بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
جمعرات, 12 جولائی 2018 17:47

انشورنس اور تکافل میزانِ شریعت میں

Written by 

انشورنس اور تکافل میزانِ شریعت میں!

 عثمان صفدر[1]

 

 

تمام تعریفات اللہ رب العالمین کے لئے ہیں جس نے ہمیں عدم سے وجود بخشا، ہمیں بیشما رنعتوں سے نوازا، پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی مخلوق کو پیدا کر کے تنہا نہیں چھوڑا، بلکہ ان کے رزق کی ضمانت لی ، ان کے لئے رزق کو پہلےسے لکھ دیا، حصول رزق کے اسباب مہیا کئے ، اور پوری کائنات کو انسانوں کی خدمت کے لئے مسخر کردیا، اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۚ وَسَخَّــرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ  ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَ ؀ وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاۗىِٕـبَيْنِ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ ؀ وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ  ۭ  وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ ؀} [إبراهيم: 32، 34]

ترجمہ: ’’ اللہ ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے مینہ برسایا۔ پھر اس سے تمہارے کھانے کے لئے پھل پیدا کئے۔ اور کشتیوں ( اور جہازوں) کو تمہارے زیر فرمان کیا تاکہ دریا (اور سمندر) میں اسکے حکم سے چلیں۔ اور نہروں کو بھی تمہارے زیرفرمان کیا۔ اور سورج اور چاند کو تمہارے لئے کام میں لگا دیا کہ دونوں (دن رات) ایک دستور پر چل رہے ہیں۔ اور رات اور دن کو بھی تمہاری خاطر کام میں لگا دیا۔اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں سے تم کو عنایت کیا۔ اور اگر اللہ کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کر سکو۔ (مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے) کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا بے انصاف اور ناشکرا ہے۔

اور اللہ تعالی کی حکمت کا یہ تقاضہ تھا کہ انسان مختلف آزمائشوں ، مصائب ، خطرات اور پریشانیوں میں مبتلا ہو، اسی لئے اللہ تعا لی کا فرما ن ہے:

{وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ } [البقرة: 155]

ترجمہ:’’ اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میووں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے تو صبر کرنے والوں کو (اللہ کی خوشنودی کی) بشارت سنادو‘‘۔

اسی لئے شریعت اسلامی میں اللہ تعالی نے بچاؤ کے اسباب بیان فرمائے ہیں ، تحفظ اور امن وامان کے راستے ذکر کئے ہیں ، کلام الہٰی کی تلاوت کرنے والا جانتا ہے کہ کس طرح رب العالمین نے انسانوں کی امن وامان اور عدل وانصاف کی طرف رہنمائی فرمائی ہے ، اور اسی طرح رحمت دوعالم   صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی امت کو جان ومال کے تحفظ اور معاشرہ میں امن وامان قائم کرنے کے اسباب ووسائل بیان فرمائے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جان و مال کا تحفظ ان پانچ بنیادی ضروریات میں سے ہے جس کے تحفظ کے لئے شریعت اسلامی کا نزول ہوا ہے۔ اور امن وامان ایسی نعمت ہے جسے اللہ تعالی نے قریش مکہ پر کی جانے والی بڑی نعمتوں میں سے ایک قرار دیا ہے ، اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَّيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَةِ اللهِ يَكْفُرُوْنَ } [العنكبوت: 67]

ترجمہ:’’ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے اور لوگ اس کے گرد و نواح سے اچک لئے جاتے ہیں کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں‘‘۔

اسی طرح فرمایا:

{ لِإِيْلَافِ قُرَيْشٍ o إِيْلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَالصَّيْفِ o فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِoالَّذِيْٓ أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوْعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍo {(قریش1تا4)

ترجمہ:’’ قریش کے مانوس کرنے کے سبب۔ یعنی ان کو جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے سبب۔ لوگوں کو چاہئے کہ (اس نعمت کے شکر میں) اس گھر کے مالک کی عبادت کریں۔ جس نے ان کو بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن بخشا‘‘۔

یقیناً امن وامان اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہےنبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: ’’جس شخص نے اس حالت میں صبح کی کہ وہ خوش حال تھا بدن کے لحاظ سے تندرست تھا اور اس کے پاس اس دن کے لئے روزی موجود تھی تو گویا کہ اس کے لئے دنیا سمیٹ دی گئی‘‘۔[2]

شریعت اسلامی میں امن و امان کو شرک سے پاک ایمان اور عمل صالح کے ساتھ مشروط قرار دیا گیا ہے ، یعنی ایمان اور عمل صالح ہی معاشرہ میں امن وامان اور جان ومال کے تحفظ کی ضمانت (insurance) ہیں نہ کہ غیر اسلامی اقتصادی و معاشرتی پالیسیاں ۔ اللہ تعالی کا قرآن مجید میں واضح فرمان ہے:

 {الَّذِينَ آمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُوْنَ o}[الأنعام: 82]

ترجمہ: ’’ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے) ظلم سے مخلوط نہیں کیا ان کے لئے امن (اور جمعیت خاطر) ہے۔ اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔

ایک اور مقام پر اللہ تعا لی کا فرمان ہے:

{وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا ۭ يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا ۭ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ ؀} [النور: 55]

ترجمہ: ’’ جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنا دے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم و پائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا وہ میری عبادت کریں گے (اور) میرے ساتھ کسی اور کو شریک نہ بنائیں گے اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بد کردار ہیں‘‘۔

عہد نبوت سے لے کر تقریباً نو سوسال تک عالمی تجارت پر اسلامی اصول تجارت کا رنگ غالب رہا ، اور چونکہ اسلامی معیشت کے قواعد وضوابط خالق کائنات کے مقرر کردہ تھے اس لئے وہ حقیقت پر مبنی معیشت تھی جس میں حیلہ بہانے نہیں تھے ، جس کی بنیادوں میں اخلاق اور ایک دوسرے سے تعاون کا جذبہ تھا نہ کہ لوٹ کھسوٹ اور زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کی حرص،اسی لئے اس دور میں مصنوعی کساد بازاری ، بیروزگاری کا شائبہ تک نہ تھا، مال چند ہاتھوں کی زینت نہیں تھا، غریب اور مالدار میں زیادہ حد بندی نہیں تھی ، جان ومال کے تحفظ کی ضمانت نہیں دینی پڑتی تھی، لیکن مسلمانوں کی اسلامی تعلیمات سے دوری اور مغربیت پرستی نے عالمی تجارت سے اسلامی روح کو ختم کردیا اور پوری عالمی تجارت چند صیہونیت زدہ ذہنوں کے ہاتھوں یرغمال ہوگئی جنہوں نے پوری دنیا میں سود اور دھوکہ بازی کا بازار گرم کر کے امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر بنانے کی پوری کوشش کی اور سود کی صورت میں حاصل ہونے والے بے پناہ منافع کو اپنے اسلام مخالف مذموم مقاصد میں استعمال کیا۔اسی وجہ سے تجارتی میدان میں ایسے مسائل پیدا ہونا شروع ہوئے جن کا ذکر قدیم فقہاء کی کتابوں میں نہیں ملتا ہے، انہی مسائل میں سے ایک مسئلہ ’’انشورنس‘‘ یعنی بیمہ پالیسی کا بھی ہے۔

انشورنس کے معاملہ میں بنیادی تصور یہ کار فرماہے کہ ایک شخص کسی معاشرہ میں رہ کر تجارت کرنا چاہے ، کوئی کام کرنا چاہے لیکن اسے اپنی جان ومال کے تحفظ کے حوالہ سے خطرات لاحق ہوں یا تجارت میں خسارہ کا اندیشہ ہو تو کوئی دوسرا شخص آ کر اسے جان و مال کے تحفظ ، اور تجارت میں خسارہ نہ ہونے کی ضمانت  دے، اور کسی قسم کے نقصان کی صورت میں ایک مخصوص رقم ادا کرے، اور اس ضمانت دینے کے بدلہ معاوضہ طلب کرے۔

جیسا کہ ذکر ہوا کہ انشورنس جدید مسائل میں سے ہے اس لئے متقدمین کی کتابوں میں اس مسئلہ کا حکم مذکور نہیں ، غالباً سب سے پہلے جس عالمِ دین نے اسے اس کی ابتدائی شکل میں تحریر کیا ہے وہ علامہ ابن عابدین ہیں جنھوں نے اپنی کتاب ’’حاشیہ رد المختار ‘‘ میں ایک مسئلہ ذکر کیا جو کہ انشورنس سے مطابقت رکھتا ہے ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کے دور میں تاجر ایک معاہدہ کرتے تھے جسے ’’سوکرہ‘‘ کہا جاتا تھا ، وہ یہ ہے کہ جب مسلمان تاجر دیار کفر سے دیار اسلام کی طرف واپس ہوتے تو ایک کافر سے کشتی کرائے پر لیتے اسے کرایہ ادا کرتے اور مزید رقم بھی دیتے اور اس سے یہ معاہدہ کرتے کہ اگر راستہ میں ان کا مال غرق ہوگیا یا ضائع ہوگیا ، یا چوری ہوگیا تو وہ انہیں ان کے مال کے بقدر قیمت ادا کرے گا، اس کافر کا ایک وکیل دیارِاسلام میں ہوتا تھا جو نقصان کی صورت میں مسلمانوں کو رقم کی ادائیگی کرتا تھا۔اس معاہدہ کے بارے میں علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’یہ معاہدہ جائز نہیں ، کیونکہ اس میں ایسی چیز اپنے لئے لازم کرلی گئی ہے جس کا وہ ذمہ دار نہیں ہے‘‘۔[3]

بالکل یہی معاملہ انشورنس کا بھی ہے، پہلے ہم انشورنس کی تعریف سمجھ لیں تاکہ اس کاحکم سمجھنے میں آسانی ہو۔

انشورنس

اس کی کئی اقسام ہیں لیکن جو قسم معروف ہے اور انشورنس کمپنیوں کے ذریعہ جو انشورنس کیا جاتا ہے اسے تجارتی بیمہ پالیسی (commercial insurance) کہتے ہیں، اس کی تعریف کچھ یوں کی جاتی ہے:

’’ایسا معاہدہ (agreement) جو لین دین (تجارتی ) پر مشتمل ہو، اس میں ایک طرف صارف (costumer) ہے جو کہ اقساط (installment ) ادا کرتا ہے اور دوسری طرف کوئی ایک شخص یا کوئی کمپنی ہوسکتی ہے، اس معاہدہ میں یہ طے کیا جائے کہ صارف ایک مقررہ مدت تک کچھ خاص رقم قسط کی صورت میں یا ایک ہی دفعہ میں اس کمپنی کو ادا کرے گا ، اس کے


 بدلہ میں کمپنی اس صارف کواسی مقررہ مدت میں کچھ خاص چیزوں کے بارے میں ضمانت (insurance) دیتی ہے (مثلاً اس کی زندگی ، یا گاڑی، یا کاروبار وغیرہ) کہ اگر اس میں صارف کو کسی قسم کا نقصان اٹھانا پڑا تو یہ کمپنی اس نقصان کی ادائیگی کرے گی ، اور ادائیگی کی رقم پہلے سے طے کر لی جاتی ہے، قسطیں ادا نہ کرسکنے کی صورت میں معاہدہ ختم ہوجاتا ہے ، اسی طرح مقررہ مدت میں کسی قسم کا حادثہ (جو معاہدہ میں طے شدہ ہو) نہ ہونے کی صورت میں مدت ختم ہونے کے بعد مکمل رقم یا کچھ رقم کمپنی رکھ لیتی ہے ‘‘۔

یہ انشورنس کی بنیادی تعریف ہے ، تمام تجارتی انشورنس کمپنیوں میں کم وبیش یہی صورت ہوتی ہے ، البتہ معاہدہ کی دیگر شرائط (Terms & conditions) میں فرق ہوسکتا ہے ۔

کچھ معاہدوں میں مدت طے نہیں کی جاتی ، بلکہ انشورنس کمپنیاں مدت طے کرنے کے بجائے حادثہ کا وقت طے کرلیتی ہیں ، یعنی اگر زندگی کی انشورنس ہے تو صارف کی موت تک یہ معاہدہ چلتا رہتا ہے ، اگر گاڑی کی انشورنس ہے تو اس گاڑی کے حادثہ ہوجانے تک ، اسی طرح کاروبار وغیرہ میں۔

اب اس تعریف کو نکات (points ) کی صورت میں رکھتے ہیں:

(1) یہ معاہدہ تجارتی (commercial) ہے تعاونی (cooperation) نہیں ہے ۔

(2)  یہ معاہدہ دونوں طرف سے ہے ، صارف قسط جمع کراتا ہے ، اور کمپنی اس کانقصان ادا کرتی ہے۔

(3) مدت طے نہ ہونے کی صورت میں اس معاہدہ میں احتمال آجاتا ہے کہ نہ جانے یہ معاہدہ کب مکمل ہو۔

کمرشل انشورنس کا حکم

کمرشل انشورنس چاہے کوئی سی بھی ہو یعنی life insurance , goods insurance , third party insurance  وہ حرام ہے ،اس کی حرمت کا فتوی سعودی عرب کی علماء کمیٹی اور اسی طرح مجمع الفقھی الاسلامی (Islamic Fiqh Academy) نے بھی دیا ہے۔

انشورنس کے حرام ہونے کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے چند اہم اسباب درج ذیل ہیں:

(1)پہلا سبب

اس میں دھوکہ اور لا علمی ہے، جسے عربی میں ’’غرر‘‘ کہتے ہیں ، اور اس قسم کے معاہدہ سے نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  نے منع فرمایا ہے ۔[4]

اس میں دھوکہ اس طرح ہے کہ:

جس نقصان کی ادئیگی طے کی گئی ہے اس کا ہونے یا نہ ہونے میں احتمال ہے ، وہ نقصان یا حادثہ ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ہوسکتا ۔

اس میں دھوکہ اس وقت زیادہ ہوجاتا ہے جب ایک مدت مقرر کرنے کے بجائے اس معاہدہ کی تکمیل حادثہ ہوجانے تک رکھی جائے ۔

اور یہ دھوکہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب ایک مدت مقرر کرلی جائے کہ اس مدت تک صارف اقساط ادا کرتا رہے گا ، اگر اس مدت کے اندر حادثہ ہوگیا تو کمپنی اس کا نقصان پورا کرے گی ، اگر نہیں ہوا اور مدت ختم ہوگئی تو صارف کی ادا کردہ رقم کمپنی اس کو واپس نہیں کرتی، جیسا کہ اکثر goods insurance  میں ہوتا ہے۔

اسی طرح اس معاہدہ میں صارف کو یہ معلوم نہیں کہ وہ کتنی رقم ادا کرے گا؟ کب تک ادا کرے گا؟ اگر یہ معلوم ہو بھی جائے تب بھی نقصان کا ہمیں علم نہیں ہے کہ وہ ہوگا بھی کہ نہیں؟۔

(2 دوسرا سبب

اس میں جوا (Gambling ) ہے۔ جوا کی تعریف علماء یوں کرتے ہیں کہ ’’ایسا معاہدہ جس میں دو یا دو سے زائد شریک ہوں ، ایک کو نفع ہو باقی نقصان میں رہیں اور کسی کے علم میں نہ ہو کہ کون نقصان میں رہے گا اور کون نفع میں‘‘  اگر جوا کھیل کے میدان میں ہو تو اسے قمار کہتے ہیں، اگر تجارت میں ہو تو اسے ’’میسر‘‘ کہتے ہیں۔ اور جوا بالاتفاق حرام ہے ، اس سے اللہ تعالی نے اور نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  نے سختی سے منع فرمایا ہے۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

{اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ  ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ  ؀ } [المائدة: 91]

ترجمہ:’’ اے ایمان والو! شراب اور جُوا اور بت اور پاسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں۔ سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاؤ‘‘۔

اور نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:’’ بیشک اللہ تعالی نے شراب اور جوا کو حرام قرار دیا ہے‘‘۔[5]

اس معاہدہ میں جوا اس طرح ہے کہ:

اس معاہدہ کے دو شریک ہیں، دونوں میں سے ایک کو نفع ہوگا دوسرے کو نقصان۔

صارف کو نفع اس طرح ہوگا کہ اگر معاہدہ ہوتے ہی صارف کا نقصان ہوگیا تواس نےکمپنی کو اتنی رقم ادانہیں کی ہوگی جتنی اس کو حاصل ہو گی، اور اس میں کمپنی کو نقصان ہے۔

کمپنی کو فائدہ اس طرح ہوگا کہ اگر مدت پوری ہوجائے اور حادثہ نہ ہو تو صارف کی ادا کی گئی رقم ضائع ہوجائے گی، اور ساری رقم کمپنی کومل جائے گی جبکہ صارف کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ اور یہی معاملہ جوئے میں ہوتا ہے کہ دو طرف سے رقم لگائی جاتی ہے ایک کو نفع ہوتا ہے اور دوسرے کو نقصان ہوتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر اس معاہد ہ کو بغور دیکھا جائے تو یہ انشورنس کے بجائے ایک طرح کی شرط (Bet)ہے، کمپنی شرط لگاتی ہے کہ صارف کا نقصان نہیں ہوگا اور اگر نقصان ہوا تو کمپنی شرط ہار نے کی وجہ سے رقم ادا کرتی ہے ، اور صارف کےاس معاہدہ میں کردار سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس نے اپنے نقصان کے ہونے کی شرط لگائی تھی اور شرط ہارنے کی صورت میں وہ اپنی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

(3) تیسرا سبب

اس میں سود شامل ہے ، بلکہ یہ سارا معاہدہ سود (interest) پر مشتمل ہے ۔ سود کی بنیادی طور پر دو اقسام ہیں : (1) قرض کا سود ۔ (2) تجارت کا سود۔

( 1)  قرض کا سود یہ ہے کہ ایک شخص کسی کو ادھار دے کر زیادہ طلب کرے۔

(2)  تجارت کا سود: اس کی پھر دو اقسام ہیں:

(1) زیادتی کا سود  (ربا الفضل)    (2) ادھار کا سود  (ربا النسیئہ)

(1) زیادتی کا سود یہ ہے کہ وہ مخصوص اجناس جنہیں شرعی اصطلاح میں ’’سودی اجناس ‘‘ کہتے ہیں میں سے ایک ہی جنس کا تبادلہ کرتے وقت اضافہ کردینا، جیسے مثال کے طور پر :

پانچ تولہ سونا  (سکہ کی صورت میں)=    چار تولہ سونے کا سیٹ۔

(2) ادھار کا سود : سودی اجناس کا آپس میں تبادلہ کرتے وقت ادھار کرلینا ، جیسے مثال کے طور پر :

ایک من گندم  =  ایک من چاول ایک مہینہ بعد۔

انشورنس میں تینوں اقسام کاسود موجود ہے وہ اس طرح کہ:

جو پیسہ صارف   کمپنی کو ادا کرتا ہے وہ یا تو کمپنی پر قرض ہے یا پھر کمپنی صارف سے  پیسوں کے بدلہ پیسہ کا تبادلہ کررہی ہے جو کہ فوراً ادا نہیں کیا جائے گا بلکہ بعد میں طے شدہ موقع پر اسے اس پیسہ کی ادائیگی کرے گی۔

اگر وہ پیسہ قرض ہے تو اس کے بدلہ زیادہ طلب کرنا سود ہے ۔

اگر وہ تجارت ہے تو اس میں پیسوں کا تبادلہ ہے ، اور ایک ہی جنس کا تبادلہ کرتے وقت اضافہ کرنا بھی سود ہے ، اسی طرح اس تبادلہ میں جو ایک عرصہ کے بعد ادائیگی کی جاتی ہے وہ ادھار کا سود ہوگا۔

خلاصہ کلام یہ کہ: انشورنس کا معاملہ سود پر مبنی ہے ، صارف پیسہ ادا کرتا ہے اور اس کے بدلہ اسے پیسہ ہی ملتا ہے ، اور یہ پیسہ اسے یا تو زیادہ ملتا ہے (حادثہ یا خسارہ کی صورت میں ) یا کم ملتا ہے (حادثہ یا خسارہ نہ ہونے کی صورت میں ) اور اگر جتناا دا کیا ہے اتنا ہی ملے تو بھی وہ ایک مدت کے بعد ہے ، تو اگر پیسوں کا تبادلہ (exchange) ہو تو اس میں بالکل برابر برابر ہونا چاہئے ، کمی یا زیادتی نہیں ہونی چاہئے ؛ کیونکہ کمی یا زیادتی ہی سود کہلاتی ہے ، اور ادھار بھی نہیں ہونا چاہئے ،کیونکہ نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے : ’’سونے کو سونے کے بدلہ ، چاندی کو چاندی کے بدلہ جب بیچو تو نقد ہو ادھار نہ ہو اور برابر برابر ہو ، کمی یا زیادتی نہ ہو‘‘۔[6]

اور پیسہ کا حکم وہی ہے جو سونے کاحکم ہے ، کیونکہ پیسہ سونے کا متبادل ہے۔

ان تمام دلائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انشونس ایک قطعی غیر شرعی معاملہ ہے اور اس کی بنیاد سود ، جوا، اور دھوکہ پر رکھی گئی ہے لہذا یہ معاہدہ کرنا حرام ہے ۔

انشورنس کے حوالہ سے چند شبہات اور ان کا ازالہ

انشورنس کو حلال اور جائز کہنے والے افراد چند کمزور دلائل کا سہارا لیتے ہیں جو کہ شبہات سے زیادہ کا درجہ نہیں رکھتے  ہم ان شبہات میں سے نسبتاً چند شبہات کا جائز ہ لیتے ہیں:

(1) انشورنس کا معاہدہ ، مضاربہ کی طرح ہے، انشورنس کمپنی ، صارف کے پیسوں کو کاروبار میں لگاتی ہے ، اور جب صارف کو کوئی حادثہ یا نقصان ہوتا ہے تو اس کاروبار سے ہونے والے منافع سے اس کا نقصان پورا کیا جاتا ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ مضاربہ ایک اسلامی معاہدہ ہے اور انشورنس اور مضاربہ میں کسی قسم کی مماثلت نہیں، بلکہ دونوں معاملوں میں کئی فرق ہیں، مثلاً:

مضاربہ میں مال دینے والے شخص کا مال بدستور اس کی ملکیت میں رہتا ہے جبکہ انشورنس میں قسطیں ادا کرنے والے کا مال اس کی ملکیت سے نکل کر کمپنی کی ملکیت میں چلا جاتا ہے اور اس مال پر صارف کا کوئی حق نہیں ہوتا ۔

مضاربہ میں جو منافع ہوتا ہے وہ مال دینے والے اور کام کرنے والے دونوں کے درمیان تقسیم ہوتا ہے ، جبکہ انشورنس میں مال کے ذریعہ جو منافع ہوتا ہے وہ صرف کمپنی کا ہوتا ہے ، اور صارف کو اس میں سے اسی وقت مخصوص ادائیگی کی جاتی ہے جب اس کو کسی قسم کا نقصان پہنچے، اور اگر نقصان نہ ہو تو اسے کسی قسم کا منافع ادا نہیں کیا جاتا۔

(2)   انشورنس جدید دور کا مسئلہ ہے   اور شریعت کا قاعدہ ہے کہ تجارتی معاملات میں اصل یہ ہے کہ وہ مباح ہیں جائز ہیں، لہٰذا شریعت کے اس قانون کے تحت انشورنس کا معاملہ بھی جائز ہے۔

            اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت کا یقیناً یہی قاعدہ ہے کہ تجارتی معاملات میں اصل یہ ہے کہ وہ مباح ہیں لیکن مکمل قاعدہ یہ ہے کہ وہ اس وقت تک مباح ہیں جب تک ان کی تحریم ثابت نہ ہوجائے، اگر شریعت کے کسی قاعدہ کے تحت وہ حرام ہوں تو انہیں حرام ہی کہا جائے گا، اور انشورنس کی حرمت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سود پر مبنی ہے۔

(3) انشورنس کا نظام شریعت میں ’’عاقلہ‘‘ کے نظام کی طرح ہے۔

            عاقلہ کا نظام یہ ہے کہ جب کسی شخص سے قتل خطا واقع ہوجائے ، یعنی غلطی سے کسی شخص کو قتل کر بیٹھے تو اس کی دیت اس پر واجب ہوجاتی ہے ، اگر وہ شخص تنہا اس دیت کو ادا کرنے پر قادر نہ ہو تو اس کے والد کی طرف سے جو رشتہ دار ہیں جنہیں عربی میں عاقلہ کہا جاتا ہے جیسے دادا ، چاچا، بھائی وغیرہ وہ اس دیت کی ادائیگی میں اس کے شریک بنتے ہیں ۔

            نظام عاقلہ کسی بھی جہت سے انشورنس سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ نظام عاقلہ قطعی طورپر تعاون پر مبنی نظام ہے جس میں کسی قسم کے عوض اور بدل کا مطالبہ نہیں کیا جاتا، جبکہ انشورنس کے نظام میں انشورنس کمپنی اگر صارف کے نقصان کو پور اکرتی ہے ، تو اس کے عوض کا بھی مطالبہ کرتی ہے اور بغیر عوض اور پیسہ کے کوئی کمپنی کسی شخص کا انشورنس نہیں کرتی ۔

(4)انشورنس کا معاملہ Provident Fund کی طرح ہے ، جس طرح ایک کمپنی اپنے ورکرز کی تنخواہوں میں سے ایک مخصوص حصہ نکال کر اس فنڈ میں جمع کرتی ہے اور ریٹائرمنٹ پر انہیں مزید پیسے شامل کر کے ادا کرتی ہے، اسی طرح انشورنس کمپنی اپنے صارف سے ماہانہ قسط لے کر جمع کرتی ہے اور حادثہ یا نقصان کے وقت اسے مزید پیسے شامل کر کے ادا کرتی ہے، اگر پرووڈنٹ فنڈ لینا جائز ہے تو انشورنس بھی حلال ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ انشورنس اور Provident Fund میں کئی بنیادی فرق ہیں ، جیسے:

پرووڈنٹ فنڈ کمپنی کی طرف سے اپنے ملازمین کے لئے ایک قسم کا تعاون ہے ، جو وہ اپنے ملازمین کی خدمات کے صلہ میں ادا کرتی ہے اور اس کے بدلہ کسی قسم کے عوض کا مطالبہ نہیں کرتی، لہذا اس میں کسی کے نفع یا نقصان میں رہنے کا اندیشہ نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں سود آتا ہے، جبکہ انشورنس مکمل طور پر ایک تجارتی معاہدہ ہے جس میں انشورنس کمپنی اپنی انشورنس کے بدلے معاوضہ کا مطالبہ کرتی ہے اسی وجہ سے اس میں جوا اور سود دونوں ہی شامل ہیں۔

پرووڈنٹ فنڈ میں ملازم کو رقم ملنا حتمی اور یقینی ہے ، چاہے وہ ریٹائرمنٹ کی صورت میں ملازم کو ملے یا موت کی صورت میں اس کے ورثاء کو ملے ، جبکہ انشورنس میں رقم کا حصول یقینی نہیں ہوتا ، اگر نقصان ہوگیا تو رقم مل جائے گی ورنہ صارف خالی ہاتھ رہے گا۔

پرووڈنٹ فنڈ میں رقم پہلے سے طے نہیں ہوتی ، بلکہ جتنی رقم ملازم کی جمع ہوچکی ہوتی ہے اس میں کمپنی ایک خاص تناسب سے اپنا حصہ ڈال کر ملازم کو ادائیگی کردیتی ہے ، جبکہ انشورنس میں رقم پہلے سے طے کرلی جاتی ہے چاہے اس کے بقدر صارف نے رقم جمع کرائی ہو یا نہیں۔

ان تمام باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ انشورنس اور پرووڈنٹ فنڈ میں کسی قسم کی مماثلت نہیں۔

(5) ایک اہم ترین شبہ جسے شیخ عبداللہ بن احمد بن منیع نے ذکر کیا ہے جو کہ سعودی عرب کی علماء کمیٹی کے ممبر ہیں اور انشورنس کے جواز کے قائل ہیں ، اور خود بھی ایک انشورنس کمپنی کے شرعی ایڈوائزر ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ انشورنس کمپنی اور صارف کا تعلق قرض لینے اور دینے والے کا نہیں ہے اور نہ ہی اس معاملہ میں پیسوں کا تبادلہ ہے ، بلکہ دراصل انشورنس کمپنی اپنے صارف کو پیسوں کے بدلہ امن کی ضمانت فروخت کرتی ہے ، یعنی اگر گاڑی کا انشورنس ہے تو گاڑی کا حادثہ سے امن میں رہنے کی ضمانت ، اسی طرح کسی اور سامان کا انشورنس ہو تو اس کا کسی نقصان یا حادثہ سے امن میں رہنے کی ضمانت ۔ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ضمانت ایک معنوی چیز ہے مادی نہیں لیکن معنوی چیزیں بھی فروخت ہوتی ہیں اور ان کی مارکیٹ ویلیو ہوتی ہے جیسے کسی کمپنی کا نام ، اس کا لوگو، کسی کتاب کی طباعت کے حقوق وغیرہ فروخت کیئے جاتے ہیں حالانکہ یہ سب معنوی اشیاء ہیں مادی نہیں ہیں۔

اس ضمانت کی وجہ سے صارف مطمئن رہتا ہے کہ میری چیز کو نقصان نہیں ہوگا ، اگر ہوا تو بھی اطمئنان ہے کہ انشورنس کمپنی اس نقصان کو پورا کریگی۔

اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ:

  یہاں تک تو بات ٹھیک ہے کہ ضمانت ایک معنوی چیز ہونے کے باوجود اسے فروخت کیا جا سکتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انشورنس کمپنی واقعی ضمانت ہی فروخت کرتی ہے؟۔حقیقت یہ ہے کہ انشورنس کے معاہدہ میں کمپنی حادثہ سے امن کی ضمانت نہیں دیتی کہ صارف کی چیز کو حادثہ یا نقصان نہیں ہوگا ، بلکہ حادثہ کی صورت میں تلافی کی ضمانت دیتی ہے یعنی اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ اگر صارف کی انشورنس کردہ چیز کو نقصان ہوا تو کمپنی اس کے لئے مخصوص رقم ادا کرے گی، اور اگر نقصان نہ ہوا تو صارف خالی ہاتھ ہی رہے گا اور کمپنی اس کی ادا کردہ رقم اسے نہیں لوٹائے گی، لہذا اس میں پیسوں کا ہی تبادلہ ہے اور یہ صورت بالکل شرط (Bet) لگانے کی طرح ہے۔

شریعت کا اصول ہے کہ کوئی چیز فروخت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ بیچنے والے کی ملکیت ہو اور اس کے پاس موجود ہو، یا پھر اگر وہ چیز اس کی ملکیت میں نہ ہو تو بیچنے والا کم از کم اس کے حصول کی طاقت رکھتا ہو تا کہ اسے حاصل کر کے خریدار کے سپرد کر سکے ، نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے : ’’جو چیز تمہارے پاس نہیں اسے مت بیچو‘‘۔[7]

            اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ انشورنس کمپنی پیسوں کے بدلے چیز کی ضمانت فروخت کرتی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انشورنس کمپنی والے کیسے کسی چیز کی ضمانت فروخت کر سکتے ہیں جبکہ وہ اس ضمانت کے مالک ہی نہیں ہیں ، نہ ہی اس کے حصول کی استطاعت رکھتے ہیں نہ کوشش کرتے ہیں ؟، کسی چیز کے درست رہنے کی ضمانت تو اس چیز کو بنانے والی کمپنی ہی دیتی ہے ، یا پھر حکومت جو کہ معاشرہ میں امن قائم رکھنے کی ذمہ دار ہے وہ ہی ضمانت دے سکتی ہے ، انشورنس کمپنی والے تو اپنے دفتر میں بیٹھ کر رقوم کا لین دین کرتے ہیں ، وہ اپنی انشورنس کردہ کسی چیز کی حفاظت کا نہ تو انتظام کرتے ہیں نہ ہی معاشرہ میں قیام امن کے لئے کوئی جدو جہد؟؟

اگر ہم یہ بات بھی تسلیم کرلیں کہ انشورنس کمپنی اشیاء کی ضمانت ہی فرخت کرتی ہے اور وہ اس ضمانت کی مالک بھی ہے تو پھر ایک اور سوال ذہن میں آتا ہے کہ نقصان یا حادثہ کی صورت میں کمپنی جو رقم ادا کرتی ہے اس کی کیا حیثیت ہے ؟ کیا صارف نے ضمانت کے ساتھ اس رقم کو بھی خرید لیا ہے یا پھر ضمانت دینے کے باوجود نقصان ہونے کی وجہ سے انشورنس کمپنی بطور عوض کے ادا کرتی ہے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ صارف نے اس رقم کو خریدا نہیں ہے بلکہ کمپنی صارف کا نقصان ہونے کی وجہ سے ادا کرتی ہے تو پھر وہ رقم اتنی ہی ہونی چاہئے جتنا نقصان ہوا ہے ، پہلے سے ہی طے شدہ رقم کیوں ادا کی جاتی ہے؟ اور اگر ہم یہ کہیں کہ صارف نے ضمانت کے ساتھ ساتھ وہ رقم بھی خریدی ہے تو بات وہیں آجاتی ہے کہ اس میں رقوم کا تبادلہ ہے جس میں اضافہ کرنا سود کے زمرے میں آتا ہے ، اور اس کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ الگ ہے کہ اگر صارف نے وہ رقم بھی خریدی ہے تو ہر صارف کو اس کی ادائیگی کیوں نہیں کی جاتی، صرف نقصان ہوجانے پر ہی کیوں ادائیگی کی جاتی ہے؟۔

            ان تمام دلائل سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ انشورنس میں ضمانت نہیں فروخت کی جاتی بلکہ رقوم کا تبادلہ ہوتا ہے ، جس میں ایک فریق نفع میں اور دوسرا نقصان میں رہتا ہے۔

 تکافل

اللہ تعالی کی توفیق سے تین چار دہائیاں قبل سے عالم اسلام میں بیداری کی ایک لہر پیدا ہوئی ہے اور مسلمانوں نے اپنے معاملات پر نظر ثانی شروع کی ہے ، اس بیداری کے نتیجہ میں جہاں مسلمانوں نے اور میدانوں میں پیش قدمی کی ہے وہیں میدان تجارت میں بھی اسلامی اصول تجارت کودوبارہ زندہ کرنے کی قابل قدر اور قابل تعریف کاوشیں ہوئی ہیں ، اور ان کوششوں میں بحمد اللہ مزید اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ، اس تحریک کے نتیجہ میں جہاں بینکنگ کے میدان میں بعض علما اور تجار حضرات کی کوششوں سے اسلامی بینکنگ کا آغاز ہوا ہے جس میں ابھی مزید بہت بہتری اور تبدیلی و اصلاح کی گنجائش ہے ، وہیں انشورنس کے حرام ہونے کے باوجود معاشرہ میں اس کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے اس کا اسلامی متبادل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی اور جو بالآخر’’تکافل ‘‘ یا Cooperating Insurance  یا Islamic Insurance  کے نام سے ہمارے سامنے آئی۔اس کاوش کو کئی علماء نے سراہا اور اسے حلال بھی قرار دیا۔

ا ن علماء کے نزدیک تکافل یا اسلامی انشورنس کی بنیاد اس بات پر ہے کہ وہ تعاون پر مبنی ہے ، اس میں صارف سے کسی قسم کا عوض نہیں لیا جاتا ، چونکہ یہ معاملہ تعاون پر مبنی ہے لہذا اس میں اگر سود یا جوا کی شکل ہو بھی تو تکافل حرام نہیں ہے ، کیونکہ شریعت اسلامی کا یہ اصول ہے کہ تعاون میں وہ چیزیں بھی حلال ہوجاتی ہیں جو تجارت میں حرام تھیں ، مثال کے طور پر تجارت میں یہ صورت حرام ہے کہ ایک شخص ایک لاکھ روپے دے کر دو لاکھ وصول کرے ، یہ سود ہے ، لیکن تعاون میں جائز ہے جیسے کوئی شخص کسی سے دو لاکھ ادھار لے لے اور بعد میں کہے کہ میں مجبور ہوں میں ایک لاکھ روپے تک ہی دینے کی استطاعت رکھتا ہوں اور ادھار دینے والا اس سے ایک لاکھ روپیہ لے لے اور ایک لاکھ چھوڑ دے ، تو گویا مجبور شخص نے ایک لاکھ دے کر دو لاکھ وصول کیئے لیکن چونکہ یہ تعاون کی صورت تھی لہذا یہ جائز ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ کیا تکافل یا اسلامی انشورنس واقعی تعاون پر مبنی ہیں یا نہیں؟۔کیونکہ تکافل میں واضح طور پر سود اور جوا کی وہ صورتیں جو عام انشورنس میں تھیں موجود ہیں۔اگر تکافل واقعی تعاون پر مبنی ہے تو اس میں موجود حرام معاملات کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے ورنہ تکافل میں اور کمرشل انشورنس میں کوئی فرق نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ تکافل کےا س بنیادی تصور اور صورت کو جو تکافل کمپنیوں اور اسلامی انشورنس کرنے والے اداروں میں رائج ہے بغور دیکھا جائے تو واضح طور پر اس میں عوض و معاوضہ ، اور لین دین نظر آتا ہے جو تعاون کی روح کے منافی ہے اور تکافل کو تعاون کے پردہ سے نکال کر تجارتی معاہدے کی شکل دے دیتا ہے جسے زبردستی اسلامی لبادہ پہنا کر حلال کرلیا گیا ہے۔

تکافل کی تعریف

تکافل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے ایک دوسرے کا خیال رکھنا ، ایک دوسرے کی کفالت کرنا۔

موجودہ تکافل کا بنیادی نظریہ کچھ اس طرح ہے کہ چند افراد مل کر رقم جمع کرتے ہیں جسے کسی کاروبار میں انویسٹ کیا جاتا ہے ، تمام افراد اس رقم میں شریک ہوتے ہیں اور شرکت کا تناسب جمع کرائی گئی رقم کو دیکھ کر طے کیا جاتا ہے ، یعنی اگر جمع کی گئی رقم ایک لاکھ ہے تو دس ہزار جمع کرا نے والا دس فیصد کا حصہ دار ہوگا، جمع کی گئی رقم ایک وقف کی شکل اختیار کرلیتی ہے ، اس میں جو منافع ہوتا ہے اس میں بھی سب شریک ہوتے ہیں، اس رقم کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی شریک کا کوئی نقصان ہوجائے تو اسے اس رقم میں سے پورا کیا جاتا ہے یعنی شریک اپنی رقم اسی شرط پر جمع کراتا ہے کہ اگر اس کا کسی خاص چیز (یعنی جس کی انشورنس کرا رہا ہے ) کو نقصان ہوا تو اس کا نقصان پورا کیا جائے گا چاہے اس کے برابر اس نے رقم جمع کرائی ہو یا نہیں ، ہر شریک ایک خاص مدت تک ، ماہانہ بنیادوں پر رقم جمع کراتا رہتا ہے ، جب وہ مدت ختم ہوجاتی ہے اور شریک کو کوئی نقصان نہیں ہوتا تو اسے اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی رقم منافع سمیت واپس لے لے اور چاہے تو مدت میں اضافہ کرلے۔

تکافل کمپنیوں میں تکافل کے حوالہ سے دو طرح کے نظام موجود ہیں

(1) مضاربہ۔

(2)  وکالہ۔

ان دونوں طرح کے نظام میں ایک وقف پول بنایا جاتا ہےجو کسی کی ملکیت نہیں ہوتا بلکہ اپنا ایک الگ قانونی وجود رکھتا ہے جس میں کمپنی کے شئیر ہولڈرز کے ادا کردہ سرمایہ کا ایک حصہ ڈالا جاتا ہے اور ایک حصہ کاروبار میں انویسٹ کیا جاتا ہے ، کمپنی کی پالیسی خریدنے والوں کا سرمایہ وقف پول میں جاتا ہے یا بالفاظ دیگر پالیسی ہولڈر کمپنی کے وقف پول کو ایک مخصوص رقم سالانہ یا ششماہی یا سہ ماہی بنیادوں پر تبرع (ہدیہ ، صدقہ ) کرتا ہے، اس وقف پول کی رقم میں سے بھی کچھ رقم کاروبار میں انویسٹ کی جاتی ہے۔

اس کاروبار سے حاصل ہونے والے منافع میں سے شئیر ہولڈرز کا حصہ الگ کرکے کچھ منافع دوبارہ وقف پول میں ڈال دیا جاتا ہے اور کچھ منافع ان پالیسی ہولڈرز کو جنہوں نے فیملی تکافل (لائف انشورنس) کرایا ہو ان کے لئے الگ کرلیا جاتا ہے۔

مضاربہ ماڈل اور وکالہ ماڈل میں فرق صرف یہ ہے کہ مضاربہ میں تکافل کمپنی خود بھی انویسمنٹ کرتی ہے اور منافع میں حصہ دار بنتی ہے ، جبکہ وکالہ ماڈل میں تکافل کمپنی وقف پول کا انتظام و انصرام سنبھالنے کے لئے پالیسی ہولڈرز سے فیس وصول کرتی ہے جسے وکالہ فیس کہا جاتا ہے، اگرچہ مضاربہ ماڈل میں بھی تکافل کمپنی کچھ فیس وصول کرتی ہے لیکن وہ وکالہ فیس میں وصول کی جانی والی فیس سے کافی کم ہوتی ہے۔

لیکن ایک بات ان دونوں ماڈل میں مشترک ہے ، وہ یہ کہ تکافل کرانے والا شخص اس بات کی شرط لگاتا ہے کہ تکافل فنڈ میں رقم جمع کروا کر جس چیز کا وہ انشورنس کرارہا ہے اس میں نقصان ہونے پر اس کی تلافی ضرور کی جائے گی، اور یہی شرط تعاون کے منافی ہے۔اس کی وضاحت آگے ہوگی۔

تکافل میں اور عام انشورنس میں کچھ فرق ضرور ہیں جیسے

تکافل میں انشورنس کرانے والے کی حیثیت صارف کی نہیں ہوتی بلکہ وہ مجموعی رقم میں شریک بن جاتا ہے۔

جمع شدہ رقم پر جو منافع آتا ہے وہ تمام شرکاء میں شراکت کے تناسب سے تقسیم ہوتا ہے، جبکہ انشورنس کمپنیاں اس منافع کو صرف اپنے پاس رکھتی ہیں صارف کو نہیں دیتیں۔

تکافل میں مدت پوری ہونے کے بعد رقم واپس مل سکتی ہے ، جبکہ انشورنس میں مکمل رقم واپس نہیں ہوتی۔

            اس کے باوجود بھی یہ کہنا درست نہیں کہ تکافل میں جوا اور سود موجود نہیں ہے ، بلکہ تکافل میں سود اور جوا دونوں موجود ہیں ، اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ:

تکافل میں جو شریک ہے وہ قسطیں ادا کرتا ہے ، اگر اسے نقصان ہوگیا تو تکافل کمپنی کی طرف سے اس کا عوض ادا کیا جائے گا جو یقینا ً اس کی ادا کردہ قسطوں سے زیادہ ہوگا، تو یہی چیز سود ہے کہ پیسوں کے تبادلہ کے دوران ایک طرف سے زائد ادائیگی کرنا، یہ ربا الفضل یعنی زیادتی کا سود ہے۔

  تکافل میں رقوم جمع کرانے والے تمام افراد شرکاءہیں ، اگر ان شرکاء میں سے کسی ایک کو حادثہ پیش آجاتا ہے تو اسے تکافل کمپنی کی طرف سے ادائیگی کی جاتی ہے جبکہ جس شریک کو حادثہ پیش نہ آئے اسے اس کی رقم ہی واپس ملتی ہے تو یہ اس کے لئے ایک طرح کا نقصا ن ہے ، تو بعض شرکاء نفع میں رہے بعض کو اصل رقم ہی واپس ملی لہذا یہ بالکل واضح جوا ہے۔

            تکافل کو جائز کہنے والے افراد کے پاس اس کو جائز کہنے کی ایک ہی دلیل باقی رہ جاتی ہے کہ یہ معاملہ تعاون پر مبنی ہے ، تمام شرکاء ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں، ہر شریک جو قسط دیتا ہے وہ اپنے دیگر شرکاء کے ساتھ تعاون کی نیت سے ہی ادا کرتا ہے، لہذا اس میں اگر کچھ معاملات حرام بھی ہیں تو بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

اب ذرا اس پہلو کا جائز ہ لیتے ہیں کہ کیا تکافل واقعی تعاون پر مبنی ہے ؟ جواب یہ ہے کہ بالکل نہیں۔ تکافل مکمل طور پر ایک تجارتی معاہدہ ہے اس میں تعاون کی کوئی شکل نہیں اس کی دلیل یہ ہے کہ:

شریعت اسلامی کا یہ اصول ہے کہ جو شخص بھی تعاون کی نیت سے کوئی ادائیگی کرتا ہے جسے ہم صدقہ یا خیرات یا کوئی اور نام دے دیں ، تعاون کی صورت میں ادائیگی کے بعد وہ مال اس کی ملکیت سے نکل جاتا ہے ، وہ اس مال کا مالک نہیں رہتا ، چہ جائے کہ وہ اس مال کو اپنا مال سمجھ کر اس کی واپسی کا مطالبہ کرے یا اس پر نفع طلب کرے، اور اس کو شریعت میں بہت برا عمل قرار دیا گیا ہے ، نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے : ’’اپنے دئیے گئے ہدیہ میں لوٹنے والا (یعنی اس کو واپس طلب کرنے والا) ایسے ہے جیسے ایک کتا ہو جو قے کرے اور پھر اس کو چاٹ لے۔‘‘[8]

             جبکہ تکافل میں یہ صورت واضح ہے کہ مدت پوری ہونے کے بعد اور کسی قسم کا نقصان نہ ہونے کی صورت میں تکافل میں اشتراک کرنے والا شخص اپنا مال واپس لے سکتا ہے ، اس شرط کے ہوتے ہوئے تکافل کو تعاون کہنا کسی صورت صحیح نہیں۔

تعاون ہمیشہ بغیر کسی عوض کے کیا جاتا ہے ، ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی شخص کسی کو ہدیہ دے اور اس کے بدلہ کوئی مطالبہ کرے ، اگر وہ ایسا کرے گا تو یہ لین دین ہوجائے گا اور اس کا حکم تعاون کا نہیں رہے گا بلکہ وہ تجارت کے حکم میں آئے گا ، امام کاسانی رحمہ اللہ بدائع الصنائع میں لکھتے ہیں:’’اگر وہ ہدیہ دیتے وقت عوض (بدلہ )کی شرط لگادے یعنی وہ یوں کہے کہ : میں تمھیں یہ چیز تحفہ میں دیتا ہوں اس شرط پر کہ تم مجھے وہ کپڑا دو گے‘‘، تو ایسے معاہدہ کی نوعیت میں اختلاف ہے ، ہمارے تینوں اصحاب (امام ابو حنیفہ ، امام ابو یوسف اور امام محمد ) یہی کہتے ہیں کہ یہ معاہدہ ہے تو ہدیہ کا لیکن اس کاحکم تجارت کا ہوگا، اور کبھی وہ اس طرح بھی کہتے ہیں کہ یہ معاہدہ ابتداء میں تو ہدیہ ہے لیکن آخر میں آکر یہ تجارت میں بدل گیا ہے‘‘۔[9]

            تکافل کے نظام میں بھی عوض کی شرط موجود ہے ، جب کوئی شخص تکافل میں اشتراک کرتا ہے تو معاہدہ میں یہ شرط موجود ہوتی ہے کہ اس رقم کے بدلہ میں اس کی کسی مخصوص چیز میں نقصان ہونے پر تلافی کی رقم ادا کی جائے گی، عوض ادا کرنے کی یہ شرط تکافل کے معاہدہ کو تجارتی معاہدہ میں بدل دیتی ہے۔

تکافل میں اور کمرشل انشورنس میں کوئی فرق نہیں، دونوں معاہدوں میں بنیادی طور پر پانچ شروط ہوتی ہیں:

a انشورنس کرانے والا کون ہے ، اور انشورنس دینے والا کون۔

b کس چیز کی انشورنس کی جارہی ہے۔

c ماہانہ کتنی قسط ادا کی جائیگی۔

d نقصان کی صورت میں کتنی ادائیگی کی جائیگی۔

            e معاہدہ مکمل ہوتے ہی دونوں فریق پر اسے پورا کرنا لازم ہوگا،جو معاہدہ ختم کرے گا یا اس کی شروط پوری نہیں کرےگا دوسرا فریق اس کی رقم کا حقدار ہوگا۔

ان شروط سے یہ واضح ہورہا ہے کہ تکافل اور کمرشل انشورنس دونوں معاہدے ایک ہی خطوط پر استوار کئے گئے ہیں بس ناموں کے ساتھ ساتھ چند چیزوں کا فرق ہے۔

  عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ تکافل میں شریک شخص جو قسطیں ادا کررہا ہے وہ تعاون کے طور پر ادا کررہا ہے ۔ دین اسلام میں تعاون کرنے والے پر کسی قسم کی زبردستی نہیں ہوتی ، تعاون کرنے والا چاہے تو زیادہ ادا کرے چاہے کم ، چاہے تو منع کردے ، تو ہمارا سوال یہ ہے کہ یہ شریک شخص اگر قسطیں روک دے ، یا کم ادا کرے تو کیا اس کا تکافل کمپنی سے معاہدہ برقرار رہے گا؟ کیا نقصان کی صورت میں تکافل کمپنی اس کے نقصان کی ادائیگی کرے گی؟، یقیناً اس کا جواب نہیں میں ہوگا ، یہیں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تکافل کا معاملہ تعاون پر مبنی نہیں ہے بلکہ کلی طور پر ایک تجارتی معاہدہ ہے ۔

گزشتہ تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ تکافل ایک غیر شرعی تجارتی معاہدہ ہے جسے تعاون کا لبادہ پہنا کر اس میں موجود غیر شرعی اور حرام معاملات کو جائز کہنا ، حرام کو حلال کہنے کے مترادف ہے، اور اس کی قرآن و حدیث میں بڑی سخت وعید یں وارد ہیں۔

ایک ضروری وضاحت

تکافل کو جائز کہنے والے افراد کی طرف سے یہ بات بڑی شد ومد کے ساتھ کہی جاتی ہے کہ تکافل کو اکثر علماء نے جائز قرار دیا ہے ، خاص طور پر مالی معاملات میں انتہائی محتاط علما ء کمیٹی یعنی سعودی عرب کی کبار علماء کمیٹی نے بھی اسے جائز قرار دیا ہے۔

حقیقت حال یہ ہے کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مال و منافع کی حرص میں آکر علماء اور عوام دونوں کے سامنے غلط بیانی کی گئی ہے ، علماء کے سامنے تکافل کی جو صورت بیان کی گئی وہ موجودہ تکافل سے قطعی مماثلت نہیں رکھتی ، اور صرف نام ایک جیسا رکھ کر عوام کو بیوقوف بنایا جارہا ہے، اس دھوکہ دہی سے خبردار کرتے ہوئے سعودی عرب کی اسی علماء کمیٹی نے اپنے حالیہ فتوی میں موجودہ تکافل کی صورت کو حرام قرار دیا ہے ، مکمل فتوی کا ترجمہ درج ذیل ہے:

’’حمد وثناء کے بعد : بیشک علماء کمیٹی  پہلے کمرشل انشورنس کی حرمت کا فتوی جاری کرچکی ہے کیونکہ اس میں دھوکہ ہے ، جوا ہے ، اور لوگوں کے اموال کو باطل طریقہ سے ہڑپ کیا جاتا ہے ، اور یہ ایسے معاملات ہیں جنہیں شریعت نے حرام قرار دیا ہے اور ان سے سختی سے منع کیا ہے ، اور اسی طرح علماء کمیٹی نے تعاون پر مبنی انشورنس (تکافل ) کے جواز کا فتوی بھی دیا تھا جس کی صورت یوں (بیان کی گئی) ہے کہ نیک ومالدار افراد صدقہ خیرات جمع کریں جس سے محتاج و مجبور افراد کی مدد کی جائے ، اور رقم جمع کرانے والوں کو اس رقم سے کچھ بھی واپس نہیں ملے گا ، نہ اصل مال نہ ہی منافع اور نہ ہی کوئی اور بدل، کیونکہ تعاون کرتے ہوئے مال جمع کرانے والے کا مقصد صرف اور صرف اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنا ہوتا ہے نہ کہ کسی قسم کا دنیاوی فائدہ ، اور یہ تعاون اللہ تعالی کے اس فرمان میں مذکو ر ہے:

}وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى ۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ {(المائدہ:2)

ترجمہ: ’’اور تم نیکی کے کاموں اور تقوی پر تعاون کرو ، اور گناہ کے کاموں اور ظلم وزیادتی پر تعاون نہ کرو‘‘۔

 اسی طرح نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:’’اللہ تعالی اس وقت تک اپنے بندہ کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے‘‘  اور یہ معاملہ بالکل واضح ہے اس میں کسی قسم کی الجھن نہیں۔

البتہ گزشتہ کچھ عرصہ سے بعض اداروں اور کمپنیوں کی طرف سے لوگوں کے سامنے معاملات کو خلط ملط کرنے اور حقائق کو پلٹنے کا سلسلہ جاری ہے ، ان اداروں نے تجارتی انشورنس کو تعاونی انشورنس (تکافل ) کا نام دیا ہوا ہے اور لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے اور خود کو سہارا دینے کے لئے اس کے جوازکو علماء کمیٹی کی طرف منسوب کرتے ہیں جبکہ علماء کمیٹی اس سے مکمل طور پر بری ہے، اور کمیٹی نے پہلے ہی تجارتی انشورنس اور تعاونی انشورنس کے درمیان فرق کو واضح کردیا ہے ، لہذا نام بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی ، اسی لئے علماء کمیٹی نے حقائق کو ظاہر کرنے اور عوام کو اس دھوکہ سے خبردار کرنے کے لئے یہ فتوی جاری کیا ہے‘‘۔[10]

اس فتوی میں علماء کمیٹی نے واضح طور پر تحریر کیا ہے کہ جس تعاون پر مبنی انشورنس کے جواز کا فتوی جاری کیا گیا تھا وہ ایسا تعاونی انشورنس نظام ہے جس میں اشتراک کرنے والا شخص کسی قسم کے عوض کا مطالبہ نہ کرے ،اور یہی تعاون کی روح ہے ، جبکہ تکافل میں اشتراک کرنے والا ہر شخص جب تکافل کمپنی سے معاہدہ کرتا ہے تو اس میں یہ طے ہوتا ہے کہ اس کی طرف سے ادا کی جانے والی رقم کے بدلہ میں کمپنی اس کے ہونے والے ممکنہ نقصان کی تلافی کرے گی۔

قارئین کرام! اس تمام بحث کے مطالعہ کے بعد آپ یقیناً سمجھ سکتے ہیں کہ کس طرح حقائق کو مسخ کر کے اور بھرپور دھوکہ دہی کے ساتھ مسلمان عوام کو حرام کی طرف مائل کیا جارہا ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے اور حق کو سمجھنے اور اس کی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

انشورنس کا صحیح اسلامی متبادل

اللہ تعالی کبھی بھی اپنے بندوں کے لئے تنگی نہیں چاہتا بلکہ آسانیاں فراہم کرتا ہے ، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

 }يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ { (البقرہ:185)

ترجمہ:’’اللہ تعالی تمہارے ساتھ آسانی کرنا چاہتا ہے تنگی کرنا نہیں چاہتا‘‘۔

 اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ تجارتی معاملات جنہیں شریعت نے حرام قرار دیا ہےحلال تجارتی معاملات کی نسبت بہت کم ہیں، اسی طرح کھانے پینے کی اشیاء جنہیں حرام قرار دیا گیا ہے وہ حلال کردہ اشیاء سے بہت کم ہیں، پھر شریعت کا یہ قاعدہ ہے کہ اگر کسی چیز کو حرام کیا جاتا ہے تو اس کا متبادل بھی ضرور دیا جاتا ہے ، جیسے اللہ تعالی نے سود کو حرام کیا تو تجارت کو حلال کردیا ، شراب حرام کی تو اور بہت سے مشروبات پینے کے لئے مہیا کردئے ، زنا حرام کیا تو نکاح جائز کردیا اور اس کی رغبت دلائی غرض یہ کہ ہر حرام کے بدلہ میں ایک متبادل ضرور دیا ہے۔

موجودہ معاشرتی حالات میں انشورنس یقیناً بہت اہمیت کاحامل ہے ، کاروبار کے لئے نامناسب حالات کی وجہ سے ہونے والے خسارہ کے علاوہ بدامنی کی وجہ سے عام آدمی کو جو نقصانات ہورہے ہیں ان کی تلافی ہونی چاہئے کیونکہ شریعت میں پانچ چیزوں کی حفاظت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ، دین عقل، جان ،مال اور عزت، اور حقیقی اسلامی حکومت ان چیزوں کے تحفظ کو اپنا فرض سمجھتی ہے،لیکن زوال کا شکار امت مسلمہ میں ایسی حکومت ایک خواب بن چکی ہے ، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ انفرادی طور پر ایسے نقصانات کی روک تھام اور تلافی کی کوشش کی جائے ، انشورنس اسی کوشش کا ایک مظہر ہے لیکن مال و دولت کے حریص افراد کے ہاتھوں یہ نظام بھی مجبور و مظلوم افراد کی مدد کی بجائے ایک تجارت بن کر رہ گیا، اسی طرح تکافل کا نظام بھی جو ابتدائی طور پر خالصتاً تعاون پر مبنی تھا اب تجارت میں ڈھل چکا ہے۔

گزشتہ چند صفحات میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ انشورنس غیر شرعی معاملہ ہے تو شریعت مطہرہ میں یقیناً اس کا متبادل موجود ہوگا ، ضرورت یہ ہے کہ اسے تلاش کیا جائے اور اسے قابلِ عمل بنایا جائے، انشورنس کا حقیقی متبادل جو تکافل اور انشورنس کی تمام ضروریات کو پورا کرتا ہے اور اس میں کوئی حرام معاملہ بھی نہیں ہے اور جس کی طرف سعودی عرب کی علماء کمیٹی نے بھی اشارہ کیا ہے وہ ہے ’’وقف‘‘۔

وقف کی تعریف

 امام ابن قدامہ فرماتے ہیں: ’’هو تحبيس الأصل وتسبيل المنفعة‘‘۔ یعنی اصل مال کو روک لینا اور اس کے منافع کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنا۔

وقف کی اصل ہمیں نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  کی اس حدیث میں ملتی ہے جس میں آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے عمررضی اللہ عنہ کو زمین وقف کرنے کا مشورہ دیا تھا ، اور اسی حدیث میں ہمیں وقف کے احکام ومسائل کا صحیح علم ہوتا ہے ، حدیث یہ ہے کہ :’’ عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ عمر کو خیبر سے حصہ میں کچھ زمین ملی تو عمر نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس اس زمین کے بارے میں مشورہ کے لئے گئے اور کہنے لگے: ’’اے اللہ کے رسول   صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے خیبر سے کچھ زمین ملی ہے اور اس سے بہتر مال مجھے آج تک نہیں ملا، تو آپ مجھے اس بارے میں کوئی مشورہ دیں ‘‘ نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’اگر تم چاہو تو (یوں کروکہ ) اس کے اصل کو روک لو اور اس کے منافع کو اللہ تعالی کے راستہ میں صدقہ کردو‘‘ تو عمر نے یوں ہی کیا کہ اسے صدقہ کردیا، اس شرط پر کہ نہ تو اسے بیچا جائے گا ، نہ ہدیہ کیا جائے گا نہ وراثت میں تقسیم ہوگا اور اس زمین کو فقراء مساکین قریبی رشتہ داروں ، گردن آزاد کرانے میں ، جہاد میں ، مسافر اور مہمان کے لئے صدقہ کردیا، اور یہ بھی کہ جو اس کی دیکھ بھال کرے گا اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق اس میں سے لیتا رہے لیکن اس سے زیادہ مال جمع کرنے کی کوشش نہ کرے۔‘‘[11]

اس حدیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ :

ایسی چیز وقف کی جائے گی جو ہمیشہ باقی رہے ، جیسے زمین وغیرہ ، اسی وجہ سے بعض علما ء کے نزدیک روپیہ کو وقف کرنا درست نہیں ، لیکن راجح قول یہ ہے کہ روپیہ کو وقف کرنا درست ہے اس شرط پر کہ اس روپیہ سے ایسا کاروبار کیا جائے یا ایسی جگہ لگایا جائے جہاں سے اس کا منافع آتا رہے ۔

وقف کو بیچنا یا واپس لینا جائز نہیں کیونکہ وقف ایک طرح کا صدقہ ہے۔

وقف کرنے والا اگر چاہے تو وقف کی جہتیں معین کرسکتا ہے یعنی وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ اسکا منافع صرف مساکین کے لئے ، یا صرف جہاد کے لئے ہےوغیرہ۔

وقف کی دیکھ بھال کرنے والا اس میں سے اپنی اجرت لے سکتا ہے۔

ان تمام باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وقف، انشورنس کا صحیح متبادل ہے ، اور اگر تاریخ اسلامی پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں بے شمار  ایسے اوقاف نظر آ ئیں گے جو خصوصاً مصیبت زدہ افراد کے ساتھ تعاون کے لئے بنائے گئے تھے۔

انشورنس کے متبادل کے طور پر وقف کو استعمال کرنے کے لئے اس کا بنیادی ڈھانچہ کچھ یوں بنایا جاسکتا ہے کہ:

  چند مخیر حضرات مل کر کچھ رقم وقف کریں۔

   اس وقف شدہ رقم کو کسی حلال کاروبار میں لگادیا جائے اور اس کا منافع جمع کیا جاتا رہے۔

   اس وقف کے منافع کو چند مخصوص مصائب کے لئے خاص کردیا جائے، مثلاًاس طرح کہ یہ وقف صرف ان افراد کے لئے ہے جن کی گاڑی کو حادثہ پیش آجائے ، یا ان افراد کے لئے جو کینسر میں مبتلا ہوں اور علاج کی طاقت نہ رکھتے ہوں ، یا ان افراد کے لئے جو بیروزگار ہوں اور مالی مشکلات کا شکار ہوں ، یا بیواؤں کے لئے ، یا یتیموں کے لئے ، غرض یہ کہ کسی بھی مصیبت یا مصائب اور حالات کے شکار افراد کو خاص کیا جاسکتا ہے۔

   وقف میں رقم دینے والے مخیر حضرات میں سےا گر کوئی اس مصیبت کا شکار ہوتا ہے تو اس کے لئے بھی وقف سے حصہ نکالا جائے گا ۔

   وقف کی دیکھ بھال کرنے والے افراد یا کمپنی کو اس وقف کی دیکھ بھال کی اجرت یا خرچہ اسی وقف کے منافع سے ادا کیا جائے گا۔

   وقف میں حصہ ڈالنے والے مخیر حضرات میں سے کوئی بھی وقف کی اصل رقم اور نہ ہی اس کے منافع کا مطالبہ کرے گا ، کیونکہ یہ وقف خالصتا ً اللہ تعالی کی رضا کے حصول اور مستحقین کی امداد کے لئے قائم کیا جائے گا۔

یہ صرف ایک ابتدائی خاکہ ہے جسے عملی تصویر پہنانے میں یقیناً بہت محنت درکار ہے لیکن اگر اس طرح کہ چند اوقاف بنا لئے جائیں اور انہیں چند مخصوص مصائب میں گرفتا ر افراد کے تعاون کے لئے خاص کردیا جائے تو اس کا معاشرہ پر بہت اچھا اثر پڑے گا ، اس وقف کی رقم کو کاروبار میں لگانے سے نئی ملازمتیں ملیں گی ، اور اس کے منافع سے کئی مستحقین کے ساتھ تعاون بھی ہوگا اور چونکہ یہ ایک اجتماعی عمل ہوگا جو کہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جائے گا اسی لئے اس کے نتائج بھی بہت بہتر اور دوررس نکلیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ عالم اسلام میں آج بھی ایسے اوقاف موجود ہیں جن کی جہتیں متعین ہیں ، کوئی وقف خالصتاً بیواؤں کے لئے ہے ، کوئی یتیموں کے لئے ہے ، کوئی وقف قرض لینے والوں کے لئے خاص ہے اور انہیں بغیر سود کے قرض مہیا کرتا ہے ، کسی وقف کے تحت ایک ہسپتال ہے جس میں مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے ، ایک بہترین وقف کی زندہ مثال وقف الملک عبدالعزیز ہے جو کہ ایک (72) بہتر منزلہ عمارت ہے اور بیت اللہ کے بالکل سامنے ہے یہ ایک ہوٹل ہے جس کا نام ابراج زمزم (زمزم ٹاور)ہے اس کی ساری آمدنی کو مسجد الحرام کے اخراجات کے لئے وقف کیا گیا ہے۔

 اگر ان اوقاف کی جہتوں میں کچھ توسیع کرلی جائے اور ان میں وہ چیزیں بھی شامل کردی جائیں جن کا انشورنس کرایا جاتا ہے تو یہ یقیناً سودی انشورنس اور تکافل کے نظام سے ایک بہت بہتر نظام اور بالاتفاق جائز معاملہ ہوگا۔ دشواری صرف اس بات کی ہے کہ تعاون میں بھی تجارت ڈھونڈنے اور دین سے دنیا حاصل کرنے والے افراد کو یقیناً یہ کاوش پسند نہیں آئے گی اور وہ اسے پیسوں کا ضیاع اور کاروباری گھاٹا تسلیم کریں گے ۔

دنیا کی نظر میں یقیناً صدقہ کرنے والے کو اس کے صدقہ میں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ، لیکن ’’دنیا فانی ہے ‘‘کے فلسفہ پر یقین رکھنے والے اور اخروی زندگی پر ایمان لانے والے کا عقیدہ یہ ہے کہ ہمیں حاصل ہی وہ ہوتا ہے جو ہم اللہ کے راستہ میں خرچ کرتے ہیں، نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے :جب آدم کا بیٹا مرتا ہے تو اس کے سارے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں ، سوائے تین اعمال کے ، صدقہ جاریہ، ایسا علم جو نفع پہنچائے، وہ نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرے‘‘۔[12]

وقف صدقہ جاریہ کی بہترین عملی تصویر ہے ، وقف کرنے والے یا وقف میں حصہ ڈالنے والے جب تک زندہ ہیں وہ کسی حادثہ کا شکار ہونے کی صورت میں اپنے وقف سے مستفید ہوسکتے ہیں ، اور ان کی زندگی میں اور وفات کے بعد بھی یہ وقف ان کے لئے اجرو ثواب کا باعث بنا رہے گا۔

والله أعلم وصلى الله علي نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعبن


ایڈورٹائزنگ

 

 

 



[1]  چیئرمین المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی

[2] سنن الترمذی :کتاب الزهد، باب فی التوکل علی اللہ، ح 2268، امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے۔

[3] حاشية رد المختار  3/ 249

[4] صحيح مسلم : کتاب البیوع، باب بطلان بیع الغرر والبیع الذی فیہ غرر، حدیث نمبر 1513

[5] السنن الکبری للبيهقي:کتاب  الشھادات، باب ماجاء فی ذم الملاھی من المعازف والمعاذیر..(صحیح لغیرہ)

[6] صحيح مسلم: کتاب المساقاۃ، باب الربا

[7] سنن ترمذی: کتاب البیوع، باب ماجاء فی کراھیۃ بیع ما لیس عندک(یہ حدیث صحیح ہے)

[8] صحيح بخاری : کتاب الھبۃ و فضلھا والتعریض علیھا، باب ھبۃ الرجل لأمراتہ والمرأۃ لزوجھا

[9] بدائع الصنائع6/ 132

[10] فتاوی اللجنة الدائمة :15/ البيوع / فتویٰ نمبر 19406

[11] سنن ابن ماجہ: کتاب الصدقات، باب من وقف

[12] جامع ترمذی: کتاب الأحکام، باب فی الوقف ۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے

Read 735 times Last modified on جمعرات, 12 جولائی 2018 17:53