بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
بدھ, 26 ستمبر 2018 16:00

بیوی کے ذمے خاوند کے حقوق

Written by 

حقوقِ مرداں

یعنی بیوی کے ذمے خاوند کے حقوق

بیوی کے ذمے خاوند کے حقوق

مرد کے ذمے بیوی کے جو حقوق ہیں جن کا ادا کرنا مرد کے لیے ضروری ہے، ان کی تفصیل گزشتہ صفحات میں بیان ہوئی ہے۔ اب ملاحظہ فرمائیں مرد کے وہ حقوق جو ایک عورت (بیوی) پر عائد ہوتے ہیں یعنی جن کا ادا کرنا عورت کے لیے ضروری ہے۔

مرد اور عورت انسانی زندگی کی گاڑی کے دو پہیے ہیں، دونوں پہیے رواں دواں ہوں گے یعنی دونوں کی کارکردگی صحیح اور یکساں ہو گی تو دونوں کی زندگی، جو ایک ہی گاڑی کے سوار ہیں، نہایت خوش گوار گزرے گی، اسی طرح میاں بیوی اگر ایک دوسرے کے حقوق و فرائض صحیح طریقے سے اور خوش اسلوبی سے ادا کریں گے تو زندگی کے تمام نشیب و فراز میں وہ کامیاب اور سرخ رو رہیں گے، ان کے ملاپ سے ہونے والی نسل بھی سر سبز و شاداب ہوگی جن کے ثمرات و فوائد سے یہ دونوں میاں بیوی بھی فیض یاب ہوں گے اور یہ سعادت مند اولاد ان کے لیے عصائے پِیری (بڑھاپے کا سہارا) ثابت ہوگی۔

 

امہات المومنین کے لیے بیان کردہ احکام میں تمام مومنات کے لیے رہنمائی

 

سب سے پہلے ان عمومی صفات کا تذکرہ کیا جاتا ہے جن سے ہر مومن عورت کو مُتَّصف ہونا چاہیے، ان صفات سے آراستہ عورت کے لیے ان خصوصی صفات کا اپنے اندر پیدا کرنا آسان ہوجاتا ہے جو شوہر کے حقوق کی ادائیگی کے لیے ضروری ہیں۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے لیے، جن کو اس نے امہات المومنین (مومنوں کی مائیں) قرار دیا ہے، قرآن مجید میں چند احکام بیان فرمائے ہیں۔ فرمایا:

[يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَاۗءِ اِنِ اتَّــقَيْتُنَّ فَلَا تَخْـضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا 32؀ۚوَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى وَاَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيْنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا 33؀ۚوَاذْكُرْنَ مَا يُتْلٰى فِيْ بُيُوْتِكُنَّ مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالْحِكْمَةِ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيْفًا خَبِيْرًا 34؀ۧ][1]

’’اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو،اگر تم متقی و پرہیزگار ہو تو(کسی بھی غیر محرم سے) آہستگی اور نرمی سے (لوچ دار لہجے میں) بات نہ کیا کروکہ پھر وہ شخص، جس کے دل میں روگ ہو، طمع و لالچ کرنے لگے،اور تم سیدھی صاف اچھی بات (سختی سے) کہا کرو۔ اور تم اپنے گھروں میں ٹک کررہو،اور گزشتہ دورِ جاہلیت کی طرح اپنی زیب و زینت کی نمائش نہ کرتی پھرو، اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو،اوراللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کرو،اے اہل بیت! بس اللہ تو چاہتا ہے کہ وہ تم سے ناپاکی دور کردے، اور تمھیں بالکل پاک صاف کردے۔ اور تمھارے گھروں میں جو اللہ کی آیات اورسنت (کی باتیں) پڑھی جاتی ہیں وہ یاد کرو،یقینًااللہ نہایت باریک بین،خوب باخبر ہے۔‘‘

ان آیات کی مختصر تفسیر حسب ذیل ہے:

(1)پہلے جملے میں فرمایا: تمھاری حیثیت اور تمھارا مرتبہ عام عورتوں کا سا نہیں ہے بلکہ اللہ نے تمھیںر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کا جو شرف عطا فرمایا ہے اس کی وجہ سے تمھیں ایک خاص امتیازی مقام حاصل ہے چنانچہ انھیں ان کے مقام و مرتبے سے آگاہ کرکے انھیں کچھ ہدایات دی جارہی ہیں۔ ان کی مخاطب اگرچہ ازواج مطہرات ہیں لیکن انداز بیان سے صاف واضح ہوتا ہے کہ مقصد پوری امت مسلمہ کی عورتوں کو سمجھانااور متنبہ کرنا ہے اس لیے یہ ہدایات تمام مسلمان عورتوں کے لیے ہیں۔

(2)اللہ تعالیٰ نے عورت کے وجود کے اندر مرد کے لیے جنسی کشش رکھی ہے (جس کی حفاظت کے لیے بھی خصوصی ہدایات دی گئی ہیں تاکہ عورت مرد کے لیے فتنے کا باعث نہ بنے۔) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی آواز میں بھی فطری طور پر دل کشی، نرمی اور نزاکت رکھی ہے جو مرد کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ بنا بریں اس آواز کے لیے بھی یہ ہدایت دی گئی ہے کہ مردوں سے گفتگو کرتے وقت قصداً ایسا لب و لہجہ مت اختیار کرو جس میں نرمی اور لطافت ہو بلکہ قاعدے کے مطابق کلام کرو تاکہ کوئی بد باطن لہجے کی نرمی سے تمھاری طرف مائل نہ ہو اور اس کے دل میں برا خیال پیدا نہ ہو۔

(3)بات اگرچہ نرم لہجے کے ساتھ کرنا منع ہے تاہم زبان سے ایسا لفظ بھی نہ نکالنا جو معروف قاعدے اور اخلاق کے منافی ہو۔

(4)(إنِ اتَّقَیْتُنَّ) کہہ کر اشارہ کردیا کہ یہ بات اور دیگر ہدایات جو آگے آرہی ہیں،متقی عورتوں کے لیے ہیں کیونکہ انھیں ہی یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ ان کی آخرت برباد نہ ہوجائے۔ جن کے دل خوف الٰہی سے عاری ہیں انھیں ان ہدایات سے کیا تعلق؟ اور وہ کب ان ہدایات کی پروا کرتی ہیں؟

(5)’’گھروں میں ٹک کر رہو۔‘‘ اور بغیر ضروری حاجت کے گھر سے باہر نہ نکلو، اس میں وضاحت کردی گئی کہ عورت کا دائرۂ عمل امور سیاست و جہانبانی نہیں، معاشی جھمیلے بھی نہیں بلکہ گھر کی چار دیواری کے اندر رہ کر امور خانہ سر انجام دینا ہے۔

(6)پھر گھر سے باہر نکلنے کے آداب بتلا دیے کہ اگر باہر جانے کی ضرورت پیش آجائے تو بنائو سنگھار کرکے یا ایسے انداز سے جس سے تمھارا بنائو سنگھار ظاہر ہو، مت نکلو۔ جیسے بے پردہ ہو کر نکلو جس سے تمھارا سر، چہرہ، بازو اور چھاتی وغیرہ لوگوں کو دعوت نظارہ دے بلکہ بغیر خوشبو لگائے، سادہ لباس میں ملبوس اور باپردہ باہر نکلو۔

(7)تَبَرُّج بے پردگی اور زیب و زینت کے اظہار کو کہتے ہیں قرآن نے واضح کردیا ہے کہ یہ تبرج جاہلیت ہے جو اسلام سے پہلے تھی اور آئندہ بھی جب کبھی اسے اختیار کیا جائے گا، یہ جاہلیت ہی ہوگی، اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے چاہے اس کا نام کتنا ہی خوش نما اور دل فریب رکھ لیا جائے۔ برائی سے اجتناب کی ہدایات کے بعد نیکی اختیار کرنے کی ہدایات دی جارہی ہیں لیکن ضمناً ’’اہل بیت‘‘ کی وضاحت بھی فرمادی کہ اس سے مراد کون ہیں؟

(8)یہاں قرآن کریم کے سیاق سے واضح ہے کہ ازواج مطہرات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو {اہل البیت}کہا گیا ہے۔ قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی بیوی کو اہل بیت


 

کہا گیا ہے، مثلاً: (سورہ ہود 73/11) میں۔ اس لیے ازواج مطہرات کا اہل بیت ہونا نصِّ قرآنی سے واضح ہے۔

            بعض لوگ بعض روایات کی روسے اہل بیت کا مصداق حضرت علی، حضرت فاطمہ اور حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو مانتے ہیں اور ازواج مطہرات کو اس سے خارج سمجھتے ہیں۔ لیکن ایسا سمجھنا قرآن کی صراحت کے خلاف ہے۔ حقیقت میں دونوں ہی اہل بیت ہیں۔ ازواج مطہرات تو اس نصِّ قرآنی کی وجہ سے اور حضرت علی و فاطمہ اور حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہم ان روایات کی رو سے جو صحیح سند سے ثابت ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی چادر میں لے کر فرمایا: اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے تفسیر ’’فتح القدیر‘‘ للشوکانی رحمہ اللہ

(9)جن نیکیوں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ان میں:

نماز پڑھنا ہے۔

زکوٰۃ ادا کرنا ہے۔

اللہ رسول کی اطاعت کرنا ہے۔

قرآن کریم کی تلاوت اور حکمت کی تلاوت کرنا ہے۔

حکمت سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے جس کو حدیث بھی کہا جاتا ہے۔

(10) مذکورہ نیکیاں کرنے کا فائدہ کیا ہے؟ وہ بھی بیان فرما دیا، وہ تطہیر ہے یعنی گناہوں سے پاکیزگی اور اخلاق و کردار کی کمزوریوں سے پاکیزگی۔

جب ایک مسلمان چاہے مرد ہویا عورت، مذکورہ احکام الٰہی کا پابند ، اللہ رسول کی اطاعت کرنے والا اور قرآن و حدیث کو اپنے فکر و نظر اور علم و عمل کا محور بنا لے تو اس کے عقائد کی بھی تطہیر ہوجاتی ہے اخلاق و کردار کا بھی تزکیہ ہوجاتا ہے اور آخرت کی زندگی سنوارنے کا جذبہ بھی توانا اور قوی ہوجاتا ہے جس کے بعد ہر برائی سے بچنا اور ہر نیکی کا کرنا اس کے لیے آسان ہوجاتا ہے۔ اور ایسے مسلمان مرد و عورت ، جو حقوق اللہ کے پابند ہو جاتے ہیں، حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی کا ارتکاب بالعموم نہیں کرتے۔



[1] الأحزاب34-32:33

Read 153 times Last modified on بدھ, 26 ستمبر 2018 16:20