بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
جمعرات, 26 ستمبر 2019 14:41

سترے کے احکام

Written by  سعید بن علی القحطانی حفظہ اللہ، ترجمہ: فضیلۃ الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ

سترے کے احکام

حافظ صلاح الدین یوسف[1]

نمازی کے آگے سترہ رکھنا واجب ہے یا مستحب؟ اس میں علما کی دو رائیں ہیں، بعض کے نزدیک مستحب اور بعض کے نزدیک واجب ہے۔ استحباب کی دلیل کھلی فضا میں بعض دفعہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کا بغیر سترے کے نماز پڑھنے کا واقعہ ہے۔ [2]

وجوب کے قائل علماء کے نزدیک مذکورہ واقعے میں ’’غیرجدار‘‘ کے الفاظ ہیں جس کا مطلب وہ یہ لیتے ہیں ’’یصلي الی شيء غیر الجدار‘‘ یعنی ایسی چیز کے سامنے نماز پڑھی جو دیوار نہیں تھی۔ مزید وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے بغیر سترے کے نماز پڑھائی ہوتی تو یہ الفاظ ہوتے’یصلی الی غیر سترۃ‘آپ نے بغیر سترے کے نماز پڑھی۔[3]

بہرحال احادیث میں سترے کی جتنی تاکید آئی ہے، اس سے وجوب ہی کی تائید ہوتی ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم بالعموم کھلی فضا میں نماز پڑھاتے تو آپ کے آگے بطور سترہ برچھی یا نیزہ گاڑ دیا جاتا تھا۔

سترے کی تاکید:

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے سے کسی کو گزرنے نہ دے، بلکہ جہاں تک ہو سکے اس کو روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے، کیونکہ وہ شیطان ہے‘‘۔ (لڑنے کا مطلب ہے، زور سے روکے)

ایک دوسری حدیث میں فرمایا:

’’اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو علم ہو کہ اس کا کتنا گناہ ہے تو گزرنے کے بجائے اس کو چالیس (سال) تک بھی انتظار میں ٹھہرنا پڑے تو اس کے لیے بہتر ہو۔‘‘[4]

کیا سترہ مسجد میں ضروری نہیں؟

احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی بابت سترے کے جو واقعات بیان ہوئے ہیں (مثلاً صحرا، کھلی فضا، عیدگاہ وغیرہ میں) ان سے بعض لوگ استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مسجد میں سترہ رکھنا ضروری نہیں۔ لیکن یہ استدلال غیر صحیح ہے۔

اولاً :اس لیے کہ سترے کی تاکید میں جتنی احادیث منقول ہیں وہ مطلق ہیں، اس میں صحرا، عیدگاہ وغیرہ کی تحدید نہیں ہے بلکہ ان کا عموم مسجد اور غیر مسجد دونوں جگہ اس حکم پر عمل کا مقتضی ہے۔

ثانیاً: صحابہ کرام کے عمل سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، صحابہ کرام مغرب کی اذان کے بعد دو رکعت پڑھنے کے لیے ستونوں کی طرف دوڑتے تھے، یعنی ان کو سترہ بنا کر دو رکعت پڑھتے۔ [5]

اسی باب میں جناب سلمہ بن اکوع کی حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کوشش کر کے ایک ستون کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔

علاوہ ازیں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  جب نماز پڑھاتے تو سامنے جو دیوار ہوتی  وہ آپ (کے سجدے والی حالت) سے اتنے فاصلے پر ہوتی کہ صرف بکری گزر سکتی تھی۔[6]

اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ دیوار کو سترہ بنا لیا کرتے تھے۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نمازی اور سترے کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں ہونا چاہیے، صرف اتنا ہی ہونا چاہیے جتنا معمولِ نبوی سے معلوم ہوتا ہے۔

اس مختصر تفصیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسجد میں نمازیوں کو سنن و نوافل کی ادائیگی کے وقت دیوار کے قریب یا ستون کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے۔ بصورت دیگر سترے کا اہتمام کیا جائے۔ اگر اس کے بغیر نماز پڑھی جائے گی تو گزرنے والے کے ساتھ ساتھ نمازی بھی عند اللہ مجرم ہو سکتا ہے۔

نمازی اور سترے کے درمیان کتنا فاصلہ ہو؟

اس کی کچھ وضاحت سطور بالا سے اگرچہ ہو چکی ہے کہ یہ فاصلہ زیادہ نہیں ہونا چاہیے تاہم علماء نے اس کی مقدار تین ہاتھ (ذراع) بتلائی ہے۔ یہ ایک اندازہ ہے، اس میں کچھ کمی بیشی ہو تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن یہ فاصلہ زیادہ بہرحال نہ ہو۔

سترہ کتنا لمبا اور کتنا موٹا ہو؟

صحیح مسلم میں ہے:

’’جب تم میں سے کوئی شخص’مؤخرۃ الرحل‘کے برابر کوئی چیز رکھ لے تو نماز پڑھ لے، پھر اس سے آگے گزرنے والے کی پروا نہ کرے۔‘‘

صحیح مسلم ہی میں دوسری حدیث ہے:صحابہ نے کہا: ہم نماز پڑھتے ہیں تو جانور ہمارے آگے سے گزرتے رہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:

’’تمھارے سامنے’مؤخرۃ الرحل‘کی مثل کوئی چیز ہو تو پھر تمھارے آگے سے گزرنے پر تمھیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔‘‘

’مؤخرۃ الرحل‘کیا ہے؟ اونٹ وغیرہ پر بیٹھنے کے لیے جو لکڑی کا پالان رکھتے ہیں، اس کا پچھلا (ٹیک لگانے والا) حصہ’مؤخرۃ الرحل‘ (یعنی پالان کا پچھلا حصہ) ہے۔ اس کی لمبائی ایک ذراع (ایک ہاتھ) یا بعض نے ایک ذراع اور ایک بالشت بتلائی ہے۔ آج کل اس کی لمبائی ایک فٹ اور ڈیڑھ فٹ کے درمیان علماء بتلاتے ہیں۔

یہ تو سترے کی لمبائی (طول) کا مسئلہ ہوا۔ یہ موٹا، یعنی چوڑا کتنا ہو؟ اس کی تحدید نہیں کی جا سکتی کیونکہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سترہ برچھی یا نیزہ بھی ہوتا تھا۔ اور اس کی چوڑائی سب کو معلوم ہے۔ اس لیے اصل مسئلہ صرف لمبائی کا ہے۔ تاہم خط کھینچنے والی روایت صحیح نہیں ہے۔ اسی طرح یہ روایت بھی صحیح نہیں ہے کہ سترہ نمازی کے بالکل سامنے نہ ہوبلکہ دائیں یا بائیں جانب ہو۔ کیونکہ اصل سترہ تو وہی ہے جو اس کے بالکل سامنے، یعنی اس کی سیدھ میں ہو۔

بغیر سترہ بعض چیزوں کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جائے گی:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

’’اگر نمازی کے آگے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو گدھا، کالا کتا اور عورت، مرد کی نماز کو قطع کر دیتے ہیں۔‘‘ پوچھا گیا: کالا کتا ہی کیوں، سفید وغیرہ کیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’کالا کتا شیطان ہے۔‘‘ [7]

قطع کر دینے کا مطلب اکثر علماء یہ بیان کرتے ہیں کہ نماز کے خشوع خضوع میں فرق آ جاتا ہے۔ جب کہ امام احمد، امام ابن قیم وغیرہما نے ظاہری مفہوم مراد لیا ہے کہ نماز باطل ہو جاتی ہے۔ اس کی تائید ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے:

’تعاد الصلاۃ من ممر الحمار و المرأۃ و الکلب الاسود[8]

’’ گدھے، عورت اور سیاہ کتے کے گزرنے پر نماز لوٹائی جائے۔‘‘

تاہم خیال رہے عورت کا گزرنا (جس سے نماز ٹوٹ جائے گی) اور ہے اور عورت کا نمازی کے آگے لیٹے ہونا اور بات ہے جو جائز ہے، اس سے نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہو گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا لیٹی ہوتی تھیں اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے۔[9]اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سوئے ہوئے آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے۔

ایک ضروری وضاحت:

ایک حدیث میں ہے: لا یقطع الصلاۃ شیء‘ ’’نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی۔‘‘[10]

اس حدیث کی صحت میں اختلاف ہے، بعض کے نزدیک یہ حسن درجے کی ہے۔ ان کے نزدیک اس عموم سے مذکورہ اشیاء (گدھا، عورت، سیاہ کتا) مستثنیٰ ہوں گی، یعنی ان کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جائے گی۔ تاہم ان کے علاوہ کسی اور چیز سے نماز نہیں ٹوٹے گی۔ شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک دونوں روایات ضعیف ہیں، اس لیے مذکورہ اشیاء کے استثنا کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

اگر سترہ نہ ہو تو کتنے فاصلے سے گزرنا جائز ہو گا؟

اس میں تین موقف ہیں:

بعض حضرات اس کی کوئی حد نہیں بتلاتے اور کہتے ہیں کہ کتنا بھی زیادہ فاصلہ ہو، نمازی کے آگے سے گزرنا جائز نہیں ہے۔ لیکن اس موقف میں کوئی معقولیت نہیں ہے۔

دوسرا موقف ایک ضعیف حدیث پر مبنی ہے جو سنن ابی داود میں ہے، اس میں ہے:

’’جب تم میں سے کوئی شخص بغیر سترے کے نماز پڑھ رہا ہو تو اس کے آگے سے کتے، گدھے، خنزیر، یہودی، مجوسی اور عورت کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جائے گی۔ ہاں اگروہ پتھر پھینکنے کے برابر فاصلے سے زیادہ فاصلے سے گزریں تو نماز نہیں ٹوٹے گی (اتنا فاصلہ اس کو کفایت کر جائے گا)۔‘‘[11]

یہ حدیث بھی قابل استدلال نہیں، کیونکہ ضعیف ہے۔ علاوہ ازیں پتھر پھینکنے کی تفصیل مجہول ہے، پتھر کس طرح پھینکنا ہے؟ پھر پھینکنے کی مقدار اور مسافت میں بھی فرق ہو گا، کوئی زیادہ زور سے پھینکے گا تو اس کا فاصلہ دوسرے پھینکنے والے سے زیادہ ہی ہو گا۔ اس کی قطعی مسافت کا فیصلہ ناممکن ہے۔

تاہم اگر یہ روایت سنداً صحیح ہوتی تو ایک اوسط درجے کی مسافت کو حد قراردیا جا سکتا تھا جیسا کہ بعض علماء نے بطور احتیاط اس مسافت کو بطور سترہ قرار دیا بھی ہے۔ [12]

تیسرا موقف یہ ہے کہ نماز کی جو حد ہے، یعنی جہاں سترہ قائم کرنے کا حکم ہے، اس کے آگے سے گزر سکتا ہے، اس کے اندر سے گزرنا منع ہے۔ (فتاویٰ غازی پوری)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے آگے جو نیزہ بطور سترہ رکھا گیا، اس کے آگے سے لوگ اور جانور گزرتے تھے۔[13]حافظ عبداللہ غازی پوری رحمہ اللہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’سترہ قائم کرنے کی جگہ سجدہ گاہ کے آگے ہے جو قریب ڈھائی تین ہاتھ کے ہے۔‘‘

حافظ صاحب دو اور روایات سے استدلال کرتے ہیں:

1… ’’نافع بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمررضی اللہ عنھماجب کعبے کے اندر داخل ہوتے تو سامنے کی دیوار تقریباً تین ہاتھ رہ جاتی تو نماز پڑھتے تھے۔ اس طرح آپ اس جگہ نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے تھے جس کے متعلق بلال نے انھیں بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے وہیں نماز پڑھی تھی۔‘‘ [14]

2… ’’سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی جائے نماز اور دیوار کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کے برابر جگہ ہوتی تھی۔‘‘ [15]

اس کے بعد فتح الباری کے حوالے سے حافظ صاحب،حافظ ابن حجررحمہ اللہ کا قول نقل فرماتے ہیں کہ

’’ابن بطال نے کہا ہے کہ یہ وہ کم از کم جگہ ہے جو نمازی اور سترے کے درمیان ہونی چاہیے یعنی بکری کے گزرنے کے برابر۔ ایک قول کے مطابق اس کی کم از کم مقدار تین ہاتھ ہے … امام داودی نے اس طرح تطبیق دی ہے کہ اس کی کم از کم مقدار بکری کے گزرنے کے برابر اور زیادہ سے زیادہ تین ہاتھ ہے۔ بعض اہل علم نے اس طرح بھی دونوں حدیثوں میں تطبیق دی ہے کہ پہلی کیفیت قیام اور قعدے کے وقت ہے اور دوسری رکوع و سجود کے وقت ہے … سترے کے قریب ہونے کا حکم بھی حدیث میں مروی ہے جس میں اس کی حکمت بھی بیان ہوئی ہے کہ ’’جب تم میں سے کوئی ایک نماز پڑھے تو سترے کے قریب ہو جائے، کہیں شیطان اس پر اس کی نماز کو قطع نہ کر دے۔‘‘ اور یہ حکم ہے کہ اگر کوئی نماز اور اس کے سترے کے درمیان سے گزرے تو نمازی اس کو جس طرح ہو سکے روکے۔ اس روایت کا پورا متن نقل کر کے حضرت غازی پوری فرماتے ہیں:

’’ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ نمازی کی نماز کی جگہ کی حد اُس کے کھڑے ہونے کی جگہ سے سجدہ گاہ تک ہے، اس کے درمیان سے گزرنا منع ہے اور اس کے آگے سے درست ہے۔‘‘[16]

یہ مجموعہ فتاویٰ آج تک قلمی اور بعض کتب خانوں میں محفوظ تھا، اللہ بھلا کرے علمائے اہل حدیث کے پروانے، احیائے مآثر سلف کے جذبہ صادقہ سے سرشار جناب عارف جاوید محمدی (کویت) اور ان کے محترم رفقائے گرامی کا کہ جن کی مساعی حسنہ سے یہ دُرِّ نایاب بھارت سے پاکستان پہنچا اور انھی حضرات گرامی قدر کے تعاون سے ابھی حال ہی میں زیور طباعت سے آراستہ ہو کر اہل علم اور قدر دانوں کے ہاتھوںمیں پہنچا۔ حافظ شاہد محمود فاضل مدینہ یونیورسٹی کی مساعی بھی قابل تحسین ہیں جو کویت کے ریگستانوں کے بنے ہوئے خاکوں میں رنگ روغن بھرنے میں شب و روز مصروف ہیں۔

 حفظھم اللہ تعالٰی و شکر مساعیھم و بارک في جھودھم،آمین۔

یہ چند سطور تو بے اختیار ان کی مخلصانہ خدمات جلیلہ کے اعتراف میں نوک قلم پر آ گئی ہیں، ورنہ گفتگو تو سترے کے موضوع پر ہو رہی تھی۔ گزشتہ رائے گویا ایک صدی قبل کے اہل حدیث مفتی، محقق اور عالم کا نتیجۂ تحقیق ہے۔

یہی رائے عصر حاضر کے محقق، مفتی اور عالم مولانا امین اللہ پشاوری کی بھی ہے۔ ان کی تحقیق کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ جب گزرنے والے کی بابت روکنے کا حکم ہے تو سترے کی حد تین ہاتھ کے برابر ہی ہو گی اور یہ بھی حکم ہے کہ سترہ زیادہ فاصلے پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ قریب ہونا چاہیے۔ تین ہاتھ کی مقدار ہی ایسی ہے کہ نمازی اپنے آگے سے گزرنے والے کو (سترہ نہ ہونے کی صورت میں) روک سکتا ہے۔ اس سے زیادہ فاصلے سے گزرنے والے کو روکنا ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا تین ہاتھ سے زیادہ فاصلے سے گزرنا جائز ہو گا۔ اس سے زیادہ فاصلے سے گزرنے والے کو روکنا نہ ممکن ہے اور نہ حکم ہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسا حکم نہیں دے سکتا جو انسان کی حد طاقت سے باہر ہو اور جب یہ حکم نہیں دیا گیا تو اس کا صاف مطلب یہی ہو گا کہ تین ہاتھ کی مقدار سے آگے گزرنا جائز ہے اور ایسا شخص اس وعید کا مستحق نہیں ہو گا جو نمازی کے آگے سے گزرنے والے کی بابت وارد ہے۔ [17]

3… سعودی عرب کے کبار علماء کی رائے بھی یہی ہے جو اوپر مذکور ہوئی۔ چنانچہ مفتی اعظم اور مجتہد و محقق شیخ ابن باز کی رائے فتح الباری کے حاشیے میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

’ومتی بعد المار عما بین یدی المصلي إذا لم یلق بین یدیہ سترۃ سلم من الإثم، لإنہ إذا بعد عنہ عرفا لا یسمی مارا بین یدیہ کالذي یمر من وراء السترۃ‘ [[18]

’’جب نمازی کے آگے سترہ نہ ہو تو دور سے گزرنے والا گناہ گار نہیں ہو گا، اس لیے کہ دور سے گزرنے والے کو عرف میں نمازی کے آگے سے گزرنے والا نہیں کہا جاتا، دور سے اس کا گزرنا ایسے ہی ہے جیسے وہ سترے کے باہر سے گزر رہا ہے۔‘‘

اور دور سے مراد تین ہاتھ کی مقدار سے زیادہ فاصلے سے گزرنا ہے، جیسا کہ اوپر وضاحت گزری۔

حافظ ابن حزم کی رائے بھی یہی ہے، چنانچہ محلیٰ میں ہے:

’من مر أمام المصلی و جعل بینہ و بینہ اکثر من ثلاثۃ اذرع فلا إثم علی المار و لیس علی المصلي منعہ، فان مر أمامہ علی ثلاثۃ أذرع فاقل فھو آثم إلا أن تکون سترۃ المصلی أقل من ثلاثۃ أذرع فلا حرج علی المار في المرور وراء ھا أو علیھا…لم نجد في البعد عن السترۃ أکثر من ھذا، فکان ھذا حد البیان في أقصی الواجب من ذلک۔[19]

’’جو اپنے اور نمازی کے درمیان تین ہاتھ سے زیادہ کا فاصلہ رکھ کر گزرے تو ایسا شخص گناہ گار نہیں ہوگا اور نہ ہی اسے روکنا نمازی کے لیے ضروری ہوگا۔ اگر تین ہاتھ کے فاصلے سے یا اس سے کم فاصلے سے کوئی گزرے تو گزرنے والا گناہ گار ہوگا، الاّ کہ نمازی کا سترہ ہی تین ہاتھ سے کم پر ہو تو اس صورت میں سترے کی دوسری جانب یا اس کے اوپر سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں ہوگا… سترے اور نمازی کے درمیانی فاصلے کی حد اس سے زیادہ ہمارے علم میں نہیں ہے، اس لیے سترے کا فاصلہ زیادہ سے زیادہ تین ہاتھ تک ہونا چاہیے۔‘‘

شیخ ابن عثیمین اس مسئلے میں مختلف اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’و أقرب الأقوال: ما بین رجلین و موضع سجودہ، و ذلک لأن المصلي لا یستحق أکثر مما یحتاج إلیہ في صلاتہ، فلیس لہ الحق أن یمنع الناس مما لا یحتاجہ۔‘[20]

’’تمام اقوال میں صحت کے زیادہ قریب قول یہ ہے کہ سترہ نمازی کے پیروں اور سجدہ گاہ کے فاصلے پر ہو، کیونکہ اتنے فاصلے سے ہی وہ ہاتھ سے گزرنے والے کو روک سکتا ہے، اور اس سے زیادہ فاصلے سے تو روکنا ممکن ہی نہیں ہے۔ تو نمازی کو کس طرح اس کا پابند بنایا جا سکتا ہے جو اس کے امکان ہی میں نہیں ہے۔اور جب ایسا ہے تو اس کو اس سے زیادہ فاصلے سے گزرنے والے کو روکنے کا حق ہی نہیں ہے۔‘‘

 

خلاصۂ بحث:

ان تمام اقوال سے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ نمازی کو نماز پڑھتے وقت دیوار یا ستون کو سترہ بنا کر یا کسی جانور (اونٹ وغیرہ) کو بٹھا کر نماز (سنتیں وغیرہ) پڑھنی چاہیے، فرض نماز انفرادی ہو تب بھی۔ اور اگر یہ چیزیں نہ ہوں تو مسجد یا غیر مسجد، ہر جگہ اپنے آگے تین ہاتھ یا مزید ایک بالشت زیادہ کے فاصلے پر سترہ رکھے اس فاصلے کے درمیان سے گزرنا ناجائز اور اس سے زیادہ فاصلے سے گزرنا جائز ہوگا۔ اور ایسا شخص گزرنے کی وعید کا مستحق نہیں ہو گا۔ (ان شاء اللہ)

حدیث’لو یعلم المار بین یدي المصلي ما ذا علیہ، لکان أن یقف أربعین خیرا لہ من أن یمر بین یدیہ‘[21]میں’بین یدیہ‘(نمازی کے آگے) کے الفاظ سے بھی اسی موقف کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ ’’آگے‘‘ سے مراد نمازی کے پیروں اور سجدہ گاہ کے درمیان کا فاصلہ ہے، اس سے زیادہ فاصلہ ’’آگے‘‘ کی ذیل میں نہیں آتا۔

دیگر علمائے اہل حدیث کے فتاویٰ:

آخر میں چند دیگر کبار علمائے اہل حدیث کے فتاویٰ درج کیے جاتے ہیں:

ان میں صاحب ’’سبل السلام‘‘ اور صاحب ’’عون المعبود‘‘ کی بھی یہی رائے نقل کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں مولانا محمد علی لکھوی کا بھی فتویٰ ہے جس میں اسی موقف کی تائید ہے۔ یہ مولانا محمد علی لکھوی بھی ہمارے کبار علماء میں سے ہیں جنھیں آج کل کے نوجوان علماء شاید نہ جانتے ہوں۔ یہ مولانا محی الدین لکھوی اور مولانا معین الدین لکھوی کے والد محترم ہیں۔ پاکستان سے ہجرت کر کے مکہ مکرمہ چلے گئے تھے،  وہیں مستقل سکونت اختیار کی اور ایک عربی خاتون سے شادی کر لی تھی جس سے ان کے دو بیٹے حسن اور حسین ہیں۔ وہیں ان کی وفات ہوئی اور اسی سرزمین مقدس ہی میں آسودۂ خواب ہیں، رحمہ اللہ تعالی۔

ان میں مجتہد العصر حافظ عبداللہ محدث روپڑی اور مخدومی و مربی حضرت الاستاذ مولانا محمد عطاء اللہ حنیف کے فتاوی ہیں جن میں اگرچہ اسی موقف کی تائید ہے تاہم بطور احتیاط مذکورہ مقدار سے کچھ زیادہ کی رائے کا اظہار کیا ہے۔ یہ تفصیل حسب ذیل ہے:

نمازی اور سترے میں فاصلہ:

_نمازی اگر بغیر سترے کے نماز پڑھ رہا ہو تو گزرنے والا کتنے فاصلے پر سے نمازی کے آگے سے گزر سکتا ہے؟

_ مرفوع حدیث میں فاصلہ کی حد بندی مصرح تو میرے علم میں ثابت نہیں، البتہ’بین یدی المصلی‘ کا لفظ بظاہر یہ چاہتا ہے کہ محل سترہ سے باہر سے اگر گزر جائے تو کوئی حرج نہیں۔ اگر احتیاطی طریقہ اختیار کرے تو بہتر ہے۔ (محمد علی از مرکز الاسلام، لکھوکی)

مجیب لبیب نے جس حدیث کی طرف اشارہ فرمایا ہے اس کی شرح میں صاحب سبل السلام نے تحریر فرمایا ہے:

’والحدیث دلیل علی تحریم المرور ما بین موضع جبھتہ في سجودہ و قدمیہ[22]

ہاں ایک روایت میں’رمیۃ الحجر‘ کا لفظ آیا ہے اس میں گو ضعف اور معنی کے لحاظ سے محتمل ہے۔ لیکن (احتیاطی طریقہ کے لیے) مفید ہو سکتی ہے ایسے مسائل میں کسی فریق پر تشدد سے بچنا انسب ہے۔ و اللہ اعلم (احقر محمد عطاء اللہ بھوجیانی 18ربیع الثانی 1352ھ)

تبصرہ محدث روپڑی:

حدیث ابو داود میں ’قذفۃ بحجر‘کا لفظ ہے یعنی پتھر پھینکنے بقدر آگے سے گزر جانے میں کوئی حرج نہیں۔ اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے مگر ایک دوسری حدیث سے اس کی تائید ہوتی ہے جو یہ ہے:

’إذ جعلت بین یدیک مثل مؤخرۃ الرحل فلا یضرک من مر بین یدیک‘[23]

’’یعنی پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر آگے کوئی شے ہو اور پھر کوئی تیرے آگے سے گزر جائے تو کوئی حرج نہیں‘‘۔

 اس حدیث پر عون المعبود میں لکھا ہے:

’ثم المراد من مر بین یدیک بین السترۃ و القبلۃ لا بینک و بین القبلۃ‘

’’یعنی آگے سے مراد سترہ اور قبلہ کے درمیان ہے نہ نمازی اور سترہ کے درمیان‘‘۔

اس سے معلوم ہوا کہ سبل السلام والے کا یہ کہنا کہ پیشانی رکھنے کی جگہ اور پائوں کی جگہ کا درمیان مراد ہونے پر دلالت کرتی ہے یہ ٹھیک نہیں۔ کیونکہ عون المعبود کی تشریح چاہتی ہے کہ محل سترہ سے بُعد میں آگے ہو پھر ضعیف حدیث پر عمل کرنے میں احتیاط ہے۔ خاص طور پر جب کوئی دوسری روایت نہیں۔ نہ صحیح اور نہ ضعیف تو پھر دلیری بالکل اچھی نہیں۔[24]

خانہ کعبہ (مسجد الحرام) میں نمازی کے آگے سے گزرنا؟

یہ جائز ہے یا ناجائز؟اس کی بابت بعض علماء نے جواز کا موقف اختیار کیا ہے۔ چنانچہ ’’فتاوی اہل حدیث‘‘ (از محدث روپڑی) میں ہے:

بیت اللہ شریف میں نمازی کے آگے سے گزرنا درست ہے۔ منتقی میں حدیث ہے، مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یت اللہ میں) باب بنی سلم کی جانب یعنی حجر اسود کے سامنے نماز پڑھتے تھے اور لوگ آگے سے گزرتے تھے۔ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی سترہ نہ تھا۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیت اللہ شریف میں سترے کا حکم نہیں ہے اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ وہاں ہر وقت طواف ہوتا ہے اور ہر وقت نماز ہوتی ہے اور ہجوم رہتا ہے، اس لیے سترے کا انتظام مشکل ہے۔

اس حدیث میں اگرچہ کچھ ضعف ہے لیکن سب مذاھب کا تعامل اس کا مؤید ہے اور اس کے ساتھ مجبوری کو بھی شامل کر لیا جائے (کہ ہجوم کی وجہ سے سترے کا وہاں انتظام مشکل ہے) تو اس سے اور تقویت ہو جاتی ہے۔ پس اس حدیث کی بنا پر بیت اللہ شریف سترے کے حکم سے مستثنیٰ ہو گا.[25]

دوسرا موقف: یہ ہے کہ مسجد حرام میں (اگرچہ ہجوم کی وجہ سے اس میں مشکلات ہیں) بالخصوص غالباً جواز کے موقف کی وجہ سے لوگ اس کی اہمیت سے بالعموم غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں تاہم اس کے باوجود اس کا جواز محل نظر ہے۔ شرعی دلائل اس کے عدم جواز ہی کے مؤید ہیں۔

اس کے دلائل حسب ذیل ہیں:

1… سترے کے وجوب اور اہمیت پر مبنی جتنی احادیث ہیں، وہ مطلق ہیں، وہ جس طرح کھلی فضا اور مساجد وغیرہ ہر مقام کو شامل ہیں، اسی طرح ان میں مسجد حرام (بیت اللہ) بھی شامل ہے۔ کسی حدیث سے اس کا استثنا ثابت نہیں۔

2… مطلب بن ابی وداعہ کی جس حدیث سے مسجد حرام میں سترہ نہ رکھنے پر استدلال کیا گیا ہے اس کے ضعف کا اعتراف تو کیا گیا ہے لیکن اس سے استدلال بھی کیا گیا ہے حالانکہ وہ روایت سخت ضعیف اور ناقابل استدلال ہے[26]

3… علاوہ ازیں اگر اس روایت کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے، تب بھی اس سے استدلال جائز نہیں ہو گا۔ امام شوکانی فرماتے ہیں:

’قدتقررفي الأصول أن فعلہ لایعارض القول الخاص بنا،وتلک الأوامرالسابقۃخاصۃ بالأمۃ، فلا یصلح ھذا الفعل أن یکون قرینۃ لصرفھا۔‘

’’اصول میں یہ بات طے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا فعل آپ کے ان قولی احکام کے مقابلے میں پیش نہیں کیا جا سکتا جن کا آپ نے خاص طور پر حکم دیا ہے اور سابقہ احادیث جن میں امت کو بالخصوص سترے کا حکم ہے، آپ کا فعل اس بات کا قرینہ (دلیل) نہیں ہو سکتا کہ وہ قولی حدیث سے ثابت شدہ حکم کو اس کے مصرف سے پھیر دے۔‘‘[27]4صحیح احادیث سے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجد حرام میں بھی سترہ رکھنے کا اہتمام ثابت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے روایت ہے:

’اعتمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  فطاف بالبیت و صلی خلف المقام رکعتین و معہ من یسترہ من الناس‘[28]

 ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے عمرے میں بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں ادا فرمائیں اور آپ کے ساتھ ایسے لوگ تھے جو لوگوں کے لیے سترہ تھے۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی عمل حضرت جابرحجۃ الوداع کے موقع پر بیان فرماتے ہیں، چنانچہ صحیح مسلم میں سیدناجابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

’حتی اذا اتینا البیت معہ، استلم الرکن فرمل ثلاثا و مشی اربعا، ثم تقدم إلی مقام إبراھیم فقرأ {وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاہِیْمَ مُصَلّٰی}  [البقرۃ: 125]

 فجعل المقام بینہ و بین البیت۔‘[29]

’’یہاں تک کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ بیت اللہ آئے، آپ نے رکن کا استلام کیا اور تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلے، پھر مقام ابراہیم پر آ کر آیت {وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاہِیْمَ مُصَلّٰی} [البقرۃ: 125] پڑھی اور (دو رکعت ادا کرنے کے لیے) آپ نے مقام ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان کر لیا۔‘‘ گویا اس طرح سترے کا اہتمام کر لیا۔

آپ نے جب کعبہ کے اندر نماز پڑھی تھی تو کعبہ کی دیوار کو سترہ بنایا تھا، دیوار کعبہ اور آپ کے درمیان تین ہاتھ کا فاصلہ تھا۔[30]

5 سیدنا انس بن مالک کا عمل:جناب انس بن مالک ایک جلیل القدر صحابی ہیں، ان کا عمل بھی مسجد حرام میں سترہ رکھنے کا مؤید ہے۔ چنانچہ یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں:

’رأیت انس بن مالک في المسجد الحرام قد نصب عصا یصلي إلیھا۔[31]

’’میں نے انس بن مالک کو دیکھا: انھوں نے مسجد حرام میں لاٹھی کھڑی کی، اس کو سترہ بنا کر نماز پڑھی۔‘‘

مذکورہ دلائل کی روشنی میں واضح ہے کہ مسجد حرام (بیت اللہ) میں بھی سترے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ بلاشبہ وہاں نمازیوں کا ہر وقت بے پناہ ہجوم ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں بعض علمانے کثرت ہجوم کی وجہ سے اس کا جواز بھی تسلیم کر رکھا ہے جس کی وجہ سے لوگ وہاں بالعموم اس کی پروا نہیں کرتے۔ لیکن ازدحام (کثرت ہجوم) یا لوگوں کا پروا نہ کرنا، سترہ نہ رکھنے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ شرعی دلائل خانہ کعبہ میں بھی سترہ رکھنے ہی کی تائید کرتے ہیں۔ و اللہ أعلم و علمہ أتم وأکمل۔

چند ضروری وضاحتیں:

1        بلی کے گزرنے سے نماز میں کوئی فرق نہیں پڑتا، جیسے سیاہ کتے، عورت وغیرہ کے گزرنے سے نماز قطع ہو جاتی ہے۔ (کما مرّ)

2        قطع سے مراد خشوع میں کمی نہیں بلکہ نماز کا ٹوٹ جانا ہے۔ (کما مرّ)

3        عورت سے مراد بالغہ عورت ہے۔ نابالغ بچی کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹے گی۔

4        عورت، سیاہ کتے وغیرہ کے گزرنے سے نماز ٹوٹے گی۔ لیکن اگر یہ چیزیں نمازی کے آگے بیٹھی یا لیٹی ہوئی ہوں تو نماز نہیں ٹوٹے گی۔سید ہ عائشہ لیٹی ہوتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم  ان کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے۔



[1] نگران شعبہ تحقیق و تصنیف المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹرکراچی

[2] صحیح البخاري،کتاب الصلاۃ، باب سترۃ الإمام سترۃ من خلفہ۔

[3] ملاحظہ ہو فتاوی الدین الخالص از مولانا امین اللہ پشاوری: 3/554۔

[4] یہ دونوں روایات صحیح مسلم: ’کتاب الصلاۃ، باب سترۃ المصلي و باب منع المار بین یدي المصلي ‘میں ہیں

[5] صحیح البخاری: کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ إلی الاسطوانۃ۔

[6] صحیح البخاری:باب قدر کم ینبغی ان یکون المصلی و السترۃ۔

[7] صحیح المسلم:کتاب الصلاۃ، باب قدر ما یستر المصلی

[8] السلسلۃالصحیحۃ للالبانی، 7/959، حدیث:3333

[9] سنن ابی داود، حدیث: 710و دیگر کتب احادیث

[10] سنن ابی داود، حدیث: 719-720

[11] ضعیف سنن أبي داود للألبانی، رقم الحدیث: 137-704، ص: 65-66، طبع 1991ء

[12] فتاوی اہل حدیث از حافظ عبداللہ محدث روپڑی: 2/116، طبع اول

[13] صحیح البخاری، حدیث: 369

[14] صحیح البخاری، حدیث: 484

[15] صحیح البخاری، حدیث: 474

[16] مجموعہ فتاوی استاذ الاساتذہ حافظ محمد عبداللہ محدث غازی پوری، متوفی 1337ھ، ص: 206

[17] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو فتاوی الدین الخالص: 3/563-570

[18] فتح الباري: 1/753، طبع دار السلام

[19] { FN 677 }بحوالہ فتاوی الدین الخالص: 3/565

[20] الشرح الممتع: 3/340

[21]  البخاري (510) ،المسلم (507)

[22] سبل السلام :باب سترۃ المصلی ج1/ص 143

[23] عمدۃ القاری۔شرح صحیح البخاری:باب سترۃ الامام سترۃ من خلفہ،ج 7 صفحہ222

[24] عبداللہ امرتسری مقیم روپڑ ضلع انبالہ، مورخہ 19ربیع الثانی 1353ھ، 12؍ اگست 1933ء، فتاویٰ اہل حدیث: 2/116، طبع اول

[25] فتاوی اہل حدیث از حافظ عبداللہ محدث روپڑی: 2/116-117، طبع اول

[26] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ’’المنتقی‘‘ کی شرح ’’نیل الاوطار‘‘ (باب دفع المار وما علیہ من الاثم … : 3/9، طبع مصطفی البابی الحلبی، مصر۔ فتاوی الدین الخالص: 3/571،572)

[27] نیل الاوطار، باب مذکور، ص: 7-9

[28] صحیح البخاري:کتاب الحج،باب من لم یدخل الکعبۃ، حدیث: 1600

[29] صحیح المسلم، کتاب الحج، باب حجۃ النبی: 1218

[30] صحیح البخاری، حدیث: 1599

[31] مصنف ابن ابی شیبہ: 1/277، اسنادہ صحیح

Read 451 times
  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

سترے کے احکام

حافظ صلاح الدین یوسف[1]

نمازی کے آگے سترہ رکھنا واجب ہے یا مستحب؟ اس میں علما کی دو رائیں ہیں، بعض کے نزدیک مستحب اور بعض کے نزدیک واجب ہے۔ استحباب کی دلیل کھلی فضا میں بعض دفعہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کا بغیر سترے کے نماز پڑھنے کا واقعہ ہے۔ [2]

وجوب کے قائل علماء کے نزدیک مذکورہ واقعے میں ’’غیرجدار‘‘ کے الفاظ ہیں جس کا مطلب وہ یہ لیتے ہیں ’’یصلي الی شيء غیر الجدار‘‘ یعنی ایسی چیز کے سامنے نماز پڑھی جو دیوار نہیں تھی۔ مزید وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے بغیر سترے کے نماز پڑھائی ہوتی تو یہ الفاظ ہوتے’یصلی الی غیر سترۃ‘آپ نے بغیر سترے کے نماز پڑھی۔[3]

بہرحال احادیث میں سترے کی جتنی تاکید آئی ہے، اس سے وجوب ہی کی تائید ہوتی ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم بالعموم کھلی فضا میں نماز پڑھاتے تو آپ کے آگے بطور سترہ برچھی یا نیزہ گاڑ دیا جاتا تھا۔

سترے کی تاکید:

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے سے کسی کو گزرنے نہ دے، بلکہ جہاں تک ہو سکے اس کو روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے، کیونکہ وہ شیطان ہے‘‘۔ (لڑنے کا مطلب ہے، زور سے روکے)

ایک دوسری حدیث میں فرمایا:

’’اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو علم ہو کہ اس کا کتنا گناہ ہے تو گزرنے کے بجائے اس کو چالیس (سال) تک بھی انتظار میں ٹھہرنا پڑے تو اس کے لیے بہتر ہو۔‘‘[4]

کیا سترہ مسجد میں ضروری نہیں؟

احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی بابت سترے کے جو واقعات بیان ہوئے ہیں (مثلاً صحرا، کھلی فضا، عیدگاہ وغیرہ میں) ان سے بعض لوگ استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مسجد میں سترہ رکھنا ضروری نہیں۔ لیکن یہ استدلال غیر صحیح ہے۔

اولاً :اس لیے کہ سترے کی تاکید میں جتنی احادیث منقول ہیں وہ مطلق ہیں، اس میں صحرا، عیدگاہ وغیرہ کی تحدید نہیں ہے بلکہ ان کا عموم مسجد اور غیر مسجد دونوں جگہ اس حکم پر عمل کا مقتضی ہے۔

ثانیاً: صحابہ کرام کے عمل سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، صحابہ کرام مغرب کی اذان کے بعد دو رکعت پڑھنے کے لیے ستونوں کی طرف دوڑتے تھے، یعنی ان کو سترہ بنا کر دو رکعت پڑھتے۔ [5]

اسی باب میں جناب سلمہ بن اکوع کی حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کوشش کر کے ایک ستون کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔

علاوہ ازیں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  جب نماز پڑھاتے تو سامنے جو دیوار ہوتی  وہ آپ (کے سجدے والی حالت) سے اتنے فاصلے پر ہوتی کہ صرف بکری گزر سکتی تھی۔[6]

اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ دیوار کو سترہ بنا لیا کرتے تھے۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نمازی اور سترے کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں ہونا چاہیے، صرف اتنا ہی ہونا چاہیے جتنا معمولِ نبوی سے معلوم ہوتا ہے۔

اس مختصر تفصیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسجد میں نمازیوں کو سنن و نوافل کی ادائیگی کے وقت دیوار کے قریب یا ستون کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے۔ بصورت دیگر سترے کا اہتمام کیا جائے۔ اگر اس کے بغیر نماز پڑھی جائے گی تو گزرنے والے کے ساتھ ساتھ نمازی بھی عند اللہ مجرم ہو سکتا ہے۔

نمازی اور سترے کے درمیان کتنا فاصلہ ہو؟

اس کی کچھ وضاحت سطور بالا سے اگرچہ ہو چکی ہے کہ یہ فاصلہ زیادہ نہیں ہونا چاہیے تاہم علماء نے اس کی مقدار تین ہاتھ (ذراع) بتلائی ہے۔ یہ ایک اندازہ ہے، اس میں کچھ کمی بیشی ہو تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن یہ فاصلہ زیادہ بہرحال نہ ہو۔

سترہ کتنا لمبا اور کتنا موٹا ہو؟

صحیح مسلم میں ہے:

’’جب تم میں سے کوئی شخص’مؤخرۃ الرحل‘کے برابر کوئی چیز رکھ لے تو نماز پڑھ لے، پھر اس سے آگے گزرنے والے کی پروا نہ کرے۔‘‘

صحیح مسلم ہی میں دوسری حدیث ہے:صحابہ نے کہا: ہم نماز پڑھتے ہیں تو جانور ہمارے آگے سے گزرتے رہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:

’’تمھارے سامنے’مؤخرۃ الرحل‘کی مثل کوئی چیز ہو تو پھر تمھارے آگے سے گزرنے پر تمھیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔‘‘

’مؤخرۃ الرحل‘کیا ہے؟ اونٹ وغیرہ پر بیٹھنے کے لیے جو لکڑی کا پالان رکھتے ہیں، اس کا پچھلا (ٹیک لگانے والا) حصہ’مؤخرۃ الرحل‘ (یعنی پالان کا پچھلا حصہ) ہے۔ اس کی لمبائی ایک ذراع (ایک ہاتھ) یا بعض نے ایک ذراع اور ایک بالشت بتلائی ہے۔ آج کل اس کی لمبائی ایک فٹ اور ڈیڑھ فٹ کے درمیان علماء بتلاتے ہیں۔

یہ تو سترے کی لمبائی (طول) کا مسئلہ ہوا۔ یہ موٹا، یعنی چوڑا کتنا ہو؟ اس کی تحدید نہیں کی جا سکتی کیونکہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سترہ برچھی یا نیزہ بھی ہوتا تھا۔ اور اس کی چوڑائی سب کو معلوم ہے۔ اس لیے اصل مسئلہ صرف لمبائی کا ہے۔ تاہم خط کھینچنے والی روایت صحیح نہیں ہے۔ اسی طرح یہ روایت بھی صحیح نہیں ہے کہ سترہ نمازی کے بالکل سامنے نہ ہوبلکہ دائیں یا بائیں جانب ہو۔ کیونکہ اصل سترہ تو وہی ہے جو اس کے بالکل سامنے، یعنی اس کی سیدھ میں ہو۔

بغیر سترہ بعض چیزوں کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جائے گی:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

’’اگر نمازی کے آگے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو گدھا، کالا کتا اور عورت، مرد کی نماز کو قطع کر دیتے ہیں۔‘‘ پوچھا گیا: کالا کتا ہی کیوں، سفید وغیرہ کیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’کالا کتا شیطان ہے۔‘‘ [7]

قطع کر دینے کا مطلب اکثر علماء یہ بیان کرتے ہیں کہ نماز کے خشوع خضوع میں فرق آ جاتا ہے۔ جب کہ امام احمد، امام ابن قیم وغیرہما نے ظاہری مفہوم مراد لیا ہے کہ نماز باطل ہو جاتی ہے۔ اس کی تائید ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے:

’تعاد الصلاۃ من ممر الحمار و المرأۃ و الکلب الاسود[8]

’’ گدھے، عورت اور سیاہ کتے کے گزرنے پر نماز لوٹائی جائے۔‘‘

تاہم خیال رہے عورت کا گزرنا (جس سے نماز ٹوٹ جائے گی) اور ہے اور عورت کا نمازی کے آگے لیٹے ہونا اور بات ہے جو جائز ہے، اس سے نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہو گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا لیٹی ہوتی تھیں اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے۔[9]اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سوئے ہوئے آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے۔

ایک ضروری وضاحت:

ایک حدیث میں ہے: لا یقطع الصلاۃ شیء‘ ’’نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی۔‘‘[10]

اس حدیث کی صحت میں اختلاف ہے، بعض کے نزدیک یہ حسن درجے کی ہے۔ ان کے نزدیک اس عموم سے مذکورہ اشیاء (گدھا، عورت، سیاہ کتا) مستثنیٰ ہوں گی، یعنی ان کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جائے گی۔ تاہم ان کے علاوہ کسی اور چیز سے نماز نہیں ٹوٹے گی۔ شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک دونوں روایات ضعیف ہیں، اس لیے مذکورہ اشیاء کے استثنا کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

اگر سترہ نہ ہو تو کتنے فاصلے سے گزرنا جائز ہو گا؟

اس میں تین موقف ہیں:

بعض حضرات اس کی کوئی حد نہیں بتلاتے اور کہتے ہیں کہ کتنا بھی زیادہ فاصلہ ہو، نمازی کے آگے سے گزرنا جائز نہیں ہے۔ لیکن اس موقف میں کوئی معقولیت نہیں ہے۔

دوسرا موقف ایک ضعیف حدیث پر مبنی ہے جو سنن ابی داود میں ہے، اس میں ہے:

’’جب تم میں سے کوئی شخص بغیر سترے کے نماز پڑھ رہا ہو تو اس کے آگے سے کتے، گدھے، خنزیر، یہودی، مجوسی اور عورت کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جائے گی۔ ہاں اگروہ پتھر پھینکنے کے برابر فاصلے سے زیادہ فاصلے سے گزریں تو نماز نہیں ٹوٹے گی (اتنا فاصلہ اس کو کفایت کر جائے گا)۔‘‘[11]

یہ حدیث بھی قابل استدلال نہیں، کیونکہ ضعیف ہے۔ علاوہ ازیں پتھر پھینکنے کی تفصیل مجہول ہے، پتھر کس طرح پھینکنا ہے؟ پھر پھینکنے کی مقدار اور مسافت میں بھی فرق ہو گا، کوئی زیادہ زور سے پھینکے گا تو اس کا فاصلہ دوسرے پھینکنے والے سے زیادہ ہی ہو گا۔ اس کی قطعی مسافت کا فیصلہ ناممکن ہے۔

تاہم اگر یہ روایت سنداً صحیح ہوتی تو ایک اوسط درجے کی مسافت کو حد قراردیا جا سکتا تھا جیسا کہ بعض علماء نے بطور احتیاط اس مسافت کو بطور سترہ قرار دیا بھی ہے۔ [12]

تیسرا موقف یہ ہے کہ نماز کی جو حد ہے، یعنی جہاں سترہ قائم کرنے کا حکم ہے، اس کے آگے سے گزر سکتا ہے، اس کے اندر سے گزرنا منع ہے۔ (فتاویٰ غازی پوری)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے آگے جو نیزہ بطور سترہ رکھا گیا، اس کے آگے سے لوگ اور جانور گزرتے تھے۔[13]حافظ عبداللہ غازی پوری رحمہ اللہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’سترہ قائم کرنے کی جگہ سجدہ گاہ کے آگے ہے جو قریب ڈھائی تین ہاتھ کے ہے۔‘‘

حافظ صاحب دو اور روایات سے استدلال کرتے ہیں:

1… ’’نافع بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمررضی اللہ عنھماجب کعبے کے اندر داخل ہوتے تو سامنے کی دیوار تقریباً تین ہاتھ رہ جاتی تو نماز پڑھتے تھے۔ اس طرح آپ اس جگہ نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے تھے جس کے متعلق بلال نے انھیں بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے وہیں نماز پڑھی تھی۔‘‘ [14]

2… ’’سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی جائے نماز اور دیوار کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کے برابر جگہ ہوتی تھی۔‘‘ [15]

اس کے بعد فتح الباری کے حوالے سے حافظ صاحب،حافظ ابن حجررحمہ اللہ کا قول نقل فرماتے ہیں کہ

’’ابن بطال نے کہا ہے کہ یہ وہ کم از کم جگہ ہے جو نمازی اور سترے کے درمیان ہونی چاہیے یعنی بکری کے گزرنے کے برابر۔ ایک قول کے مطابق اس کی کم از کم مقدار تین ہاتھ ہے … امام داودی نے اس طرح تطبیق دی ہے کہ اس کی کم از کم مقدار بکری کے گزرنے کے برابر اور زیادہ سے زیادہ تین ہاتھ ہے۔ بعض اہل علم نے اس طرح بھی دونوں حدیثوں میں تطبیق دی ہے کہ پہلی کیفیت قیام اور قعدے کے وقت ہے اور دوسری رکوع و سجود کے وقت ہے … سترے کے قریب ہونے کا حکم بھی حدیث میں مروی ہے جس میں اس کی حکمت بھی بیان ہوئی ہے کہ ’’جب تم میں سے کوئی ایک نماز پڑھے تو سترے کے قریب ہو جائے، کہیں شیطان اس پر اس کی نماز کو قطع نہ کر دے۔‘‘ اور یہ حکم ہے کہ اگر کوئی نماز اور اس کے سترے کے درمیان سے گزرے تو نمازی اس کو جس طرح ہو سکے روکے۔ اس روایت کا پورا متن نقل کر کے حضرت غازی پوری فرماتے ہیں:

’’ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ نمازی کی نماز کی جگہ کی حد اُس کے کھڑے ہونے کی جگہ سے سجدہ گاہ تک ہے، اس کے درمیان سے گزرنا منع ہے اور اس کے آگے سے درست ہے۔‘‘[16]

یہ مجموعہ فتاویٰ آج تک قلمی اور بعض کتب خانوں میں محفوظ تھا، اللہ بھلا کرے علمائے اہل حدیث کے پروانے، احیائے مآثر سلف کے جذبہ صادقہ سے سرشار جناب عارف جاوید محمدی (کویت) اور ان کے محترم رفقائے گرامی کا کہ جن کی مساعی حسنہ سے یہ دُرِّ نایاب بھارت سے پاکستان پہنچا اور انھی حضرات گرامی قدر کے تعاون سے ابھی حال ہی میں زیور طباعت سے آراستہ ہو کر اہل علم اور قدر دانوں کے ہاتھوںمیں پہنچا۔ حافظ شاہد محمود فاضل مدینہ یونیورسٹی کی مساعی بھی قابل تحسین ہیں جو کویت کے ریگستانوں کے بنے ہوئے خاکوں میں رنگ روغن بھرنے میں شب و روز مصروف ہیں۔

 حفظھم اللہ تعالٰی و شکر مساعیھم و بارک في جھودھم،آمین۔

یہ چند سطور تو بے اختیار ان کی مخلصانہ خدمات جلیلہ کے اعتراف میں نوک قلم پر آ گئی ہیں، ورنہ گفتگو تو سترے کے موضوع پر ہو رہی تھی۔ گزشتہ رائے گویا ایک صدی قبل کے اہل حدیث مفتی، محقق اور عالم کا نتیجۂ تحقیق ہے۔

یہی رائے عصر حاضر کے محقق، مفتی اور عالم مولانا امین اللہ پشاوری کی بھی ہے۔ ان کی تحقیق کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ جب گزرنے والے کی بابت روکنے کا حکم ہے تو سترے کی حد تین ہاتھ کے برابر ہی ہو گی اور یہ بھی حکم ہے کہ سترہ زیادہ فاصلے پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ قریب ہونا چاہیے۔ تین ہاتھ کی مقدار ہی ایسی ہے کہ نمازی اپنے آگے سے گزرنے والے کو (سترہ نہ ہونے کی صورت میں) روک سکتا ہے۔ اس سے زیادہ فاصلے سے گزرنے والے کو روکنا ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا تین ہاتھ سے زیادہ فاصلے سے گزرنا جائز ہو گا۔ اس سے زیادہ فاصلے سے گزرنے والے کو روکنا نہ ممکن ہے اور نہ حکم ہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسا حکم نہیں دے سکتا جو انسان کی حد طاقت سے باہر ہو اور جب یہ حکم نہیں دیا گیا تو اس کا صاف مطلب یہی ہو گا کہ تین ہاتھ کی مقدار سے آگے گزرنا جائز ہے اور ایسا شخص اس وعید کا مستحق نہیں ہو گا جو نمازی کے آگے سے گزرنے والے کی بابت وارد ہے۔ [17]

3… سعودی عرب کے کبار علماء کی رائے بھی یہی ہے جو اوپر مذکور ہوئی۔ چنانچہ مفتی اعظم اور مجتہد و محقق شیخ ابن باز کی رائے فتح الباری کے حاشیے میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

’ومتی بعد المار عما بین یدی المصلي إذا لم یلق بین یدیہ سترۃ سلم من الإثم، لإنہ إذا بعد عنہ عرفا لا یسمی مارا بین یدیہ کالذي یمر من وراء السترۃ‘ [[18]

’’جب نمازی کے آگے سترہ نہ ہو تو دور سے گزرنے والا گناہ گار نہیں ہو گا، اس لیے کہ دور سے گزرنے والے کو عرف میں نمازی کے آگے سے گزرنے والا نہیں کہا جاتا، دور سے اس کا گزرنا ایسے ہی ہے جیسے وہ سترے کے باہر سے گزر رہا ہے۔‘‘

اور دور سے مراد تین ہاتھ کی مقدار سے زیادہ فاصلے سے گزرنا ہے، جیسا کہ اوپر وضاحت گزری۔

حافظ ابن حزم کی رائے بھی یہی ہے، چنانچہ محلیٰ میں ہے:

’من مر أمام المصلی و جعل بینہ و بینہ اکثر من ثلاثۃ اذرع فلا إثم علی المار و لیس علی المصلي منعہ، فان مر أمامہ علی ثلاثۃ أذرع فاقل فھو آثم إلا أن تکون سترۃ المصلی أقل من ثلاثۃ أذرع فلا حرج علی المار في المرور وراء ھا أو علیھا…لم نجد في البعد عن السترۃ أکثر من ھذا، فکان ھذا حد البیان في أقصی الواجب من ذلک۔[19]

’’جو اپنے اور نمازی کے درمیان تین ہاتھ سے زیادہ کا فاصلہ رکھ کر گزرے تو ایسا شخص گناہ گار نہیں ہوگا اور نہ ہی اسے روکنا نمازی کے لیے ضروری ہوگا۔ اگر تین ہاتھ کے فاصلے سے یا اس سے کم فاصلے سے کوئی گزرے تو گزرنے والا گناہ گار ہوگا، الاّ کہ نمازی کا سترہ ہی تین ہاتھ سے کم پر ہو تو اس صورت میں سترے کی دوسری جانب یا اس کے اوپر سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں ہوگا… سترے اور نمازی کے درمیانی فاصلے کی حد اس سے زیادہ ہمارے علم میں نہیں ہے، اس لیے سترے کا فاصلہ زیادہ سے زیادہ تین ہاتھ تک ہونا چاہیے۔‘‘

شیخ ابن عثیمین اس مسئلے میں مختلف اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’و أقرب الأقوال: ما بین رجلین و موضع سجودہ، و ذلک لأن المصلي لا یستحق أکثر مما یحتاج إلیہ في صلاتہ، فلیس لہ الحق أن یمنع الناس مما لا یحتاجہ۔‘[20]

’’تمام اقوال میں صحت کے زیادہ قریب قول یہ ہے کہ سترہ نمازی کے پیروں اور سجدہ گاہ کے فاصلے پر ہو، کیونکہ اتنے فاصلے سے ہی وہ ہاتھ سے گزرنے والے کو روک سکتا ہے، اور اس سے زیادہ فاصلے سے تو روکنا ممکن ہی نہیں ہے۔ تو نمازی کو کس طرح اس کا پابند بنایا جا سکتا ہے جو اس کے امکان ہی میں نہیں ہے۔اور جب ایسا ہے تو اس کو اس سے زیادہ فاصلے سے گزرنے والے کو روکنے کا حق ہی نہیں ہے۔‘‘

 

خلاصۂ بحث:

ان تمام اقوال سے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ نمازی کو نماز پڑھتے وقت دیوار یا ستون کو سترہ بنا کر یا کسی جانور (اونٹ وغیرہ) کو بٹھا کر نماز (سنتیں وغیرہ) پڑھنی چاہیے، فرض نماز انفرادی ہو تب بھی۔ اور اگر یہ چیزیں نہ ہوں تو مسجد یا غیر مسجد، ہر جگہ اپنے آگے تین ہاتھ یا مزید ایک بالشت زیادہ کے فاصلے پر سترہ رکھے اس فاصلے کے درمیان سے گزرنا ناجائز اور اس سے زیادہ فاصلے سے گزرنا جائز ہوگا۔ اور ایسا شخص گزرنے کی وعید کا مستحق نہیں ہو گا۔ (ان شاء اللہ)

حدیث’لو یعلم المار بین یدي المصلي ما ذا علیہ، لکان أن یقف أربعین خیرا لہ من أن یمر بین یدیہ‘[21]میں’بین یدیہ‘(نمازی کے آگے) کے الفاظ سے بھی اسی موقف کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ ’’آگے‘‘ سے مراد نمازی کے پیروں اور سجدہ گاہ کے درمیان کا فاصلہ ہے، اس سے زیادہ فاصلہ ’’آگے‘‘ کی ذیل میں نہیں آتا۔

دیگر علمائے اہل حدیث کے فتاویٰ:

آخر میں چند دیگر کبار علمائے اہل حدیث کے فتاویٰ درج کیے جاتے ہیں:

ان میں صاحب ’’سبل السلام‘‘ اور صاحب ’’عون المعبود‘‘ کی بھی یہی رائے نقل کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں مولانا محمد علی لکھوی کا بھی فتویٰ ہے جس میں اسی موقف کی تائید ہے۔ یہ مولانا محمد علی لکھوی بھی ہمارے کبار علماء میں سے ہیں جنھیں آج کل کے نوجوان علماء شاید نہ جانتے ہوں۔ یہ مولانا محی الدین لکھوی اور مولانا معین الدین لکھوی کے والد محترم ہیں۔ پاکستان سے ہجرت کر کے مکہ مکرمہ چلے گئے تھے،  وہیں مستقل سکونت اختیار کی اور ایک عربی خاتون سے شادی کر لی تھی جس سے ان کے دو بیٹے حسن اور حسین ہیں۔ وہیں ان کی وفات ہوئی اور اسی سرزمین مقدس ہی میں آسودۂ خواب ہیں، رحمہ اللہ تعالی۔

ان میں مجتہد العصر حافظ عبداللہ محدث روپڑی اور مخدومی و مربی حضرت الاستاذ مولانا محمد عطاء اللہ حنیف کے فتاوی ہیں جن میں اگرچہ اسی موقف کی تائید ہے تاہم بطور احتیاط مذکورہ مقدار سے کچھ زیادہ کی رائے کا اظہار کیا ہے۔ یہ تفصیل حسب ذیل ہے:

نمازی اور سترے میں فاصلہ:

_نمازی اگر بغیر سترے کے نماز پڑھ رہا ہو تو گزرنے والا کتنے فاصلے پر سے نمازی کے آگے سے گزر سکتا ہے؟

_ مرفوع حدیث میں فاصلہ کی حد بندی مصرح تو میرے علم میں ثابت نہیں، البتہ’بین یدی المصلی‘ کا لفظ بظاہر یہ چاہتا ہے کہ محل سترہ سے باہر سے اگر گزر جائے تو کوئی حرج نہیں۔ اگر احتیاطی طریقہ اختیار کرے تو بہتر ہے۔ (محمد علی از مرکز الاسلام، لکھوکی)

مجیب لبیب نے جس حدیث کی طرف اشارہ فرمایا ہے اس کی شرح میں صاحب سبل السلام نے تحریر فرمایا ہے:

’والحدیث دلیل علی تحریم المرور ما بین موضع جبھتہ في سجودہ و قدمیہ[22]

ہاں ایک روایت میں’رمیۃ الحجر‘ کا لفظ آیا ہے اس میں گو ضعف اور معنی کے لحاظ سے محتمل ہے۔ لیکن (احتیاطی طریقہ کے لیے) مفید ہو سکتی ہے ایسے مسائل میں کسی فریق پر تشدد سے بچنا انسب ہے۔ و اللہ اعلم (احقر محمد عطاء اللہ بھوجیانی 18ربیع الثانی 1352ھ)

تبصرہ محدث روپڑی:

حدیث ابو داود میں ’قذفۃ بحجر‘کا لفظ ہے یعنی پتھر پھینکنے بقدر آگے سے گزر جانے میں کوئی حرج نہیں۔ اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے مگر ایک دوسری حدیث سے اس کی تائید ہوتی ہے جو یہ ہے:

’إذ جعلت بین یدیک مثل مؤخرۃ الرحل فلا یضرک من مر بین یدیک‘[23]

’’یعنی پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر آگے کوئی شے ہو اور پھر کوئی تیرے آگے سے گزر جائے تو کوئی حرج نہیں‘‘۔

 اس حدیث پر عون المعبود میں لکھا ہے:

’ثم المراد من مر بین یدیک بین السترۃ و القبلۃ لا بینک و بین القبلۃ‘

’’یعنی آگے سے مراد سترہ اور قبلہ کے درمیان ہے نہ نمازی اور سترہ کے درمیان‘‘۔

اس سے معلوم ہوا کہ سبل السلام والے کا یہ کہنا کہ پیشانی رکھنے کی جگہ اور پائوں کی جگہ کا درمیان مراد ہونے پر دلالت کرتی ہے یہ ٹھیک نہیں۔ کیونکہ عون المعبود کی تشریح چاہتی ہے کہ محل سترہ سے بُعد میں آگے ہو پھر ضعیف حدیث پر عمل کرنے میں احتیاط ہے۔ خاص طور پر جب کوئی دوسری روایت نہیں۔ نہ صحیح اور نہ ضعیف تو پھر دلیری بالکل اچھی نہیں۔[24]

خانہ کعبہ (مسجد الحرام) میں نمازی کے آگے سے گزرنا؟

یہ جائز ہے یا ناجائز؟اس کی بابت بعض علماء نے جواز کا موقف اختیار کیا ہے۔ چنانچہ ’’فتاوی اہل حدیث‘‘ (از محدث روپڑی) میں ہے:

بیت اللہ شریف میں نمازی کے آگے سے گزرنا درست ہے۔ منتقی میں حدیث ہے، مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یت اللہ میں) باب بنی سلم کی جانب یعنی حجر اسود کے سامنے نماز پڑھتے تھے اور لوگ آگے سے گزرتے تھے۔ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی سترہ نہ تھا۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیت اللہ شریف میں سترے کا حکم نہیں ہے اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ وہاں ہر وقت طواف ہوتا ہے اور ہر وقت نماز ہوتی ہے اور ہجوم رہتا ہے، اس لیے سترے کا انتظام مشکل ہے۔

اس حدیث میں اگرچہ کچھ ضعف ہے لیکن سب مذاھب کا تعامل اس کا مؤید ہے اور اس کے ساتھ مجبوری کو بھی شامل کر لیا جائے (کہ ہجوم کی وجہ سے سترے کا وہاں انتظام مشکل ہے) تو اس سے اور تقویت ہو جاتی ہے۔ پس اس حدیث کی بنا پر بیت اللہ شریف سترے کے حکم سے مستثنیٰ ہو گا.[25]

دوسرا موقف: یہ ہے کہ مسجد حرام میں (اگرچہ ہجوم کی وجہ سے اس میں مشکلات ہیں) بالخصوص غالباً جواز کے موقف کی وجہ سے لوگ اس کی اہمیت سے بالعموم غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں تاہم اس کے باوجود اس کا جواز محل نظر ہے۔ شرعی دلائل اس کے عدم جواز ہی کے مؤید ہیں۔

اس کے دلائل حسب ذیل ہیں:

1… سترے کے وجوب اور اہمیت پر مبنی جتنی احادیث ہیں، وہ مطلق ہیں، وہ جس طرح کھلی فضا اور مساجد وغیرہ ہر مقام کو شامل ہیں، اسی طرح ان میں مسجد حرام (بیت اللہ) بھی شامل ہے۔ کسی حدیث سے اس کا استثنا ثابت نہیں۔

2… مطلب بن ابی وداعہ کی جس حدیث سے مسجد حرام میں سترہ نہ رکھنے پر استدلال کیا گیا ہے اس کے ضعف کا اعتراف تو کیا گیا ہے لیکن اس سے استدلال بھی کیا گیا ہے حالانکہ وہ روایت سخت ضعیف اور ناقابل استدلال ہے[26]

3… علاوہ ازیں اگر اس روایت کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے، تب بھی اس سے استدلال جائز نہیں ہو گا۔ امام شوکانی فرماتے ہیں:

’قدتقررفي الأصول أن فعلہ لایعارض القول الخاص بنا،وتلک الأوامرالسابقۃخاصۃ بالأمۃ، فلا یصلح ھذا الفعل أن یکون قرینۃ لصرفھا۔‘

’’اصول میں یہ بات طے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا فعل آپ کے ان قولی احکام کے مقابلے میں پیش نہیں کیا جا سکتا جن کا آپ نے خاص طور پر حکم دیا ہے اور سابقہ احادیث جن میں امت کو بالخصوص سترے کا حکم ہے، آپ کا فعل اس بات کا قرینہ (دلیل) نہیں ہو سکتا کہ وہ قولی حدیث سے ثابت شدہ حکم کو اس کے مصرف سے پھیر دے۔‘‘[27]4صحیح احادیث سے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجد حرام میں بھی سترہ رکھنے کا اہتمام ثابت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے روایت ہے:

’اعتمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  فطاف بالبیت و صلی خلف المقام رکعتین و معہ من یسترہ من الناس‘[28]

 ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے عمرے میں بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں ادا فرمائیں اور آپ کے ساتھ ایسے لوگ تھے جو لوگوں کے لیے سترہ تھے۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی عمل حضرت جابرحجۃ الوداع کے موقع پر بیان فرماتے ہیں، چنانچہ صحیح مسلم میں سیدناجابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

’حتی اذا اتینا البیت معہ، استلم الرکن فرمل ثلاثا و مشی اربعا، ثم تقدم إلی مقام إبراھیم فقرأ {وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاہِیْمَ مُصَلّٰی}  [البقرۃ: 125]

 فجعل المقام بینہ و بین البیت۔‘[29]

’’یہاں تک کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ بیت اللہ آئے، آپ نے رکن کا استلام کیا اور تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلے، پھر مقام ابراہیم پر آ کر آیت {وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاہِیْمَ مُصَلّٰی} [البقرۃ: 125] پڑھی اور (دو رکعت ادا کرنے کے لیے) آپ نے مقام ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان کر لیا۔‘‘ گویا اس طرح سترے کا اہتمام کر لیا۔

آپ نے جب کعبہ کے اندر نماز پڑھی تھی تو کعبہ کی دیوار کو سترہ بنایا تھا، دیوار کعبہ اور آپ کے درمیان تین ہاتھ کا فاصلہ تھا۔[30]

5 سیدنا انس بن مالک کا عمل:جناب انس بن مالک ایک جلیل القدر صحابی ہیں، ان کا عمل بھی مسجد حرام میں سترہ رکھنے کا مؤید ہے۔ چنانچہ یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں:

’رأیت انس بن مالک في المسجد الحرام قد نصب عصا یصلي إلیھا۔[31]

’’میں نے انس بن مالک کو دیکھا: انھوں نے مسجد حرام میں لاٹھی کھڑی کی، اس کو سترہ بنا کر نماز پڑھی۔‘‘

مذکورہ دلائل کی روشنی میں واضح ہے کہ مسجد حرام (بیت اللہ) میں بھی سترے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ بلاشبہ وہاں نمازیوں کا ہر وقت بے پناہ ہجوم ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں بعض علمانے کثرت ہجوم کی وجہ سے اس کا جواز بھی تسلیم کر رکھا ہے جس کی وجہ سے لوگ وہاں بالعموم اس کی پروا نہیں کرتے۔ لیکن ازدحام (کثرت ہجوم) یا لوگوں کا پروا نہ کرنا، سترہ نہ رکھنے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ شرعی دلائل خانہ کعبہ میں بھی سترہ رکھنے ہی کی تائید کرتے ہیں۔ و اللہ أعلم و علمہ أتم وأکمل۔

چند ضروری وضاحتیں:

1        بلی کے گزرنے سے نماز میں کوئی فرق نہیں پڑتا، جیسے سیاہ کتے، عورت وغیرہ کے گزرنے سے نماز قطع ہو جاتی ہے۔ (کما مرّ)

2        قطع سے مراد خشوع میں کمی نہیں بلکہ نماز کا ٹوٹ جانا ہے۔ (کما مرّ)

3        عورت سے مراد بالغہ عورت ہے۔ نابالغ بچی کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹے گی۔

4        عورت، سیاہ کتے وغیرہ کے گزرنے سے نماز ٹوٹے گی۔ لیکن اگر یہ چیزیں نمازی کے آگے بیٹھی یا لیٹی ہوئی ہوں تو نماز نہیں ٹوٹے گی۔سید ہ عائشہ لیٹی ہوتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم  ان کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے۔



[1] نگران شعبہ تحقیق و تصنیف المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹرکراچی

[2] صحیح البخاري،کتاب الصلاۃ، باب سترۃ الإمام سترۃ من خلفہ۔

[3] ملاحظہ ہو فتاوی الدین الخالص از مولانا امین اللہ پشاوری: 3/554۔

[4] یہ دونوں روایات صحیح مسلم: ’کتاب الصلاۃ، باب سترۃ المصلي و باب منع المار بین یدي المصلي ‘میں ہیں

[5] صحیح البخاری: کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ إلی الاسطوانۃ۔

[6] صحیح البخاری:باب قدر کم ینبغی ان یکون المصلی و السترۃ۔

[7] صحیح المسلم:کتاب الصلاۃ، باب قدر ما یستر المصلی

[8] السلسلۃالصحیحۃ للالبانی، 7/959، حدیث:3333

[9] سنن ابی داود، حدیث: 710و دیگر کتب احادیث

[10] سنن ابی داود، حدیث: 719-720

[11] ضعیف سنن أبي داود للألبانی، رقم الحدیث: 137-704، ص: 65-66، طبع 1991ء

[12] فتاوی اہل حدیث از حافظ عبداللہ محدث روپڑی: 2/116، طبع اول

[13] صحیح البخاری، حدیث: 369

[14] صحیح البخاری، حدیث: 484

[15] صحیح البخاری، حدیث: 474

[16] مجموعہ فتاوی استاذ الاساتذہ حافظ محمد عبداللہ محدث غازی پوری، متوفی 1337ھ، ص: 206

[17] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو فتاوی الدین الخالص: 3/563-570

[18] فتح الباري: 1/753، طبع دار السلام

[19] { FN 677 }بحوالہ فتاوی الدین الخالص: 3/565

[20] الشرح الممتع: 3/340

[21]  البخاري (510) ،المسلم (507)

[22] سبل السلام :باب سترۃ المصلی ج1/ص 143

[23] عمدۃ القاری۔شرح صحیح البخاری:باب سترۃ الامام سترۃ من خلفہ،ج 7 صفحہ222

[24] عبداللہ امرتسری مقیم روپڑ ضلع انبالہ، مورخہ 19ربیع الثانی 1353ھ، 12؍ اگست 1933ء، فتاویٰ اہل حدیث: 2/116، طبع اول

[25] فتاوی اہل حدیث از حافظ عبداللہ محدث روپڑی: 2/116-117، طبع اول

[26] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ’’المنتقی‘‘ کی شرح ’’نیل الاوطار‘‘ (باب دفع المار وما علیہ من الاثم … : 3/9، طبع مصطفی البابی الحلبی، مصر۔ فتاوی الدین الخالص: 3/571،572)

[27] نیل الاوطار، باب مذکور، ص: 7-9

[28] صحیح البخاري:کتاب الحج،باب من لم یدخل الکعبۃ، حدیث: 1600

[29] صحیح المسلم، کتاب الحج، باب حجۃ النبی: 1218

[30] صحیح البخاری، حدیث: 1599

[31] مصنف ابن ابی شیبہ: 1/277، اسنادہ صحیح