بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
ہفتہ, 22 دسمبر 2018 16:41

عذاب قبر کے اسباب اور نجات کے ذرائع

Written by  فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ، ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ایمان اور صبر جیسی نعمت پر تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اس فضل پر اسی کا شکر بجا لاتے ہیں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، کائنات کے فیصلے اور تصرف اسی کے ہاتھ میں ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے مومنوں کو ان کی قبر کی حالت سے بہرہ ور فرمایا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور ہر جگہ پیش رو بننے والے صحابہ کرام پر رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہو، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102]

انسانی زندگی کے اس سفر میں متنوع اور مختلف مرحلے ہیں، انسان ایک عرصہ ماں کے پیٹ میں، پھر زمین کی پشت پر اور دوبارہ جی اٹھائے جانے تک زمین کے نیچے گزارتا ہے۔

یہ سفر ظاہری طور پر بہت طویل ہے؛ لیکن جلد ہی نمٹ جاتا ہے اور ختم ہو جاتا ہے؛ کیونکہ دنیا کسی بھی زندہ چیز کا مستقل ٹھکانا نہیں ہے، عقل مند شخص جب دنیا کے اتار چڑھاؤ دیکھتا ہے، فنا ہوتی زندگی پر نظر دوڑاتا ہے، تو اس کے دل پر رقت اور گدازی طاری ہو جاتی ہے۔

قبر ایسی منزل ہے جہاں تک ہر مسافر نے پہنچنا ہے، اور نصیحت کیلیے قبر کا نام ہی کافی ہے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (بیشک قبر بھینچتی ہے، اگر کوئی قبر کے بھینچنے سے بچ پاتا تو وہ سعد بن معاذ ہوتے)

امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ: " جب قبر پر کھڑے ہوتے تو اتنے اشکبار ہو جاتے کہ آپ کی ڈاڑھی بھی تر ہو جاتی، تو آپ سے کہا گیا: آپ جنت اور جہنم کو یاد کر کے تو اتنا نہیں روتے لیکن قبر کو یاد کر کے رو دیتے ہیں؟! تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا کہ: (قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، اگر اس سے کوئی بچ گیا تو اس کے بعد والے مرحلے آسان ہیں، اور اگر اسی سے نجات نہ پا سکا تو اس کے بعد والے مرحلے بہت شدید ہوں گے)"

سیدنا عثمان نے مزید یہ بھی کہا کہ آپ ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے: (اللہ کی قسم! میں جتنا بھی خوفناک منظر دیکھ لوں لیکن قبر کا منظر اسے بھی زیادہ دہشت ناک ہو گا)

اور آخرت پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ قبر کی حقیقت پر بھی ایمان ہو، نیک لوگوں کو قبر میں ملنے والی نعمتوں پر ایمان ہو، اور اہل معصیت میں سے عذاب کے مستحقین کیلیے عذاب ملنے کا  ایمان بھی ہو، آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ: (اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم مردوں کو دفن کرنا ہی چھوڑ دو گے  تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ تمہیں وہ عذابِ قبر سنوا دے جو میں سنتا ہوں)

حصول عبرت کیلیے قبرستان  جانا سنت اور عبادت ہے، قبرستان جانے والے کو اپنے آبا اور اجداد کی یاد آتی ہے اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ وہ بھی انہی کی طرح قبر میں جانے والا ہے اور وہاں اس سے بھی سوالات ہوں گے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (قبرستان جایا کرو بیشک یہ تمہیں آخرت یاد دلاتے ہیں)

جس وقت انسان کو قبر میں دفن کر دیا جاتا ہے اور اس کے اہل خانہ سامان وغیرہ کے ساتھ واپس ہو جاتے ہیں تو مردے سے ملاقات کیلیے سب سے پہلے دو فرشتے امتحان کی غرض سے آتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (بیشک میت کو جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو وہ واپس جاتے ہوئے لوگوں کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے، اگر میت مومن ہو تو نماز اس کے سر کے پاس کھڑی ہو جاتی ہے، روزہ دائیں جانب کھڑا ہو جاتا ہے، زکاۃ بائیں جانب، اور صدقہ، دعا سمیت لوگوں کا تعاون وغیرہ جیسے [رفاہی]کام اس کے پاؤں کی جانب کھڑے ہو جاتے ہیں ، پھر میت کے سر کی جانب سے آنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن نماز کہتی ہے میری طرف سے داخلہ ممکن نہیں، پھر دائیں جانب سے آنے کی کوشش کی جاتی ہے تو روزہ کہتا ہے میری جانب سے داخلہ ممکن نہیں، پھر اس کے بائیں جانب سے آنے کی کوشش کی جاتی ہے تو زکاۃ کہتی ہے میری طرف سے داخلہ ممکن نہیں، تو پھر اس کے قدموں کی جانب سے آنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن صدقہ، دعا سمیت لوگوں کا تعاون وغیرہ جیسے [رفاہی]کام کہتے ہیں یہاں سے داخلہ ممکن نہیں، تو پھر میت سے کہا جاتا ہے بیٹھو، تو میت بیٹھ جاتی ہے اور اسے سورج کا منظر ایسے دکھائی دیتا ہے کہ وہ غروب ہو رہا ہے، اسے کہا جاتا ہے کہ تمہاری طرف یہ جو شخص آیا تھا اس کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ اور تم اس کے بارے میں کیا گواہی دیتے ہو؟  تو وہ کہتا ہے مجھے چھوڑ دو میں نماز پڑھ لوں۔ تو وہ کہتے ہیں: تم پڑھ لو گے، پہلے ہمیں ہمارے سوال کا جواب دو، تمہاری طرف یہ جو شخص آیا تھا اس کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ اور تم اس کے بارے میں کیا گواہی دیتے ہو؟ تو وہ کہتا ہے وہ محمد  ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں، آپ اللہ کی جانب سے حق لیکر آئے۔ اس پر فرشتے کہتے ہیں: تم ساری زندگی اسی پر قائم رہے اور اسی پر تمہاری وفات ہوئی، ان شاء اللہ اسی پر تمہیں اٹھایا جائے گا، پھر اس کیلیے جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے یہ جنت میں تمہاری جگہ ہے اور وہ کچھ ہے جو اللہ نے تیرے لیے تیار کیا ہے، تو وہ بہت زیادہ خوشی اور مسرت محسوس کرتا ہے۔ پھر اس کیلیے جہنم کا ایک دروازہ کھول کر کہا جاتا ہے: اگر تم اللہ کی نافرمانی کرتے تو یہ جہنم میں تمہاری جگہ اور وہ کچھ ہے جو اللہ نے تیرے لیے تیار کر رکھا تھا، تو وہ بہت زیادہ خوشی اور مسرت محسوس کرتا ہے۔ پھر اس کیلیے قبر کو ستر ہاتھ تک فراخ کر دیا جاتا ہے  ، قبر کو منور کر دیا جاتا ہے اور اس کا جسم ویسے ہی لوٹا دیا جاتا ہے جیسے وہ شروع میں تھا، اس کی روح کو پاکیزہ پرندوں میں شامل کر دیا جاتا ہے یہ پرندے جنت کے درختوں میں رہتے ہیں، یہی اللہ تعالی کے فرمان کا مطلب ہے: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} اللہ تعالی ایمان لانے والوں کو قول ثابت کے ذریعے دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثابت قدم بناتا ہے۔[إبراهيم: 27] اور جب کافر کے سر کی جانب سے آنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کوئی چیز مانع نہیں ہوتی، پھر دائیں جانب سے اس کے پاس آیا جاتا ہے تو کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی، پھر بائیں جانب سے  آیا جاتا ہے تو کوئی رکاوٹ نہیں آتی، پھر قدموں کی جانب سے آیا جاتا ہے تو کچھ رکاوٹ نہیں ہوتی، پھر اسے کہا جاتا ہے: اٹھ  کر بیٹھو، تو وہ رعب اور دہشت کی حالت میں اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے، اسے کہا جاتا ہے: تمہارے ہاں یہ جو شخص تھا اس کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ اور تم اس کے بارے میں کیا گواہی دیتے ہو؟ تو وہ کہتا ہے کون سا شخص؟ اسے    اس کا نام ہی معلوم نہیں ہوتا، تو اسے بتلایا جاتا ہے محمد کے بارے میں، تو وہ کہتا ہے: مجھے نہیں معلوم، میں تو وہی کہہ دیتا تھا جو لوگوں کو کہتے سنتا تھا۔تو اسے کہا جائے گا: تم نے اپنی زندگی اسی طرح گزاری اور اسی پر تمہیں موت آئی، اور اسی پر تمہیں ان شاء اللہ اٹھایا جائے گا، پھر اس کیلیے جہنم کے دوازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، اور کہا جاتا ہے: یہ جہنم میں تمہارا ٹھکانا ہے اور یہ سب کچھ اللہ نے تمہارے لیے تیار کر رکھا ہے، تو وہ شدید حسرت اور ندامت میں چلا جاتا ہے، پھر اس کیلیے جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول کر اسے کہا جاتا ہے: اگر تم اللہ کیا اطاعت کرتے تو یہ تمہارا ٹھکانا ہوتا اور اللہ تعالی نے تمہارے لیے یہ کچھ تیار کر رکھا تھا، اس سے اس کی حسرت اور ندامت مزید بڑھ جائے گی اور پھر قبر تنگ ہونا شروع ہو جائے گی یہاں تک کہ اس کی پسلیاں آپس میں داخل ہو جائیں گی، اور یہی وہ تنگ زندگی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: {وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى}اور جو میرے ذکر سے اعراض کرے تو اس کیلیے تنگ زندگی ہے اور ہم اسے روزِ قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے۔ [طہ: 124] ) اسے طبرانی نے معجم الاوسط میں اور ابن حبان نے صحیح ابن حبان میں روایت کیا ہے۔

اسلامی بھائیو!

عقل مند شخص موت سے پہلے موت کی تیاری کرتے ہوئے اپنے آپ کو قبر کیلیے تیار کرتا ہے، اپنی قبر کو نیک اعمال اور ایمان سے بھر دیتا ہے تا کہ اس کی قبر جنت کا باغیچہ بن جائے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (مومن کی موت کے بعد مومن کو جو کچھ پہنچتا رہتا ہے  وہ یہ ہیں: علم جو دوسروں کو سکھایا اور اسے پھیلایا، نیک اولاد چھوڑ جائے، قرآن مجید وراثت میں ترک کرے، یا مسجد بنا جائے، یا مسافر خانہ تعمیر کر دے، یا نہر کھدوا دے، یا اپنی زندگی میں صحت کی حالت میں ذاتی مال سے صدقہ کر جائے تو یہ مومن کی موت کے بعد اسے پہنچتا رہتا ہے۔)

موت کو کثرت سے یاد کرنے والا شخص اپنی قبر کو عمل صالح سے بھرتا ہے؛ کیونکہ اسے یقین ہے کہ اگر صبح ہو گئی تو [نیکی کیلیے] شام کا انتظار نہیں بنتا، اور اگر شام ہو گئی ہے تو صبح کا انتظار سود مند نہیں، اس لیے عبادت اور بندگی کیلیے تاخیر نہیں کرتا مبادا کوئی رکاوٹ کھڑی ہو جائے، یہ دیکھیں کہ: "سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ایک میت کو دفن ہوتے دیکھتے ہیں تو جلدی سے مسجد جا کر دو رکعت ادا کرتے ہیں، تو ان سے پوچھا گیا: آپ نے ایسے کیوں کیا؟ تو کہنے لگے: مجھے قبرستان نے اللہ کا ایک فرمان یاد کروا دیا: {وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ}ان کے درمیان اور ان کی چاہتوں کے درمیان رکاوٹ حائل کی دی گئی۔ [سبأ: 54] تو میں نے نماز پڑھ لی مبادا میرے اور نماز کے درمیان کوئی رکاوٹ کھڑی نہ ہو  جائے"

جو شخص چاہتا ہے کہ قبر میں اس کا کوئی ساتھی ہو، جو تنہائی میں اس کا دل بہلائے، اس کی قبر کو منور کر دے، اداسی چھٹ دے تو وہ قرآن کریم کو لازم پکڑے۔

قبر کے سوالات اور عذاب سے بچنے کے اسباب میں یہ بھی شامل ہے کہ ہمیشگی کے ساتھ سورت ملک کی تلاوت کی جائے اور اس کے تقاضوں کو پورا کیا جائے۔

قبر میں تمہارا مسئلہ مومنوں کے تمہارے لیے استغفار اور دعا کرنے سے مضبوط ہو جاتا ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ جب میت کو دفن کر کے فارغ ہوتے تو اس کی قبر پر کھڑے ہو کر فرماتے: (تم اپنے بھائی کیلیے بخشش طلب کرو اور ثابت قدمی کا سوال کرو؛ کیونکہ اس سے اب سوال کیے جا رہے ہیں)

اگر آپ بھی اپنے آپ کو عذاب قبر سے تحفظ دینا چاہتے ہیں تو ہر نماز میں عذاب قبر سے تحفظ کی دعا مانگیں جیسے کہ رسول اللہ ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے: (اَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيْحِ الدَّجَّالِ[یا اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، جہنم کے عذاب سے اور زندگی اور موت کے فتنوں سے، اور دجال کے فتنے سے])

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن کریم کو بابرکت بنائے، اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو اس کی حکمت بھرئی نصیحتوں سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جیسے اس ذات اور بادشاہی کے لائق ہوں، میں اللہ سبحانہ و تعالی کی عنایات کے لائق اسی کی حمد بیان کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ آسمان و زمین میں کہیں بھی اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد اللہ کے بندے اور چنیدہ رسول ہیں، آپ کے تمام تر فیصلے مبنی بر عدل تھے، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ، تمام صحابہ کرام اور آپ کے پیروکاروں پر روزِ قیامت تک رحمتیں نازل فرمائے ۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

دانش مند مسلمان تباہی اور ہلاکت والی جگہوں سے دور رہتا ہے، جو کہ مسلمان کے معاشرے کو تباہ کر دیں اور قبر میں اسے آزمائش میں ڈال دیں، انہی امور میں سے جھوٹی باتیں پھیلانا اور ان کی ترویج کرنا بھی شامل ہے، جیسے کہ اسرا اور معراج کی لمبی حدیث میں ہے کہ جبریل علیہ السلام نے نبی ﷺ کو فرمایا: (اور جس آدمی کے پاس آپ آئے تو اس کی باچھیں گردن تک، نتھنے بھی گردن تک اور آنکھیں بھی گردن تک چھیلی جا رہی تھیں وہ صبح اپنے گھر سے جب نکلتا تو ایسا جھوٹ بولتا تھا کہ وہ آفاق میں پھیل جاتا) ایسے ہی گناہوں میں سود خوری اور سود کو جائز سمجھنا بھی شامل ہے، جیسے کہ اسرا اور معراج کی حدیث میں ہی ہے کہ: (اور جس شخص کے پاس آپ آئے تھے اور وہ نہر میں تیراکی کر رہا تھا اور اس پر پتھر برسائے جاتے تھے، تو وہ سود خور تھا)

ایسے ہی فرض نماز سے سوئے رہنا اور قرآن کو چھوڑ دینا بھی ہے، جیسے کہ اسرا اور معراج کی حدیث میں ہی ہے کہ: (اور پہلا آدمی جس کے پاس آپ گئے تھے جس کا سر کچلا جا رہا تھا، تو وہ قرآن یاد کر کے چھوڑ دیتا تھا اور فرض نماز سے سویا رہتا تھا)

عذاب قبر کا باعث بننے والے اسباب میں یہ بھی شامل ہے کہ انسان لوگوں میں چغلی کرے، طہارت کا خیال نہ رکھے، جیسے کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا: (ان دونوں میں عذاب دیا جا رہا ہے، انہیں کسی غیر معمولی مسئلے پر عذاب نہیں دیا جا رہا، ان میں سے ایک پیشاب کے چھینٹوں سے بچتا نہیں تھا اور دوسرا چغلی کیا کرتا تھا) اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع میں نقل کیا ہے۔

اللہ کے بندو!

رسولِ ہُدیٰ پر درود پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں تمہیں اسی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: }إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا{ اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود و سلام بھیجو۔ [الأحزاب: 56]

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی سے راضی ہو جا، انکے ساتھ ساتھ اہل بیت، اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، نیز اپنے رحم ، کرم، اور احسان کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! کافروں کے ساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! تیرے اور دین دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔ یا رب العالمین!

یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں ، ہمارے ملک کے متعلق  یا اسلام اور مسلمانوں کے متعلق برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعاء!

یا اللہ! جو تیرے دین کی نصرت کرے توں اس کی مدد فرما، اور یا اللہ! جو اسلام اور مسلمانوں کو رسوا کرے یا اللہ! توں اسے ذلیل و رسوا فرما دے۔

یا اللہ! پوری دنیا میں کمزور مسلمانوں کی مدد فرما، یا اللہ! ان کی مدد، نصرت اور حمایت فرما، یا اللہ! کمزور مسلمان بھوکے ہیں ان کے کھانے پینے کا بندوبست فرما، ننگے پاؤں ہیں انہیں جوتے فراہم کر، یا اللہ! مسلمان کپڑوں سے برہنہ ہیں انہیں لباس مہیا فرما، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے، ان کا بدلہ چکا دے، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے، ان کا بدلہ چکا دے، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے، ان کا بدلہ چکا دے، یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ! قرآن کو نازل کرنے والے، بادلوں کو چلانے والے، لشکروں کو تن تنہا شکست سے دوچار کرنے والے، تمام دین دشمن قوتوں کو تباہ و برباد فرما دے، اور مسلمانوں کو ان پر غلبہ عطا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے ہر کام کی توفیق مانگتے ہیں ۔ یا اللہ! ہم جہنم اور جہنم کے قریب کرنے والے ہر عمل سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے۔ یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت اور تونگری کا سوال کرتے ہیں۔

یا اللہ! ہم تجھ سے شروع سے لیکر آخر تک، ابتدا سے انتہا تک ، اول تا آخر ، ظاہری اور باطنی ہر قسم کی جامع بھلائی مانگتے ہیں، نیز تجھ سے جنتوں میں بلند درجات کے سوالی ہیں۔ یا رب العالمین!

یا اللہ1 ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ فرما، یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ فرما، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف نہ ہو، یا اللہ! ہماری رہنمائی فرمائی اور ہمارے لیے راہ ہدایت پر چلنا بھی آسان فرما، یا اللہ! ہم پر زیادتی کرنے والوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

یا اللہ! ہمیں تیرا ذکر، شکر، تیرے لیے مر مٹنے والا، تیری طرف رجوع کرنے والا اور انابت کرنے والا بنا۔

یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، ہماری کوتاہیاں معاف فرما، ہماری حجت کو ٹھوس بنا، اور ہمارے سینوں کے میل کچیل نکال باہر فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تیری نعمتوں کے زوال، تیری طرف سے ملنے والی عافیت کے خاتمے، تیری اچانک پکڑ اور تیری ہمہ قسم کی ناراضی سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے اگلے، پچھلے، خفیہ اعلانیہ، اور جن گناہوں کو توں ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے ان سب گناہوں کو معاف فرما دے،  تو ہی تہہ و بالا کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔

یا اللہ! ہم پر اپنی برکتوں، رحمتوں ، فضل اور رزق کے دروازے کھول دے۔ یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم سب کے والدین اور تمام مسلمان فوت شدگان کو بخش دے، یا اللہ! تمام فوت شدگان پر رحمت فرما، تمام مریضوں کو شفا یاب فرما، اور ہمارے معاملات سنوار دے، یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ!ہمارے حکمران کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان کی تیری رضا اور رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ان کے ولی عہد کو ہر خیر کے کام کی توفیق عطا فرما، یا ارحم الراحمین! یا اللہ! تمام مسلمان حکمرانوں کو کتاب و سنت کے نفاذ کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین!

{رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے [الأعراف: 23] {رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} [الحشر: 10] اے ہمارے پروردگار! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے، اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے[الحشر: 10] {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [البقرة: 201] ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]

تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی تمہارے تمام اعمال سے بخوبی واقف ہے۔

Read 147 times Last modified on ہفتہ, 22 دسمبر 2018 16:44

جدید خطبات

خطبات

  • آیت الکرسی کا مفہوم
    آیت الکرسی کا مفہوم
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 10 صفر 1440 کا خطبہ جمعہ " آیت الکرسی کا مفہوم اور افواہوں کے متعلق ہدایات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں عظیم ترین آیت ؛ آیت الکرسی ہے، اس آیت میں اللہ تعالی کے اسما و صفات کا جامعیت کے ساتھ ذکر ہے، سب سے پہلے اس آیت میں اللہ تعالی کی الوہیت کا اقرار، پھر ازل سے ابد تک قائم دائم رہنے کی صفت ذکر ہوئی، اللہ تعالی کو نیند آتی ہے اور نہ ہی اونگ، آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی بادشاہت میں شامل ہے، کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا، اور نبی ﷺ کی سفارش اہل توحید کے لیے سب سے پہلے میسر ہو گی، انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی علم غیب نہیں جانتا، اس کی کرسی آسمان و زمین سے بھی وسیع ہے، جس سے اللہ تعالی کی بے انتہا عظمت اور کبریائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اس لیے اللہ سے جب مانگیں تو وہ بھی بے حساب مانگیں، انہوں نے آخر میں یہ بھی…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 13-رجب- 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی کیلیے حسن اخلاق کا کوئی ثانی نہیں، اسی لیے کتاب و سنت میں اچھا اخلاق اپنانے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، نیز رسول اللہ ﷺ کی جن خوبیوں کا ذکر اللہ تعالی نے فرمایا ان میں حسن اخلاق سر فہرست ہے، آپ ﷺ نے خود فرمایا کہ مجھے اعلی اخلاقیات کی تکمیل کیلیے بھیجا گیا ہے، مومن شخص اعلی اخلاق کی بدولت نفل روزے اور راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے، اچھے اخلاق کا مالک شخص جنت میں رسول اللہ ﷺ کے قریب ترین ہو گا، حسن اخلاق کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ جنت جائیں گے، قیامت کے دن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہو گی، ایک جگہ آپ ﷺ یہاں تک فرما دیا کہ: نیکی حسن اخلاق کا نام ہے، پھر انہوں نے بتلایا کہ حسن خلق کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی شریعت کے مطابق ہو، دوسروں کی خدمت، جود و…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے "اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ" کے عنوان پر 07 ذوالقعدہ 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ خطرات اور مسائل سے بھری ہوئی دنیاوی زندگی میں انسان کو بلند ہمت بنانے کی اشد ضرورت ہے، اور اس کیلیے اللہ تعالی پر توکل بہترین طریقہ ہے، اگر انسان صحیح معنوں میں متوکل ہو تو وہ دنیا میں کسی کا محتاج نہیں رہتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ متوکل دنیا کی ہر چیز کو اللہ تعالی کے زیر تسلط اور ملکیت جانتا ہے لہذا جس چیز کی بھی اسے ضرورت محسوس ہو وہ چیز اللہ سے مانگنے پر اسے مل جاتی ہے، توکل ظاہری اسباب اپنانے سے متصادم نہیں ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہوتی ہے کہ انسان اسباب اپنانے کے بعد ان پر کلی اعتماد نہ کرے بلکہ اللہ تعالی کی ذات پر کامل بھروسا اور یقین رکھے، چنانچہ اسباب اپنانے کے بعد اس کے نتائج اللہ کے سپرد کر دینا توکل کا مطلب ہے ۔ سابقہ اقوام اور صحابہ کرام کے عمل سے توکل کا یہی مفہوم سامنے آتا ہے، دوسرے خطبے میں…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے07-جمادی ثانیہ-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" شرم و حیا شریعت کی روشنی میں" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ اسمائے حسنی کی معرفت عبادت الہی کی کنجی ہے انہی اسمائے حسنی میں سے ایک "اَلْحَيِيُّ" یعنی بہت زیادہ حیا کرنے والا بھی ہے، حیا اللہ تعالی کی صفت ہے، اس کا ذکر کتاب و سنت میں موجود ہے، حیا تمام تر اخلاقی اقدار کا سرچشمہ ہے، حیا انسان کو برائی سے روکتی ہے اور اچھے کاموں کی ترغیب دلاتی ہے، حیا ان اخلاقی اقدار میں شامل ہے جو اولین زمانۂ نبوت سے معتبر اور مطلوب ہیں، حیا سے اشرف المخلوقات سمیت فرشتے بھی موصوف ہیں، آدم، نوح، موسی سمیت تمام کے تمام انبیائے  علیہم السلام حیا سے آراستہ تھے، ہمارے نبی ﷺ سب سے زیادہ با حیا تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے، حیا خواتین کا فطری زیور اور زینت ہے، اسی لیے سیدہ عائشہ اور دیگر صحابیات حیا کی پیکر تھیں، بلکہ اہل جاہلیت بھی حیا پر قائم دائم تھے، نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق حیا سرتا پا خیر ہی خیر ہے، حیا…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عذاب قبر کے اسباب اور نجات کے ذرائع
    عذاب قبر کے اسباب اور نجات کے ذرائع
    پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ایمان اور صبر جیسی نعمت پر تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اس فضل پر اسی کا شکر بجا لاتے ہیں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، کائنات کے فیصلے اور تصرف اسی کے ہاتھ میں ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے مومنوں کو ان کی قبر کی حالت سے بہرہ ور فرمایا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور ہر جگہ پیش رو بننے والے صحابہ کرام پر رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہو، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] انسانی زندگی کے اس سفر میں متنوع اور مختلف مرحلے ہیں، انسان ایک عرصہ ماں کے پیٹ میں، پھر زمین کی پشت پر اور دوبارہ جی اٹھائے جانے تک زمین کے نیچے…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم