طمع وحرص علامات قیامت کی روشنی میں

فرمان باری تعالیٰ ہے :

أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ۝ حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ۝ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ۝ ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ۝ كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ ۝ لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ۝ ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ ۝ ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ ۝

التکاثر: 1 – 8

ترجمہ : ز یادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کر دیا۔ یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔ ہرگز نہیں تم عنقریب معلوم کر لو گے۔ ہرگز نہیں پھر تمہیں جلد معلوم ہو جائے گا۔ ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو۔ تو بے شکتم جہنم دیکھ لو گے۔ اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے۔ پھر اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہوگا۔

معاشی معاملات کے حوالے سے عموماً انتہائی اہم شرعی اصول بیان ہوئے ہیں جن کو موجودہ بینکاری سسٹم میں رائج کرنےکا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اور ان شرعی اصولوں کیلئے عہد ِصحابہ کی عملی بےشمار مثالیں بیان ہوتی ہیں ۔لیکن یہاں جو بات قابلِ غور ہے وہ یہ کہ ان شرعی اصولوں کی رو سے عہد صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں جو مضاربہ اور مشارکہ یا کوئی بھی اور معاشی معاملہ سرانجام پاتا تھا وہ دراصل دو بھائیوں کا مضاربہ ، مشارکہ اور معاملہ ہوتا تھا جو سراسر اخلاص اور جذبہ تعاون کے تحت ہوتا تھا۔مگر آج کل کے مالیاتی اداروں اور بینکوں میں یہ اخلاص اور تعاون کا جذبہ ناپید ہے ؟ بینک کا خلاصہ جو مجھے سمجھ آیا ہے اس کا نچوڑ کچھ یوں ہے کہ کسی بھی شخص کے اچھے وقت کا ساتھی ،اس پر اگر برا وقت آجائے اور بینک کا کوئی حق اس سے منسلک ہو تووہ اسے نچوڑ کر وہاں مارتا ہے کہ جہاں اس کو پانی تک نہیں ملتا ۔موجودہ معاشرے میں نہ اخوت ہے اورنہ ہی جذبہ تعاون نہ خیر خواہی !

دراصل موجودہ معیشت کی بنیادی خرابی کو اگر دیکھا جائے تو دیگر معاملات کیگتھی سلجھانا آسان ہوجاتا ہے، اور شریعت کے ان سنہرے اصولوں پر کاربند رہنا اور انہیں اپنی زندگی میں نافذ کرنا بھی نہایت آسان ہوجاتا ہے جسے لوگ آج کل بہت مشکل تصور کرتے ہیں ۔ اور وہ بنیادی خرابی ہے مال کی حرص جو علامات قیامت میں سے ایک اہم علامت ہے۔ اس موضوع کی اساس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہے جوکہ مستدرک حاکم [1]میں صحیح سند سے منقول ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اقتربت الساعة‘‘۔ ’’قیامت قریب آتی جا رہی ہے اور جو ں جوں لوگ قیامت کے قریب بڑھ رہے ہیں‘‘ ‘‘

لَا يَزْدَادُ الناسُ إلَّا حِرْصًا ، وَلَا يَزْدَادُونَ مِنَ اللهِ إلَّا بُعْدًا

’’ لوگ دنیاوی اعتبار سے ،مالی اعتبار سے حرص کا شکار ہوئے جا رہے ہیں اور اپنے پروردگار سے دور ہوتے جا رہے ہیں‘‘ ۔

مذکورہ بالاروایت سے دو باتیں واضح ہوئیں :

اول : یہ کہ مال کی حرص علامات قیامت میں سے ہے۔

دوم : یہ طمع اور یہ حرص اللہ رب العزت سے دوری کا سبب بنتی ہے ۔

یہاں یہ بحث نہیں ہے کہ یہ مالی حرص حلال کی بنیاد پر ہے یا حرام کی بنیاد پر ۔اگر حرام کی بنیاد پر ہے تو پھر یہ انسان انتہائی ترس کھائے جانے کے قابل ہے۔ خواہ وہ انڈسٹریوں اور بڑی بڑی کمپنیوں کا مالک ہو لیکن رحم کے قابل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ حَرَام

المعجم الكبير للطبرانى: حدیث نمبر 309

’’جو انسان کا گوشت رزق حرام سے بنتا ہے وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا‘‘ ۔اور ایک حدیث میں فرمایا :

اللحم الَّذِي نَبَتَ مِنْ حَرَام فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ

’’ جو گوشت رزق حرام سے بنتا ہے اس کی حق دار جہنم کی آگ ہے‘‘ ۔ حرص اگر حرام کی اساس پر ہے تو یہ انسان کے لئے تباہ کن ہے ۔لیکن اگر حلال کی اساس پر ہے تو پھر بھی معیوب ہے۔ صحیح بخاری[2]میں حدیث ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین بطور قاصد بھیجا تا کہ وہ وہاں سےجزیہ کا مال وصول کرکے لائیں۔ ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ گئے اور مال لے کر آئے جس وقت مدینے میں پہنچے رات کا وقت تھا اور صحابہ کو ان کی آمد کی اطلاع ہو چکی تھی ، فجر میں لوگ دور دور سے نماز میں شریک ہوئے جب پیارے پیغمبرمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور پیچھے دیکھا اور دیکھا کہ دور دور سے صحابہ آئے ہوئے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

 لَعَلَّكُمْ سَمِعْتُمْ بقُدُومِ أبِي عُبَيْدَةَ

’’شاید تم نے سن لیا ہے کہ ابو عبیدہ بحرین سے مال لے کر آگئے ہیں اور اس کی تقسیم ہو گی ‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

أبشِروا، وأمِّلوا ما يسرُّكُم

تم خوش ہو جاؤ اور وہ امید لیکر یہاں بیٹھو جو تمہیں خوش کر دے گی ،یہاں بخل نہیں ہے یہ مال تم میں تقسیم ہو گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

وَاللّٰهِ ما الفَقْرَ أَخْشَى علَيْكُم، وَلَكِنِّي أَخْشَى علَيْكُم أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا علَيْكُم، كما بُسِطَتْ علَى مَن كانَ قَبْلَكُمْ

’’ مجھے تمہارے بارے میں اندیشہ فقر نہیں ہے کہ تم فقیر ہو جاؤ گے بلکہ مجھے تم پر اندیشہ یہ ہے کہ یہ دنیا تم پر کشادہ کردی جائے گی جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فراخ کردی گئی تھی‘‘

فَتَنَافَسُوهَا كما تَنَافَسُوهَا

’’اور تم بھی اس دنیا میں راغب ہو جاؤ گے جیسا کہ تم سے پہلے اس میں راغب ہوئے تھے‘‘۔

فتُهْلِكَكم كما أَهْلَكَتهُم

’’ اور یہ دنیا کی رغبت اور یہ حرص اور یہ لالچ تمہیں بھی بربادکردےگی جیسا کہ ان کو برباد کرچکی تھی جیسا کہ سابقہ لوگوں کو دنیا نے برباد کیا اس فراوانی اور مال کے حرص نے‘‘ ۔کہیں یہ تمہارے اندر یہ مرض پیدا نہ ہوجائے اشارہ امت محمدیہ کی طرف ہے ورنہ صحابہ کرام اس قسم کے حرص سے بالکل پاک تھے جناب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :’’میں کبھی یہ تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھا، کہ دنیا کی محبت بھی کوئی چیز ہے اصل محبت تو پروردگار کی اوردار آخرت کی ہے،دنیا کی محبت ،دنیا کے مال کی محبت میرا دل نہیں مانتا تھا مگر جب قرآن کی آیت اتری

﴿مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا﴾

آل عمراں: 152

اس آیت کے نزول کے بعد مجھے یہ ماننا پڑا کہ دنیا کی محبت بھی کچھ دلوں میں ہوتی ہے۔[3]مگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس چیز سے مبرا تھے ان کا تعلق صرف اپنے پروردگار کے ساتھ تھا ، محبت صرف اپنے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی اور وہ حصول آخرت کے لئے محنت کرتے تھے دنیا کی قطعا کوئی حرص نہ ہوتی تھی۔ ایک صحابی میدانِ جہاد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھےفتح ہوئی مال غنیمت حاصل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کا حصہ دیا کہ تم یہ لے لو اس نے کہا :

ما اتبعتک لهذا و إنما اتبعتک لکي أُرمی هاهنا في سبيل اللّٰہ و أشار إلی عنقه

سنن النسائی: کتاب الجنائز، الصلاۃ علی الشھداء1953

’’ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اس دنیا کے مال کی خاطر آپ کی اتباع نہیں کی میرا تو ایک ہی ہدف ہے کہ آپ کے ساتھ کسی جہاد میں یہاں تیر لگے اور شہید ہو جاؤں ،شہادت کا تمغہ اپنے سینے سے سجالوں۔‘‘

تو اللہ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے ایک معرکے میں یہ صحابی شریک تھا اور شہید ہو گیا اور واقعی دیکھا گیا کہ تیر وہیں پیوست تھا جہاں اس نے اشارہ کیا تھا ۔اب جو اس نے بات کہی تھی کہ میں دنیا کے مال کی خاطر آپ کی اتباع اختیار نہیں کئے ہوئے بلکہ میرا مقصد تو شہادت کی موت ہے ۔ تو اس کا مطلب یہ ہوسکتا تھا کہ شاید یہ گھر کا کھاتا پیتا ہو اسے مال کی حاجت ہی نہ ہولہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’اس کا مال دیکھو ،سامان دیکھو کوئی کفن کی چادر ہے یا نہیں ؟ جب اس کا سامان دیکھا گیا تو کفن کی کوئی چادر بھی نہ نکلی ایک چھوٹی سی چادر تھی کہ سر ڈھانپتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھانپتے تو سرکھل جاتا ۔پھر پیارے پیغمبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر مبارک عطا فرمائی کہ میرے اس صحابی کو اس میں کفن دے دو۔‘‘ [4] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت کا اعجاز تھا ،حرص اور دنیا کی طمع نہیں تھی مگر پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو ں جوں دنیا آگے بڑھے گی لوگ دنیا کے اعتبار سے حرص میں گرفتار ہوں گے او ر اپنےپروردگار سے دور ہوتے جائیں گے ۔

فرمان باری تعالیٰ ہے :

أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ۝ حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ۝ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ۝ ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ۝ كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ ۝ لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ۝ ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ ۝ ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ ۝

التکاثر: 1 – 8

تمہیں کثرت مال و اولاد کی طلب نے تباہ و برباد کر دیا ہے حتی کہ تم قبر میں پہنچ گئے اور قبر میں پہنچنا قیامت کا وقوع ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

’’من مات فقد قامت قيامته ‘‘

یعنی جو شخص مرتا ہے اس کی قیامت اسی وقت قائم ہو جاتی ہے ۔

لہٰذا حرص اور کثرت کی طلب یقینا خطرناک ہو سکتی ہے ہمیں اپنے شب وروز میں اپنی اس دنیا کی زندگی میں اس معاملے پر توجہ دینی چاہئے اور خوب سوچ و بچار کرنا چاہئے ۔

جامع ترمذی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے :

’’و إن لکل أمة فتنة وإن فتنة أمتي المال‘‘

’’ہرامت کا ایک فتنہ ہے اللہ تعالی نے ہر امت کو کسی نہ کسی چیز کیلئے آزمایا ۔میری امت کا فتنہ مال ہو گا۔ ‘‘[5]

 اللہ رب العزت اس امت کا امتحان لے گا مال کے ساتھ ۔کسی کو مال سے محرو م کر کے اور کسی کو مال کی فراوانی دیکر دونوں امتحان ہیں اور اللہ رب العزت اس مال کو میری امت کا فتنہ بنائے گا ، آزمائش کی چیز بنائے گا تبھی تو سب سے بڑا فتنہ ،اس امت کی سب سے بڑی آزمائش فتنہ دجال ہے کیونکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ’’ خلق آدم سے لیکر قیامت تک کی آخری دیواروں تک سب سے بڑا فتنہ دجال کا فتنہ ہے اس سے بڑا فتنہ کوئی نہیں۔‘‘[6]اس فتنے کی یلغار کس راستے سے ہو گی ؟ فتنہ دجال اتنا خطرناک کیوں ہے؟ یہ آزمائش اتنی شدید کیوں ہے ؟اس لئے کہ اس فتنے کی جو بنیادیں ہیں اور جو اساسیں ہیں وہ مال ہی ہے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے2 :’’ دجال کی آمد سے قبل جو تین سال ہوں گے ۔وہ تین سال اقتصادی اعتبارسے انتہائی تنگی کے سال ہوں گےفرمایا:

’’تحبس السماءثلث قطرها والأرض ثلث نباتها‘‘۔

ان پہلے تین سالوں میں سے پہلے سال آسمان اپنی ایک تہائی بارش روک لے گا اور زمین اپنی ایک تہائی فصل روک لے گی ۔دوسرے سال میں آسمان اپنی دو تہائی بارش روک لے گا ۔اور زمین اپنی دو تہائی فصل روک لے گی ۔اور تیسرے سال آسمان اپنی پوری بارش روک لے گا ۔ایک قطرہ بھی نہیں برسے گا جبکہ زمین اپنی پوری فصل یہ پھل اور یہ سبزیاں اور یہ اناج یہ سب روک لے گی اور ایک دانہ بھی پیدا نہیں ہوگا ۔ یہ تین سال دجال کی آمد سے قبل ،اور اس کا ظہور بھی علی جہل الناس ہو گا لوگوں کی جہالت عام ہو گی اور یہ اقتصادی مار الگ ۔ اور دجال جب آئے گا تو اشاروں سے بارش برسائے گا ، اشاروں سے فصلیں اگائے گا اور لوگوں کے امتحان کے لئے اس کے ساتھ ایک عجیب اقتصادی طاقت ہو گی ۔ دجال ایک کڑی آزمائش اس لئے ہے کہ وہ فتنہ مال لے کر آئے گا یوں بندوں کا امتحان ہو گا اور بہت بندے اس میں ناکام ہو ں گے۔ حالانکہ ناکامی کی وجہ نظر نہیں آتی ۔کیونکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے دجال کی دو علامتیں نوٹ کرلو۔ ایک یہ کہ وہ ایک آنکھ سے کانا ہو گا دوسرا اس کے ماتھے پر کافر لکھا ہو گا[7]۔تو یہ دو چیزیں کسی استدلال یا بحث کی محتا ج نہیں یہ تو سامنے دکھائی دے رہیں ہوں گی ۔ایک آنکھ سے کانا سامنے دکھائی دے رہا ہوگا اس کے ماتھے پر کافر لکھا ہوا ہوگالیکن پھر بھی زیادہ لوگ اس کے حلقے میں شامل ہو جائیں گے ۔اور بہت کم لوگ ہوں گے جو اس فتنے سے بچ سکیں گے ۔اسی فتنہ مال سے وہ لوگوں کو گمراہ کرے گا ۔ لوگ اس کے حلقے میں شامل ہوں گے ۔

پھر کیوں ہم اس مال کی حرص لیکر بیٹھے ہیں ؟جو سراسر ہمارے لئے ایک آزمائش ہے ۔اور جوں جوں یہ حرص بڑھے گی ،توں توں یہ چیز علامات قیامت میں داخل ہوتی جائے گی ،اور پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قیامت کی علامتوں میں ذکر کیا ہے ۔کہ مال کا کسب ،مال کاخرچ اور مال کی محبت ،یہ سارے امور اور مال کے تعلق سے فخر کرنا اترانا ان سارے امور کو علامات قیامت میں شمار کیا گیا ہے ۔حدیث جبرئیل جس میں ہمارے سامنے دین اسلام کے قواعد بیان کئےگئے ہیں ۔ اس میں جبریل امین کا ایک سوال یہ تھا کہ

’’متی الساعة يا رسول اللّٰہ‘‘

 اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بتائیے قیامت کب آئےگی ؟ آپ نے فرمایا کہ اس قیامت کا علم جتنا تجھے ہے مجھے اس سے زیادہ نہیں ہے ۔تو جبرئیل امین نے سوال کیا:

 ’’فاخبرنی عن أماراتها؟‘‘

تو پھر قیامت کی نشانیاں بتادیجئے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند نشانیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا:

ان تلد الأمة ربتها وأن تری الحفاة العراة الرعاء الشاء يتطاولون في البنيان

صحيح بخارى: كتاب الإيمان:حدیث : 49 و مسلم ، حدیث نمبر100

قیامت کی علامتیں یہ ہیں کہ لونڈی اپنی مالکن کو جنے گی۔اشارہ لونڈیوں کی کثرت کی طرف ہے اور یہ بھی ایک مال کی کثرت کی بنیاد ہے حتی کہ جو اولاد پیدا ہو گی وہ اس لونڈی کی ظاہر ہے کہ مالکن ہی ہو گی کیونکہ جس عمل کے نتیجے میں وہ اولاد پیدا ہو رہی ہے وہ لونڈی کا سردار اور لونڈی کا آقا ہے ۔ تو کثرت مال کی یہ ایک نشاندہی کی ۔دوسری چیز آپ نے یہ ارشاد فرمائی کہ تم دیکھو گے بکریوں کے چرواہے اور ننگے پاؤں گھومنے والے بڑی بڑی بلڈنگیں بنا کے فخر کریں گے تو ان کے فخرواترانے کا سبب جو ہے یہی دنیا کا مال ہو گا ۔

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ

الحجرات: 13

جو اللہ کے نزدیک تکریم کی اساس ہے وہ تقوی اور پرہیز گاری اور تعلق باللہ ہے اس کو فراموش کردیں گے اور یہ بلند و بالا عمارتیں ،یہ ان کا فخر و مباھات کا سبب بن جائے گا ۔حتی کہ بعض لوگوں کا یہ فخر مساجد کے ساتھ بھی مربوط ہو گا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ

سنن نسائى ، سنن ابن ماجة: باب تشید المساجد، حدیث نمبر739، علامہ البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔

اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک یہ حالات پیدا نہ ہو جائیں کہ لوگ مساجد میں فخر کریں۔ کہ میری مسجد کا مینار سب سے اونچا ہے اور میری مسجد میں زیادہ ملمع سازی ہے اور فلاں کی مسجد میں کم ہے ان چیزوں کو ذکر کر کے مساجد جو عبادت کے مراکز ہیں جہاں سادگی مطلوب ہے لوگ اس میں فخر کریں گے اور یہ فخر بھی اس مال سے محبت کی بنیاد پر  ہے۔ اور یہ چیزیں قیامت کے وقوع کی خبر دیں گی۔

 عابس الغفاری رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان نقل کرتے ہیں جسے امام طبرانی نے معجم الکبیر[8]میں صحیح سند سے بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

’’بادروا بالاعمال ستا‘‘۔

چھ چیزوں کے پیدا ہونے سے پہلے عمل کرلو قبل اس کے کہ چھ چیزیں پیدا ہوں۔

(1) ’’إمارة السفهاء‘‘

بے وقوفوں کی امارت اور حکومت یعنی بے وقوف تم پر حاکم ہوں گے جن کی کوئی رائے نہیں اور جن کے پاس کوئی شرعی تعقل اور تدبر کی بنیاد نہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی علامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ أَسْعَدَ النَّاسِ بِالدُّنْيَا لُكَعُ بْنُ لُكَعٍ

ترمذى: کتاب الفتن ، باب ماجاء فی اشراط الساعۃ،حدیث نمبر : 90

ان الفاظ کا سادہ سا ترجمہ یہ ہے کہ ’’اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک دنیا کا اقتدار ایک ایسے شخص کو نہ مل جائے جو کمینہ ابن کمینہ ہو ‘‘ ۔

(2) ’’وکثرة الشرطة ‘‘

یعنی ’’ زیادہ پولیس ‘‘۔ زیادہ پولیس کا معنی ہےزیادہ جرائم ۔ جب جرائم زیادہ ہوں گے تو اس کے سد باب کیلئے زیادہ پولیس ہوگی ۔دیکھیں !امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جنہوں نے قیصر و کسری کی کمر توڑی ، قیصر کے سرکاری لوگ مدینہ آئےکہ دیکھیں اس فاتح قیصر کی شان کیا ہے؟ مدینہ پہنچے اورپوچھا امیر المؤمنین کہاں ہیں؟اتفاق سےآپ وہیں ایک درخت کے نیچے سو رہے تھے اکیلے نہ کوئی چوکیدار ہے ،نہ کوئی پہریدار ہے نہ کوئی محافظ !۔آج تو ایک حاکم حرکت کرتا ہے تو تقریبا دس ہزار پولیس حرکت میں آتی ہے ۔پولیس کا زیادہ ہونا ان نا اہلوں کی بناء پر ہے ۔ امیرالمؤمنین تن تنہا سورہے ہیں ،آدھی دنیا کے فاتح ۔ پولیس کا زیادہ ہونے کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ سلاطین کا اسکواڈ بڑھ جائے گا جو جگہ جگہ ان کی نگرانی میں چکر لگائیں گے ، فرمایا کہ یہ بھی علامات قیامت میں سے ہے ۔

(3) ’’بيع الحکم‘‘

کہ ایسے قاضی اور جج پیدا ہوں گے جو اپنے فیصلوں کو بیچیں گے یعنی رشوت کا بازار گرم ہوگا ۔ وکیل پیسہ کھرا کرنے کے لئے کیس لینے کے لئے جھوٹ پر جھوٹ بولیں گے اور جج رشوت لینے کے لئے انصاف بیچیں گے فرمایا کہ اس وقت کے آنے سے پہلے جب ایسے جج پیدا ہوں جن کے فیصلے ظلم رشوت پر مبنی ہوں اچھے عمل کرلو ۔ عدل وانصاف بک گیا تو کیا خیر و برکت ہو گی ؟کیونکہ  آسمان و زمین کا توازن تو عدل پر قائم ہے جب معاملہ ظلم پر پہنچ جائے گا اور یہ نوبت آجائے گی پھر تمہاری حالت اورکیفیت کیا ہو گی ؟ اس وقت کے آنے سے پہلے پہلے تم عبادت کرلو اور عمل صالح کرلو ۔

(4) ’’وقطيعة الرحم‘‘ ۔

 قطع رحمی بھی علامات قیامت میں سے ہے کہ جب دیکھو گے ہر گھر میں تقریبا رشتے داروں میں ایک فساد برپا ہو چکا ہے ۔

(5) ’’ نشع يتخذون القرآن مزامير‘‘۔

نوجوانوں کی ایک نئی نسل پیدا ہوگی جو قرآن کو باجا اورگانا بنائیں گے۔

’’يقدمون أحدهم‘‘۔

اور لوگ ان میں سے کسی ایک کو کھڑا کریں گے ، آگے بڑھائیں گے۔

 ’’لکي يغنيهم‘‘

تاکہ وہ ان کو گا گا کر سنائے ۔

’’و إن کان أقلهم فقها‘‘۔

حالانکہ وہ علمی اعتبار سے انتہائی کم ہو گا۔ اس کا کوئی مقام نہیں مگر اس کو آگے بڑھایا جائے گا ۔ صرف اس کا ترنم سننے کیلئے اس کوآگے بڑھایا جائے گا فرمایا جب تم اس قسم کے نوجوان دیکھو تو یہ بھی علامات قیامت میں سے ہیں۔یہ وہ علامتیں ہیں جن کا ہم بخوبی مشاہدہ کر رہے ہیں ، اور ان سب کی بنیاد حبِ دنیا ہے ۔

(6) اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی، جب تک عورتیں مردوں کے ساتھ تجارتوں میں شریک نہ ہوں۔ لوگ حرام چیزوں کے نام بدل کر اس کو حلال کرلیں گے شراب کا نام شربت اور نبیذ ، رشوت ہدیہ بن جائے گی، یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور ہمارے سامنے ہی ہو رہا ہے، یہ علامات قیامت میں سے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی اس زندگی میں غور و فکر کریں دنیا کے ساتھ تعلق ہو مگر ایک واجبی تعلق، فتنوں اور آزمائشوں کا دور ہے۔

عقبہ بن عامر نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:

’’ماالنجاة يارسول اللّٰہ!‘‘

 اے اللہ کے رسول نجات کیسے ہوگی ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:

’’أمسک عليک لسانک‘‘،

 اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھنا،:

’’ وابک علی خطيئتک ‘‘

 اور اپنے گناہوں پر رونے بیٹھ جاؤ،اور:

’’وليسعک بيتک‘‘

اور کوشش کرو کہ تمہارے گھر کی چاردیواری تمہارے لئے کشادہ ہو۔‘‘[9]اپنے گھر میں زیادہ محصور ہوجاؤ،اورباہر سے ایک واجبی تعلق ہونا چاہئے ، لوگوں کے ساتھ، اہل دنیا کے ساتھ،دنیاوی امور کے ساتھ وہ بھی انجام دو لیکن زیادہ وقت اپنے گھر میں اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اپنے گناہوں پر روتے  ہوئے، خلوت میں غور و فکر کرتے ہوئے گذارو ۔ اس کا سب سے اہم فائدہ یہ ہوگا کہ بچوں پر نگاہ رہے گی، ان کی تربیت کر سکوگے جوتمہاری ذمہ داری ہے جس کی بابت قیامت کے دن باز پرس ہوگی ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالداری پر فقر کو ترجیح دی،فرمایا :

ما أحب لي أن يجعل لي أحدا ذهبا

صحیح بخارى : کتاب الزکاۃ، باب ارضاء السعادۃ حدیث نمبر: 1408

’’میں نہیں چاہتا کہ احد پہاڑ میرے لئے سونا بن جائے‘‘۔حالانکہ آپ کو اختیار دیاگیا تھا، آپ چاہیں تو یہ پہاڑ آپ کےساتھ سونے کے بن کر گھومیں پھریں۔ اگر یہ ہو بھی گیا تو میں تین دن کےا ندر اندر یہ سونا اللہ کی راہ میں تقسیم کردونگا۔ ہاں ! ایک دینار، دو دینارمجھے پتہ ہو کہ میرا کوئی ساتھی، کوئی بھائی مقروض ہے اور وہ یہاں موجود نہیں تو اس کےلئے دو دینار سنبھال کے رکھوں گا وہ آئے تو اس کو دوں تاکہ وہ قرضہ ادا کرے ، پیارے پیغمبر کی زندگی، آپ کی معیشت کوئی سرمایہ داری اور سرمایہ کاری کی معیشت نہیں تھی، بلکہ فقر آپ کو پسند تھا، اور جس قدر فقرہوگا اس قدر حساب میں آسانی ہوگی۔ نبی علیہ السلام کی حدیث بھی ہے کہ :

اطلعت في الجنة فرأيت أکثرأهلها الفقراءواطلعت في النار فرأيت أکثر أهلها النساء

صحيح بخارى : باب ما جاءفي صفة الجنة حدیث نمبر: 324

میں نے جنت دیکھی جنت میں فقیر زیادہ تھے اور مالدار کم تھے، جہنم دیکھی عورتیں زیادہ تھیں اور مرد کم تھے‘‘۔ یہ سب فقر کے فضائل ہیں، بجائے اس کے ہم بہت بڑھ چڑھ کر دنیا کی فکر کریں،اور یہ حرص و طمع لے بیٹھیں، اور آخرت کے معاملے کو فراموش کردیں۔

أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (1) حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (2)

التکاثر: 1 – 2

اس کثرت مال کی طلب نے تمہیں ایسا غافل کیا، کہ تم قبروں میں پہنچ گئے ۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَادِيَانِ، وَلَنْ يَمْلَأَ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللّٰهُ عَلَى مَنْ تَابَ

صحيح بخارى: باب ما يتقى من فتنة المال حدیث نمبر: 6439

’’ ابن آدم کو اگر سونے کی دو وادیاں دیدی جائیں، تو قناعت کی بجائے وہ تیسری وادی کے حصول کی فکر کرےگا‘‘ حالانکہ زندگی میں قناعت ہونی چاہئے۔ اس امت میں عیسیٰ علیہ السلام کا دور مال کا ہوگا مگر قناعت کے ساتھ اس کا استعمال ہوگا، پیغمبر علیہ السلام کی حدیث ہےمیرا اس پر ایمان ہے کہ ایک انار ایک خاندان کے لئے کافی ہوگا برکت بھی ہے، قناعت بھی۔ اسی انار کا چھلکااس خاندان کا خیمہ بن سکے گا، برکت بھی ہے اور قناعت بھی ہے، مگر یہ کیا معاملہ ہے کہ انسان کو دو وادیاں سونے کی مل گئیں ہیں، مگر صبر و شکر کی بجائےتیسری وادی کے حصول کی کوشش کرے ، دو انڈسٹریاں لگ چکی ہیں، تیسری بھی ہونی چاہئے فرمایا کہ یہ تم کو اتنا غافل کردے گی یہاں تک کہ تم قبر میں پہنچ جاؤگے ، فرمایا کہ اچانک موت اپنےپنجے تمہارے سینے میں گاڑ ھ دے گی۔ ابن آدم کے پیٹ کو تو قبر کی مٹی ہی بھرے گی یہ دنیا کا مال اس کا پیٹ نہیں بھرے گا ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم امور آخرت کی طرف توجہ دیں دنیا کے ہجوم مشاغل میں ضرور ہماری نظر ہو، ہماری نگاہ ہو، اصلاح کا کام کریں،تکسب بھی ہو، لیکن زیادہ تعلق باللہ ہو، اپنی آخرت کو سنوارنے کے لئے ، دنیا تو دارِ فانی ہے، عمر انتہائی تھوڑی ہے۔ 60 سال کی 70 سال کی 80 سال کی اس سے زیادہ کیا ہوسکتی ہے؟ مگر آخرت دارِابدی ہے، ہمیشہ قائم رہنے والی ، وہاں اگر خسارے کا معاملہ ہوگیاتو بہت ہی خطرناک ہوگا، پیغمبر علیہ السلام کا فرمان ہے:

المكثرون هم المقلون

صحيح بخارى :باب المخسرون ھم المقلون، حدیث نمبر:1206

زیادہ مال و دولت والے قیامت کے دن انتہائی قحط کا کا شکار ہوں گے‘‘اور ایک حدیث میں:

’’هم الأخسرون‘‘

کے الفاظ ہیں، بڑے گھاٹے میں ہو ں گے ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

إلتقى المؤمنان على باب الجنة فلقيه الفقير فقال:يا أخي ماذا حبسك ؟واللہ لقد احبست حتى خفت عليك ، فيقول أي أخي ! إني حبست بعدك محبسا فظيعا كريها ، ما وصلت إليك حتى سال مني العرق ما لو ورده ألف بعير كلها أكلت جميعا لصدرت عنه راویۃ۔‘‘2

 دو انسانوں کو اکٹھا جنت کی طرف روانہ کیاجائے گا۔ایک دنیا میں مالدار تھا، دوسرا فقیر تھا، دونوں جارہے ہیں بخوشی جارہے ہیں، جو فقیر ہے، جنت میں داخل ہوجائے گا اور مالدار کو روک دیا جائے گا جنت میں داخل ہونے والاغریب ، اپنے دوست کو تلاش کرے گا وہ اس کو دکھائی نہیں دے گا بالآخر وہ تقریباً 500 سال کے بعد جنت میں داخل ہوگا، اس فقیر بھائی نے پوچھا تم کہاں تھے؟ وہ جواب دےگا کہ:

’’ حبست بعدک، محبسا کريها فظيعا‘‘

 تمہیں داخل کردیا گیا، مجھے روک دیا گیا، اور بڑا برا روکا گیا، مجھے ایک مقام پر کھڑا کردیا گیا، میرا پسینہ بہنا شروع ہوگیا، اس قدر پسینہ بہا کہ سو اونٹ اگر اس پسینے پر وارد ہوتے تو سارے کے سارے سیراب ہوکر لوٹتے۔

 لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں فرمایا کہ’’زیادہ سرمایہ دار قیامت کے دن خسارے میں ہوں گے اور قلت کا اور قحط کا شکار ہوں گے سوائے اس سرمائے دار کے آپ نے ہاتھ سے اشارہ کرکے فرمایا کہ جو اس طرح کرے مال کو راہ حق میں لٹادے اس مال کا حق ادا کرے تو یہ مال اس کے لئے بہت زیادہ عافیت اور کامیابی کا سبب بن جائے گا‘‘۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو تقریبا سات مواقع پر نبی علیہ السلام نے انفاق مال کی بنا پر جنت کی بشارت دی ۔اور ہم دنیا میں اپنے اعمال میں اور آخرت اور دنیا کے اعمال میں ایک توازن اور اعتدال پیدا کریں ۔اور دنیا سے محض ایک واجبی سا تعلق ہو ۔جیسا اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے اور صحابہ کرام ، سلف صالحین کی سیرت سے ہمارے سامنے آتا ہے ۔ اور اصل محنت آخرت کے حصو ل اپنے پروردگار سے تعلق قائم کرنے کے لئے ہو ، تقوی کی صورت میں ہو ۔ اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق عطا فرما دے ۔

وصلی اللّٰہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ وصحبہ أجمعین


[1] مستدرک حاکم :کتاب الرقاق ،حدیث نمبر 38914

[2] صحيح البخاري :باب الجزية و الموادعةحدیث نمبر 3158

[3] تفسير طبرى:ص 8035-8038

[4] مستدرك حاكم: 3/688

[5] جامع الترمذى: كتاب الشهادات: حدیث نمبر :2221

[6] سنن ابن ماجة:كتاب الفتن : حدیث نمبر :957 2 ايضا

[7] صحيح بخارى: كتاب الفتن ، حدیث : 2018

[8] معجم الكبير: حدیث نمبر : 60

[9] ترمذى:باب ما جاء حفظ اللسان، حدیث نمبر : 2406

مصنف/ مقرر کے بارے میں

فضیلۃ الشیخ علامہ عبد اللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ