اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں(سماعت و بصارت)اور اُن کا شکر ادا کرنا

پہلا خطبہ :

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو بھلائی کرنے والا،بڑا ہی مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے، میں اس کی  نعمتوں اور بھلائیوں پر اسی کا شکر ادا کرتا ہوں۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہی اول ہے، وہی آخر ہے، وہی ظاہر ہے ، وہی باطن ہے اور وہی ہر چیز  کو بخوبی جاننے والا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور بہت ہی عمدہ اخلاق کے پیکر ہیں۔یا اللہ!  اپنے نبی اور رسول محمد ﷺ پررحمتیں اور سلامتی نازل فرما، اور انکی آل پر بھی۔ اور صحابہ و تابعین پر بھی، اور ان لوگوں پر بھی جو قیامت تک انکی پیروی کریں گے۔

حمد و ثناء کے بعد:

اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو۔

وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّـهِ ۖ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

البقرۃ – 281

“اور  ڈرو اس دن سے جس دن تم سب  اللہ کی طرف لوٹائے جاؤگےپھر ہر نفس نے جو کمایا ہوگا وہ اسے پورا دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں ہوگا “۔

اے مسلمانو!

سعادت مندی کی علامت:

نعمتوں کو اس طرح استعمال کرنا جس سے نعمتیں عطا کرنے والا (اللہ) راضی ہوجائے، اور ان نعمتوں کی بدولت ہی اللہ کا ڈر حاصل کرلینا، اور ان نعمتوں کوہر نیک کام  میں استعمال کیا جائے چاہے وہ نیکی  فوری طور پر ہو یا مستقبل میں،  یہ تمام باتیں انسان کی سعادت مندی کی واضح نشانیاں ہیں، کیونکہ اس نے عقلمند ہستیوں  کے راستے کو اختیار کیا۔

فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ

البقرۃ – 152

” تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا اور میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو “۔

شکر گزار سے اللہ  کا وعدہ:

اور یہ  ایک ایسا شکر ہے جس کے ذریعہ بندہ مزید  ان انعامات کا مستحق ہوجاتا ہے جن کا اللہ تعالی نے شکر کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ

إبراهیم – 7

” اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاہ  کر دیا کہ اگر تم شکرگزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیادہ دونگا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے “۔

آنکھوں اور کانوں کی اہمیت:

اگرچہ بندوں کو  اللہ سے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے لیکن اسلام کے بعد سب سے عظیم  نعمتیں سماعت، بصارت اور دل ہیں جن کا اللہ تعالی نے  قرآن مجید میں خصوصی ذکر کیا ہے۔

وَاللَّـهُ أَخْرَجَكُم مِّن بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

النحل – 78

” اللہ تعالٰی نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا ہے کہ اس وقت تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے،  اسی نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے  کہ تم شکر گزاری کرو ” ۔

اور اللہ رب العالمین نے ان نعمتوں کے شرف اور مقام کی وجہ سے  خصوصی تذکرہ فرمایا کیو نکہ یہ علوم کی کنجیاں ہیں، اور اللہ کا سیدھے راستہ دکھانے کا ذریعہ ہیں، اور انہی کے ذریعہ بندہ  با آسانی اپنے رب سے امیدوں اور امنگوں کو وابستہ کرسکتا ہے اور اچھے برے کی تمیز کرسکتا ہے۔

زبانی و عمل شکر:

اور اللہ رب العالمین نے ان نعمتوں کے ساتھ ساتھ اپنا شکر ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے اور زبانی شکر کے ساتھ ان  نعمتوں  کو اللہ کے حکم کے مطابق استعمال کرنے کا حکم ہے،اور اپنےجسم کے اعضاء کو اپنے اقوال و اعمال میں  استعمال کرتے ہوئے اللہ کی محبت اور رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا جائے۔ اور خالق و مولی کی اطاعت کی جائے تو اس عملی شکر کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بندے کے سارے اعمال خالص اللہ کے لئے ہوجائیں گے اور وہ صرف وہی بات سنے گا اور صرف وہی چیزیں دیکھے گا جنہیں اللہ سبحانہ و تعالی نے جائز قرار دیا ہے۔

فرائض و نوافل(عملی شکر ) کی فضیلت:

اس کی تفصیل صحیح بخاری کی اس حدیث میں مذکور ہے:

عن أبي هريرة – رضي الله عنه – أن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – قال: «إن الله قال: من عادَى لي وليًّا فقد آذنتُه بالحربِ، وما تقرَّبَ إليَّ عبدي بشيءٍ أحبَّ إليَّ مما افترضْتُ عليه، وما يزالُ عبدي يتقرَّبُ إليَّ بالنوافِلِ حتى أُحِبَّه، فإذا أحببتُه كنتُ سمعَه الي يسمعُ به، وبصرَه الذي يُبصِرُ به، ويدَه التي يبطِشُ بها، ورِجلَه التي يمشي بها، وإن سألَني لأُعطِيَنَّه، وإن استعاذَني لأُعِيذَنَّه ..»

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا :  بیشک اللہ تعالی نے فرمایا: جس نے میرے ولی سے دشمنی کی  تو میں  اس سے اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔ اور میرے نزدیک میری محبوب ترین چیز میرے فرائض ہیں جن کے ذریعہ ہی میرا بندہ میرا قرب حاصل کرتا ہے۔ اور میرا بندہ مسلسل نوافل کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب  بنا لیتا ہوں۔اور جب میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اس کی وہ سماعت بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور اس کی وہ نگاہیں بن جاتا ہوں جن سے دیکھتا ہے، اور اس کا وہ ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کے وہ قدم بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے، اور جب بھی وہ مجھ سے مانگتا ہے میں اسے ضرور نوازدیتا ہوں، اور  جب بھی وہ میری پناہ طلب کرتا ہے میں اسے پناہ دے دیتا ہوں۔

بصیرت کا تقاضہ:

یہ  کتنا بہترین نتیجہ ہے، اور کتنی عظیم و مکمل  جزا ہے، اور کیا ہی خوب  ہوگا کہ ہر ذی شعور  اور اپنے لئے خیرخواہی  چاہنے والے انسان  کی یہی خواہش ہو تاکہ وہ سعادت و کامیابی کو حاصل کرسکے اور اپنے نفس کا تزکیہ(پاکیزہ) کرکے اسے جہنم کی آگ سے آزاد کردے۔

نعمتوں کا غلط استعمال:

اس کے برعکس: جو شخص ان نعمتوں کو ان کاموں میں استعمال کرے جن سے اللہ ناراض ہوتا ہے، اور حرام چیزوں کو دیکھے، اور ناجائز چیزیں سنے، جیساکہ  ٹی وی چینلز،یا  فحش میگزین وغیرہ ، یا ناجائز کاموں والی جگہیں ، یا انٹرنیٹ کی غلط سائٹس، تو یقینا اس نے  ان   نعمتوں کا ناجائز استعمال کیا۔ اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری اور انکار  کیا، اور  جانتے ہوئے بھی یہ بات بھلانے کی کوشش کی کہ آنکھوں کا زنا  (حرام چیزوں کو ) دیکھنا ہے، اور کانوں کا زنا (حرام چیزوں کو) سننا ہے۔ جیسا کہ ہمارے پیارے اور سچے رسول ﷺ نے خبر دی ہے جو صحیح بخاری و مسلم  میں ہے۔

ناشکری  کرنے اور توبہ نہ کرنے کا انجام:

اور اگر وہ ان برائیوں پر ڈٹا رہا اور توبہ نہیں کی تو اس نے اللہ کے غصہ کو دعوت دی، اور گناہ کی فوری سزا کا مستحق ٹھہرا، اور اس طرح بندے اور اس کے رب تبارک و تعالی  کے درمیان کا رابطہ منقطع ہوجاتا ہے۔

جیسا کہ ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا ہے:

“وإذا وقعَت القطيعةُ انقطَعت عنه أسبابُ الخير، واتَّصَلت به أسبابُ الشر؛ فأيُّ فلاحٍ وأيُّ رجاءٍ وأيُّ عيشٍ لمن انقطَعت عنه أسبابُ الخير، وقَطَع ما بينه وبين وليِّه ومولاه الذي لا غِنى له عنه طرفَة عينٍ، ولا بُدَّ له منه، ولا عِوَض له عنه، واتَّصَلت به أسبابُ الشر، ووصل ما بينه وبين أعدَى عدوٍّ له، فتولاَّه عدوُّه وتخلَّى عنه وليُّه، فلا تعلمُ نفسٌ ما في هذا الانقطاع والاتِّصال من أنواع الآلام وأنواع العذاب”.

اور اگر اللہ اور بندے کے درمیان رابطہ منقطع  ہوجائے تو خیر کے اسباب بھی منقطع ہوجاتے ہیں اورشر کے اسباب خیر کی جگہ لے لیتے ہیں، اور جس کے اسبابِ خیر ہی منقطع ہوگئے تو اس کی کامیابی، امیدیں اور زندگی کی راحت سب کچھ ختم ہوجاتا ہے کیونکہ اس نے خود ہی اپنے کارساز اور مددگار  سے رابطہ ختم کیا جس کی مدد اور نصرت کے بغیر اس کے پاس کوئی چارہ نہیں، اور نہ ہی اس کے سوا کوئی اور ذات ہے جواس کی مدد کرسکے۔

اور جب برائی کے اسباب اس سے منسلک ہوجاتے ہیں تو وہ اپنے بدترین دشمن سے دوستی کربیٹھتا ہے، اور اس کا دشمن دوست بن جاتا ہے، اور اس کا دوست اسے چھوڑ دیتا ہے، اور پھر مت پوچھئے کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟ تکلیفوں اور عذاب  کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

اور جب برائی کے اسباب اس سے منسلک ہوجاتے ہیں تو وہ اپنے بدترین دشمن سے دوستی کربیٹھتا ہے، اور اس کا دشمن دوست بن جاتا ہے، اور اس کا دوست اسے چھوڑ دیتا ہے، اور پھر مت پوچھئے کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟ تکلیفوں اور عذاب  کے سوا کچھ نہیں ملتا۔اور یہ بہت بڑی سزا ہے۔

ناشکری  کے نقصانات:

اس کے نقصانات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ان وجوہات کی بناء پر اللہ اس  شخص کو (اس کے حال پر)  چھوڑ دیتا ہے، اور وہیں سے ہلاکت شروع ہوجاتی ہے جس سے نجات ممکن نہیں، بلکہ اس کی وجہ سے نعمتیں زائل ہوجاتی ہیں اورمصیبتیں گھیرلیتی ہیں۔ اور گناہوں کی وجہ سے ہی بندے سے نعمت چھین لی جاتی ہے اور عذاب نازل ہوتا ہے۔اور دل کمزور اور بیمار ہوجاتا ہے، بصیرت چلی جاتی ہے، عزت مٹ جاتی ہے، ذلت و رسوائی ، پلیدگی اور حقارت  چھاجاتی ہے۔شرف و کمال چھن جاتا ہے،بدنامی اور رسوائی  کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لوگوں کی نظروں سے گِر جاتا ہے، عمر، رزق اور عمل میں برکت ختم ہوجاتی ہے۔اور اسی طرح  ہر گناہ کا یہی حال  اور اثر ہے، اور دین و دنیا  میں  بھی اس کا نقصان ہے۔

اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، اور اللہ کی نعمتوں کے شکر کے لئے اچھے اعمال کرو، خاص طور پرسماعت اور بصارت جیسی عظیم نعمتوں کا  اللہ کے حکم کے مطابق صحیح استعمال کرو تاکہ  قیامت کے دن شکر گزار اور کامیاب لوگوں  میں تمہارا شمار ہو۔

کتاب و سنت پر عمل کرنے کی دعا:

اللہ تعالی مجھے اور آپکو اپنی کتاب اور نبیﷺ کی سنت کے ذریعہ نفع پہنچائے،میں یہ بات کہہ رہا ہوں اور اللہ ذوالجلال والاکرام سے اپنے لئے اور آپ سب کے لئے  اور تمام مسلمانوں کے لئےہر گناہ کی مغفرت مانگتا ہوں، بیشک وہ بہت ہی زیادہ معاف کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

یقینا ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے، ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں اور اس سے مدد مانگتے ہیں  اور اسی سے بخشش مانگتے ہیں، اور اپنے نفس کے شر سے اور برے اعمال سے  اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا،  اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اسکا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ یا اللہ!  اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر اور انکی آل پر اور انکے صحابہ پر رحمتیں اور سلامتی نازل فرما۔

حمد و ثنا کے بعد:

نعمتوں کے غلط استعمال کے نقصانات

۱ـ برکتوں  کا ختم ہو جانا:

اے اللہ کے بندو!

بیشک اللہ  کا ہر نافرمان بندہ اللہ کی نعمتوں کا غلط استعمال کرکے اللہ کو ناراض کردیتا ہے۔اور اس کی عمر،رزق،علم و عمل اور دین و دنیا کی برکتیں مِٹ جاتی ہیں۔

۲ـ شیطان کا غلبہ:

جیسا کہ بعض اہلِ علم نے فرمایا ہے، کیونکہ اس پر اور اس کے اہل و عیال پر اور دوستوں پر شیطان مسلّط اور غالب ہوجاتا ہے،  اور ہر وہ چیز جس کا شیطان کے ساتھ  تعلق اور  قربت بڑھتی رہے گی اتنی ہی برکت مٹتی  چلی جائے گی۔

ہر اچھے کام سے پہلے اللہ کا نام لینا:

اسی لئے کھانے ،پینے ، کپڑے پہننے، سواری کرنے اور گھر میں داخل ہونے (وغیرہ) کے وقت اللہ کا نام لینے کا حکم ہے، کیونکہ اللہ کا نام لینے سے برکت نازل ہوتی ہے اور شیطان بھاگ جاتا ہے، اور ہر وہ کام جواللہ کے نام سے نہ ہواس سے برکت ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ ایک اللہ ہی ہے جو برکتوں سے نوازتا ہے، اور تمام برکتیں اسی کی دین ہیں، اور جس چیز کی بھی نسبت اللہ کی طرف ہوگی وہ بہت بابرکت ہوگی۔اور ہر وہ  فرد،قول و عمل جسے  اللہ نے اپنے آپ سے دور کردیا ہو اس میں کوئی برکت نہیں، اور اللہ تعالی نے اپنے دشمن ابلیس پر لعنت کی اور اسے سب سے  زیادہ دور کردیا، اور اصول کی بات بھی یہی ہے کہ جو شخص جتنا زیادہ شیطان کے قریب ہوگا اتنی ہی زیادہ لعنت کا مستحق ہوگا۔

گناہوں کا اثر:

ہمیں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ عمر،  رزق اور علم و عمل میں  برکت ختم ہونے میں گناہوں کا بہت بڑا دخل ہے۔اور ہر وہ وقت، مال، بدن، مقام، علم اور عمل جس میں اللہ کی نافرمانی ہوئی ہو وہ وبال بن جائےگا اور  عافیت اسی میں ہے کہ اللہ کی اطاعت کی جائے تاکہ عمر، مال، قوت، شرف، علم اور عمل  سے صحیح فائدہ حاصل کرسکیں۔

جنت کا حصول اور نبی ﷺ پر درود:

اللہ کے بندو!

اللہ سے ڈرو، اور اللہ کی تمام نعمتوں کے ذریعہ اس کی فرماں برداری پر مدد حاصل کرو اوراسے اپنی عمر، اعمال، رزق اور جنت کی ہمیشہ کی نعمتوں  کے حصول کا سبب (وسیلہ) بناؤ۔اور ہمیشہ یاد رکھو کہ اللہ تعالی نے تمہیں آخری نبی پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے جوکہ متقیوں کے امام اور تمام جہانوں کے لئے رحمت ہیں۔

إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

الاحزاب – 56

” اللہ تعالٰی اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو ” ۔

یا اللہ! اپنے بندے اور رسول  محمد ﷺ پر رحمتیں اور سلامتی نازل فرما، اور چاروں خلفاء ابو بکر و عمر و عثمان و علی  سے راضی ہوجا۔ اور آل و اصحاب اور تابعین سے بھی راضی ہوجا، اور ان سے بھی راضی ہوجا جوقیامت تک ان کی پیروی کریں گے، اور ان کے ساتھ ساتھ اپنی مہربانی، کرم اور بھلائی کے ذریعہ ہم سے بھی  راضی ہوجا۔اے سب سے زیادہ کرم کرنے والے۔

تمام مسلمانوں کے لئے دعائیں:

اے اللہ! اے تمام جہانوں کے رب!  اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔  دین کے احکامات کی حفاظت فرما۔  دین کے دشمنوں  اور تمام سرکش و فساد کرنے والوں کو نیست و نابود کردے۔  مسلمانوں کے دلوں میں الفت پیدا فرما۔ انکی صفوں کو ایک کردے۔ انکے قائدین کی اصلاح فرمادے۔ اور انہیں  حق بات پر متفق فرمادے۔

یا اللہ! اپنے دین اورکتاب  کی حفاظت  فرما اور اپنے نبی محمد ﷺ کی سنت کی حفاظت فرما۔ اور اپنے سچے مومن مجاہدین بندوں کی مدد فرما۔

حکمرانوں کی اصلاح کیلیے دعائیں:

یا اللہ ! ہمارے وطنوں میں ہماری حفاظت فرما، اور ہمارے ائمہ اور امیر المومنین کی اصلاح فرما اور حق کے ذریعہ ان کی مدد فرما۔انہیں نیک رفقاء کی صحبت عطا فرما۔ اے دعا کو بخوبی سننے والے! انہیں ہر اس قول و عمل کی توفیق دے جس سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ یا اللہ! ہمارے امیر اور اس کے وزیر اور اس کے بھائیوں (عہدے داران) کو ان کاموں کی توفیق دے جن میں اسلام اور مسلمانوں کے  لئے خیر ہو، اور جن (کاموں ) میں تمام لوگوں اور شہروں کی بھلائی ہو۔

دین و دنیا کی بھلائی کی دعائیں:

یا اللہ! ہمارے تمام معاملات کا انجام بہتر فرما، اور دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا۔

یا اللہ! ہمارے دین کی اصلاح فرما جو ہمارے معاملات میں  عصمت (گناہوں سے بچنے) کا باعث ہے۔اور ہماری دنیا کو بھی سنوار دے جو ہمارے لئے ذریعہء معاش ہے۔اور ہماری آخرت بھی بہتر فرما جس میں ہمارا انجام ہے۔ اور ہموری زندگی کو نیکیاں  زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کا ذریعہ بنادے، اور موت کو ہر برائی سے راحت کا ذریعہ بنادے۔

یا اللہ ! ہم تیری نعمتوں کے ختم ہونے سے تیری پناہ مانگتے ہیں، اور تیری عافیت کے پلٹ جانے سے، اور اچانک تیری سزا سے، اور تیرے غصہ سے۔

یا اللہ ! ہم تجھ سے  بھلائی کے کام کرنے ،  برائیوں کو چھوڑنے  اور  مسکینوں  سے محبت کرنے کی توفیق مانگتے ہیں۔اور بخشش اور رحمت کی دعا کرتے ہیں۔اور اگر  کسی قوم کو عذاب دینے کا ارادہ ہو تو ہمیں  آزمائش میں مبتلا ہونے سے پہلے ہی اپنے پاس بلالینا ۔

یا اللہ! ہمارے مریضوں کو شفا عطا فرما، اور فوت شدگان کی مغفرت فرما، اور ہماری خواہشوں کواپنی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بنادے۔

دشمنانِ اسلام پر بددعائیں:

یا اللہ! جس طرح تو چاہے ہمارے لئے  اپنے اور ہمارے دشمنوں کے مقابلے میں کافی ہوجا۔  یا اللہ! یا رب العالمین!   جس طرح تو چاہے ہمارے لئے  اپنے اور ہمارے دشمنوں کے مقابلے میں کافی ہوجا۔ یا  اللہ! ہم تجھے ہی ان کے مقابلے میں کرتے ہیں  اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ یا  اللہ! ہم تجھے ہی ان کے مقابلے میں کرتے ہیں  اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ یا  اللہ! ہم تجھے ہی ان (دشمنوں)  کے مقابلے میں کرتے ہیں  اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔

مجاہدین  اور مظلومین کے لئے دعائیں:

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے رب!  ہر جگہ مسلمانوں کے گھروں اور وطنوں میں انکی  حفاظت فرما۔

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے رب! سوریا میں انکی حفاظت فرما، فلسطین میں ان کی حفاظت فرما، برما میں انکی حفاظت فرما، اور تمام مسلمان ممالک کی  حفاظت فرما۔

یاللہ! اے تمام جہانوں کے رب! اپنے اور ان  (مسلمانوں) کے دشمنوں کے مقابلے میں ان کی مدد فرما۔

یا اللہ ! انکی مدد فرما۔

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے رب!  ان کے  زخمیوں کو شفا عطا فرما، ان کے فوت شدگان پر رحم  فرما، انکے مقتولین کو شھادت کا درجہ عطا فرما۔

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے رب! ان کے شدتِ بھوک سے نڈھال لوگوں کو کھانا عطا فرما۔ یا اللہ! وہ کپڑوں کے محتاج ہیں انہیں کپڑے عطا فرما۔

یا اللہ! اپنی رحمت سے انکی مصیبت کو دور فرمادے۔

رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ

الاعراف – 23

” دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے ” ۔

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ

آل عمران – 8

” اے ہمارے رب!  ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بڑی عطا دینے والا ہے “۔

رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

” اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں نیکی دے  اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور عذاب جہنم سے نجات دے “۔

اور اللہ  اپنے بندے اور رسول ہمارے نبی محمدﷺ اور انکی آل اور تمام صحابہ پر رحمتیں اور سلامتی  بھیجے، اور ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

***

مصنف/ مقرر کے بارے میں

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر اُسامہ خیاط حفظہ اللہ