بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
ہفتہ, 12 جنوری 2019 15:51

آیت الکرسی کا مفہوم

Written by  ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ، ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 10 صفر 1440 کا خطبہ جمعہ " آیت الکرسی کا مفہوم اور افواہوں کے متعلق ہدایات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں عظیم ترین آیت ؛ آیت الکرسی ہے، اس آیت میں اللہ تعالی کے اسما و صفات کا جامعیت کے ساتھ ذکر ہے، سب سے پہلے اس آیت میں اللہ تعالی کی الوہیت کا اقرار، پھر ازل سے ابد تک قائم دائم رہنے کی صفت ذکر ہوئی، اللہ تعالی کو نیند آتی ہے اور نہ ہی اونگ، آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی بادشاہت میں شامل ہے، کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا، اور نبی ﷺ کی سفارش اہل توحید کے لیے سب سے پہلے میسر ہو گی، انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی علم غیب نہیں جانتا، اس کی کرسی آسمان و زمین سے بھی وسیع ہے، جس سے اللہ تعالی کی بے انتہا عظمت اور کبریائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اس لیے اللہ سے جب مانگیں تو وہ بھی بے حساب مانگیں، انہوں نے آخر میں یہ بھی کہا کہ ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے سے جنت میں داخلے کے لیے صرف موت ہی رکاوٹ بنتی ہے، اسی طرح آیت الکرسی پڑھنے سے اللہ تعالی کی جانب سے محافظ بھی مقرر ہو جاتا ہے، دوسرے خطبے میں انہوں نے بتلایا کہ مملکت سعودی عرب کے خلاف اٹھنے والی افواہوں پر مسلمان کا رد عمل کیا ہونا چاہیے اور کس طرح کی بات زبان پر لانی چاہیے پھر آخر میں انہوں نے سب کے لیے جامع دعا فرمائی۔

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جو کہ ہمیشہ سے زندہ اور ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے، اسی کی حمد خوانی اور شکر بجا لاتا ہوں اسے نیند آتی ہے اور نہ ہی اونگ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہ بلند و بالا اور عظیم ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے ہماری سیدھے راستے کی جانب رہنمائی فرمائی۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور ٹھوس منہج پر چلنے والے صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہو، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102]

رسول اللہ ﷺ نے ایک بار فرمایا: ( ابو منذر ! کیا تم جانتے ہو تمہاری یاد کردہ آیتوں میں سے کون سی آیت عظیم ترین ہے؟ ) میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : (ابو منذر ! کیا تم جانتے ہو تمہاری یاد کردہ آیتوں میں سے کون سی آیت عظیم ترین ہے؟)میں نے عرض کیا : " اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ"[؟] اس پر آپ ﷺ نے میرے سینے پر تھپکی دی اور فرمایا : (ابو منذر! تمہیں علم مبارک ہو ۔)

آیت الکرسی عظیم ترین آیت ہے؛ کیونکہ اس آیت میں اسما و صفات سے متعلق تمام بنیادی باتیں جمع ہیں، اس آیت نے اللہ تعالی کی عظیم قدرت بیان کی ہے۔

{اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ} رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (ایمان کی ستر سے کچھ زائد یا ساٹھ سے کچھ زائد شاخیں ہیں، ان میں سے افضل ترین "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" کا اقرار ہے۔) تو [آیت کے اس حصے کا مطلب یہ ہے کہ ]اللہ سبحانہ و تعالی حق ہے، اس کی بات بھی حق ہے، اس کے وعدے بھی حق ہیں، اس کا دین بھی حق ہے، اس کی کتاب بھی حق ہے، جس کے بارے میں اللہ نے خبر دی وہ بھی حق ہے، اور جس کا حکم دیا وہ بھی حق ہے؛ اللہ تعالی اپنی ذات اور صفات میں بھی حق ہے، اللہ تعالی کی صفات اور خوبیاں بھی کامل ترین ہیں، وہی ہے جو ہمیشہ سے ہمیشہ تک کے لیے ہے، ازل سے ابد تک جلال، جمال، اور کمال سے موصوف ہے، اس کا احسان ہمیشہ سے ہمیشہ تک کے لیے ہے۔

{الْحَيُّ الْقَيُّومُ } یعنی وہی ایسی ذات ہے جسے موت آئے گی اور نہ ہی بوسیدگی کا شکار ہو گی، دائمی زندگی اور بقا اسی کے لیے ہے، اس ذات کی ابتدا یا انتہا کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا ہے، اور {اَلْقَيُّومُ } میں اللہ تعالی کی کمال درجے کی استقلالیت، اور قدرت مذکور ہے؛ کیونکہ وہ بذات خود قائم دائم ہے، اور دوسروں کو قائم دائم رکھے ہوئے ہے؛ لہذا اللہ تعالی کے بغیر کسی کا بھی وجود ممکن نہیں؛ گویا کہ ان دونوں ناموں میں کمال کی تمام تر صفات ایک لڑی میں پرو دی گئیں، یہی وجہ ہے کہ ان دونوں ناموں کے ذریعے اللہ سے مدد کا طلب گار اللہ تعالی کے تمام تر اسما اور صفات کے ساتھ مدد طلب کرنے والا بن جاتا ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کثرت کے ساتھ ان دونوں ناموں کے ذریعے دعائیں کرتے تھے، بلکہ جب آپ کو شدید نوعیت کی پریشانی ہوتی تو فرماتے: (يَا حَيُّ يَا قَيُّوْمُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيْثُ) [یا حیی! یا قیوم! میں تیری رحمت کے واسطے سے مدد طلب کرتا ہوں]

اگر کوئی مسلمان غور کرے اور اس بات کو اچھی طرح سمجھ لے کہ اس کا پروردگار {الْحَيُّ الْقَيُّومُ } ہے، تو اس کا دل مطمئن ہو کر پر سکون ہو جائے گا، اسے تدبیروں کی ضرورت نہ رہے گی، نیز شر اور گناہوں سے بچ جائے گا۔

{لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ} [اسے نیند آتی ہے اور نہ ہی اونگ]مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی بندوں میں پائے جانے والے ہر قسم کے نقص ، کمی، اور عیب سے پاک ہے؛ اس بات کی گواہی پوری کائنات کا نظام ، زندگی کا رواں دواں پہیہ اور مخلوقات کے اسباب معاش سب کے سب دے رہے ہیں۔

{لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ} وگرنہ ساری کائنات درہم برہم ہو جائے، کائنات کی روانی تباہ ہو جائے اور نظام کائنات میں خرابیاں میں آ جائیں، فرمان باری تعالی ہے: {لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ} نہ تو سورج سے یہ ہو سکتا ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ ہی رات دن پر سبقت لے جاسکتی ہے۔ [يس: 40] دریاؤں اور سمندروں کا پانی تھم جائے۔

جب آنکھیں سکون پا رہی ہوں، اور تارے غروب ہو چکے ہوں اس وقت کچھ مومنین اپنے بستروں سے اٹھ کر ایسی ذات سے مناجات کرتے ہیں جسے نیند آتی ہے نہ ہی اونگ اور پھر وہ ذات ان کی دعائیں قبول بھی کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (ہمارا پروردگار روزانہ جب رات کی آخری تہائی باقی رہ جائے تو آسمان دنیا تک نازل ہوتا ہے اور فرماتا ہے: کون ہے جو مجھے پکارے اور میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے میں اسے عطا کروں، اور کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے تو میں اسے بخش دوں؟)

{لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ} یعنی آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی ملکیت ، قدرت اور تخمینے کی رہین منت ہے۔ ہر چیز میں اسی کا فضل، درجہ بندی، حکم اور حکمت کار فرما ہے؛ تمام عظیم ترین افلاک اور عالموں کا وہی خالق، مالک اور معبود بر حق ہے، اس کے سوا کوئی معبود بر حق اور پروردگار نہیں۔

{مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ }[کون ہے جو اس کے پاس سفارش کرے؟ الا کہ وہ کسی کو اجازت دے دے] رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (روزِ قیامت میری شفاعت پا کر سعادت مند ترین بننے والا شخص وہ ہو گا جس نے سچے دل یا نفس کے ساتھ " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کا اقرار کیا ہو گا)

{ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ }[جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو ان سے اوجھل ہے اسے بھی جانتا ہے۔ یہ لوگ اللہ کے علم میں سے کسی چیز کا بھی ادراک نہیں کر سکتے مگر اتنا ہی جتنا وہ خود چاہے۔] لہذا وہی سبحانہ و تعالی سننے والا، دیکھنے والا، جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے، وہ تو سیاہ چیونٹی کے سیاہ چٹان پر اندھیری رات میں رینگنے کو بھی دیکھ رہا ہے، بلکہ چیونٹی کی رگوں اور اعضا تک غذا پہنچانے والے راستوں کو بھی دیکھ رہا ہے۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ} اور غیب کی چابیاں تو اسی کے پاس ہیں جسے اس کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا۔ بحر و بر میں جو کچھ ہے اسے وہ جانتا ہے اور کوئی پتہ تک نہیں گرتا جسے وہ جانتا نہ ہو، نہ ہی زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ ہے جس سے وہ باخبر نہ ہو۔ اور تر اور خشک جو کچھ بھی ہو۔ سب کتاب مبین میں موجود ہے [الأنعام: 59] اس لیے اللہ تعالی کے علم کا احاطہ کسی مقرب فرشتے ، یا نبی اور رسول کو بھی نہیں ہے؛ تو قیافہ شناس، کاہن اور مستقبل کی معرفت کا دعوی کرنے والے شعبدہ بازوں کو کس طرح علم الہی کا احاطہ ہو سکتا ہے؟! اللہ تعالی کا یہ بھی فرمان ہے: {قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ} آپ کہہ دیں: آسمانوں اور زمین میں کوئی بھی اللہ کے سوا غیب نہیں جانتا۔ [النمل: 65]

{ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ } [اللہ کی کرسی آسمانوں اور زمین سے بھی وسیع ہے]اللہ تعالی کی ذات کس قدر عظیم ہے، وہ بہت بڑا اور بلند و بالا معبود ہے، اس کی قدرت بالکل واضح ہے، اللہ سبحانہ و تعالی کا علم بھی وسیع، اللہ کی تونگری بھی وسیع، اس کے انعامات، فضل اور سخاوت بھی وسیع، اس کی قوت اور عظمت بھی وسیع، اس کی قدرت بھی وسیع، اس کی حکمت بھی وسیع، اور اسی کی مغفرت و رحمت بھی وسیع ہے۔

تو مسلمان ایسے رب کی بندگی کرتا ہے جس کی عنایتیں بھی ہر چیز سے وسیع ہیں، اللہ کا فضل ہر تمنا خواہ کی چاہت سے بھی وسیع ہے؛ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ جب بھی کوئی اللہ تعالی سے دعا مانگے تو کسی بھی دعا کو اللہ تعالی پر بوجھ مت سمجھے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جب بھی تم میں سے کوئی اللہ سے مانگے تو کھل کر مانگے؛ کیونکہ وہ اپنے رب سے مانگ رہا ہے) اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: (جب بھی تم اللہ سے مانگو تو جنت الفردوس مانگو؛ کیونکہ وہ بہترین اور اعلی ترین جنت ہے، اس سے اوپر رحمن کا عرش ہے، اور وہیں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں)

{ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا } [یعنی آسمان و زمین کی حفاظت اسے نہیں تھکاتی]مطلب یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کی حفاظت میں ہے، اللہ سبحانہ و تعالی ہر چیز کی حفاظت کرنے والا ہے، وہی تمام کے تمام مکلف بندوں کی کارکردگی محفوظ فرما رہا ہے، وہ جسے چاہتا ہے شر، تکلیف اور آزمائش سے محفوظ بنا دیتا ہے، اس لیے ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایک دعا سکھلائی کہ : (اَللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَينِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي[یا اللہ! میری آگے، پیچھے، دائیں، بائیں اور اوپر سے حفاظت فرما، اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں کہ اپنے نیچے سے اچک لیا جاؤں])

اللہ تعالی یکتا اور تنہا ہی انسان کی حفاظت فرماتا ہے، بشرطیکہ انسان اللہ کی حدود کا خیال کرے، حرام کردہ کاموں سے اجتناب کرے، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ}پس نیک عورتیں فرماں بردار ہیں، پیٹھ پیچھے حفاظت کرنے والی ہیں، اس لیے کہ اللہ نے انہیں محفوظ رکھا ۔[النساء: 34]

آیت الکرسی مسلمانوں کے لیے کسی غنیمت سے کم نہیں، یہ اللہ تعالی کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک ہے، اسے صبح اور شام کے اذکار میں تاکید کے ساتھ پڑھنا چاہیے کہ اس سے اللہ کی حفاظت حاصل ہوتی ہے، اسی آیت الکرسی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جس شخص نے ہر نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی تو اس کے جنت میں داخلے سے رکاوٹ صرف موت ہی ہے) اور اگر آیت الکرسی سوتے وقت پڑھی جائے تو: (اللہ تعالی کی طرف سے تم پر محافظ مقرر کر دیا جائے گا، اور صبح ہونے تک شیطان بھی تمہارے قریب نہیں پھٹکے گا)

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کے لیے قرآن کریم کو بابرکت بنائے، اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو اس کی حکمت بھرئی نصیحتوں سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں وہی ہمیں کافی ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہی بلند و بالا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ جناب محمد اللہ کے چنیدہ بندے ،برگزیدہ نبی اور پسندیدہ رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر ،آپ کی آل ،صحابہ کرام اور تمام متبعین سنت پر رحمتیں نازل فرمائے ۔

حمد و صلاۃ کے بعد: میں سب کو تقوی الہی اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں ۔

جس وقت چہار سو باتیں بنائی جا رہی ہوں، فضا قیل و قال سے اٹ چکی ہو ، تو ایسے میں مسلمان کی ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ جو کچھ دیکھ سن رہا ہے، اور جو کچھ بول رہا ہے اسے شریعت و عقل کے میزان میں تول لے؛ چنانچہ اگر مسلمان کے بول فتنے کو بجھائیں، امید کی کرن جگائیں، امن و امان کو مضبوط بنائیں، لوگوں میں اطمینان کو فروغ دیں، شور شرابا دفن کریں، فتنے کا دروازہ بند کریں، قومی مفاد کو ترجیح دیں، پوری قوم کو مضبوط کریں، حکمرانوں کے حقوق کو تحفظ دیں، تو ایسے بول اچھے بول ہیں۔

اور اگر انسان کے بول سے ہنگامہ کھڑا ہو، امن و امان سبوتاژ ہو، دنگا بپا ہو، حکمرانوں کے متعلق اعتماد کو ٹھیس پہنچے، علمائے کرام کے مقام میں رخنہ ڈلے، قومی تعمیر و ترقی میں رکاوٹ بنے تو ایسا بول خبیث بول ہے، اسے آغاز میں ہی درگور کر دینا چاہیے، اور اس سے لا تعلق ہو جانا چاہیے۔

مملکت سعودی عرب مضبوط بنیادوں پر قائم ہے، اس کا اندرونی اتحاد انتہائی مضبوط ہے، مملکت کو بدنام کرنے کی کوشش محض رسوائی ہے، بلکہ مملکت کے دشمنوں کے حصے میں ہمیشہ شکست آئی ہے۔ جبکہ مملکتِ حرمین کے امن کو مضبوط بنانے کے اقدامات، مملکت کے خلاف حملے روکنا، وحدت کے لیے کاوشیں کرنا شرعاً اور عقلاً ہر اعتبار سے واجب ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ (3) الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ}پس وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں [3] جس نے انہیں بھوک میں کھلایا اور دہشت سے امن عطا کیا۔ [قريش: 3، 4]

اللہ کے بندو!

رسولِ ہُدیٰ پر درود و سلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں تمہیں اسی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔ [الأحزاب: 56]

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی سے راضی ہو جا، انکے ساتھ ساتھ اہل بیت، اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، نیز اپنے رحم ، کرم، اور احسان کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! کافروں کے ساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! تیرے اور دین دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں یا اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں برے ارادے رکھے، یا اللہ! اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعاء!

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے ہر قول و فعل کی توفیق مانگتے ہیں ۔ یا اللہ! ہم جہنم اور جہنم کے قریب کرنے والے ہر قول و عمل سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے۔ یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے۔ اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، نیز ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت، اور تونگری کا سوال کرتے ہیں۔

یا اللہ! ہم تجھ سے شروع سے لیکر آخر تک، ابتدا سے انتہا تک ، اول تا آخر ظاہری اور باطنی ہر قسم کی جامع بھلائی مانگتے ہیں، نیز تجھ سے جنتوں میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! توں ہی معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند بھی فرماتا ہے، لہذا ہمیں معاف فرما دے۔

یا اللہ! ہم تیری نعمتوں کے زوال، تیری طرف سے ملنے والی عافیت کے خاتمے، تیری اچانک پکڑ اور تیری ہمہ قسم کی ناراضی سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم پر اپنی برکتوں، رحمتوں، فضل اور رزق کے دروازے کھول دے۔

یا اللہ! ہمارے تمام معاملات بہتر فرما دے، اور ہمیں ہمارے اپنے رحم و کرم یا اپنی کسی بھی مخلوق پر ایک لمحے کے لیے بھی نہ چھوڑنا۔

یا اللہ! ہم تجھ سے بہترین انجام کار کا سوال کرتے ہیں، ماضی میں جو کچھ بھی گناہ اور نافرمانیاں ہوئیں ان کی معافی مانگتے ہیں۔

یا اللہ! ہمیں ،ہمارے والدین اور تمام مسلمانوں کو بخش دے، یا اللہ! مسلمان فوت شدگان پر رحم فرما، بیماروں کو شفا یاب فرما، اور ہمارے تمام معاملات خود ہی سنبھال لے، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے دعا گو ہیں، یا اللہ! تو ہی غنی ہے، اور ہم فقیر ہیں، ہمیں بارش عطا فرما اور ہمیں مایوس مت فرما۔ یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما۔ یا اللہ! تیری رحمت والی بارش ہو، تیرے عذاب، آزمائش میں ڈالنے والی ، ڈبونے ، اور منہدم کرنے والی نہ ہو، یا اللہ! ایسی بارش ہو کہ دھرتی لہلہا اٹھے اور لوگوں کو پینے کا پانی میسر آئے، شہری اور دیہاتی سب علاقوں کے لیے مفید ہو، تیری رحمت کا تجھے واسطہ دیتے ہیں، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ!ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین اور ان کے ولی عہد کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ان دونوں کو تیری رضا اور رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، یا رب العالمین! یا ارحم الراحمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھنا۔

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]

تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی تمہاری تمام کارکردگی سے بخوبی واقف ہے۔

Read 35 times

جدید خطبات

خطبات

  • آیت الکرسی کا مفہوم
    آیت الکرسی کا مفہوم
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 10 صفر 1440 کا خطبہ جمعہ " آیت الکرسی کا مفہوم اور افواہوں کے متعلق ہدایات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں عظیم ترین آیت ؛ آیت الکرسی ہے، اس آیت میں اللہ تعالی کے اسما و صفات کا جامعیت کے ساتھ ذکر ہے، سب سے پہلے اس آیت میں اللہ تعالی کی الوہیت کا اقرار، پھر ازل سے ابد تک قائم دائم رہنے کی صفت ذکر ہوئی، اللہ تعالی کو نیند آتی ہے اور نہ ہی اونگ، آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی بادشاہت میں شامل ہے، کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا، اور نبی ﷺ کی سفارش اہل توحید کے لیے سب سے پہلے میسر ہو گی، انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی علم غیب نہیں جانتا، اس کی کرسی آسمان و زمین سے بھی وسیع ہے، جس سے اللہ تعالی کی بے انتہا عظمت اور کبریائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اس لیے اللہ سے جب مانگیں تو وہ بھی بے حساب مانگیں، انہوں نے آخر میں یہ بھی…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 13-رجب- 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی کیلیے حسن اخلاق کا کوئی ثانی نہیں، اسی لیے کتاب و سنت میں اچھا اخلاق اپنانے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، نیز رسول اللہ ﷺ کی جن خوبیوں کا ذکر اللہ تعالی نے فرمایا ان میں حسن اخلاق سر فہرست ہے، آپ ﷺ نے خود فرمایا کہ مجھے اعلی اخلاقیات کی تکمیل کیلیے بھیجا گیا ہے، مومن شخص اعلی اخلاق کی بدولت نفل روزے اور راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے، اچھے اخلاق کا مالک شخص جنت میں رسول اللہ ﷺ کے قریب ترین ہو گا، حسن اخلاق کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ جنت جائیں گے، قیامت کے دن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہو گی، ایک جگہ آپ ﷺ یہاں تک فرما دیا کہ: نیکی حسن اخلاق کا نام ہے، پھر انہوں نے بتلایا کہ حسن خلق کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی شریعت کے مطابق ہو، دوسروں کی خدمت، جود و…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے "اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ" کے عنوان پر 07 ذوالقعدہ 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ خطرات اور مسائل سے بھری ہوئی دنیاوی زندگی میں انسان کو بلند ہمت بنانے کی اشد ضرورت ہے، اور اس کیلیے اللہ تعالی پر توکل بہترین طریقہ ہے، اگر انسان صحیح معنوں میں متوکل ہو تو وہ دنیا میں کسی کا محتاج نہیں رہتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ متوکل دنیا کی ہر چیز کو اللہ تعالی کے زیر تسلط اور ملکیت جانتا ہے لہذا جس چیز کی بھی اسے ضرورت محسوس ہو وہ چیز اللہ سے مانگنے پر اسے مل جاتی ہے، توکل ظاہری اسباب اپنانے سے متصادم نہیں ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہوتی ہے کہ انسان اسباب اپنانے کے بعد ان پر کلی اعتماد نہ کرے بلکہ اللہ تعالی کی ذات پر کامل بھروسا اور یقین رکھے، چنانچہ اسباب اپنانے کے بعد اس کے نتائج اللہ کے سپرد کر دینا توکل کا مطلب ہے ۔ سابقہ اقوام اور صحابہ کرام کے عمل سے توکل کا یہی مفہوم سامنے آتا ہے، دوسرے خطبے میں…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے07-جمادی ثانیہ-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" شرم و حیا شریعت کی روشنی میں" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ اسمائے حسنی کی معرفت عبادت الہی کی کنجی ہے انہی اسمائے حسنی میں سے ایک "اَلْحَيِيُّ" یعنی بہت زیادہ حیا کرنے والا بھی ہے، حیا اللہ تعالی کی صفت ہے، اس کا ذکر کتاب و سنت میں موجود ہے، حیا تمام تر اخلاقی اقدار کا سرچشمہ ہے، حیا انسان کو برائی سے روکتی ہے اور اچھے کاموں کی ترغیب دلاتی ہے، حیا ان اخلاقی اقدار میں شامل ہے جو اولین زمانۂ نبوت سے معتبر اور مطلوب ہیں، حیا سے اشرف المخلوقات سمیت فرشتے بھی موصوف ہیں، آدم، نوح، موسی سمیت تمام کے تمام انبیائے  علیہم السلام حیا سے آراستہ تھے، ہمارے نبی ﷺ سب سے زیادہ با حیا تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے، حیا خواتین کا فطری زیور اور زینت ہے، اسی لیے سیدہ عائشہ اور دیگر صحابیات حیا کی پیکر تھیں، بلکہ اہل جاہلیت بھی حیا پر قائم دائم تھے، نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق حیا سرتا پا خیر ہی خیر ہے، حیا…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عذاب قبر کے اسباب اور نجات کے ذرائع
    عذاب قبر کے اسباب اور نجات کے ذرائع
    پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ایمان اور صبر جیسی نعمت پر تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اس فضل پر اسی کا شکر بجا لاتے ہیں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، کائنات کے فیصلے اور تصرف اسی کے ہاتھ میں ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے مومنوں کو ان کی قبر کی حالت سے بہرہ ور فرمایا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور ہر جگہ پیش رو بننے والے صحابہ کرام پر رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہو، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] انسانی زندگی کے اس سفر میں متنوع اور مختلف مرحلے ہیں، انسان ایک عرصہ ماں کے پیٹ میں، پھر زمین کی پشت پر اور دوبارہ جی اٹھائے جانے تک زمین کے نیچے…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم