بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

ہفتہ, 06 جنوری 2018 15:03

ملّت کے سپوت ذمہ داریاں اور درپیش فتنے

مقرر/مصنف  حافظ محمد یونس اثری

ملّت کے سپوت ذمہ داریاں اور درپیش فتنے !!

حافظ محمد یونس اثری[1]

تخلیق انسانی کئی مراحل طے کرکے منظر عام پر آتی ہےاور پھر تخلیق (پیدائش)کے بعد بھی اس کی زندگی کئی مراحل میں منقسم ہوتی ہے۔ مثلاً بچپن ،لڑکپن ،جوانی اور بڑھاپا۔ انسانی زندگی کے یہ مراحل اس قابل ہیں کہ انہیں بغور سمجھا جائے اور ان مراحل کے خصوصی اوصاف اور صلاحیتوں کے مطابق ہی ہر مرحلے کو گزارا جائے۔اس لئے کہ دین اسلام نے مکمل طور پر انہی مراحل کے مطابق انسان کو شریعت کا پابند بنایاہے۔مثلاً ایک بچہ جو ابھی سنِ شعور کو نہیں پہنچا وہ شرعی احکامات کا مکلف نہیں، بہرحال ان مراحل میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل جوانی کی عمر ہے ، جس کی اہمیت کا کوئی ذی شعور انکار نہیں  کرسکتا۔ کسی بھی قوم کے نوجوان اگر باشعور ہو ں تو وہ قوم زندہ قوم کہلاتی ہے اور اس قوم کی اقوام عالم میں اپنی ایک مستقل شناخت ہوتی ہے اور اگر کسی قوم کے نوجوان بے شعور ہوں تو وہ دنیا کی ایک مردہ قوم کہلاتی ہے ۔ اسی لئے استعمار جس قوم کو مردہ کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اس قوم کے نوجوانوں کو شعور سے خالی کرتا ہے۔ نوجوانوں کا ضمیر مردہ ہو جاتا ہے تو وہ اپنا آئیڈیل بھول جاتے ہیں ۔ یہ نوجوان ایسے لوگوں کو اپنا آئیڈیل بنا لیتے ہیں جن کا کردار اسلامی آئیڈیالوجی تو کجا کسی بھی تہذیب یافتہ قوم کے لئے مناسب نہیں ہوتا۔یہی صورتحال موجودہ دورکے جوانوں کی اکثریت کی ہے،زیر نظر مضمون میں نوجوانوں کے حوالے سے چند ذیلی نکات پر روشنی ڈالی جائے گی۔ان شاء اللہ

جوانی کی اہمیت :

نوجوانوں کے کرنے کے کام

دورحاضر کے جوانوں کو فتنوں کا سامنا اور ان کا حل

جوانی کی اہمیت :

جوانی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاکردہ ایک عظیم نعمت اوربڑی اہمیت کی حامل عمر ہےجس کا اندازہ چند نصوص شرعیہ کی روشنی میں لگایا جا سکتا ہے۔

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ایک حدیث میں سات ایسے خوش نصیبوں کا ذکر ہے جو قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سائے تلے ہوں گے ،جس دن سورج ایک میل کے فاصلے پر ہوگا اور لوگ پسینے میں شرابور ہوں گے، بعض لوگ سینے تک، بعض گھٹنے تک اوربعض پورے کے پورے پسینے میں ڈوبے ہوں گے،ایسے میں جنھیں اللہ تعالیٰ کے عرش کا سایہ نصیب ہوگیایقیناً وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہوں گے اور ان سات قسم کے افرادمیں سے ایک شخص :’’ وشاب نشأ في عبادة اللّٰہ ‘‘[2]  یعنی ایسا نوجوان جس کی نشونما اللہ کی عبادت ہی میں ہوئی ہو۔گویا کہ صالح جوان کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عرش کے سایہ میں ہوگا۔

اسی طرح جوانی کی اہمیت و حیثیت کا اندازہ اس حدیث سے لگاسکتے ہیں کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے قیامت کے دن پوچھے جانے والے پانچ اہم سوالات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

’ لاتزول قدم ابن آدم يوم القيامة من عند ربه حتى يسأ ل عن خمس عن عمره فيم ا فناه وعن شبابه فيم ا بلاه وماله من اين اكتسبه وفيم ا نفقه وماذا عمل فيما علم ‘‘[3]

’’ قیامت کے دن کسی شخص کے قدم اللہ رب العزت کے پاس سے اس وقت تک نہیں ہٹ سکیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں کے متعلق نہیں پوچھ لیا جائے گا۔ (۱) اس نے عمر کس چیز میں صرف کی (۲)جوانی کہاں خرچ کی (۳)مال کہاں سے کمایا(۴)مال کہاں خرچ کیا(۵)جو علم حاصل کیا اس پر کتنا عمل کیا ۔‘‘

مذکورہ حدیث میں سب سے پہلا سوال عمر کے بارے میں ہے ،جس میں جوانی بھی شامل ہے لیکن دوسرا سوال علیحدہ سے جوانی کے بارے میں کیا جائے گا کہ جوانی کیسے گزاری؟جس سے اس کی اہمیت کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔

اسی طرح ایک حدیث میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نےپانچ چیزوں کے بارے میں فرمایا کہ انہیں غنیمت سمجھو۔چنانچہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک آدمی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

 ’’اغتنم خمسا قبل خمس شبابك قبل هرمك وصحتك قبل سقمك وغناءك قبل فقرك وفراغك قبل شغلك وحياتك قبل موتك‘[4]

ترجمہ: ’’ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں کے آنے سے پہلے غنیمت سمجھو۔(۱)جوانی کو بڑھاپے سے پہلے (۲)بیماری سے پہلے صحت کو(۳)محتاجی سے پہلے مالداری کو(۴)مصروفیت سے پہلے فرصت کو(۵)موت سے پہلے پوری زندگی کو ۔‘‘

اس حدیث میں بھی سب سے پہلے جوانی کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اس کی قدر کی جائے اورحقیقت بھی یہی ہے کہ جوانی جیسی عمر کوئی نہیں ، یہی وجہ ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے صحابہ


میں اکثریت جوانوں کی تھی جنہوں نے دل و جان سے اسلام کو قبول کیا اور پھر نشر اسلام اور دفاع اسلام کے لئے کمربستہ ہوگئے۔بہر حال ان تمام روایات سے اور اس تفصیل سے جوانی کی اہمیت آشکارہوتی ہے ۔

نوجوانوں کے کرنے کے کام

انسانی زندگی کے تمام مراحل میں سب سے اہم مرحلہ یہی جوانی ہے ، لہذااس عمرمیں جو کام ہوسکتے ہیں زندگی کے کسی مرحلےمیں نہیں ہوسکتے،اس لئے چند ایسے کام بیان کئے جاتے ہیں،جو پوری زندگی میں بالعموم اور وہ کام جوانی کی عمر میں زیادہ احسن انداز میں کئے جاسکتے ہیں۔

تعلیم اور تعلّم

جوانی کی عمر علم سیکھنے کی عمر ہےاور ایسا علم کہ اس پر عمل بھی ہو۔یہ کام جوانی میں بطریق احسن ہوسکتا ہے۔ جب جسم کے دیگر اعضاء کی طرح دماغ بھی جوان ہوتا ہے۔اور پوری توجہ اور یکسوئی کے ساتھ علم حاصل کیاجاسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اصحاب صفہ بھی اکثر نوجوان تھے۔ابوذر غفاری ،بلال رضی اللہ تعالیٰ عنھما وغیرہ اسی زمرے کے ہیں۔جس صحابی کی شادی ہوجاتی اور عائلی ذمہ داریاں غالب آجاتیں وہ اس زمرے سے نکل جاتا۔اسی طرح نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ملازم شاگرد جناب ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ بھی جوانی کی عمر میں تھے۔ قبول اسلام کے وقت آپ کی عمر کم و بیش ۲۶ یا ۲۷ سال تھی ۔سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ  بھی جوانی کی عمرمیں تھے،جیسا کہ صحیح بخاری کی مختلف روایات سے ثابت ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ  جن کے لئےنبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے خصوصی طور پر تفقہ فی الدین کی دعا کی،وہ بھی جوان تھے۔

ایک اور ملازم شاگرد سیدناانس رضی اللہ عنہ   بھی جوان تھے۔ جب نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت کے لئے آئے اس وقت ان کی عمر دس سال تھی اور دس سال آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت کی ۔

 اس حوالے سےکئی ایک صحابہ کا تذکرہ کیا جاسکتا ہے بلکہ ان کی صرف جوانیوں کےروشن تذکرے اگر فرداً فرداً کئے جائیں تو کئی ایک دفاتر وجود میں آسکتے ہیں۔

بہرحال یہ عمر ہی اصل تعلّم کی ہے۔یہی وجہ ہے کہ امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ کا قول ہے:


 

’’و یستحب للطالب ان یکون عزباً ما امکنہ‘‘[5]

               ’’ طالب علم کے لئے مستحب ہے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو غیر شادی شدہ ہو۔‘‘ (تاکہ شادی کے بعد کی عائلی ذمہ داریاں اس کے لئے حصول علم سے مانع نہ بن جائیں۔)

اور جوانی کی عمر میں کس قدر ترجیحی بنیادوں پر علم کو حاصل کیا جائے، اس کا اندازہ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کے اس قول سے لگائیں وہ فرماتے ہیں :

’’و اختار للمبتدی فی طلب العلم ان یدافع النکاح فان احمدبن حنبل لم یتزوج حتی تمت لہ اربعون سنۃ، و ھذا لاجل الھم ،ای للعلم [6]

               ’’میں مبتدی طالب علم کے لئے یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ نکاح نہ کرے ، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے شادی نہیں کی تھی حتی کہ ان کی عمر چالیس سال ہوگئی تھی اور اس تاخیر کی وجہ حصول علم تھی۔‘‘

اندازہ لگائیں طلبِ علم کی وجہ سے بعض اہل علم نے جوانوں کو نکاح میں تاخیر کرنے کی نصیحت کی ہے کہ کہیں یہ اس طلب علم کے ایک اہم مشن میں رکاوٹ نہ بن جائے ۔اس اسےصاف واضح ہے کہ طلب ِعلم جوانوں کے اہم وظائف میں سے ہے اور یہ اتنا اہم کام ہے کہ اسے نکاح پر ترجیح دی جائے۔

الغرض یہ عمر تعلّم ِعلم کی ہے(اگرچہ عمر کے کسی بھی حصے میں علم حاصل کرنے والے کو روکا نہیں جاسکتا)کیونکہ اس عمر میں انسان کی قوت حافظہ مضبوط ہوتی ہے۔اور ڈھلتی عمر کے ساتھ ساتھ اس کے ضبط کی طاقت بھی کمزور ہوجاتی ہے۔پھر وہ بہت سی چیزیں یاد کرنا چاہتا ہےتو بھی نہیں کرپاتا۔

دعوت و تبلیغ

 نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو نبوت جوانی کی عمر میں ملی ۔چونکہ نبوت ایک انتہائی کٹھن ذمہ داری ہے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے پوچھا گیا کہ  لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش کن پر ہوتی ہے؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جواب دیا: ’’الأنبیاء ثم الأمثل فالأمثل۔‘‘[7]’ ’سب سے زیادہ سخت آزمائش انبیاء پر آتی


 ہیں پھر ان کے بعد نیک لوگوں پر ،اور پھر اس کے بعد جو نیک لوگ ہوں۔‘‘

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  جب معراج پر گئے اس رات سیدنا موسی  علیہ السلام  ،نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو دیکھ کر رو پڑے۔ان سے پوچھا گیا کہ رونے کی وجہ کیا ہے؟ ان کا جواب تھا کہ ایک نوجوان جو میرے بعد نبی بنا ہے اور مجھ سے زیادہ اس کی امت جنت میں جائے گی۔[8]

تنبیہ : سیدنا موسی  علیہ السلام کا یہ رونا اور مذکورہ کلمات کہنا حسد کے طور پر نہیں تھے،بلکہ یہ اظہار افسوس کے طور پر تھا کہ وہ کثرت ِامت نہ ہونے کی وجہ سے اجر ِکثیر سے محروم ہوگئے۔حسد ،کسی نبی سے اور پھر اس عالم میں نہیں ہوسکتا۔

اس حدیثِ معراج سے بھی نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو جوانی کی عمر میں نبوت جیسی اہم ذمہ داری کا ملنا ثابت ہوتا ہے۔

مزید یہ کہ صحیح بخاری میں ہے کہ ہجرت کے وقت ابوبکر  رضی اللہ عنہ  نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے بڑے تھے اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا وصف بیان ہوا کہ ’’شاب لا یعرف‘‘  [9]یعنی ایسے نوجوان کہ لوگ انہیں پہچانتے نہیں تھے۔

جب نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو نبوت ملی آپ کی عمر ۴۰سال تھی ،جوکہ جوانی کی عمر ہے،اور اس عمر کے جوانی کی عمر ہونے کے ثبوت میں قرآنی نص موجود ہے جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ ’’ وَبَلَـغَ اَرْبَعِيْنَ سَـنَةً‘‘  (الاحقاف:15)

یہ ایسی عمر ہے کہ انسان کی جوانی بھی برقرار رہتی ہے اور اسے پورا شعور اور فہم ہوتا ہےاور اپنا بڑھاپا بھی اسے قریب آتا دکھائی دیتا ہے۔تو یہ ہر لحاظ سے اہم عمر ہے اس لئے اسی عمر میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو نبوت عطا کی گئی۔

نبوت ایک اہم ذمہ داری ہے اسی لئے ایسی ہی عمر کا انتخاب کیا گیا کہ جس عمر میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  مکمل طور مختلف قسم کی ابتلاءات کا سامنا کرسکیں۔لہٰذا یہی اصل عمر ہے دعوت دین کی کہ جس میں امر بالمعروف و نھی عن المنکر کے سب سے اعلیٰ درجے (ہاتھ سے روکنا) پر بھی عمل کرسکتا ہے اور زبان کے ذریعے بھی ۔


 

بیعت عقبہ اولیٰ کے بعد مدینہ میں تبلیغ کے لئے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ جانے کا حکم دیا۔ مصعب  رضی اللہ عنہ  اس وقت جوان تھے۔مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ  نے اپنی حرارت ایمانی اور جوش ایمانی کے ساتھ تبلیغ کا آغاز کیا۔ ان کے خلوص اور لگن، جوش خطابت، اخلاقِ پسندیدہ کے باعث بہت کم عرصہ میں بہت بڑی تعداد میں لوگ دین اسلام کی طرف آگئے اور یوں سمجھ لیں کہ تقریباً انصار کے ہر گھر میں کوئی نہ کوئی فرد مسلمان تھا سوائے کچھ گھروں کے۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ  مُقری کے لقب سے مشہور ہوئے۔

دیکھیں میدان تبلیغ میں ایک جوان کی محنت کا یہ ثمرہ ہےکہ مدینہ میں بڑی تعداد اسلام کی دولت سے مالا مال ہوگئی۔

 سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اہل بصرہ میں سے ہیں ،اپنی قوم کے کچھ نوجوانوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس آئے تھے اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس قیام کیا تھا وہ فرماتے ہیں: ہم کچھ افراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس آئے اور ہم سب جوان تھے اور قریب قریب عمر کے تھے ہم نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس بیس (۲۰) دن ٹھہرے،نبی  صلی اللہ علیہ وسلم بڑے رحیم اور نرم مزاج والے تھے جب نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہ محسوس کیا کہ ہم اب اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں ،تو نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہم سے ہمارے گھر والوں کے بارے میں پوچھا، ہم نے اپنے گھر والوں کے بارے میں بتلایا ، نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

’’ ارجعوا إلى أ هليكم فأ قيموا فيهم وعلموهم ومروهم وذكر أشياء أحفظها او لا أحفظها وصلوا كما رأيتموني أ صلي فإذا حضرت الصلاة فليؤذن لكم أ حدكم وليؤمكم أ كبركم‘‘ [10]

یعنی اپنے گھروں کی طرف جاؤ اور ان کے پاس جاکر رہو اور انہیں علم سکھاؤ اور اچھی باتوں کا حکم دو اور پھر فرمایا جیسے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے ویسے نماز پڑھو جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان کہے اور جو تم میں سے عمر میں بڑا ہو وہ امامت کروائے۔

اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ ان صحابہ نے مبادیات کو سیکھ کر پھر اس کی تبلیغ کا آغاز اپنے  گھروں سے کیا۔

اس لئے جوانوں کی یہ سب سے اہم ترین ذمہ داری ہے کہ وہ خود دین کی صحیح طور پر سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے بعد پھر اس کے نشر کے لئے کمربستہ ہوجائیں۔

 جہاد

جوانوں کا ایک اہم ترین کام یہ بھی ہے کہ وہ دفاع اسلام کے لئے میدان مقتل میں نکلتے ہیں۔تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہ کام بھی نوجوانوں کے حصے میں آیا۔

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ  بھی جنھیں میدان جہاد میں ان کی عمدہ کارروائیوں کی بناء پر سیف اللہ کے لقب کا شرف حاصل ہوا، جوانی کی عمر میں تھے۔

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے خیبر کی جنگ کے لئے جھنڈا تھمانے کے لئے جس شخصیت کا انتخاب کیا وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ  تھے اور اس وقت جوانی کی عمر میں تھے۔

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے صحابہ میں سے ایک صحابی سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ  ہیں ، جو تیز دوڑنے میں مشہور تھے ،جنگ خیبر انہوں نے پاپیادہ لڑی ،[11]نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ سات جنگوں میں شریک ہوئے،[12]

 اور ایک جنگ میں لڑتے ہوئے یہ اشعار بھی کہہ رہے تھے کہ

ا نا ابن الا كوع                  ا ليوم يوم الرضع

میں اکوع کا بیٹا ہوں ، اور آج کا دن چھٹی کادودھ یاد کرانے کادن ہے۔[13]

اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا تھا کہ آج کے ہمارے گھوڑ سواروں میں سے بہترین شخص ابوقتادہ رضی اللہ عنہ  اور پیدل لڑنے والوںمیں سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ  ہیں ،جنھیں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کی کارکردگی کو سامنے  رکھتے ہوئے دہرا حصہ دیا تھا ۔[14]

اپنی زندگی کے آخری ایام میں جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  بستر مرض پر تھے اور آپ کو رومیوں کی جنگی تیاریوں کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک لشکر تیار کروایا اور اس لشکر کی قیادت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ  کو عطا فرمائی۔ اسامہ رضی اللہ عنہ  اس وقت صرف اٹھارہ سال کے جوان تھے۔[15] ان کی ایک امارت کا تذکرہ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ  نے بھی کیا ہے۔ [16]

ابوجہل کو قتل کرنے والے بھی نوجوان تھے۔صحیح بخاری میں ان کا تذکرہ موجود ہےکہ انہوں نے کس انداز میںاللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کے سب سے بڑے دشمن ابوجہل کو قتل کیا۔

جوانوں کی صلاحیت کے مطابق ان سے کام لیا جائے

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جوانوں سے ان کی صلاحیتوں کے مطابق کام لیا اس کی کئی ایک مثالیں دی جاسکتی ہیں، جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔

ابو محذورۃ  رضی اللہ عنہ   حنین کے قریب یہ دس نوجوان لڑکے(بعض میں بیس کا ذکر ہے۔[17]

جارہے تھے کہ انہوں نے اذان کی آواز سنی اور ابومحذورہ  رضی اللہ عنہ  نے اس اذان کو سنتے ہی اس کی نقل کرنا شروع کردی نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس آواز کو سنا تو ان لڑکوں کو بلوالیا ،(اس وقت یہ مسلمان نہیں تھے۔) آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک کرکے سب سے اذان سنی لیکن وہ پیاری آواز جو سنی تھی کسی کی نہ تھی۔ بالآخر ابومحذورۃ  رضی اللہ عنہ  کی باری آئی،ان سے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اذان سنی تو یہ وہی آواز تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سنی تھی اور بہت خوبصورت آواز تھی۔آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ابومحذورہ  رضی اللہ عنہ کواذان سکھائی اورآپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ابومحذورہ رضی اللہ عنہ  کو اس وقت تحفہ بھی دیا اور برکت کی دعائیں بھی  دیں اور ابومحذورہ رضی اللہ عنہ   کی پیشانی ،چہرے اور ناف تک ہاتھ بھی پھیرا تھا۔ملخصاً  [18]بعض روایات میں ہے کہ پھر ابومحذورہ  رضی اللہ عنہ  نے خود کہا کہ مجھے مکہ میں اذان دینے کا حکم کریں[19] جبکہ بعض روایات میں ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے حکم دیا :’’اذهب فأذن لاھل مکۃ عند البيت الحرام۔‘‘ [20]سیدنا ابومحذورہ  رضی اللہ عنہ  نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  ،ابوبکر  رضی اللہ عنہ   اور عمر رضی اللہ عنہ   کے دور میں اذان دیتے رہے۔[21] }   اور پھر یہی اذان کا سلسلہ ابومحذورہ رضی اللہ عنہ   کی اولادمیں متوارث رہا۔ [22]

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بعض صحابہ کی ذمہ داری لگائی تھی ،جو وحی کو لکھا کرتے تھے اس لئے کہ ان میں یہ صلاحیتیں موجود تھیں ،اور اکثر کاتبین وحی جوان تھے۔چند ایک کے نام درج ذیل ہیں۔

               سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر ،سیدنا عثمان ،سیدنا علی، سیدنا ابان بن سعید بن العاص، سیدنا ابی بن کعب، سیدنا زید بن ثابت، سیدنا معاذ بن جبل ، سیدنا ثابت بن قیس، سیدنا زبیر بن عوام ، سیدنا عبداللہ بن سعد بن ابی السرح سیدنا عبداللہ بن زید بن عبد ربہ ، سیدنا علاء بن الحضرمی ،سیدنا معاویۃ بن ابی سفیان اور سیدنامغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنھم اجمعین ۔

بعض صحابہ کو مختلف علاقوں کی طرف بطور مبلغ ، سپہ سالار ،نمائندہ کے طور پر بھیجا ، اس میں ان کی صلاحیتوں کو شامل حال رکھا گیا تھا۔ جیسا کہ معاذ بن جبل ،علی ،زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنھم وغیرہ۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، ابن عباس  رضی اللہ عنہ  کو اپنے قریب رکھا کرتے تھے ،عبدالرحمان بن عوف  رضی اللہ عنہ  نے ان سے کہا کہ آپ انہیں ہمارے ساتھ بٹھادیتے ہیں ان کے جیسے تو ہمارے بچے ہیں،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ  نے جواب دیا یہ ان کے علم کی وجہ سے ہے چناچہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ   سے سورۃ النصر کی پہلی آیت کی تفسیر کے بارے میں پوچھا ،تو اس کی تفسیر میں ابن عباس  رضی اللہ عنہ  نے جواب دیا :جب اللہ کی مدد اور فتح مکہ حاصل ہوئی تو اللہ نے اپنے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات کی خبر دی ہے گویاکہ فتح مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی علامت ہے لہٰذا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح کیجئے اور استغفار کیجئے اللہ قبول کرنے والا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ  نے فرمایا کہ میرا بھی یہی خیال ہے جو تمہارا ہے۔[23]

معلوم ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ  کی نوعمری کے باوجود ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں شوریٰ میں شامل کیا ہوا تھا۔

اسی طرح سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ  نے جمعِ قرآن کے حوالے سے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ   کی ذمہ داری لگاتے ہوئے فرمایا تھا: ’’ إنك رجل شاب عاقل ولا نتھمك‘‘ یعنی آپ نوجوان اور سمجھ دار آدمی ہیں ، ہم آپ کو (کسی برائی سے) متہم قرار نہیں دیتے۔[24]

یہاں بھی سیدنا زید بن ثابت  رضی اللہ عنہ  سے ان کی صلاحیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ان سے جمعِ قرآن کا کام لیا گیا باوجود اس کے کہ وہ ایک نوجوان آدمی تھے۔

نوجوانوں کوجدید مسائل سے آشنا ہونا چاہئے

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو عبرانی زبان سیکھنے کا حکم دیا تھا۔انہوں نے آدھے مہینے میں عبرانی زبان سیکھی تھی۔[25]

چونکہ اس وقت عبرانی کا سیکھنا وقت کی فوری ضرورت تھا ،جسے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے محسوس کیا تاکہ یہود سے خط و کتابت سمیت دیگر معاملات میں آسانی ہو،تو اس سےمعلوم ہواکہ نوجوانوں کی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ وقت کے مطابق جدید علوم سے آراستہ ہوں لیکن اس  سے پہلے اپنے دین سے آشنائی بہت ضروری ہے۔ دوسری بات اس حوالے سے یہ ہے کہ یہ تمام افراد کی من حیث المجموع ذمہ داری نہیں بلکہ بعض کی ہے جن میں یہ اہلیت موجود ہو۔ جیسا کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے تمام صحابہ کی یہ ذمہ داری نہ لگائی کہ سب عبرانی سیکھیں ۔بلکہ صرف زید کو حکم دیا کیونکہ اصل مقصود صرف ضرورت کے مطابق اس کو سیکھنا تھا نہ کہ مرعوب ہوکر اس کو وقت کی ضرورت قرار دیا تھا ،جیسا کہ آج دیکھنے میں آتا ہے،کہ مغرب سے اٹھتے ہر فتنے کو ہم وقت کی ضرورت سمجھ لیتے ہیں۔اور پھر اسے سیکھنے پر تُل جاتے ہیں۔

نوجوانوں کے لئے اہم نصیحتیں :

ذیل کی سطور میں چند اہم نصیحتیں پیش کی جاتی ہیں ، جو ان شاء اللہ جوانوں کے لئے ایک رہنما نصائح کی حیثیت رکھتی ہیں۔

وقت کی قدر کریں

ویسے عمومی طور پر تمام عمر کے لوگوں کو ہی اوقات کی قدر کرنی چاہئے اور بالخصوص نوجوانوں کواس حوالے سے خصوصی توجہ دینی چاہئےاس لئے کہ ان کے لمحات سب سے مہنگے اور قیمتی ہیں ،اور وقت کی قدر کے حوالے سے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: ’’نعمتان مغبون فیھما کثیر من الناس الصحۃ والفراغ‘‘ [26]

 یعنی دو قسم کی نعمتیں ایسی ہیں کہ جن کے حوالے سے اکثر لوگ ناقدری کا شکار رہتے ہیںاور ضائع کردیتے ہیں،ایک صحت اور دوسری چیزفرصت کے لمحات ۔

اسی طرح ایک حدیث میں فرمایا :صحت کو بیماری سے پہلے اور فراغت کو مصروفیت سے پہلے غنیمت جانو۔

اچھی صحبت اور بری صحبت :

جوانوں کو بالخصوص اپنی صحبت (Gathering) پر بھی توجہ دینی چاہئے ۔اس لئے کہ یہ انتہائی  اہم ترین سبب ہے کہ جس کی وجہ سے اچھا شخص بری عادتوں اور برا شخص اچھے لوگوں میں بیٹھنےکی وجہ سے بہت سی اچھی چیزیں سیکھ جاتا ہے۔نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اچھی صحبت اور بری صحبت کی مثال عطر فروش اور بھٹی والے سے دی ہے ۔چنانچہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اچھے اور برے ساتھی کی مثال اس شخص کی سی ہے جو مشک لئے ہوئے ہے اور بھٹی دھونکنے والاہے، مشک والایا تو تمہیں کچھ دے دےگا یا تم اس سے خرید لوگے یا اس کی خوشبو تم سونگھ لوگے(یعنی ہر صورت فائدہ ہی فائدہ ہے ) اور بھٹی والایا تو تمہارے کپڑے جلادے گا یا تمہیں اس کی بدبو پہنچے گی۔(یعنی ہر صورت میں نقصان ہی نقصان ہے۔)[27]

بڑوں کو بڑا ہی سمجھا جائے

جوان افراد جوانی کے نشے میں عام طور پر بڑوں کو اولڈ مین (Old Man) کہہ کر یہ سمجھتے ہیں کہ اس ترقی یافتہ دور سے یہ پرانے لوگ نا واقف ہیں ،اور اس دور کے تقاضوں کے مطابق ہی ہمیں اپنی جوانی گزارنی چاہئے۔ اور مزید اس پر یہ کہ بڑوں کے فیصلوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ایسے تمام انداز انتہائی غلط ہیں ، اور اس طرح کی تنقید کرتے وقت ہم کیوں یہ بھول جاتے ہیںکہ ہم اپنی کم عمری کی وجہ سے معاملات کی کنہ کو نہیں پہنچے کہ جس حدتک طویل تجربات کے بعد ہمارے بڑے پہنچ چکے ہیں۔ ہم اپنے بڑوں کے ساتھ ناروا سلوک کرتے وقت کیوں بھول جاتے ہیں کہ کبھی میں نے بھی بڑا ہونا ہے؟؟ ہماری سوچ تو یہ ہونی چاہئے تھی کہ ہم ان بڑوں سے سیکھیں، ان کے ساتھ وقت گزاریں، ان سے نصیحتیں طلب کریں،تاکہ گزرتے وقت کے ساتھ جیسے جیسے میری عمر ڈھلے گی مجھے مختلف قسم کی ذمہ داریوں کا سامنا کرنا پڑے گا مجھے ان ذمہ داریوں کا سامنا کرنے کے لئے اور انہیں بطریق احسن ادا کرنے کے لئے انہیں کے زیر سایہ اور زیر تربیت رہنا چاہئے۔نیز بڑوں کی غلطیوں میں بھی اپنے لئے سبق تلاش کیا جائے چہ جائیکہ ہم ان کی غلطیوں پر مبصر کی حیثیت سے کوئی رائے زنی کریں۔

جوانی کی حفاظت کریں

جو نعمت جس قدر بڑی اور اہم ہوتی ہے ، اس کی حفاظت بھی اسی قدر اہم ہوتی ہے۔لہذا ایسے فتنے جو انسان کو بدنظری اور زنا کی طرف لے جاتے ہیں ،ان سے حفاظت بہت ضروری ہے ،کیونکہ جوانی کی عمر میں انسان کی شہوت بھی خاصی متحرک ہوتی ہے، گناہ کے امکان بہت زیادہ ہوتے ہیں ، سلف صالحین اس حوالے سے اس قدر فکر مند ہوتے تھےکہ سیدنا ابوہریرۃ  رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  !میں ایک جوان آدمی ہوں اور اپنے نفس کے حوالے سے گناہ سے ڈرتا ہوں اور میں نکاح کی طاقت نہیں رکھتا ،لہذا مجھے خصی ہونے کی اجازت دے دیں۔نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  خاموش رہے ،دوسری مرتبہ اپنی اس بات کو سیدنا ابوہریرۃ  رضی اللہ عنہ نے دہرایا، پھر بھی نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  خاموش رہے ،تیسری مرتبہ سیدنا ابوہریرہ   رضی اللہ عنہ نے اپنی بات کو دہرایااور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  خاموش رہے ، چوتھی مرتبہ جب سیدنا ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ  نے اپنی بات کو دہرایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایااے ابوہریرۃ( رضی اللہ عنہ ) ! قلم خشک ہوچکے ہیں ،لہذا جو ہونا ہے وہ ہوکر رہے گا۔[28]

اندازہ لگائیں کہ سلف صالحین میں اس حوالے سے کس حد تک جوانی کی حفاظت کا جذبہ موجود تھا۔

اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم وقتاً فوقتاً صحابہ کی اس حوالے سے تربیت بھی کیا کرتے تھے ،بلکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جوانوں کو مخاطب کرکے فرمایا :

’’ یا معشر الشباب، من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج ،فانہ اغض للبصر ، و أحصن للفرج ، و من لم یستطع فعلیہ بالصوم ، فانہ لہ وجاء‘‘ [29]

یعنی : اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہے ، وہ شادی کرلے اس لئے کہ یہ نظر کو جھکانے اور شرمگاہ کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے اور جو شادی کی طاقت نہ رکھے ،وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ اس کے لئے ڈھال ہے۔

ابن مسعود رضی اللہ عنہ  اس وقت جوانی کی عمر میں تھے ، فرماتے ہیں کہ یہ حدیث میری ہی وجہ سے بیان کی


گئی اور میں نے جلد ہی شاد کرلی۔[30]

ایک موقع پر ایک لڑکی نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس آئی اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ  اس کی طرف دیکھنے لگے تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فوراً ان کے چہرے کو موڑ دیا۔[31]

ایک شخص نے آکر زنا کی اجازت مانگی، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کی بھی بڑے احسن انداز سے تربیت کی اور فرمایاکہ کیا تم یہ پسند کروگے کہ تمہاری ماں ،بہن اور بیٹی کے ساتھ کوئی اس طرح کا معاملہ کرےاس شخص نے کہا کہ میں یہ پسند نہیں کرتا ،آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے کہا کہ یہی سوچ دوسرے کی بہن ،بیٹی اور ماں کے بارے میں ہونی چاہئے ۔

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نےسیدنا علی رضی اللہ عنہ  کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :’’لا تتبع النظرۃ النظرۃ ‘[32]یعنی ٹکٹکی باندھ کر نہ دیکھ۔ (اگر اچانک نظر پڑجائے تو اس پر انسان گناہ گار نہیں)

ان تمام نصوص سے واضح ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جوانوں کو اس گناہ سے بچنے کے لئے مسلسل کس طرح سے تربیت کی جس کانتیجہ تھا کہ آج ہم کسی صحابی کے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ اس طرح کے گناہ کا مرتکب ہو،بلکہ ایسا سوچناہمارے اسلام کے لئے خطرہ بن جائے گا۔

اوریہی ہمارا کرنے کا کام ہے کہ ہم نہ کہ صرف اس گناہ سے بچنے کی کوشش کریں بلکہ وہ تمام راستے جو زنا کی طرف لے جاتے ہیں،ان سے بھی بچنا ازحد ضروری ہے۔کیونکہ قرآن مجید میں حکم ہے کہ زنا کے قریب بھی نہ جاؤ۔(الاسراء:۳۲) لہٰذا ایسے تمام امور واسباب جو زنا کے قریب لےجاتے ہیں،ان سے دور رہناچاہئے۔سیدنا یوسف علیہ السلام نے جوانی کی عمر میں ہی اپنے آپ کو اس گناہ سے بچایا جس کا تذکرہ رہتی دنیا تک قرآن مجید میں موجود رہے گا۔ بلکہ ایسا شخص جو کبھی ایسی صورتحال بن جانے کے باوجود کہ ایک خوب صورت اور حسب و نسب والی عورت اسےگناہ کی دعوت دے اور وہ خود کو اس گناہ سے بچالے ،اس کا صلہ یہ ہے کہ قیامت کے دن یہ اللہ کے عرش کے سائے تلے ہوگا۔[33]


 

بے شعوری نقصان دہ ہے

جوانی کی عمر ایسی عمر ہے کہ جس میں شعور توآجاتا ہے ،لیکن یہ شعوربدرجہ اتم نہیں ہوتا،جوانی کی عمر میں عجلت اور جذبات کا عنصر غالب ہوتا ہے۔اور جس حد تک یہ عنصر غالب ہوتا ہے اسی حد تک وہ شعور اور فہم و فراست سے دور ہوتا ہے۔یہی وجہ ہےکہ جوان شخص بجائے اس کے کہ مکمل طور پر اپنے شعور پر اعتماد کرے، اسے اپنے بڑوں سے نصیحتیں اور ان سے رابطہ رکھنا چاہئے ۔ جوانی کی عمر میں بے شعوری اور عجلت انتہائی نقصان دہ ہے۔ بعض انصاری نوجوان کہہ بیٹھے تھے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوازن کے مال سے مہاجرین کو سو ،سو اونٹ دئیے ہیں،وہ قریش کو دیتے ہیں اور ہمیں نہیں دیتے۔باوجود اس کہ کے ہماری تلواریں ان کے خونوں سے تر ہیں۔نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو جب علم ہوا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم بہت مغموم ہوئے اور انصار صحابہ کو جمع کیا اور ان سے پوچھا تو انصار کے بڑی عمر کے سمجھ دار افراد کہنے لگے کہ اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ! یہ بات بعض نوجوان لڑکوں نے کہہ دی ہے ،نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے انصار صحابہ سے فرمایا کہ میں نے مال زیادہ دیا ہے ،تو انہیں دیا ہے جو ابھی نیا نیا کفر کے دین کو چھوڑ کر آئے ہیں ،اور تمہارے لئے اس سے بڑھ کر شرف کی بات کیا ہوسکتی ہےکہ لوگ اپنے گھروں میں مال لے کر جائیں اور تم رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی محبت لے کر جاؤ۔تمام انصار صحابہ نے کہاکہ اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اس پر راضی ہیں۔[34]

اندازہ لگائیں وہ صحابہ جن کے لئے اللہ کی رضامندی اور جنت کے اعلان ہوچکے ہیں ،ان میںسے بھی بعض لڑکوں سے اس طرح کی غلطی ہوسکتی ہے،اور وجہ ان کی کم سنی تھی( جسے بہرحال نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نےدرگزر  فرمادیا) اس واقعے کو سامنے رکھ کر ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ ہمارے معاشرے پر نوجوانوں کے بے شعوری کے کس قدر خطرنا ک اثرات رونما ہوسکتے ہیں۔ظاہر سی بات ہےہم میں تو بالاولیٰ اس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ،بلکہ یہاں ایک حدیث کو بھی بیان کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ میں نے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’هلاک امتي علي يدي غلمة من قريش‘‘[35]  یعنی میری امت کی ہلاکت قریش کے چند نوجوانوں کے ہاتھ ہے ۔

ظاہر سی بات ہے کہ وہ امت کے فساد اور خرابی کاسبب کیسے بنیں گے ؟؟اپنی کم فہمی اور بے شعوری کی وجہ سے۔

اس کے برعکس جب ایک جوان میں شعور پیدا ہوتا ہے تو وہ پورے سماج کی اصلاح کے لئے کمربستہ ہوجاتا ہے، اس کی مثال سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں کہ جنہوں نے جب بت توڑے تو قوم جانتی تھی کہ ایک جوان ہی کا کام ہوسکتا ہے۔اور قوم کی مراد ابراہیم علیہ السلام تھے۔( الانبیاء:۶۰)  یعنی ایسا جرأتمندانہ فعل ایک جوان نے ہی کیا ،اور جب جوان یہ کام نہ کرسکے تو کم ازکم اس کی غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ وہ خاموش تماشائی بن جائے،بلکہ وہ کم از کم ایسے علاقے میں رہنا مناسب نہیں سمجھتا۔ اس کی بڑی مثال اصحاب کہف ہیں،جوکہ نوجوان لڑکے ہی تھے، جب انہیں توحید کا فہم اور شعور آیا،پھر ان کی غیرت نے شرک و کفر کو قبول نہیں کیا، قوم ان کے درپے ہوئی اور ان کے بس میں بھی کچھ نہیں تھا،بالآخر وہ اس علاقے کو چھوڑ کر ایک غار میں چھپ جاتے ہیں ،اس پورے واقعہ کا نقشہ قرآن مجید میں کھینچا گیا۔(دیکھئے: سورۃ الکہف: ۹ تا ۲۶)

بہرحال یہ نتیجہ ہے نوجوانوں کے صحیح شعور اور فہم و بصیرت کااور بے شعوری اور کم فہمی کا۔

آج کا نوجوان فتنوں کے نرغے میں

جوانی کی عمر آزمائشوں سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔جہاں اس عمر میںنوجوان کے کاندھوں پر مختلف قسم کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں ،ساتھ ہی اسے مختلف قسم کے فتنوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس عمر میں دنیاوی خواہشات اور حب الشہوات دونوں ہی عروج پرہوتی ہیںاور ساتھ ہی جوانی ایک غفلت کی عمر بھی ہے،ایسے میں جوان جن برے اعمال کا مرتکب ہوجاتا ہے بالخصوص دور حاضر میں نوجوان جس طرح سےغلط راہوں کا راہی بن چکا ہے اور اس میں دینی اور اخلاقی اعتبار سے جن بیماریوں کا شکار ہے ، ذیل میں ان کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

مال سے متعلق برے خصائل

چونکہ جوان اپنے والدین اوراولاد کی کفالت اور بیوی کے نان و نفقہ اور اقارب کے ساتھ صلہ رحمی جیسی مختلف ذمہ داریاں اپنے کاندھوں پر لئے ہوئے ہوتا ہے،اور اب دنیا کی دیکھا دیکھی محض دنیاوی حرص و طمع کی بنیاد پر یا اپنی ان مذکورہ ذمہ داریوںکو صحیح طور پر نبھانے کی دوڑمیں بسا اوقات وہ ناجائز راہوں کا انتخاب کرلیتا ہے،مثلاً چوری ،ڈکیتی ، جوا، سود خوری وغیرہ ۔ چونکہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے مال کمانا اس کی ضرورت ہے اس لئے حلال و حرام کی تمییز کئے بغیر کثرت مال کی حرص اپنے اندر پیدا کرلیتا ہے۔اور ان گناہوں کا مرتکب ہوجاتا ہے۔

حل :

اس قبیل کی برائیوں کا حل یہ ہے کہ ہمارا مقصد صرف ذمہ داریوں کا پورا کرنا ہو نہ کہ زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنا۔اس لحاظ سے ہمیںاپنی جائز ضروررتوں کا تعین کرنا چاہئے۔ اور کسب حلال کوحیثیت دینی چاہئے۔مسلمان ہونے کی حیثیت سے پر عزم ہونا چاہئے کہ کوئی حرام راہ اختیار نہیں کروں گا۔اور شریعت میں موجود اس کی حرمت کو ملحوظ خاطر رکھے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے کعب بن عجرۃ رضی اللہ عنہ  کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا:’’ إنه لا يربو لحم نبت من سحت إلا كانت النار أولى به‘‘[36]یعنی : جوبھی گوشت کا ٹکڑا حرام سے پرورش پاتا ہے وہ جہنم کا ہی مستحق ہے۔

فراغت ،وقت کا ضیاع

جیسا کہ کہا گیا کہ کسی حد تک جوانی غفلت کی عمر بھی ہے ،نوجوان کچھ اس طرح کے بھی ہیںجو شاید اپنی جوانی کو بہت مصروف گزار رہے ہوں ،لیکن حقیقت میں وہ اپنی جوانی کی قیمتی عمر کو ضائع کررہے ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ ان کی جوانی جن کاموں میں مصروف ہونی چاہئے وہ خود کو ان کاموں میں مصروف نہیں کرتے۔ایسے لوگوں کواپنی اصل ذمہ اریوں کا تعین کرکے اپنا وقت صحیح مصرف میں صرف کرنا چاہئے۔

بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو کسی قسم کی مصروفیت کے بغیر کلی طور پر اپنی جوانی کے شب و روز کو ضائع کررہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہئے اور اس نعمت کی قدر کرنی چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے کہ اس نعمت کے بارے میں ان سے پوچھا جائے گا۔

بدعقیدگی یا اسٹائل

بکثرت یہ دیکھا گیا ہے کہ نئی جوان نسل میں بعض چیزیں بطور اسٹائل ہی کے کہہ لیں کہ ان میں مروّج ہیں حالانکہ وہ عقیدہ کے لئے انتہائی خطرناک ہیں۔

مثلاً مغرب کی نقال نئی نسل کو دیکھا گیا ہے کہ باہم ایک دوسرے سےتعارف کرواتے ہوئے، ایک سوال یہ بھی ہوتا ہے آپ کا اسٹار (ستارہ ) کیا ہے؟

جس طرح کفار ستاروں کے برجوں پر یقین رکھتے ہیں،ستاروں کی بنیاد پر لوگوں کی تقدیر کا حال پوچھا اور بتایا جاتا ہے۔ بالکل یہی حال آج کے مسلم نوجوان کا ہے۔کہ اس نے بدعقیدگی کو اپنا مروج انداز بنالیا ہے۔

آج کل کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں بکثرت کوئی نہ کوئی دھاگہ ،کڑا یا اس قسم کا کچھ ضرور ہوتا ہے۔

بعض لوگوں نے یہ خاص منت یا بیماری وغیرہ کےسبب سے پہنا ہوتا ہے جوکہ صریح شرک ہے۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک شخص کے ہاتھ میں کڑا پہنا ہوا دیکھا تو فوراً اسے اتروایا اور کہا کہ اس سے تو مزید بیماری میں اضافہ ہوگا اور اگر اسی حال میں تیری موت واقع ہوگئی تو کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔[37]بعض نے یہ بطور تزین کے پہنا ہوتا ہےجوکہ عورتوں کے تزین کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

بعض نے یہ غیروں کی نقالی کرتے ہوئے اسے پہنا ہوتا ہے،یہ اس لئے ناجائز ہے کہ اس میں غیر مسلموں کی تشبیہ ہے۔اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے کہ جس نےکسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے۔[38]

میڈیا اور خراب لٹریچر

تفریح حاصل کرنے کے لئے نوجوان ساتھی میڈیا کا رخ کرتے ہیں اور انٹرٹینمنٹ کے نام پر جس طرح سے مخرب اخلاق نشریات دکھا ئی جاتی ہیں اوربے حیائی اور عریانیت کا بازار گرم کیا جاتا ہے۔الامان والحفیظ!! اور پھر اس کے جو برے اثرات معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں ہر ذی شعور اس سے واقف ہے۔

مزید یہ کہ سوشل میڈیا نے اس حوالے سے مزید جو عریانیت اور بے دینی کو ہوا دی،وہ بھی ناقابل بیان ہے۔

 ہمارا نوجوان فارغ وقت میں تھوڑی دیر کی مشغولیت کے لئے بغیر کسی تمیز کےکسی بھی لٹریچر کو پڑھنا شروع کردیتا ہے۔ نتیجتاً اس راستے سے باطل نظریات ،اسلام سے دوری، بے حیائی اور شہوت کو بھڑکانے والی تحریریں یا تصاویرغیر اسلامی تہواروں کا فروغ ہوتا ہے۔

لہذا ضرورت ہے کہ ہم اس حوالے سے بھی شعور حاصل کریں کہ کون سا لٹریچر یا چینل یا ویب سائٹ کس قسم کے نظریات کو فروغ دے رہی ہے؟؟ اور اس سے اجتناب کرنا ہمارے لئے کس قدر ضروری ہے؟؟ اور اس کے مقابلے میں کون سا لٹریچر یا چینل یا ویب سائٹ ہے جس کے ذریعے سے میرےاخلاق واقدار کی بہتری اور مستقبل کی تعمیر ہوسکتی ہے؟؟ یقیناً اس تمیز کے ساتھ اور اس فرق کو سمجھنے کے ذریعے سے ہی ہم نت نئے فتنوں سے بچ سکتے ہیں جو میڈیا کے راستے ہمارے دلوں میں گھر کرچکے ہیں۔

جدت پسندی کی آڑمیں اسلام کے بارے میں بدگمانی

جدت پسندی (ماڈرن کلچر ) دراصل یہ نام ہے ایک ایسی سوچ کا جو مغرب سے مرعوب ہےکہ مغرب میں جو کام ہوا ،بس وہ یہاں بھی ہونا چاہئے چاہے دین اس کی اجازت دیتا ہو یا نہ دیتا ہو۔ بلکہ ایسے کاموں کو اپنانے کے لئے ان کے یہاں دین کی تو قربانی دی جاسکتی ہےلیکن جدت پسندی کے نام پر مغرب کی نقالی کو چھوڑنا انہیں گوارا نہیں ،حتٰی کہ جو لوگ اس فتنے سے روکتے ہیں، انہیں بنیاد پرست کا نام دے دیا جاتا ہے اور پھر اس مغرب کی نقالی میں اس قدر ہمارے جوان مستغرق ہوئے کہ بھول گئے کہ وہ مسلمان بھی ہیں!!شاید اسی صورتحال کو سامنے رکھ کر اقبال نے کہا تھا:

دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں

اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی


 

من چلے نوجوانوں اور مغرب سے متاثر لوگوں کی خواہش پرستی کا احترام کرنے والے (یا کہیں کہ اسی راستے سے اپنی جیبیں گرم کرنے والے) بھی خوب میدان میں اترتے ہیں، اور مغرب کی نقالی کو دینی رنگ چڑھانے کی پوری پوری کوشش کرتے ہیں۔جیسا کہ دور حاضر میں موسیقی اور شراب نوشی کے جواز کے فتوے منظر عام پر آچکے ہیں جو صرف اور صرف مغربی آقاؤں اور مغرب زدہ لوگوں کو خوش کرنے کے لئے انتہائی ناپاک جسارت ہے۔اور اسی قبیل کی جسارتیں یہ بھی ہوئیں کہ حقوق نسواں بل کے نام پر مغربی جراثیم کے متحمل مرد و زن کو کھلی چھوٹ دینے کی کوشش کی گئی،اسی طرح نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی شان میں گستاخی کرنے والے کے حوالے سے سزائے موت کی سزا کے مسئلے کو چھیڑا گیا۔اور اس میں باطل کی آمیزش کرنے کی کوشش کی گئی۔

تقاریب اختلاط مرد وزن

لوگ بالعموم اور کالجزاوریونیورسٹیوں سے تربیت یافتہ نئی نسل(New Generation) بالخصوص  مرد و زن کے اختلاط کو وقت کی ضرورت سمجھتی ہے اور صنف نازک کے ساتھ بھی اسے عین انصاف قرار دیا جاتا ہے کہ وہ مرد کے شانہ بشانہ رہے۔ دراصل یہ ایک سازش ہے کہ اس راستے سے مرد و زن کی شہوت کو ابھار کر ان کی دینی غیرت و حمیت کو شہوت کے پہاڑ تلے کچل دیا جائے۔اور مسلمان بس نام کا مسلمان رہ جائے اور انگریز کی بولی بولتا چلاجائے۔شاید اسی قسم کے لوگوں کے بارے میں اقبال نے کہا تھا:

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

نئی نسل کو اپنی اس بری خصلت(جوسراسر غیراسلامی ہے) اور اس کے مضر اثرات کو بھی سمجھنا پڑے گا اور حد درجہ کوشش کرنی ہے کہ اس فریب سے خود کو آزا دکروائیں۔

موسیقی

آج کے نوجوان میں ایک برائی یہ بھی بہت پائی جاتی ہے کہ وہ موسیقی کادلدادہ نظر آتا ہے،اسے  روح کی غذا سمجھتا ہے۔اس کی خوشی ،تفریح ،تہوار اورغمی سمیت کوئی موقع موسیقی سے خالی نظر نہیں آتا۔ بلکہ اب تو یہ موسیقی مساجد میں پہنچ گئی ہے۔ اور کچھ عرصہ قبل ایسے لوگ بھی منظر عام پر آنا شروع ہوگئے جنہوں نے شرعی نصوص کو توڑ مروڑ کر اسے جائز قرار دینے کی ناکام کوشش کی ، گویا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی اس حدیث کا مصداق بن گئے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال قرار دیں گے۔ [39] بحمدللہ ربانی علماء بروقت اس فتنے کی سرکوبی کے لئے کمربستہ ہوگئے،اور ان ریشہ دوانیوں کی حقیقت کو فوری سامنے لایا گیا۔ اس کے باوجود اس مزاج کے لوگ اپنی اس روش پر قائم ہیں۔اور آج جس وقت یہ سطور لکھی جارہی ہیں، موسیقی کو ترویج اس طرح سے بھی دی جارہی ہے کہ ان دنوں آزادی مارچ کے نام سے اسلام آباد میں ایک سیاسی دھرنے کا سلسلہ کم و بیش سوا مہینے سے جاری ہے۔ جس میں جوان لڑکوں اور لڑکیوں کا اختلاط موجود ہے۔ اور موسیقی کا انتظام ہے۔ جس کی دھنوں پر یہ اوباش لڑکے لڑکیاں اجتماعی طور پر مست ہیں اور رقص و سرور کی محفلیں قائم ہیں۔اور باقاعدہ یہ بات اس حلقہ کے لیڈر نے تسلیم کی ہے کہ اس موسیقی اور گانوں کے ان انتظام کی وجہ یہ ہے کہ تاکہ نوجوان بور نہ ہوں۔ الامان والحفیظ۔اندازہ لگایا جائے جس قوم کے نوجوانوں کی بوریت ختم کرنے کا واحد حل موسیقی کو ٹھہرادیا جائے،وہاں اللہ کا عذاب نہ آئے تو اورکیا ہو؟؟ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث میں تو موسیقی کی شدید مذمت موجود ہے۔

ایک حدیث میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

’’صوتان ملعونان فی الدنیا والآخرۃ ، مزمار عند نعمۃ ،و رنۃ عند مصیبۃ ‘‘ [40]

’’ دو قسم کی آوازیں دنیا و آخر ت میں ملعون ہیں،ایک نعمت ملنے پر موسیقی کی آواز اور دوسری مصبیت کے وقت چیخنے چلانے کی آواز۔‘‘ایک روایت میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ إن الله حرم علي أو حرم الخمر والميسر والكوبة ‘‘[41]یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یا فرمایا کہ شراب ،جوا اور طبلہ /موسیقی کو حرام کردیا ہے۔بہرحال موسیقی کی مذمت میں کئی ایک روایات کو پیش کیا جاسکتا  ہے۔لیکن افسوس آج کا مسلمان ہے کہ اسے اللہ کی حرام کردہ چیز اور ملعون چیز میں سرور و سکون ملتا ہے اور اس کی بوریت ختم ہوتی ہے۔ یہ اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : ’’جب آلات موسیقی ،گانے بجانے والیاں اور شراب عام ہوجائے گی اس وقت میری امت میں قذف (تہمت) ، مسخ (شکلوں کا مسخ ہونا) اور خسف (زمین میں دھنسایا جانا)کے واقعات ہوں گے۔[42]

فکری حملے

چونکہ ہمارے اسکول سے لے کر یونیورسٹیز تک اسلامی تعلیم صرف نام کی حد تک ہے اور بسا اوقات ایسے مناظر بھی دیکھے گئے ہیں کہ اسلامیات جیسے مضمون (subject) کو پڑھانے کے لئے کسی جدت پسند مغربی افکار کے حامل شخص کا انتخاب کیا جاتا ہےکہ اس راستے سے جو تھوڑی بہت نئی نسل کواپنے دین کی تعلیم ملتی ہے وہ راستہ بھی بندہوجائے۔ اور کمیونسٹ قسم کا یہ اسلامیات پڑھانے والا ٹیچر اب مکمل طور پر طلباء کو نظریہ ارتقاء جیسے بدنام زمانہ نظریہ اوردیگرباطل نظریات کو غیر محسوس انداز میں نئی نسل کے ذہنوں میں ڈالتاچلاجائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان یونیورسٹیز سے ڈاکٹر ،انجینئرز پیدا ہوں یا نہ ہوں کمیونسٹ اور سیکولر قسم کے لوگ پیدا ضرور ہورہے ہیںاورپھر یہی نئی نسل اسلام کے بارے میں طرح طرح کے شبہات وارد کرتی نظر آتی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ آج کا یہ نوجوان ایسا مسلمان ہے کہ جوغسل کا طریقہ سمیت کئی ایک مبادیات اور ضروریات دین سے ناآشنا ہے ۔حتی کہ اس کا مسلمان بھائی فوت ہوجائے یا اس کا اپنا ہی والد یا والدہ وغیرہ کا انتقال ہوجائے تو اسے غسل دینے ،کفنانے، دفنانے اور نماز جنازہ جیسے اہم حقوق سے بھی ناواقف ہوتا ہے جسے مسلمان کے حقوق میں شمار کیا گیا ہے حتی کہ میت کے دفنائے جانے کے بعد اب بھی منتظر ہے کہ اس کے گھر پر کوئی آجائے اور قرآن پڑھ جائے اور قرآن خوانی ہوجائے ۔یہ نئی نسل کی ابتری کی حالت ہے۔

نسل گر مسلم کی مذہب پر مقدم ہوگئی

اڑ گیا دنیا سے تو مانند خاک رہ گزر

اس پر مزید یہ کہ اپنے دین سے اس قدر لاعلم یہ اسلام سے متنفر مسلم نوجوان دوسرے مذاہب میں  محاسن تلاش کرتا ہے حالانکہ اگر یہی توجہ اگر اپنے دین کے حوالے سے دی جائے تو اسے دین اسلام مجموعہ خیر نظر آئے گا۔بہرحال اس نئی نسل کے ساتھ ستم بالائے ستم یہ بھی ہے کہ مدتِ طویل سے غیر محسوس انداز میں اس کا فکری اغواء کیا جارہا ہے۔اور آج کا یہ مسلم نوجوان اس دلدل میں پھنستا چلا جارہا ہے۔ اب اسے مغرب کی ہر نجاست میں حسن نظر آتا ہے اور بڑی مرعوبیت کے ساتھ اسے اختیار کرلیتا ہے۔

ان برے خصائل کا حل

ان تمام برے خصائل کا ایک ہی حل ہے اور وہ یہ ہے کہ نوجوان اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اسلام کے فہم اور اس کی دعوت کے لئے کمربستہ ہوجائے ۔اور اپنی چھٹی حس کو اس قدر قوی کرلے کہ وہ اس طرح کی تمام سازشوں کو بروقت محسوس کرسکے اور اپنی ذات کو اس طرح کے عوامل سے محفوظ رکھتے ہوئے امت کی اصلاح کا بیڑا اٹھائے ۔

آج مسلم قوم کو جس جوان کی تلاش ہے ،وہ ایک ایسانوجوان :

جوہردلعزیز شخصیت ہو۔

جو تمام محاسن کا جامع ہو۔

تمام برائیوں کے بارے میں نفرت اس کےدل میں کوٹ کوٹ کر بھری ہو۔

اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنے والاہو۔

والدین و دیگر اکابر کا ادب کرنے والاہو۔

جس میں یہ صلاحیتیں بھی موجود ہوں کہ وہ اچھے سے اچھے انداز میں نئی نسل کی تربیت کرسکے۔

ایسے ہی جوان کے بارے میں اقبال نے کہا تھا:

جوان ہوں میری قوم کے جسور و غیور

قلندری میری کچھ کم سکندری سے نہیں

آخر میں یہی دعا ہے کہ اللہ امت کو ایسے جوان عطا فرمائے جن کی جوانیاں تاریخ کے روشن اوراق بن جائیں اور جوانی اور اسلام کا حق ادا کرجائیں۔ اور ہمارے لیڈروں کو بھی یہ توفیق دے کہ وہ جوانوں سے جوانوں والاکام لیں نہ کہ انہیں مغفّل زندگی گزارنے دی جائے۔اور ساتھ یہ بھی دعا ہے کہ ہمارے نوجوان ایسے نہ ہوں کہ :

اپنے دین و ملت کی مبادیات سے بھی ناواقف ہوں۔

والدین سمیت اکابر کو پرانے لوگ قرار دے کر ان کی تحقیر کرتے ہوں۔

کسی بھی چیز کواپناتے وقت کوئی معیار ان کے پاس نہ ہو۔

ایسےبے شعور نہ ہوں کہ کالانعام (جانوروں کی طرح)ہوں جسے ، جو جدھر چاہے ہانک لے وہ وہیں چلنا شروع کردیں۔

اپنے ہی آپ میں اس قدر مگن نہ ہوں کہ لوگ مفاد پرست(Selfish) کے نام سے جانتے ہوں۔ قوم و ملت اور امت کے مفادات سے ناآشنا اور ان کے لئے کسی قسم کی کوئی قربانی دینے کا جذبہ بھی نہ ہو۔

یہ کچھ سطور جوانوں کے لئے ایک رہنما تحریر کی حیثیت رکھتی ہیں ،اللہ اس ملت کے سپوتوں نرغۂ اغیار سے محفوظ رکھے اور کما حقہ دین و ملت کی خدمت کی توفیق دے ۔آمین

یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے

جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے

و صلی اللہ علی نبینا محمد و آلہ و صحبہ و سلم

 

 

 


 



[1] مدرس المعہد السلفی کراچی

[2] صحیح بخاری:کتاب الزکوۃ ،باب الصدقۃ بالیمین ، صحیح مسلم:کتاب الزکوۃ ، باب فضل اخفاء الصدقۃ

[3] جامع ترمذی: أبواب صفة القيامة ... ،باب في القيامة،  المعجم الکبیر :9772، المعجم الصغیر: 760، (حسن)

[4] مستدرک حاکم:کتاب الرقاق حدیث: 7846، شعب الایمان: الزہد و قصر الامل ، حدیث: 9767

[5]الجامع لاخلاق الراوی و آداب السامع

[6] صید الخاطر

[7] جامع ترمذی : 2398، ابواب الزہد ، باب ماجاء فی الصبر علی البلاء 

[8]  صحیح بخاری: 3887، کتاب مناقب ،باب المعراج

[9] صحیح بخاری :3911 ، کتاب مناقب الانصار ، باب ھجرۃ النبی

[10] صحیح بخاری:  کتاب الصلوٰۃ ، باب الأذان للمسافر إذا كانوا جماعة والإقامة وكذلك بعرفة وجمع وقول المؤذن الصلاة في الرحال في الليلة الباردة أو المطيرة

[11] صحیح مسلم : کتاب الجہاد والسیر، باب غزوۃ ذی قرد و غیرھا

[12]  صحیح بخاری :کتاب المغازی،باب بعث النبي صلى الله عليه وسلم أسامة بن زيد إلى الحرقات من جهينة

[13] صحیح بخاری : کتاب المغازی ،باب غزوۃ ذی قرد

[14] صحیح مسلم : 1807،کتاب الجہاد والسیر، باب غزوۃ ذی قرد و غیرھا

[15] اسد الغابۃ

[16] صحیح بخاری : 4270،کتاب المغازی،باب بعث النبي صلی اللہ علیہ وسلم  أسامة بن زيد إلى الحرقات من جهينة

[17] صحیح بخاری : 4270،کتاب المغازی،باب بعث النبي صلی اللہ علیہ وسلم  أسامة بن زيد إلى الحرقات من جهينة

[18]  مسند احمد : حدیث:15380،، و نسخۃ اخریٰ مع التحقیق الشیخ شعیب الارناؤوط: 24/91

[19] ایضاً

[20]  مسند احمد : حدیث:15376، ص:۳/۴۰۸، و نسخۃ اخریٰ مع التحقیق الشیخ شعیب الارناؤوط: 4/91 ، و السنن الکبری للبیھقی : ۱۹۷۰، جس کے الفاظ یوں ہیں :’’اذھب فأذن عند البیت الحرام‘‘

[21]  مصنف ابن ابی شیبۃ : 2167

[22] شرح النووی : 4/302،طبع دارالمعرفۃ بیروت

[23] سنن دارمی:1232، کتاب الصلوۃ ،باب الترجیع فی الاذان

[24] صحیح بخاری: کتاب التفسیر ، باب قوله:{لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ .. }

[25] جامع ترمذی:ابواب الاستئذان والادب باب ما جاء فی تعلیم السریانیۃ

[26] صحیح بخاری: 6412، کتاب الرقاق ، باب لا عيش إلا عيش الآخرة

[27] صحیح بخاری : کتاب الذبائح والصید، باب المسک ،صحیح مسلم :کتاب البر والصلۃ والآداب ،باب استحباب مجالسة الصالحين ومجانبة قرناء السوء

[28]  صحیح بخاری:کتاب النکاح ، باب ما يكره من التبتل والخصاء

[29]  صحیح مسلم: کتاب النکاح ،باب استحباب النكاح لمن تاقت نفسه إليه ووجد مؤنه ...

[30]   ایضاً

[31] صحیح ابن خزیمۃ : 3031، کتاب المناسک ، باب ذكر الدليل على أن الشيخ الكبير...الخ

[32] سنن ابی داؤد:کتاب النکاح باب ما یؤمر بہ من غض البصر

[33] صحیح بخاری: کتاب الزکوۃ ،باب الصدقۃ بالیمین

[34]  صحیح بخاری:  کتاب فرض الخمس ، باب ما كان النبي صلی اللہ علیہ وسلم  يعطي المؤلفة قلوبهم وغيرهم من ..

[35]  صحیح بخاری:کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام

[36] جامع ترمذی :  ابواب السفر، باب ما ذکر فی فضل الصلوۃ

[37] سنن ابن ماجۃ : کتاب الطب، باب تعلیق التمائم ، صحیح ابن حبان :6085، کتاب الرقیٰ والتمائم، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے،نیز امام حاکم کی تصحیح،صاحب مجمع الزوائدبوصیری کی تحسین اور محمد بن عبدالوھاب کے سند لابأس بہ کہنا ان سب کا جائزہ بھی لیا ہے۔ دیکھئے: الضعیفۃ : 1029ہرحال اس مضمون کی دیگر روایات سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ تعویذ لٹکانا شرک ہے اگر وہ قرآنی نہ ہو۔اور قرآنی تعویذ کا لٹکانا بھی جائز نہیں۔

[38] سنن ابی داؤد: کتاب اللباس ،باب فی لبس الشھرۃ ، مسند احمد: 2/50

[39] صحیح بخاری: کتاب الاشربۃ، باب ما جاء فيمن يستحل الخمر ويسميه بغير اسمه

[40]  مسند بزار

[41] سنن ابی داؤد: کتاب الاشربۃ ،باب فی الاوعیۃو صححہ الالبانی

[42] جامع ترمذی:  ابواب الفتن ، باب ما جاء فی علامۃ حلول المسخ والخسف، صححہ الالبانی

Read 151 times Last modified on منگل, 09 جنوری 2018 14:18
  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

ملّت کے سپوت ذمہ داریاں اور درپیش فتنے !!

حافظ محمد یونس اثری[1]

تخلیق انسانی کئی مراحل طے کرکے منظر عام پر آتی ہےاور پھر تخلیق (پیدائش)کے بعد بھی اس کی زندگی کئی مراحل میں منقسم ہوتی ہے۔ مثلاً بچپن ،لڑکپن ،جوانی اور بڑھاپا۔ انسانی زندگی کے یہ مراحل اس قابل ہیں کہ انہیں بغور سمجھا جائے اور ان مراحل کے خصوصی اوصاف اور صلاحیتوں کے مطابق ہی ہر مرحلے کو گزارا جائے۔اس لئے کہ دین اسلام نے مکمل طور پر انہی مراحل کے مطابق انسان کو شریعت کا پابند بنایاہے۔مثلاً ایک بچہ جو ابھی سنِ شعور کو نہیں پہنچا وہ شرعی احکامات کا مکلف نہیں، بہرحال ان مراحل میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل جوانی کی عمر ہے ، جس کی اہمیت کا کوئی ذی شعور انکار نہیں  کرسکتا۔ کسی بھی قوم کے نوجوان اگر باشعور ہو ں تو وہ قوم زندہ قوم کہلاتی ہے اور اس قوم کی اقوام عالم میں اپنی ایک مستقل شناخت ہوتی ہے اور اگر کسی قوم کے نوجوان بے شعور ہوں تو وہ دنیا کی ایک مردہ قوم کہلاتی ہے ۔ اسی لئے استعمار جس قوم کو مردہ کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اس قوم کے نوجوانوں کو شعور سے خالی کرتا ہے۔ نوجوانوں کا ضمیر مردہ ہو جاتا ہے تو وہ اپنا آئیڈیل بھول جاتے ہیں ۔ یہ نوجوان ایسے لوگوں کو اپنا آئیڈیل بنا لیتے ہیں جن کا کردار اسلامی آئیڈیالوجی تو کجا کسی بھی تہذیب یافتہ قوم کے لئے مناسب نہیں ہوتا۔یہی صورتحال موجودہ دورکے جوانوں کی اکثریت کی ہے،زیر نظر مضمون میں نوجوانوں کے حوالے سے چند ذیلی نکات پر روشنی ڈالی جائے گی۔ان شاء اللہ

جوانی کی اہمیت :

نوجوانوں کے کرنے کے کام

دورحاضر کے جوانوں کو فتنوں کا سامنا اور ان کا حل

جوانی کی اہمیت :

جوانی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاکردہ ایک عظیم نعمت اوربڑی اہمیت کی حامل عمر ہےجس کا اندازہ چند نصوص شرعیہ کی روشنی میں لگایا جا سکتا ہے۔

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ایک حدیث میں سات ایسے خوش نصیبوں کا ذکر ہے جو قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سائے تلے ہوں گے ،جس دن سورج ایک میل کے فاصلے پر ہوگا اور لوگ پسینے میں شرابور ہوں گے، بعض لوگ سینے تک، بعض گھٹنے تک اوربعض پورے کے پورے پسینے میں ڈوبے ہوں گے،ایسے میں جنھیں اللہ تعالیٰ کے عرش کا سایہ نصیب ہوگیایقیناً وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہوں گے اور ان سات قسم کے افرادمیں سے ایک شخص :’’ وشاب نشأ في عبادة اللّٰہ ‘‘[2]  یعنی ایسا نوجوان جس کی نشونما اللہ کی عبادت ہی میں ہوئی ہو۔گویا کہ صالح جوان کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عرش کے سایہ میں ہوگا۔

اسی طرح جوانی کی اہمیت و حیثیت کا اندازہ اس حدیث سے لگاسکتے ہیں کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے قیامت کے دن پوچھے جانے والے پانچ اہم سوالات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

’ لاتزول قدم ابن آدم يوم القيامة من عند ربه حتى يسأ ل عن خمس عن عمره فيم ا فناه وعن شبابه فيم ا بلاه وماله من اين اكتسبه وفيم ا نفقه وماذا عمل فيما علم ‘‘[3]

’’ قیامت کے دن کسی شخص کے قدم اللہ رب العزت کے پاس سے اس وقت تک نہیں ہٹ سکیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں کے متعلق نہیں پوچھ لیا جائے گا۔ (۱) اس نے عمر کس چیز میں صرف کی (۲)جوانی کہاں خرچ کی (۳)مال کہاں سے کمایا(۴)مال کہاں خرچ کیا(۵)جو علم حاصل کیا اس پر کتنا عمل کیا ۔‘‘

مذکورہ حدیث میں سب سے پہلا سوال عمر کے بارے میں ہے ،جس میں جوانی بھی شامل ہے لیکن دوسرا سوال علیحدہ سے جوانی کے بارے میں کیا جائے گا کہ جوانی کیسے گزاری؟جس سے اس کی اہمیت کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔

اسی طرح ایک حدیث میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نےپانچ چیزوں کے بارے میں فرمایا کہ انہیں غنیمت سمجھو۔چنانچہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک آدمی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

 ’’اغتنم خمسا قبل خمس شبابك قبل هرمك وصحتك قبل سقمك وغناءك قبل فقرك وفراغك قبل شغلك وحياتك قبل موتك‘[4]

ترجمہ: ’’ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں کے آنے سے پہلے غنیمت سمجھو۔(۱)جوانی کو بڑھاپے سے پہلے (۲)بیماری سے پہلے صحت کو(۳)محتاجی سے پہلے مالداری کو(۴)مصروفیت سے پہلے فرصت کو(۵)موت سے پہلے پوری زندگی کو ۔‘‘

اس حدیث میں بھی سب سے پہلے جوانی کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اس کی قدر کی جائے اورحقیقت بھی یہی ہے کہ جوانی جیسی عمر کوئی نہیں ، یہی وجہ ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے صحابہ


میں اکثریت جوانوں کی تھی جنہوں نے دل و جان سے اسلام کو قبول کیا اور پھر نشر اسلام اور دفاع اسلام کے لئے کمربستہ ہوگئے۔بہر حال ان تمام روایات سے اور اس تفصیل سے جوانی کی اہمیت آشکارہوتی ہے ۔

نوجوانوں کے کرنے کے کام

انسانی زندگی کے تمام مراحل میں سب سے اہم مرحلہ یہی جوانی ہے ، لہذااس عمرمیں جو کام ہوسکتے ہیں زندگی کے کسی مرحلےمیں نہیں ہوسکتے،اس لئے چند ایسے کام بیان کئے جاتے ہیں،جو پوری زندگی میں بالعموم اور وہ کام جوانی کی عمر میں زیادہ احسن انداز میں کئے جاسکتے ہیں۔

تعلیم اور تعلّم

جوانی کی عمر علم سیکھنے کی عمر ہےاور ایسا علم کہ اس پر عمل بھی ہو۔یہ کام جوانی میں بطریق احسن ہوسکتا ہے۔ جب جسم کے دیگر اعضاء کی طرح دماغ بھی جوان ہوتا ہے۔اور پوری توجہ اور یکسوئی کے ساتھ علم حاصل کیاجاسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اصحاب صفہ بھی اکثر نوجوان تھے۔ابوذر غفاری ،بلال رضی اللہ تعالیٰ عنھما وغیرہ اسی زمرے کے ہیں۔جس صحابی کی شادی ہوجاتی اور عائلی ذمہ داریاں غالب آجاتیں وہ اس زمرے سے نکل جاتا۔اسی طرح نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ملازم شاگرد جناب ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ بھی جوانی کی عمر میں تھے۔ قبول اسلام کے وقت آپ کی عمر کم و بیش ۲۶ یا ۲۷ سال تھی ۔سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ  بھی جوانی کی عمرمیں تھے،جیسا کہ صحیح بخاری کی مختلف روایات سے ثابت ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ  جن کے لئےنبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے خصوصی طور پر تفقہ فی الدین کی دعا کی،وہ بھی جوان تھے۔

ایک اور ملازم شاگرد سیدناانس رضی اللہ عنہ   بھی جوان تھے۔ جب نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت کے لئے آئے اس وقت ان کی عمر دس سال تھی اور دس سال آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت کی ۔

 اس حوالے سےکئی ایک صحابہ کا تذکرہ کیا جاسکتا ہے بلکہ ان کی صرف جوانیوں کےروشن تذکرے اگر فرداً فرداً کئے جائیں تو کئی ایک دفاتر وجود میں آسکتے ہیں۔

بہرحال یہ عمر ہی اصل تعلّم کی ہے۔یہی وجہ ہے کہ امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ کا قول ہے:


 

’’و یستحب للطالب ان یکون عزباً ما امکنہ‘‘[5]

               ’’ طالب علم کے لئے مستحب ہے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو غیر شادی شدہ ہو۔‘‘ (تاکہ شادی کے بعد کی عائلی ذمہ داریاں اس کے لئے حصول علم سے مانع نہ بن جائیں۔)

اور جوانی کی عمر میں کس قدر ترجیحی بنیادوں پر علم کو حاصل کیا جائے، اس کا اندازہ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کے اس قول سے لگائیں وہ فرماتے ہیں :

’’و اختار للمبتدی فی طلب العلم ان یدافع النکاح فان احمدبن حنبل لم یتزوج حتی تمت لہ اربعون سنۃ، و ھذا لاجل الھم ،ای للعلم [6]

               ’’میں مبتدی طالب علم کے لئے یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ نکاح نہ کرے ، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے شادی نہیں کی تھی حتی کہ ان کی عمر چالیس سال ہوگئی تھی اور اس تاخیر کی وجہ حصول علم تھی۔‘‘

اندازہ لگائیں طلبِ علم کی وجہ سے بعض اہل علم نے جوانوں کو نکاح میں تاخیر کرنے کی نصیحت کی ہے کہ کہیں یہ اس طلب علم کے ایک اہم مشن میں رکاوٹ نہ بن جائے ۔اس اسےصاف واضح ہے کہ طلب ِعلم جوانوں کے اہم وظائف میں سے ہے اور یہ اتنا اہم کام ہے کہ اسے نکاح پر ترجیح دی جائے۔

الغرض یہ عمر تعلّم ِعلم کی ہے(اگرچہ عمر کے کسی بھی حصے میں علم حاصل کرنے والے کو روکا نہیں جاسکتا)کیونکہ اس عمر میں انسان کی قوت حافظہ مضبوط ہوتی ہے۔اور ڈھلتی عمر کے ساتھ ساتھ اس کے ضبط کی طاقت بھی کمزور ہوجاتی ہے۔پھر وہ بہت سی چیزیں یاد کرنا چاہتا ہےتو بھی نہیں کرپاتا۔

دعوت و تبلیغ

 نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو نبوت جوانی کی عمر میں ملی ۔چونکہ نبوت ایک انتہائی کٹھن ذمہ داری ہے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے پوچھا گیا کہ  لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش کن پر ہوتی ہے؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جواب دیا: ’’الأنبیاء ثم الأمثل فالأمثل۔‘‘[7]’ ’سب سے زیادہ سخت آزمائش انبیاء پر آتی


 ہیں پھر ان کے بعد نیک لوگوں پر ،اور پھر اس کے بعد جو نیک لوگ ہوں۔‘‘

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  جب معراج پر گئے اس رات سیدنا موسی  علیہ السلام  ،نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو دیکھ کر رو پڑے۔ان سے پوچھا گیا کہ رونے کی وجہ کیا ہے؟ ان کا جواب تھا کہ ایک نوجوان جو میرے بعد نبی بنا ہے اور مجھ سے زیادہ اس کی امت جنت میں جائے گی۔[8]

تنبیہ : سیدنا موسی  علیہ السلام کا یہ رونا اور مذکورہ کلمات کہنا حسد کے طور پر نہیں تھے،بلکہ یہ اظہار افسوس کے طور پر تھا کہ وہ کثرت ِامت نہ ہونے کی وجہ سے اجر ِکثیر سے محروم ہوگئے۔حسد ،کسی نبی سے اور پھر اس عالم میں نہیں ہوسکتا۔

اس حدیثِ معراج سے بھی نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو جوانی کی عمر میں نبوت جیسی اہم ذمہ داری کا ملنا ثابت ہوتا ہے۔

مزید یہ کہ صحیح بخاری میں ہے کہ ہجرت کے وقت ابوبکر  رضی اللہ عنہ  نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے بڑے تھے اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا وصف بیان ہوا کہ ’’شاب لا یعرف‘‘  [9]یعنی ایسے نوجوان کہ لوگ انہیں پہچانتے نہیں تھے۔

جب نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو نبوت ملی آپ کی عمر ۴۰سال تھی ،جوکہ جوانی کی عمر ہے،اور اس عمر کے جوانی کی عمر ہونے کے ثبوت میں قرآنی نص موجود ہے جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ ’’ وَبَلَـغَ اَرْبَعِيْنَ سَـنَةً‘‘  (الاحقاف:15)

یہ ایسی عمر ہے کہ انسان کی جوانی بھی برقرار رہتی ہے اور اسے پورا شعور اور فہم ہوتا ہےاور اپنا بڑھاپا بھی اسے قریب آتا دکھائی دیتا ہے۔تو یہ ہر لحاظ سے اہم عمر ہے اس لئے اسی عمر میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو نبوت عطا کی گئی۔

نبوت ایک اہم ذمہ داری ہے اسی لئے ایسی ہی عمر کا انتخاب کیا گیا کہ جس عمر میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  مکمل طور مختلف قسم کی ابتلاءات کا سامنا کرسکیں۔لہٰذا یہی اصل عمر ہے دعوت دین کی کہ جس میں امر بالمعروف و نھی عن المنکر کے سب سے اعلیٰ درجے (ہاتھ سے روکنا) پر بھی عمل کرسکتا ہے اور زبان کے ذریعے بھی ۔


 

بیعت عقبہ اولیٰ کے بعد مدینہ میں تبلیغ کے لئے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ جانے کا حکم دیا۔ مصعب  رضی اللہ عنہ  اس وقت جوان تھے۔مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ  نے اپنی حرارت ایمانی اور جوش ایمانی کے ساتھ تبلیغ کا آغاز کیا۔ ان کے خلوص اور لگن، جوش خطابت، اخلاقِ پسندیدہ کے باعث بہت کم عرصہ میں بہت بڑی تعداد میں لوگ دین اسلام کی طرف آگئے اور یوں سمجھ لیں کہ تقریباً انصار کے ہر گھر میں کوئی نہ کوئی فرد مسلمان تھا سوائے کچھ گھروں کے۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ  مُقری کے لقب سے مشہور ہوئے۔

دیکھیں میدان تبلیغ میں ایک جوان کی محنت کا یہ ثمرہ ہےکہ مدینہ میں بڑی تعداد اسلام کی دولت سے مالا مال ہوگئی۔

 سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اہل بصرہ میں سے ہیں ،اپنی قوم کے کچھ نوجوانوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس آئے تھے اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس قیام کیا تھا وہ فرماتے ہیں: ہم کچھ افراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس آئے اور ہم سب جوان تھے اور قریب قریب عمر کے تھے ہم نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس بیس (۲۰) دن ٹھہرے،نبی  صلی اللہ علیہ وسلم بڑے رحیم اور نرم مزاج والے تھے جب نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہ محسوس کیا کہ ہم اب اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں ،تو نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہم سے ہمارے گھر والوں کے بارے میں پوچھا، ہم نے اپنے گھر والوں کے بارے میں بتلایا ، نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

’’ ارجعوا إلى أ هليكم فأ قيموا فيهم وعلموهم ومروهم وذكر أشياء أحفظها او لا أحفظها وصلوا كما رأيتموني أ صلي فإذا حضرت الصلاة فليؤذن لكم أ حدكم وليؤمكم أ كبركم‘‘ [10]

یعنی اپنے گھروں کی طرف جاؤ اور ان کے پاس جاکر رہو اور انہیں علم سکھاؤ اور اچھی باتوں کا حکم دو اور پھر فرمایا جیسے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے ویسے نماز پڑھو جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان کہے اور جو تم میں سے عمر میں بڑا ہو وہ امامت کروائے۔

اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ ان صحابہ نے مبادیات کو سیکھ کر پھر اس کی تبلیغ کا آغاز اپنے  گھروں سے کیا۔

اس لئے جوانوں کی یہ سب سے اہم ترین ذمہ داری ہے کہ وہ خود دین کی صحیح طور پر سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے بعد پھر اس کے نشر کے لئے کمربستہ ہوجائیں۔

 جہاد

جوانوں کا ایک اہم ترین کام یہ بھی ہے کہ وہ دفاع اسلام کے لئے میدان مقتل میں نکلتے ہیں۔تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہ کام بھی نوجوانوں کے حصے میں آیا۔

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ  بھی جنھیں میدان جہاد میں ان کی عمدہ کارروائیوں کی بناء پر سیف اللہ کے لقب کا شرف حاصل ہوا، جوانی کی عمر میں تھے۔

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے خیبر کی جنگ کے لئے جھنڈا تھمانے کے لئے جس شخصیت کا انتخاب کیا وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ  تھے اور اس وقت جوانی کی عمر میں تھے۔

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے صحابہ میں سے ایک صحابی سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ  ہیں ، جو تیز دوڑنے میں مشہور تھے ،جنگ خیبر انہوں نے پاپیادہ لڑی ،[11]نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ سات جنگوں میں شریک ہوئے،[12]

 اور ایک جنگ میں لڑتے ہوئے یہ اشعار بھی کہہ رہے تھے کہ

ا نا ابن الا كوع                  ا ليوم يوم الرضع

میں اکوع کا بیٹا ہوں ، اور آج کا دن چھٹی کادودھ یاد کرانے کادن ہے۔[13]

اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا تھا کہ آج کے ہمارے گھوڑ سواروں میں سے بہترین شخص ابوقتادہ رضی اللہ عنہ  اور پیدل لڑنے والوںمیں سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ  ہیں ،جنھیں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کی کارکردگی کو سامنے  رکھتے ہوئے دہرا حصہ دیا تھا ۔[14]

اپنی زندگی کے آخری ایام میں جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  بستر مرض پر تھے اور آپ کو رومیوں کی جنگی تیاریوں کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک لشکر تیار کروایا اور اس لشکر کی قیادت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ  کو عطا فرمائی۔ اسامہ رضی اللہ عنہ  اس وقت صرف اٹھارہ سال کے جوان تھے۔[15] ان کی ایک امارت کا تذکرہ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ  نے بھی کیا ہے۔ [16]

ابوجہل کو قتل کرنے والے بھی نوجوان تھے۔صحیح بخاری میں ان کا تذکرہ موجود ہےکہ انہوں نے کس انداز میںاللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کے سب سے بڑے دشمن ابوجہل کو قتل کیا۔

جوانوں کی صلاحیت کے مطابق ان سے کام لیا جائے

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جوانوں سے ان کی صلاحیتوں کے مطابق کام لیا اس کی کئی ایک مثالیں دی جاسکتی ہیں، جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔

ابو محذورۃ  رضی اللہ عنہ   حنین کے قریب یہ دس نوجوان لڑکے(بعض میں بیس کا ذکر ہے۔[17]

جارہے تھے کہ انہوں نے اذان کی آواز سنی اور ابومحذورہ  رضی اللہ عنہ  نے اس اذان کو سنتے ہی اس کی نقل کرنا شروع کردی نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس آواز کو سنا تو ان لڑکوں کو بلوالیا ،(اس وقت یہ مسلمان نہیں تھے۔) آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک کرکے سب سے اذان سنی لیکن وہ پیاری آواز جو سنی تھی کسی کی نہ تھی۔ بالآخر ابومحذورۃ  رضی اللہ عنہ  کی باری آئی،ان سے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اذان سنی تو یہ وہی آواز تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سنی تھی اور بہت خوبصورت آواز تھی۔آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ابومحذورہ  رضی اللہ عنہ کواذان سکھائی اورآپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ابومحذورہ رضی اللہ عنہ  کو اس وقت تحفہ بھی دیا اور برکت کی دعائیں بھی  دیں اور ابومحذورہ رضی اللہ عنہ   کی پیشانی ،چہرے اور ناف تک ہاتھ بھی پھیرا تھا۔ملخصاً  [18]بعض روایات میں ہے کہ پھر ابومحذورہ  رضی اللہ عنہ  نے خود کہا کہ مجھے مکہ میں اذان دینے کا حکم کریں[19] جبکہ بعض روایات میں ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے حکم دیا :’’اذهب فأذن لاھل مکۃ عند البيت الحرام۔‘‘ [20]سیدنا ابومحذورہ  رضی اللہ عنہ  نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  ،ابوبکر  رضی اللہ عنہ   اور عمر رضی اللہ عنہ   کے دور میں اذان دیتے رہے۔[21] }   اور پھر یہی اذان کا سلسلہ ابومحذورہ رضی اللہ عنہ   کی اولادمیں متوارث رہا۔ [22]

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بعض صحابہ کی ذمہ داری لگائی تھی ،جو وحی کو لکھا کرتے تھے اس لئے کہ ان میں یہ صلاحیتیں موجود تھیں ،اور اکثر کاتبین وحی جوان تھے۔چند ایک کے نام درج ذیل ہیں۔

               سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر ،سیدنا عثمان ،سیدنا علی، سیدنا ابان بن سعید بن العاص، سیدنا ابی بن کعب، سیدنا زید بن ثابت، سیدنا معاذ بن جبل ، سیدنا ثابت بن قیس، سیدنا زبیر بن عوام ، سیدنا عبداللہ بن سعد بن ابی السرح سیدنا عبداللہ بن زید بن عبد ربہ ، سیدنا علاء بن الحضرمی ،سیدنا معاویۃ بن ابی سفیان اور سیدنامغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنھم اجمعین ۔

بعض صحابہ کو مختلف علاقوں کی طرف بطور مبلغ ، سپہ سالار ،نمائندہ کے طور پر بھیجا ، اس میں ان کی صلاحیتوں کو شامل حال رکھا گیا تھا۔ جیسا کہ معاذ بن جبل ،علی ،زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنھم وغیرہ۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، ابن عباس  رضی اللہ عنہ  کو اپنے قریب رکھا کرتے تھے ،عبدالرحمان بن عوف  رضی اللہ عنہ  نے ان سے کہا کہ آپ انہیں ہمارے ساتھ بٹھادیتے ہیں ان کے جیسے تو ہمارے بچے ہیں،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ  نے جواب دیا یہ ان کے علم کی وجہ سے ہے چناچہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ   سے سورۃ النصر کی پہلی آیت کی تفسیر کے بارے میں پوچھا ،تو اس کی تفسیر میں ابن عباس  رضی اللہ عنہ  نے جواب دیا :جب اللہ کی مدد اور فتح مکہ حاصل ہوئی تو اللہ نے اپنے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات کی خبر دی ہے گویاکہ فتح مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی علامت ہے لہٰذا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح کیجئے اور استغفار کیجئے اللہ قبول کرنے والا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ  نے فرمایا کہ میرا بھی یہی خیال ہے جو تمہارا ہے۔[23]

معلوم ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ  کی نوعمری کے باوجود ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں شوریٰ میں شامل کیا ہوا تھا۔

اسی طرح سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ  نے جمعِ قرآن کے حوالے سے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ   کی ذمہ داری لگاتے ہوئے فرمایا تھا: ’’ إنك رجل شاب عاقل ولا نتھمك‘‘ یعنی آپ نوجوان اور سمجھ دار آدمی ہیں ، ہم آپ کو (کسی برائی سے) متہم قرار نہیں دیتے۔[24]

یہاں بھی سیدنا زید بن ثابت  رضی اللہ عنہ  سے ان کی صلاحیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ان سے جمعِ قرآن کا کام لیا گیا باوجود اس کے کہ وہ ایک نوجوان آدمی تھے۔

نوجوانوں کوجدید مسائل سے آشنا ہونا چاہئے

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو عبرانی زبان سیکھنے کا حکم دیا تھا۔انہوں نے آدھے مہینے میں عبرانی زبان سیکھی تھی۔[25]

چونکہ اس وقت عبرانی کا سیکھنا وقت کی فوری ضرورت تھا ،جسے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے محسوس کیا تاکہ یہود سے خط و کتابت سمیت دیگر معاملات میں آسانی ہو،تو اس سےمعلوم ہواکہ نوجوانوں کی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ وقت کے مطابق جدید علوم سے آراستہ ہوں لیکن اس  سے پہلے اپنے دین سے آشنائی بہت ضروری ہے۔ دوسری بات اس حوالے سے یہ ہے کہ یہ تمام افراد کی من حیث المجموع ذمہ داری نہیں بلکہ بعض کی ہے جن میں یہ اہلیت موجود ہو۔ جیسا کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے تمام صحابہ کی یہ ذمہ داری نہ لگائی کہ سب عبرانی سیکھیں ۔بلکہ صرف زید کو حکم دیا کیونکہ اصل مقصود صرف ضرورت کے مطابق اس کو سیکھنا تھا نہ کہ مرعوب ہوکر اس کو وقت کی ضرورت قرار دیا تھا ،جیسا کہ آج دیکھنے میں آتا ہے،کہ مغرب سے اٹھتے ہر فتنے کو ہم وقت کی ضرورت سمجھ لیتے ہیں۔اور پھر اسے سیکھنے پر تُل جاتے ہیں۔

نوجوانوں کے لئے اہم نصیحتیں :

ذیل کی سطور میں چند اہم نصیحتیں پیش کی جاتی ہیں ، جو ان شاء اللہ جوانوں کے لئے ایک رہنما نصائح کی حیثیت رکھتی ہیں۔

وقت کی قدر کریں

ویسے عمومی طور پر تمام عمر کے لوگوں کو ہی اوقات کی قدر کرنی چاہئے اور بالخصوص نوجوانوں کواس حوالے سے خصوصی توجہ دینی چاہئےاس لئے کہ ان کے لمحات سب سے مہنگے اور قیمتی ہیں ،اور وقت کی قدر کے حوالے سے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: ’’نعمتان مغبون فیھما کثیر من الناس الصحۃ والفراغ‘‘ [26]

 یعنی دو قسم کی نعمتیں ایسی ہیں کہ جن کے حوالے سے اکثر لوگ ناقدری کا شکار رہتے ہیںاور ضائع کردیتے ہیں،ایک صحت اور دوسری چیزفرصت کے لمحات ۔

اسی طرح ایک حدیث میں فرمایا :صحت کو بیماری سے پہلے اور فراغت کو مصروفیت سے پہلے غنیمت جانو۔

اچھی صحبت اور بری صحبت :

جوانوں کو بالخصوص اپنی صحبت (Gathering) پر بھی توجہ دینی چاہئے ۔اس لئے کہ یہ انتہائی  اہم ترین سبب ہے کہ جس کی وجہ سے اچھا شخص بری عادتوں اور برا شخص اچھے لوگوں میں بیٹھنےکی وجہ سے بہت سی اچھی چیزیں سیکھ جاتا ہے۔نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اچھی صحبت اور بری صحبت کی مثال عطر فروش اور بھٹی والے سے دی ہے ۔چنانچہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اچھے اور برے ساتھی کی مثال اس شخص کی سی ہے جو مشک لئے ہوئے ہے اور بھٹی دھونکنے والاہے، مشک والایا تو تمہیں کچھ دے دےگا یا تم اس سے خرید لوگے یا اس کی خوشبو تم سونگھ لوگے(یعنی ہر صورت فائدہ ہی فائدہ ہے ) اور بھٹی والایا تو تمہارے کپڑے جلادے گا یا تمہیں اس کی بدبو پہنچے گی۔(یعنی ہر صورت میں نقصان ہی نقصان ہے۔)[27]

بڑوں کو بڑا ہی سمجھا جائے

جوان افراد جوانی کے نشے میں عام طور پر بڑوں کو اولڈ مین (Old Man) کہہ کر یہ سمجھتے ہیں کہ اس ترقی یافتہ دور سے یہ پرانے لوگ نا واقف ہیں ،اور اس دور کے تقاضوں کے مطابق ہی ہمیں اپنی جوانی گزارنی چاہئے۔ اور مزید اس پر یہ کہ بڑوں کے فیصلوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ایسے تمام انداز انتہائی غلط ہیں ، اور اس طرح کی تنقید کرتے وقت ہم کیوں یہ بھول جاتے ہیںکہ ہم اپنی کم عمری کی وجہ سے معاملات کی کنہ کو نہیں پہنچے کہ جس حدتک طویل تجربات کے بعد ہمارے بڑے پہنچ چکے ہیں۔ ہم اپنے بڑوں کے ساتھ ناروا سلوک کرتے وقت کیوں بھول جاتے ہیں کہ کبھی میں نے بھی بڑا ہونا ہے؟؟ ہماری سوچ تو یہ ہونی چاہئے تھی کہ ہم ان بڑوں سے سیکھیں، ان کے ساتھ وقت گزاریں، ان سے نصیحتیں طلب کریں،تاکہ گزرتے وقت کے ساتھ جیسے جیسے میری عمر ڈھلے گی مجھے مختلف قسم کی ذمہ داریوں کا سامنا کرنا پڑے گا مجھے ان ذمہ داریوں کا سامنا کرنے کے لئے اور انہیں بطریق احسن ادا کرنے کے لئے انہیں کے زیر سایہ اور زیر تربیت رہنا چاہئے۔نیز بڑوں کی غلطیوں میں بھی اپنے لئے سبق تلاش کیا جائے چہ جائیکہ ہم ان کی غلطیوں پر مبصر کی حیثیت سے کوئی رائے زنی کریں۔

جوانی کی حفاظت کریں

جو نعمت جس قدر بڑی اور اہم ہوتی ہے ، اس کی حفاظت بھی اسی قدر اہم ہوتی ہے۔لہذا ایسے فتنے جو انسان کو بدنظری اور زنا کی طرف لے جاتے ہیں ،ان سے حفاظت بہت ضروری ہے ،کیونکہ جوانی کی عمر میں انسان کی شہوت بھی خاصی متحرک ہوتی ہے، گناہ کے امکان بہت زیادہ ہوتے ہیں ، سلف صالحین اس حوالے سے اس قدر فکر مند ہوتے تھےکہ سیدنا ابوہریرۃ  رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  !میں ایک جوان آدمی ہوں اور اپنے نفس کے حوالے سے گناہ سے ڈرتا ہوں اور میں نکاح کی طاقت نہیں رکھتا ،لہذا مجھے خصی ہونے کی اجازت دے دیں۔نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  خاموش رہے ،دوسری مرتبہ اپنی اس بات کو سیدنا ابوہریرۃ  رضی اللہ عنہ نے دہرایا، پھر بھی نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  خاموش رہے ،تیسری مرتبہ سیدنا ابوہریرہ   رضی اللہ عنہ نے اپنی بات کو دہرایااور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  خاموش رہے ، چوتھی مرتبہ جب سیدنا ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ  نے اپنی بات کو دہرایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایااے ابوہریرۃ( رضی اللہ عنہ ) ! قلم خشک ہوچکے ہیں ،لہذا جو ہونا ہے وہ ہوکر رہے گا۔[28]

اندازہ لگائیں کہ سلف صالحین میں اس حوالے سے کس حد تک جوانی کی حفاظت کا جذبہ موجود تھا۔

اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم وقتاً فوقتاً صحابہ کی اس حوالے سے تربیت بھی کیا کرتے تھے ،بلکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جوانوں کو مخاطب کرکے فرمایا :

’’ یا معشر الشباب، من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج ،فانہ اغض للبصر ، و أحصن للفرج ، و من لم یستطع فعلیہ بالصوم ، فانہ لہ وجاء‘‘ [29]

یعنی : اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہے ، وہ شادی کرلے اس لئے کہ یہ نظر کو جھکانے اور شرمگاہ کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے اور جو شادی کی طاقت نہ رکھے ،وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ اس کے لئے ڈھال ہے۔

ابن مسعود رضی اللہ عنہ  اس وقت جوانی کی عمر میں تھے ، فرماتے ہیں کہ یہ حدیث میری ہی وجہ سے بیان کی


گئی اور میں نے جلد ہی شاد کرلی۔[30]

ایک موقع پر ایک لڑکی نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس آئی اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ  اس کی طرف دیکھنے لگے تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فوراً ان کے چہرے کو موڑ دیا۔[31]

ایک شخص نے آکر زنا کی اجازت مانگی، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کی بھی بڑے احسن انداز سے تربیت کی اور فرمایاکہ کیا تم یہ پسند کروگے کہ تمہاری ماں ،بہن اور بیٹی کے ساتھ کوئی اس طرح کا معاملہ کرےاس شخص نے کہا کہ میں یہ پسند نہیں کرتا ،آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے کہا کہ یہی سوچ دوسرے کی بہن ،بیٹی اور ماں کے بارے میں ہونی چاہئے ۔

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نےسیدنا علی رضی اللہ عنہ  کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :’’لا تتبع النظرۃ النظرۃ ‘[32]یعنی ٹکٹکی باندھ کر نہ دیکھ۔ (اگر اچانک نظر پڑجائے تو اس پر انسان گناہ گار نہیں)

ان تمام نصوص سے واضح ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جوانوں کو اس گناہ سے بچنے کے لئے مسلسل کس طرح سے تربیت کی جس کانتیجہ تھا کہ آج ہم کسی صحابی کے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ اس طرح کے گناہ کا مرتکب ہو،بلکہ ایسا سوچناہمارے اسلام کے لئے خطرہ بن جائے گا۔

اوریہی ہمارا کرنے کا کام ہے کہ ہم نہ کہ صرف اس گناہ سے بچنے کی کوشش کریں بلکہ وہ تمام راستے جو زنا کی طرف لے جاتے ہیں،ان سے بھی بچنا ازحد ضروری ہے۔کیونکہ قرآن مجید میں حکم ہے کہ زنا کے قریب بھی نہ جاؤ۔(الاسراء:۳۲) لہٰذا ایسے تمام امور واسباب جو زنا کے قریب لےجاتے ہیں،ان سے دور رہناچاہئے۔سیدنا یوسف علیہ السلام نے جوانی کی عمر میں ہی اپنے آپ کو اس گناہ سے بچایا جس کا تذکرہ رہتی دنیا تک قرآن مجید میں موجود رہے گا۔ بلکہ ایسا شخص جو کبھی ایسی صورتحال بن جانے کے باوجود کہ ایک خوب صورت اور حسب و نسب والی عورت اسےگناہ کی دعوت دے اور وہ خود کو اس گناہ سے بچالے ،اس کا صلہ یہ ہے کہ قیامت کے دن یہ اللہ کے عرش کے سائے تلے ہوگا۔[33]


 

بے شعوری نقصان دہ ہے

جوانی کی عمر ایسی عمر ہے کہ جس میں شعور توآجاتا ہے ،لیکن یہ شعوربدرجہ اتم نہیں ہوتا،جوانی کی عمر میں عجلت اور جذبات کا عنصر غالب ہوتا ہے۔اور جس حد تک یہ عنصر غالب ہوتا ہے اسی حد تک وہ شعور اور فہم و فراست سے دور ہوتا ہے۔یہی وجہ ہےکہ جوان شخص بجائے اس کے کہ مکمل طور پر اپنے شعور پر اعتماد کرے، اسے اپنے بڑوں سے نصیحتیں اور ان سے رابطہ رکھنا چاہئے ۔ جوانی کی عمر میں بے شعوری اور عجلت انتہائی نقصان دہ ہے۔ بعض انصاری نوجوان کہہ بیٹھے تھے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوازن کے مال سے مہاجرین کو سو ،سو اونٹ دئیے ہیں،وہ قریش کو دیتے ہیں اور ہمیں نہیں دیتے۔باوجود اس کہ کے ہماری تلواریں ان کے خونوں سے تر ہیں۔نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو جب علم ہوا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم بہت مغموم ہوئے اور انصار صحابہ کو جمع کیا اور ان سے پوچھا تو انصار کے بڑی عمر کے سمجھ دار افراد کہنے لگے کہ اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ! یہ بات بعض نوجوان لڑکوں نے کہہ دی ہے ،نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے انصار صحابہ سے فرمایا کہ میں نے مال زیادہ دیا ہے ،تو انہیں دیا ہے جو ابھی نیا نیا کفر کے دین کو چھوڑ کر آئے ہیں ،اور تمہارے لئے اس سے بڑھ کر شرف کی بات کیا ہوسکتی ہےکہ لوگ اپنے گھروں میں مال لے کر جائیں اور تم رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی محبت لے کر جاؤ۔تمام انصار صحابہ نے کہاکہ اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اس پر راضی ہیں۔[34]

اندازہ لگائیں وہ صحابہ جن کے لئے اللہ کی رضامندی اور جنت کے اعلان ہوچکے ہیں ،ان میںسے بھی بعض لڑکوں سے اس طرح کی غلطی ہوسکتی ہے،اور وجہ ان کی کم سنی تھی( جسے بہرحال نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نےدرگزر  فرمادیا) اس واقعے کو سامنے رکھ کر ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ ہمارے معاشرے پر نوجوانوں کے بے شعوری کے کس قدر خطرنا ک اثرات رونما ہوسکتے ہیں۔ظاہر سی بات ہےہم میں تو بالاولیٰ اس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ،بلکہ یہاں ایک حدیث کو بھی بیان کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ میں نے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’هلاک امتي علي يدي غلمة من قريش‘‘[35]  یعنی میری امت کی ہلاکت قریش کے چند نوجوانوں کے ہاتھ ہے ۔

ظاہر سی بات ہے کہ وہ امت کے فساد اور خرابی کاسبب کیسے بنیں گے ؟؟اپنی کم فہمی اور بے شعوری کی وجہ سے۔

اس کے برعکس جب ایک جوان میں شعور پیدا ہوتا ہے تو وہ پورے سماج کی اصلاح کے لئے کمربستہ ہوجاتا ہے، اس کی مثال سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں کہ جنہوں نے جب بت توڑے تو قوم جانتی تھی کہ ایک جوان ہی کا کام ہوسکتا ہے۔اور قوم کی مراد ابراہیم علیہ السلام تھے۔( الانبیاء:۶۰)  یعنی ایسا جرأتمندانہ فعل ایک جوان نے ہی کیا ،اور جب جوان یہ کام نہ کرسکے تو کم ازکم اس کی غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ وہ خاموش تماشائی بن جائے،بلکہ وہ کم از کم ایسے علاقے میں رہنا مناسب نہیں سمجھتا۔ اس کی بڑی مثال اصحاب کہف ہیں،جوکہ نوجوان لڑکے ہی تھے، جب انہیں توحید کا فہم اور شعور آیا،پھر ان کی غیرت نے شرک و کفر کو قبول نہیں کیا، قوم ان کے درپے ہوئی اور ان کے بس میں بھی کچھ نہیں تھا،بالآخر وہ اس علاقے کو چھوڑ کر ایک غار میں چھپ جاتے ہیں ،اس پورے واقعہ کا نقشہ قرآن مجید میں کھینچا گیا۔(دیکھئے: سورۃ الکہف: ۹ تا ۲۶)

بہرحال یہ نتیجہ ہے نوجوانوں کے صحیح شعور اور فہم و بصیرت کااور بے شعوری اور کم فہمی کا۔

آج کا نوجوان فتنوں کے نرغے میں

جوانی کی عمر آزمائشوں سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔جہاں اس عمر میںنوجوان کے کاندھوں پر مختلف قسم کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں ،ساتھ ہی اسے مختلف قسم کے فتنوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس عمر میں دنیاوی خواہشات اور حب الشہوات دونوں ہی عروج پرہوتی ہیںاور ساتھ ہی جوانی ایک غفلت کی عمر بھی ہے،ایسے میں جوان جن برے اعمال کا مرتکب ہوجاتا ہے بالخصوص دور حاضر میں نوجوان جس طرح سےغلط راہوں کا راہی بن چکا ہے اور اس میں دینی اور اخلاقی اعتبار سے جن بیماریوں کا شکار ہے ، ذیل میں ان کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

مال سے متعلق برے خصائل

چونکہ جوان اپنے والدین اوراولاد کی کفالت اور بیوی کے نان و نفقہ اور اقارب کے ساتھ صلہ رحمی جیسی مختلف ذمہ داریاں اپنے کاندھوں پر لئے ہوئے ہوتا ہے،اور اب دنیا کی دیکھا دیکھی محض دنیاوی حرص و طمع کی بنیاد پر یا اپنی ان مذکورہ ذمہ داریوںکو صحیح طور پر نبھانے کی دوڑمیں بسا اوقات وہ ناجائز راہوں کا انتخاب کرلیتا ہے،مثلاً چوری ،ڈکیتی ، جوا، سود خوری وغیرہ ۔ چونکہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے مال کمانا اس کی ضرورت ہے اس لئے حلال و حرام کی تمییز کئے بغیر کثرت مال کی حرص اپنے اندر پیدا کرلیتا ہے۔اور ان گناہوں کا مرتکب ہوجاتا ہے۔

حل :

اس قبیل کی برائیوں کا حل یہ ہے کہ ہمارا مقصد صرف ذمہ داریوں کا پورا کرنا ہو نہ کہ زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنا۔اس لحاظ سے ہمیںاپنی جائز ضروررتوں کا تعین کرنا چاہئے۔ اور کسب حلال کوحیثیت دینی چاہئے۔مسلمان ہونے کی حیثیت سے پر عزم ہونا چاہئے کہ کوئی حرام راہ اختیار نہیں کروں گا۔اور شریعت میں موجود اس کی حرمت کو ملحوظ خاطر رکھے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے کعب بن عجرۃ رضی اللہ عنہ  کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا:’’ إنه لا يربو لحم نبت من سحت إلا كانت النار أولى به‘‘[36]یعنی : جوبھی گوشت کا ٹکڑا حرام سے پرورش پاتا ہے وہ جہنم کا ہی مستحق ہے۔

فراغت ،وقت کا ضیاع

جیسا کہ کہا گیا کہ کسی حد تک جوانی غفلت کی عمر بھی ہے ،نوجوان کچھ اس طرح کے بھی ہیںجو شاید اپنی جوانی کو بہت مصروف گزار رہے ہوں ،لیکن حقیقت میں وہ اپنی جوانی کی قیمتی عمر کو ضائع کررہے ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ ان کی جوانی جن کاموں میں مصروف ہونی چاہئے وہ خود کو ان کاموں میں مصروف نہیں کرتے۔ایسے لوگوں کواپنی اصل ذمہ اریوں کا تعین کرکے اپنا وقت صحیح مصرف میں صرف کرنا چاہئے۔

بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو کسی قسم کی مصروفیت کے بغیر کلی طور پر اپنی جوانی کے شب و روز کو ضائع کررہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہئے اور اس نعمت کی قدر کرنی چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے کہ اس نعمت کے بارے میں ان سے پوچھا جائے گا۔

بدعقیدگی یا اسٹائل

بکثرت یہ دیکھا گیا ہے کہ نئی جوان نسل میں بعض چیزیں بطور اسٹائل ہی کے کہہ لیں کہ ان میں مروّج ہیں حالانکہ وہ عقیدہ کے لئے انتہائی خطرناک ہیں۔

مثلاً مغرب کی نقال نئی نسل کو دیکھا گیا ہے کہ باہم ایک دوسرے سےتعارف کرواتے ہوئے، ایک سوال یہ بھی ہوتا ہے آپ کا اسٹار (ستارہ ) کیا ہے؟

جس طرح کفار ستاروں کے برجوں پر یقین رکھتے ہیں،ستاروں کی بنیاد پر لوگوں کی تقدیر کا حال پوچھا اور بتایا جاتا ہے۔ بالکل یہی حال آج کے مسلم نوجوان کا ہے۔کہ اس نے بدعقیدگی کو اپنا مروج انداز بنالیا ہے۔

آج کل کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں بکثرت کوئی نہ کوئی دھاگہ ،کڑا یا اس قسم کا کچھ ضرور ہوتا ہے۔

بعض لوگوں نے یہ خاص منت یا بیماری وغیرہ کےسبب سے پہنا ہوتا ہے جوکہ صریح شرک ہے۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک شخص کے ہاتھ میں کڑا پہنا ہوا دیکھا تو فوراً اسے اتروایا اور کہا کہ اس سے تو مزید بیماری میں اضافہ ہوگا اور اگر اسی حال میں تیری موت واقع ہوگئی تو کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔[37]بعض نے یہ بطور تزین کے پہنا ہوتا ہےجوکہ عورتوں کے تزین کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

بعض نے یہ غیروں کی نقالی کرتے ہوئے اسے پہنا ہوتا ہے،یہ اس لئے ناجائز ہے کہ اس میں غیر مسلموں کی تشبیہ ہے۔اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے کہ جس نےکسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے۔[38]

میڈیا اور خراب لٹریچر

تفریح حاصل کرنے کے لئے نوجوان ساتھی میڈیا کا رخ کرتے ہیں اور انٹرٹینمنٹ کے نام پر جس طرح سے مخرب اخلاق نشریات دکھا ئی جاتی ہیں اوربے حیائی اور عریانیت کا بازار گرم کیا جاتا ہے۔الامان والحفیظ!! اور پھر اس کے جو برے اثرات معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں ہر ذی شعور اس سے واقف ہے۔

مزید یہ کہ سوشل میڈیا نے اس حوالے سے مزید جو عریانیت اور بے دینی کو ہوا دی،وہ بھی ناقابل بیان ہے۔

 ہمارا نوجوان فارغ وقت میں تھوڑی دیر کی مشغولیت کے لئے بغیر کسی تمیز کےکسی بھی لٹریچر کو پڑھنا شروع کردیتا ہے۔ نتیجتاً اس راستے سے باطل نظریات ،اسلام سے دوری، بے حیائی اور شہوت کو بھڑکانے والی تحریریں یا تصاویرغیر اسلامی تہواروں کا فروغ ہوتا ہے۔

لہذا ضرورت ہے کہ ہم اس حوالے سے بھی شعور حاصل کریں کہ کون سا لٹریچر یا چینل یا ویب سائٹ کس قسم کے نظریات کو فروغ دے رہی ہے؟؟ اور اس سے اجتناب کرنا ہمارے لئے کس قدر ضروری ہے؟؟ اور اس کے مقابلے میں کون سا لٹریچر یا چینل یا ویب سائٹ ہے جس کے ذریعے سے میرےاخلاق واقدار کی بہتری اور مستقبل کی تعمیر ہوسکتی ہے؟؟ یقیناً اس تمیز کے ساتھ اور اس فرق کو سمجھنے کے ذریعے سے ہی ہم نت نئے فتنوں سے بچ سکتے ہیں جو میڈیا کے راستے ہمارے دلوں میں گھر کرچکے ہیں۔

جدت پسندی کی آڑمیں اسلام کے بارے میں بدگمانی

جدت پسندی (ماڈرن کلچر ) دراصل یہ نام ہے ایک ایسی سوچ کا جو مغرب سے مرعوب ہےکہ مغرب میں جو کام ہوا ،بس وہ یہاں بھی ہونا چاہئے چاہے دین اس کی اجازت دیتا ہو یا نہ دیتا ہو۔ بلکہ ایسے کاموں کو اپنانے کے لئے ان کے یہاں دین کی تو قربانی دی جاسکتی ہےلیکن جدت پسندی کے نام پر مغرب کی نقالی کو چھوڑنا انہیں گوارا نہیں ،حتٰی کہ جو لوگ اس فتنے سے روکتے ہیں، انہیں بنیاد پرست کا نام دے دیا جاتا ہے اور پھر اس مغرب کی نقالی میں اس قدر ہمارے جوان مستغرق ہوئے کہ بھول گئے کہ وہ مسلمان بھی ہیں!!شاید اسی صورتحال کو سامنے رکھ کر اقبال نے کہا تھا:

دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں

اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی


 

من چلے نوجوانوں اور مغرب سے متاثر لوگوں کی خواہش پرستی کا احترام کرنے والے (یا کہیں کہ اسی راستے سے اپنی جیبیں گرم کرنے والے) بھی خوب میدان میں اترتے ہیں، اور مغرب کی نقالی کو دینی رنگ چڑھانے کی پوری پوری کوشش کرتے ہیں۔جیسا کہ دور حاضر میں موسیقی اور شراب نوشی کے جواز کے فتوے منظر عام پر آچکے ہیں جو صرف اور صرف مغربی آقاؤں اور مغرب زدہ لوگوں کو خوش کرنے کے لئے انتہائی ناپاک جسارت ہے۔اور اسی قبیل کی جسارتیں یہ بھی ہوئیں کہ حقوق نسواں بل کے نام پر مغربی جراثیم کے متحمل مرد و زن کو کھلی چھوٹ دینے کی کوشش کی گئی،اسی طرح نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی شان میں گستاخی کرنے والے کے حوالے سے سزائے موت کی سزا کے مسئلے کو چھیڑا گیا۔اور اس میں باطل کی آمیزش کرنے کی کوشش کی گئی۔

تقاریب اختلاط مرد وزن

لوگ بالعموم اور کالجزاوریونیورسٹیوں سے تربیت یافتہ نئی نسل(New Generation) بالخصوص  مرد و زن کے اختلاط کو وقت کی ضرورت سمجھتی ہے اور صنف نازک کے ساتھ بھی اسے عین انصاف قرار دیا جاتا ہے کہ وہ مرد کے شانہ بشانہ رہے۔ دراصل یہ ایک سازش ہے کہ اس راستے سے مرد و زن کی شہوت کو ابھار کر ان کی دینی غیرت و حمیت کو شہوت کے پہاڑ تلے کچل دیا جائے۔اور مسلمان بس نام کا مسلمان رہ جائے اور انگریز کی بولی بولتا چلاجائے۔شاید اسی قسم کے لوگوں کے بارے میں اقبال نے کہا تھا:

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

نئی نسل کو اپنی اس بری خصلت(جوسراسر غیراسلامی ہے) اور اس کے مضر اثرات کو بھی سمجھنا پڑے گا اور حد درجہ کوشش کرنی ہے کہ اس فریب سے خود کو آزا دکروائیں۔

موسیقی

آج کے نوجوان میں ایک برائی یہ بھی بہت پائی جاتی ہے کہ وہ موسیقی کادلدادہ نظر آتا ہے،اسے  روح کی غذا سمجھتا ہے۔اس کی خوشی ،تفریح ،تہوار اورغمی سمیت کوئی موقع موسیقی سے خالی نظر نہیں آتا۔ بلکہ اب تو یہ موسیقی مساجد میں پہنچ گئی ہے۔ اور کچھ عرصہ قبل ایسے لوگ بھی منظر عام پر آنا شروع ہوگئے جنہوں نے شرعی نصوص کو توڑ مروڑ کر اسے جائز قرار دینے کی ناکام کوشش کی ، گویا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی اس حدیث کا مصداق بن گئے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال قرار دیں گے۔ [39] بحمدللہ ربانی علماء بروقت اس فتنے کی سرکوبی کے لئے کمربستہ ہوگئے،اور ان ریشہ دوانیوں کی حقیقت کو فوری سامنے لایا گیا۔ اس کے باوجود اس مزاج کے لوگ اپنی اس روش پر قائم ہیں۔اور آج جس وقت یہ سطور لکھی جارہی ہیں، موسیقی کو ترویج اس طرح سے بھی دی جارہی ہے کہ ان دنوں آزادی مارچ کے نام سے اسلام آباد میں ایک سیاسی دھرنے کا سلسلہ کم و بیش سوا مہینے سے جاری ہے۔ جس میں جوان لڑکوں اور لڑکیوں کا اختلاط موجود ہے۔ اور موسیقی کا انتظام ہے۔ جس کی دھنوں پر یہ اوباش لڑکے لڑکیاں اجتماعی طور پر مست ہیں اور رقص و سرور کی محفلیں قائم ہیں۔اور باقاعدہ یہ بات اس حلقہ کے لیڈر نے تسلیم کی ہے کہ اس موسیقی اور گانوں کے ان انتظام کی وجہ یہ ہے کہ تاکہ نوجوان بور نہ ہوں۔ الامان والحفیظ۔اندازہ لگایا جائے جس قوم کے نوجوانوں کی بوریت ختم کرنے کا واحد حل موسیقی کو ٹھہرادیا جائے،وہاں اللہ کا عذاب نہ آئے تو اورکیا ہو؟؟ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث میں تو موسیقی کی شدید مذمت موجود ہے۔

ایک حدیث میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

’’صوتان ملعونان فی الدنیا والآخرۃ ، مزمار عند نعمۃ ،و رنۃ عند مصیبۃ ‘‘ [40]

’’ دو قسم کی آوازیں دنیا و آخر ت میں ملعون ہیں،ایک نعمت ملنے پر موسیقی کی آواز اور دوسری مصبیت کے وقت چیخنے چلانے کی آواز۔‘‘ایک روایت میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ إن الله حرم علي أو حرم الخمر والميسر والكوبة ‘‘[41]یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یا فرمایا کہ شراب ،جوا اور طبلہ /موسیقی کو حرام کردیا ہے۔بہرحال موسیقی کی مذمت میں کئی ایک روایات کو پیش کیا جاسکتا  ہے۔لیکن افسوس آج کا مسلمان ہے کہ اسے اللہ کی حرام کردہ چیز اور ملعون چیز میں سرور و سکون ملتا ہے اور اس کی بوریت ختم ہوتی ہے۔ یہ اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : ’’جب آلات موسیقی ،گانے بجانے والیاں اور شراب عام ہوجائے گی اس وقت میری امت میں قذف (تہمت) ، مسخ (شکلوں کا مسخ ہونا) اور خسف (زمین میں دھنسایا جانا)کے واقعات ہوں گے۔[42]

فکری حملے

چونکہ ہمارے اسکول سے لے کر یونیورسٹیز تک اسلامی تعلیم صرف نام کی حد تک ہے اور بسا اوقات ایسے مناظر بھی دیکھے گئے ہیں کہ اسلامیات جیسے مضمون (subject) کو پڑھانے کے لئے کسی جدت پسند مغربی افکار کے حامل شخص کا انتخاب کیا جاتا ہےکہ اس راستے سے جو تھوڑی بہت نئی نسل کواپنے دین کی تعلیم ملتی ہے وہ راستہ بھی بندہوجائے۔ اور کمیونسٹ قسم کا یہ اسلامیات پڑھانے والا ٹیچر اب مکمل طور پر طلباء کو نظریہ ارتقاء جیسے بدنام زمانہ نظریہ اوردیگرباطل نظریات کو غیر محسوس انداز میں نئی نسل کے ذہنوں میں ڈالتاچلاجائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان یونیورسٹیز سے ڈاکٹر ،انجینئرز پیدا ہوں یا نہ ہوں کمیونسٹ اور سیکولر قسم کے لوگ پیدا ضرور ہورہے ہیںاورپھر یہی نئی نسل اسلام کے بارے میں طرح طرح کے شبہات وارد کرتی نظر آتی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ آج کا یہ نوجوان ایسا مسلمان ہے کہ جوغسل کا طریقہ سمیت کئی ایک مبادیات اور ضروریات دین سے ناآشنا ہے ۔حتی کہ اس کا مسلمان بھائی فوت ہوجائے یا اس کا اپنا ہی والد یا والدہ وغیرہ کا انتقال ہوجائے تو اسے غسل دینے ،کفنانے، دفنانے اور نماز جنازہ جیسے اہم حقوق سے بھی ناواقف ہوتا ہے جسے مسلمان کے حقوق میں شمار کیا گیا ہے حتی کہ میت کے دفنائے جانے کے بعد اب بھی منتظر ہے کہ اس کے گھر پر کوئی آجائے اور قرآن پڑھ جائے اور قرآن خوانی ہوجائے ۔یہ نئی نسل کی ابتری کی حالت ہے۔

نسل گر مسلم کی مذہب پر مقدم ہوگئی

اڑ گیا دنیا سے تو مانند خاک رہ گزر

اس پر مزید یہ کہ اپنے دین سے اس قدر لاعلم یہ اسلام سے متنفر مسلم نوجوان دوسرے مذاہب میں  محاسن تلاش کرتا ہے حالانکہ اگر یہی توجہ اگر اپنے دین کے حوالے سے دی جائے تو اسے دین اسلام مجموعہ خیر نظر آئے گا۔بہرحال اس نئی نسل کے ساتھ ستم بالائے ستم یہ بھی ہے کہ مدتِ طویل سے غیر محسوس انداز میں اس کا فکری اغواء کیا جارہا ہے۔اور آج کا یہ مسلم نوجوان اس دلدل میں پھنستا چلا جارہا ہے۔ اب اسے مغرب کی ہر نجاست میں حسن نظر آتا ہے اور بڑی مرعوبیت کے ساتھ اسے اختیار کرلیتا ہے۔

ان برے خصائل کا حل

ان تمام برے خصائل کا ایک ہی حل ہے اور وہ یہ ہے کہ نوجوان اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اسلام کے فہم اور اس کی دعوت کے لئے کمربستہ ہوجائے ۔اور اپنی چھٹی حس کو اس قدر قوی کرلے کہ وہ اس طرح کی تمام سازشوں کو بروقت محسوس کرسکے اور اپنی ذات کو اس طرح کے عوامل سے محفوظ رکھتے ہوئے امت کی اصلاح کا بیڑا اٹھائے ۔

آج مسلم قوم کو جس جوان کی تلاش ہے ،وہ ایک ایسانوجوان :

جوہردلعزیز شخصیت ہو۔

جو تمام محاسن کا جامع ہو۔

تمام برائیوں کے بارے میں نفرت اس کےدل میں کوٹ کوٹ کر بھری ہو۔

اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنے والاہو۔

والدین و دیگر اکابر کا ادب کرنے والاہو۔

جس میں یہ صلاحیتیں بھی موجود ہوں کہ وہ اچھے سے اچھے انداز میں نئی نسل کی تربیت کرسکے۔

ایسے ہی جوان کے بارے میں اقبال نے کہا تھا:

جوان ہوں میری قوم کے جسور و غیور

قلندری میری کچھ کم سکندری سے نہیں

آخر میں یہی دعا ہے کہ اللہ امت کو ایسے جوان عطا فرمائے جن کی جوانیاں تاریخ کے روشن اوراق بن جائیں اور جوانی اور اسلام کا حق ادا کرجائیں۔ اور ہمارے لیڈروں کو بھی یہ توفیق دے کہ وہ جوانوں سے جوانوں والاکام لیں نہ کہ انہیں مغفّل زندگی گزارنے دی جائے۔اور ساتھ یہ بھی دعا ہے کہ ہمارے نوجوان ایسے نہ ہوں کہ :

اپنے دین و ملت کی مبادیات سے بھی ناواقف ہوں۔

والدین سمیت اکابر کو پرانے لوگ قرار دے کر ان کی تحقیر کرتے ہوں۔

کسی بھی چیز کواپناتے وقت کوئی معیار ان کے پاس نہ ہو۔

ایسےبے شعور نہ ہوں کہ کالانعام (جانوروں کی طرح)ہوں جسے ، جو جدھر چاہے ہانک لے وہ وہیں چلنا شروع کردیں۔

اپنے ہی آپ میں اس قدر مگن نہ ہوں کہ لوگ مفاد پرست(Selfish) کے نام سے جانتے ہوں۔ قوم و ملت اور امت کے مفادات سے ناآشنا اور ان کے لئے کسی قسم کی کوئی قربانی دینے کا جذبہ بھی نہ ہو۔

یہ کچھ سطور جوانوں کے لئے ایک رہنما تحریر کی حیثیت رکھتی ہیں ،اللہ اس ملت کے سپوتوں نرغۂ اغیار سے محفوظ رکھے اور کما حقہ دین و ملت کی خدمت کی توفیق دے ۔آمین

یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے

جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے

و صلی اللہ علی نبینا محمد و آلہ و صحبہ و سلم

 

 

 


 



[1] مدرس المعہد السلفی کراچی

[2] صحیح بخاری:کتاب الزکوۃ ،باب الصدقۃ بالیمین ، صحیح مسلم:کتاب الزکوۃ ، باب فضل اخفاء الصدقۃ

[3] جامع ترمذی: أبواب صفة القيامة ... ،باب في القيامة،  المعجم الکبیر :9772، المعجم الصغیر: 760، (حسن)

[4] مستدرک حاکم:کتاب الرقاق حدیث: 7846، شعب الایمان: الزہد و قصر الامل ، حدیث: 9767

[5]الجامع لاخلاق الراوی و آداب السامع

[6] صید الخاطر

[7] جامع ترمذی : 2398، ابواب الزہد ، باب ماجاء فی الصبر علی البلاء 

[8]  صحیح بخاری: 3887، کتاب مناقب ،باب المعراج

[9] صحیح بخاری :3911 ، کتاب مناقب الانصار ، باب ھجرۃ النبی

[10] صحیح بخاری:  کتاب الصلوٰۃ ، باب الأذان للمسافر إذا كانوا جماعة والإقامة وكذلك بعرفة وجمع وقول المؤذن الصلاة في الرحال في الليلة الباردة أو المطيرة

[11] صحیح مسلم : کتاب الجہاد والسیر، باب غزوۃ ذی قرد و غیرھا

[12]  صحیح بخاری :کتاب المغازی،باب بعث النبي صلى الله عليه وسلم أسامة بن زيد إلى الحرقات من جهينة

[13] صحیح بخاری : کتاب المغازی ،باب غزوۃ ذی قرد

[14] صحیح مسلم : 1807،کتاب الجہاد والسیر، باب غزوۃ ذی قرد و غیرھا

[15] اسد الغابۃ

[16] صحیح بخاری : 4270،کتاب المغازی،باب بعث النبي صلی اللہ علیہ وسلم  أسامة بن زيد إلى الحرقات من جهينة

[17] صحیح بخاری : 4270،کتاب المغازی،باب بعث النبي صلی اللہ علیہ وسلم  أسامة بن زيد إلى الحرقات من جهينة

[18]  مسند احمد : حدیث:15380،، و نسخۃ اخریٰ مع التحقیق الشیخ شعیب الارناؤوط: 24/91

[19] ایضاً

[20]  مسند احمد : حدیث:15376، ص:۳/۴۰۸، و نسخۃ اخریٰ مع التحقیق الشیخ شعیب الارناؤوط: 4/91 ، و السنن الکبری للبیھقی : ۱۹۷۰، جس کے الفاظ یوں ہیں :’’اذھب فأذن عند البیت الحرام‘‘

[21]  مصنف ابن ابی شیبۃ : 2167

[22] شرح النووی : 4/302،طبع دارالمعرفۃ بیروت

[23] سنن دارمی:1232، کتاب الصلوۃ ،باب الترجیع فی الاذان

[24] صحیح بخاری: کتاب التفسیر ، باب قوله:{لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ .. }

[25] جامع ترمذی:ابواب الاستئذان والادب باب ما جاء فی تعلیم السریانیۃ

[26] صحیح بخاری: 6412، کتاب الرقاق ، باب لا عيش إلا عيش الآخرة

[27] صحیح بخاری : کتاب الذبائح والصید، باب المسک ،صحیح مسلم :کتاب البر والصلۃ والآداب ،باب استحباب مجالسة الصالحين ومجانبة قرناء السوء

[28]  صحیح بخاری:کتاب النکاح ، باب ما يكره من التبتل والخصاء

[29]  صحیح مسلم: کتاب النکاح ،باب استحباب النكاح لمن تاقت نفسه إليه ووجد مؤنه ...

[30]   ایضاً

[31] صحیح ابن خزیمۃ : 3031، کتاب المناسک ، باب ذكر الدليل على أن الشيخ الكبير...الخ

[32] سنن ابی داؤد:کتاب النکاح باب ما یؤمر بہ من غض البصر

[33] صحیح بخاری: کتاب الزکوۃ ،باب الصدقۃ بالیمین

[34]  صحیح بخاری:  کتاب فرض الخمس ، باب ما كان النبي صلی اللہ علیہ وسلم  يعطي المؤلفة قلوبهم وغيرهم من ..

[35]  صحیح بخاری:کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام

[36] جامع ترمذی :  ابواب السفر، باب ما ذکر فی فضل الصلوۃ

[37] سنن ابن ماجۃ : کتاب الطب، باب تعلیق التمائم ، صحیح ابن حبان :6085، کتاب الرقیٰ والتمائم، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے،نیز امام حاکم کی تصحیح،صاحب مجمع الزوائدبوصیری کی تحسین اور محمد بن عبدالوھاب کے سند لابأس بہ کہنا ان سب کا جائزہ بھی لیا ہے۔ دیکھئے: الضعیفۃ : 1029ہرحال اس مضمون کی دیگر روایات سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ تعویذ لٹکانا شرک ہے اگر وہ قرآنی نہ ہو۔اور قرآنی تعویذ کا لٹکانا بھی جائز نہیں۔

[38] سنن ابی داؤد: کتاب اللباس ،باب فی لبس الشھرۃ ، مسند احمد: 2/50

[39] صحیح بخاری: کتاب الاشربۃ، باب ما جاء فيمن يستحل الخمر ويسميه بغير اسمه

[40]  مسند بزار

[41] سنن ابی داؤد: کتاب الاشربۃ ،باب فی الاوعیۃو صححہ الالبانی

[42] جامع ترمذی:  ابواب الفتن ، باب ما جاء فی علامۃ حلول المسخ والخسف، صححہ الالبانی