بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
ہفتہ, 03 نومبر 2018 12:34

طلاق کے اسباب اور حل

Written by  پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ ۔ ترجمہ: شفقت الرحمٰن مغل
طلاق کے اسباب اور حل طلاق کے اسباب اور حل

 تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے انسانوں اور زمین سے پیدا ہونے والی ہر چیز کے جوڑے بنائے نیز ان کے بھی جوڑے بنائے جن کے بارے میں انسان لا علم ہے، اللہ تعالی نے اپنی اور دوسروں کی اصلاح کا حکم دیا اور فساد سے روکتے ہوئے فرمایا:

 {وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ}

 اصلاح کرو اور فسادیوں کے راستے پر مت چلو۔[الأعراف : 142] 

 اللہ تبارک و تعالی نے لوگوں کے لیے مصلحتوں و فوائد کے حصول اور مفاسد و نقصانات سے بچانے کی غرض سے شرعی احکامات جاری کیے، میں اپنے رب کی حمد و شکر بجا لاتا ہوں اور توبہ و استغفار کرتا ہوں، نیز گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں وہ تمام جہانوں سے مستغنی ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے صادق و امین رسول ہیں ، یا اللہ! اپنے بندے، اور رسول محمد ، ان کی آل اور صحابہ کرام پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما۔

 لوگو! اپنی تخلیق کے ابتدائی مراحل یاد کرو کہ اللہ تعالی نے اتنے مرد و زن ایک جان سے پیدا فرمائے، اور ان کو جوڑے بنایا، فرمانِ باری تعالی ہے:

 {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً } 

لوگو! اپنے اس پروردگار سے ڈرتے رہو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا پھر ان دونوں سے [دنیا میں] بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں ۔ [النساء : 1]

 اسی طرح فرمایا: 

{هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا}

 وہی تو ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی بنائی تاکہ اس کے ہاں سکون حاصل کرے [الأعراف : 189]

 اس کے بعد اللہ تعالی کا نظام اور شریعت یہ ہے کہ ایک مرد اور عورت شرعی عقدِ نکاح کے ذریعے ایک بندھن میں بندھ جائیں، تا کہ فطری اور انسانی ضروریات ازدواجی تعلقات کے ذریعے نکاح کی صورت میں پوری کریں اور بد کاری سے بچیں۔

 چنانچہ نکاح عفت، برکت، افزائش نسل، پاکیزگی، عنایت، قلبی صحت، اور نیک اولاد کی صورت میں لمبی عمر کا راستہ ہے، جبکہ بد کاری اور زنا خباثت، قلبی امراض، مرد و زن کے لیے تباہی، گناہوں، آفتوں، بے برکتی، نسل کُشی اور آخرت میں عذاب کا راستہ ہے۔

 ازدواجی زندگی ایسا گھر ہے جو اولاد کی پرورش، دیکھ بھال، اور تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتا ہے، والد کی شفقت اور ممتا کی محبت ایسی نسلیں تیار کرتی ہے جو زندگی کے بار اٹھانے کی صلاحیت رکھے، معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوں، معاشرے کو ہر میدان میں تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کرے، پدری شفقت اور ممتا کی محبت نئی نسل کی اعلی اخلاقی اقدار کی جانب رہنمائی کرتی ہے اور مذموم صفات سے دور رکھتی ہے، نیز اخروی دائمی زندگی کے لیے نیکیاں کرنے کی تربیت دیتی ہے، چنانچہ چھوٹے بچے انہیں دیکھ کر یا سن کر سیکھتے ہیں؛ کیونکہ وہ خود سے پڑھ کر سبق حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

 اس بندھن کے ساتھ میاں بیوی کی مصلحتیں اور فوائد منسلک ہیں، بچوں کی مصلحتیں اور فوائد منسلک ہیں، میاں بیوی کے اقربا کی مصلحتیں اور فوائد منسلک ہیں، پورے معاشرے کی مصلحتیں اور فوائد منسلک ہیں، دنیا و آخرت کی اتنی مصلحتیں اور فوائد منسلک ہیں جنہیں شمار کرنا ممکن ہی نہیں ، چنانچہ اس بندھن کو توڑنا، اس معاہدے کو ختم کرنا ، اور ازدواجی زندگی کو طلاق سے برخاست کرنا مذکورہ تمام فوائد اور مصلحتوں کو منہدم کردیتا ہے، اس کی وجہ سے خاوند کو بہت ہی زیادہ آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے جس سے دین، دنیا، اور صحت سب متاثر ہوتی ہیں، دوسری جانب بیوی کو خاوند سے کہیں زیادہ آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے، چنانچہ عورت اپنی زندگی پہلے کی طرح استوار نہیں کر پاتی جبکہ بقیہ زندگی ندامت کے سپرد ہوتی ہے، اور آج کل کے دور میں تو خصوصی طور پر پریشانی ہوتی ہے کیونکہ حالات عورت کے لیے سازگار نہیں ہوتے، بچے اجڑ جاتے ہیں، انہیں بھی سنگین ترین حالات سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ والدین کی سائے میں گزاری ہوئی گذشتہ زندگی سے بالکل الگ تھلگ ہوتے ہیں، لہذا انہیں زندگی میں رنگ بھرنے والی تمام خوشیوں کا دامن چھوڑنا پڑتا ہے، نیز ان سنگین حالات میں ان کے سروں پر ہمہ قسم کے فکری انحراف اور امراض میں مبتلا ہونے کے خطرات منڈلا رہے ہوتے ہیں، پورا معاشرہ بھی طلاق کے بعد رونما ہونے والے نقصانات سے متاثر ہوتا ہے، چنانچہ قطع رحمی زور پکڑتی ہے، بلکہ طلاق کی جتنی بھی خرابیاں شمار کر لو کم ہیں ۔

 طلاق کے عمومی اور خصوصی مفاسد و نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے جابر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث پر غور کریں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ابلیس اپنا تخت پانی پر لگا کر اپنے چیلوں کو بھیجتا ہے ؛ اور اس کے نزدیک مرتبے کے اعتبار سے وہی مقرب ہوتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ڈالے ، چنانچہ ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے کہ : "میں نے یہ کیا اور وہ کیا۔۔۔" تو شیطان اسے کہتا ہے کہ : "تو نے کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دیا " پھر ان میں سے ایک اور آ کر کہتا ہے کہ : "میں نے فلاں کا پیچھا اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہ ڈلوا دی " شیطان اسے اپنے قریب کر کے کہتا ہے: "ہاں !تو ہے کارنامہ سر انجام دینے والا" پھر وہ اسے گلے لگا لیتا ہے) مسلم

 آج کل معمولی وجوہات اور وہمی اسباب کی بنا پر طلاق کی شرح بہت بڑھ چکی ہے، بلکہ طلاق کے اسباب میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، ان میں سب سے اہم سبب طلاق کے شرعی احکام سے جہالت اور کتاب و سنت کی تعلیمات سے رو گردانی ہے، حالانکہ شریعتِ اسلامیہ نے شادی کے بندھن کو مکمل تحفظ اور اہمیت دی ہے کہ مبادا یہ بندھن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو، ہوس پرستی کی اندھیریوں سے متزلزل ہو۔

چونکہ طلاق کا سبب خاوند اور بیوی میں سے کوئی ایک یا دونوں ہو سکتے ہیں یا ان میں سے کسی کے رشتہ دار طلاق کا باعث بنتے ہیں تو شریعت نے ہر صورت حال سے نمٹنے کا الگ حل تجویز کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں خاوند کو اس بندھن کی قدر کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: 

{ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا}

 اور بیویوں کو تکلیف پہنچانے کی غرض سے ظلم اور زیادتی کے لیے نہ روکو جو شخص ایسا کرے اس نے اپنی جان پر ظلم کیا تم اللہ کے احکام کو ہنسی کھیل نہ بناؤ [البقرة : 231]

اور خاوند کو چاہے کہ اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک، حسن معاشرت سے پیش آئے اور اگر کوئی بات بری بھی لگے تو صبر کرے عین ممکن ہے کہ حالات بہتر سے بہترین ہو جائیں ، یا انہیں اللہ تعالی نیک اولاد سے نوازے اور خاوند کو صبر کرنے پر اللہ تعالی کی طرف سے اجر بھی ملے گا، فرمانِ باری تعالی ہے:

 { وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا} 

اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو ، اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناگوار ہو مگر اللہ نے اس میں بہت بھلائی رکھ دی ہو [النساء : 19]

میاں بیوی کو اپنے اختلافات شروع میں ہی ختم کر دینے چاہئیں چہ جائیکہ مزید بڑھیں، میاں بیوی ایک دوسرے کو سمجھیں اور پھر ایک دوسرے کی پسند اور نا پسند کا بھر پور خیال کریں، یہ کام بہت ہی آسان ہے اور سب اس سے واقف ہیں۔

صبر اور در گزر بھی ازدواجی زندگی کے دوام اور خوشحالی کا سبب ہے، چنانچہ ایسے میں صبر کا کڑوا گھونٹ لمبے عرصے کی مٹھاس کا باعث بنتا ہے، ویسے بھی مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے صبر جیسی کوئی چیز نہیں ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

 {إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ}

 یقیناً صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا۔[الزمر : 10]

صرفِ نظر اور در گزر زندگی کے لیے لازمی عناصر ہیں، میاں بیوی کو ان کی خصوصی طور پر ضرورت ہوتی ہے، لہذا غیر ضروری یا قابل تاخیر امور سے صرفِ نظر میاں بیوی دونوں کے لیے بہتر ہے؛ کیونکہ دور حاضر میں بہت سے خاوند عیش پرستی پر مبنی مطالبات پورے کرتے کرتے تھک چکے ہیں، پورے حقوق کا مطالبہ ،کسی ایک حق سے بھی عدم دستبرداری اور صرف نظر نہ کرنے کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان نفرت اور بغض جنم لیتا ہے۔

ازدواجی زندگی دائمی بنانے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ خاوند اپنی بیوی کے اخلاق میں شگفتگی پیدا کرے، اور اس کے لیے شریعت کی روشنی میں جائز امور بروئے کار لائے۔

قاضی اور منصفین کی ذمہ داری ہے کہ ان کے پاس آنے والے میاں بیوی کے جھگڑوں میں صلح صفائی کروائیں، تا کہ باہمی اتفاق قائم ہو اور طلاق کے خدشات زائل ہو جائیں۔

خاوند پر بیوی کا حق ہے کہ حسن معاشرت، بیوی کے لیے مناسب رہائش، نان و نفقہ اور لباس کا انتظام کرے، ہر وقت خیر خواہی چاہے، تکلیف مت دے، اور گزند نہ پہنچائے۔

طلاق کا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بیوی زبان دراز ، بد اخلاق، اجڈ اور گنوار ہو، تو ایسی صورت میں بیوی اپنا اخلاق درست کرے، اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرے، اور بچوں کی صحیح تربیت کے لیے خوب محنت کرے، اور خاوند کی صرف وہی بات مانے جو اللہ تعالی کی ناراضی کا باعث نہ ہو، چنانچہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب کوئی عورت پانچوں نمازیں پڑھے، ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے خاوند کی اطاعت کرے تو اسے کہا جائے گا: جنت کے من چاہے دروازے سے داخل ہو جاؤ) احمد، یہ حدیث حسن ہے۔

 طلاق کا یہ بھی سبب ہے کہ میاں بیوی کے دو طرفہ یا یک طرفہ رشتہ دار ان کے درمیان دخل اندازی کریں، اس لیے رشتہ داروں کو چاہیے کہ وہ اللہ سے ڈریں اور صرف اچھی بات ہی کیا کریں۔ ایک حدیث میں ہے کہ : (اللہ تعالی کی ایسے شخص پر لعنت ہے جو کسی کی بیوی کو خاوند کے خلاف یا خاوند کو بیوی کے خلاف بھڑکائے)

بیوی کی ذمہ داری ہے کہ وہ خاوند کے رشتہ داروں کے حقوق بھی ادا کرے اور خصوصی طور پر ساس سسر کا خیال رکھے، اسی طرح خاوند بیوی کے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرے، چنانچہ کئی بار کسی ایک کے رشتہ دار کی حق تلفی بھی طلاق کا سبب بن جاتی ہے۔

طلاق کا یہ بھی سبب ہے کہ : حیا باختہ ڈارمہ سیریل دیکھے جائیں یا فحاشی پھیلانے والی ویب گاہیں دیکھی جائیں۔

خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا بھی طلاق کا سبب ہے، چنانچہ بیوی کے لیے خاوند کی اجازت سے ہی باہر جانا جائز ہے؛ کیونکہ خاوند کو معاملات کا زیادہ علم ہوتا ہے۔

تاہم اگر شادی کا بندھن قائم رکھنا ناممکن ہو جائے تو اللہ تعالی نے طلاق دینا جائز قرار دیا ہے اگرچہ یہ ناپسندیدہ عمل ہے، جیسے کہ حدیث میں ہے کہ: (اللہ تعالی کے ہاں ناپسندیدہ ترین حلال چیز طلاق ہے) چنانچہ خاوند مکمل سوچ و بچار کے بعد اللہ تعالی کے حکم کے مطابق شرعی طلاق دے، فرمانِ باری تعالی ہے: 

{ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ} 

اے نبی! جب بیویوں کو طلاق دو تو انہیں عدت گزارنے کے لیے طلاق دو، اور عدت شمار کرو[الطلاق : 1]

 آیت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے مفسرین کہتے ہیں کہ: ایسے طہر میں ایک طلاق دے جس میں جماع نہیں کیا، طلاق دینے کے بعد اگر چاہے تو دوران عدت رجوع کر لے، وگرنہ عدت ختم ہونے دے، جیسے ہی عدت ختم ہو گی زوجیت کا تعلق ختم ہو جائے گا۔

غور کریں کہ شادی کے بندھن کو تحفظ دینے کے لیے شریعت نے کتنی تاکید کی ہے جبکہ دوسری طرف آج کل طلاق کو اتنا ہی معمولی سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ طلاق کے اسباب سے دوری ضروری عمل ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: 

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ وَمَنْ يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ} 

اے ایمان والو! شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو اور جو شخص شیطان کے قدموں پر چلے گا تو وہ تو بے حیائی اور برے کاموں کا ہی حکم دے گا [النور : 21]

مسلمانو!

کچھ نوجوانوں کی زبان پر طلاق کا لفظ اولاد، اقربا، اور کسی بھی دوسرے شخص کے حقوق کا خیال بالائے طاق رکھتے ہوئے پانی کی طرح جاری ہے، بسا اوقات مختلف مجالس میں تو کبھی ایک ہی مجلس میں کئی بار طلاق دے دیتا ہے، پھر اس کے بعد فتوے تلاش کرتا ہے، بسا اوقات حیلہ بازی بھی کرتا ہے اور کبھی کسی قسم کی گنجائش نہیں ملتی اور بلا سود ندامت اٹھانی پڑتی ہے؛ حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

 { وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا (2) وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ } 

جو بھی اللہ سے ڈرے وہ اس کے لیے راستہ بنا دیتا ہے [2] اور اسے ایسی جگہ سے عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔[الطلاق : 2 - 3]

لہذا شرعی طور پر طلاق دینے والے کے لیے اللہ تعالی آسانیوں کے راستے کھول دیتا ہے، نیز شادی کے بندھن کی قدر کرنے والے اور اس کی اہانت سے دور رہنے والے کے لیے اللہ تعالی برکتیں ڈال دیتا ہے، چنانچہ وہ شادی کے اچھے نتائج سے بہرہ ور ہوتا ہے۔

یا اللہ! ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کی اتباع کرنے کی توفیق بھی عطا فرما، نیز باطل کو ہمیں باطل دکھا اور ہمیں اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے باطل کو ہمارے لیے پیچیدہ مت بنا کہ مبادا ہم گمراہ ہو جائیں، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے اپنے نفسوں اور برے اعمال کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ }

 اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو [النحل: 90، 91]

صاحب عظمت و جلالت کا تم ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور جو تم کرتے ہو اللہ تعالی اسے جانتا ہے ۔

 

Read 159 times Last modified on ہفتہ, 03 نومبر 2018 12:59

جدید خطبات

خطبات

  • دلی راحت اور سکون کے شرعی نسخے
    دلی راحت اور سکون کے شرعی نسخے
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے 24 صفر 1440 ک ⇥ منتخب اقتباس ⇤ یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی اسی سے مانگتے ہیں، نفسانی اور بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -صلی اللی علیہ وسلم- اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود و سلامتی نازل فرمائے۔ مسلمانو! دنیا آزمائش اور امتحان کا گھر ہے، تنگی ترشی دنیا کی فطرت میں شامل ہے، یہاں انسان بڑی بڑی مشقتیں اٹھاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:  {لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ} ہم نے انسان کو تکلیفیں برداشت کرتے رہنے والا پیدا کیا ہے۔ [البلد: 4]  دنیا میں انسان کی…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • طلاق کے اسباب اور حل
    طلاق کے اسباب اور حل
     تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے انسانوں اور زمین سے پیدا ہونے والی ہر چیز کے جوڑے بنائے نیز ان کے بھی جوڑے بنائے جن کے بارے میں انسان لا علم ہے، اللہ تعالی نے اپنی اور دوسروں کی اصلاح کا حکم دیا اور فساد سے روکتے ہوئے فرمایا:  {وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ}  اصلاح کرو اور فسادیوں کے راستے پر مت چلو۔[الأعراف : 142]   اللہ تبارک و تعالی نے لوگوں کے لیے مصلحتوں و فوائد کے حصول اور مفاسد و نقصانات سے بچانے کی غرض سے شرعی احکامات جاری کیے، میں اپنے رب کی حمد و شکر بجا لاتا ہوں اور توبہ و استغفار کرتا ہوں، نیز گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں وہ تمام جہانوں سے مستغنی ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے صادق و امین رسول ہیں ، یا اللہ! اپنے بندے، اور رسول محمد ، ان کی آل اور صحابہ کرام پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما۔  لوگو! اپنی تخلیق کے ابتدائی مراحل یاد کرو کہ اللہ تعالی نے اتنے مرد و زن ایک…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • استغفار! اہمیت، آداب اور مسنون الفاظ
    استغفار! اہمیت، آداب اور مسنون الفاظ
    ﷽ فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 06 ربیع الاول 1439  کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ  بعنوان "استغفار،،، اہمیت، آداب اور مسنون الفاظ" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے  کہا کہ کہا: نیکیوں کے طریقے اور انداز بہت زیادہ ہیں چنانچہ ان میں سے ایک استغفار بھی ہے جو کہ آدم، حوا، نوح، ابراہیم، موسی، داود  علیہم السلام اور سیدنا محمد ﷺ  سمیت تمام انبیائے کرام کی عادت مبارکہ  ہے، نبی ﷺ سے استغفار کیلیے متعدد الفاظ ثابت ہیں، استغفار نیک لوگوں کی امتیازی صفت ہے، بخشش اور توبہ ایسی نیکیوں میں شامل ہے جن کی قبولیت کا وعدہ اللہ تعالی نے کیا ہوا ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ: استغفار  سے  ہمہ قسم کی رحمت و نعمت کا حصول، گناہوں کی بخشش، جنت کا داخلہ، بارشوں کا نزول، عذاب سے تحفظ، حاجت روائی و مشکل کشائی  اور رزق میں فراوانی   حاصل ہوتی ہے، مسلمانوں کیلیے بخشش مانگنے کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے، فرشتے بھی مسلمانوں کیلیے بخشش مانگتے ہیں۔ صالح، نوح، ہود اور دیگر انبیائے کرام نے اپنی اقوام کو استغفار کی ترغیب دلائی، آخر میں انہوں نے کہا کہ: دنیا کی زندگی کو غنیمت جانیں یہاں سے جانے والا…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بیت المقدس کی فضیلت اور مسئلے کا حل
    بیت المقدس کی فضیلت اور مسئلے کا حل
      پہلا خطبہ تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جس نے مخصوص جگہوں کو بلند مقام عطا فرمایا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں  وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں وہی اعلی اور بلند و بالا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد  اللہ کے بندے  اور اس کے  رسول ہیں، آپ کو اللہ تعالی نے مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک راتوں رات سیر کروائی، یا اللہ! اُن پر، اُن کی آل، اور تمام متقی صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔ {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ} اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو اللہ تمہیں [حق و باطل کے مابین] تفریق کی قوت عطا کرے گا، تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑا ہی فضل کرنے والا ہے [الأنفال: 29] حمد و صلاۃ کے بعد: ہر مسلمان کے دل میں ایک بہت ہی اہم مسئلہ جا گزین ہے اور وہ ہے مسجد اقصی کا مسئلہ ؛ بیت المقدس قبلہ اول ، حرمین شریفین کے بعد تیسری…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • موسمیاتی تبدیلیاں اور بیت المقدس
    موسمیاتی تبدیلیاں اور بیت المقدس
    "یقیناً تمام تعریفیں اللہ کےلیے ہیں جس کے حکم سے زمانہ چل رہا ہے، اسی کے حکم سے صدیاں تسلسل کے ساتھ گزرتی جا رہی ہیں، وہی رات کو دن پر اور دن کو رات پر غلاف بنا دیتا ہے، اسی نے سورج کو ضیا اور چاند کو منور بنایا، اسی نے ان کی منزلیں بنائیں تا کہ تم سالوں کا اور دیگر امور کا حساب رکھ سکو، میں اسی کی حمد بیان کرتا ہوں وہی ثنا اور تعریف کا اہل ہے، میں اس کی بے شمار اور لا تعداد نعمتوں پر شکر بجا لاتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، اور اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ بندے اور اس کے رسول ہیں ، آپ نے لوگوں کو رضائے الہی کی دعوت دی، اللہ تعالی نے آپ کو ہدایت اور دین اسلام دے کر بھیجا تا کہ تمام ادیان پر اسلام کو غالب کر دے، چاہے یہ بات مشرکوں کو کتنی ہی ناگوار گزرے، اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل، صحابہ کرام ،آپ کی ہدایات اور سنتوں پر چلنے والوں پر روزِ قیامت تک ڈھیروں…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم