بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
ہفتہ, 02 دسمبر 2017 14:36

ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟

Written by  جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ ۔ ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟۔

پہلا خطبہ

تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جس نے سعادت مندی اور مسرتیں اپنے اطاعت گزار بندوں کیلیے لکھ دی ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں  وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں وہی پہلے اور بعد میں آنے والے سب لوگوں کا معبود ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد  اللہ کے بندے  اور تمام انبیاء میں افضل ترین ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، اسی میں سعادت مندی اور خوشحالی پنہاں ہے۔

اللہ کے بندو!

ذہنی سکون، دلی اطمینان اور سعادت  پوری انسانیت کے مقاصد میں شامل ہے، یہ ساری بشریت کا  ہدف ہے، سب لوگ انہیں حاصل کرنے کیلیے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خوب کوشش  اور تگ و دو کرتے ہیں، لیکن انسان جتنی بھی کوشش کر لے اس کیلیے دنیا کی جتنی مرضی رنگینیاں جمع کر لے، خواہشات نفس  پوری کرنے کیلیے جتنی بھی دوڑ دھوپ کر لے، انہیں یہ سب ملنے والا نہیں ہے  وہ تو اس کی راہ کے راہی بھی نہیں بن سکتے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ خوشحال اور  زندگی میں لہر بہر کی تمام تر صورتوں کا راز خالق انسانیت کے اس فرمان میں پنہاں ہے:  فرمانِ باری تعالی ہے: {مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ } جو مرد یا عورت ایمان کی حالت میں نیک عمل کرے تو ہم اسے خوشحال زندگی بسر کرائیں گے اور ان کے بہترین اعمال کے مطابق انہیں ان کا اجر عطا کریں گے[النحل: 97] اس آیت کریمہ میں محقق مفسرین کے ہاں "خوشحال زندگی" سے مراد دنیا کی زندگی ہے، جبکہ آخرت کی زندگی  میں ملنے والی مسرتیں، خوشیاں، راحتیں اور نعمتیں اس کے علاوہ ہیں۔

 اس راز سے مراد اللہ پر ایسا ایمان ہے  جس میں انسان شرک سے پاک خالص اطاعت  کے ساتھ اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے، ایسا ایمان انسانی زندگی  کی ظاہری اور باطنی ہر اعتبار سے سعادت مندی بنتا ہے ، یہ انسان کی شرح صدر کرتا ہے، دل مطمئن رہتا ہے ، حتی کہ اگر تنگی اور ترشی  آ بھی جائے تو وہ اس زحمت کو بھی رحمت میں تبدیل کر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے، انسان کا دل ہمیشہ راحت ،مسرت  اور خوشی  سے سر شار رہتا ہے، اللہ تعالی پر ایمان کی بدولت انسان  محبت اور معرفتِ الہی کے ساتھ ساتھ اسی سے تعلق رکھتا ہے، اسی پر توکل کرتا ہے، نیز اسی کی جانب متوجہ رہتا ہے: فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ}اور جو بھی اللہ تعالی پر ایمان لائے تو وہ اسے ہدایت سے نوازتا ہے۔[التغابن: 11]

اور اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (مومن کا معاملہ تعجب خیز ہے کہ اس کا سارے کا سارا معاملہ ہی  خیر والا ہے، اور یہ خوبی صرف مومن کے ساتھ خاص ہے۔ چنانچہ اگر مومن کو تکلیف پہنچے تو مومن اس پر صبر کرتا ہے، تو یہ تکلیف اس کیلیے بھلائی کا باعث بن جاتی ہے۔ اور اگر مومن کو خوشی ملے تو وہ اس پر شکر کرتا ہے تو یہ خوشی اس کیلیے بھلائی کا باعث بن جاتی ہے) مسلم

یہ ایمان ہی ہے جو انسان کو ملی ہوئی معمولی دنیا پر بھی خوش کر دیتا ہے، اللہ تعالی کی عنایت پر راضی کر دیتا ہے، اور اللہ تعالی کی نوازشوں پر قناعت پسند بنا دیتا ہے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص اپنے گھر میں صبح اس طرح بیدار ہو کہ جسمانی طور پر صحت مند ہو، اس دن کی خوراک اس کے پاس ہو، تو گویا وہ ایسے ہے کہ اس کیلیے ساری دنیا سمیٹ دی گئی ہو) ترمذی، ابن ماجہ

چنانچہ مسرتوں اور نعمتوں سے بھر پور کامیابی صرف ایسے ہی ممکن ہے جیسے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی ہے: (یقیناً وہ شخص کامیاب ہو گیا  جو اپنا سب کچھ اللہ کے سپرد کر دے ، اللہ تعالی اسے ضرورت کے مطابق رزق دے، نیز اللہ تعالی اسے جو کچھ بھی عنایت کرے اس پر قناعت عطا کر دے) مسلم

اسی مفہوم کو بیان کرتے ہوئے سلف صالحین میں سے کسی نے کہا: "اللہ کی قسم! ہم ایسی سعادت میں ہیں کہ اگر بادشاہوں  کی اولاد کو اس کا علم ہو جائے تو اسے پانے کیلیے ہم پر تلواریں  سونت لیں"

کسی نے تو یہ بھی کہا: "بسا اوقات میری ایسی کیفیت ہو جاتی ہے  اور میں کہہ اٹھتا ہوں: اگر جنتی لوگوں کو ایسی کیفیت میسر ہو تو وہ واقعی پر تعیش زندگی  میں   ہوں گے"

مسلم اقوام:

دل ٹوٹ  پھوٹ کا شکار ہو تو اسے جوڑنے کیلیے صرف اللہ تعالی سے لگاؤ ہی کار گر ثابت ہوتا ہے۔ دل وحشت زدہ ہو تو اس کی تنہائی اللہ تعالی سے محبت کے ذریعے ہی  ختم ہوسکتی ہے۔ دل کے غموں کو  وحدانیتِ الہی  اور معرفت الہی سے زائل کیا جا سکتا ہے۔دلوں میں حسرت کی آگ بھڑک اٹھے تو اللہ کے احکامات ، نواہی  اور تقدیر پر کامل ایمان سے اسے بھجایا جا سکتا ہے۔  اور اسی کا نام دنیا ہے۔

اللہ تعالی کی محبت، اسی کی جانب رجوع اور اللہ تعالی کی دائمی یاد دل کی پیاس مٹا سکتی ہے۔ فرمان باری تعالی ہے: {أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ} خبردار! اللہ کے ذکر سے دل اطمینان پاتے ہیں۔[الرعد: 28]

آپ ﷺ فرماتے تھے: (بلال! نماز کے ذریعے ہمیں راحت پہنچاؤ) اسے ابو داود نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں نماز کے ذریعے راحت پہنچاؤ، یہ مطلب نہیں ہے کہ نماز سے ہماری جان چھڑاؤ۔

ایسے ہی آپ ﷺ کا فرمان ہے: (میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے) اسے نسائی نے روایت کیا ہے اور متعدد حفاظ حدیث نے اسے  صحیح کہا ہے۔

لہذا اگر کوئی شخص ابدی راحت  اور قلب و جان  میں ظاہری و باطنی دائمی خوشحالی کا متمنی ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے نفس کو اللہ تعالی کے احکامات کے مطابق ڈھال لے، اپنی زندگی  کے ہر گوشے کو اللہ تعالی کی اطاعت میں گزارے تو پھر وہ اس دنیا میں بھی مختلف نعمتوں کے مزے لوٹے گا اور آخرت میں بھی، فرمانِ باری تعالی اسی کے بارے میں  کہ : {إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ} بیشک نیک لوگ  نعمتوں میں ہوں گے۔ [الانفطار: 13]

مسلمان! اللہ تعالی کی نافرمانی سے  دور رہو؛ کیونکہ اس کا وبال  حسرت اور خسارہ ہے۔

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "جس وقت انسان اللہ کی نافرمانی کرتا ہے تو اللہ تعالی اس پر اپنے دو سپاہی مسلط کر دیتا ہے یہاں تک بندہ توبہ نہ  کر لے: پہلا سپاہی: "غم" اور دوسرا سپاہی "پریشانی" اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا } اور جس نے میرے ذکر سے اعراض کیا تو اس کیلیے تنگ زندگی ہو گی۔[طہ: 124]"

اس لیے مسلمان! اپنے دل کا تعلق صرف اللہ تعالی سے بناؤ، اپنے پروردگار کے بارے میں حسن ظن رکھو، اگر تم متقی اور پاک صاف بن جاؤ تو تمہیں سعادت مندی اور خوشحالی نصیب ہو گی، ہمارے پروردگار کا فرمان ہے: {أَفَمَنْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَى نُورٍ مِنْ رَبِّهِ}  کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالی نے اسلام کے لئے کھول دیا ہے تو وہ اپنے پروردگار کی طرف سے ایک نور  پر ہے۔ [الزمر: 22]

اللہ تعالی ہم سب کو  خوشیاں اور مسرتیں عطا فرمائے۔

میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اپنے  لیے ، آپ سب اور تمام مسلمانوں کیلیے اللہ تعالی سے گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں آپ  بھی اسی سے بخشش مانگو بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ

میں اپنے پروردگا کی حمد بیان کرتا ہوں اور اسی کا شکر گزار ہوں، میں گواہی دیتا ہوں  کہ اللہ سوا  کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اُس کے بندے اور رسول ہیں۔

مسلمانو:

محصور وہ ہے جس کا دل پروردگار سے  روک دیا جائے، اسیر وہ ہے جو اپنی خواہشات کا اسیر ہو، پریشان  وہ ہے جو اپنے آپ کو گناہوں میں ملوّث کر لے، مغموم وہ ہے جو اپنے نفس کو تباہ کن گناہوں اور شرعی خلاف ورزیوں میں ڈبو لے۔

کسی صاحب معرفت کا کہنا ہے کہ:  "دنیا میں سے مسکین لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں لیکن دنیا کی بہترین چیز سے لطف اندوز نہیں ہوتے۔ کہا گیا: وہ کیا چیز  ہے؟ تو بتلایا: اللہ کی محبت، اللہ کے ساتھ انس، اللہ سے ملنے کا شوق، صرف اسی کی جانب متوجہ ہو کر بقیہ ہر چیز سے رو گردانی کالطف"

فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ}  یقیناً جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اس پر ڈٹ گئے انہیں کوئی خوف نہ ہوگا  اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ [الأحقاف: 13]

اللہ تعالی نے ہمیں جلیل القدر عمل یعنی نبی کریم ﷺ پر درود و سلام کا حکم دیا ہے ، یا اللہ! ہمارے نبی  اور رسول محمد -ﷺ- پر رحمتیں، برکتیں، اور سلامتی نازل فرما۔

یا اللہ! خلفائے راشدین، اہل بیت ،صحابہ کرام  اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے بھی راضی ہو جا۔

یا اللہ! یا ذو الجلال و الاکرام! یا اللہ! ہم تیرے اسما و صفات کا واسطہ دے کر کہتے ہیں کہ ہمارے بھائیوں پر فلسطین  میں امن و امان نازل فرما، یا اللہ! ان کی آزمائشیں ختم فرما، یا اللہ! ان کی پریشانیاں ختم فرما،  یا اللہ! ان کی تنگی کا خاتمہ فرما، یا اکر الاکرمین! یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! فلسطینیوں  اور تمام مسلمانوں کے دشمنوں پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! فلسطینیوں  اور تمام مسلمانوں کے دشمنوں پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! فلسطینیوں  اور تمام مسلمانوں کے دشمنوں پر اپنی پکڑ نازل فرما،  یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! دشمنان اسلام کی منصوبہ بندیاں غارت فرما، یا اللہ! دشمنان اسلام کی منصوبہ بندیاں غارت فرما، یا اللہ! ان کے خلاف تدبیر فرما، یا حیی! یا قیوم! یا اللہ! وہ مسلمانوں کے خلاف دن رات ، خفیہ اور اعلانیہ مکاریاں کر رہے ہیں یا اللہ! ان کی مکاری انہی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا ذو الجلال والاکرام!

یا اللہ! امت محمدیہ پر امن و امان نازل فرما، یا اللہ! انہیں فراخی  اور استحکام عطا فرما، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! یمن، عراق، اور تمام مسلم ممالک میں مسلمانوں کی پریشانیاں ختم فرما، یا ذو الجلال والاکرام!

یا اللہ! شام میں ہمارے بھائیوں کی مشکل کشائی فرما، یا اللہ! ان کی مصیبتیں  وا فرما، یا اللہ! شامی پناہ گزینوں کو ان کے گھروں میں خیر و سلامتی کے ساتھ واپس پہنچا، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! مسلمان مرد و خواتین  اور زندہ و فوت شدگان کی مغفرت فرما۔

یا اللہ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما۔

یا اللہ! ہمیں نعمتیں اور مسرتیں اپنانے والے لوگوں میں شامل فرما، یا حیی! یا قیوم! یا اللہ! ہمیں تیرے نیک، صالح، اطاعت گزار اور متقی لوگوں میں شامل فرما، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! خادم حرمین شریفین  کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان کے ولی عہد کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا ذو الجلال و الاکرام! یا اللہ! ان دونوں کو تیری رضا  کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان دونوں کی دینی اور دنیاوی امور میں مدد فرما، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! مسلمانوں کے دلوں میں الفت پیدا فرما، یا اللہ! مسلمانوں کے دلوں میں الفت پیدا فرما، یا اللہ! حق اور تقوی پر مسلمانوں کو متحد فرما، یا اللہ! حق اور تقوی پر مسلمانوں کو متحد فرما، یا ذو الجلال و الاکرام!

اللہ کے بندو!

اللہ کے بندو! اللہ کا ڈھیروں ذکر کرو، اور صبح و شام بھی اسی کی تسبیح بیان کرو ، اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کیلیے ہیں۔

Read 1321 times Last modified on ہفتہ, 02 دسمبر 2017 14:42

جدید خطبات

خطبات

  • اسرا و معراج، فضائل و اسباق
    اسرا و معراج، فضائل و اسباق
    پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى} پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجد الحرام سے مسجد اقصی  کی سیر کروائی۔ [الإسراء: 1]، میں لا تعداد اور بے شمار نعمتوں پر اللہ کی حمد اور شکر بجا لاتا ہوں ، اور  گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، وہ بلند و بالا ہے،  میں یہ بھی  گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے  اور رسول  ہیں، آپ کو معراج کے سفر میں آسمانوں کی  بلندیوں پر لے جایا گیا۔  اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل  ،اور تمام صحابہ کرام    سمیت آپ کے تابعداروں پر رحمتیں  نازل فرمائے ۔ حمد و صلاۃ کے بعد:  میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا} پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجد الحرام سے مسجد…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • آیت الکرسی کا مفہوم
    آیت الکرسی کا مفہوم
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 10 صفر 1440 کا خطبہ جمعہ " آیت الکرسی کا مفہوم اور افواہوں کے متعلق ہدایات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں عظیم ترین آیت ؛ آیت الکرسی ہے، اس آیت میں اللہ تعالی کے اسما و صفات کا جامعیت کے ساتھ ذکر ہے، سب سے پہلے اس آیت میں اللہ تعالی کی الوہیت کا اقرار، پھر ازل سے ابد تک قائم دائم رہنے کی صفت ذکر ہوئی، اللہ تعالی کو نیند آتی ہے اور نہ ہی اونگ، آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی بادشاہت میں شامل ہے، کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا، اور نبی ﷺ کی سفارش اہل توحید کے لیے سب سے پہلے میسر ہو گی، انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی علم غیب نہیں جانتا، اس کی کرسی آسمان و زمین سے بھی وسیع ہے، جس سے اللہ تعالی کی بے انتہا عظمت اور کبریائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اس لیے اللہ سے جب مانگیں تو وہ بھی بے حساب مانگیں، انہوں نے آخر میں یہ بھی…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 13-رجب- 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی کیلیے حسن اخلاق کا کوئی ثانی نہیں، اسی لیے کتاب و سنت میں اچھا اخلاق اپنانے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، نیز رسول اللہ ﷺ کی جن خوبیوں کا ذکر اللہ تعالی نے فرمایا ان میں حسن اخلاق سر فہرست ہے، آپ ﷺ نے خود فرمایا کہ مجھے اعلی اخلاقیات کی تکمیل کیلیے بھیجا گیا ہے، مومن شخص اعلی اخلاق کی بدولت نفل روزے اور راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے، اچھے اخلاق کا مالک شخص جنت میں رسول اللہ ﷺ کے قریب ترین ہو گا، حسن اخلاق کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ جنت جائیں گے، قیامت کے دن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہو گی، ایک جگہ آپ ﷺ یہاں تک فرما دیا کہ: نیکی حسن اخلاق کا نام ہے، پھر انہوں نے بتلایا کہ حسن خلق کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی شریعت کے مطابق ہو، دوسروں کی خدمت، جود و…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے "اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ" کے عنوان پر 07 ذوالقعدہ 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ خطرات اور مسائل سے بھری ہوئی دنیاوی زندگی میں انسان کو بلند ہمت بنانے کی اشد ضرورت ہے، اور اس کیلیے اللہ تعالی پر توکل بہترین طریقہ ہے، اگر انسان صحیح معنوں میں متوکل ہو تو وہ دنیا میں کسی کا محتاج نہیں رہتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ متوکل دنیا کی ہر چیز کو اللہ تعالی کے زیر تسلط اور ملکیت جانتا ہے لہذا جس چیز کی بھی اسے ضرورت محسوس ہو وہ چیز اللہ سے مانگنے پر اسے مل جاتی ہے، توکل ظاہری اسباب اپنانے سے متصادم نہیں ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہوتی ہے کہ انسان اسباب اپنانے کے بعد ان پر کلی اعتماد نہ کرے بلکہ اللہ تعالی کی ذات پر کامل بھروسا اور یقین رکھے، چنانچہ اسباب اپنانے کے بعد اس کے نتائج اللہ کے سپرد کر دینا توکل کا مطلب ہے ۔ سابقہ اقوام اور صحابہ کرام کے عمل سے توکل کا یہی مفہوم سامنے آتا ہے، دوسرے خطبے میں…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے07-جمادی ثانیہ-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" شرم و حیا شریعت کی روشنی میں" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ اسمائے حسنی کی معرفت عبادت الہی کی کنجی ہے انہی اسمائے حسنی میں سے ایک "اَلْحَيِيُّ" یعنی بہت زیادہ حیا کرنے والا بھی ہے، حیا اللہ تعالی کی صفت ہے، اس کا ذکر کتاب و سنت میں موجود ہے، حیا تمام تر اخلاقی اقدار کا سرچشمہ ہے، حیا انسان کو برائی سے روکتی ہے اور اچھے کاموں کی ترغیب دلاتی ہے، حیا ان اخلاقی اقدار میں شامل ہے جو اولین زمانۂ نبوت سے معتبر اور مطلوب ہیں، حیا سے اشرف المخلوقات سمیت فرشتے بھی موصوف ہیں، آدم، نوح، موسی سمیت تمام کے تمام انبیائے  علیہم السلام حیا سے آراستہ تھے، ہمارے نبی ﷺ سب سے زیادہ با حیا تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے، حیا خواتین کا فطری زیور اور زینت ہے، اسی لیے سیدہ عائشہ اور دیگر صحابیات حیا کی پیکر تھیں، بلکہ اہل جاہلیت بھی حیا پر قائم دائم تھے، نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق حیا سرتا پا خیر ہی خیر ہے، حیا…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم