بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
پیر, 07 جنوری 2019 16:28

اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت

Written by  خ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ، ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 13-رجب- 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی کیلیے حسن اخلاق کا کوئی ثانی نہیں، اسی لیے کتاب و سنت میں اچھا اخلاق اپنانے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، نیز رسول اللہ ﷺ کی جن خوبیوں کا ذکر اللہ تعالی نے فرمایا ان میں حسن اخلاق سر فہرست ہے، آپ ﷺ نے خود فرمایا کہ مجھے اعلی اخلاقیات کی تکمیل کیلیے بھیجا گیا ہے، مومن شخص اعلی اخلاق کی بدولت نفل روزے اور راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے، اچھے اخلاق کا مالک شخص جنت میں رسول اللہ ﷺ کے قریب ترین ہو گا، حسن اخلاق کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ جنت جائیں گے، قیامت کے دن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہو گی، ایک جگہ آپ ﷺ یہاں تک فرما دیا کہ: نیکی حسن اخلاق کا نام ہے، پھر انہوں نے بتلایا کہ حسن خلق کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی شریعت کے مطابق ہو، دوسروں کی خدمت، جود و سخا، صبر شکر ، حلم، رضا ، منکسر المزاج، عفت، شفقت، رحمدلی،نرم مزاجی اور شگفتگی سے بھر پور ہوتا ہے، دوسروں کے کام آتا ہے، اسی طرح وہ اکھڑ مزاج ، لعن طعن ، چیخ و پکار، جلد بازی، بد گوئی ،بخیلی اور لالچ نہیں کرتا، پھر آخر میں کہا کہ حیا ان سب چیزوں کا سنگم ہے، دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ مومن ہمیشہ گھل مل کر رہنے والا ہوتا ہے، پھر رجب کے حوالے سے بتلایا کہ اس ماہ میں خصوصیت کے ساتھ کسی عبادت کی کوئی فضیلت نہیں ہے، اور آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی ۔

پہلا خطبہ

ڈھیروں، پاکیزہ، اور بابرکت تعریفیں اللہ کیلیے ہیں ، جیسے ہمارے پروردگار کو پسند ہوں اور جن سے وہ راضی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، دنیا اور آخرت میں اس کا کوئی شریک نہیں وہی اعلی اور بلند و بالا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے چنیدہ رسول ہیں، یا اللہ! اُن پر، اُن کی آل، اور تمام متقی صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! میں تمام سامعین اور اپنے آپ کو تقوی الہی اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں؛ اللہ تعالی سے ڈرنے والوں کو اللہ تعالی سعادت مند بنا کر انہیں راضی کر دیتا ہے۔

مسلمانو!

اعلی اخلاق انسان کی کامیابی اور کامرانی کا ذریعہ ہے، خیر و بھلائی حاصل کرنے کیلیے حسن اخلاق اور اعلی کردار کا کوئی ثانی نہیں۔ اعلی اخلاقیات اور بہترین کردار اپنانے کی ترغیب میں کتاب و سنت میں بہت زیادہ نصوص ہیں ۔ افضل المخلوقات ﷺ کی جن صفات کو اللہ تعالی نے ذکر فرمایا ہے ان میں اعلی اخلاق سر فہرست ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ} اور بیشک آپ عظیم اخلاق پر فائز ہیں۔[القلم: 4]

اسی طرح رسول اللہ ﷺ اپنی ساری تبلیغ کوزے میں بند کرتے ہوئے فرمایا: (بیشک مجھے اعلی اخلاقیات کی تکمیل کیلیے بھیجا گیا ہے) احمد، مالک، اور دیگر اہل علم کے ہاں یہ روایت صحیح ہے۔

آپ ﷺ نے تمام لوگوں کو بالکل واضح لفظوں میں حسن اخلاق اپنانے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: (جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرو، گناہ ہو جائے تو نیکی کرو یہ گناہ کو مٹا دے گی، اور لوگوں کے ساتھ حسن خلق سے پیش آؤ) احمد اور ترمذی نے اسے روایت کیا ، اور ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا۔

حسن اخلاق انسان کو پروردگار کے قریب کر دینے والی خصلت ہے، اس سے انسان کے درجات بلند ہوتے ہیں اور نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ(34) وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ} برائی کو بھلائی سے ختم کرو تو وہی جس کے ساتھ تمہاری دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے کوئی دلی دوست ہو۔[34] اور یہ سلیقہ انہیں کو ملتا ہے جو صبر کرتے ہیں اور یہ بڑے نصیب والے ہی حاصل کر پاتے ہیں۔[فصلت: 34، 35]

آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تم میں سے بہترین وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہے) بخاری، مسلم

اسی طرح آپ ﷺ نے حسن خلق پر عظیم اجر اور مقام و مرتبہ ملنے کی بھی خوش خبری دی، چنانچہ آپ ﷺ کا فرمان ہے : (مومنین میں سے کامل ترین ایمان کا حامل وہ شخص ہے جس کا اخلاق اچھا ہے، تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کیلیے اچھا ہے) امام احمد نے اسے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے، جبکہ ترمذی اسے روایت کر کے حسن صحیح قرار دیا ہے۔

آپ ﷺ حسن خلق کا درجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: (بیشک مومن اپنے حسن اخلاق کی بدولت روزے دار اور قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے) ابو داود نے اسے روایت کیا ہے اور ابن حبان و دیگر محققین نے اسے صحیح کہا ہے۔

اہل ایمان!

اچھے اخلاق کا مالک انسان بلند و بالا درجات کا حقدار ہو گا، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (بیشک قیامت کے دن میرے ہاں محبوب ترین اور میری سب سے زیادہ قربت کا حقدار وہ ہو گا جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو گا۔)ترمذی نے اسے روایت کر کے حسن غریب قرار دیا ہے اور منذری نے اسے ترغیب و ترہیب میں ذکر کیا ہے۔

آپ ﷺ سے ایک بار یہ بھی پوچھا گیا کہ کس چیز کی وجہ سے سب سے زیادہ لوگ جنت میں جائیں گے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اللہ کا تقوی اور حسن اخلاق) ترمذی نے اسے روایت کر کے صحیح اور غریب قرار دیا ہے، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

اچھے اخلاق کا اسلام میں بہت بلند مقام ہے، چنانچہ پروردگار کا فرمان ہے کہ: {وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} اور ایمان لانے والوں میں سے جو آپ کی اتباع کریں ان سے تواضع سے پیش آئیے۔ [الشعراء: 215]اور آپ ﷺ کا فرمان ہے: (قیامت کے دن مومن کے ترازو میں حسن خلق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہو گی)ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے نیکی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: (نیکی حسن اخلاق کا نام ہے)

اسلامی بھائیو!

جب یہ بات واضح ہو گئی تو حسن اخلاق میں وہ تمام عملی اور قولی قدریں شامل ہیں جو شرعی اور فطری ہر اعتبار سے زندگی کے تمام گوشوں میں پسندیدہ ہیں۔

حسن خلق یہ ہے کہ کتاب و سنت میں ذکر ہونے والے تمام شرعی آداب کا خیال کریں، گفتار، کردار، چال چلن اور تمام طور طریقے انہی آداب کے تابع ہوں۔

ہر ایسا رویہ حسن خلق ہے جس سے انسان کے دوست زیادہ ہوں اور دشمن کم ہوتے جائیں، جس سے مشکل کام آسان ہو جائیں، سنگ دل موم بن جائے، لہذا حسن خلق کا مالک شخص ہر وقت سراپا نرم خو، حسن کارکردگی، اور ہمہ قسم کی اچھی خوبیوں سے مزین ہوتا ہے۔

آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تم کسی بھی نیکی کو حقیر مت سمجھو چاہے تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ہی کیوں نہ ملو) مسلم

اور بطور مثال اخلاقیات میں یہ شامل ہے کہ: انسان ہشاش بشاش چہرے کے ساتھ ہر کسی سے ملے، دوسروں کے کام آئے، کسی کو تکلیف نہ دے، دوسروں سے ملنے والی تکلیف ، دکھ اور اذیت برداشت کرے۔

اسی طرح اپنا غصہ پی جائے، فضولیات سے بچے، دوسروں کو ڈانٹ ڈپٹ ، لڑائی جھگڑے اور گالم گلوچ سے دور رکھے۔

حسن خلق کا مطلب یہ ہے کہ: انسان دوسروں کا خدمت گزار ہو، سب پر شفقت کرے، جود و سخا کا پیکر ہو، دوسروں کے کام آئے، بخیلی اور لالچی طبیعت کا مالک نہ ہو، صبر شکر سے کام لے، حلم اور رضا سے مزین ہو، منکسر المزاج ہو، عفت، شفقت اور رحمدلی سے بھر پور ہو، طبیعت میں نرمی اور شگفتگی پائی جائے، بات چیت اور معاملات میں دھیمے مزاج کا حامل ہو، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا} لوگوں سے منہ پھیر کر بات مت کر اور نہ ہی زمین پر اکڑ کر چل۔[لقمان: 18]

اور آپ ﷺ کا فرمان ہے: (کیا میں تمہیں ایسے شخص کے بارے میں نہ بتلاؤں جو آگ پر حرام ہے یا اس پر آگ حرام ہے؟ [یہ وہ شخص ہے] جو نرم مزاج ، ٹھنڈی طبیعت والا ہے اور گھل مل کر رہتا ہے )ترمذی نے اسے نقل کر کے حسن اور غریب قرار دیا ہے۔

حسن اخلاق میں یہ بھی شامل ہے کہ: شائستہ الفاظ کا چناؤ کیا جائے، اعلی سلوک کریں، لوگوں کے ساتھ نرمی برتیں، بیوقوفانہ امور اور ایسی تمام حرکتوں سے انسان باز رہے جو مناسب نہ ہوں، وہ شخص اعلی اخلاق کا مالک ہے جس کے عیب محفلوں میں ذکر نہ ہوں، کسی کو اس کی کسی غلطی کا علم نہ ہو، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: "میانہ روی، طبیعت میں ٹھہراؤ، اور با وقار شخصیت نبوت کے پچیس حصوں میں سے ایک ہے"

اعلی اخلاق کے مالک شخص کو آپ با وقار، حلیم مزاج، پر سکون اور طبیعت میں ٹھہراؤ والا پاؤ گے۔ اس میں عفت اور پاکدامنی بھری ہو گی، وہ اکھڑ مزاج اور لعن طعن کرنے والا نہیں ہو گا، وہ چیخنے اور چلانے کا کام نہیں کرے گا، وہ جلد باز اور بد گوئی کرنے والا نہیں ہو گا، لوگوں کے ساتھ انتہائی اعلی ظرفی سے پیش آئے گا، اس میں نیکی اور تقوی کوٹ کوٹ کر بھرا ہو گا، وہ صرف ایسے کام کرے گا جس کے نتائج اچھے برآمد ہوں۔

اعلی ترین اخلاقیات میں "حیا" بھی شامل ہے، جیسے کہ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "حیا کا اخلاقیات میں سب سے بڑا، اونچا اور اعلی مقام ہے"

بہترین اخلاقیات میں یہ امور بھی شامل ہیں: ایثار، پردہ پوشی، دوسروں کے کام آنا، مسکرا کر ملنا، غور سے بات سننا، مجلس میں دوسروں کو جگہ دینا، سلام عام کرنا، مردوں کا آپس میں ملتے ہوئے مصافحہ کرنا، کوئی آپ کے کام آئے تو اس کا بڑھ چڑھ کر بدلہ دینا، کوئی قسم ڈال دے تو اس کی قسم پوری کرنا، لا یعنی امور سے دور رہنا، حلم اور حکمت کے ذریعے جاہلوں سے بچنا۔ مسلمانوں میں سے بڑوں کو اپنے باپ کے مقام پر سمجھنا اور چھوٹوں کو بیٹوں جیسی شفقت دینا اور درمیانی عمر والوں کو بھائی سمجھنا۔ جیسے کہ کسی نے خوب کہا ہے:

يَرَى لِلْمُسْلِمِيْنَ عَلَيْهِ حَقًّا

كَفِعْلِ الْوَالِدِ الرَؤُوْفِ الرَّحِيْمِ

جیسے باپ شفقت اور رحمدلی کے ساتھ برتاؤ کرتا ہے  اسی برتاؤ کو وہ تمام مسلمانوں کا اپنے آپ پر حق سمجھتا ہے۔

ان تمام امور کو ایک اخلاقی اصول اور ضابطہ انتہائی مختصر سے جملے میں اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، یہ ضابطہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبانی ارشاد فرمایا کہ: (تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک وہ اپنے بھائی کیلیے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے)

جو کچھ ہم نے سیکھا ہے اللہ تعالی اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اپنے سمیت تمام مسلمانوں کے لیے گناہوں کی بخشش اللہ تعالی سے مانگتا ہوں، آپ بھی اسی سے بخشش مانگیں، وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ

میں اللہ تعالی کی پاکیزہ اور بابرکت الفاظ میں ڈھیروں حمد بیان کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اُس کے بندے اور رسول ہیں۔ یا اللہ! ان پر ان کی آل اورصحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

مسلمانو!

اے مسلم! اچھے اخلاق کے مالک بنو کہ آپ لوگوں کے ساتھ اور لوگ آپ کے ساتھ گھل مل کر رہیں، مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (مومن لوگوں سے مانوس ہوتا ہے اور لوگ مومن سے مانوس ہوتے ہیں، اس شخص میں کوئی خیر نہیں جو خود بھی مانوس نہ ہو اور دوسرے اس سے مانوس نہ ہو سکیں)احمد، طبرانی اور بیہقی نے اسے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

اللہ کے بندو!

ہم سب کا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم کسی بھی ایسے کام کے ذریعے اللہ کا قرب تلاش نہ کریں جس کے متعلق کتاب و سنت میں دلیل نہیں ہے، لہذا اگر کوئی شخص ماہ رجب میں کسی عبادت کو خاص کرتا ہے، تو اس کی شریعت میں کوئی دلیل نہیں ہے، یہ بات بہت سے محققین جیسے کہ ابن حجر، ابن رجب، نووی اور ابن تیمیہ وغیرہ نے صراحت کے ساتھ لکھی ہے۔

اور اللہ تعالی نے ہمیں نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے، یا اللہ! ہمارے نبی اور حبیب محمد ﷺ پر ڈھیروں رحمتیں، برکتیں اور سلامتی نازل فرما۔ یا اللہ! خلفائے راشدین، اہل بیت ،صحابہ کرام اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہو جا۔

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما۔

یا اللہ! جو بھی مسلمانوں کے بارے میں برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا رب العالمین! یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں یا کسی بھی مسلمان کے بارے میں برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا اللہ! تباہی اور بربادی اس کا مقدر بنا دے، یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کی حفاظت فرما۔ یا اللہ! تمام مسلمانوں کی پریشانیاں ختم فرما دے، یا اللہ! تمام دکھ درد دھو ڈال، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما۔

یا اللہ! تمام مسلمان اور مومن مرد و خواتین کی مغفرت فرما، زندہ اور فوت شدگان سب کی مغفرت فرما۔

یا اللہ! یا حیی! یا قیوم! یا اللہ! یا حیی! یا قیوم! یا ذالجلال والا کرام! پوری دنیا میں اپنے دین کو پھیلا دے، یا اللہ! پوری دنیا میں اپنے دین کو پھیلا دے، یا اللہ! پوری دنیا میں اپنے دین کو پھیلا دے۔ یا اللہ! اپنے کلمے کو بلند فرما، یا اللہ! اپنے کلمے کو بلند فرما، یا اللہ! اپنے کلمے کو بلند فرما، چاہے کافروں اور مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ لگے۔ یا ذالجلال والا کرام! یا عزیز! یا حکیم!

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ہمارے حکمران اور ولی عہد کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما۔

یا اللہ! تمام اسلامی ممالک کو ہر قسم کی شر انگیزی سے محفوظ فرما، یا اللہ! مملکت حرمین کو ہر قسم کی شر انگیزی سے محفوظ فرما، یا اللہ! مملکت حرمین اور تمام اسلامی ممالک کو ہر قسم کے شر سے محفوظ فرما، یا حیی! یا قیوم! یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آخرت میں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! تو ہی غنی اور حمید ہے! یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما۔ یا اللہ! ہم پر بارش نازل فرما، یا اللہ! ہم پر بارش نازل فرما، یا اللہ! ہم پر بارش نازل فرما۔ یا اللہ! تمام مسلم خطوں میں بارشیں نازل فرما، یا اللہ! تمام مسلم خطوں میں بارشیں نازل فرما، یا اللہ! تمام مسلم خطوں میں بارشیں نازل فرما۔

یا اللہ! کمزور مسلمانوں پر رحم فرما، یا اللہ! مصیبت زدہ مسلمانوں کی مصیبت وا فرما، یا اللہ! کمزور مسلمانوں پر رحم فرما، یا اللہ! مصیبت زدہ مسلمانوں کی مصیبت وا فرما، یا اللہ! کمزور مسلمانوں پر رحم فرما، یا اللہ! مصیبت زدہ مسلمانوں کی مصیبت وا فرما، یا حیی! یا قیوم!

اللہ کے بندو!

اللہ کے بندو! اللہ کا ڈھیروں ذکر کرو، اور صبح و شام بھی اسی کی تسبیح بیان کرو ۔

Read 47 times

جدید خطبات

خطبات

  • آیت الکرسی کا مفہوم
    آیت الکرسی کا مفہوم
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 10 صفر 1440 کا خطبہ جمعہ " آیت الکرسی کا مفہوم اور افواہوں کے متعلق ہدایات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں عظیم ترین آیت ؛ آیت الکرسی ہے، اس آیت میں اللہ تعالی کے اسما و صفات کا جامعیت کے ساتھ ذکر ہے، سب سے پہلے اس آیت میں اللہ تعالی کی الوہیت کا اقرار، پھر ازل سے ابد تک قائم دائم رہنے کی صفت ذکر ہوئی، اللہ تعالی کو نیند آتی ہے اور نہ ہی اونگ، آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی بادشاہت میں شامل ہے، کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا، اور نبی ﷺ کی سفارش اہل توحید کے لیے سب سے پہلے میسر ہو گی، انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی علم غیب نہیں جانتا، اس کی کرسی آسمان و زمین سے بھی وسیع ہے، جس سے اللہ تعالی کی بے انتہا عظمت اور کبریائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اس لیے اللہ سے جب مانگیں تو وہ بھی بے حساب مانگیں، انہوں نے آخر میں یہ بھی…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 13-رجب- 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی کیلیے حسن اخلاق کا کوئی ثانی نہیں، اسی لیے کتاب و سنت میں اچھا اخلاق اپنانے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، نیز رسول اللہ ﷺ کی جن خوبیوں کا ذکر اللہ تعالی نے فرمایا ان میں حسن اخلاق سر فہرست ہے، آپ ﷺ نے خود فرمایا کہ مجھے اعلی اخلاقیات کی تکمیل کیلیے بھیجا گیا ہے، مومن شخص اعلی اخلاق کی بدولت نفل روزے اور راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے، اچھے اخلاق کا مالک شخص جنت میں رسول اللہ ﷺ کے قریب ترین ہو گا، حسن اخلاق کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ جنت جائیں گے، قیامت کے دن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہو گی، ایک جگہ آپ ﷺ یہاں تک فرما دیا کہ: نیکی حسن اخلاق کا نام ہے، پھر انہوں نے بتلایا کہ حسن خلق کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی شریعت کے مطابق ہو، دوسروں کی خدمت، جود و…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے "اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ" کے عنوان پر 07 ذوالقعدہ 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ خطرات اور مسائل سے بھری ہوئی دنیاوی زندگی میں انسان کو بلند ہمت بنانے کی اشد ضرورت ہے، اور اس کیلیے اللہ تعالی پر توکل بہترین طریقہ ہے، اگر انسان صحیح معنوں میں متوکل ہو تو وہ دنیا میں کسی کا محتاج نہیں رہتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ متوکل دنیا کی ہر چیز کو اللہ تعالی کے زیر تسلط اور ملکیت جانتا ہے لہذا جس چیز کی بھی اسے ضرورت محسوس ہو وہ چیز اللہ سے مانگنے پر اسے مل جاتی ہے، توکل ظاہری اسباب اپنانے سے متصادم نہیں ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہوتی ہے کہ انسان اسباب اپنانے کے بعد ان پر کلی اعتماد نہ کرے بلکہ اللہ تعالی کی ذات پر کامل بھروسا اور یقین رکھے، چنانچہ اسباب اپنانے کے بعد اس کے نتائج اللہ کے سپرد کر دینا توکل کا مطلب ہے ۔ سابقہ اقوام اور صحابہ کرام کے عمل سے توکل کا یہی مفہوم سامنے آتا ہے، دوسرے خطبے میں…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے07-جمادی ثانیہ-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" شرم و حیا شریعت کی روشنی میں" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ اسمائے حسنی کی معرفت عبادت الہی کی کنجی ہے انہی اسمائے حسنی میں سے ایک "اَلْحَيِيُّ" یعنی بہت زیادہ حیا کرنے والا بھی ہے، حیا اللہ تعالی کی صفت ہے، اس کا ذکر کتاب و سنت میں موجود ہے، حیا تمام تر اخلاقی اقدار کا سرچشمہ ہے، حیا انسان کو برائی سے روکتی ہے اور اچھے کاموں کی ترغیب دلاتی ہے، حیا ان اخلاقی اقدار میں شامل ہے جو اولین زمانۂ نبوت سے معتبر اور مطلوب ہیں، حیا سے اشرف المخلوقات سمیت فرشتے بھی موصوف ہیں، آدم، نوح، موسی سمیت تمام کے تمام انبیائے  علیہم السلام حیا سے آراستہ تھے، ہمارے نبی ﷺ سب سے زیادہ با حیا تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے، حیا خواتین کا فطری زیور اور زینت ہے، اسی لیے سیدہ عائشہ اور دیگر صحابیات حیا کی پیکر تھیں، بلکہ اہل جاہلیت بھی حیا پر قائم دائم تھے، نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق حیا سرتا پا خیر ہی خیر ہے، حیا…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عذاب قبر کے اسباب اور نجات کے ذرائع
    عذاب قبر کے اسباب اور نجات کے ذرائع
    پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ایمان اور صبر جیسی نعمت پر تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اس فضل پر اسی کا شکر بجا لاتے ہیں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، کائنات کے فیصلے اور تصرف اسی کے ہاتھ میں ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے مومنوں کو ان کی قبر کی حالت سے بہرہ ور فرمایا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور ہر جگہ پیش رو بننے والے صحابہ کرام پر رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہو، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] انسانی زندگی کے اس سفر میں متنوع اور مختلف مرحلے ہیں، انسان ایک عرصہ ماں کے پیٹ میں، پھر زمین کی پشت پر اور دوبارہ جی اٹھائے جانے تک زمین کے نیچے…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم