قلبی تعلقات اور شیخ رحمۃ اللہ علیہ کی علم و تحقیق و حدیث میں ناقابلِ فراموش خدماتِ جلیلہ کے اعتراف کی واضح دلیل ہیں۔اللہ تعالیٰ استاذِ محترم کی مغفرت فرمائے۔اور ان کی تمام مخلصانہ کاوشوں کو شرفِ قبولیت عطا فرماکر ان کے لئے صدقہ جاریہ بنا دے۔اور فرزندانِ توحید کو بھی اسی لگن سے دینِ الہی کا کام کرنے کی توفیق عطا فرما ئے۔(آمین)۔

سانحہ وفات :

10نومبر بروز اتوار جماعت کے عظیم عالم دین محقق شہیر جامع صفات النبیلہ حافظ ابو طاہر زبیر علی زئی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے اطلاع ملی کہ وہ اس فانی دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔یہ خبر ہر علم دوست شخص کے لئے انتہائی المناک تھی۔شیخ محترم رحمۃ اللہ علیہ پر فالج کااٹیک ہوا تھا،تقریباًڈیڑھ ماہ تک اسپتال میں زیرِ علاج رہے اور کبھی ہوش اور کبھی بے ہوشی کی اطلاعات ملتی رہیں۔ ملک کے طول و عرض میں شیخ رحمۃ اللہ علیہ کے لئے دعائیں ہوتی رہیں۔بلکہ وہ لوگ جو سرزمین مقدس میں فریضہ حج کے لئے بارگاہ الہی میں موجود تھے انہوں نے بھی شیخ رحمۃ اللہ علیہ کے لئے خصوصی دعائیں کیں۔بہر حال رب کو جو منظور تھا وہ ہی ہوا ،شیخ محترم شیخ اب اس دنیا فانی میں نہیں رہے۔اور کسی عالم کا اس دنیا سے رخصت ہونابہت بڑا سانحہ ہے،نقصان کے حوالہ سےخصوصاً ایسے عالِمِ دین کی موت پورے عالَم (جہاں) کی موت تصور کی جاتی ہے،رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: اللہ تعالیٰ لوگوں کے سینوں سے کھینچ کر اس علم کو نہیں اٹھائے گا،بلکہ یہ علم،علماء(حق)کے چلے جانے سے ختم ہوگا،حتی کہ وقت آئے گا کہ کوئی عالم باقی نہیں رہے گا۔لوگ اپنا سردار ،راہبر،راہنماجاہلوں کو بنا لیں گے،اُن (جاہلوں) سے سوالات پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے۔خود بھی گمراہ ہونگے اور لوگوں کو بھی گمراہ کرڈالیں گے۔ (صحیح بخاری :کتاب العلم،باب کیف یقبض العلم،حدیث نمبر: 100،صحیح مسلم :کتاب الزمان،باب رفع العلم و قبضہ و ظھر الجھل والفتن فی آخر الزمان،حدیث نمبر:  2673)

لہٰذا یقیناً شیخ رحمۃ اللہ علیہ ایک عالم ربانی تھے،ان کی وفات بروئے حدیث امت کے لئے ایک بہت بڑا سانحہ  ہے۔

شیخ رحمۃ اللہ علیہ کا نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں فضیلۃ الشیخ علامہ عبدالحمید ازہرصاحب حفظہ اللہ نے پڑھایا۔نماز جنازہ میں علماء،طلباء سمیت کثیر تعداد نے شرکت کی۔تقریباً دس ہزار سے زائد افراد آپ کے نماز جنازہ میں شریک تھے۔

راقم الحروف کو شیخ رحمۃ اللہ علیہ سے استفادہ و تلمذ کا شرف حاصل ہے کہ جب شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے مختصر دورہ اصولِ حدیث و علم الرجال کروایا تو شیخ رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت اور استفادے کے لئے اس دورہ میں شرکت کی۔یقیناً میرے لئے اس دورہ میں شرکت بڑے شرف کی بات تھی۔اس دوران کئی علمی موضوعات کے حوالے سے مختلف اشکالات و حل طلب باتیں شیخ رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے رکھیں، بالخصوص اصولِ حدیث سے متعلق بہت کم وقت میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ان دو دنوں میں شیخ رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کے حوالے سے جہاں تک جان سکا اور پھر بعد میں مزید جو معلومات ملی وہ سپرد قرطاس کردی ہیں۔

آخر میں ہم اپنے رب و معبودِ برحق کے حضور انتہائی عاجزی و انکساری سے یہ دعاء گو ہیں کہ رب العالمین شیخ الحدیث عالمِ ربانی حافظ زبیر علی زئی رحمۃ اللہ علیہ کواپے جوارِ رحمت  میں جگہ عطاءفرمائے،جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے اور امتِ مسلمہ کواس عظیم سانحہ پر صبر عطاء فرمائے اور شیخ رحمۃ اللہ علیہ کی دینِ حنیف کی سر بلندی کے لئے کی گئیں خدماتِ جلیلہ سے بھرپور استفادہ کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

وآخرُ دعوانا ان الحمدُ للہ رب العالمین

مصنف/ مقرر کے بارے میں

الشیخ حافظ محمد یونس اثری حفظہ اللہ