بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
ہفتہ, 23 دسمبر 2017 12:16

موسمیاتی تبدیلیاں اور بیت المقدس

Written by  ڈاکٹرعبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ ۔ ترجمہ شفقت الرحمن مغل

"یقیناً تمام تعریفیں اللہ کےلیے ہیں جس کے حکم سے زمانہ چل رہا ہے، اسی کے حکم سے صدیاں تسلسل کے ساتھ گزرتی جا رہی ہیں، وہی رات کو دن پر اور دن کو رات پر غلاف بنا دیتا ہے، اسی نے سورج کو ضیا اور چاند کو منور بنایا، اسی نے ان کی منزلیں بنائیں تا کہ تم سالوں کا اور دیگر امور کا حساب رکھ سکو، میں اسی کی حمد بیان کرتا ہوں وہی ثنا اور تعریف کا اہل ہے، میں اس کی بے شمار اور لا تعداد نعمتوں پر شکر بجا لاتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، اور اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ بندے اور اس کے رسول ہیں ، آپ نے لوگوں کو رضائے الہی کی دعوت دی، اللہ تعالی نے آپ کو ہدایت اور دین اسلام دے کر بھیجا تا کہ تمام ادیان پر اسلام کو غالب کر دے، چاہے یہ بات مشرکوں کو کتنی ہی ناگوار گزرے، اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل، صحابہ کرام ،آپ کی ہدایات اور سنتوں پر چلنے والوں پر روزِ قیامت تک ڈھیروں رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔

اللہ کے بندو!

میں تمہیں اور اپنے آپ کو خلوت اور جلوت میں تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ تقوی ہی فانی دنیا میں باعث نجات اور سرمدی آخرت میں کامیابی کا ضامن ہے۔

مسلم اقوام!

زمانے کے آنے جانے ، موسموں اور مہینوں کے گزرنے اور دن رات کے تسلسل میں نصیحتیں، عبرتیں، یاد دہانیاں اور نشانیاں ہیں

 {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ} 

بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور شب و روز کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔[آل عمران: 190]

اللہ کے بندو!

سال کے بدلتے موسم ، جھلسا دینے والی گرمی اور ہڈیو میں گھس جانے والی سردی ؛ یہ سب کچھ اللہ تعالی کی حکمت اور منصوبہ بندی کے تحت معینہ مدت تک کے لیے ہے۔

آپ سب موسم سرما میں داخل ہو چکے ہو، یہ مومنوں کی بہار ،متقی اور عبادات گزاروں کے لیے گلزار ہے، محنت کرنے والوں کے لیے میدان عمل بھی ہے، اللہ تعالی نے ان ایام کی راتوں کو قیام کرنے والوں کے لیے لمبا کر دیا ہے چنانچہ ان کی حالت یہ ہے کہ: 

{ قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ (17) وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ} 

وہ رات میں کم ہی سوتے ہیں [17] اور سحری کے وقت میں استغفار کرتے ہیں۔[الذاريات: 17، 18]

نیز ان دنوں کو اللہ تعالی نے روزہ رکھنے والوں کے لیے مختصر بنا دیا ؛ جس کی وجہ سے کامیابی کے متلاشی لوگوں کے لیے یہ کسی غنیمت سے کم نہیں، لہذا ان میں بڑھ چڑھ کر روزے رکھنے چاہییں،

{وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا}

 اور وہی ذات ہے جس نے رات اور دن کو آگے پیچھے آنے والا بنایا، اس کے لیے جو نصیحت حاصل کرنا چاہتا ہے یا شکر گزار بننا چاہتا ہے۔[الفرقان: 62]

اس لیے تم بھی اپنے لیے نیکیاں کرو اور اللہ سے ڈرو، تا کہ تم پر بھی رحم کیا جائے، نیز ایسے قیمتی مواقع ضائع مت کرو؛ کیونکہ تم سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

جب تمہارے حق میں ہوائیں چلیں تو انہیں غنیمت سمجھو؛ کیونکہ ہوا نے لازمی تھمنا ہے۔ان موقعوں میں عمدہ کارکردگی سے غافل مت رہنا؛ کیونکہ نہیں معلوم کہ کون سی گھڑی سراپا سکون بن جائے

 

اللہ کے بندو!

لوگ گرمی کی لو اور تپتی دھوپ سے بچتے ہیں تو اسی طرح سردی کی یخ بستہ ہواؤں سے بچنے کے لیے موٹے لباس اور چادریں اوڑھ لیتے ہیں، اس بدلتی صورت حال میں عقلمندوں کے لیے بہت بڑی نصیحت اور عبرت ہے؛ کیونکہ تڑاکے کی گرمی اور شدید سردی جہنم کے دو سانسوں کی وجہ سے ہوتی ہے، جیسے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب شدید گرمی ہو تو نماز کو قدرے ٹھنڈے وقت میں پڑھو؛ کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لو کی وجہ سے ہے) نیز ایک اور حدیث میں ہے کہ: (جہنم نے اپنے پروردگار کو شکایت کی اور کہا: "پروردگار! میرا وجود ایک دوسرے کو کھا رہا ہے" تو اللہ تعالی نے جہنم کو دو سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس سردی میں اور دوسرا سانس گرمی میں، تو جو شدت کی گرمی یا سخت ترین سردی محسوس کرتے ہوئے اسی وجہ سے ہوتی ہے) متفق علیہ

 

تو اللہ کے بندو! تمہارا اس جہنم کے بارے میں کیا تصور ہے؟ یہ جہنم اللہ تعالی کی دہکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی، اس آگ سے انتہائی بڑے بڑے شعلے نکلیں گے ان کا حجم بڑے بڑے محلات جتنا ہو گا، ان کا رنگ زرد سیاہی مائل اونٹوں جیسا ہو گا، یہ آگ گوشت اور ہڈی کسی چیز کو نہیں چھوڑے گی بلکہ چمڑی کو تباہ کر کے رکھ دے گی، اس آگ کو ہزار سال بھڑکایا گیا کہ اس کا رنگ سرخ ہو گیا، پھر مزید ہزار سال اسے جلایا گیا تو وہ سفید ہو گئی اور اس کے بعد بھی مزید ہزار سال دہکایا گیا تو اس کا رنگ سیاہ ہو گیا، تو اب یہ آگ کالی سیاہ ہے، اس کے انگارے روشنی نہیں کرتے اور نہ ہی اس کے شعلے بجھتے ہیں، اس لیے اس آگ سے بچ جاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں۔

مسلم اقوام!

نظام کائنات ایک محکم دستور کے مطابق چل رہا ہے، اللہ تعالی کے فیصلے اس دستور میں اٹل ہوتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالی ان فیصلوں کے ذریعے جسے چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہے، اور جسے چاہتا ہے نقصان پہنچا دیتا ہے، تو در حقیقت یہ ساری کائنات اللہ تعالی کی مشیت کے تابع ہیں، اس کائنات میں کسی بھی چیز کی کوئی مرضی ، یا تدبیر نہیں چلتی ، فرمانِ باری تعالی ہے:

 {ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ} 

یہی ہے تمہارا پروردگار اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور جنہیں تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ تو قطمیر کے بھی مالک نہیں ہیں۔[فاطر: 13]

چنانچہ اللہ تعالی نے نوح علیہ السلام کی طوفان کے ذریعے مدد فرمائی اور اسی طوفان سے ان کی قوم کو غرق کر دیا، ایمان والوں کو آپ کے ساتھ بچا لیا۔

ایسے ہی اللہ تعالی نے سمندر میں موسی علیہ السلام کو گزار کر فتح یاب فرمایا اور فرعون وہیں پر اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق ہو گیا۔

اسی طرح اللہ تعالی نے ہود علیہ السلام کی قوم کو تیز آندھی کے ذریعے تباہ کیا؛ یہ ایسی تباہ کن اندھیری تھی کہ جس چیز سے گزرتی تو اسے بوسیدہ بنا ڈالتی۔

ایسے ہی صالح علیہ السلام کی اللہ تعالی نے مدد فرمائی تو دیکھتے ہی دیکھتے ان کی قوم کو ایک چیخ کے ذریعے تباہ کر دیا اور وہ کھڑے ہونے کی صلاحیت بھی نہ رکھ پائے نہ ہی اور کوئی ان کی مدد نہیں کر سکا۔

اس لیے اس کائنات میں رونما ہونے والی تمام تر تبدیلیاں اللہ تعالی کے ہاتھ اور اختیار میں ہیں ، نیز ان اختیارات میں اس کا کوئی شریک بھی نہیں۔

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ:

 {وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ}

 اور اللہ تعالی کے لیے ہی ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ تعالی کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔[النور: 42]

اللہ کے بندو!

سردی میں یخ بستہ موسم مشقت کا باعث ہے، چنانچہ اس مشقت کو شرعی احکام نے نظر انداز نہیں کیا، بلکہ سردی کے پیش نظر جرابوں پر مسح کرنے کی رخصت عطا فرمائی، بلکہ پانی سے وضو کرنے میں نقصان کا خدشہ ہو تو تیمم کی اجازت بھی دی، اسی طرح اگر قحط سالی ہو تو بارش کے نماز استسقا بتلائی اور ضرورت پڑے تو بارش تھمنے کی دعائیں بھی سکھلائیں۔

ان تمام امور سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی مشقت پیدا ہو رہی ہو تو وہاں قدرے آسانی والے احکامات لاگو ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے دینی معاملات میں تشدد نہیں رکھا، تاہم یہ بھی واضح ہے کہ یہ رخصتیں عیاشی اور آوارگی کے لیے نہیں ہیں۔

اللہ تعالی نے اپنے نبی کے لیے کرۂ ارضی کا درمیانی خطہ اس لیے اختیار فرمایا کہ یہاں جنوبی قطب کی انتہا درجے کی گرمی بھی ہے اور شمالی قطب کی یخت بستہ سردی بھی، ان زمینی حقائق کا تقاضا یہ تھا کہ یہاں کے لوگ طبعی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے ساتھ اپنے آپ کو ڈھال لیں، اور پھر گرم یا سرد دونوں قسم کے خطوں میں جا کر اسلام کا پیغام پہنچائیں۔

یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو سخت گرمی اور سردی دونوں کا مقابلہ کرنے کی ترغیب دلاتے تھے، بھوک اور پیاس برداشت کرنے کی تربیت بھی دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تاکید فرماتے کہ جتنی محنت اتنی اجرت پاؤ گے، کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑے گا، جنت کو مشقتوں سے گھیرا گیا ہے جبکہ جہنم کو شہوتوں سے گھیرا گیا ہے، نیز ناز و نخرے کے ساتھ نعمتیں نہیں ملتیں۔

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے ہم پر بے شمار نعمتیں کی ہیں، ہم پر ظاہری اور باطنی نعمتوں کے دریا بہا دئیے ہیں، یہ سب اللہ تعالی کا کرم، فضل اور رحم ہے۔ اللہ تعالی نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے اس لیے ہمیں اپنے آپ کو آسانی ہو یا مشکل ، تنگی ہو یا فراخی، خوش حالی ہو یا بد حالی ہر حال میں صرف اسی کی اطاعت کے لیے مگن کرنا ہو گا۔

یہ بھی ہم پر لازمی ہے کہ ہم اللہ کی نعمتوں کو اسی کی اطاعت میں استعمال کریں، ہم کوشش کریں کہ ان نعمتوں کو اللہ تعالی کی رضا مندی کے لیے معاون بنائیں، تا کہ یہ چیزیں ہمارے جنت میں جانے کا باعث بن جائیں۔

اللہ کے بندو!

نیکی کرنے والے کو بری موت سے بچا لیا جاتا ہے۔ آزمائشوں اور بلاؤں کو ٹالنے کا سب سے کار آمد ذریعہ اور برکت و اضافے کا سبب یہ ہے کہ غریب لوگوں کی غم خواری کریں؛ خصوصاً ایسے وقت میں جب سردی کا موسم آ چکا ہو؛ 

اس لیے اپنے ضرورت مند بھائیوں کی خبر گیری کریں، سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں اور عزیزوں کی خبر لیں، پھر اپنے پڑوسیوں کو دیکھیں، اپنے ہم وطنوں کا خیال کریں، اور پھر اس طرح جو قریب تر ہو اس کی مدد کریں۔ نیکی کے اس کام میں کسی بھی چھوٹی نیکی کو حقیر مت جانیں۔

مسلم اقوام!

اپنے ملک اور دیگر اسلامی ممالک کا دفاع یقینی طور پر اسلام ، مسلمانوں اور مسلمانوں کے مال و جان کا دفاع ہے، سب مسلمان ایک عمارت کی مانند ہیں، سب مسلمان ایک امت اور ایک جان ہیں، اگر اس جان کے کسی عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم ہی بخار اور بے خوابی کی سی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

اس لیے مسلمانوں کے کسی بھی حصے اور ملک کے خلاف کوئی بھی جارحانہ اقدام تمام کے تمام مسلمانوں کے حقوق کی پامالی ہو گی، اور بیت المقدس نزول وحی کی جگہ ہے، یہاں انبیائے اور رسول مبعوث ہوئے، یہ مسلمانوں کا قبلہ ہے ایک مدت تک مسلمان بیت المقدس کی جانب متوجہ ہو کر نماز ادا کرتے رہے ہیں، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے اسرا ہے، یہاں آپ کا محراب ہے جہاں آپ نے انبیائے کرام کی امامت کروائی، 

{سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ}

 پاک ہے وہ جو رات کے ایک حصے میں اپنے بندے کو مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک لے گیا جس کے اردگرد ہم نے بہت برکت رکھی ہے، تاکہ ہم انہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بلاشبہ وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ [الإسراء: 1]

ہم اللہ تعالی کے وعدوں پر مطمئن ہیں؛ اس لیے دشمن جس قدر بھی مسلط ہو جائیں، فتح ڈٹ جانے والے مؤمنوں کی ہم نوا ہو گی، اور بیت المقدس کا رب اس کی ضرور حفاظت فرمائے گا،

 {وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ (105) إِنَّ فِيْ هَذَا لَبَلَاغًا لِقَوْمٍ عَابِدِيْنَ}

 ہم زبور میں پند و نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہی ہوں گے[105] بیشک اس میں عبادات گزاروں کے لیے واضح پیغام ہے۔ [الأنبياء: 105 -106]

یا اللہ! بیت المقدس شریف کی حفاظت فرما، یا اللہ! بیت المقدس اسلام اور مسلمانوں کے حوالے فرما، یا اللہ! بیت المقدس اسلام اور مسلمانوں کے حوالے فرما، یا اللہ! بیت المقدس کو مکاروں کی مکاری اور غاصبوں کی جارحیت سے محفوظ فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ یا اللہ! اپنے موحد بندوں کی مدد فرما۔ یا اللہ! اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو پر امن اور مستحکم بنا۔

آمین یا رب العالمین!!

 

Read 898 times Last modified on ہفتہ, 23 دسمبر 2017 12:24

جدید خطبات

خطبات

  • آیت الکرسی کا مفہوم
    آیت الکرسی کا مفہوم
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 10 صفر 1440 کا خطبہ جمعہ " آیت الکرسی کا مفہوم اور افواہوں کے متعلق ہدایات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں عظیم ترین آیت ؛ آیت الکرسی ہے، اس آیت میں اللہ تعالی کے اسما و صفات کا جامعیت کے ساتھ ذکر ہے، سب سے پہلے اس آیت میں اللہ تعالی کی الوہیت کا اقرار، پھر ازل سے ابد تک قائم دائم رہنے کی صفت ذکر ہوئی، اللہ تعالی کو نیند آتی ہے اور نہ ہی اونگ، آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی بادشاہت میں شامل ہے، کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا، اور نبی ﷺ کی سفارش اہل توحید کے لیے سب سے پہلے میسر ہو گی، انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی علم غیب نہیں جانتا، اس کی کرسی آسمان و زمین سے بھی وسیع ہے، جس سے اللہ تعالی کی بے انتہا عظمت اور کبریائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اس لیے اللہ سے جب مانگیں تو وہ بھی بے حساب مانگیں، انہوں نے آخر میں یہ بھی…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 13-رجب- 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی کیلیے حسن اخلاق کا کوئی ثانی نہیں، اسی لیے کتاب و سنت میں اچھا اخلاق اپنانے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، نیز رسول اللہ ﷺ کی جن خوبیوں کا ذکر اللہ تعالی نے فرمایا ان میں حسن اخلاق سر فہرست ہے، آپ ﷺ نے خود فرمایا کہ مجھے اعلی اخلاقیات کی تکمیل کیلیے بھیجا گیا ہے، مومن شخص اعلی اخلاق کی بدولت نفل روزے اور راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے، اچھے اخلاق کا مالک شخص جنت میں رسول اللہ ﷺ کے قریب ترین ہو گا، حسن اخلاق کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ جنت جائیں گے، قیامت کے دن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہو گی، ایک جگہ آپ ﷺ یہاں تک فرما دیا کہ: نیکی حسن اخلاق کا نام ہے، پھر انہوں نے بتلایا کہ حسن خلق کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی شریعت کے مطابق ہو، دوسروں کی خدمت، جود و…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے "اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ" کے عنوان پر 07 ذوالقعدہ 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ خطرات اور مسائل سے بھری ہوئی دنیاوی زندگی میں انسان کو بلند ہمت بنانے کی اشد ضرورت ہے، اور اس کیلیے اللہ تعالی پر توکل بہترین طریقہ ہے، اگر انسان صحیح معنوں میں متوکل ہو تو وہ دنیا میں کسی کا محتاج نہیں رہتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ متوکل دنیا کی ہر چیز کو اللہ تعالی کے زیر تسلط اور ملکیت جانتا ہے لہذا جس چیز کی بھی اسے ضرورت محسوس ہو وہ چیز اللہ سے مانگنے پر اسے مل جاتی ہے، توکل ظاہری اسباب اپنانے سے متصادم نہیں ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہوتی ہے کہ انسان اسباب اپنانے کے بعد ان پر کلی اعتماد نہ کرے بلکہ اللہ تعالی کی ذات پر کامل بھروسا اور یقین رکھے، چنانچہ اسباب اپنانے کے بعد اس کے نتائج اللہ کے سپرد کر دینا توکل کا مطلب ہے ۔ سابقہ اقوام اور صحابہ کرام کے عمل سے توکل کا یہی مفہوم سامنے آتا ہے، دوسرے خطبے میں…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے07-جمادی ثانیہ-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" شرم و حیا شریعت کی روشنی میں" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ اسمائے حسنی کی معرفت عبادت الہی کی کنجی ہے انہی اسمائے حسنی میں سے ایک "اَلْحَيِيُّ" یعنی بہت زیادہ حیا کرنے والا بھی ہے، حیا اللہ تعالی کی صفت ہے، اس کا ذکر کتاب و سنت میں موجود ہے، حیا تمام تر اخلاقی اقدار کا سرچشمہ ہے، حیا انسان کو برائی سے روکتی ہے اور اچھے کاموں کی ترغیب دلاتی ہے، حیا ان اخلاقی اقدار میں شامل ہے جو اولین زمانۂ نبوت سے معتبر اور مطلوب ہیں، حیا سے اشرف المخلوقات سمیت فرشتے بھی موصوف ہیں، آدم، نوح، موسی سمیت تمام کے تمام انبیائے  علیہم السلام حیا سے آراستہ تھے، ہمارے نبی ﷺ سب سے زیادہ با حیا تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے، حیا خواتین کا فطری زیور اور زینت ہے، اسی لیے سیدہ عائشہ اور دیگر صحابیات حیا کی پیکر تھیں، بلکہ اہل جاہلیت بھی حیا پر قائم دائم تھے، نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق حیا سرتا پا خیر ہی خیر ہے، حیا…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عذاب قبر کے اسباب اور نجات کے ذرائع
    عذاب قبر کے اسباب اور نجات کے ذرائع
    پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ایمان اور صبر جیسی نعمت پر تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اس فضل پر اسی کا شکر بجا لاتے ہیں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، کائنات کے فیصلے اور تصرف اسی کے ہاتھ میں ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے مومنوں کو ان کی قبر کی حالت سے بہرہ ور فرمایا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور ہر جگہ پیش رو بننے والے صحابہ کرام پر رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہو، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] انسانی زندگی کے اس سفر میں متنوع اور مختلف مرحلے ہیں، انسان ایک عرصہ ماں کے پیٹ میں، پھر زمین کی پشت پر اور دوبارہ جی اٹھائے جانے تک زمین کے نیچے…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم