بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
پیر, 11 دسمبر 2017 14:07

سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور ہمارے حالات

Written by  ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان ۔ ترجمہ شفقت الرحمن مغل
پہلا خطبہ

یقیناً تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد   طلب کرتے ہیں ، اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نیز نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، اور اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں سیدنا محمد  -ﷺ-اللہ بندے اور اس کے رسول  ہیں ، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا، امانت ادا کر دی  اور امت کی مکمل خیر خواہی فرمائی، نیز  راہِ حق میں کما حقہ جہاد کیا یہاں تک کہ آپ اس جہاں سے رخصت ہوگئے، اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر روزِ قیامت تک ڈھیروں سلامتی اور رحمتیں نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

سب سے سچا کلام قرآن مجید ہے، سب سے افضل ترین طرزِ زندگی جناب محمد ﷺ کا ہے، بد ترین امور  بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی آگ میں لے جانے والی ہے،{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}  اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں ہی آئے۔[آل عمران : 102]

اللہ کے بندو!

امت اسلامیہ آج جن فتنوں ، آزمائشوں، مصیبتوں اور مسائل سے  گزر رہی ہے، دشمن مسلمانوں پر مسلط ہیں؛ یہ در حقیقت  واضح فتح اور کامیابی  کیلیے امتحان   اور چھان پرکھ کا پیش خیمہ ہے، یہ اللہ کے حکم سے غلبے اور فتح کا پہلا  زینہ ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {مَا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ} جس حال میں تم ہو اسی پر اللہ ایمان والوں کو نہ چھوڑے گا جب تک کہ پاک اور ناپاک الگ الگ نہ کر دے۔ [آل عمران: 179]

اسی طرح فرمایا: {أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ}  کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ یوں ہی جنت میں داخل ہو جاؤ گے! حالانکہ تمہیں ابھی وہ مصائب پیش ہی نہیں آئے جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں کو پیش آئے تھے۔ ان پر اس قدر سختیاں اور مصیبتیں آئیں جنہوں نے ان کو ہلا کے رکھ دیا۔ حتی کہ خود رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے سب پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ؟ سن لو ! اللہ کی مدد قریب ہے۔ [البقرة: 214]

مسلم اقوام!

زمانہ قدیم میں ایک شخص کو پکڑ کر لایا جاتا اور اسے زمین  میں گاڑ دیا جاتا تھا، پھر آرا لا کر اس کے سر پہ رکھ کے  اسے دو حصوں میں چیر دیا جاتا تھا؛ لیکن اس کے باوجود بھی وہ اپنے دین سے نہ پھرتا، لوہے کی کنگھیوں سے  اس کا گوشت ہڈیوں سے جدا کر دیا جاتا تھا، لیکن اس طرح وحشیانہ اور اذیت ناک سزائیں بھی اسے اس کے دین سے موڑنے میں کامیاب نہ ہوتیں۔

اللہ کی قسم! اللہ تعالی اس دین کو غالب کر کے چھوڑے گا؛ {وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ} اور اللہ تعالی ضرور بہ ضرور ان کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کریں، بیشک اللہ انتہائی طاقتور اور غالب ہے۔[الحج: 40]

اللہ کے بندو!

ابتدا میں  جن لوگوں نے اعلانیہ اسلام قبول کیا تھا ان کی تعداد صرف سات تھی: رسول اللہ ﷺ ، ابو بکر ، عمار، عمار کی والدہ سمیہ، صہیب، بلال اور مقداد رضی اللہ عنہم جمیعاً ۔ ان میں سے اللہ تعالی نے رسول اللہ ﷺ کو ان کے چچا ابو طالب  کی پشت پناہی عطا فرمائی، جبکہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کا ان کے قبیلے نے  دفاع کیا، لیکن بقیہ لوگوں کو مشرکوں نے پکڑ کر سخت اور شدید ترین عذاب سے دو چار رکھا، ان میں سے بلال رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہر ایک کی زبان سے ایسے کلمات جاری ہوئے جو مشرکین چاہتے تھے ، لیکن بلال رضی اللہ عنہ نے غیر مناسب کلمات نہ کہنے کی وجہ سے راہِ الہی میں بڑی تکلیفیں اٹھائیں، بلال رضی اللہ عنہ پر مشرکوں نے ظلم کی کوئی کسر نہ چھوڑی، مشرکین  نے انہیں خوب سزائیں اور تکلیفیں دیں کہ شاید بلال  اپنے دین کو چھوڑ دے، لیکن بلال رضی اللہ عنہ نے ان کی سزاؤں سے بھی بڑھ کر پامردی اور چٹان جیسی ثابت قدمی  کا ثبوت دیا، اس پر کافروں نے آپ کو مزید سزاؤں سے دو چار کیا، بلال رضی اللہ عنہ کا آقا امیہ بن خلف آپ کو مکے کی دوپہر کے وقت جھلساتی دھوپ میں  گھر سے نکالتا اور مکہ  کے سنگ ریزوں  پر کمر کے بل لٹا کر بلال رضی اللہ عنہ کے سینے پر بھاری پتھر رکھنے کا حکم دے دیتا اور کہتا: "توں موت تک اسی طرح سزا جھیلتا رہے گا، یا توں محمد پہ ایمان سے انکار کر دے" امیہ یہ بھی کہتا تھا کہ: "او ذلیل غلام! تیری وجہ سے ہم پر کیا نحوست آن پڑی ہے! اگر توں نے ہمارے معبودوں کا اچھے لفظوں میں تذکرہ نہ کیا تو میں تمہیں دیگر غلاموں کیلیے نشان عبرت بنا دوں گا" امیہ کی ان دھمکیوں پہ بلال رضی اللہ عنہ بڑی جرأت اور پامردی  سے کہتے ہیں: "میر ا رب اللہ ہے، وہ ایک ہے، وہ ایک ہے۔ اگر میرے علم میں تمہارے لیے اس سے بھی ناگوار کوئی  جملہ ہوتا تو میں وہ بھی کہہ دیتا"

جب جان سوزی اور اذیت ناکی اپنی انتہا کو پہنچی تو آسانی بھی آ گئی، چنانچہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں خرید کر رضائے الہی کیلیے آزاد کر دیا، آپ کے اسی عمل کے متعلق اللہ تعالی کا یہ فرمان نازل ہوا: {وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى (17) الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّى (18) وَمَا لِأَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَى (19) إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى (20) وَلَسَوْفَ يَرْضَى}  اور جو بڑا پرہیز گار ہوگا اسے جہنم سے دور رکھا جائے گا  [17]جس نے پاک ہونے کیلیے اپنا مال دیا [18] اس پر کسی کا کوئی احسان نہ تھا جس کا وہ بدلہ چکاتا [19]وہ صرف اپنے بلند و بالا پروردگار کی رضا کیلیے  دیتا ہے[20] اور یقیناً عنقریب  وہ اس سے راضی ہو جائے گا۔[الليل: 17 - 21]

اس کے بعد دن گزرتے گئے اور رسول اللہ ﷺ  مسلمانوں سمیت مدینہ ہجرت کر جاتے ہیں اور بلال رضی اللہ عنہ بھی ہجرت کر کے مدینہ پہنچ جاتے ہیں تو  سیدنا بلال  اسلام کے مؤذن قرار پائے۔

پھر بلال رضی اللہ عنہ کچھ عرصے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ معرکہ بدر میں شرکت کیلیے نکل پڑتے ہیں، دوسری جانب مشرکین  اپنے سرغنّوں کے ہمراہ  مسلمانوں سے لڑنے کیلیے مکہ سے نکلتے ہیں ان میں  امیہ بن خلف  اور ابو جہل بھی  شامل ہوتا ہے، مشرکین بڑے گھمنڈ  اور غرور  سے پیش قدمی کر رہے ہوتے ہیں کہ  ہمارا لشکر ایک ہزار جنگجوؤں پر مشتمل ہے، ان کے ساتھ ناچ گانے والیاں دف کی تال پر  مسلمانوں کی ہجو کر رہی ہوتی ہیں اور سب جنگجو کہہ رہے ہوتے ہیں: "اللہ کی قسم! ہم بدر  میں تین دن قیام کے بغیر واپس نہیں جائیں گے، ہم وہاں ٹھہر کر اونٹ نحر کریں گے، کھانے کھائیں گے، شراب نوشی کریں گے، ناچنے والیاں ہمارا دل بہلائیں گی، سارے عرب  میں ہمارا چرچا ہو گا، وہ ہمارے اس عظیم لشکر کی باتیں  کریں گے اور ہمیشہ ہم سے ڈر کر رہیں گے ، ان پر ہماری دھاک بیٹھ جائے گی"

دوسری جانب مسلمان تین سو دس سے کچھ اوپر ہوتے ہیں، ان میں گھڑ سوار صرف مقداد ہیں، اب میدانِ معرکہ سجا ہوا ہے اور اللہ کے فیصلے  ہونے والے ہیں کہ وہ اس دھرتی پہ کمزور سمجھے جانے والوں پر اللہ اپنا کرم فرمائے اور انہیں قیادت دے کر دھرتی کا والی وارث بنا دے۔

اور اسی دوران بلال کو بھی اپنا ظالم آقا امیہ بن خلف نظر آ جاتا ہے کہ جس نے بلال کو مکہ میں خوب اذیتیں دی تھیں، تو بلال بھی صفیں چیرتے ہوئے  اور شیر کی طرح دھاڑتے ہوئے  پکارتے ہیں: "کفر کا سرغنّہ  امیہ بن خلف! اگر وہ بچ  گیا تو میں  نہیں بچوں گا۔ کفر کا سرغنّہ  امیہ بن خلف! اگر وہ بچ  گیا تو میں  نہیں بچوں گا" تو اللہ تعالی نے امیہ کو بلال رضی اللہ عنہ  کے قابو میں دے دیا، اور بلال نے امیہ پہ چڑھ کر اسے قصۂ پارینہ اور ماضی کی داستان بنا دیا۔ تو اسی کے بارے میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

هَنِيْئًا زَادَكَ الرَّحْمَنُ عِزًّا

فَقَدْ أَدْرَكْتَ ثَأْرَكَ يَا بِلَالُ

اے بلال تمہیں مبارک ہو، رحمن تمہاری عزت میں اضافہ فرمائے، تم نے اپنا بدلہ لے لیا ہے۔

جبکہ اللہ کا دشمن ابو جہل  بھی بڑے تکبر، غرور اور گھمنڈ کے ساتھ جنگی اشعار پڑھتے ہوئے  آیا اور کہا:

مَا تَنْقِمُ الْحَرْبُ الْعَوَانُ مِنِّيْ

بَازِلُ عَامَيْنِ حَدِيْثٌ سِنِّي

تجربہ کار جنگجو مجھ سے اسی لیے کڑھتے ہیں کہ  میں انتہائی طاقتور کڑیل اور  جوان ہوں

لِمِثْلِ هَذَا وَلَدَتْنِيْ أُمِّيْ

اسی کیلیے مجھے میری ماں نے جنم دیا تھا۔

تو اللہ تعالی نے اسے بھی مدینے کے دو چھوٹے چھوٹے لڑکوں کے ہاتھوں  ذلیل کروایا ، یہ دونوں عفراء کے بیٹے تھے۔ اس پر ابو جہل حسرت سے کہنے لگا: "کاش  مجھے کاشت کاروں کے علاوہ کسی اور نے قتل کیا ہوتا، تو یہ زیادہ اچھا تھا اس سے میری شان میں تو کمی نہ آتی!! اور کوئی مجھے طعنہ نہ دے پاتا!!"

پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر ابو جہل  کی گردن پہ پاؤں رکھ کر کہتے ہیں: "اللہ نے تجھے ذلیل کروا ہی دیا، اللہ کے دشمن!" اس پر ابو جہل اپنی آخری ہچکی سے  پہلے ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر جملہ کستے ہوئے کہتا ہے: "بکریوں کے چھیڑو! توں نے بہت گراں قدر  جگہ پہ پاؤں رکھ لیا ہے!"

پھر جب مکہ فتح ہو گیا اور بلال رضی اللہ عنہ  کعبہ کی چھت پہ چڑھ کر  کلمہ توحید  کی صدا بلند کرتے ہیں تو قریب ہی وہ جگہ بھی تھی جہاں بلال کو انہی کلمات کی وجہ سے جھلساتی دھوپ میں سزائیں دی جاتی تھیں ، پھر سب کے سامنے بہ بانگ دہل بلال یہ صدا لگاتے ہیں: "الله أكبر الله أكبر. أشهد أن لا إله إلا الله. أشهد أن محمدا رسول الله." بلال کے یہ بول سن کر بلال کے دشمنوں کا غصہ جوبن پہ آ جاتا ہے اور کچھ تو یہ کہنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں: "اللہ نے میرے باپ پہ کرم فرمایا کہ بلال کے منہ سے یہ الفاظ سننے سے پہلے ہی وہ مر گیا "

کسی نے یہ بھی کہا: "کاش یہ وقت مجھے نہ دیکھنا پڑتا اور میں اس سے پہلے ہی مر گیا ہوتا!!"

مسلم اقوام!

بلال رضی اللہ عنہ کو اتنا بلند مقام و مرتبہ  اسلام میں بہت سی تکلیفوں ،آزمائشوں ، صبر اور جد و جہد کے بعد ہی کہیں جا کر ملا، {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} اے ایمان والو! صبر کرو، ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرو اور مورچوں میں ڈٹے رہو، اور اللہ سے ڈرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ [آل عمران: 200]

اللہ تعالی میرے اور آپ کیلیے قرآن مجید کو بابرکت بنائے، مجھے اور آپ کو قرآنی آیات اور حکمت بھری نصیحتوں سے مستفید فرمائے، میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور عظمت و جلال والے اللہ  سے اپنے اور سب مسلمانوں کیلیے گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہوں، اس لیے آپ بھی اسی سے بخشش طلب کرو، بیشک وہ بخشنے والا ہے اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 


دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں  ، وہ ہی حق کو غالب  اور عالی شان بنانے والا ہے، وہ باطل کو رسوا کر کے دھتکارنے والا ہے، اسی نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق دے کر بھیجا تا کہ اس دین کو دیگر تمام ادیان پہ غالب کر دے، چاہے مشرکین کو ناگوار ہی کیوں نہ لگے۔ یا  اللہ !محمد -ﷺ-پر  اور آل محمد پر اسی طرح رحمتیں نازل فرما  جیسے توں نے ابراہیم  پر اور آل ابراہیم پہ رحمتیں نازل فرمائیں، بیشک تو ہی حمد کے لائق اور بزرگی والا ہے۔

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی مہلت تو دیتا  ہے لیکن غفلت نہیں برتتا،  اللہ تعالی ظالم کو مہلت دئیے جاتا ہے لیکن جب پکڑتا ہے تو اسے خلاصی کا موقع نہیں دیتا {وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ} کافر لوگ ہرگز یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ ہم جو انہیں ڈھیل  دے رہے ہیں، یہ ان کے حق میں بہتر ہے، ہم تو صرف اس لیے ڈھیل دیتے ہیں کہ جتنے زیادہ سے زیادہ گناہ کر سکتے ہیں کر لیں اور ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہوگا [آل عمران: 178]

چنانچہ مکہ میں مسلمانوں کو ابتدائے اسلام میں جو بھی تکالیف اور آزمائشیں آئیں  یہ سب ایک نئی نسل تیار کرنے کیلیے تھیں؛  تا کہ اللہ تعالی بعد میں انہی کو زمام کار تھمائے اور انہیں فاتح بنائے، نیز اچھے اور برے لوگوں میں فرق  کر دیا جائے۔

اور یہ مختصر سا دورانیہ تھا  کہ جس کے بعد اللہ تعالی نے مظلوم و مقہور لوگوں پر احسان فرمایا جنہیں زمین پر کمزور سمجھ لیا گیا  تھا  للہ تعالی نے انہیں حکمران بنا  دیا اور انہیں زمین کا وارث بنا کر  زمین کا کنٹرول انہی کو دے دیا۔

تو شرک و کفر کے سر غنّے اور گرو گھنٹال انہی مسلمانوں کے ہاتھوں ذبح ہونے لگے، بلکہ مسلمانوں میں سے بھی غلاموں کے ہاتھوں قتل ہوئے،  جیسے کہ بلال اور امیہ کا واقعہ ہے اور اسی طرح ابن مسعود اور ابو جہل ، اس طرح مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے ہوئے اور انہوں نے اپنے بدلے بھی چکا دئیے؛ اور یہ حقیقت ہے کہ: {وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ} اللہ تعالی ضرور بہ ضرور ان کی مدد کرتا ہے جو اللہ کی مدد کریں، بیشک اللہ انتہائی طاقتور اور غالب ہے۔ [الحج: 40]

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی کے ہاں فضیلت اور مقام کا معیار عمل ہے، نسب یا عہدہ، یا مال و جاہ معیار نہیں ہے، لوگ بالکل اسی طرح برابر ہیں جیسے کنگھی  کے دندانے برابر ہوتے ہیں،  تم سب کے سب آدم سے پیدا ہوئے ہو اور آدم مٹی سے پیدا ہوا ہے، کسی بھی عربی کو  عجمی پہ تقوی کے بنا کوئی فضیلت نہیں، {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ} لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے ہی پیدا کیا ہے، اور ہم نے تمہیں اقوام اور قبائل میں تعارف کیلیے بنایا، بیشک اللہ کے ہاں تم میں سے معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔[الحجرات: 13]

لَعَمْرُكَ مَا الْإِنْسَانُ إِلَّا بِدِيْنِهِ

فَلَا تَتْرُكِ التَّقْوَى اِتَّكَالًا عَلَى النَّسَبِ

تجھے عمر دینے والے کی قسم! انسان دین کے بنا کچھ نہیں، اس لیے نسب پر تکیہ کر کے تقوی کا دامن مت چھوڑو

فَقَدْ رَفَعَ الْإِسْلَامُ سَلْمَانَ فَارِسٍ

وَقَدْ وَقَعَ الشِّرْكُ النَّسِيْبُ أَبَا لَهَبٍ

کیونکہ اسلام نے سلمان فارسی کو [تقوی کی بنا  پر ہی] بلند فرمایا، اور شرک نے بلند نسب والے ابو لہب کو گرا دیا

کتنے ہی ایسے غیر معروف متقی لوگ ہیں جن کی کوئی پرواہ نہیں کرتا انہیں دروازوں سے دھتکار دیا جاتا ہے، حالانکہ اللہ تعالی اور اس کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا، اگر وہ اللہ تعالی پر قسم ڈال دے تو اللہ تعالی اس کی قسم پوری فرما دے۔

ایک بار سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے بلال رضی اللہ عنہ کو نا مناسب الفاظ میں بلاتے ہوئے کہا: "کالی کے بیٹے!" تو رسول اللہ ﷺ کو یہ سن کر غصہ آ گیا اور فرمایا: (ابو ذر! تم نے اسے اس کی ماں کا طعنہ دیا!! تم میں جاہلیت پائی جاتی ہے)

نیز رسول اللہ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو جنت کی خوش خبری بھی دی اور فرمایا: (بلال! مجھے اپنے اس عمل کے بارے میں تو بتلاؤ جس کی بدولت تمہیں [حصولِ جنت کی ]بہت زیادہ امید ہو؛ کیونکہ میں نے تمہارے جوتوں کی آواز جنت میں سنی ہے)

مسلم اقوام!

مشرکین کو اس وقت بہت تکلیف ہوئی جب انہوں نے کعبہ کی چھت سے بلال رضی اللہ عنہ کی آواز میں اذان سنی، ایک طرف بلال کی آواز مشرکوں کو ناگوار گزرتی تھی تو دوسری جانب مسلمانوں کے دلوں کو بھی موہ لیتی تھی، مسلمان بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سننے کے مشتاق رہتے تھے، چنانچہ جب بلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے رخصت ہو جانے کے بعد اذان دیتے تو اپنے جذبات بے قابو کر بیٹھتے ، اور پھوٹ پھوٹ کر  رو دیتے، آپ پر غشی طاری ہو جاتی اور لوگوں  کو بھی جذباتی کر دیتے تھے، بلکہ رسول اللہ ﷺ کی یاد میں پورا مدینہ ہی گونج اٹھتا تھا۔

ایک بار نبی ﷺ کی وفات کے بعد سحری کے وقت بلال نے اذان دینے کیلیے اسی مسجد نبوی کی چھت پر چڑھے اور جب انہوں نے " الله أكبر الله أكبر" ہی کہا تو پورا مدینہ لوگوں کی آواز سے گونج اٹھا، پھر جب آپ نے اذان میں: "أشهد أن لا إله إلا الله" کہا تو پورے شہر سے آواز میں مزید گونج پیدا ہوئی ، پھر جب آپ نے کہا:"أشهد أن محمدا رسول الله " تو  لوگ گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔ اس دن سے زیادہ کسی بھی دن میں مرد و زن کو روتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔

اسی طرح جب عمر رضی اللہ عنہ شام تشریف لائے اور بیت المقدس فتح ہو گیا، تو آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کا حکم دیا، اس پر بلال کہنے لگے: "امیر المؤمنین! میں نے ارادہ کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کیلیے اذان نہیں دوں گا، لیکن چونکہ آپ نے مجھے حکم دیا ہے تو صرف اس ایک نماز کیلیے اذان دوں گا، پھر جب بلال نے اذان دی اور صحابہ کرام نے بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سنی تو  پھوٹ پھوٹ کر رو دئیے"

کیونکہ بلال نے انہیں ان کے حبیب اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک یاد دلوا دی تھی، اسی یاد نے ان کے ایمان  میں ہیجان پیدا کر دیا تھا ۔ چونکہ آپ ﷺ ہی ان صحابہ کرام کی نجات کا باعث بنے تھے اس لیے آپ سے محبت بھی دلی تھی، ان کا قلبی لگاؤ آپ ﷺ سے تھا، ان کے جذبات آپ کے تذکرے کے اسیر تھے، آپ کی محبت سودائے قلب میں شامل ہو کر  دلوں پر براجمان تھی۔

نَبِيُّ صِدْقٍ هَدَتْ أَنْوَارُ غُرَّتِهِ

بَعْدَ الْعَمَى لِلْهُدَى مَنْ كَانَ عِمِّيْتاً

سچے نبی  کی پیشانی کی روشنی  نے بھٹکے ہوئے لوگوں کو گمراہی کے بعد راہ ہدایت دکھائی

وَأَصْبَحَتْ سُبُلُ الدِّيْنِ الْحَنِيْفِ بِهِ

عَوَامِرًا بَعْدَ أَنْ كَانَتْ أَمَارِيْتَا

آپ کی وجہ سے دین حنیف کے راستے چٹیل اور ویران ہونے کے بعد آباد ہو گئے

أَحْيَا بِهِ اللهُ قَوْمًا قَامَ سَعْدُهُمُوْ

كَمَا أَمَاتَ بِهَ قَوْمًا طَوَاغِيْتاً

آپ کے ذریعے اللہ تعالی نے اقوام کو خوشحال فرمایا جیسے کہ آپ کے ذریعے طاغوتی اقوام کا خاتمہ فرمایا

اتنی گہری محبت پر انہیں ملامت نہیں کی جا سکتی؛ کیونکہ  یہاں تو کھجور کا درخت بھی آپ کی محبت میں سسکیاں لے کر رو پڑا تھا، آپ ﷺ سے محبت اور اظہار مودت کیلیے احد جیسا  پہاڑ  بھی اپنے جذبات کی ترجمانی کیلیے جھوم اٹھا تھا، یا اللہ! ہمیں بھی آپ ﷺ کی اتنی محبت عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بھی آپ ﷺ کی اتنی محبت عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بھی آپ کا اطاعت گزار بنا، اور ہمیں آپ ہی کے گروہ میں زندہ کر کے اٹھانا، اور ہمیں آپ کی شفاعت نصیب فرمانا۔

مسلم اقوام!

صبر آسودگی کی کنجی ہے، جنت کو ناگوار چیزوں سے گھیر دیا گیا ہے، جبکہ جہنم کو شہوتوں سے گھیر دیا گیا ہے۔

اللہ تعالی اپنے دین کی ضرورت مدد فرمائے گا جیسے اللہ تعالی نے مکہ میں کمزور لوگوں کی مدد فرمائی تھی، جس طرح اللہ تعالی نے فتح مکہ سے پہلے اور بعد میں  اپنے اولیا کی مدد فرمائی، اور پھر{وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ (4) بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ [5] وَعْدَ اللَّهِ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ} اس دن مومن خوش ہو جائیں گے [4] اللہ کی مدد سے، اللہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے[5] یہ اللہ کا وعدہ ہے ، اور اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں فرماتا، لیکن بہت سے لوگ جانتے ہی نہیں ہیں۔ [الروم: 4-6]

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ یا اللہ! اپنے موحد بندوں کی مدد فرما۔ یا اللہ! اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو پر امن اور مستحکم بنا۔

یا اللہ! ہمارے ملک کو فتنوں سے محفوظ فرما۔ یا اللہ! ہمارے ملک کو فتنوں سے محفوظ فرما۔ یا اللہ! اس ملک کو مکاروں کی مکاری اور فسادیوں کے شر سے محفوظ فرما، دشمنوں اور حاسدین کے شر سے محفوظ فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو  خصوصی توفیق سے نواز، ان کی خصوصی مدد فرما، یا اللہ! ان کے ذریعے اپنے دین کو غالب فرما، یا اللہ! انہیں سنت نبوی کی خدمت پہ بہترین جزا عطا فرما، یا اللہ! ان کے اس کارنامے کو اپنی رضا کیلیے خالص بنا، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ان کے اس عمل کو جنتوں کے حصول کا باعث بنا، یا ارحم الراحمین! یا اللہ! ولی عہد کو  ایسے کام کرنے کی توفیق دے جس میں اسلام اور مسلمانوں کی بہتری ہو، جس میں ملک و قوم  کا فائدہ ہو، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہماری سرحدوں کو محفوظ بنا، ہمارے فوجیوں کی مدد فرما، یا اللہ! بیمار فوجیوں کو شفا یاب فرما، فوت شدگان کو شہدا میں قبول فرما، یا اللہ! ان کی خصوصی حفاظت فرما، ان کا خصوصی خیال فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! تو ہی معبود بر حق ہے، تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔ یا اللہ! تو ہی معبود بر حق ہے، تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔ یا اللہ! تو ہی غنی ہے ہم تو فقیر ہیں، یا اللہ! تو ہی غنی ہے ہم تو فقیر ہیں، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما اور ہمیں مایوس ہونے والوں میں سے مت بنا۔

یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ایسی بارش ہو جو برکت والی، بے ضرر، زر خیز، موسلا دھار، بڑے بڑے قطروں والی، بھر پور ، ساری زمین پر ہونے والی مفید اور نقصانات سے مبرّا بارش عطا فرما۔

یا اللہ! بارش کے ذریعے دھرتی کو لہلہا دے، شہروں اور دیہاتوں سب کیلیے اس بارش کو مفید بنا دے،  یا اللہ! شہروں اور دیہاتوں سب کیلیے بارش کو مفید بنا دے۔

یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہمیں رحمت والی بارش عطا فرما، مکانات منہدم کرنے والی، غرق آب کرنے والی اور آزمائشوں میں ڈالنے والی بارش نہ ہو۔

یا اللہ! ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں ، یا اللہ! ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں ؛ کیونکہ تو ہی گناہ بخشنے والا ہے، ہم پر آسمان سے موسلا دھار بارش نازل فرما، ہم پر اپنی رحمت کے صدقے آسمان سے موسلا دھار بارش نازل فرما، یا ارحم الراحمین!

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام  بھیجا  کرو۔ [الأحزاب: 56]

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین : ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور دیگر تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ! اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

Read 1115 times Last modified on پیر, 11 دسمبر 2017 14:10

جدید خطبات

خطبات

  • اسلام میں مسلمان کے سماجی حقوق
    اسلام میں مسلمان کے سماجی حقوق
    ﷽   پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں کہ اس نے اطاعت گزاری اور حقوق کی ادائیگی کے لئے توفیق دی، اسی کی حمد خوانی اور شکر بجا لاتا ہوں کہ اس نے اپنے بندوں کو گمراہی اور فسق سے محفوظ رکھا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ تعالی نے حق کو غلبہ عطا کیا اور باطل کو نیست و نابود فرمایا، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے ہمیں اعلی اخلاق کی تبلیغ فرمائی اور نافرمانی سے خبردار کیا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں نازل فرمائے جب تک صبح ہوتی رہے اور سورج چمکتا رہے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہو، تقوی زاد راہ کے متلاشی کے لئے زاد راہ اور نجات تلاش کرنے والے کے لئے نجات ہے، نیز بلند درجات کا ذریعہ بھی ہے۔ مصروفیات اور مادیت کے سیل رواں کی وجہ سے مسلمان کی توجہ کچھ واجبات اور سماجی تعلقات سے ہٹ جاتی ہے، اور…
    in خطبات : مسجد الحرام
  • باہمی رحمدلی کی فضیلت
    باہمی رحمدلی کی فضیلت
      پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، سب نعمتیں اور رحمتیں اسی کی ہیں، اسے ہر چیز کا مکمل طور پر علم ہے، اس کی رحمت اور حلم ہر چیز سے وسیع ہے، ہر مخلوق اس کے فیصلوں کے ماتحت ہے، وہ ہر مخلوق کے ماضی اور مستقبل سے مکمل طور پر واقف ہے، لیکن وہ اللہ کے بارے میں مکمل طور پر واقف نہیں  ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک۔  اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے رحم کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے۔ اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ،خاتم الانبیاء اور سراپا رحمت ہیں، آپ نے اللہ کی جانب حکمت کے ساتھ دعوت دی، آپ افضل ترین نبی ہیں اور آپ کو سب سے افضل امت کی جانب بھیجا گیا، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے ۔ مسلمانو! تقوی الہی اپناؤ یہ بہترین نصیحت ہے، آج اس پر عمل کا وقت ہے، اور اسی پر کامیابی کی امید قائم ہے: {وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • مسلمان کی تذلیل ! ہم اور ہمارا میڈیا
    مسلمان کی تذلیل ! ہم اور ہمارا میڈیا
    پہلا خطبہ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اس انسان کو پیدا کیا اور فضیلت سے نوازا، اللہ تعالی نے انسان کو عقل عطا کی جو کہ آلۂ ادراک اور مکلف بننے کا سبب ہے، نیز انسان کو آداب بھی سکھائے، بندے کو بولنے اور بیان کرنے کے لئے زبان دی اور علم عطا کیا، چنانچہ انسان کو کامل بنانے والی ذات پاکیزہ ہے، اور اللہ تعالی بہترین خالق ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں ، اللہ تعالی نے آپ کو ہدایت اور دین حق دے کر شاہد، مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا، آپ حق لے کر آئے اور حق کی تصدیق بھی فرمائی۔ اللہ تعالی آپ پر ،آپ کی آل اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود و سلام نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: سب سے سچا کلام قرآن مجید ہے، اعلی ترین طرزِ زندگی جناب محمد ﷺ کا ہے، بد ترین امور بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔ اللہ بندو!                                                                                                                                              میں آپ سب کو تقوی الہی اپنانے کی نصیحت کرتا ہوں، یہ اللہ تعالی کی گزشتہ و پیوستہ سب…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • خیر خواہی، دین کا بنیادی حصہ
    خیر خواہی، دین کا بنیادی حصہ
    ﷽ فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 15 ربیع الاول 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "خیر خواہی،،، دین کا بنیادی حصہ" ارشاد فرمایا جس انہوں نے کہا کہ قرآن کریم پر توجہ کر کے ہم دنیا اور آخرت میں کامیابیاں سمیٹ سکتے ہیں، اللہ تعالی نے نبی ﷺ کو جوامع الکلم عطا کیے تھے، اس لیے ایسی احادیث کو اچھی طرح دیا بھی کریں اور ان پر عمل پیرا ہونے کے لئے انہیں سمجھیں ، انہی احادیث میں سے ایک حدیث "دین خیر خواہی کا نام ہے۔۔۔" ہے اس کی انہوں نے مکمل شرح بیان کی اور بتلایا کہ کتاب و سنت کی روشنی میں اللہ تعالی، رسول اللہ، کتاب اللہ ، مسلمان حکمران، اور عامۃ الناس کی خیر خواہی کس طرح ممکن ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیر خواہی پیغمبروں کا شیوہ اور مومنوں کی امتیازی خوبی ہے، اگر انسان اپنے دل میں تمام لوگوں کے لیے خیر خواہی بسا لے تو انتہائی عظیم مقام پا سکتا ہے، آخر میں انہوں نے سب کے لئے کروائی۔ پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں وہ عزت اور کرم والا اور تمام جانداروں کو پیدا کرنے والا ہے، اس…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • دلی راحت اور سکون کے شرعی نسخے
    دلی راحت اور سکون کے شرعی نسخے
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے 24 صفر 1440 ک ⇥ منتخب اقتباس ⇤ یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی اسی سے مانگتے ہیں، نفسانی اور بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -صلی اللی علیہ وسلم- اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود و سلامتی نازل فرمائے۔ مسلمانو! دنیا آزمائش اور امتحان کا گھر ہے، تنگی ترشی دنیا کی فطرت میں شامل ہے، یہاں انسان بڑی بڑی مشقتیں اٹھاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:  {لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ} ہم نے انسان کو تکلیفیں برداشت کرتے رہنے والا پیدا کیا ہے۔ [البلد: 4]  دنیا میں انسان کی…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم