بری مجلس میں شرکت

پہلا خطبہ:

اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔

مسلمانوں!

اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ

ۤآل عمران – 102

اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔

مسلمانوں!

نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔

 إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا

أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ مِنْ بَوَادِيْهَا

لیلی اور اس کی پڑوسن سے سلامتی اسی میں ہے کہ تم ان کے علاقے کی کسی وادی سے بھی مت گزرو۔

دل بہت کمزور ہوتے ہیں۔ کسی کی مشابہت اپنانے سے انسان ویسا ہی بن جاتا ہے، فتنے ٹھاٹھے مار رہے ہیں۔ صاحب بصیرت انسان ایسے لوگوں کی مجلس میں جانے سے اجتناب کرتا ہے جو دلوں کو بیمار کر دیں اور ایمان بگاڑ دیں۔ بصیرت رکھنے والا انسان فتنے میں مبتلا گمراہ لوگوں سے خبردار رہتا ہے، جو کہ صحیح عقیدے سے بھٹک چکے ہوں، جو لوگ اچھے اور پر وقار کاموں اور مسلمانوں کی اخلاقیات سے دور ہو چکے ہوں۔

إِذَا أَنْتَ لَمْ تَسْقَمْ وَصَاحَبْتَ مُسْقَمًا

وَكُنْتَ لَهُ خِدْنًا فَأَنْتَ سَقِيْمٌ

اگر تم بیمار نہ بھی ہوں ؛ لیکن بیمار سے دوستی لگا کر تم اس کے یار بن گئے تو تم بھی بیمار ہو چکے ہو۔

 اگر کوئی لوگوں کی کسی مجلس میں بیٹھا ہو اور وہاں کوئی نافرمانی ، یا بدعت پر عمل کیا جا رہا ہو تو ایسے میں اس پر حکمت اور اچھے انداز کے ساتھ انہیں غلطی سے روکنا واجب ہو جاتا ہے، اسے چاہیے کہ انہیں بہترین انداز اور حق واضح کر دینے والے دلائل کے ساتھ نصیحت کرے تا کہ ان کے شبہات زائل ہو جائیں۔ اور اگر اس شخص نے انہیں ٹوکنے کی استطاعت کی باوجود نہیں ٹوکا تو وہ بھی گناہ میں شریک ہو گا؛ لیکن اگر اس میں ٹوکنے کی بھی سکت نہ ہوئی تو اس پر ان کی مجلس سے اٹھ جانا لازم ہے؛ کیونکہ کسی کی صحبت اور کسی کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا؛ الفت ، میلان اور غلطیوں سے چشم پوشی کرنے کا موجب بنتے ہیں۔ بلکہ بسا اوقات دل میں ایسی مودت کا باعث بھی بن جاتے ہیں جو انسان کو آزمائش میں ڈال کر رہتی ہے۔

جیسے کہ عمرو بن قیس کہتے ہیں: “گمراہ کی مجلس میں مت بیٹھو؛ مبادا تمہارا دل بھی گمراہ ہو جائے”۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّـهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا

النساءٰ – 140

 اور تم پر اللہ تعالی نے کتاب میں نازل کر دیا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو تم ان کے ساتھ بھی مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ کسی اور گفتگو میں محو ہو جائیں، وگرنہ تم بھی انہی میں سے ہو جاؤ گے، بیشک اللہ تعالی سب منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ اکٹھے کرنا والا ہے۔

امام طبری رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں: “اس آیت میں واضح طور پر بدعتی اور فاسق ہمہ قسم کے اہل باطل کے ساتھ بیٹھک کی ممانعت ہے کہ جب وہ اپنے باطل کا تذکرہ کر رہے ہوں تو ان کے ساتھ مت بیٹھو”۔

اسی طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ” کسی کے لیے بھی اپنی مرضی سے اور بغیر ضرورت کے گناہوں کی مجالس میں شریک ہونا جائز نہیں ہے؛ جیسے کہ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے تو وہ ایسے دستر خوان پر مت بیٹھے جہاں شراب پی جا رہی ہو ) ۔

ایسے ہی سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ تک یہ بات پہنچائی گئی کہ :”کچھ لوگ شراب نوش ہیں تو انہوں نے انہیں کوڑے مارنے کی سزا سنائی ، تو انہیں بتلایا گیا: ان میں ایک روزے دار بھی ہے، تو انہوں نے کہا: سب سے پہلے اسی کو کوڑے مارو؛ کیا تم نے اللہ تعالی کا یہ فرمان نہیں سنا:

وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّـهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا

النساء – 140

 اور تم پر کتاب میں نازل کر دیا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو تم ان کے ساتھ بھی مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ کسی اور گفتگو میں محو ہو جائیں، وگرنہ تم بھی انہی میں سے ہو جاؤ گے۔

یہاں سیدنا عمر بن عبد العزیز -اللہ ان سے راضی ہو- نے یہ بتلا دیا کہ اللہ تعالی نے برائی کے وقت حاضر شخص کو بھی برائی کرنے والے کے برابر قرار دیا ہے، اسی لیے علمائے کرام کہتے ہیں کہ: اگر کسی کو کسی دعوت پر بلایا جائے اور وہاں پر شراب نوشی اور موسیقی جیسی خرابی کا اہتمام ہو تو ایسی دعوت میں حاضر ہونا جائز نہیں ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں حسب استطاعت برائی سے روکنے کا حکم دیا ہے؛ لہذا اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے ایسی مجلس میں حاضر ہو اور وہ برائی پر نہ ٹوکے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی؛ اس لیے کہ اس نے برائی سے اظہار نفرت نہیں کیا اور اس سے روکا بھی نہیں حالانکہ اسے برائی سے نفرت اور ٹوکنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تو اگر معاملہ ایسا ہی ہے کہ شراب نوشی کی مجلس میں کوئی شخص اپنی مرضی سے ضرورت کے بغیر حاضر ہوا اور اس نے اللہ تعالی کے حکم کے مطابق برائی پر ٹوکا تک نہیں تو وہ ان فاسقوں کی برائی میں عملاً شریک ہے اور وہ انہی میں جا ملے گا۔” شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول مکمل ہوا

مسلمانوں!

اہل بدعت، اہل باطل اور گناہگاروں کی تعداد میں اضافے کا باعث نہ بنو، کبھی بھی تمہارا شمار ان لوگوں میں نہ ہو جو فتنوں میں مبتلا ہیں اور فسادی ہیں۔ جیسے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ : ” مسلمانوں میں سے کچھ لوگ مشرکین کے ساتھ مل کر رسول اللہ ﷺ کے خلاف جنگ میں حاضر ہو کر مشرکوں کی تعداد میں اضافے کا باعث بنتے تھے، تو انہی میں سے کسی کو کوئی تیر لگ جاتا اور مشرکوں کے ساتھ آنے والا مسلمان قتل ہو جاتا، یا کوئی مسلمان اس پر وار کر کے اسے قتل کر دیتا تو اللہ تعالی نے یہ آیات نازل فرما دیں:

إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ

النساء – 97

 بیشک فرشتے ایسے لوگوں کی روح قبض کرتے ہیں جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہوتے ہیں۔(حدیث، صحیح البخاری)

لہذا اگر کوئی شخص برائی کی مجالس میں حاضر ہو کر ان سے مانوس ہوتا ہے، ان کی حرکتوں پر خوش ہوتا ہے، یا ان کے کام کو سراہتا ہے، یا ان کے کام کی ترویج کرتا ہے ، یا ان کی تائید کرتا ہے، یا گمراہ ویب سائٹس کی تائید کرتا ہے، یا حیا باختہ ویب سائٹس کے صفحات ، یا دین، اخلاق اور ملکی سالمیت کے خلاف ویب سائٹس کی تائید کرتا ہے، یا ان کو لائک کی علامت دیتا ہے تو وہ بھی ان کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے اور اس کا شمار اُنہی برے لوگوں میں ہو گا۔

میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگو، بیشک وہ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔

 دوسرا خطبہ:

ہمہ قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے، جو پناہ طلب کرنے والوں کو پناہ دیتا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ، وہ صحت یابی سے مایوس ہونے والوں کی بھی شفا دیتا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی اُن پر، انکی آل، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں ،دائمی سلامتی، اور برکتیں نازل فرمائے۔

حمدو صلاۃ کے بعد:

مسلمانوں! تقوی الہی اختیار کرو، اور اللہ تعالی کو اپنا نگہبان جانو، اسی کی اطاعت کرو، اور نا فرمانی مت کرو۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ

التوبة – 119

اے ایمان والو! تقوی الہی اختیار کرو، اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔

مسلمانوں!

اپنے گناہوں کی تشہیر مت کرو، اپنے گناہوں کا اعلان مت کرو، اللہ تعالی کی حرام کردہ چیزوں کو حلال مت جانو۔ متساہل اور نام نہاد فقیہوں کے فتووں سے دھوکا مت کھائیں جو بلا یقین اور پختگی کے بغیر فتوے صادر کرتے ہیں، اور آسانی، وسطیت اور اعتدال کے نام پر پستی کی طرف گرتے چلے جا رہے ہیں!!

اپنے گناہ کو عیاں اور گناہ کی تشہیر کرنے والا شخص پروردگار کو غضبناک کر رہا ہے، وہ اللہ تعالی کی پردہ پوشی ختم کر رہا ہے، ایسا شخص اللہ تعالی کے عذاب کو معمولی سمجھ رہا ہے، اس نے اعلان گناہ کر کے اللہ کے مومن بندوں کو تکلیف پہنچائی ہے۔

اہل اسلام! اللہ تعالی سے ڈور! فراوانی اور نعمتوں کی بہتات سے دھوکا مت کھانا، اللہ تعالی کی عنایتوں کو اسی کی نافرمانیوں میں استعمال نہ کرو، اپنے گناہوں کا اعلان نہ کرو، اللہ تعالی نے تمہیں فراوانی والی زندگی عطا کی ہے، پینے کیلیے سیراب کرنے والا پانی دیا، حالانکہ تمہارے ارد گرد لوگوں بھوک افلاس اور بے دردی کی موت قتل کر رہی ہے۔

احمد الہادی، شفیع الوری ، نبی ﷺ پر بار بار درود و سلام بھیجو، (جس نے ایک بار درود پڑھا اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا)

یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد پر درود و سلام نازل فرما، یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین، تمام صحابہ کرام، اہل بیت اور تابعین و تبع تابعین سے راضی ہو جا، اور ان کے کیساتھ ساتھ ہم سے بھی راضی ہو جا، یا کریم! یا وہاب!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! دین دشمن قوتوں کو نیست و نابود فرما، اور تمام مسلم ممالک کو مستحکم، مضبوط اور امن و امان کا گہوارہ بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، ان کی پیشانی سے پکڑ کر نیکی اور تقوی کے کاموں کے لیے رہنمائی فرما، یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو صرف وہی کام کرنے کی توفیق عطا فرما جس میں اسلام اور مسلمانوں کا فائدہ ہو، یا رب العالمین!

یا اللہ! سرحدوں پر مامور ہماری افواج اور مجاہدین کو غلبہ عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! سکیورٹی فورس کے جوانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! سکیورٹی فورس کے جوانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! انہیں بہترین صلہ اور بدلہ عطا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! تمام پریشان مسلمانوں کی پریشانیاں ختم فرما، تمام مسلمان فوت شدگان پر رحم فرما، قیدیوں کو رہا فرما، اور ہم پر جارحیت کرنے والوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔ یااللہ! ہماری دعاؤں کو قبول فرما، یا اللہ! ہماری دعاؤں کو اپنی بارگاہ میں بلند فرما، یا کریم! یا رحیم! یا عظیم!

مصنف/ مقرر کے بارے میں

  فضیلۃ الشیخ جسٹس صلاح بن محمد البدیر حفظہ اللہ