بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
جمعرات, 11 فروری 2016 00:00

محبت اور ویلنٹائن ڈے دو متضاد پہلو

Written by  حافظ شبیر صدیق

محبت اور   ویلنٹائن ڈے دو متضاد پہلو

’’محبت‘‘ ایک ایسا لفظ ہے جو معاشرے میں بیشتر پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے۔ اسی طرح معاشرے میں ہر فرد اس کا متلاشی نظر آتا ہے اگرچہ ہر متلاشی کی سوچ اور محبت کے پیمانے جدا جدا ہوتے ہیں۔ جب ہم اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات چڑھتے سورج کے مانند واضح ہوتی ہے کہ اسلام محبت اور اخوت کا دین ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ تمام لوگ محبت، پیار اور اخوت کے ساتھ زندگی بسر کریں۔ مگر قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں محبت کو غلط رنگ دے دیا گیا ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا کہ ’’محبت‘‘ کے لفظ کو بدنام کر دیا گیا ہے۔ صورت حال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی سے حقیقی محبت کا اظہار کرنا چاہے تو وہ بھی تذبذب کا شکار رہتا ہے جبکہ اسلامی تعلیمات یہ ہیں کہ جس سے محبت ہو اس سے محبت کا اظہار بھی کیا جائے۔ (سنن أبي داود: 5124) اس تمام صورت حال کا سبب فقط اسلامی تعلیمات سے دوری ہے۔ اسلام نے محبت کی تمام راہیں متعین فرما دی ہیں۔ جہاں محبت کے لفظ کو بدنام کر دیا گیا ہے وہیں ہمارے معاشرے میں محبت کی بہت ساری غلط صورتیں بھی پیدا ہو چکی ہیں۔ اس کی ایک مثال عالمی سطح پر ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کا منایا جانا ہے۔ ہر سال 14 فروری کو یہ تہوار منایا جاتا ہے۔ ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے گفتگو کرنے سے پہلے ہم ’’محبت‘‘ کے بارے میں اسلامی نقطۂ نظر بیان کرتے ہیں، اس لیے کہ ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کی حقیقت کو جاننے کے لیے اسلام کا ’’معیارِ محبت‘‘ اور اس کی ترتیب کو جاننا ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ سے محبت

قرآن و حدیث میں محبت کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اس میں سر فہرست بندوں کا اپنے رب سے محبت کرنا ہے۔ تمام کائنات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے کو جزو ایمان قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت پر کسی اور شخص یا چیز کی محبت غالب نہیں آتی۔مومنوں کی اس محبت کو قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے:

{وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہِ}

’’اہل ایمان اللہ کے ساتھ محبت کرنے میں بہت سخت ہیں۔‘‘ (البقرۃ2:165)

رسول اللہ کا فرمان ہے:

ثَلَاثٌ مَّنْ کُنَّ فِیہِ وَجَدَ حَلَاوَۃَ الْإِیْمَانِ: أَنْ یَّکُونَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَحَبَّ إِلَیہِ مِمَّا سِوَاھُما…‘

’’تین چیزیں جس شخص میں پائی جائیں وہ ایمان کی مٹھاس محسوس کرنے لگتا ہے: ایک یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اسے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں…۔‘‘ (صحیح البخاري: 16)

یہ ایک طبعی امر ہے کہ آدمی کو جس سے محبت ہو وہ اس سے ملاقات کا مشتاق بھی بہت ہوتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرتا ہے۔ رسول اللہ نے اسی بات کو بیان فرمایا ہے:

مَنْ أَحَبَّ لِقَائَ اللّٰہِ أَحَبَّ اللّٰہُ لِقَائَ ہُ

’’جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کا خواہش مند ہوتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: 2683)

رسول اللہ سے محبت

سیدنا محمد رسول اللہ سے بھی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ ایک مسلمان کی کامیابی کا انحصار آپ کی محبت کو قرار دیا گیا ہے۔ تمام کائنات سے بڑھ کر آپ سے محبت کا ہونا لازم اور ضروری ہے۔ رسول اللہ کا فرمان ہے:

وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہٖ لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِِلَیہِ مِنْ وَّالِدِہِ وَوَلِدِہِ

’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس وقت تک کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کو اس کے ماں باپ اور اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔‘‘ (صحیح البخاري: 14)

ایک روایت میں ان الفاظ کا بھی اضافہ ہے:

’وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ

’’جب تک تمام لوگوں سے بڑھ کر ان کے نزدیک محبوب نہ ہو جاؤں۔‘‘ (صحیح البخاري: 15)

ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے قبولِ اسلام سے پہلے صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کی نبی سے محبت کا اعتراف یوں کیا تھا:

’مَارَأَیتُ فِی النَّاسِ أَحَداً یُحِبُّ اَحَدًا کَحُبِّ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ مُحَمَّداً

’’میں نے کسی کو کسی دوسرے سے ایسی محبت کرتے نہیں دیکھا جیسی محبت محمد () کے ساتھی اور شاگرد ان سے کرتے ہیں۔‘‘ (تاریخ الطبري: 216/2

صحابہ کرامرضی اللہ عنہم  سے محبت

صحابہ کرام سے محبت بھی ایمان کا حصہ ہے۔ قرآن و حدیث کی بہت ساری نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم

سے بغض و عناد رکھنا کفر و نفاق اور الحاد کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے ایمان کو مسلمانوں کے لیے آئیڈیل قرار دیا ہے۔ نبی نے بار ہا صحابہ کرام کو برا بھلا کہنے اور ان سے بغض رکھنے کی ممانعت فرمائی ہے، خصوصاً انصار صحابہ کے بارے میں آپ کا فرمان ہے:

أَلْاَنْصَارُ لَا یُحِبُّھُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا یُبْغِضُھُمْ إِلاَّ مُنَافِقٌ، فَمَنْ أَحَبَّھُمْ أَحَبَّہُ اللّٰہُ، وَمَنْ أَبْغَضَھُمْ أَبْغَضَہُ اللّٰہُ

’’مومن شخص ہی انصار سے محبت رکھتا ہے اور منافق ہی ان سے بغض رکھتا ہے۔ جو ان سے محبت رکھے گا اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا اللہ تعالیٰ اس سے بغض رکھے گا۔‘‘

(صحیح البخاري: 3783)

میاں بیوی کی آپس کی محبت

میاں بیوی کا آپس میں محبت کرنا شرعاً پسندیدہ اور مطلوب چیز ہے۔ دین اسلام اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ میاں بیوی آپس میں محبت کرنے کے بجائے غیروں سے محبت کی پینگیں بڑھاتے پھریں۔ شریعت یہ چاہتی ہے کہ میاں بیوی کا یہ پاکیزہ بندھن خوش حال زندگی کا باعث بنے، اسی لیے شریعت نے ان کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی بہت زیادہ تلقین کی ہے۔ ان حقوق میں سے ایک اہم حق ان کا آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کی آپس کی محبت کو قرآن میں بیان فرمایا ہے:

{وَ مِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا وَ جَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّ رَحْمَۃً اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ}

’’اور (یہ بھی) اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اوراس نے تمھارے درمیان محبت اوررحمت پیدا کردی۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے عظیم نشانیاں ہیں جو غوروفکر کرتے ہیں۔‘‘ (الروم30:21) رسول اللہ نے رفیقۂ حیات کے انتخاب کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا:

تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَاِنِّی مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ

’’تم اس عورت سے شادی کرو جو محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی ہو۔ میں تمھاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔‘‘

(سنن أبي داود: 2050)

والدین اور اولاد کی آپس میں محبت

والدین اور اولاد کے درمیان محبت کا ہونا ایک فطری چیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے اس محبت کے اللہ اور اس کے رسول کی محبت پر غالب ہونے کی صورت میں سخت وعید فرمائی ہے، اس لیے کہ محبت کا پہلا حق اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔ گو یا کہ والدین اور اولاد کے مابین محبت شرعی طور پر مطلوب ہے مگر اس وقت جب اسے ثانوی حیثیت دی جائے اور اس پر اللہ اور اس کے رسول سے محبت کو ترجیح حاصل ہو جیسا کہ بخاری کی مذکورہ بالا حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔

عام افراد کی آپس میں محبت

اسلام امن و امان، اخوت اور محبت کا دین ہے۔ تمام لوگ معاشرے میں امن و امان اور محبت کے ساتھ پر سکون زندگی گزاریں، یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کلامِ مقدس میں تمام مسلمانوں کو آپس میں بھائی قرار دیا ہے۔ گویا جس طرح سگے بھائیوں کے درمیان محبت ہوتی ہے اسی طرح تمام لوگوں سے محبت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ قرآن و حدیث میں مسلمانوں کے آپس میں محبت کرنے کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ کا فرمان ہے:

مَا أَحَبَّ عَبْدٌ عَبْدًا لِلّٰہِ إِلاَّ اَکْرَمَ رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ

’’جب کوئی بندہ کسی دوسرے سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے محبت رکھتا ہے تو حقیقت میں وہ اپنے پروردگار کی تکریم کرتا ہے۔‘‘ (مسند أحمد: 259/5) یہ محبت اسی صورت لائق تحسین ہے جب بغیر کسی لالچ اور طمع کے ہو۔

ویلنٹائن ڈے

عالمی سطح پر ’’یومِ محبت‘‘ کے طور پر ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کے نام سے منایا جانے والا یہ تہوار ہر سال پاکستان میں دیمک کی طرح پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ اس دن جو بھی جس کے ساتھ محبت کا دعوے دار ہے اسے پھولوں کا گل دستہ پیش کرتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ تہوار منانے والے ابھی تک اس بات کا فیصلہ نہیں کر پائے کہ یہ دن منانے کی وجہ کیاہے۔ اس حوالے سے مختلف روایات بیان کی جاتی ہیں۔ اگر ان روایات کو بھی بنیاد بنایا جائے تو ایک عقل مند اور باشعور انسان اس تہوار کو منانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ کوئی بھی باغیرت اور باحمیت شخص کبھی یہ گوارا نہیں کرے گا کہ کوئی راہ چلتا شخص اس کی بیٹی کو پھولوں کا گل دستہ پیش کرتا پھرے۔ اسی طرح کوئی بھی باحیا، با غیرت اور پاکدامن لڑکی کبھی یہ پسند نہیں کرے گی کہ اس کا کلاس فیلو، یونیورسٹی فیلو یا کوئی بھی راہ چلتا نوجوان اسے پھول پیش کرے اور محبت کی پینگیں بڑھائے۔

ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ اس دن کے حوالے سے مختلف روایات بیان کی جاتی ہیں جن میں سے کوئی مستند نہیں ہے، البتہ ایک خیالی داستان جو اس حوالے سے بہت مشہور ہو چکی ہے، اسے بطور مثال ذکر کرتے ہیں: تیسری صدی عیسوی میں روم میں ’’ ویلنٹائن ‘‘ نامی ایک پادری کو ایک راہبہ سے ’’عشق‘‘ ہو گیا۔ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کے لیے نکاح ممنوع تھا اور اب بھی ممنوع ہے۔ اس نے عشق کو انتہا تک پہنچانے کے لیے ایک ڈرامہ رچایا اور اپنی معشوقہ سے کہا: ’’مجھے خواب میں بتایا گیا ہے کہ اگر 14 فروری کو راہب اور راہبہ (بغیر نکاح کے) صنفی ملاپ کر لیں تو ان پر کوئی حد نہیں لگے گی۔‘‘ راہبہ اس کے چکر میں آ گئی اور دونوں ’’جوشِ عشق‘‘ میں ’’منہ کالا‘‘ کر بیٹھے۔ کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اڑانے پر انھیں قتل کر دیا گیا۔ اس پادری کا نام ’’ویلنٹائن‘‘ بتایا جاتا ہے جسے بعد میں ’’عشاق‘‘ کی طرف سے ’’شہیدِ محبت‘‘ کا لقب دیا گیا۔ اسی عاشق راہب ویلنٹائن کی یاد میں ہر سال 14 فروری کو ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ منایا جاتا ہے۔

یہ وہ داستان ہے جس کی بنیاد پر ایک جنونی گروہ مسلم معاشرے خصوصاً پاکستان میں بے حیائی کو فروغ دے رہا ہے۔ باعثِ شرم بات تو یہ ہے کہ اس عاشق راہب اور معشوقہ راہبہ کا جس مذہب سے تعلق تھا وہ اس تہوار کو اپنا ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں مگر مسلمان ہیں کہ بے حیائی کے اس کلچر کو دل و جاں سے قبول کیے ہوئے ہیں۔ باعثِ صد افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر چھایا ہوا ایک مخصوص گروہ ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کو یومِ تجدید محبت‘‘ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ماضی قریب تک ایسی ’’محبت‘‘ کو باعث عار سمجھا جاتا تھا مگر اب اسے باعث افتخار سمجھا جانے لگا ہے۔ ایک وقت تھا کہ اگر کسی کو عشق کی بیماری لگ جاتی تو وہ معاشرے میں اپنی عزت کو برقرار رکھنے کی خاطر اپنے اس مرض کو ظاہر نہیں کرتا تھا۔ مگر آج وطن عزیز میں صورت حال یہ بن چکی ہے کہ ہمارا میڈیا اس مرض کو ایک ’’مقدس شے‘‘ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ پاکستان میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ویلنٹائن جیسی واہیات تقریبات کو رواج دیا جا رہا ہے۔ اسلام کے نام پر بننے والی اس مملکت خداداد میں لادینیت اور جنسی بداعتدالیوں کو کس طرح تیزی سے پروان چڑھایا جا رہا ہے اس کا اندازا اس طرح کے حیا باختہ تہواروں سے باآسانی لگایا جا سکتا ہے۔ غیر مسلم این۔ جی۔ اوز کے تحت چلنے والے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں باقاعدہ طور پر اس بے ہودہ تہوار کو منایا جاتا ہے۔ یقینا ان سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے ہمارے ہی بچے، ہماری ہی بیٹیاں اور بہنیں ہوتی ہیں جن کو دنیاوی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ دین سے دور بھی لے جایا جا رہا ہے۔ گلی کوچوں، محلوں، بازاروں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لفنگے نوجوان ان با حیا اور شریف لڑکیوں کو پھول پیش کر کے چھیڑ خانی کرتے رہتے ہیں جو اپنے آپ کو مغربی تہذیب سے محفوظ رکھنا چاہتی ہیں۔ عفت و عصمت کی پیکر یہ لڑکیاں اس بداخلاقی کا جواب دینے کے بجائے عزت بچا کر وہاں سے بچ نکلنے ہی میں عافیت سمجھتی ہیں۔

فحاشی اور بے حیائی کے اس تہوار کو ’’یومِ محبت‘‘ قرار دیے جانے کے بجائے ’’یومِ اوباشی‘‘ قرار دیا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا، اس لیے کہ اس تہوار کا اصل مقصود مرد اور عورت کے درمیان ناجائز تعلقات کو فروغ دینا بلکہ تقدس عطا کرنا ہے۔ قدیم رومی کلچر کی روایات ہوں یا جدید مغرب کا اسلوبِ جنس پرستی، ان کا ہماری مذہبی تعلیمات تو ایک طرف، مشرقی کلچر سے بھی دور کا واسطہ نہیں ہے۔ مغرب میں ’’محبت‘‘ کا تصور و مفہوم یکسر مختلف ہے۔ جس جذبے کو وہاں محبت (LOVE) کا نام دیا جاتا ہے، وہ درحقیقت بوالہوسی اور خواہش پرستی ہے۔ اس معاشرے میں عشق اور فسق میں کوئی فرق روا نہیں رکھا جاتا۔ مرد و زن کی باہمی رضا مندی، ہر طرح کی شہوت رانی اور زنا کاری وہاں ’’محبت‘‘ ہی کہلاتی ہے۔ اسی طرح ’’ویلنٹائے ڈے‘‘ منانے والوں کی جانب سے ’’محبت‘‘ کا لفظ جنسی بے راہ روی کے لیے بطورِ استعارہ استعمال ہوتا ہے۔ گویا ’’حقیقی محبت‘‘ اور ’’ویلنٹائن ڈے ‘‘ دو متضاد چیزیں ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ’’حقیقی محبت‘‘ دین اسلام کا حصہ اور ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ جنسی بے راہ روی کا دوسرا نام ہے۔

قدیم روم میں اس تہوار کو ’’خاوند کے شکار‘‘ کا دن سمجھا جاتا تھا، یعنی عورت خود ہی بازار میں نکلتی اور اپنے ہونے والے شوہر کا خود ہی انتخاب کرتی۔ اسلام اس بے حمیتی کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ اسلامی معاشرے میں عورت کی شادی کی ذمہ داری اس کے ولی کی ہے۔ ولی کی اجازت کے بغیر عورت کے اس نکاح کو شریعت نے زنا قرار دیا ہے۔ اسی طرح اسلام میں میاں بیوی کے درمیان محبت کے اظہار پر کوئی بندش نہیں ہے لیکن اس کے لیے ایک ایسے دن کا انتخاب کرنا جو مغرب کی جنس پرست تہذیب کا علامتی اظہار بن چکا ہے، کسی بھی اعتبار سے مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ نہایت افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارے ہاں نوجوان نسل کو ان خرافات کے مضمرات سے آگاہ نہیں کیا جا رہا۔ انھیں اس بات سے مطلع نہیں کیا جا رہا کہ جس بات کو وہ ’’محبت‘‘ سمجھ کر منا رہے ہیں، وہ در حقیقت شہوت رانی اور جنسی بے راہ روی کی علامت ہے۔ اس کا ان کی سماجی روایات اور اخلاقی قدروں سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔

بے حیائی پر مبنی یہ تہوار جس تیزی کے ساتھ پاکستان میں پھیلتا جا رہا ہے وہ بہت تشویشناک ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق صرف لاہور کے اندر گزشتہ سال 14 فروری کو کروڑوں روپے کے پھول فروخت ہوئے۔ اس قدر بڑی مقدار میں پھول بوالہوس عُشّاق کی طرف سے ایک دوسرے کو پیش کرنے کے لیے خریدے گئے۔ اس تمام صورتِ حال کا ذمہ دار ہمارا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ہے۔ کیا ہمارے ذرائع ابلاغ کا یہ فرض نہیں ہے کہ وہ محض خبروں کی سنسنی خیز اشاعت کے ساتھ ساتھ ایسے مسائل میں پاکستانی قوم کی رہنمائی کا فریضہ بھی ادا کریں؟ ہر سال ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کے نام سے بے شمار قیمتی اشتہار شائع کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح الیکٹرانک میڈیا پر ’’ ویلنٹائن ڈے‘‘ کے حوالے سے پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔ اوباش نوجوانوں کی طرف سے شریف لڑکیوں کے نام پیغام نشر کیے جاتے ہیں، اسی طرح کچھ ’’روشن خیال‘‘ نوجوان لڑکیاں بھی اپنے عاشقوں کے نام پیغام نشر کرواتی ہیں۔ گویا کہ جس طرح ہمارا میڈیا بے حیائی کے اس کلچر کو کوریج دیتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ بے حیائی کے اس پروگرام کو پھیلانے میں مغربی ممالک کی طرف سے میڈیا کو خاص ہدف سونپا گیا ہے۔

بے حیائی کو فروغ دینے میں موبائل فون کمپنیاں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ ایسے موقع پر ان کمپنیوں کی طرف سے بھی عجیب و غریب قسم کے ایس۔ ایم۔ ایس بھیجے جاتے ہیں۔ ٹاک میسجز اور کالر ٹونز کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔

روزنامہ جنگ لاہور: 15 فروری 2012ء کے مطابق گزشتہ سال سیاستدانوں میں سے بھی اکثریت نے بے غیرتی کے اس کلچر میں پورا پورا حصہ لیا۔ انھوں نے بھی خوب جوش و خروش سے ویلنٹائن ڈے منایا اور اس بات کا ثبوت دیا کہ ہمارا تعلق ’’محمد رسول اللہ ‘‘ سے نہیں بلکہ جنسی بے راہ روی کے علمبردار مسیحی راہب ’’ویلنٹائن‘‘ سے ہے۔ صاحب اقتدار طبقے کی اس روش پر جس قدر افسوس کیا جائے کم ہے۔

بہر حال اس حوالے سے کوئی جامع حکمت عملی تشکیل دی جانی چاہیے۔ مغرب سے گہری وابستگی اور قربت کے طوفان کو نہ روکا گیا تو مغربی فضولیات ہماری معاشرتی اقدار کو بہا لے جائیں گی۔ انگریزی تہذیب کے ایام ہماری نئی نسل کے کردار کو مسخ کر دیں گے۔ چونکہ مغرب اسلام سے بہت خائف ہے، اسی لیے وہ ہمارے معاشرے میں ایسے تہواروں کو فروغ دے رہا ہے۔ اہل مغرب کی یہ کوشش ہے کہ اسلامی معاشرے میں فحاشی و عریانی کو عام کر کے مغربی ممالک کی طرح یہاں بھی عورت کو ’’تماشا‘‘ بنا دیا جائے۔

حکومت وقت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو لہو و لعب اور جنسی بے راہ روی سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ ویلنٹائن ڈے کے موقع پر گلاب کے پھول اور کارڈز کی خرید و فروخت پر پابند عائد کرے۔ اخبارات کے مالکان کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے کسی قسم کے اشتہارات اور پیغامات شائع نہیں کریں گے۔ ویلنٹائن ڈے اور اس جیسی بے ہودہ سرگرمیاں جو اسلامی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیں، ان کے متعلق حکومت کو خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے بھی گزارش ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں۔ نئی نسل کی جنسی آوارگی کی طرف رہنمائی کرنے کے بجائے ان کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔ انھیں اس بات سے آگاہ کریں کہ جس راہ پر تم چل نکلے ہو اس کے نتائج بہت خطرناک ہیں۔

تعلیمی اداروں کے منتظمین اور اساتذہ کرام کے نام بھی یہ پیغام ہے کہ تعلیم کے حصول کے لیے آنے والے بچے آپ کے پاس امانت ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو کسی سکول، کالج یا یونیورسٹی بھیجتے ہیں تو ان کا مقصود ان کو اچھی تعلیم دلوانا ہوتا ہے نہ کہ ان کے اخلاق کا جنازہ نکلوانا۔ اب آپ کا یہ فرض بنتا ہے کہ سکول، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھنے والی نئی نسل کی اخلاقی تربیت کریں۔ انھیں حیا باختہ تہواروں کے بارے میں آگاہ کریں کہ ہمارے مذہب اور ہماری معاشرتی اقدار کا تہذیب ہے جو ہمارے صاف ستھرے چہرے کو مسخ کرنا چاہتی ہے۔

حکومت، میڈیا اور تعلیمی اداروں کے منتظمین و اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں۔ انھیں ان بے ہودہ تہواروں سے لا تعلق رہنے کی تلقین کریں اور ان دنوں ان کی خصوصی نگرانی بھی کریں کہ کہیں وہ شیطان کے جال میں پھنس کر کوئی غلط قدم نہ اٹھا بیٹھیں۔

یاد رکھیں! اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا اور تمام ذمہ داران اخلاقیات کے دشمن ان تہواروں سے صرفِ نظر کرتے رہے تو آج مغرب جس صورتِ حال سے دو چار ہے وطنِ عزیز میں اس کے پیدا ہونے کو کوئی نہیں روک سکتا۔ یورپ حیا سے عاری ان تہواروں کے نتائج دیکھ چکا ہے۔ اگر ان حیا سوز تہواروں کے آگے بند نہ باندھا گیا تو ہم بھی اس عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔ یورپ میں بھی یہ سب کچھ ایک سال میں نہیں ہو گیا تھا، ان کے ہاں بھی خاندانی نظام کی تباہی اور جنسی انقلاب آہستہ آہستہ وقوع پذیر ہوا تھا۔ یورپ کے دانشور خاندانی نظام کی بحالی کی دہائی دے رہے ہیں مگر اب پانی ان کے سروں سے گزر چکا ہے۔ ہمارے ہاں اس وقت محض ایک قلیل تعداد اس خطرناک اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوئی ہے، ہماری آبادی کی اکثریت اس آگ کی تپش سے اب تک محفوظ ہے۔ ابھی وقت ہے کہ آگے بڑھ کر چند جھاڑیوں کو لگی آگ کو بجھا دیا جائے، ورنہ یہ آگ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی…!! !

Read 2447 times Last modified on جمعرات, 11 فروری 2016 13:56