بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
منگل, 26 دسمبر 2017 15:22

استغفار! اہمیت، آداب اور مسنون الفاظ

Written by  ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ ۔ ترجمہ شفقت الرحمن مغل

فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 06 ربیع الاول 1439  کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ  بعنوان "استغفار،،، اہمیت، آداب اور مسنون الفاظ" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے  کہا کہ کہا: نیکیوں کے طریقے اور انداز بہت زیادہ ہیں چنانچہ ان میں سے ایک استغفار بھی ہے جو کہ آدم، حوا، نوح، ابراہیم، موسی، داود  علیہم السلام اور سیدنا محمد ﷺ  سمیت تمام انبیائے کرام کی عادت مبارکہ  ہے، نبی ﷺ سے استغفار کیلیے متعدد الفاظ ثابت ہیں، استغفار نیک لوگوں کی امتیازی صفت ہے، بخشش اور توبہ ایسی نیکیوں میں شامل ہے جن کی قبولیت کا وعدہ اللہ تعالی نے کیا ہوا ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ: استغفار  سے  ہمہ قسم کی رحمت و نعمت کا حصول، گناہوں کی بخشش، جنت کا داخلہ، بارشوں کا نزول، عذاب سے تحفظ، حاجت روائی و مشکل کشائی  اور رزق میں فراوانی   حاصل ہوتی ہے، مسلمانوں کیلیے بخشش مانگنے کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے، فرشتے بھی مسلمانوں کیلیے بخشش مانگتے ہیں۔ صالح، نوح، ہود اور دیگر انبیائے کرام نے اپنی اقوام کو استغفار کی ترغیب دلائی، آخر میں انہوں نے کہا کہ: دنیا کی زندگی کو غنیمت جانیں یہاں سے جانے والا واپس آ کر نیکیاں کمانے کی سر توڑ کوشش کریگا  لیکن اسے موقع نہیں دیا جائے، اس لیے کسی بھی چھوٹی نیکی یا بدی کو کبھی بھی معمولی مت سمجھنا، پھر آخر میں انہوں نے سب کے جامع دعا کروائی۔

پہلا خطبہ:

تمام  تعریفیں اللہ  کیلیے ہیں، وہی رحمن و رحیم اور علیم و حکیم ہے، عظیم فضل والا ہے، میں اسی کی حمد و ثنا بجا لاتا ہوں اسی کی طرف توبہ کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، معزز عرش اسی کا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد   اللہ کے بندے اور اس کے رسول  ہیں، آپ بہت ہی اعلی اخلاق کے مالک تھے، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول  محمد پر، انکی آل اور صراطِ مستقیم کی دعوت دینے والے ہدایت یافتہ صحابہ کرام پر سلامتی، برکتیں ، اور رحمتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

رضائے الہی کے مطابق عمل کرتے ہوئے اللہ سے ڈرو، حرام کاموں کو چھوڑ دو، تا کہ تم رضائے الہی اور اس کی جنت پا سکو، نیز غضب و عذاب الہی سے نجات حاصل کر سکو۔

مسلمانو!

اللہ تعالی نے فضل و کرم اور جود و سخا کرتے ہوئے ہمارے لیے نیکی اور عبادات کے بہت سے دروازے کھول رکھے ہیں، مقصد صرف یہ ہے کہ مسلمان نیکی کے کسی بھی دروازے سے داخل ہو کر  اطاعت گزار بنے ؛ اس کے بدلے میں اللہ تعالی دنیا و آخرت سنوار کر درجات بلند فرما دے، چنانچہ  اللہ تعالی اسے دنیا میں سکھ و سعادت والی زندگی بخشے گا، اور مرنے کے بعد دائمی نعمتیں اور رضائے الہی حاصل کرے گا، فرمانِ باری تعالی ہے: { فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} نیکیوں کی طرف بڑھ چڑھ کر حصہ لو، تم جہاں بھی ہو گے اللہ تعالی تم سب کو اکٹھا کر لے گا، بیشک اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے۔ [البقرة : 148]

نیز اللہ تعالی نے تمام لوگوں کیلیے نمونہ و قدوہ بننے والے انبیاء علیہم الصلاۃ و السلام کے بارے میں فرمایا: {إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ}بیشک وہ نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے، اور وہ ہمیں امید اور خوف کے ساتھ  پکارتے اور ہم سے خوب ڈرتے تھے۔ [الأنبياء : 90]

نیز نبی ﷺ نے معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: (کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازوں کے بارے میں نہ بتلاؤں؟:  روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو ایسے بھجا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو ختم کر دیتا ہے، اور قیام اللیل  )پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ [16]  فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} ان کے پہلو بستروں  سے الگ رہتے ہیں ۔ وہ اپنے پروردگار کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو رزق ہم نے انہیں  دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں [16] کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ انکی آنکھوں کی ٹھنڈک کی کیا کچھ چیزیں ان کے لئے چھپا  رکھی گئی ہیں یہ ان کاموں کا بدلہ ہو گا جو وہ کیا کرتے تھے۔ [السجدة :16 - 17] پھر آپ نے فرمایا: (کیا میں تمہیں اصل ہدف ، ہدف کا ستون اور اس کی چوٹی  کے بارے میں نہ بتلاؤں؟) میں نے کہا : "کیوں نہیں؟" تو آپ نے فرمایا: (اصل ہدف : اسلام ہے، اس کا ستون  نماز ہے، اور اس کی چوٹی جہاد فی سبیل اللہ ہے) ترمذی نے اسے روایت کیا  اور صحیح قرار دیا ہے۔

نیکیوں میں اضافے اور گناہوں کو مٹانے کا ایک طریقہ استغفار ہے، چنانچہ بخشش کی دعا انبیاء و المرسلین علیہم الصلاۃ و السلام کی عادت مبارکہ ہے، اللہ تعالی نے بشریت کے والدین -ان دونوں پر اللہ کی طرف سے سلامتی، رحمتیں، اور برکتیں نازل ہوں-کے بارے میں فرمایا: {قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ}[حوا اور آدم ] دونوں نے کہا: ہمارے پروردگار! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھایا، اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ [الأعراف : 23]

اور نو ح علیہ السلام کی بات نقل کرتے ہوئے فرمایا: {رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ } میرے پروردگار! مجھے ، میرے والدین، اور میرے گھر میں داخل ہونے والے مومن مرد و خواتین تمام کو بخش دے۔[نوح : 28]

اور ابراہیم علیہ السلام کی بات حکایت کرتے ہوئے فرمایا:{رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ} ہمارے پروردگار! مجھے، میرے والدین، اور تمام مومنین کو حساب کے دن بخش دینا۔[ابراہیم : 41]

اور موسی علیہ السلام کا مقولہ نقل کرتے ہوئے فرمایا: { رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِأَخِي وَأَدْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ} میرے پروردگار! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے، اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما، تو ہی سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ [الأعراف : 151]

ایسے ہی فرمایا: {وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ} داؤد علیہ السلام سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے، تو پھر اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے اور پوری طرح رجوع کیا ۔[ص : 24]

اور نبی ﷺ کو حکم دیتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا: {فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ }یہ بات جان لیں! اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ہے، اور اپنے تسامحات  سمیت سب مومن مرد و خواتین کیلیے اللہ تعالی سے بخشش مانگیں۔[محمد : 19]

اور آپ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ کثرت سے استغفار کیا کرتے تھے، حالانکہ اللہ تعالی نے آپ کی گزشتہ و پیوستہ تمام لغزشیں معاف فرما دی ہیں ، چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ :"ہم رسول اللہ ﷺ کی ایک ہی مجلس میں سو سے زیادہ مرتبہ استغفار کے یہ الفاظ شمار کر لیتے تھے: (رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ) [میرے پروردگار! مجھے بخش دے، اور میری توبہ قبول فرما، بیشک تو توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے]ابو داود، ترمذی  اور اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔

اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ: "رسول اللہ ﷺ وفات سے پہلے اکثر اوقات یہ فرمایا کرتے تھے: (سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ) [اللہ اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، میں اللہ سے مغفرت کا طالب ہوں اور اسی کی طرف  رجوع کرتا ہوں۔]بخاری و مسلم

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ : "میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی کو  (أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ)[ میں اللہ سے مغفرت کا طالب ہوں اور اسی کی طرف  رجوع کرتا ہوں]کہتے ہوئے نہیں سنا"  نسائی

آپ ﷺ نماز کا سلام پھیرنے کے بعد تین بار کہا کرتے تھے: " أَسْتَغْفِرُ اللهَ " [میں اللہ سے مغفرت کا طالب ہوں]مسلم نے اسے ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اس کے بعد نماز کے بعد والے اذکار فرماتے ۔

استغفار نیک لوگوں کی عادت ، متقی لوگوں کا عمل اور مومنوں کا اوڑھنا بچھونا ہے، اللہ تعالی نے انہی کی بات نقل کرتے ہوئے فرمایا: {رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ} ہمارے پروردگار! ہمارے گناہ بخش دے، اور ہماری برائیاں مٹا دے، اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت دینا۔[آل عمران : 193]

اسی طرح فرمایا: {اَلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ [16] الصَّابِرِينَ وَالصَّادِقِينَ وَالْقَانِتِينَ وَالْمُنْفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ} وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لا چکے اس لئے ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا [16] وہ صبر کرنے والے اور سچ بولنے والے اور فرمانبرداری کرنے والے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے اور پچھلی رات کو بخشش مانگنے والے ہیں۔ [آل عمران : 17-16]  حسن بصری رحمہ ا للہ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں: "مومنین  رات کی نماز اتنی لمبی کرتے ہیں کہ سحری کا وقت شروع ہو جائے، اور پھر استغفار میں مشغول ہو جاتے ہیں"

ایسے ہی فرمایا: {وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ} ایسے لوگوں سے جب کوئی برا کام ہو جاتا ہے یا وہ اپنے آپ پر ظلم کر بیٹھتے  ہیں تو فوراً انہیں اللہ یاد آ جاتا ہے اور وہ اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگتے ہیں، اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کر سکے؟ اور وہ دیدہ دانستہ  اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے [آل عمران : 135]

ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں:" گناہوں سے استغفار کا مطلب یہ ہے کہ گناہوں کو مٹانے کی درخواست اللہ تعالی سے کریں، انسان کو استغفار کی بہت زیادہ ضرورت ہے؛ کیونکہ انسان دن رات گناہوں میں ملوّث رہتا ہے، اور قرآن مجید میں توبہ و استغفار کا ذکر بار بار آیا ہے، نیز انسان کو کثرت سے استغفار کی ترغیب بھی دلائی گئی ہے" ختم شد

اللہ سے گناہوں کی بخشش طلب کرنے پر اللہ کی طرف سے اسے قبول کرنے اور گناہ بخش دینے کا وعدہ  ہے۔

اسی طرح کسی مخصوص گناہ سے توبہ کرنے کی بھی شرعاً اجازت ہے؛ کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: (جب انسان کوئی گناہ کر لے اور پھر کہے: "یا اللہ! مجھ سے گناہ ہو گیا ہے، توں  میرا گناہ معاف کر دے" تو اللہ تعالی فرماتا ہے: "میرے بندے کو معلوم ہے کہ اس کا رب گناہ بخشتا بھی ہے اور ان پر پکڑتا بھی ہے، میں نے اپنے بندے کو معاف کیا") بخاری و مسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔

اسی طرح مطلق طور پر گناہوں کی بخشش مانگنا بھی شرعی طور پر درست ہے، چنانچہ  اس کیلیے "رَبِّ اغْفِرْ لِيْ، وَارْحَمْنِيْ " [پروردگار! مجھے بخش دے اور رحم فرما] کہہ سکتا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی نے حکم دیتے ہوئے فرمایا: {وَقُلْ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ} اور آپ کہیں: میرے پروردگار! مجھے بخش دے اور رحم فرما، تو ہی سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔[المومنون : 118]

اور نبی ﷺ نو مسلم افراد کو دعا کرنے کیلیے مخصوص الفاظ سکھاتے ہوئے فرماتے: (اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيْ، وَارْحَمْنِيْ، وَاهْدِنِيْ، وَعَافِنِيْ، وَارْزُقْنِيْ) [میرے پروردگار! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت ، عافیت اور رزق سے نواز ]اسے مسلم نے طارق بن اُشیم رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

اسی طرح انسان اپنے سارے گناہوں کی بخشش بھی اللہ تعالی سے مانگ سکتا ہے، چاہے اسے اپنے گناہ یاد ہوں یا نہ یاد ہوں، کیونکہ انسان بہت سے گناہ کر کے بھول جاتا ہے، لیکن اللہ تعالی کو بندے کے سب گناہ یاد رہتے ہیں، اور انہی کی بنیاد پر بندے کا محاسبہ بھی ہو گا، چنانچہ ابو موسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "نبی ﷺ عام طور پر دعا مانگا کرتے تھے: (اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي ، وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِيْ ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جِدِّيْ وَهَزْلِي، وخَطَئِيْ، وَعَمْدِي وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي ، اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ ، وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ ، وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّيْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ) [میرے پروردگار! میرے گناہ، اپنے بارے میں جہالت و زیادتی  سمیت ان تمام گناہوں کو بھی بخش دے جنہیں تو مجھ سے بھی زیادہ جانتا ہے، یا اللہ! میرے سنجیدہ و غیر سنجیدہ ، سمجھ و نہ سمجھ والے  سب گناہ بھی بخش دے، میرے گناہوں میں یہ سب اقسام موجود ہیں، یا اللہ! میرے گزشتہ، پیوستہ، خفیہ، اعلانیہ، اور جنہیں تو مجھے سے بھی زیادہ جانتا ہے  سب گناہ معاف فرما دے، تو ہی آگے بڑھانے اور پیچھے  کرنے والا ہے، اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔]بخاری  و مسلم

اور نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ:  (اس امت میں شرک چیونٹی کے رینگنے سے بھی زیادہ مخفی انداز میں سرایت کرے گا)، تو اس پر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے  استفسار کیا: "اس سے خلاصی کا کیا ذریعہ ہے؟"  تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں کہا کہ تم کہو: (اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ شيئا وَأَنَا أَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِيْ لَا أَعْلَمُ) [یا اللہ! میں جان بوجھ کر تیرے ساتھ کسی کو شریک بنانے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور ان گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں جو میرے علم میں نہیں ہیں۔]ابن حبان  نے اسے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، جبکہ امام احمد نے ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ عام طور پر دعا میں کہا کرتے تھے: (اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ، دِقَّهُ وَجِلَّهُ، خَطَأَهُ وَعَمْدَهُ، سِرَّهُ وَعَلانِيَتَهُ ، أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ)[یا اللہ! میرے چھوٹے برے، عمداً اور خطاً، خفیہ ، اعلانیہ، ابتدا سے انتہا تک سب گناہ بخش دے۔] مسلم ، ابو داود

چنانچہ اگر کوئی شخص اللہ تعالی سے اپنے تمام گناہ جنہیں جانتا ہے یا نہیں جانتا سب کی بخشش مانگے تو اسے بہت بڑی بات کی توفیق مل گئی ہے۔

گناہوں کی بخشش کیلیے انسان کی طرف سے کی جانے والی دعا اخلاص، اصرار، گڑگڑانے، اور اللہ کے سامنے عاجزی و انکساری  کے اظہار پر مشتمل ہوتی ہے، نیز اس میں گناہوں سے توبہ بھی شامل ہے،  اور اللہ تعالی سے توبہ مانگنا بھی استغفار ہی کی ایک شکل ہے، چنانچہ یہ تمام امور استغفار اور توبہ کے ضمن میں آتے ہیں، لہذا مذکورہ الفاظ الگ الگ ذکر ہوں تو تمام معانی ان میں یکجا ہوتے ہیں، اور جب یہ الفاظ سب یکجا ہوں تو استغفار کا مطلب یہ ہو گا کہ: گناہوں اور ان کے اثرات کے خاتمے، ماضی میں کیے ہوئے گناہوں کے شر سے تحفظ   اور گناہوں پر پردہ پوشی طلب کی جائے۔

جبکہ توبہ کے مفہوم میں:  گناہ چھوڑ کر اللہ کی طرف رجوع ، گناہوں کے خطرات سے مستقبل میں تحفظ  اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم شامل ہے۔

اللہ تعالی نے توبہ اور استغفار کو اپنے اس فرمان میں یکجا بیان فرمایا: {وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيرٍ} اپنے رب سے مغفرت مانگو پھر اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ تمھیں ایک معین مدت تک اچھا فائدہ دے گا اور ہر فضل والے کو اس کا فضل دے گا اور اگر تم پھر گئے تو یقیناً میں تمھیں بڑے دن کے عذاب سے ڈراتا ہوں [ہود : 3] اس کے علاوہ بھی دیگر آیات ہیں۔

نبی ﷺ کا فرمان ہے: (لوگو! اپنے رب کی طرف رجوع کرو، اور اس سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگو، کیونکہ میں ایک دن میں ایک سو بار توبہ و استغفار کرتا ہوں) نسائی نے اسے اغر مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

انسان کو ہر وقت استغفار کی سخت ضرورت رہتی ہے، خصوصاً دورِ حاضر میں کیونکہ اس وقت گناہوں اور فتنوں کی بھر مار ہے، نیز استغفار دنیاوی اور اخروی زندگی میں  کامیابی کا ضامن بھی ہے، چنانچہ استغفار خیر و بھلائی کا دروازہ اور تکالیف و مصائب ٹالنے کا باعث ہے،  پوری امت کو بحیثیت کل دائمی طور پر توبہ استغفار کرنے کی ضرورت ہے، تا کہ پوری امت  پر نازل شدہ آفات اور تکالیف  ٹل جائیں،  نیز آنے والی مصیبتوں سے تحفظ حاصل ہو۔

استغفار سے وہی شخص غافل ہوتا ہے جو  استغفار کے فوائد و برکات سے نابلد ہو، حالانکہ قرآن و سنت استغفار کے فضائل سے بھر پور ہیں، صالح علیہ السلام کے بارے میں فرمانِ باری تعالی ہے: {قَالَ يَا قَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُونَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ} [صالح نے] کہا: ''میری قوم کے لوگو! تم بھلائی سے پیشتر برائی کو کیوں جلدی طلب کرتے ہو؟ تم اللہ سے بخشش کیوں  نہیں طلب کرتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے [النمل : 46]

چنانچہ استغفار کی وجہ سے امت پر رحمت نازل ہو گی؛ کیونکہ اللہ تعالی نے نوح علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: {فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا (10) يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا (11) وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا } میں [نوح ]نے کہا: تم اپنے رب سے بخشش مانگو، بیشک وہ بخشنے والا ہے [10] وہ آسمان سے تم پر موسلا دھار بارش نازل فرمائے گا [11] اور تمہاری دولت  کے ساتھ اولاد سے بھی مدد کرے گا، اور تمہارے لیے باغات و نہریں بنا دے گا۔[نوح : 10 - 12]

اور ہود علیہ السلام کی دعوت ذکر کرتے ہوئے فرمایا: {وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَى قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِينَ} میری قوم ! تم اپنے رب سے بخشش مانگو اور اسی کی طرف رجوع کرو، وہ تم پر موسلا دھار بارش نازل کرے گا اور تمہاری موجودہ قوت میں اضافہ فرمائے گا، اس لیے تم مجرم بن کر رو گردانی مت کرو۔[ہود : 52]

اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ} اور آپ کی موجودگی میں اللہ تعالی  انہیں عذاب نہیں دے گا، نیز اللہ تعالی انہیں استغفار کرنے کی حالت میں بھی عذاب دینے والا نہیں ہے۔[الأنفال : 33]

ابو موسی رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے بارے میں کہا ہے کہ: "تمہارے لیے عذاب الہی سے بچاؤ کے دو ذریعے تھے، ان میں سے ایک یعنی نبی ﷺ تو چلے گئے ہیں، اب صرف استغفار باقی ہے جو قیامت تک جاری رہے گا"

کثرت سے استغفار  پوری امت کی مشکل کشائی اور حاجت روائی کیلیے معاون ہے، نیز آئندہ ممکنہ خطرات سے بچاؤ کا باعث بھی ہے؛ کیونکہ کوئی بھی مصیبت گناہوں کی وجہ سے نازل ہوتی ہے اور توبہ و استغفار سے ان کا خاتمہ ممکن ہے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جس شخص نے استغفار کو اپنی عادت بنا لیا، تو اللہ تعالی اس کیلیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ  اور  تمام غموں سے کشادگی عطا فرمائے گا، نیز اسے ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں تھا) ابو داود

نبی ﷺ سے استغفار کے بارے میں متعدد الفاظ اور اذکار ثابت ہیں، انہیں اپنانے سے بہت ہی عظیم ثواب  ملے گا، ان میں سے چند یہ ہیں:

آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جس شخص نے کہا: "أَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لاَ إلَهَ إلاَّ هُوَ، الْحَيُّ القَيُّومُ، وَأتُوبُ إلَيهِ" [میں اللہ تعالی سے بخشش طلب کرتا ہوں  اس کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں ہے، وہ زندہ جاوید اور ہمیشہ قائم رہنے والی ذات ہے، اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ]تو اس کے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے، چاہے وہ میدان جہاد کا بھگوڑا ہی کیوں نہ ہو) ابو داود، ترمذی نے روایت کیا ہے، اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: (جس شخص نے بستر پر لیٹتے وقت تین بار کہا: "أَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لاَ إلَهَ إلاَّ هُوَ، الْحَيُّ القَيُّومُ، وَأتُوبُ إلَيهِ"[میں اللہ تعالی سے بخشش طلب کرتا ہوں  اس کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں ہے، وہ زندہ جاوید اور ہمیشہ قائم رہنے والی ذات ہے، اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ]اس کے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے چاہے سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں) ترمذی

 عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جو شخص رات کے وقت  بیدار ہو اور پھر کہے: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ "[اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے، وہ تنہا و یکتا ہے، اسی کی بادشاہی ہے، اور تعریفیں اسی کیلیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، اللہ بہت بڑا ہے، نیکی کرنے کی طاقت اور گناہ سے بچنے کی ہمت صرف اللہ کی طرف سے ہی ملتی ہے]پڑھ کر اس نے کہا: "یا اللہ! مجھے بخش دے" تو اس کی دعا قبول ہو گی، اور اگر نماز پڑھے تو وہ بھی قبول ہو گی) بخاری

اور ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ: (جو شخص جمعہ کے دن فجر سے پہلے تین بار کہے: "أَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لاَ إلَهَ إلاَّ هُوَ، الْحَيُّ القَيُّومُ، وَأتُوبُ إلَيهِ" [میں اللہ تعالی سے بخشش طلب کرتا ہوں  جس کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں ہے، وہ زندہ جاوید اور ہمیشہ قائم رہنے والی ذات ہے، اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ] اس کے سارے گناہ بخش دیے جائیں گے چاہے سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں )

نیز شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (سید الاستغفار یہ ہے کہ تم کہو: "اَللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ"[یعنی:  یا اللہ تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا میرا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا ہے، اور میں تیرا بندہ ہوں، میں اپنی طاقت کے مطابق تیرے  عہد و پیمان پر قائم ہوں، میں اپنے کیے ہوئے اعمال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں،  میں تیرے حضور مجھ پر ہونے والی تیری نعمتوں کا اقرار  کرتا ہوں، ایسے ہی اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں، لہذا مجھے بخش دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی بھی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے] آپ نے فرمایا: جس شخص نے  کامل یقین کے ساتھ دن کے وقت اسے پڑھا، اور اسی دن شام ہونے سے پہلے اس کی وفات ہو گئی ، تو وہ اہل جنت میں سے ہو گا، اور جس شخص نے  اسے رات کے وقت کامل یقین کے ساتھ اسے پڑھا اور صبح ہونے سے قبل ہی فوت ہو گیا تو وہ بھی جنت میں جائے گا) بخاری

انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ : "میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، آپ فرما  رہے تھے: (اللہ تعالی فرماتا ہے: ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگیں، اور پھر تم مجھ سے مغفرت مانگو تو میں تمہیں بخش دونگا، مجھے [تمہارے گناہوں کی] کوئی پرواہ نہیں ہو گی) ترمذی نے اسے روایت کیا ہے اور اسے حسن قرار دیا۔

کسی بھی عبادت کے دوران اور اس سے فراغت کے بعد بھی استغفار کرنا شرعی عمل ہے، تا کہ عبادت میں ممکنہ کمی کوتاہی پوری ہو سکے، نیز خود پسندی اور ریاکاری سے انسان دور رہے، چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے: {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} پھر تم بھی وہیں سے واپس آؤ جہاں سے لوگ واپس آتے ہیں، اور اللہ تعالی سے بخشش مانگو، بیشک اللہ تعالی بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔[البقرة : 199]

اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے: { وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ کو قرض حسنہ دو۔ جو اپنے لیے بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤ گے ، وہ بہتر اور اجر کے اعتبار سے بہت بڑا ہے، اللہ سے بخشش مانگتے رہو، بےشک اللہ بڑا غفور و رحیم ہے [المزمل : 20] چنانچہ ان دونوں آیات میں اللہ تعالی نے عبادات مکمل کرنے کے دوران اور بعد میں بھی استغفار کرنے کا حکم دیا ہے۔

اسی طرح ہر مسلمان تمام مومن  و مسلم مرد و خواتین،  زندہ و فوت شدہ سب کیلیے بخشش طلب کرے، کیونکہ یہ عمل نیکی، مسلمانوں سے محبت اور دلی صفائی کا باعث ہو گا، نیز اللہ کے ہاں ان کیلیے شفاعت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} جو ان کے بعد آئے وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو معاف فرما دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے بارے میں بُغض نہ رہنے دے ، اے ہمارے رب تو بڑا نرمی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے [الحشر : 10]

اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (جو شخص مومن مرد و خواتین کیلیے اللہ تعالی سے مغفرت طلب کرے تو اللہ تعالی اس کیلیے ہر مومن مرد و خاتون کے بدلے میں ایک نیکی لکھ دے گا) ہیثمی کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سند جید ہے۔

اس حدیث کے مصداق میں: جنازے کی دعائیں، اور قبرستان  میں جا کر دعا کرنا بھی شامل ہے، نیز یہ عمل حملۃ العرش اور مقرب فرشتوں کی اقتدا بھی ہے، اللہ تعالی نے حملۃ العرش اور مقرب فرشتوں کی دعائیں ذکر کرتے ہوئے فرمایا: {اَلَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ} عرشِ الٰہی کے حامل فرشتے اور جو ملائکہ عرش کے گرد و پیش حاضر رہتے ہیں، سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہے ہیں ، وہ اللہ  پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمانداروں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں، نیز وہ  کہتے ہیں اے ہمارے رب تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستے کی اتباع کی انہیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما [غافر : 7] بلکہ یہ عمل تمام مومنوں  کیلیے سب سے بڑی خیر خواہی کا عمل ہے۔

اللہ کے بندو!

اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرو؛ کیونکہ حدیث قدسی ہے کہ: (میرے بندو! تم شب و روز گناہ کرتے ہو، اور میں سارے گناہ معاف کرنے پر قادر ہوں، اس لئے تم مجھ سے مغفرت مانگو میں تمہیں معاف کر دونگا) مسلم نے اسے ابو ذر رضی اللہ عنہ  سے روایت کیا ہے۔

اس لیے اپنے رب سے مغفرت طلب کرو تو تم اس کے فضل و کرم، جود و سخا، اور برکتوں کا مشاہدہ کر لو گے، تمہارے گناہ مٹا اور درجات بلند کر دیے جائیں گے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا: (اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالی تمہیں ختم کر کے ایسی قوم کو لے آئے گا جو گناہ کر کے اللہ تعالی سے مغفرت طلب کیا کریں گے، تو اللہ تعالی انہیں معاف فرما دیا کرے گا)مسلم

اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی انتہائی وسیع مغفرت اور جود و سخا کا مالک ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا} اور جو شخص گناہ کر لے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر اللہ تعالی سے گناہ کی بخشش چاہے تو وہ اللہ تعالی کو بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا پائے گا۔[النساء : 110]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین  ﷺ کی سیرت و ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے،  میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے گناہوں کی بخشش مانگو ۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں  اللہ کیلئے ہیں وہی بخشنے والا اور قدر دان ہے، میرے رب کے اسمائے حسنی اور اعلی صفات ہیں، عظیم نعمتوں پر میں  اپنے رب کی  حمد خوانی کرتا ہوں جنہیں اللہ کے سوا کوئی شمار بھی نہیں کر سکتا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا اور  تنہا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سربراہ اور نبی جناب محمد اس کے  چنیدہ بندے  اور رسول ہیں، یا اللہ !اپنے بندے اور رسول محمد ، انکی  آل ، اور متقی صحابہ کرام پر اپنی رحمت  اور سلامتی نازل فرما ۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی اختیار کرنے کیلیے  اس کی رضا مانگو ، اسی کی بندگی کرو اور حرام کردہ چیزوں سے بچو۔

ہمارے پروردگار نے تمہیں عملِ صالح کی صلاحیت  دیتے ہوئے دنیا کو تمہارے لیے دارِ عمل اور آخرت کو دارِ جزا بنایا، تو یہاں پر با عمل، مخلص اور اچھے طریقے سے عبادت کرنے والے لوگ ہی کامیاب ہوئے، جبکہ بد اعمال اور رو گردانی کرنے والے لوگ تباہ ہو گئے۔

گویا کہ تم موت کے انتظار میں تھے اور وہ آ کر رہے گی ، لیکن تمہاری تمام تمنائیں پوری نہ ہوں گی، سو قصۂ پارینہ بن جانے والوں کی تاریخ اور واقعات میں تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہے۔

قبروں والے یہ تمنا کریں گے کہ دنیا میں لوٹ جائیں اور انہیں صرف دو رکعت ادا کر کے ڈھیروں استغفار کرنے کی مہلت دے دی جائے، لیکن ان کی یہ تمنا پوری نہیں کی جائے گی، فرمانِ باری تعالی ہے: {حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ (99) لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ} یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آتی ہے تو وہ کہہ اٹھتا ہے: میرے پروردگار! مجھے لوٹا دے، لوٹا دے [99] تا کہ میں گزشتہ زندگی میں ترک کیے ہوئے نیک اعمال بھی اب کر لوں۔ ہر گز نہیں یہ تو ایک بات ہے جو اس نے کہنے ہے، لیکن ان درمیان ایک پردہ ہے اٹھائے جانے والے دن تک۔ [المؤمنون: 99، 100] اس لیے یہاں پر کسی بھی چھوٹی سی نیکی یا برائی کو معمولی مت سمجھیں، ایک حدیث میں ہے کہ (چھوٹے گناہوں کو  معمولی مت سمجھو؛ کیونکہ یہ چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر انسان کو ہلاک کر دیتے ہیں) اور اسی طرح ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ: (کسی بھی نیکی کو حقیر مت جانو، چاہے وہ نیکی اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنے  پر ہی مشتمل کیوں نہ ہو)

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو[الأحزاب: 56]، اور آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ: ( جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا)

اس لئے سید الاولین و الآخرین اور امام المرسلین پر درود  و سلام پڑھو۔

اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما صلَّيتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، اللهم بارِك على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما باركتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، وسلم تسليما كثيراً۔

یا اللہ ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان ، علی اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے راضی ہو جا،  تابعین کرام اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے راضی ہو جا، یا اللہ ! انکے ساتھ ساتھ اپنی رحمت و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین! یا ذو الفضل العظیم!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما،  یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما،  یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما،  یا اللہ! کفر اور تمام کفار کو ذلیل کر دے ، یا اللہ! تیرے اور تیرے دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما دے، یا رب العالمین! یا اللہ! کافروں کی منصوبہ بندیاں غارت فرما، یا اللہ! کافروں کی اسلام مخالف منصوبہ بندیاں غارت فرما۔ یا اللہ! جو بھی اپنی منصوبہ بندیوں کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں برے ارادے رکھے تو ان کی منصوبہ بندیاں غارت فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! ہم تجھ سے اپنے نفسوں اور برے اعمال کے  شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں،  اور ہر شریر کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! ہمارے تمام معاملات کے نتائج مثبت فرما، اور ہمیں دنیا و آخرت کی رسوائی سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہمیں ایک لمحے یا اس بھی کم وقت کے لیے بھی تنہا مت فرما، اور ہمارے تمام امور سنوار دے، یا اللہ! ہمارے تمام امور سنوار دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! تمام مسلمان و مومن مرد و خواتین کو بخش دے، زندہ اور فوت شدہ سب کو معاف فرما دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! تمام فوت شدگان کی مغفرت فرما، یا اللہ! ان کی قبروں کو منور فرما، ان کی نیکیوں میں اضافہ فرما، ان کے گناہوں سے در گزر فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے تمام معاملات کے نتائج مثبت فرما، اور ہمیں دنیا و آخرت کی رسوائی سے محفوظ فرما۔ یا ارحم الرحمین!

یا اللہ! ہمیں کلمہ توحید کے ذریعے ثابت قدم بنا، یا اللہ! ہم پر احسان فرماتے ہوئے ہمیں مرتے دم تک کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ پر کار بند رہنے والا بنا، یا اللہ! جب تو ہمیں موت دے تو ہم سے راضی ہونا ، یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان اور شیطانی چیلوں اور شیطانی لشکروں سے محفوظ فرما، یا رب العالمین! ، یا اللہ! ہمیں ہر شریر کے شر سے محفوظ فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ یا اللہ! ہمیں اپنے نفس کے شر سے بھی محفوظ فرما۔ یا اللہ! تمام مسلمانوں کو اور ان کی اولاد کو شیطان اور شیطانی چیلوں اور شیطانی لشکروں سے محفوظ فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمیں برائیوں سے بچنے کی قوت عطا فرما۔

یا اللہ! ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی سے نواز اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! اپنے بندے خادم حرمین شریفین کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، یا اللہ! اُن کی تیری مرضی کے مطابق  رہنمائی  فرما، اور ان کے تمام اعمال اپنی رضا کیلیے قبول فرما، یا اللہ! ہر اچھے نیکی کے کام کی انہیں توفیق دے، یا اللہ! انہیں صحت و عافیت سے نواز، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ یا اللہ! ان کے ولی عہد کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! نیکی اور تقوی کے کاموں کے لیے ان کی پیشانی سے پکڑ کر رہنمائی فرما، یا اللہ! ان کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچا، یا رب العالمین!  یا ا للہ! انہیں  ہر اچھے کام کی توفیق عطا فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! ہمارے ملک کی ہمہ قسم کی خرابیوں اور برائیوں سے حفاظت فرما، یا اللہ! ہمارے ملک کی ہمہ قسم کی خرابیوں اور برائیوں سے حفاظت فرما۔

یا اللہ! ہماری سرحدوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! ہمارے اگلے، پچھلے، خفیہ، اعلانیہ،  گزشتہ و پیوستہ ،  اور وہ تمام گناہ بھی معاف فرما جنہیں تو ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے، تو ہی پست و بالا کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں!

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے اعمال کی توفیق مانگتے ہیں، نیز جہنم  اور جہنم کے قریب کرنے والے اعمال سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔ یا ارحم الرحمین!

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ } اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو [النحل: 90]

اللہ عزوجل کا تم ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔

Read 1169 times

جدید خطبات

خطبات

  • استغفار! اہمیت، آداب اور مسنون الفاظ
    استغفار! اہمیت، آداب اور مسنون الفاظ
    ﷽ فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 06 ربیع الاول 1439  کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ  بعنوان "استغفار،،، اہمیت، آداب اور مسنون الفاظ" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے  کہا کہ کہا: نیکیوں کے طریقے اور انداز بہت زیادہ ہیں چنانچہ ان میں سے ایک استغفار بھی ہے جو کہ آدم، حوا، نوح، ابراہیم، موسی، داود  علیہم السلام اور سیدنا محمد ﷺ  سمیت تمام انبیائے کرام کی عادت مبارکہ  ہے، نبی ﷺ سے استغفار کیلیے متعدد الفاظ ثابت ہیں، استغفار نیک لوگوں کی امتیازی صفت ہے، بخشش اور توبہ ایسی نیکیوں میں شامل ہے جن کی قبولیت کا وعدہ اللہ تعالی نے کیا ہوا ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ: استغفار  سے  ہمہ قسم کی رحمت و نعمت کا حصول، گناہوں کی بخشش، جنت کا داخلہ، بارشوں کا نزول، عذاب سے تحفظ، حاجت روائی و مشکل کشائی  اور رزق میں فراوانی   حاصل ہوتی ہے، مسلمانوں کیلیے بخشش مانگنے کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے، فرشتے بھی مسلمانوں کیلیے بخشش مانگتے ہیں۔ صالح، نوح، ہود اور دیگر انبیائے کرام نے اپنی اقوام کو استغفار کی ترغیب دلائی، آخر میں انہوں نے کہا کہ: دنیا کی زندگی کو غنیمت جانیں یہاں سے جانے والا…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بیت المقدس کی فضیلت اور مسئلے کا حل
    بیت المقدس کی فضیلت اور مسئلے کا حل
      پہلا خطبہ تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جس نے مخصوص جگہوں کو بلند مقام عطا فرمایا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں  وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں وہی اعلی اور بلند و بالا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد  اللہ کے بندے  اور اس کے  رسول ہیں، آپ کو اللہ تعالی نے مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک راتوں رات سیر کروائی، یا اللہ! اُن پر، اُن کی آل، اور تمام متقی صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔ {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ} اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو اللہ تمہیں [حق و باطل کے مابین] تفریق کی قوت عطا کرے گا، تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑا ہی فضل کرنے والا ہے [الأنفال: 29] حمد و صلاۃ کے بعد: ہر مسلمان کے دل میں ایک بہت ہی اہم مسئلہ جا گزین ہے اور وہ ہے مسجد اقصی کا مسئلہ ؛ بیت المقدس قبلہ اول ، حرمین شریفین کے بعد تیسری…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • موسمیاتی تبدیلیاں اور بیت المقدس
    موسمیاتی تبدیلیاں اور بیت المقدس
    "یقیناً تمام تعریفیں اللہ کےلیے ہیں جس کے حکم سے زمانہ چل رہا ہے، اسی کے حکم سے صدیاں تسلسل کے ساتھ گزرتی جا رہی ہیں، وہی رات کو دن پر اور دن کو رات پر غلاف بنا دیتا ہے، اسی نے سورج کو ضیا اور چاند کو منور بنایا، اسی نے ان کی منزلیں بنائیں تا کہ تم سالوں کا اور دیگر امور کا حساب رکھ سکو، میں اسی کی حمد بیان کرتا ہوں وہی ثنا اور تعریف کا اہل ہے، میں اس کی بے شمار اور لا تعداد نعمتوں پر شکر بجا لاتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، اور اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ بندے اور اس کے رسول ہیں ، آپ نے لوگوں کو رضائے الہی کی دعوت دی، اللہ تعالی نے آپ کو ہدایت اور دین اسلام دے کر بھیجا تا کہ تمام ادیان پر اسلام کو غالب کر دے، چاہے یہ بات مشرکوں کو کتنی ہی ناگوار گزرے، اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل، صحابہ کرام ،آپ کی ہدایات اور سنتوں پر چلنے والوں پر روزِ قیامت تک ڈھیروں…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور ہمارے حالات
    سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور ہمارے حالات
    پہلا خطبہ یقیناً تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد   طلب کرتے ہیں ، اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نیز نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، اور اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں سیدنا محمد  -ﷺ-اللہ بندے اور اس کے رسول  ہیں ، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا، امانت ادا کر دی  اور امت کی مکمل خیر خواہی فرمائی، نیز  راہِ حق میں کما حقہ جہاد کیا یہاں تک کہ آپ اس جہاں سے رخصت ہوگئے، اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر روزِ قیامت تک ڈھیروں سلامتی اور رحمتیں نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: سب سے سچا کلام قرآن مجید ہے، سب سے افضل ترین طرزِ زندگی جناب محمد ﷺ کا ہے، بد ترین امور  بدعات ہیں اور ہر بدعت…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • کرپشن اور بد عنوانی کی مذمت اور دیارِ غیر میں مسلمان کی ذمہ داری
    کرپشن اور بد عنوانی کی مذمت اور دیارِ غیر میں مسلمان کی ذمہ داری
    ﷽   پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے  ہیں، اسی نے اپنے بندوں  میں روزی، رزق اور اپنا فیض تقسیم فرمایا، اللہ تعالی نے چوری حرام قرار دی اور اس پر چوروں اور ڈاکوؤں کے ہاتھ کاٹنے کی سزا مقرر فرمائی ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک  نہیں  ، اسی کا فرمان ہے: {مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ} تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ ہمیشہ رہے گا۔ [النحل: 96]، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں  کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، آپ کو مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث فرمایا گیا۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام  پر  اس وقت تک رحمتیں نازل فرمائے جب تک آفتاب  طلوع ہوتا رہے اور سورج کی روشنی چمکتی رہے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو! اللہ سے ڈرو، کہ تقوی الہی افضل ترین نیکی ہے، اور اس کی اطاعت سے ہی قدرو منزلت بڑھتی ہے {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ سے ایسے…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم