بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

پیر, 11 ستمبر 2017 14:18

حزبيت ایک ناسور

مقرر/مصنف  عبد المجید محمد حسین بلتستانی

حزبيت ایک ناسور

عبد المجید محمد حسین بلتستانی[1]

اسلام ایک کامل دین ہے جس میں بنی نوع انسان کےلیے ہر قسم کی رہنمائی موجودہے۔یہ ایسا دین ہے جس کے بارے میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاہے:

 ’’ قد ترکتکم علی البيضاء ليلھا کنھارھا‘‘[2]

ترجمہ: میں تمہیں ایسے دین پر چھوڑ کر جارہاہوں جس کی راتیں بھی دن کی مانند روشن ہیں۔

فتنوں کے دور میں بھی اس پیارے دین نے اپنے ماننے والوں کی بہت عمدہ رہنمائی کی ہے۔جس دور سے ہم گزررہے ہیں اس میں امت کا شیرازہ بکھرچکاہے،جس کی بنیاد’’تحزب واختلاف وشقاق‘‘ ہے۔

’’ حزبیت‘‘ ایک ایسا ناسور ہے جس نے اسلامی معاشرے کی بنیادیں ہلاکررکھ دی ہیں،ایک امت کہلانے والے ،ایک اللہ کو ماننے والے،ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم  اور ایک قرآن کو ماننے والے ،ایک قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنےوالےآج اس حزبیت کی نحوست کی وجہ سے آپس میں دست وگریبان ہیں، ایک دوسرے پر کفر کے فتوے داغے جارہےہیں،ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہےہیں،ہوناتویہ چاہیے تھاکہ یہ آپس میں شیروشکر ہوتے،ایک دوسرے کےغم خواربنتے ایک دوسرے کے کام آتے[اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ ]’’مؤمن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں‘‘۔[سورہ حجرات:10 ]اور[ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِکُمْ]’’سو تم اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو‘‘۔[سورہ انفال:1 ]کی عملی تصویرہوتے۔ہمارے سامنے ہمارے اسلاف کی مثالیں موجودہیں کہ وہ کس طرح ایک دوسرے کے غم خوار وغم گساربنے، مؤاخات کی ایسی مثال قائم کی کہ آج اس کی نظیرملنابھی بہت مشکل ہے،حالانکہ اسلام سے قبل وہ رنگ ونسل کے اعتبار سے ایک دوسرےسے بہت مختلف تھے،لیکن اس دین کی وجہ سے وہ سب ایک دوسرے کے بھائی بن گئےاور اس عظیم الشان اخوت کا ذکر اللہ پاک نے یوں کیاہے:

[وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَيْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَاۗءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہِ  اِخْوَانًا  ]

’’اور اللہ تعالیٰ کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے،تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی،پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی بن گئے‘‘۔ [سورہ آل عمران:103]

اسلام نےہمیشہ اتحادو اتفاق کی دعوت دی ہے۔اللہ پاک کا ارشادگرامی ہے:

          [وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا  ] [سورہ آل عمران:103]

ترجمہ:’’ اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو‘‘

نیز فرمایا : 

          [ اِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً  وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ  92؀] [سورہ انبیاء:92]

’’ یہ تمہاری امت ہے جو حقیقت میں ایک ہی امت ہے، اور میں تم سب کاپروردگار ہوں پس تم میری ہی عبادت کرو‘‘

 

 یہ اخوت ومودّت محض انعام الٰہی ہے:

[لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوْبِہِمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ اَلَّفَ بَيْنَہُمْ ]

ترجمہ:’’زمین میں جو کچھ ہےآپ اگر سارا کا سارا بھی خرچ کر ڈالتے تو بھی ان کے دل آپس میں نہ ملاسکتے،یہ تو اللہ ہی نے ان میں الفت ڈال دی ہے‘‘۔[سورہ انفال:63]

اور ہمارے پیارے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے فرامین عالیشان میں اس پہلو پر زور دیاہے،کبھی یوں فرمایا’’ علیکم بالجماعۃ‘[3]ترجمہ:جماعت کولازم پکڑو، کبھی یوں گویا ہوئے:’’یداللہ علی الجماعۃ‘‘[4]ترجمہ: اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہے۔

بلکہ ایک حدیث میں اس شخص کو جو جماعت سے نکل جائے اس کو اس بکری سے تشبیہ دی جو ریوڑ سے الگ تھلگ ہوکر چرتی ہے اور بھیڑیے کےلیے اس کا شکار کرنا نہایت آسان ہوجاتاہے۔[5]

بعینہ جب آدمی جماعت سے الگ ہوجاتاہےتووہ فتنوں کا شکارہوجاتاہے۔اس حزبیت کی نحوست نے دورحاضر کے نوجوانوں کو تباہی وبربادی کے دہانےپر لاکھڑا کیاہے،اور کچھ ایسے لوگ جو بظاہر خیرخواہی کا دعوی کرتے ہیںاسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام ہی کے بارے میں ایسی تشریحات کرتے ہیں کہ نوخیز عمر والے نوجوانوں کو گمراہی کے راستےپر لگادیتےہیں ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ پاک کافرمان ہے:

[فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِہِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَاۗءَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَاۗءَ تَاْوِيْلِہٖ]

’’پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، فتنے کی طلب اور ان کی مراد کی جستجو کےلیے‘‘۔[سورہ آل عمران:7]

اور اس حزبیت کے زہر کو امت کے نوجوانوں کے ذہنوں میں انڈیل رہے ہیں جس کانتیجہ ہے کہ ہمارا یہ قابل فخر سرمایہ ان لوگوں کے دامِ تزویر میں پھنس کر انتہاپسندی کی طرف روز افزوں مائل  ہورہاہے، اور یہ لو گ اپنے مذموم مقاصد میں کسی حد تک کامیاب بھی ہیں۔

عصرِحاضرکے محدث معروف یمنی عالمِ دین شیخ مقبل بن وادعی رحمہ اللہ حزبیوں کے اس گمراہ کن فعل پر سخت نکیر کرتےہوئے فرماتے ہیں :

’’کم من شباب صالح حافظ للقرآن مبرز فی علم السنۃ أفسدہ الحزبییون بأمانیھم الکاذبۃ‘‘[6]

’’کتنے ہی نیک، حافظ قرآن، علمِ حدیث کے ماہر نوجوانوں کو حزبیوں کی جھوٹی تمناؤںنے بربادی کی طرف دھکیل دیا۔‘‘

حزبیت عصر حاضرکا ایک بہت بڑافتنہ ہے جس نے اہل حق کو آپس میں بھڑادیاہے،اس کی وجہ سے قتل وغارت کابازار گرم ہے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگائے جارہے ہیں اور ان فتووں کی بنیادپر ایک دوسرے کو جہنم رسید کرنے پر کمربستہ ہیں،دشنام طرازی اورطوفان بدتمیزی کی بھرمار ہے۔آج اس حزبیت کی نحوست کی وجہ سےعالم اسلام کامسلمان تقسیم ہوچکاہے،اغیارنے اس مسلمان کو نادیدہ اندازمیں اس طرح اکائیوں میں بانٹ دیاہے کہ آج وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن گئے ہیں۔

حزبیت کے اسباب:

’’حزبیت‘‘ کے معاشرےمیں پنپنےکے بہت سارے اسباب ہیں ان میں ایک بنیادی سبب ’’عصبیت‘‘ ہےاس لعنت کی وجہ سے مسلمان لسانیت،رنگ ونسل میں منقسم ہیں،ہر ایک کو یہی فکر کھائے جارہی ہے کہ میری پارٹی اور جماعت غالب ہو،اس کےلیے لڑتا مرتاہے ، جدوجہد کرتاہےاس کےلیے اپنی کوششیں صرف کرتاہے اس کی خاطر اپنی جان کی بازی بھی لگا دیتاہے۔جبکہ دین اسلام نے اس کی سخت مذمت اور سخت اندازمیں بیخ کنی کی ہے،آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے پوچھاگیا کہ ایک شخص قبیلے کے جھنڈےکی بلندی کےلیے لڑتاہے اور ایک اور شخص کسی اور غرض سے لڑتاہے ان میں سے  فی سبیل اللہ کونساہے ؟آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جواب میں ارشاد فرمایاکہ جو اللہ کے دین کی سربلندی کے   لیے لڑتاہے یہ حقیقت میں فی سبیل اللہ ہے[7]۔ایک حدیث میں اس عصبیت کو گندگی سے تشبیہ دی۔

’’ دعوھافإنھامنتنۃ‘[8]

’’ اس(عصبیت) کوچھوڑ دو یہ نہایت بدبودارہے‘‘۔

 یہ ایسامتعفن بدبودارفعل ہے کہ آج کا نوجوان اس بدبوکے زیراثرآچکاہے،جوکہ امت اسلامیہ میں رخنہ کاسبب بن گیاہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص عصبیت کے جھنڈے تلے لڑتاہے یااس کی طرف دعوت دیتاہے یاعصبیت پر تعاون کرتاہےاس راہ میں ماراجائےتوایسے شخص کی موت جاہلیت پرہے۔[9]

ایک حدیث میں ہے کہ جب صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم  جناب ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کسی کو ’’عصبیت ‘‘ کانعرہ لگاتے سناتو نہایت غصہ کے عالم میں اسے ڈانٹتے ہوئے فرمایا جاؤ جاکراپنے باپ کی شرمگاہ کو چوسو،لوگوں نے اعتراض کیاتو فرمایاکہ ہمارے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایساکرنےوالوں کے ساتھ ایساہی کرنے کاحکم دیاہے[10]۔اس لیے کہ جووہ عصبیت وحزبیت کانعرہ لگارہاہے وہ اس سے کہیں زیادہ بدتراوربدبودارہے۔

حزبیت سے متعلق چند امور توجہ طلب ہیں جنہیں ہم یہاں ترتیب وار بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔

حزبیت کیاہے؟

 ’’حزبیت ‘‘ کی تعریف: لغت میں اس کا معنی انقطاع،راہ ِحق سے ہٹ جانا آیاہے۔

شرعی اصطلاح میں اس سے مراد اہل السنہ والجماعہ کے بنیادی و مسلمہ اصولوں سے خروج کرناہے۔ اس امت میں سب سے پہلے جن لوگوں نےاس روش کو اختیار کیا وہ خوارج تھے،اورصرف اسی پر

  بس نہیں کیابلکہ کچھ اور قدم آگے بڑھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پرکفرکافتوی لگاتے ہوئے ان سے قتال کو واجب جانااور کثیرتعدادمیں بےگناہ لوگوں کا بہیمانہ اندازمیں قتل عام کیا،ان رذیل قسم کے لوگوں نے امت کی وحدت کوپارہ پارہ کرنے میں خوب کردار اداکیا۔

مضمون کی ابتدامیں وعید والی کچھ احادیث کاذکرہواجس میں امت کے افتراق واختلاف کاذکرتھااب اس سلسلے میںمزید نصوص ملاحظہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

’’افترقت الیھود علی احدی وسبعین فرقۃ وافترقت النصاری علی ثنتین وسبعین فرقۃ وتفترق ھذہ الامۃ علی ثلاث وسبعین فرقۃ‘[11]

’’ یہودی اکہتر فرقوں میں بٹ گئے اور نصاریٰ بہتر فرقوں میں بٹ گئے،اور یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائےگی‘‘۔

اس سے یہ معلوم ہواکہ سابقہ امتوں کی طرح یہ امت بھی انتشاروافتراق کا شکارہوگی،اوراس پر وعید بھی کرتےہوئے فرمایاکہ جو افتراق کا سبب بنے امت کی وحدت کو پارہ کرنے کے درپے ہو اسے قتل کردیاجائے،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

’’فمن أراد أن يفرق أمر ھذہ الأمۃ وھی جميع فاضربوہ بالسيف کائنا من کان‘‘[12]

’’جواس امت کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کاسوچے ا س کی گردن اڑادو چاہے وہ کوئی بھی کیوں نہ ہو۔‘‘

اس سے واضح ہواکہ حزبیت کی نحوست سےیہ امت ضرور شکارہوگی جہاں اس چیز سے آگاہ کیا وہاںاس حزبیت سے بچنے کی سختی کے ساتھ تاکید بھی کی ہے،خصوصا ایسے وقت میں جب فتنے سر اٹھارہے ہوں اور لوگ ان فتنوں کی زد میں آرہےہوں تو ایسے حالات میں ایک مؤمن بندےکا کرداریہ ہوناچاہیے کہ وہ اپنی جان وایمان کی سلامتی کےلیےاپنے آپ کو الگ تھلگ کردے۔بعض

 روایات سے یہ بھی پتا چلتاہے کہ وہ بکریوں کے ریوڑ کےساتھ کسی پہاڑ کے دامن میں منتقل ہوجائے تاکہ فتنوں سے محفوظ رہ سکے۔[13]

ایک حدیث میں ہے کہ صحابی رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  جناب عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے فتنوں کے دورمیں ایک مسلمان کاکیاکردارہوناچاہیے کے متعلق سوال کیاتو آپ نے جواب میں فرمایا:

’’أمسک علیک لسانک ولیسعک بیتک وابک علی خطیئتک[14]

’’اپنی زبان کو قابو میں رکھو،تمہارا گھر تمہیں کافی ہو،اور اپنے گناہوں پر رویا کرو‘‘۔

الغرض ہر اس امر سے اجتناب کرے جوانسان کو حزبیت کی طرف دھکیلتا ہو۔

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک بار آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے سوال کیاکہ اگر مسلمانوں کی جماعت نہ ہو (جس کے ساتھ انضمام نہایت ضروری ہے)تومیں کیاکروں ؟تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

’’فاعتزل تلک الفرق کلہا‘[15]

یعنی تمام  فرقوں سے اپنے آپ کو محفوظ کرلو۔

تنبیہ:

اس حدیث میں لفظ ’’الجماعۃ‘‘ آیاہے اس سے کیامرادہے؟آیا مروجہ جماعتیں مرادہیں یاکوئی خاص جماعت مرادہے؟کیونکہ کچھ لوگوں نے اس حدیث کے ظاہری معنی کو لیتے ہوئے اپنی الگ جماعت بنالی کہ اس حدیث کا مصداق ہماری جماعت ہے اس طرح کا مغالطہ دے کر بھولےبھالے عوام کوگمراہ کررہے ہیں،اگر نصوص اور آثار سلف کامطالعہ کریں تو یہ واضح ہوجائےگا کہ اس سے مراد امت کے سلف صالحین کامنہج ہے جوکہ کتاب وسنت کے عین مطابق ہے۔

عظیم صحابی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ’’جماعت‘‘ کی تعریف میں فرماتے ہیں:’’الجماعۃ  ماوافق الحق وإن کنت وحدک‘[16]

 حق کے مطابق چلنے والوں کانام ’’الجماعۃ‘‘ ہےچاہےتواکیلاہی ہو۔

امام شاطبی رحمہ اللہ ’’الجماعۃ‘‘ کی وضاحت کرتےہوئے فرماتےہیں:

’’الجماعۃ ماکان علیہ النبی صلی اللہ عليہ وسلم واصحابہ والتابعون  لھم باحسان‘[17]

نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم ،آپ کے صحابہ کرام اور ان کے نقش قدم پرچلنےوالوں کے طریقے کانام ’’الجماعۃ‘‘ہے۔

تواس سے واضح ہواکہ’’ الجماعۃ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ جو شخص سلف صالحین کے منہج پر ہے وہ جماعت کے ساتھ اور جو اس منہج سے خروج کرےگا گویاکہ وہ جماعت سے باہر نکل گیا۔

حزبیت کے اسباب:

دین اسلام کی تبلیغ نے دشمنوں کی سازشوں کوناکام ونامراد کردیاتھا قریب تھاکہ یہ اسلام دشمن قوتیں اپنا وجود کھوبیٹھتیں ،اب انہوں نے اپنے وجود کوبرقرار رکھنے کےلیے اسلام کے خلاف اپنی ریشہ دوانیوں کا آغاز کیا،اسلام کی صفوں میں کچھ ’’زلہ خوار‘‘ قسم کے لوگ( جو کبھی ’’شیخ الاسلام‘‘ کے لقب سے یاکبھی ’’جدت‘‘جیسے کلمات سے اپناتعارف کراتے ہیں) ان استعماری قوتوںکے آلہ کاربن گئےیہ قوتیں ایسے لوگوں کی مالی ومعنوی ہر اعتبار سے تعاون کرتی ہیں،اور یہ لوگ مسلمانوںپر اپنی من مانی کی شریعت کو ٹھونسنے کی کوشش کرتےہیں۔

ناموری اور سستی شہرت کے بھوکوں اور خواہشات کے غلاموں نے متنازعہ مسائل کو تقریری یا تحریری صورت میں ہدف بناکر لوگوں کو حزبیت میں تقسیم کردیا،جس کی وجہ سے کئی ایک نئی جماعتیں وجود میں آجاتی ہیں،جن کاکام صرف تنقید کے سواکچھ نہیں ہوتا۔

 

انہی لوگوں کے بارے میں مولانا الطاف حسین حالی رحمہ اللہ نے کہاہے:

بڑھے جس سے نفرت وہ تقریر کرنی

جگر جس سے شق ہوں وہ تحریر کرنی

گنہ گار بندوں  کی  تحقیر  کرنی

مسلمان بھائی  کی  تکفیر  کرنی[18]

حزبیت کے فروغ میں ’’ جہالت‘‘ کابھی نمایاں کردارہے،لوگوں کی کم علمی اور جہالت کاناجائز فائدہ اٹھاکر انہیں اپنے مذموم مقاصد کےلیے استعمال کیاجاتاہے،چرب زبانی کی وجہ سےجاہل عوام انہیں عالم سمجھ کر ان سے راہنمائی لیتے ہیں ،خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو بھی گمراہ کردیتے ہیں جیساکہ اس حدیث سے ایسے لوگوں کاکردار واضح ہوتاہے:

’’إن اللہ لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعہ من العباد ولکن يقبض العلم بقبض العلماءحتی إذا لم يبق عالما اتخذ الناس رءوسا جہالا فسئلوا فأفتوا بغير علم فضلوا وأضلوا‘[19]

’’اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے چھین کر نہیں اٹھائے گا بلکہ علم کو علماء کےاٹھالینے کےساتھ اٹھا لے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے پس ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے پس وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔‘‘

ایسے لوگ حصول علم کےلیےدرست ذرائع استعمال نہیں کرتے، یاتو نااہل قسم کے لوگوں یا غیر منہجی لوگوں کو اپنا معلم بناتے ہیں ،ان کے زہریلے گندے افکار کو شرعی علم سمجھ کر حاصل کرتے ہیں،جبکہ ان لوگوں کا مبلغِ علم سوائے گمراہی کے کچھ نہیں ہوتا۔

راسخین فی العلم علماء کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،اور اپنے آپ کو ان سے بڑا عالم باور کراتے   ہیں،حزبیوں (خصوصاًان میں وہ لوگ جن کامنہج تکفیر والاہے)کی کتب کامطالعہ کیاجائے تویہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ انہوں نےعلمائے ربانیین کے خلاف کس قسم کی غلیظ زبان استعمال کی ہے۔

اور یہ وبا ہمارے معاشرے میں تیزی سے پھیلتی جارہی ہے،چارپانچ کتابوں کورٹنے اور انٹر نیٹ کی دنیا سے علم حاصل کرنے والاخود کو بڑاعالم سمجھتا ہے،اور فتوی جیسے اہم  اور نازک منصب کو اپنے ہاتھ میں لے کر لوگوں پر خوب گولہ باری کرتاہے،اہل علم کی اہانت کرتاہے،جو اس ’’نام نہادمفتی‘‘ کی رائے سے الگ کوئی رائے رکھتاہےتو اسےخوب ہدف تنقیدبنایاجاتاہے،میڈیائی علم اور وسائل  سے حاصل شدہ مواد کی بنیادپر فتوی بازی کا سلسلہ جاری ہے جس کےنتیجے میںگمراہی اور حزبیت جنم لےرہی ہے۔

جبکہ سلف صالحین فتوی کے معاملہ میں نہایت محتاط تھے،ان کے احتیاط کایہ عالم تھاکہ فتوی کانام سنتےہی چہرے کارنگ فق ہوجاتاتھا۔

جلیل القدرتابعی عبدالرحمن بن ابی لیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’أدرکت عشرین ومائۃ من أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما منھم رجل یسأل عن شیء إلاودّ أن أخاہ کفاہ۔۔۔۔۔ یسأل أحدھم عن المسألۃ فیردھاإلیٰ ھذا وھذاإلیٰ ھذا حتیٰ ترجع إلیٰ الأول‘‘[20]

’’میں نے ایک سوبیس صحابہ کوپایا ان میں سے کسی سے کسی مسئلہ کے بارے میں سوال کیاجاتاتووہ یہی چاہتاکہ اس بارے میں اس کاجواب اس کابھائی دے،اورکبھی ان سے کوئی سوال ہوتا تووہ اپنے بھائی کی طرف اشارہ کرتا اوروہ تیسرے کی طرف اشارہ کرتایہاں تک کہ وہ سوال پہلے ساتھی کی طرف لوٹ آتا۔‘‘

آج کل کے یہ نام نہاد مفتیان کرام جو بات بات پر فتوی تیارکیے بیٹھے ہوتے ہیں انہیںنہ دین میں تفقہ ہوتاہے اور نہ اللہ کاڈر اورخوف ان کے اس رویے پر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تبصرہ   کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’إن الذی یفتي الناس فی کل مایسألونہ لمجنون[21]

’’جوشخص ہرپوچھے جانےوالے سوال کاجواب دے وہ پاگل ہے۔‘‘

اور امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ ایسے لوگوں کاتجزیہ بایں الفاظ کرتے ہیں:

’’أجرؤ الناس علی الفتویٰ أقلھم علماً[22]

’’فتویٰ دینے میں زیادہ جرأت مندوہ شخص ہوتا ہےجوعلمی طورپرنکمّاہو۔‘‘

دین میں بے جا تشدد حزبیت کو جنم دینے کا ایک سبب ہے،ہمارے سامنے کی کئی ایک زندہ مثالیں بعض جماعتوں کی شکل میں موجودہیں جن کے موجدین نے صرف کسی چھوٹے سے مسئلے میں بےجا تشدداختیارکرکے اپنی الگ جماعت کی بنیاد کھڑی کردی اور امت کے مسلمانوں کو حزبیت میں بانٹ دیا اور صرف اسی پر بس نہیں کیا بلکہ دو قدم آگے بڑھ کر ان لوگوں پر کفر کا لیبل چسپاں کردیا جو ان کے نظریے سے متفق نہ تھے۔حالانکہ دین اسلام نے بےجاتشدد سے سختی کے ساتھ منع کیاہے:

’’ بشرو ولاتنفروا یسروا ولاتعسروا[23]

’’ بشارتیں دو، نفرتیں نہ پھلاؤ،آسانیاں پیدا کرو، تنگیاں نہ پیدا کرو۔‘‘

حزبیت کو فروغ دینے میں ’’ عصبیت‘‘ کابھی بھرپور کردار ہے،اس پر وعید کےحوالے سےچند آثارسےواضح ہواکہ ہمارےپیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسے گندگی قراردیاہے،اس گند کو کچھ لوگوں نے اپنے سینےسے چمٹاکررکھاہواہے ،اس صف میں بعض ’’ اصحاب جبہ ودستار ‘‘ بھی نظر آتے ہیں فیاللعجب!

ان امور سے واضح ہواکہ حزبیت کتنی بری چیزہے اس سے بچنانہایت ضروری ہےخصوصا

 نوجوانوں کو پرفتن دور میں اس سے دور رہناچاہیے کیونکہ ایسے بہت سے لوگ یاجماعتیں موجودہیں جو دین کا نام لے کر اس کی آڑ میں ان کے جذبات کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کےلیے استعمال کرتےہیں،اور پھر بالآخر معاملہ گمراہی وبربادی پر جاکر ختم ہوتاہے۔

حزبیت سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟

اب ان اسباب کوبیان کیاجاتاہے کہ جن کو اختیار کرنےسے ہم اپنے آپ کو اس لعنت سے محفوظ رکھ سکتےہیں:

(1)  حزبیت سے بچنے کےلیے ہر صاحب ایمان شخص پر لازم ہے کہ وہ کتاب وسنت سے اپناتعلق پختہ اور مضبوط کرےکیونکہ یہ وہ اصل اصیل ہے جس کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتوانسان ہر قسم کےفتنوں سے محفوط ہوجاتاہے،اللہ پاک کا فرمان ہے:

[  وَمَنْ يَّعْتَصِمْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ھُدِيَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَـقِيْمٍ     ١٠١؁ۧ ] [سورہ آل عمران:101]

                اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشادگرامی ہے:

’’ ترکت فیکم أمرین لن تضلوا ماتمسکتم بہما کتاب اللہ وسنۃ رسولہ‘‘[24]

’’ میں تم میں دوچیزیںچھوڑے جارہاہوں جب تک مضبوطی سے تھامے رکھوگے توگمراہ نہیں ہوگے ،ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری سنت‘‘۔

(2)   صحابہ کرام رضوان علیھم اجمعین اور تابعین کرام و سلف صالحین کے منہج کواختیار کرنا اور اس پر تادم حیات قائم رہنا،یہ بھی انسان کو فتنوں سے دور رکھتاہے،اور اللہ تعالی نے اسے’’ سبیل المؤمنین‘‘ سے تعبیر کیاہے،اس سے بھٹک جانے والے کو گمراہ قراردیاہے۔[سورہ نساء:115]

(3)  دینی علوم کے حصول کےلیےصحیح منہج کےحامل مربی علماکے سامنے زانوئے تلمذ بچھانا:منہج سلف کے حامل علما کی صحبت اور ان کی مجالس علمیہ سے استفادہ انسان کو فتنوں سے محفوظ رکھتا ہے،لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کو علما سے متعلق نصیحت کرتےہوئے کہا

 

’’يا بني جالس العلماء وزاحمہم برکبتيک فإن اللہ يحيي القلوب بنور الحکمۃ کما يحيي الأرض الميتۃ بوابل السماء۔‘[25]

’’اے میرے پیارے بیٹے!علماکی صحبت کو پابندی کے ساتھ اختیار کرو،ان کی مصاحبت سے اللہ پاک مردہ دلوں کو اس طرح زندہ کرتاہے جس طرح وہ موسلادھار بارش سے مردہ زمین کو زندگی بخشتاہے۔‘‘

(4)  علماکو طعن وتشنیع کا نشانہ نہ بنائیں ان سے سرزد ہونے والی غلطیوں کو برسربازر نہ اچھالیں،بلکہ خلوت میں انہیں احسن طریقے سے آگاہ کرکے ان کی اصلاح کی کوشش کریں،امام شافعی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

’’من وعظ أخاہ سرا فقد نصحہ وزانہ ومن نصح علانيۃ فقد فضحہ وخانہ[26]

’’جس نے اپنے بھائی کو علیحدگی میں سمجھایا تو اس نے اپنے بھائی کی خیر خواہی کی، اس کو زینت بخشی، اور جس نے سر عام سمجھایا تو اس نے اپنے بھائی کورُسواکیا اور اس کے ساتھ خیانت کی۔‘‘

یہ علما انبیاء کے وارث ہیں ،اور اللہ تعالی کے اولیاء میں سے ہیں اورایک حدیث قدسی میں ہے:

’’ من عادی لی ولیا فقد آذنتہ بالحرب‘‘[27]

’’جوبھی میرے کسی دوست سے دشمنی رکھتاہے میں اس سے اعلانِ جنگ کرتاہوں‘‘۔

اورحافظ ابن حجر رحمہ اللہ ’’ولی‘‘ کی وضاحت ان الفاظ میں کرتے ہیں:

’’المراد بولی اللہ العالم باللہ المواظب علی طاعتہ‘[28]

 

’’ولی اللہ سے مراد اللہ کو پہچاننے والا ، اس کی اطاعت میں ہمیشگی کرنے والا عالم ہے۔‘‘

سيدنا عبد اللہ بن المبارک رحمہ اللہ فرماتےہیں:

’’من استخف بالعلماء ذھبت آخرتہ، ومن استخف بالأمراء ذھبت دنياہ، ومن استخف بالإخوان ذھبت مروءتہ‘[29]

’’جو علماء کو حقير سمجھے اس کی آخرت ضائع ہوگئی ، جو امراء کو حقیر سمجھے اس کی دنیا برباد ہوگئی، اور جو اپنے دوست واحباب کو حقارت سے دیکھے اس کی مروت کا جنازہ نکل گیا۔ ‘‘

امام سہل بن عبداللہ التستری فرماتے ہیں:

’لا يزال الناس بخير ما عظموا السلطان والعلماء، فإن عظموا ھذين: أصلح اللہ دنياھم وأخراھم،وإن استخفوابھذين:أفسدوادنياھم وأخراھم[30]

’’ لوگ اس وقت تک خیر پر رہیں گے جب تک وہ حکمرانوں اورعلماء کرام کی توقیر کرتے رہیں گے، جب وہ ان دونوں کی عزت کرتے ہیں تو اللہ تعالی ان کی دنیا اور آخرت سنوار دیتا ہے، اوراگر ان دونوں کی اہانت کرتے ہیں تو اللہ پاک ان کی دنیا وآخرت بگاڑ دیتا ہے۔‘‘

                آج کے ہمارے اس دور میں علماءپر خوب کیچڑ اچھالاجاتاہے۔ ایسےلوگوں کو ان نصوص  و آثارسے عبرت حاصل کرناچاہیے۔

(5)ہرقسم کی پارٹیوں سے خواہ ان کاتعلق سیاسی ہو یا مذہبی ان سے قطعی اجتناب کرناچاہیے،خصوصاوہ جماعتیں جو منہجِ حق سے کوسوں دورہیں ان کے قریب بھی نہ پھٹکے ، جو بھی ان کے چکروں میں پڑجاتاہے پھر اسے جان چھڑانامشکل ہوجاتاہے،ان سے کنارہ کشی میں ہی انسان کی عافیت وسلامتی ہے۔

(6) اپنےامراء وحکام کے ساتھ خیرخواہانہ پہلو اختیار کرے،ان کے خلاف خروج یاتنقید جیسے امور سے

 مکمل طور پر گریز کرے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

’’الدین النصیحۃ قلنالمن ؟قال للہ ولرسولہ ولکتابہ ولأئمۃ المسلمین وعامتھم‘‘[31]

’’دین خیرخواہی کانام ہے ہم نے عرض کیا کہ کس کے لیے؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اللہ کےلیے، اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کےلیے،اوراس کی کتاب کےلیے،اور مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے، اور عام لوگوں کےلیے‘‘۔

اس حدیث میں امراء وحکام کے ساتھ خیروبھلائی کاحکم دیاگیاہے،ان کی جائزامور میں اطاعت کرے حدیث میں ہےکہ ’’تسمع وتطيع للأمير وإن ضرب ظھرک وأخذ مالک فاسمع وأطع ‘‘[32]

’’اپنےحاکم کی اطاعت کرو اگر چہ وہ تجھے مارے اور مال چھینے پھر بھی اس کی اطاعت کرو۔‘‘

اللہ پاک سےیہی دعا والتجاہے کہ وہ ہمیں اور ہماری نوجوان نسل کو اس حزبیت جیسی لعنت سے محفوظ رکھے اور سلف صالحین کے منہج پر چلنے اور اس پر استقامت کی توفیق دے آمین۔

ویرحم اللہ عبدا قال آمینا

 



[1] فاضل مدینہ یونیورسٹی،ریسرچ فیلوالمدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی

[2] سنن ابن ماجہ حدیث نمبر:43،شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیاہے:سلسلہ صحیحہ1/610(حدیث:937)

[3] مسنداحمد:22029،شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن صحیح قراردیاہے،صحیح ترغیب وترہیب1/211،(427)۔

[4]  سنن نسائی 4020، شیخ البانی نے اسے صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔ صحیح ترغیب و ترہیب 2131

[5] مسنداحمد:22029،مسند احمد کے محققین نے اسے حسن لغیرہ قرار دیا ہے۔ مسند احمد358/36

[6] غارۃ الاشرطہ 1/13

[7]  صحیح بخاری:7458،صحیح مسلم:1904

[8]  صحیح بخاری:4907،صحیح مسلم:2584

[9] صحیح مسلم:1848

[10] مسنداحمد:21233،شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قراردیاہے،سلسلہ صحیحہ 1/537،حدیث:(269)۔

[11] ابوداود:4598،ابن ماجہ:3992،شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسےسلسلہ صحیحہ میں صحیح قرار دیاہے،حدیث:203,1492

[12] صحیح مسلم :1852

[13] صحیح بخاری:6495

[14] سنن ترمذی:2586،شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح لغیرہ قرار دیاہے،صحیح ترغیب وترہیب3/1018،حدیث: (2741)

[15] صحیح بخاری:3606،صحیح مسلم:1847

[16]  شرح عقیدہ اہل السنۃ والجماعۃ للامام اللا لکائی109/2۔

[17] کتاب الاعتصام1/37بحوالہ مسئلہ رؤیت ھلال اور بارہ اسلامی مہینے،صفحہ نمبر:61،از فضیلۃ الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ

[18] مسدس حالی:106

[19] صحيح بخاري حديث :100

[20]  سنن دارمی1\248:137،جامع بیان العلم وفضله2\274

[21] جامع بيان العلم وفضله: 2/276

[22] جامع بیان العلم وفضلہ: 2/49

[23] صحیح مسلم:1732

[24] مؤطاامام مالک:3338،شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس کوحسن قرار دیاہے،مشکوٰۃ المصابیح1/66،حدیث(186)

[25] الغنية فهرست شيوخ القاضي عياض47/1۔

[26] حلية الأولياء (9/140)، الآداب الشرعية لابن المفلح صـ358۔

[27] صحیح بخاري: 6502۔

[28] فتح الباري11/342

[29] سیراعلام النبلاء8/408

[30]  تفسیر قرطبی:5/260-261

[31] صحیح مسلم:55

[32] صحیح مسلم:1847

Read 264 times Last modified on پیر, 11 ستمبر 2017 14:22