اصلاحِ نفس و معاشرہ

غصے کا علاج

عن سليمان بن صرد رضي الله عنه قال : استب رجلان عند النبي ﷺ فجعل أحدهما يغضب ويحمر وجهه و تنتفخ أوداجه فنظر إليه النبي ﷺ فقال : إني لأعلم كلمة لو قالها لذهب ذا عنه :” أعوذ بالله من الشيطان الرجيم ” فقام إلى الرجل رجل ممن سمع النبي ﷺ فقال : تدري ما قاله رسول الله ﷺ آنفا ؟ قال : لا، قال: إني لأعلم كلمة لو قالها لذهب عنه : أعوذ بالله من الشيطان الرجيم ، فقال له الرجل : أمجنونا تراني؟ .

سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی نبی کریم ﷺکے پاس گالی گلوچ کررہے تھے ان میں کا ایک غصے میں آگیا ، اس کا چہرہ سرخ ہوگیا اور اس کی رگیں پھول گئیں ، رسول اللہ ﷺنے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا :” میں ایک کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ اسے کہہ لے تو اس کی یہ کیفیت دور ہوجائے ، وہ کلمہ ہے ” اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ” [ میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ]” چنانچہ جن لوگوں نے نبی کریم ﷺکا یہ فرمان سنا ان میں سے ایک شخص اس غصہ ہونے والے شخص کے پاس گیا اور کہنے لگا : کیا تم جانتے ہو کہ ابھی ابھی اللہ کے رسول ﷺنے کیا فرمایا  : اس نے جواب دیا : نہیں ، آپ ﷺفرمارہے ہیں کہ ہیں میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں جسے اگر یہ پڑھ لے تو  اس کا غصہ جاتا رہے ، وہ کلمہ ہے  : ” اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ” اس شخص نے کہا کہ کیا تو مجھے پاگل سمجھ رہا ہے ۔( صحيح البخاري : 3282 ، بدء الخلق / صحيح مسلم : 2610 ، البر / الفاظ صحیح مسلم کے ہیں )

تشریح :

غصہ ایک ایسا اخلاقی مرض ہے کہ اگر فوری اور صحیح علاج نہ کیا گیا تو اس کا اثر باہمی نا اتفاقی ، حسد و کینہ ، بغض و نفرت ، گالی و گلوچ حتٰی کہ مارپیٹ ، قتل و خونریز ی ، طلاق اور مال و اولاد پر بد دعا کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ، اس لئے اپنے دین و ایمان پر حریص شخص کے لئے ضروری ہے کہ اس مرض کا علاج کرے ۔

واضح رہے کہ سب سے بہتر اور کامیاب وہ علاج ہے جس کی طرف اسلام نے  رہنمائی کی ہے ، چنانچہ جب ہم نصوصِ شرع پر غور کرتے ہیں تو  اس مرض کے بہت سے علاج کی طرف ہماری رہنمائی ہوتی ہے ، اختصار کے ساتھ وہ بعض علاج درج ذیل ہیں :

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت :

  یعنی ایک مومن یہ سوچے کہ اللہ اور اس کے رسول نے غُصّہ آنے پر صبر سے کام لینے اور لوگوں کی غلطی کو معاف کردینے کا حکم دیا ہے ، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :

وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ

فصلت – 34

 ” اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی۔ تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے۔ “

اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مفسرِ قرآن سیدنا ابن عباس   tبیان کرتے ہیں کہ ، اس سے مراد غُصّہ کے وقت صبر کرنا اور برائی کو معاف کرنا ہے ۔ [ صحیح  بخاری  معلقا ]۔

 بُرے نتائج پر غور :

 غصہ کو پی جانے کا ایک بہترین علاج یہ ہے کہ غصہ کےدینی و دنیوی  نتائج پر غور کرے کہ بسا اوقات  ایک شخص غصہ میں ایسی بات کر جاتا ہے یا ایسی حرکت کا مرتکب ہوتا ہے جس سے اس کی دنیا و آخرت برباد ہوجاتی ہے ۔

 پرہیز:

 ان اسباب اور چیزوں  سے پرہیز (اجتناب)کرے جو غصہ بڑھاتے ہیں ۔

 اجر و ثواب کی نیت :

اُن فضائل ، اجر و ثواب کو اپنے پیش نظر رکھے جو غصہ پی جانے اور غصہ پر کنٹرول کرنے کے عوض حاصل ہوتے ہیں ۔ جیسے :

 اللہ و رسول ﷺ کی محبت :

غصہ پر کنٹرول کرنا اللہ اور اُسکے رسولﷺ کی محبّت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے بنو قیس کے ایک شخص سے فرمایا : تمہارے اندر دو ایسی عادتیں ہیں جنہیں اللہ اور اس کےرسول  ﷺپسند کرتے ہیں ، برد باری اور سنجیدگی ۔ [ صحیح مسلم بروایت ابن عباس ] ۔   بردباری یعنی غصہ کی حالت میں انتقام کی طاقت کے باوجود صبر سے کام لینا ۔

 جنت میں داخلہ :

غصہ پر کنٹرول کرنا جنت میں داخلہ کا ذریعہ ہے،ایک صحابی نے سوال کیا اے اللہ کے رسولﷺ مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے کہ اس پر عمل کرلوں تو مجھے جنت مل جائے ، آپ ﷺ نے فرمایا : غصہ نہ کرو تمہیں جنت میں داخلہ مل جائے گا ۔ [ الطبرانی الاوسط : بروایت ابو داود ] ۔

 اللہ کے غضب سے بچاو :

غصہ پر کنٹرول کرنا اللہ کے غضب سے بچاؤ کا ذریعہ ہے، ایک شخص نبی ﷺ سے سوال کرتا ہے کہ وہ کونسا عمل ہے جو مجھے اللہ کے غضب سے محفوظ رکھے آپ ﷺنے فرمایا : تم غصہ نہ کرو ( اللہ تعالیٰ تم پر بھی غصہ نہ ہوگا )  [مسند احمد بروایت عبدا للہ بن عمرو ]۔

 بہت بڑے اجر کا حصول :

غصہ پر کنٹرول کرنا بہت بڑے اجر کے حصول کا ذریعہ ہے، ارشاد نبوی ﷺہے کہ : اللہ تعالی کے نزدیک غصہ کا گھونٹ پی جانے سے زیادہ اجر والا کوئی اور گھونٹ پینا نہیں ہے ۔ [ ابن ماجہ ، بروایت عبد اللہ عمر ]

 جنت کی حور :

غصہ پر کنٹرول کرنا جنت کی من چاہی حوروں کے حصول کا ذریعہ ہے،ارشاد نبی ﷺ: جو شخص انتقام کی قدرت کے باوجود غصہ پی جاتا ہے تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس شخص کو تمام  مخلوقات کے سامنے بلا کر فرمائے گا کہ آج تم جنت کی جس حور کا انتخاب کرنا چاہو جاکر انتخاب کرلو ۔  [ ابو داود الترمذی ، بروایت انس بن معاذ ] ۔

ذکر الہی :

غصہ جیسی اخلاقی بیماری کے شرعی علاج میں ایک اہم علاج ذکرِ الہٰی ہے، جیسے ” اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ” پڑھنا ۔ جیساکہ زیرِ بحث حدیث میں بیان ہوا ہے ۔

تبدیلیِ حالت:

 غصہ کرنے والا جس حالت پرہے  اسے بدل دے  ،نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اگر وہ کھڑا ہوتو بیٹھ جائے اور اگر بیٹھا ہوتو لیٹ جائے ۔  [ سنن ابو داود ، بروایت ابو ذر ] ۔

 اور اگر مناسب سمجھے تو وہ اُ س جگہ ہی کو چھوڑدے اور دورہٹ جائے ۔

خاموشی :

 آپ ﷺ کا ارشاد ہے : ” سکھاؤ (یعنی لوگوں کو تعلیم دو) ،  بشارت (خوشخبری)  سناو اور سختی نہ  کرو “{ یہ بات آپ نے تین بار بیان فرمائی } پھر دوبارہ  فرمایا :” اگر کسی کو غصہ آئے تو وہ خاموش ہوجائے ”  [ مسند احمد بروایت ابن عباس ]

اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ ربّ العالمین

مصنف/ مقرر کے بارے میں

Islamfort

Leave a Comment