بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
پیر, 13 فروری 2012 23:00

محبت کا تہوار منانا

Written by  فضیلۃ الشیخ صالح منجد

 

‘‘ کیا یہ واقعی محبت کا تہوار ہے ؟؟؟ ‘‘

محبت ، ویلنٹائن، یہود ونصاریٰ کی مشابہت،اسلامی وغیر اسلامی تہوار،وغیر ہ سے متعلّق  ایک ایسی تحریر، جس  میں مروّجہ غیر اسلامی و غیر اخلاقی  تہوار و رسومات کے نقصانات ،کتاب  و سنت ،اقوال ِسلف صالحین، اجماع ِ امت ،فتاویٰ کبار اہلِ علم سمیت،خود یورپی ومغربی اداروں کی تحقیقات کی روشنی میں بیان کیے گئے ہیں، ایک منفرد  اور انتہائی مُدلّل و جامع تحریر.


سب تعریفات اللہ رب العالمین کےلیے ہیں جوسب کا پرروردگار ہے ، اورہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پردرود وسلام ہوں اوران کی آل اورسب صحابہ کرام پراللہ تعالی کی رحمتوں کا نزول ہو۔

اما بعد :

اللہ سبحانہ وتعالی نے ہمارے لیےاسلام کودین اختیار کیا ہے اوروہ کسی سے بھی اس دین کے علاوہ کوئي اوردین قبول نہيں کرے گا جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا ہے :

{ اورجوکوئي دین اسلام کے علاوہ کوئي اوردین چاہے گا اس سے اس کا وہ دین قبول نہيں کیا جائےگا اوروہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا } آل عمران ( 85 ) ۔

اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں یہ بتایا ہے کہ ان کی امت میں سے کچھ لوگ ایسےہونگے جواللہ تعالی کے دشمنوں کے بعض شعائر اوردینی علامات وعادات میں ان کی پیروی اوراتباع کرینگے جیسا کہ مندرجہ ذيل حدیث میں اس کا ذکر ملتا ہے :

ابوسعیدخدری رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی بالشت بربالشت اورہاتھ برہاتھ پیروی کروگے ، حتی کہ اگر وہ گوہ کے بل میں داخل ہوئے توتم بھی ان کی پیروی میں اس میں داخل ہوگے ، ہم نے کہا اے اللہ تعالی کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم : کیا یھودیوں اورعیسائیوں کی ؟ تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اورکون ؟ ! ) امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے اسے صحیح بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لتتبعن سنن من کان قبلکم میں روایت کیا ہے دیکھیں صحیح بخاری ( 8 / 151 ) ۔

اورامام مسلم نے کتاب العلم باب اتباع سنن الیھود والنصاری میں ذکر کیا ہے دیکھیں صحیح مسلم ( 4 / 2054 ) ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوکچھ بتایا اس کا وقوع ہوچکا ہے اور ان آخری ایام میں مسلمان ممالک کے اندریہ پھیل چکا ہے کہ بہت سے مسلمان اللہ تعالی کے دشمنوں کی بہت ساری عادات اورسلوک اوران کی علامات میں دشمنوں کی پیروی واتباع کرنے لگے ہیں اورانہوں نے ان کے دینی شعائر کی تقلید کرنا شروع کردی ہے اوران کےتہوارمیں میں شرکت اورانہيں منانا شروع کردیا ہے ۔

ذرا‏ئع ابلاغ اورمیڈیا کےپھیل جانے سے اس میں اوربھی زيادہ برائي پیدا ہوگئی ہے کہ یہ ذرائع ابلاغ سب معاشروں میں کفار کی عادات کوبڑے تزک واحتشام سے نشر کرتے ہیں اوراسے اپنے ممالک سے فضائی چینلوں اورانٹرنیٹ کے ذریعہ اسلامی ممالک میں براہ راست موسیقی اورگندی تصاویر اوررقص وسرور کی محافل سمیت نقل کرتے ہیں جس کی بنا پربہت سے مسلمان لوگ بھی اس کے دھوکہ میں آنا شروع ہوچکے ہيں ۔

ان چندآخری برسوں میں ایک اورچیز بہت سے مسلمان نوجوان لڑکے لڑکیوں کے مابین پھیل چکی ہے جس میں کوئي خیروبھلائي کی چيز نہیں بلکہ وہ عیسائیوں کی تقلید میں یوم محبت کی شکل میں ظاہر ہوئی ہے اوراسے ویلنٹائن ڈے کا تہوار منانا شروع کردیا ہے ۔

جس کی وجہ سے اہل علم اوردعوت وتبلیغ کرنے والوں پرضروری ہوگيا ہے کہ وہ اس کے بارہ میں لوگوں کواللہ تعالی کی شریعت کا حکم بتائيں اوربیان کریں جس میں اللہ تعالی اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورمسلمان حکمرانوں اورعام مسلمانوں کی خیرخواہی ہے تا کہ مسلمان شخص اپنے معاملات میں واضح دلیل پر ہو تا کہ وہ کسی ایسی چيز میں نہ پڑ جائے جواس کے عقیدہ کوخراب کرکے رکھ دے کیونکہ اللہ تعالی کی طرف سے مسلمان پریہ عقیدہ صحیحہ اورسلیم ایک انعام ہے ۔

اس تہوار اوردن کی اصل کے بارہ میں یہ مختصرسانوٹ پیش کرتے ہیں کہ یہ کب شروع ہوا اوراس کی حقیقت کیا ہے اوراس سے کیا مقصود ہے اورمسلمان شخص کواس کے بارہ میں کیا کرنا واجب ہے ۔

ویلنٹائن ڈے ( یوم محبت ) کا قصہ :

یوم محبت رومن بت پرستوں کے تہواروں میں سے ایک تہوار شمار کیا جاتاہے جب کہ رومیوں کے ہاں بت پرستی سترہ صدیوں سےبھی زيادہ پرمحیط ہے جوکہ محبت کے الہ کے بارہ میں رومی بت پرستی کی تعبیرہے ۔

اس بت پرستی کے تہوار کے بارہ میں کئي قسم کے قصہ رومیوں اوران کے وارث عیسائیوں کے ہاں معروف ہیں ، ان میں سب سے زيادہ مشہور قصہ یہ ہے کہ :

رومیوں کا عقیدہ تھا کہ روم شہرکے مؤسس روملیوس کوایک دن مادہ بھيڑیے نے دودھ پلایا جس کی وجہ سے اسے قوت فکری حلم وبردباری حاصل ہوئی ۔

لہٰذا رومی لوگ اس حادثہ کی وجہ سے ہربرس فروری کے وسط میں بہت بڑا تہوار منایا کرتے تھے اوراس میں ایک علامت یہ بھی تھی کہ وہ کتا اوربکری ذبح کرتے ، اورمضبوط اورگٹھے ہوئے عضلات والے دونوجوان اپنے جسم پرکتے اوربکری کے خون کا لیپ کرتے اورپھر اس خون کودودھ کے ساتھ دھوتے اوراس کے بعد ایک بہت بڑا قافلہ چلتا جس کےآگے وہ نوجوان ہوتے اوریہ قافلہ گلی کوچوں اورسڑکوں پرچلتا ، ان دونوجوانوں کے ہاتھ میں چمڑے کے دوٹکڑے ہوتے جوبھی انہيں ملتا اسے وہ ٹکڑے مارتے ، اوررومی عورتیں بڑی خوشی سے یہ کوڑے کھاتیں کیونکہ ان کا یہ اعتقاد تھا کہ اس سے شفاملتی ہے اوربانجھ پن ختم ہوجاتا ہے ۔

اس تہوار سے سینٹ ویلنٹائن کاتعلق :

سینٹ ویلنٹائن نصرانی کنیسہ کے دوقدیم قربان ہونے والے اشخاص کانام ہے ، کہا جاتا ہے کہ یہ دوشخص تھے ، اورایک قول میں ہے بلکہ اس نام کا ایک ہی شخص تھاجوشہنشاہ کلاڈیس کی تعذیب کی تاب نہ لاتے ہوئے 296میلادی میں ہلاک ہوگیا ، اورجس جگہ یہ ہلاک ہوا اسی جگہ 350میلادی میں بطوریادگارایک کنیسہ تیارکیا گیا ۔

جب رومیوں نے عیسائیت قبول کی تووہ اپنے اس سابقہ تہوار یوم محبت کومناتے رہے لیکن انہوں نے اسے بت پرستی کےمفہوم سے نکال کرمحبت الہی میں تبدیل کرلیا دوسرے مفہوم محبت کے شھداء میں بدل لیا اورانہوں نے اسے اپنے گمان کے مطابق محبت وسلامتی کی دعوت دینے والےسینٹ ویلنٹائن کے نام کردیا جسے وہ اس راستے میں شھید گردانتے ہیں ، اوراسے عاشقوں کی عید اورتہوار کا نام بھی دیا جاتا ہے اورسینٹ ویلنٹائن کوعاشقوں کا شفارشی اوران کا نگران شمار کرتے ہیں ۔

ان کے باطل اعتقادات اوراس دن کی مشہور رسم یہ تھی کہ نوجوان اور شادی کی عمرمیں پہنچنے والی لڑکیوں کے نام کاغذ کےٹکڑے پرلکھ کرایک برتن میں ڈالے جاتے اوراسے ٹیبل پررکھ دیا جاتا اورشادی کی رغبت رکھنے والے نوجوان لڑکوں کودعوت دی جاتی کہ وہ اس میں سے ایک ایک پرچی نکالیں لہٰذا جس کا نام اس قرعہ میں نکل آتا وہ لڑکا اس لڑکی کی ایک برس تک خدمت کرتا اوروہ ایک دوسرے کے اخلاق کا تجربہ کرتے پھر بعد میں شادی کرلیتے یا پھر آئندہ برس اسی تہوار یوم محبت میں دوبارہ قرعہ نکالتے ۔

دین نصرانی کے عالموں نے اس رسم سے بہت برااثرلیا اوراسے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے اخلاق خراب کرنے کا سبب قرار دیا لہٰذا اٹلی جہاں پراسے بہت شہرت حاصل تھی ناجائز قرار دے دیا گيا ، پھر بعد میں اٹھارہ اورانیسویں صدی میں دوبارہ زندہ کیا گیا ، وہ اس طرح کہ کچھ یورپی ممالک میں کچھ بک ڈپوؤں پرایک کتاب ( ویلنٹائن کی کتاب کے نام سے ) کی فروخت شروع ہوئي جس میں عشق ومحبت کے اشعار ہیں ، جسے عاشق قسم کے لوگ اپنی محبوبہ کوخطوط میں لکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، اوراس میں عشق ومحبت کے خطوط لکھنے کے بارہ میں چندایک تجاویز بھی درج ہیں ۔

اس تہوارکا ایک سبب یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ :

جب رومیوں نے نصرانیت قبول کی اورعیسا‏ئیت کے ظہورکے بعد اس میں داخل ہوئے توتیسری صدی میلادی میں شہنشاہ کلاڈیس دوم نے اپنی فوج کے لوگوں پرشادی کرنے کی پابندی لگادی کیونکہ وہ بیویوں کی وجہ سے جنگوں میں نہيں جاتے تھے تواس نے یہ فیصلہ کیا ۔

لیکن سینٹ ولنٹائن نے اس فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے چوری چھپے فوجیوں کی شادی کروانے کا اہتمام کیا اورجب کلاڈیس کواس کا علم ہوا تواس نے سینٹ ویلنٹائن کوگرفتارکرکے جیل میں ڈال دیا اوراسے سزائے موت دے دی ، کہا جاتا ہے کہ قید کے دوران ہی سینٹ ویلنٹائن کوجیلر کی بیٹی سے محبت ہوگئی اورسب کچھ خفیہ ہوا کیونکہ پادریوں اورراہبوں پرعیسائیوں کےہاں شادی

کرنااورمحبت کے تعلقات قائم کرنا حرام ہيں، نصاری کےہاں اس کی سفارش کی گئي کہ نصرانیت پرقائم رہو شہنشاء نے اسے عیسائیت ترک کرکے رومی دین قبول کرنے کا کہا کہ اگر وہ عیسائیت ترک کردے تواسے معاف کردیا جائے گا اوروہ اسے اپنا داماد بنانے کے ساتھ اپنے مصاحبین میں شامل کرے گا ۔

لیکن ویلنٹائن نے اس سے انکار کردیا اورعیسائیت کوترجیح دی اوراسی پرقائم رہنے کا فیصلہ کیا توچودہ فروری 270 میلادی کے دن اورپندرہ فروری کی رات اسے پھانسی دے دی گئي ، تواس دن سے اسے قدیس یعنی پاکباز بشپ کا خطاب دے دیا گیا ۔

کتاب قصۃ الحضارۃ میں ہے کہ :

کنیسہ نے ایک ڈائری ترتیب دے رکھی ہے جس میں ہردن ایک مقدس اورپاکباز شخص کا تہوارمقرر کیا ہے ، اورانگلینڈ میں سینٹ ویلنٹائن کا تہوار موسم سرما کے آخر میں منایا جاتا تھا اورجب یہ دن آتا ہے توان کے کہنے کے مطابق جنگلوں میں پرندے بڑي گرمجوشی کے ساتھ آپس میں شادیاں کرتے ہيں ، اورنوجوان اپنی محبوبہ لڑکیوں کے گھروں کی دہلیزوں پرسرخ گلاب کے پھول رکھتے ہیں ۔ دیکھیں : قصۃ الحضارۃ تالیف ول ڈیورنٹ ( 15 - 23 ) ۔

اورپوپ نےسینٹ ویلنٹائن کی یوم وفات چودہ فروری 270 میلادی کویوم محبت قراردے دیا ، اوریہ پوپ کون ہے ؟ عیسائیوں کے سرداراوربڑے عالم جس کی بات حکم کا درجہ رکھے اسے عیسا‏ئی پوپ کا نام دیتے ہیں ، دیکھیں اس پاپائے اعظم نے کس طرح ان کے دین میں اس تہوار کوپیدا کیا اورمنانے کا حکم دیا ، کیا یہ ہمیں اللہ تعالی کا مندرجہ ذیل فرمان یاد نہیں دلاتا :

{ ان لوگوں نے اللہ تعالی کو چھوڑ کراپنے عالموں اوردرویشوں کورب بنالیا } التوبۃ ( 31 ) ۔

عدی بن حاتم رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتےہیں کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آيا تومیری گردن میں صلیب لٹک رہی تھی تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

اے عدی اس بت کواپنے آپ سے اتاردو ۔

عدی رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ سورۃ التوبۃ کی یہ آیت تلاوت فرمارہے تھے :

{ ان لوگوں نے اللہ تعالی کو چھوڑ کراپنے عالموں اوردرویشوں کورب بنالیا}

عدی رضي اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ان کی عبادت تونہیں کرتےتھے لیکن جب وہ اس کےلیے کسی چيز کوحلال کردیتے تووہ اسے حلال سمجھتے اورجب ان پرکوئي چيزحرام کردیتے تووہ اسے حرام کرلیتے تھے ۔ اسے امام ترمذی نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔

اس تہوار میں ان کے اہم ترین شعاروعلامات :

1 - خوشی وسرور کا اظہار جس طرح دوسرے اہم ترین تہواروں میں ان کی حالت ہوتی ہے ۔

2 - سرخ گلاب کے پھولوں کا تبادلہ ، اور وہ یہ کام بت پرستوں کی حب الہی اورنصاری کے ہاں عشق کی تعبیر میں کرتے ہیں ، اوراسی لیے اس کا نام بھی عاشقوں کا تہوار رکھا گیا ہے ۔

3 - اس کی خوشی میں کارڈوں کی تقسیم ، اوربعض کارڈوں میں کیوبڈ کی تصویر ہوتی ہے جوایک بچے کی خیالی تصویربنائي گئی ہے اس کے دوپرہیں اوراس نے تیرکمان اٹھارکھا ہے ، جسے رومی بت پرست قوم محبت کا الہ مانتے ہیں ، اللہ تعالی ان کے اس جھوٹ اورشرک سے بلندوبالا ہے ۔

4 - کارڈوں میں محبت وعشقیہ کلمات کا تبادلہ جواشعاریا نثریا چھوٹے چھوٹے جملوں کی شکل میں ہوتے ہیں ، اوربعض کارڈوں میں گندے قسم کے اقوال اورہنسانے والی تصویریں ہوتی ہيں ، اوراکثر طور پراس میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ ولنٹائینی بن جاؤ ، جوکہ بت پرستی کے مفہوم سے منتقل ہوکر نصرانی مفھوم کی تمثیل بنتی ہے ۔

5 - بہت سے نصرانی علاقوں میں دن کے وقت بھی محفلیں سجائي جاتی ہیں اوررات کوبھی عورتوں اورمردوں کا رقص وسرور ہوتا ہے ، اوربہت سے لوگ پھول ، چاکلیٹ کے پیکٹ وغیرہ بطورتحفہ محبت کرنے والوں اور، شوہروں اوردوست واحباب کوبھیجتے ہيں ۔

اوپر جوکچھ بھی اس تہوار کے بارہ میں قصے بیان ہوئے ہیںانہیں بغور دیکھنے سے

مندرجہ ذيل اشیاء واضح ہوتی ہیں :

اول :

یہ تہوار اصلارومی بت پرستوں کا عقیدہ ہے جسے وہ محبت کے الہ سے تعبیر کرتے ہیں اوراللہ تعالی کےعلاوہ اس کی عبادت کرتے ہیں ، لہٰذا جس نے بھی اس تہوارکومنایا وہ ایک شرکیہ تہوار منارہا اوربتوں کی تعظیم کررہا ہے ۔

اوراللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ یقین جانو جوکوئي بھی اللہ تعالی کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالی نے اس پرجنت حرام کردی ہے ، اوراس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے ، اورگنہگاروں کی مدد کرنے والا کوئي نہيں ہوگا } المآئدۃ ( 72 ) ۔

دوم :

رومیوں کے ہاں اس تہوار کی ابتداء قصے کہانیوں اورخرافات پرمشتمل ہے جسے عقل ہی تسلیم نہیں کرتی چہ جائیکہ اسے اللہ تعالی اوراس کے رسولوں پرایمان رکھنے والے مسلمان کی عقل تسلیم کرے ۔

توکیا عقل سلیم یہ تسلیم کرتی ہے کہ روم شہرکوآباد کرنے والے مؤسس کوکوئي مادہ بھڑیا دودھ پلائے اوراس سے اسے قوت اورعقلی بردباری حاصل ہو ؟ توجوکچھ اس قصے میں ہے وہ مسلمان شخص کےعقیدہ کے مخالف ہے کیونکہ قوت اورعقلی بردباری وحلم تواللہ خالق سبحانہ وتعالی ہے نہ کہ کسی بھیڑیے کا دودھ !!

اوراسی طرح یہ قصہ کہ ان کے بت ان سے برائي اورمصیبت کودورکرتے ہیں اوران کے جانوروں کوبھیڑیوں سے بچاتے ہیں ۔

سوم :

رومیوں کے ہاں اس تہوار کے بدصورت شعارمیں کتے اوربکری کوذبح کرکے کتے اوربکری کا خون دونوجوان لڑکوں پرلیپ اورپھر اسے دودھ کےساتھ دھونا ۔۔۔۔ الخ یہ ایسا قصہ ہے جس سے فطرت سلیمہ نفرت کرتی ہے اوراسے صحیح عقل قبول ہی نہیں کرتی ۔

چہارم :

اس تہوارسے بشپ ویلنٹائن کے مرتبط ہونےمیں کئي ایک مصادرنے شک کا اظہارکیا ہے اوراسے وہ صحیح شمارنہيں کرتے ، لہٰذا نصاری کے لیے اولی اوربہتریہی تھا کہ وہ اس بت پرستی تہوارکا انکار کرتے جسے بت پرست ہی مناتے ہیں ، توپھر ہم مسلمان کیسے اسے تسلیم کریں اورہمیں توعسیائیوں اوران سے پہلے بت پرستوں کی مخالفت کرنے کا حکم دیا گيا ہے ۔

پنجم :

کیتھولک فرقہ کے عیسا‏ئی دینی لوگوں نے اس تہوار کواٹلی میں بالکل منانے پرپاپندی لگا دی ہے کیونکہ اس میں گندے اخلاق کی اشاعت اورنوجوان لڑکے اورلڑکیوں کی عقلوں پربرا اثرپڑتا ہے ، توپھرمسلمانوں کے لیے بالاولی اسے اپنے آپ سے دورہٹانا ہوگا اوراس سے بچنے کے ساتھ ساتھ انہيں اس سلسلہ میں امربالمعروف اورنہی عن المنکر کا بھی کام کرنا ہوگا ۔

اورکوئی کہنے والا یہ کہہ سکتا ہے :

 

ہم مسلمان اس تہوارکوکیوں نہيں مناسکتے ؟ !

 

اس کا جواب کئی ایک وجوھات میں دیا جاسکتا ہے :

پہلی وجہ :

دین اسلام میں عیدیں اورتہوار محدود اورثابت شدہ ہیں ان سے زيادہ اوراس میں کمی نہيں کی جاسکتی ، اوراسی طرح یہ ہماری عبادات کی سختی بھی ہے یعنی یہ توقیفی ہے ( اورجس میں کمی وزيادتی نہيں ہوسکتی اوراسی طرح عمل کرنا ہوگا جس طرح ثابت ہے ) اسے ہمارے لیے اللہ تعالی اوراس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروع کیا ہے ۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

( عیدیں اورتہوار شرع اورمناھج اورمناسک میں سے ہیں جن کے بارہ میں اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ ہم نے ہرایک کے لیے طریقہ اورشریعت مقرر کی ہے }

اورایک دوسرے مقام پراس طرح فرمایا :

{ ہرقوم کے لیے ہم نے ایک طریقہ مقرر کیا ہے جس پروہ چلنے والے ہيں }

مثلا قبلہ ، نماز ، روزے ،لہٰذا ان کا عید اورباقی مناھج میں شریک ہونے میں کوئي فرق نہیں ، اس لیے کہ سارے تہوار میں موافقت کفرمیں موافقت ہے ، اوراس کے بعض فروعات میں موافقت کفرکی بعض شاخوں میں موافقت ہے ، بلکہ عیدیں اورتہوار ہی ایسی چيزہیں جن سے شریعتوں کی تمیز ہوتی ہے اورپہچانی جاتی ہیں اورشعائر سے بھی زيادہ ظاہر ہوتے ہیں ۔

لہٰذا ان تہواروں میں موافقت کرنا کفرکے خاص طریقے اورشعار کی موافقت ہے ، اوراس میں کوئي شک وشبہ نہيں کہ اس میں موافقت کرنے سے پوری شروط کے ساتھ کفرپر جاکرختم ہوسکتا ہے ، اوراس کی ابتداء میں کم از کم حالت یہ ہے کہ یہ معصیت وگناہ ہوگی ، اوراس کی جانب ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس فرمان میں اشارہ کیا ہے :

( یقینا ہر قوم کےلیے ایک عید اورتہوار ہے اوریہ ہماری عیدہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 952 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 892 ) ۔ دیکھیں : الاقتضاء ( 11 / 471 - 472 ) ۔

اوراس لیے کہ یوم محبت کا تعلق رومی دور سے متعلق ہے نہ کہ اسلامی دور سے تواس کا معنی یہ ہوا کہ یہ عیسائیوں کی خصوصیات میں سے ہے نہ کہ مسلمانوں کے ، بلکہ اسلام اورمسلمانوں کا اس میں کوئي حصہ اورتعلق بھی نہيں ہے ، توجب ہرقوم کےلیے عیداورتہوار ہے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا تھا : ( یقینا ہرقوم کے لیے عید ہے ) اسے بخاری اورمسلم نے روایت کیا ہے ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہرقوم کواس کے خصوصی تہوارکے ساتھ واجب کرتا ہے ،لہٰذاجب عیسائیوں کی علیحدہ اورخاص عید ہے اوریھودیوں کی خاص عید توجس طرح مسلمان ان کی شریعت میں شریک نہيں اسی طرح ان کی عید اورتہوار میں بھی شریک نہيں ہوسکتے اورنہ ہی ان کے قبلہ میں ۔

دوسری وجہ :

یوم محبت کا تہوار منانے میں بت پرست رومیوں اورپھر اہل کتاب عیسائيوں کے ساتھ مشابھت ہے کیونکہ انہوں نے اس میں رومیوں کی تقلید کی ہے اوریہ تہوار ان کے دین میں نہيں ، اورجب دین اسلام میں عیسائیوں سے کسی ایسی چيزمیں مشابھت سے ممانعت ہےجوہمارے دین اسلام میں نہیں بلکہ ان عیسائیوں کے حقیقی دین میں ہے ، توپھرایسی چيز جوانہوں نے ایجاد کرلی اوربت پرستوں کی تقلید کرنے لگے اس میں مشابھت اختیار کرنا کیسا ہوگا !!


کفار چاہے وہ بت پرست ہوں یا اہل کتاب ان سے عمومی مشابھت اختیارکرنا حرام ہے ، چاہے وہ مشابھت ان کی عبادات میں ہو – اوریہ بھی زيادہ خطرناک ہے – یا پھران کی عادات ورسم ورواج میں ، اس کی حرمت پرکتاب وسنت اوراجماع دلالت کرتا ہے :

 

1 - قرآن مجید سے کفارکی مشابھت کی حرمت کے دلائل :

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اورتم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا اوراختلاف کیا ، انہیں لوگوں کےلیے بہت بڑا عذاب ہوگا } آل عمران ( 105 ) ۔

 

2 - اورسنت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( جس نے بھی کسی قوم سے مشابھت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے ) مسند احمد ( 2 / 50 ) ، سنن ابوداود حدیث نمبر ( 4021 ) ۔

شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

( اس حدیث کی کم از کم حالت ان سے مشابھت کرنے کی تحریم کا تقاضا کرتی ہے ، اگرچہ حدیث کا ظاہرمشابھت اختیار کرنے والے کےکفرکا متقاضی ہے ، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کے فرمان ہے : { اورجوبھی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے یقینا وہ انہی میں سے ہے } الاقتضاء ( 1 / 314 ) ۔

3 - اوررہا اجماع :

تواس میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی نے یہ نقل کیا ہے کہ کفارسےان کی عیدوں اورتہواروں میں مشابھت اختیارکرنے کی حرمت پرصحابہ کرام کے وقت سے لیکر اجماع ہے ، جیسا کہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے بھی اس پرعلماء کرام کا اجماع نقل کیا ہے ۔ دیکھیں : الاقتضاء ( 1 / 454 ) اوراحکام اھل الذمۃ ( 2 / 722- 725 ) ۔

اوراللہ سبحانہ وتعالی نے کفارکی تقلیدکرنے سے منع فرمایا ہے اورتقلید کرنے والے پرناراضگي کا اظہار کیا اوربہت ساری آيات میں کئي ایک مواقع پر اورمختلف اسلوب میں اس سے بچنے کا کہا ہے ، اورخاص کرکفارکی تقلید سے تومنع کیا ہے ، کبھی ان کی پیروی واتباع اوراطاعت سے روک کر ، اورکبھی ان سے ڈرا کر ، اورکبھی ان کے مکروفریب سے دھوکہ نہ کھانے کا کہہ کر، اوران کی آراء اورخیالات کے پیچھے نہ چلنے کا کہہ کراور کبھی یہ کہا کہ ان کے اعمال اوراخلاق اورسلوک سے متاثرنہ ہوں ۔

اوربعض اوقات ان کی غلط خصلتیں ذکرکرکے جن سے مومن نفرت کرتے ہیں اوران کی تقلید کرنے سے بھی نفرت کرتے ہیں ، اورقرآن مجید میں اکثر طور پر یھودیوں اورعیسائیوں سے بچنے کا کہا گيا ہے ، اورپھر عمومی طور پراہل کتاب اورمشرکوں سے ، اوراللہ تعالی نے قرآن مجید میں یہ بیان فرمایا ہے کہ کفار کی تقلید اوران کی اطاعت کرنے سے انسان مرتد ہوجاتا ہے ، اوراللہ تعالی نے ان کی اطاعت اوران کی خواہشات کے پیچھے چلنے اوربری خصلتیں اپنانے سے منع فرمایا ہے ۔

 

اوراسی طرح تقلید سے رکنا توشریعت کے مقاصد میں شامل ہے ، جبکہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ھدایت اوردین حق کے ساتھ اس لیے مبعوث فرمایا تا کہ اسے سب دینوں پرغالب کردے ، اوراللہ سبحانہ وتعالی نے لوگوں کے لیے شریعت کومکمل کردیا ہے :

فرمان باری تعالی ہے :

{ آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کومکمل کردیا ہے اورتم پر اپنا انعام بھرپور کردیا ہے اورتمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پررضامند ہوگیا ہوں } المآئدۃ ( 3 ) ۔

اوراس شریعت کوہرحالت اورہرزمانے اورسب لوگوں کے لیے صالح بنایا لہٰذا کفارسے کچھ حاصل کرنے اوران کی تقلید کی کوئي ضرورت نہيں رہتی ۔

اورپھرتقلید مسلمان کی شخصیت میں خلل کا باعث بنتی ہے ، شعورمیں نقص اورکمزوری اورچھوٹا پن ، شکست خوردہ ذھن پیدا ہوتا اورپھر اللہ تعالی کے منھج اورطریقے اوراس کی شریعت سے کنارہ کشی ہے ، تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ کفارسے دوستی لگانا اورانہیں پسند کرنا اوران کی تقلید کرنا ان سے اوران کی ثقافت وتھذیب سے محبت ، اوران پرمطلقا بھروسہ اوران کے ساتھ دوستی اوراسلام اوراہل اسلام سے ناپسندیدگي ، اوردین اسلام اوراس کی ثقافت اورقدروقیمت اوراس سے جہالت ان سب کا سبب بنتا ہے ۔

تیسری وجہ :

اس دورمیں یوم محبت منانے کا مقصد لوگوں کے مابین محبت کی اشاعت ہے چاہے وہ مومن ہوں یا کافر ، حالانکہ اس میں کوئي شک وشبہ نہیں کہ کفارسے محبت ومودت اوردوستی کرنا حرام ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اللہ تعالی اورقیامت کے دن پرایمان رکھنے والوں کوآپ اللہ تعالی اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والوں سے محبت کرتے ہوئے ہرگزنہیں پائيں گے ، اگرچہ وہ کافر ان کے باپ ہوں یا بیٹے یاان کے بھائي یاان کے کنبے قبیلےکے عزيز ہی کیوں نہ ہوں } المجادلۃ ( 22 ) ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتےہیں :

( اللہ سبحانہ وتعالی نے اس آيت میں یہ خبردی ہے کہ کوئي بھی مومن ایسا نہيں پایاجاتا جوکافرسے محبت کرتا ہو لہٰذا جومومن بھی کافر سے محبت کرتا اوردوستی لگاتا ہے وہ مومن نہيں ، اورظاہری مشابھت بھی کفارسے محبت کی غماز ہے لہٰذا یہ بھی حرام ہوگی ) دیکھیں : الاقتضاء ( 1 / 490 ) ۔

چوتھی وجہ :

جب سے یہ تہوار عیسائیوں نے شروع کیا ہے اس میں مقصود محبت زوجیت کے دائرے سے باہر رہتے ہوئے عشق اوردل کوعذاب میں ڈالنے والی محبت مراد ہے ، جس کےنتیجہ میں زنا اورفحاشی پھیلے اورعام ہو ، اوراسی لیے کئي اوقات میں نصاری کے دینی لوگوں نے اس کے خلاف آوازاٹھاتے ہوئے اس کےخلاف کام کیا اوراسے باطل قراردیا اوراسے ختم کیا لیکن پھردوبارہ اسے زندہ کردیا گیا ۔

اوراسے منانے والے بھی اکثرنوجوان ہوتے ہیں کیونکہ اس میں ان کی خواشات کی تکمیل ہوتی ہے ، اگراس میں کفار کی تقلید اورمشابھت کونہ بھی دیکھا جائے حالانکہ یہ حرام ہے لیکن کچھ دیر کےلیے ہم اس سے صرف نظر کرتے ہيں آپ میرے ساتھ اس مصیبت کودیکھیں کہ اس کی وجہ سے وہ لوگ کبیرہ گناہ کے مرتکب ہوتےہوئے زنا وغیرہ میں پڑتے ہیں جوکہ صرف اورصرف عیسا