اصلاحِ نفس و معاشرہ

دینی و دنیاوی تعلیمی اداروں کی تقسیم کیوں؟

دین اسلام دینِ مساوات ہے۔ جس میں کسی دنیاوی بنیاد پر کسی شخص کو فوقیت نہیں دی گئی ،بلکہ سب  انسان ہونے کے ناطے برابر ہیں، اور اس برابری کو قرآن مجید و احادیث نبویہ میں بارہاں بیان کیا گیا ہے۔جیسا کہ سورۃ الحجرات میں ہے :

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ

الحجرات – 10

’’مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘

آپ  ﷺنے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا:’’ کسی کالے کو گورے پر ،گورے کو کالے پر کوئی فوقیت نہیں۔‘‘ ایک حدیث میں فرمایا :

ان اللہ لا ینظر الی صورکم و اموالکم ولکن ینظر الی قلوبکم و اعمالکم

’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہاری شکل و صورت اور مال و دولت کی جانب نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔ ‘‘[2]

 نبی ﷺ کے پاس ایک مسئلہ چوری کے حوالے سے آیا اور چوری کرنے والی عورت کا تعلق ایک اونچے گھرانے ،بنو مخزوم قبیلےسے تھا ۔ اس لئے آ پ ﷺ کے سامنے سفارش کی گئی کہ اسے معاف کردیا جائے، آپ ﷺ نے فرمایا:’’ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘ [3] آپ ﷺ کے اس فرمان میں یہ سبق موجود ہے کہ نفاذ حدود میں تقسیم و تفریق کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ 

یہ دین اس قدر مساوات کے اصولوں پر قائم ہےکہ اس میں کسی بھی قسم کی طبقاتی تقسیم کی کوئی گنجائش نہیں، خواہ وہ لسانی ہو یا کسی اور بنیاد پر۔اسلام کے قوانین ، اصول و ضوابط تمام افراد کے لئے ہیں۔ اور اسی طرح تعلیم کا معاملہ ہے۔ کہ قرآن مجید خود تعلیم کے حصول کی دعوت دیتا ہے، مگر اس کے حصول میں کوئی تقسیم اس طور پر نہیں کرتا کہ کسی خاص طبقہ ،علاقہ ، قوم ، ذات تک اسے محدود کردیا جائے ۔بلکہ اس کی تعلیمات میں بھی عموم ہے یعنی اس کی تعلیمات  سب کے لئے ہیں اور ان تعلیمات کے حصول میں  بھی عموم ہے جو چاہے سیکھے ،جہاں چاہے سیکھے، اس حوالے سے کسی قسم کی تقسیم و تفریق کا دین اسلام میں تصور تک نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں آج تعلیم کے حوالے سے دو طرز منظر عام پر آچکے ہیں۔

(1) دنیاوی تعلیم(یہ الگ بات ہے کہ امیر و غریب اور سرکاری، غیر سرکاری اور دیگر تقسیمات میں  اس نظامِ تعلیم کو بھی بانٹ دیا گیاہے۔)

(2) دینی تعلیم  (امیر و غریب کی تقسیم میں تو اسے بانٹا نہیں گیا۔البتہ عقائد و نظریات میں اختلاف کی بنیاد پر وجود میں آنے والے مختلف مکاتب فکر کی حیثیت سے اس میں بھی تقسیم ضرور موجود ہے۔)

آج لوگ میڈیا پر مختلف قسم کی گتھیاں سلجھانے میں مصروف ہیں۔ کبھی نظامِ تعلیم کے حوالے سے خامیوں پر بات کی جاتی ہے،تو کبھی اس حوالے سے ہر شخص اپنی فکر کے مطابق تجاویز دیتا ہے،کبھی کوئی اس کا ذمہ دار حکومت کوٹھہراتا ہے۔تو کبھی کوئی وسائل کے رونے روتا ہے۔ اور کبھی مجموعی طور پر دینی اور دنیاوی تعلیم میں فرق کی آواز لگائی جاتی ہے۔ اور ان کے درمیان تقابل کیا جاتا ہے۔اور کوئی کھلے لفظوں میں ،کوئی غیر محسوس انداز میں دینی مدارس پر انگلیاں اٹھاتا ہے۔ مشورے و تجاویز دینے والے لوگ یہ راگ بھی الاپتے ہیں کہ یہ دنیاوی تعلیم کو دینی مدارس میں بھی ہونا چاہئے۔ یہ الگ بات ہے اس کےدوسرے رخ پر روشنی ڈالنے سے اجتناب کیا جاتا ہے،کہ اس دینی تعلیم کو کما حقہ ہر لیول (Level)کی دنیاوی تعلیم کے ساتھ لازم ہونا چاہئے۔ بہرحال اس تمام تر گہما گہمی اور گرما گرمی میں ایک موضوع کہیں نظر نہیں آتا اور وہ یہ ہےکہ بحیثیت مسلم ہم ذرا اس موضوع کو اس نظر سے دیکھیں کہ کیا اوائل اسلام کے دور میں اس طرز کی تقسیم موجود تھی کہ ایک طرف دنیاوی یونیورسٹیاں قائم کردی جائیں اور دوسری طرف  دینی مدارس؟؟اور  یونیورسٹی میں وہ جائے جو یورپ سے متاثر ہے اور مدرسہ میں وہ جائے جو دین سے متاثر ہے۔ کیا اس طرح کی کوئی تقسیم موجود تھی ؟؟زیر نظر  تحریر میں ان شاء اللہ ہم اسی تقسیم کی حقیقت پر روشنی ڈالیں گے۔

یہ بات واضح ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ان کالجز اور یونیورسٹیز کی تعلیمات کےمقصد کو اگر دو لفظوںمیں بیان کیا جائے،تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ اُن علوم و فنون کا علم جس کے ذریعے سے ہم دنیاوی طور پر ترقی کی راہ پر گامزن ہوںاور امرِ واقع یہ ہےکہ آج یونیورسٹی کا طالب علم اسی واحد مقصد کے حصول کے لئے حد درجہ مستغرق ہے اور اس نشے میں ازسر ہی دینی تعلیم سےدوری  اختیار کئے ہوئے ہے۔ اور اب معاملہ یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ آج کا یہ یونیورسٹی کا طالب علم صرف نام کا ہی مسلمان رہ گیا اور دینی مبادیات سے بھی مکمل طور پر ناآشنا ہے۔

ہمارا یہ سوال کہ  کیا اوائل زمانہ میں دینی و دنیاوی تعلیمی اداروں کی تقسیم تھی؟ جواب اس کا یہ ہےکہ اس قسم کی کوئی تقسیم نہیں تھی۔ اور نہ ہی یہ تقسیم کسی طور صحیح ہے۔ دور ِاوائل میں مسلمان جہاں دینیات سے مکمل شغف رکھتے تھے، وہیں وہ دنیاوی علوم و فنون میں ، بدرجہ اتم مہارت رکھتے تھے،خواہ دنیاوی علوم و فنون سے متعلقہ کوئی بھی عنصر ہو، کسی عنصر کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مسلمان اس سے نا آشنا تھے، اور یہاں یہ بات بھی واضح کی جاتی ہے کہ دین اسلام دنیاوی علوم و فنون کو سیکھنے ،ان میں مہارت حاصل کرنے سے قطعاً نہیں روکتا، البتہ یہ ضرور ہے کہ جس علم و فن کی جو حیثیت ہے ، اسلام اس سے زیادہ اس کو حیثیت نہیں دیتا۔ مسلمانوں کا ان علوم و فنون میں بھرپور حصہ لینا، اور شریعت کا اس سے نہ روکنا اس بات کی دلیل ہے کہ دنیاوی تعلیم کو دین سے ماوراء نہیں سمجھا جا سکتا ۔مسلمانوں کا اس حوالےسے کس طرح سے حصہ رہا ہے؟ یہ درج ذیل نکات سے ثابت کئے دیتے ہیں۔

(1)مسلمانوں کی ایجادات:

ہمارے مؤقف کی تائید میں سب سے واضح مثال مسلمانوں کی ایجادات کی ہے۔ مسلمانوں کی ایجادات میں سےصرف ایک مثال جوکہ قرآن مجید سے ثابت ہونے کی وجہ سے سب سے بڑی مثال ہے اور وہ نوح علیہ السلام کی ہے جوکہ نبی بھی تھے اور نبی کی ذمہ داری دینی تربیت اور علم کو عام کرنا ہوتی ہے۔ اورنبی ہونے کے ساتھ ہی وہ ایک ایسی چیز کے مؤجد ہیں کہ ان سے پہلے اس قسم کی ایجاد کا وجود تک نہیں تھا۔اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سےاتنی بڑی کشتی بنائی تھی کہ جو نوح علیہ السلام کی قوم کے کئی افرادبلکہ مختلف مخلوقات کے  جوڑے اسی کشتی میں تھے اور یہ کشتی ان سب کے لئے کافی  و وافی تھی ۔تصور تو درکنار ، لوگ مذاق اڑاتے تھے، بلکہ قوم نوح کے لوگ مذاق اڑاتے ہوئے کشتی میں پاخانہ کرجاتے، مگر سیدنا نوح علیہ السلام نے کشتی تیار کی اور اتنی بڑی تھی کہ مختلف مخلوقات کے جوڑے اس میں آگئے۔اور مذاق اڑانے والے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق ٹھہرے اور سیدنا نوح علیہ السلام کی کشتی میں سوار ہونے والے اس عذاب سے محفوظ ہوگئے۔

یہاں قابل غو ر بات یہی ہے کہ سیدنا نوح علیہ السلام ایک نبی بھی ہیں اور ایک فن کے ماہر بھی ہیں،سائنسدان بھی ہیں۔اور یہ تو ایک ایسی ایجاد کا تذکرہ ہےجو قرآن مجید سے ثابت ہے،ورنہ مسلمانوں کی ایجادات پر مشتمل کتب منظر عام پر آچکی ہیں ۔ جس سے واضح ہوجاتا ہےکہ مسلمانوں کا اس حوالے سے بڑا حصہ رہا ہے۔ اور دین اسلام نے قطعاً اس تقسیم کی روش اختیار نہیں کی۔اور مختلف علوم و فنون کے حوالے سے مسلمانوں نے جو مہارت حاصل کی اور اس حوالے سے دلچسپی رکھی اس کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ چنانچہ چند ایک مثالیں درج ذیل ہیں۔

(2)مروجہ زبان کوسیکھنا:

آج ترقی پسند لوگ مروجہ زبان انگریزی کو سیکھنے کے بڑے دلدادہ ہیں ، اور انگریزی سیکھنے سکھانے کو اس طرح سے پیش کیا جاتا ہےکہ اس زبان کو مدارس میں نہ پڑھانے کی وجہ سے مدارس پر خوب تنقید کی جاتی ہے، عرض یہ ہےکہ وقت کی مروج زبان کو اس لئے سیکھنا کہ اس کے ذریعے سے دینی و دنیوی فوائد حاصل کئے جاسکیں ،شریعت اسے اچھی نظر ہی سے دیکھتی ہے، اور خود نبی ﷺ کے دور سے اس کی اصل موجود ہے،جیسا کہ نبی ﷺ نے زید بن ثابت کو عبرانی زبان سیکھنے کی ترغیب دلائی اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ  جوکہ کاتب وحی بھی ہیں اور اس دور کی معروف زبان کو بھی  آدھے مہینے میں سیکھ لیتے  ہیں۔[4]

جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو وقت کی مشہور زبان سیکھنے کی ترغیب دلائی تاکہ ان اقوام سے روابط اور ان تک دین اسلام بآسانی پہنچایا جاسکے نیز دیگر فوائد کو بھی حاصل کیا جاسکے۔

بعض دیگر صحابہ بھی مختلف زبانوں کو جانتے تھے اور انہوں نے مختلف زبانوں میں دین اسلام کی تبلیغ کا کام بھی کیا۔ خود نبی ﷺ نے بعض الفاظ کی اصل بتائی کہ یہ فلاں زبان کالفظ ہے۔

نبی ﷺ اور صحابہ کا دیگر زبانوں سے بھی واقفیت رکھنا یہ واضح کردیتا ہےکہ اسی بنیاد پر موجودہ دور میں مدرسے اور دنیاوی علوم کی یونیورسٹی کی تقسیم صحیح نہیں،یعنی دنیاوی علوم کی یونیورسٹی میں اس طرح کی زبانوں کو سیکھا جائے اور مدارس میں دین۔

(3)کتابت:

کئی ایک کاتبین ِوحی کتابت کے فن سے واقف تھےیہی وجہ ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کی احادیث کو لکھا۔ مثلاً عبداللہ بن عمرو بن عاص ،امیر معاویہ ،علی رضی اللہ عنہم ،اور سیدنا ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ نے احادیث زبانی یاد کیں لیکن ان کے شاگرد ہمام بن منبہ نے اسے لکھا جس سے معلوم ہوا کہ وہ بھی کتابت کےماہر تھے۔

صحابہ کرام کا لکھنا اور نبی ﷺ کا لکھوانا اس بات کی بین دلیل ہے کہ لکھنے لکھانے کا کام صحابہ جانتے تھے جو انہوں نے کسی عصری ادارے  میں جاکر نہیں سیکھا تھا، اور نہ ہی اس وقت اس فن کے سیکھنے کی موجودہ مروجہ تقسیم موجود تھی۔ جس سے یہ بھی واضح ہے کہ اس فن کو دنیاوی قرار دے کر مذہب سے بالاتر قرار نہیں دیا گیا بلکہ دین کی سب سے بڑی خدمت میں اسی فن کے ذریعے سے سہارا لیاگیا ۔

(4)ریاضیات :

جہاں تک ریاضی کی بات کی جائے تو ریاضی کی اصل بھی اسلام میں موجودہے، یہی وجہ ہے کہ  صدقۃ الفطر، زکوۃ ،عشر ،رکاز اور علم وراثت کے مستقل نصاب یہ سب کے سب اس فن کے متقاضی ہیں، تویہ کیسے ہوسکتا ہے ،اسلام ان کا حکم تو دے مگر اس کے کامل طور پر ادائیگی کے لئے حساب کتاب (calculation) کی ترغیب نہ دلائے، یہی وجہ ہے کہ ایک جنگ کے موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے[5] کے مقابلے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے کو نبی ﷺ نے قبول کیا کہ ان قیدیوں سے فدیہ لے کر اور ان کے پڑھے لکھے لوگ، ہمارے ان پڑھ افراد کو پڑھا ئیں اور پھر انہیں آزاد کردیا جائے۔

بہرحال اس واقعے سے آپ ﷺ کا اس حوالے سے خصوصی شغف رکھنا ثابت ہوا،اور ساتھ یہ بھی واضح ہواکہ اس کے سیکھنے، سکھانے کے لئے کوئی جگہوں کی تقسیم نہیں کی گئی کہ یہاں دینی علم اوروہاں دنیاوی علم ہو۔

(5)وکالت :

آج حالت یہ ہے کہ وکالت کے حوالے سے مختلف کالجز اوریونیورسٹیاں قائم ہیں ،اور ان یونیورسٹیز میں جو قوانین پڑھائے جارہے ہیں ،اغیار سے ماخوذ ہیں،اس علم کو بھی  مدرسے سے علیحدہ سمجھا جاتا ہے، جس کامطلب بظاہر یہ ہے کہ اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں ،جبکہ وکالت اور قضاء کے جو قوانین اور ضابطے  اسلام نے مقرر کئے ہیں کسی اور نظام میں یہ امتیاز نظر نہیں آتا، جس کی تفصیل کو کسی اور موقع کے حوالے کئے دیتے ہیں ،یہاں ہم اس جانب توجہ دلارہے ہیں کہ اسلامی ملک میں یہ فیکلٹی(Faculty) تو مدرسے کے حصے میں آنی چاہئے،جہاں بالتفصیل اسلامی نقطۂ نظر سے قضاء پر بات ہوتی ہے، مگر کوئی مدرسہ سے فارغ التحصیل طالب علم اس حیثیت کو پالے یہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، بلکہ اسے علیحدہ سے یہ پروفیشنل ڈگری حاصل کرنی پڑے گی ، اور مدرسے کو یہ حیثیت دے دی جائے ، یہ ہمارے معاشرے میں نہیں ہوسکتا۔

 میرا اس ذہن کے لوگوں سے سوال ہے کہ تاریخِ اسلام پر نظر ڈالئے کہ کہیں یہ بات موجود ہے کہ فلاں قاضی (جج) فلاں عصری یونیورسٹی سے سرٹیفائیڈ ہے؟کہیں بھی ایسا نہیں ملے گا ،ملے گا تو یہی فلاں قاضی صحابی، فلاں تابعی، اور فلاں قاضی فلاں امام کے شاگرد تھے۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ قضاء کے لئے اسلام کے شرائط کچھ اورہیں، جس میں اول یہی ہے کہ دین داری اور دینی علوم میں مہارت۔لیکن ہمارے اس اسلامی ملک میں قضاء کے لئے نہ ہی دین ضروری ہے، اور نہ ہی دین داری بلکہ ضروری ہے تو بس قانون (Law) کی کسی پروفیشنل یونیورسٹی کی ڈگری۔ اور ظاہر سی بات ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان وکلاء نے جن قوانین کی بالادستی کی بات کرنی ہے، ان تمام پر اسلام کی مہر ثبت نہیں ہے۔ جب اسلام اور وکالت و قضاء دو علیحدہ چیزیں نہیں تو عملی طور پر ان دونوں کو علیحدہ کیوں سمجھا جا رہاہے؟ وکیل و جج کے لئے بجائے اس کے کہ کسی مدرسے سے سرٹیفائیڈہونا ضروری قرار دیا جاتا ،الٹا مدرسہ میں پڑھائے جانے والے اسلامی قوانین کے ماہر عالم کو حقارت سے دیکھا جاتا ہےجو اسلامی نقطۂ نظر سے یہ صلاحیت (Ability) رکھتا ہے کہ اسے قاضی (Judge) ہونا چاہئے تھا، یہ تقسیم اور پھر ایسی تقسیم جوکہ ظلم پر مبنی ہے، جس میں اسلامی علوم کے ماہر عالم دین کو مکمل طور پر اپنے شایان شان اعزاز سے محروم کردیا جاتاہے۔لہذا اسے اسلامی علوم کی ایک شاخ سمجھنا چاہئے،اور اسلامی ملک ہونے کی حیثیت سے اس میں اسلامی قوانین کا ہی نفاذ ہونا چاہئے،جوکہ موجودہ صورت حال جو تحصیلِ ڈگری کی ہی بنادی گئی ہے، اس صورت حال میں اسلامی قوانین کےنفاذ کا راستہ یوں سمجھ لیں کہ اصل جڑ سے ہی مسدود ہے۔آئیے ہم دلائل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ قضاء و قانون دراصل اسلامی علوم کی ہی ایک شاخ ہے۔

ہر نبی اپنے دور کا قاضی بھی تھا:

يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ 

ص – 26

 (ہم نے ان سے کہا) اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہٰذا لوگوں میں انصاف سے فیصلہ کرنا اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرنا ور نہ یہ بات تمہیں اللہ کی راہ سے بہکا دے گی۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بہک جاتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے کیونکہ وہ روز حساب کو بھول گئے۔

اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے وظائف میں سے ایک ذمہ داری اسی قضاء کو بیان کیا ، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّـهُ ۚ وَلَا تَكُن لِّلْخَائِنِينَ خَصِيمًا

النساء – 105

 ’’ہم نے آپ کی طرف سچی کتاب نازل کی ہے تاکہ جو کچھ بصیرت اللہ نے آپ کو عطا کی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں اور آپ کو بددیانت لوگوں کی حمایت میں جھگڑا نہ کرنا چاہیے۔‘‘

ایک مقام پر فرمایا:

وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ ۖ فَاحْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ الْحَقِّ ۚ 

المائدة – 48

 ’’اور ہم نے آپ پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلے کی کتاب کی تصدیق کرتی ہے۔ اور اس کی جامع و نگران بھی ہے۔ لہٰذا آپ ان کے فیصلے اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق ہی کیجئے اور جبکہ آپ کے پاس حق آچکا ہے تو ان کی خواہشات کے پیچھے نہ چلیے ۔ ‘‘

عمومی طور پر اپنےبندوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

 إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا

النساء – 58

 ’’(مسلمانو!) اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ جو لوگ امانتوں کے حقدار ہیں انہیں یہ امانتیں ادا کردو۔ اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کرو ۔ اللہ تعالیٰ یقینا تمہیں اچھی نصیحت کرتا ہے اور وہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔‘‘

اب تو نبی ﷺ کے فیصلوں پر مشتمل مستقل کتاب ’’اقضیۃ رسول اللہ ﷺ‘‘ منظر عام پر ٓچکی ہے۔ بلکہ خلفاء راشدین کے فیصلوں پر مشتمل کتاب بھی منظر عام پر آچکی ہے۔

اسی طرح مسلمان قاضیوں کے تذکروں پر مشتمل کتب بھی لائبریریوں کی زینت ہیں،جیسا کہ اخبار القضاۃ ، كتاب الولاة وكتاب القضاة للكندي(المتوفى: بعد 355هـ)،تاريخ قضاة الأندلس (المرقبة العليا فيمن يستحق القضاء والفتيا)اس کے مؤلف، أبو الحسن علي بن عبد الله بن محمد بن محمد ابن الحسن الجذامي النباهي المالقي الأندلسي (المتوفى: نحو 792هـ)، رفع الإصر عن قضاة مصر،اس کے مؤلف، أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ)وغیرہ قضاۃ کے حوالے سے لکھی گئی کتب ہیں۔

بہرحال آج اس علم قضاء کو بھی دنیاوی علوم کی یونیورسٹیز کی رونق بنادیا گیا حالانکہ شروع ہی سے اہل اسلام اس سے وابستہ ہیں اور دین اسلام کا حصہ ہے۔ اور مدارس میں بھی کتب الحدیث اور کتب الفقہ کے ضمن میں اس موضوع کو بالتفصیل پڑھا پڑھایا جاتا ہے۔

(6)سائنسی علوم اور اسلام :

سائنسی علوم اور اسلام کا باہم بڑا گہرا تعلق ہے، اور اسلام سائنسی علوم کو بھی بیان کرتا ہے، قرآن مجید ،احادیث میں سائنسی علوم سے متعلق نصوص موجود ہیں اور سلف صالحین کا بھی ان علوم کے ساتھ شغف رکھنا ثابت ہے۔ لہذا ہم ان علوم کے بارے میں بھی یہی کہیں گے کہ سلف کو ان علوم سے وابستگی کے لئے علیحدہ سے یونیورسٹیاں قائم نہیں کرنا پڑیں کیونکہ انہوں نے قطعاً کلی طور پر اسے اسلام سے علیحدہ نہ جانا تھا۔قرآن اور سائنسی علوم کا باہم براہ راست جو تعلق ہے اس کے اثبات کے لئے ذیل میں چند ایک نصوص پیش کئے دیتے ہیں۔

(1)نباتیات:

نباتیات ،بائیولوجی کی ایک شاخ ہے جس کا تعلق پودوں ،ان کی ساخت و حیات سے ہے۔ قرآن مجید میں بھی نباتات کو بیان کیا گیا ہے،مثلاًسورۂ طہ: 53  ، سورۃ الرعد: 4 ، سورۃ الانعام: 96

(2) حیوانیات :

بائیولوجی کی ایک شاخ زولوجی ہے جس میں جانوروں کی زندگی اور نظام پر بات کی جاتی ہے، سائنس کی یہ شاخ بھی قرآن میں اس احسن انداز میں موجود ہےکہ قرآنی حیوانیات پر مشتمل مستقل کتب منظر عام پر آچکی ہیں۔ قرآن مجید حیوانات کی مختلف اقسام کو بھی بیان کرتا ہے اور ان کے مختلف قسم کے نظاموں کو بھی بیان کرتا ہے ۔ بلکہ کہنا چاہئے کہ آج کی سائنس کی اساس بھی قرآنی نظریات پر ہے۔ اور یہ بات تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔

قرآن مجید میں ہاتھی،اونٹ، گھوڑے،خچر، گدھے، کتے، چیونٹی، کا تذکرہ موجود ہے،اور ان میں سے بعض جانوروں کے اوصاف بھی موجود ہیں۔ اور قرآن مجید کے ساتھ احادیث کو ملایا جائے، تو اس حوالے سے ایک وافر مواد منظر عام پر آسکتا ہے ،جس میں مختلف جانوروں کے حوالے سے کسی حد تک تفاصیل کو شرعی نصوص کی روشنی میں جمع کیا جاسکتا ہے۔ قرآن و سنت میں جانوروں کے حوالے سے جو مواد موجود ہے اس میں سے اشارہ کے طور پر چند ایک امثلہ ذکر کئے دیتے ہیں۔

کتے کا زبان نکال کر ہانپنے کاذکر[6]

کتاقےکرکےچاٹتاہے۔[7]

کتے کی نجاست : اسلام نےجن جانوروں کو نجس قرار دیا ہے، ان میں سے ایک جانور کتا بھی ہے، اس لئے کہ شریعت کے مطابق اگر کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے توسات مرتبہ دھونے کا حکم ہے۔[8]

اونٹ کی تخلیق کاذکر [9]

چوپائے جانوروں کا ذکر [10]

قرآن نے خنزیر کو حرام قرار دیا۔ [11]اور آج کی سائنس بھی یہی بتلاتی ہے کہ اس کا گوشت کس حد تک مضر ہے؟؟

مردار جانور اور اسلام

اسلام میں مردار جانور کھانا حرام ہے۔[12] اور آج کی سائنس ثابت کرتی ہے کہ مردار جانور کا کھانا کس حد تک مضر ہے؟[13]

قرآن مجید نے چیونٹیوں کی بلوں اور باہم گروہ بندی کا ذکرکیا ہے۔[14]

بلی کا گھروں میں گھومنا اسلام نے بتایا،اور اس کے جوٹھے کو پاک قرار دیا۔[15]پرندوں کا تذکرہ بھی قرآن مجید میں کیا گیاہے:[16]

مکڑی کے جالے اور اس کی کمزوری کو بیان کیا گیا ہے: [17]

بہرحال ان تمام ادلہ سے حیاتیات کے حوالےسے قرآن مجید کی پیش کردہ معلومات کا اندازہ ہوتا ہے،جو موجودہ سائنس کے لئے ایک اصل کی حیثیت رکھتی ہے۔

(3)علم الجنین

اس حوالے سے قرآن مجید جو نظریہ تخلیق کے مراحل بیان کرتا ہے۔ جسے سورۃ الحج: 5،المومنون: 14 میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس موضوع پر مشہور مناظرہ ڈاکٹر ذاکر نائک اور ڈاکٹر ولیم کیمبل کے درمیان ہوا تھا جس میں قرآنی نظریہ جنین کے بارے میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ وہ ماڈرن سائنس کے  بالکل موافق ہے جبکہ بائیبل کا نظریہ اس حوالے سے کئی ایک خامیاں رکھتا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک اور ڈاکٹر ولیم کیمبل کے درمیان قرآن اور بائیبل میں سائنسی خامیوں پر بحث ہوئی، بحمدللہ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے یہ ثابت کیا کہ قرآن مجید میں کوئی سائنسی طور پر خامی نہیں ہے۔ ڈاکٹر ولیم کیمبل لاجواب ہوگیا تھا اور بائیبل میں موجود سائنسی خامیوں کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

اسی طرح سائنس کی دیگرشاخوں میں سے بھی ہر ایک کا اثبات ملتا ہےاور اہل علم نے ان پر بحث کی ہے،مثلاً سمندر میں میٹھے اور کھارے پانی کا ذکر: (الرحمٰن: 19)فلکیات: سورج اور چاند کی منازل ،موسموں کا ذکر وغیرہ، ان تمام کو یہاں جمع نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ہمارا یہ موضوع ہے۔ جو امثلہ پیش کی گئی ہیں ،ان سے ہمارا مقصود واضح ہے۔

بہرحال ان تمام تر تفصیلات کا خلاصہ یہ ہے کہ دین اسلام کا ایک ایک حکم ہر لحاظ سے حکمت پر مبنی ہے،حتیٰ کہ سائنس بھی اسلامی احکامات کی فرع ہی کی حیثیت رکھتی ہے۔ تو اسلام کا سائنسی احکامات بیان کرنااور سائنس کی تمام شاخوں کی اصل قرآن و سنت میں موجود ہونا، یہ سب سے بڑی دلیل ہے کہ دین اسلام میں یہ تفریق نہیں، پھر اپنے اپنے دور میں مسلمان مؤجدین، سائنسدانوں، ریاضی دانوں کا ان فنون میں مہارت رکھنا بھی واضح کردیتا ہےکہ موجودہ علوم میں دین اور سائنس کے درمیان حائل دیوار کوئی حیثیت نہیں رکھتی ، لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ اوائل اسلام سے ایک عرصہ تک یہ تفریق ہر گز نہ تھی کہ ان دونوں کے لئے علیحدہ علیحدہ مقام ہوں اور نصاب سے لے کر طرز تعلیم اور معیار تک علیحدہ ہو،ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ بلکہ آج بھی کئی ممالک اس قسم کی تقسیم سے پاک ہیں۔

(7)مسلمان سائنسدان

اسلامی نصوص میں ان سب کی اصل ہونے کے بعد یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمان ان علوم سے وابستہ رہے ہیں اور ایک وافر حصہ ان علوم میں مسلمانوں کا رہا ہے،جیسا کہ کتبِ سائنس وغیرہ میں مسلمان سائنسدانوں کا تذکرہ دیکھا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر:

مسلمان بائیولوجسٹ :

جابر بن حیان نے ’’النباتات‘‘ اور ’’الحیوان‘‘، نامی کتابیں بالترتیب پودوں اور جانوروں پر  لکھیں۔

عبدالمالک اصمعی: نے ’’الخیل‘‘ ، الابل، الوحوش، الشاۃ، اور خلق الانسان‘‘ اور انسانوں کی ساخت اور ان کے جسمانی افعال بیان کرنے کے لئے لکھیں ۔

ابو عثمان عمر الجاحظ نے ’’الحیوان‘‘ نامی کتاب لکھی جس میں جانوروں کی 350انواع کی خصوصیات خصوصاً چونٹیوں کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔

ابو القاسم الزہراوی : مشہور حکیم اور سرجن تھے اور گردے اور مثانے کی پتھری نکالنے کے لئے مشہور تھے ۔

الفارابی: یہ بھی مشہور حکیم اور سرجن تھے ، اور اپنے زمانے کی مشہورکتابوں ’’ کتاب النباتات ‘‘ اور ’’کتاب الحیوانات ‘‘ کے مصنف تھے۔

بوعلی سینا: انہوں نے القانون اور فی الطب الشفاء جیسی کتابیں لکھیں جن میں پودوں، جانوروں اور غیر جانداراشیاء سے متعلق تحریر لکھی۔

ابن الہیثم : عرب ریاضی دان اور ماہر فلکیات تھے۔ انہوں نے ’’کتاب المناظر‘‘ اور ’’میزان الحکمۃ‘‘جیسی کتابیں تحریر کیں۔ انہوں نے بصری عمل کی تشریح کی اور یونانیوں کے بصری نظرئیے میں تصحیح (correction) بھی کی۔

کمال الدین الدمیری نے چودھویں صدی عیسوی میں ایک کتاب ’’حیات الحیوان‘‘ ترتیب دی جس میں 1000اقسام کے جانوروں کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔

علی بن عیسیٰ امراض چشم کے ماہر تھے،انہوں نے آنکھ کی ساخت، 130ا فعال اور امراض پر کام کیا۔

مسلمان کیمیا دان:

سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ جامشورو کی کتاب کے مطابق کیمیا کی تاریخ  میں مسلمان کیمیادانوں کا حصہ چھٹی صدی ہجری سے شروع ہوجاتا ہے۔

جابر بن حیان جوکہ بائیولوجی میں اپنا کردار ادا کرچکے ہیں۔ انہیں عام طور پر فادر آف کیمسٹری کہا جاتا ہے۔کیمیا کے حوالے سے مختلف قسم کے تجربوں کے طریقے ایجاد کئے۔

کچھ دیگر مسلمان سائنسدانوں کے نام :

البطانی جوکہ عرب ریاضی دان تھے۔

ابن زہر جوکہ عرب طبعیات کے ماہرتھے۔ثابت ابن قراء جوکہ عرب ریاضی دان تھے۔اور ماہر طبیعیات ، ماہر فلکیات،اور اسٹیٹس کے بھی فاؤنڈر ہیں۔

جابر بن حیان: پہلے عرب کیمیا دان ہیں۔

اسی طرح ابن رشد،محمد ابن موسیٰ الخوارزمی،عمر خیام اور ابن اسحاق الکندی وغیرہ کے نام آتے ہیں۔[18]

بہرحال اس تمام تر بحث کا خلاصہ یہی ہے کہ یہ علوم و فنون اور اسلام دو چیزوں کانام نہیں بلکہ اسلامی تاریخ کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اسلاف میں سے انبیاء علیہم السلام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و دیگر سلف صالحین ان علوم سے وابستہ رہے ہیں اور ان ادوار میں دین و دنیا کو اس طرح سے قطعاً دو نظروں سے نہیں دیکھا جاتا تھا، بلکہ ایک ہی چھت تلے ایک ہی قسم کامعلم ومدرس دونوں قسم کے علوم پر کامل دسترس رکھتا تھا۔ ہمارے ان سات نکات سے واضح ہوگیا کہ اوائل زمانہ میں مروجہ تقسیم نہ تھی، بلکہ مسلمان دینیات پر کاربند رہنے کے ساتھ ساتھ ان علوم و فنون میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔ جس سے یہ واضح ہے کہ اس طرح کی کوئی تقسیم نہ تھی، بلکہ برصغیر میں ایک عرصے تک اسکول کے لئے مدرسہ کا لفظ استعمال کیا جاتا رہا ہے، جو اس بات کی بین دلیل ہے کہ اس سے پہلے تک مروجہ  تقسیم موجود نہ تھی، بہرحال رفتہ جیسے جیسے ہندوؤں کی دیکھا دیکھی مسلمانوں نے بھی یورپ سے روابط بڑھانے اور میڈ ان یورپ (Made In Europe)والی ترقی کو ترجیح دینا شروع کی بس یہیں سے خطِ امتیاز شروع ہوا، جس نے مسلمانوں کو دو قسم کی سوچوں میں بانٹ دیا ، ایک وہ جو جدیدیت کی ترویج چاہتے تھے، اور میڈ ان یورپ ترقی سے متاثر تھے، اور دوسرے وہ جنہوں نے  اس مخدوع قسم کی ترقی پر دینی تعلیمات کو اختیار کیا اور اس کے حصول میں کمر بستہ ہوگئے ،رفتہ رفتہ دونوں قسم کی تعلیمات کے علیحدہ علیحدہ مراکز قائم ہوگئے،اب یہ صورت کیا روپ اختیار کرچکی ہے سب کے سامنے ہے،اسکول ہر طرح کی مذہبی پابندیوں سے آزاد اور مدارس پھر مزید مکاتب فکر کی تقسیمات میں بٹ گئے۔ اوراسکولوں کو مکمل طور پر چلانے کے لئے محکمہ تعلیم موجود اور دوسری طرف مدارس کے معاملات وزارت  مذہبی امور کے سپرد کردئیے گئے، یعنی حکومتی سطح پر مدارس کا کوئی پرسان حال نہیں ،اس کےمقابل میں سعودیہ کی مثال لے لیں۔ ایک عرب ویب سائٹ کے مطابق 28/10/2010کی رپورٹ یہ ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں مجموعی طور پر 24 ہزار 450 حفظ قرآن کے نجی مدارس موجود ہیں جن میں لاکھوں بچے حفظ قران کریم کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ ان مدارس میں قراء اساتذہ کی تعداد 20 ہزار 919 ہے۔ بچوں کی بڑھتی تعداد کے تناسب سے مدرسین کی یہ تعداد ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب حفظ قرآن کریم کے کل 23 ہزار 364 حکومتی مدارس کام کر رہے ہیں۔ ان سرکاری اور نجی مدارس میں طلبہ وطالبات کو قرآن کریم حفظ کرایا جاتا ہے۔ دیکھئے:

www.alarabiya.net/articles/2010/10/28/123962.html

اس رپورٹ میں سعودی حکومت کے ایک قابلِ تحسین عمل کا ذکر ہے کہ وہ مدارس کو بھی سرکاری سطح پر چلا رہے ہیں۔

دینی و دنیاوی تعلیم میں موجودہ تقسیم کےنقصانات :

موجودہ صورت حال کو صرف بنظر طائر ہی دیکھیں تو کئی ایک نقصانات کی وجہ مذکورہ تفریق و تقسیم ہی معلوم ہوتی ہے،جیساکہ چند ایک نکات پیش کئے جاتے ہیں۔

علماء کا دائرہ کار محدود ہوگیا اور وہ مساجد و مدارس تک محدود ہوکر رہ گئے جبکہ ان کے شایان شان یہ تھا کہ وہ ہر حرفت و صنعت اور شعبہ ہائے زندگی کے رؤوساء میں ہوتے۔

اسی طرح اس تقسیم نے نئی نسل کو اسلام سے دور کردیا ، اس لئے کہ عصری کالجز اور یونیورسٹیز اسلامی تعلیم کو  کما حقہ نئی نسل تک پہنچانے میں اب تک عاجز و ناکام ہیں۔ اور نہ ہی وہ اسے اپنا کام سمجھتے ہیں۔

کالجز اور یونیورسٹیز تعلیم و شعور کے مراکز ہونے کے باوجود کئی ایک برائیوں ، فتنوں اور جرائم کی آماجگاہ بن گئے، اخبارات جس کے شاہد ہیں۔

ان کالجز اور یونیورسٹیوں میں ایسے عناصر کو تقویت ملی ، جو اسلام کے مقابلے میں ایک علیحدہ سوچ اور نظریہ رکھتے ہیں۔

اور یہی ایک سبب نئی نسل کی اخلاقی تخریب کا بھی ہے۔

کالجز اور یونرسٹیوں کے طلباء کے آئیڈیلز مسلم ہیروز کے بجائے فلم اسٹار ،سنگرز، یورپ کے پاپولر افراد بن گئے۔

ملالہ کا واقعہ کیا رخ اختیار کئے ہوئےہے؟ اور اس حوالے سے ملکِ پاکستان کیا نقصان اٹھا چکا ہے اور مزید خدشات ہیں، اگر مذکورہ تقسیم نہ ہوتی،تو شاید یہ واقعہ( جوکہ بعض خبروں کو سامنے رکھتے ہوئے ایسا لگتا ہےکہ یہ دراصل ایک طے شدہ ڈرامہ تھا) قطعاً اس طرح کا ڈرامہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوتا۔

دور حاضر میں آئیڈیل اسلامی تعلیمی نظام کیسے ممکن ہے؟

دور حاضر میں معاملہ یہ ہے کہ موجودہ تقسیم کو ختم کرنا اب ایک خواب ہی ہے،البتہ اب بھی ایسے اقدامات کئے جاسکتے ہیں کہ جن کے ذیعے سے یہ تقسیم ازسر ختم ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر:

اسکولز کو مذہب سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔بلکہ ان میں قرآن مجیداور دیگرمبادیات و ضروریاتِ دین کی مکمل تعلیم دی جائے۔

اور کسی بھی عصری تعلیمی ادارے کے ایڈمنسٹریشن وغیرہ کی اہلیت کے لئے باعمل مسلمان اور اسلامی تعلیمات سے آشنائی کی شرط سب سے اول نمبر پر ہو۔

اسکول میں موجودلازمی مضمون اسلامیات نہ ہونے کے برابر ہے،یہی وجہ ہے کہ اسلامی علوم کو حاصل کرنے کے لئے مدارس کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ 

اسکول دراصل غیر اردو لفظ ہے اور اردو میں اسی معنی میں برصغیر میں مدرسہ کا لفظ استعمال کیاجاتا رہا ہے۔ لہذا لوگوں کو یہ شعور دلایا جائے کہ عرف میں جو اصطلاح اختیار کرچکے ہیں وہ تفریق کسی طور پر صحیح نہیں۔

اسکولز کے ٹیچرز مسلمان ،باشرع اور تعلیماتِ اسلامیہ سے بہراور ہوں تاکہ وہ باقی معاملات میں شریعت سے دور ی اختیار نہ کریں جو نئی نسل میں بگاڑ کا سبب بنے،دور حاضر میں اسکول کے ٹیچرز کے حوالے سے اس طرح کی کوئی شرط نظر نہیں آتی، جس کی وجہ سے نئی نسل بڑی تیزی سے اسلام سے دور ہوتی جارہی ہے۔

تمام اسکولوں کا معیار یکساں اور اسلامی خطوط پر مبنی ہو۔

اقلیتوں کے لئے اسلامیات سے استثناء کسی طور صحیح نہیں بلکہ ایک اسلامی ملک میںرہنے کا پاس کرتے ہوئے ،اورپھر اس ملک کے قانون کو اختیار کرتے ہوئے،اسی ملک سے تعلیم حاصل کرنے کا لحاظ کرتے ہوئے ان اقلیتوں پر یہ لازم قرار دیا جائے کہ وہ اسلامیات کو بھی دوسرے مضامین کی طرح پڑھیں۔ جس کافائدہ یہ ہوگا کہ جب ان کے سامنے اسلام کا تعارف اور علم آئے گا تو وہ اسلام کو قبول کریں گے۔ اگر استثناء ہی دے دی جائے تو اسلامی دعوت کو ان تک کیسے پہنچایا جائے گا۔ بلکہ اسلام اور مزید یہ کہ ایسی اقلیتوں کے لئے اسلام کے تعارف اور دیگر ادیان سے تقابل پر مبنی مستقل اور لازمی مضمون (Subject)ہونا چاہئے۔

اب دیکھا جارہا ہے کہ بعض اسکول اسلامی نصاب بناتے ہیں اور اسی کو سامنے رکھتے ہوئے اسکول سسٹم چلتا ہے،اگر ہماری مذکورہ بالا اصلاحات کو قبول کیا جائے،تو اس قسم کی نصاب سازی کی ضرورت نہیں رہے گی، بلکہ مدارس کے بھی علیحدہ قیام کی ضرورت نہ رہے گی کیونکہ پھر ہر مدرسہ اسکول ہوگا اور ہر اسکول مدرسہ ہوگا۔ البتہ موجودہ صورتحال میں جو لوگ اسلامی خطوط پر اسکول کی تعلیم کو فروغ دینےکی کوششیں کررہے ہیں اور اس طرز پر اسکول قائم کئے جارہے ہیں ان کا  یہ کام قابلِ تحسین ہے۔

بہرحال دعا ہے کہ ایسا دن آئے اور تعلیمی میدان میں یہ تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں کہ ہر اسکول اسلام کا قلعہ ہو اور وہاں بیک وقت اسلام اور جدید علوم و فنون پڑھائے جائیں۔ اور اسکول پھر کالج اور پھر یونیورسٹی سے پڑھ کر آنے والا طالبعلم صرف انجینئر، ڈاکٹریا محض کسی اور دنیاوی علم و فن سے آشنا نہ ہو بلکہ وہ ایک ڈاکٹر ،انجینئر وغیرہ ہونے کے ساتھ ساتھ قاری ،حافظ ،مفتی ، فارغ التحصیل عالم بھی ہو۔ اور اگر ایسی فضاء بن جاتی ہے تو یقیناً یہ فضاء بڑی آئیڈیل اور لائق تحسین ہوگی۔ ایسی صورت میں بھی ہم یہ ضرور کہیں گے کہ کم از کم مدارس کے ساتھ ایسی زیادتی نہ کی جائے کہ اس کا کوئی پرسانِ حال نہ ہو، بلکہ اس کا بھی ایک ایسا بورڈ ہو جسے مکاتب فکر کے ہاتھ میں نہ دیا جائے بلکہ گورنمنٹ ہی کے ہاتھ میں دیا جائے، اور گورنمنٹ تمام تر مفادات سے بالا تر ہوکر صرف ایک ہی اساسی ضابطہ بنائے جوکہ قرآن و سنت ہے،کہ یہ بورڈ قرآن و سنت کی اتباع(Follow) کرے گا۔ اور کسی مکتبہ فکر کو نہیں۔ اس لئے کہ یہ دونوں ہی ایسے مراجع ہیں کہ جس کا کو ئی مکتبہ فکر انکار نہیں کرسکتا۔ اور پھر جس طرح سیکنڈری، انٹرمیڈیٹ پوزیشنوں اور اچھے نمبروں والے طلباء ممبر شپ اور بھاری انعامات کے مستحق ٹھہرتے ہیں تو ان مدارس کےلئے بھی ایسا سلسلہ کیا جائے اور جس طرح اسکولوں کے لئے باقاعدہ ایک بجٹ میں سے ایک مخصوص حصہ ہوتا ہے، ان مدارس کے لئے بھی مخصوص حصہ ہونا چاہئے،بلکہ اگر یہ تقسیم بر قرار ہی رکھنی ہے تو مدارس کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے وہ تمام جدید سہولیات بھی فراہم کی جائیں جو اسکولوں کو میسر ہیں۔دینی مدارس میں عصری علوم کی تعلیم کا راگ الاپنے والے اگر دین اور ان طلباء کے ساتھ مخلص ہیں تو پھر انہیں اسی جڑ کی نشاندہی اور اس کے خاتمے کی بات کرنی چاہئے۔

آخر میں دعا ہے کہ اس ملک میں ایسا نظامِ تعلیم آئے جو ساری دنیا کے لئے آئیڈیل بن جائے۔

و صلی اللہ علی نبینا و علی آله و صحبه وسلم

________________________________________

[2] صحیح مسلم: 2564

[3] صحیح بخاری: 4304

[4] جامع ترمذی: 2715

[5] وہ رائے یہ تھی کہ ہر کافر کو اس کا قریبی رشتہ دار مسلمان قتل کرے،تاکہ یہ جان لیں کہ اسلام کی ہمارے دلوں میں کیا حیثیت ہے۔

[6] الاعراف: 176

[7] بخاری:2589،مسلم :1622،ابوداؤد :3539،ترمذی : 2132، نسائی:3703 ، ابن ماجہ :2377 مسند احمد :493/2

[8] صحیح بخاری : 172، کتاب الوضوء ، باب  الماء الذی یغسل بہ شعر الانسان

[9] الغاشیہ :17

[10] ھود: 6، نور: 45

[11] البقرۃ: 173، المائدۃ: 3، النحل : 115

[12] البقرۃ: 173، المائدۃ: 3، النحل : 115

[13] تفصیل کے لئے دیکھئے : اسلام اور سائنس ڈاکٹرذاکر نائک کے خطاب پر مشمل کتابچہ

[14]  النمل: 18

[15] سنن ابی داؤد:رقم الحدیث:75، کتاب الطھارۃ ، باب سؤر الھرۃ  علامہ البانی رحمہ اللہ نےاسے حسن صحیح قرار دیا،نیز امام ترمذی ، امام بخاری ،امام دارقطنی ، امام عقیلی ، امام ابن خزیمہ ، امام ابن حبان ، امام بیھقی ، امام حاکم ،امام ذہبی اور امام نووی رحمہم اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔

[16] النحل: 79

[17] العنکبوت: 41

[18] www.famousscientists.org/famous-muslim-arab-persian-scientists-and-their-inventions

مصنف/ مقرر کے بارے میں

الشیخ حافظ محمد یونس اثری