اصلاحِ نفس و معاشرہ جدید مالی معاملات

کرنسی نوٹوں پر سود ؟

سوال نمبر 1:میں نےالإقتصاديةاخبار میں پڑھا کہ سود کے حوالے سے نوٹوں کو سونے اور چاندی پر قیاس نہیں کیا جاسکتا،اور سود صرف حدیث میں مذکور چھ اصناف میں ہی جاری ہوسکتا ہے،بعض اہل علم بھی اس رائے کے قائل ہیں۔براہ کرم مذکورہ بالا مسئلہ کی تفصیلی وضاحت فرمادیں۔

جواب:صحیح رائے یہی ہے اور معاصر علماء کی اکثریت بھی اسی کی قائل ہے کہ : کرنسی نوٹوں کو سونے اور چاندی پر قیاس کیا جاسکتاہےاور کرنسی نوٹوں میں بھی سونے چاندی کی طرح سود لاگو ہو تاہے۔کیونکہ شریعت نے سونے اور چاندی پرسود کا حکم اس علت اور وجہ سے لگایا ہے کہ یہ قیمتوں کے تعین کا پیمانہ ہیں۔ دور قدیم سے ہی سونے اور چاندی کےذریعےمختلف اشیاء کی قیمتوں کا اندازہ لگایاجاتا تھااور آہستہ آہستہ سونے اور چاندی کی جگہ کرنسی نوٹوں نے لے لی، تو سونے چاندی کی جگہ کرنسی نوٹوں کی ریل پیل اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ان پر سونے چاندی ہی کے احکامات لاگو ہوں۔

سلف کے بعض ائمہ و علماء سے بھی اس قسم کے اقوال منقول ہیں جواس موقف کی تائید کرتے ہیں:

فقہ مالکی کی معروف کتاب المدونہ (3/ 5)میں ہےکہ: (1)اگر میں فلوس (لوہے یا پیتل کے سکے)کے بدلے دراہم خرید لوں اور انہیں قبضے میں لئے بغیر ہی ہم مجلس سے علیحدہ ہوجائیں تو کیا آپ کی رائے میں ایسا کرنا جائز ہے۔؟ فرمایا:امام مالک کے نزدیک جائز نہیں ہے اور اس قسم کی بیع فاسد ہے،امام مالک مجھ سےفلوس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:سونے اور چاندی سے فلوس کی بیع میں ادھار کسی طرح بھی جائز نہیں اگر لوگ اپنے درمیان چمڑوں کے ذریعے خرید وفروخت کورائج کر دیں یہاں تک کہ وہ چمڑے ثمن اور سکہ کی حیثیت اختیار کر جائیں تو میں سونے چاندی کے بدلے ان چمڑوں کو بھی اُدھار فروخت کرنا پسند نہیں کروں گا۔ پھر میں نے کہا کہ: آپ کیا کہتے ہیں کہ اگر میں فلوس کے بدلےسونے یا چاندی کی انگوٹھی یا سونے کی ڈھلی خریدوں اور اسے قبضے میں لینے سے پہلے ہی ہم الگ ہوجائیں توکیا امام مالک کے نزدیک یہ جائز ہوگا؟تو فرمایا نہیں یہ امام مالک کے ہاں جائز نہیں ہوگا کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ:ایک فلس کے بدلے دو فلس کی خرید وفروخت جائزنہیں اور سونے چاندی اور دینارکی فلوس کے بدلے ادھار خرید وفروخت جائز نہیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک فلوس میں بھی اسی طرح سود جاری ہوتا ہے جیسا سونے اور چاندی میں سود لاگو ہوتا ہے، کیونکہ لوگوں کا لین دین اس سے ہوچلا ہے اور اس کی حیثیت اب نقد کرنسی کی ہوگئی ہے بلکہ امام مالک تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر لوگ چمڑے کو کرنسی کے طور پر استعمال کرنے لگیں توان کا حکم بھی سونے چاندی جیسا ہی ہوگا۔ اور یہ آج کے کرنسی نوٹوں کی طرح ہی ہےجس کا امام مالک نے ایک مفروضے کے طور پر ذکر کیا ہے۔

سبحان اللہ :کیا ہی پاک ہے وہ ذات جس نے امام مالک کو یہ مثال دینے کی توفیق عطا فرمائی!

اور شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:کہ صحیح یہ ہے کہ دراہم اور دینار میں علتِ ربا ان کا ذریعہ تبادلہ اور قیمتوں کے تعین کا پیمانہ ہونا ہے نہ کہ وزن ہونا ان کی علت ربا ہے ۔ (یہی جمہور علماء کا موقف ہے)۔[1]

علامہ ابنِ قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

امام ابو حنیفہ اورامام احمد بن حنبل کے ایک قول کے مطابق درہم ودینار میں علت ربا انکا وزن ہے،جبکہ امام مالک،شافعی اور احمد بن حنبل کے دوسرے قول کے مطابق درہم ودینار میں علتِ ربا انکا قیمتوں کا پیمانہ ہونا ہے اور یہی رائے صحیح ہے۔[2]

رابطہ عالم الاسلامی کی مجلس مجمع الفقہ الاسلامی کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ درہم ودینار میں علتِ ربا انکا پیمانہ قیمت ہونا ہے۔ کیونکہ :

اول:کیونکہ کرنسی نوٹو ں کی بنیادسونے اور چاندی ہی پر مبنی ہے،اور کیونکہ اکثر فقہاء کی نظر میں سونےاور چاندی کی علت ربا ان کا مطلقاًبطور قیمت استعمال ہے۔

اور جیسا کہ فقہاء پیمانہ قیمت کو صرف سونے اور چاندی تک ہی محدود نہیں کرتے،اگرچہ یہی دھاتیں کرنسی کی اصل اور بنیاد ہیں۔

اور جیساکہ کرنسی نوٹ نےاب سونے چاندی کی جگہ لے لی ہے ، عصرِ حاضر میں کرنسی نوٹوں سے ہی اشیاء کی قیمتوں کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور سونے چاندی سے لین دین تقریبا ناپید ہوچکا ہے۔لوگ نوٹوں کے ذریعے ہی فائناسنگ کرتے ہیں ، انہیں ذخیرہ کرتے ہیں ، ادائیگیاں اور تقاضے اور ذمہ داریاں تمام انہیں کے ذریعہ تکمیل پاتی ہیں ، اگرچہ ان کرنسی نوٹوں کی حیثیت ذاتی طور پر نہیں بلکہ لوگوں کا اعتماد اوران کا اس کے ذریعہ تبادلہ اور لین دین انہیں قیمت کی حیثیت عطا کرتا ہے اور یہی اس کی پیمانہ قیمت ہونا کی علت ہے۔

اور جیساکہ سونے اور چاندی میں سود لاگو ہونے کی وجہ ان کا پیمانہ قیمت ہونا یہی کرنسی نوٹوں میں بھی موجود ہے۔انہی تمام وجوہات کی بنا پر مجلس فقہی اسلامی نے کرنسی نوٹوں کو بذات خودنقد کی ایک قسم قرار دیا ہے۔ انکا وہی حکم ہے جو سونے اور چاندی کا، کرنسی نوٹوں پر بھی اسی طرح زکاۃ واجب ہوگی جس طرح کہ سونے اور چاندی پر اور ان پر سونے اور چاندی کی طرح سود بھی لاگو ہوگاادھار میں بھی اور فضل میں بھی ،اور شریعت نے جو بھی احکام سونے اور چاندی پر نافذ کئے وہ تمام احکام بالکل اسی طرح کرنسی نوٹوں پر بھی لاگو ہوں گے۔

دوم: کرنسی نوٹ سونے چاندی کی طرح مستقل زر ہے۔ اسی طرح کاغذی نوٹ جاری کردہ حکومتوں کے اعتبار سے الگ الگ جنس ہیں۔ یعنی سعودی ریال ایک جنس ہے ، امریکی ڈالر ایک الگ جنس ہے۔ اس طرح ہر ملک کی کرنسی بذات خود مستقل جنس ہے ، لہذا اس میں ادھار اور فضل دونوں صورتوں میں اس پر سود لاگو ہوگا۔ جیسے سونے اور چاندی اور زر کی دیگر اقسام وغیرہ پرلاگو ہوتا ہے۔

کویت فائنانس ہاؤس نے اپنے پہلے فقہی سیمینار میں جو سفارشات اور فتاویٰ پیش کئے وہ یہ کہ :مجمع فقہ اسلامی کے سابقہ فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے کہ کرنسی نوٹ خریدوفروخت اور لین دین میں سونے وچاندی کے قائم مقام ہیں،انہی کے ذریعے اموال ووسائل کا تخمینہ لگایا جاتا ہے اور انہی کےذریعے تمام ادائیگیاں کی جاتی ہیں ،اسی لئے ان پر سونے چاندی کے تمام احکام لاگو ہوں گےاور خاص طوران کا لین دین نقد ہو، نا کہ ادھار۔

ہر کرنسی بذات خود ایک دوسرے سے مختلف جنس ہے،تو کسی بھی معاہدے کی ابتداء یا انتہاء میں مقداری سود [ربا الفضل] جائز نہ ہوگایعنی سو روپے کے بدلے سو روپے ہی خریدےجاسکیں گے ہاں البتہ اگر ایک کرنسی کے بدلے دوسری خریدی جائے مثلاًروپے کے بدلے ڈالر تو پھرصرف نقد سودے کا اشتراط کیا جائے گا۔

کرنسی نوٹوں کے ذریعے سونے کی فروخت جائز نہیں سوائے اسکے کہ سودا ہاتھوں ہاتھ ہویعنی نقد ہو۔

أبحاثِ هيئةِ كبارِ العلماءِ

میں مذکور ہے کہ: سونے اور چاندی میں حرمتِ سود کی حکمت صرف ان دونوں ہی پر مقصور نہیں ہے بلکہ یہ ان تمام چیزوں پرلازم آتی ہے جنہیں بطور قیمت استعمال کیا جا ئے ،مثلاً فلوس ،سکےّ یا کرنسی نوٹ وغیرہ۔

سونے اور چاندی کے سودی ہونے کی علت ان کا پیمانہ قیمت ہونا ہے۔

اور یہی امام ابو حنیفہ امام مالک اور ایک روایت کے مطابق امام احمد کا بھی قول ہے ،امام احمد کے شاگرد ابوبکر کہتے ہیں امام سےشاگردوں کی کثیر تعداد نے یہی روایت کیا ہےاور یہی رائے شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد ابن قیم نے اختیار کی ہے اور عصرِ حاضر کے محققین اہلِ علم بھی یہی رائے رکھتے ہیں۔[3]

علامہ شیخ ابن بازرحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

کرنسی نوٹوں کے بدلےاگر اس کی جنس کی کرنسی خریدی جائے یا سونا چاندی خریدا جائےتو ان پر سود کی تمام صورتیں لاگو ہوں گی جو کہ سونے چاندی وغیرہ پر لاگو ہو سکتی ہیں۔[4]

خلاصہ : شریعت اسلامی ایک دوسرے سے مشابہ اور متماثل چیزوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتی۔ اور نہ ہی وہ مختلف اور متضاد چیزوں کو یکجا کرتی ہے ، پھر جب شریعت اسلامی نے سونے چاندی پر بطور پیمانہ قیمت استعمال ہونے کے سود لاگو ہونے کا حکم لگایاتو یہ حکم اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ سونے چاندی سے متماثل اشیاء مثلاًسکے ،فلوس اور کرنسی نوٹوں وغیرہ پر بھی یہی حکم لگایا جائے۔


[1] جموع الفتاوى : (29/ 472-471)

[2] اعلام الموقعين : 2 / 156

[3] أبحاث هيئة كبار العلماء : 1/ 85

[4] مجموع فتاوى ابن باز رحمه الله : 19/158

مصنف/ مقرر کے بارے میں

Islamfort

Leave a Comment