بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
منگل, 28 نومبر 2017 16:57

حیا اسلام کا ضابطہ اخلاق اور خواتین

Written by  خ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان۔ ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

 

پہلا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہیں ، اسی نے تمہارے مابین اخلاق تقسیم کیا ہے جیسے کہ اس نے تمہارے مابین رزق تقسیم فرمایا ، پھر تمہاری درجہ بندی کیلیے اخلاق کو معیار قرار دیا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام، اعلی صفات اور بہترین خوبیاں ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا، امانت ادا کر دی اور امت کی خیر خواہی فرمانے کے ساتھ راہِ الہی میں کما حقہ جہاد کیا یہاں تک کہ آپ کو موت آ گئی، یا اللہ! ان پر ، ان کی آل  ،متقی  صحابہ کرام  اور آپ کے نقش قدم پر چلنے والے لوگوں پر روزِ قیامت تک رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

اللہ کے بندو! تقوی الہی اختیار کرو؛ کیونکہ تقوی دنیا میں عزت  اور آخرت کیلیے زادِ راہ ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ}اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرو تو وہ تمہیں قوت  تفریق عطا کرے گا اور تمہاری خطائیں تم سے مٹا دے گا، نیز تمہیں بخش دے گا، اور اللہ عظیم فضل والا ہے۔[الأنفال: 29]

مسلم اقوام!

انسانوں کی رنگت اور لغت الگ الگ ہونے کے باوجود وہ ایک ہی باپ کی اولاد ہیں ، تاہم ان کے اخلاق اور مزاج ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔

اسی وجہ سے اخلاق ہی اقدار کا معیار اور لوگوں کے ہاں کسوٹی  کا درجہ رکھتا ہے۔ اخلاق ہی بلندیوں  کیلیے زینہ ہے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان سچا ہے کہ: (بیشک تم میں سے بہترین وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہے) بخاری

اللہ کے بندو!

جس دین سے ہم نسبت رکھتے ہیں یہ دین سراپا اخلاقیات کا دین  ہے، پھر ہمارے نبی ﷺ کو اخلاقیات کی تکمیل کیلیے مبعوث فرمایا گیا، مزید بر آں عالم اسلام کا دو تہائی حصہ اسلامی اخلاقیات  سے ہی حلقہ بگوش اسلام ہوا ۔

ردائے اخلاق کا جھومر اور متفقہ طور پر اعلی ترین خوبی یہ ہے کہ انسان حیا سے متصف ہو۔

حیا -اللہ کے بندو!- تمام اخلاقیات  کا سر چشمہ ہے، اسی سے تمام اخلاقی قدریں پھوٹتی ہیں، اسی میں تمام خوبیاں پنہاں ہیں، حیا سے متصف شخص کا دینی تشخص اعلی  اور اس کا اخلاق بلند ہوتا ہے، وہ رب سے حیا کرتے ہوئے گناہوں کا کبھی ارتکاب نہیں کرتا۔

حیا بہت ہی اعلی خوبی ہے جو کہ انسان کو اچھے کام کرنے پر ابھارتی ہے، ہر قسم کی برائی سے روکتی ہے، حیا انسان کو تمام گناہوں اور برائیوں سے بچاتی ہے، نیز حیا داری انسان کے با اخلاق اور اعلی کردار کی علامت بھی ہے۔

 حیا ، بے حیائی کا خاتمہ کر تی ہے، عزت کو تحفظ دیتی ہے، دل میں عفت  پیدا کرتی ہے۔

حیا انسان کیلیے انتہائی نفیس دولت ہے، اس سے صرف اچھے لوگ ہی متصف ہوتے ہیں، اور حیا انبیائے کرام کا زیور ہے، ابو مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (گزشتہ نبوّتوں کی تعلیمات میں سے لوگوں نے یہ بھی پایا ہے کہ: جب حیا نہ ہو تو جو مرضی کرو) بخاری

حیا حقیقت میں اسلام کا شعار ہے؛ کیونکہ (ہر مذہب کا [ضابطہ ]اخلاق ہوتا ہے، اور اسلام کا [ضابطہ] اخلاق حیا ہے) ابن ماجہ، البانی نے اسے صحیح الجامع الصغیر میں صحیح کہا ہے۔

(ایمان کے ستر سے زائد درجے ہیں اور حیا بھی ایمان کا ایک درجہ ہے) صحیح مسلم

ایک بار رسول اللہ ﷺ ایک آدمی کے پاس سے گزرے وہ اپنے بھائی کو حیا کی وجہ سے ڈانٹ پلاتے ہوئے کہہ رہا تھا: "تم بہت زیادہ شرمیلے ہو" حتی کہ اس نے کہا : " شرمیلے پن نے تمہیں نقصان پہنچایا  ہے" تو اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اسے چھوڑ دو، بیشک حیا ایمان کا حصہ ہے، اور جس میں حیا نہ ہو اس کا ایمان ہی نہیں) صحیح بخاری

ایمان میں حیا شامل ہونے کا اصل راز یہ ہے کہ یہ دونوں یعنی ایمان اور حیا اچھے کام کی دعوت دیتے ہیں اور اچھے کاموں کے قریب کرتے ہیں، نیز برائی سے روکتے ہیں اور برائی سے دور بھی کرتے ہیں۔

حیا خیر کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے، چنانچہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (حیا صرف خیر کا باعث ہی  بنتی ہے) اسی طرح آپ ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے: (حیا سراپا خیر ہے۔) صحیح مسلم

اللہ کے بندو!

رسول اللہ ﷺ میں گزشتہ اور پیوستہ سب لوگوں کی خوبیاں یکجا تھیں، آپ ﷺ کا اخلاق انتہائی اعلی ترین تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے آپ کے بارے میں فرمایا: {وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ} اور بیشک آپ انتہائی عظیم اخلاق کے مالک ہیں۔[القلم: 4]

تو "رسول اللہ ﷺ پردے کی اوٹ میں موجود کنواری لڑکی سے بھی زیادہ با حیا تھے، اور جس وقت آپ ﷺ کوئی ناگوار چیز دیکھتے تو حیا سے بھر پور چہرے پر بھی ناگواری عیاں ہو جاتی  تھی"

حیا کی مختلف شکلیں اور درجے ہیں، ان میں سے اعلی ترین درجہ اللہ تعالی سے حیا کا ہے، یعنی آپ کو اس بات سے حیا آئے کہ اللہ تعالی آپ کو ایسی جگہ دیکھے جہاں جانے سے اس نے منع کیا ہے؛ کیونکہ وہی آپ کا خالق اور بہترین انداز سے پیدا کرنے والا ہے۔ اسی طرح آپ کو اس بات سے حیا آئے کہ اللہ تعالی کی طرف سے عنایت ہونے والی نعمتوں کو اسی کی نافرمانی میں استعمال کریں۔

نبی ﷺ نے اللہ تعالی سے حیا کرنے کی بھر پور ترغیب دلائی اور فرمایا: (اللہ تعالی سے کما حقُّہ حیا کرو) صحابہ کرام نے کہا: "اللہ کے رسول! الحمد للہ، ہم سب حیا کرتے ہیں" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (یہ مطلب نہیں! یہاں اللہ تعالی سے کما حقُّہ حیا مطلوب ہے، یعنی: آپ دماغ اور اس میں موجود معلومات کی حفاظت کریں، پیٹ اور اس میں جانے والی خوراک کا خیال رکھیں، پھر موت اور [اس کے بعد آنے والی] بوسیدگی کو یاد  رکھیں، جو شخص آخرت کا طلب گار ہو وہ دنیاوی چکا چوند  ترک کر دیتا ہے۔ جو شخص  یہ کام کر لے تو وہ اللہ تعالی سے کما حقُّہ حیا کرتا ہے)، حاکم نے اسے مستدرک میں روایت کیا  ہے اور صحیح قرار دیا نیز ذہبی نے ان کے حکم کو تسلیم کیا ہے۔

معزز ، محرر اور حفاظت کرنے والے فرشتوں سے  حیا کریں؛ مبادا آپ کے خلاف گواہی نہ دے دیں: {عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ (17) مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ} دائیں اور بائیں فرشتے بیٹھے ہوئے ہیں [17] کوئی بھی لفظ وہ منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس نگہبان تیار  ہے۔[ق: 17، 18]

لوگوں سے حیا کریں کہ کہیں آپ اللہ تعالی کی طرف سے پڑا ہوا پردہ چاک کر دیں اور لوگوں کے سامنے اعلانیہ گناہ کریں: (میری ساری امت کو معاف کر دیا جائے گا سوائے اعلانیہ گناہ کرنے والوں کے)

اپنے نفس اور اعضا سے ہی حیا کریں کیونکہ کل قیامت کے دن یہی تمہارے خلاف گواہی دیں گے: {يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (24) يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ} جس دن ان مجرموں کی اپنی زبانیں، ہاتھ اور پاؤں ان کے کرتوتوں سے متعلق ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ [24] اس دن اللہ تعالی انھیں وہ بدلہ دے گا جس کے وہ مستحق ہیں اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی حق ہے، سچ کو سچ کر دکھانے والا ہے۔ [النور: 24، 25]

اللہ تعالی میرے اور آپ کیلیے قرآن مجید کو بابرکت بنائے، ہمیں اپنے نبی کریم کی سنت اور آپ کی رہنمائی کے مطابق چلنے کی توفیق دے، میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور عظمت و جلال والے اللہ  سے اپنے اور سب مسلمانوں کیلیے تمام گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہوں، آپ بھی اسی سے بخشش طلب کرو، بیشک وہ بخشنے والا ہے اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں  وہ بہت با حیا اور پردہ پوشی کرنے والا ہے، اللہ تعالی نے ہی اخلاقیات کو اقدار میں شامل فرمایا، اور ان اخلاقیات کی تکمیل کیلیے بشیر ،نذیر  اور سراج منیر  یعنی ہمارے نبی محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر ڈھیروں سلامتی نازل فرمائے۔

مسلمانو!

ہم اخلاقی پستی کے دور سے گزر رہے ہیں، خاتمے کی جانب بڑھتی ہوئی  دنیا میں فتنے ٹھاٹھیں مار رہے ہیں، چہار سو شبہات اور شہوات کا راج ہے، کل تک جو چیز نیکی سمجھی جاتی تھی آج وہ کچھ لوگوں کے ہاں برائی بن چکی ہے اور جو چیز کل تک برائی تھی وہ آج معمول کی نیکی  بن چکی ہے۔ اخلاقی محاذ آرائی جدید آلات اور ذرائع کے توسط سے گھروں میں گھس چکی ہے۔

چنانچہ جس ماحول میں ہمیں نشانے پر رکھا جا رہا ہے یہ بات ضروری ہو چکی ہے کہ ہم نو عمر جوانوں کی تربیت اسلامی عقیدے  پر کریں، اللہ سے حیا کی ترغیب دیں، یہ دونوں چیزیں  تحفظ کا بہترین ذریعہ ہیں، نیز  تربیت اور تزکیہ سمیت اللہ تعالی کو اپنا نگران سمجھنے کیلیے کار گر ہیں۔

مسلم اقوام! اور قابل احترام مسلمان بہنو!

حیا اگرچہ مردوں سے بھی مطلوب  ہے؛ لیکن خواتین سے حیا کا مطالبہ مزید پر زور ہے، خاتون اپنے اخلاق کے ذریعے بھی اللہ کی عبادت کرتی ہے، اللہ سے ثواب کی امید کرتی ہے اور عذاب سے ڈرتی ہے، پھر حیا  عورت کے دینی اور فطری اخلاق کا حصہ ہے،  چنانچہ کھاتے ،پیتے  اور پہنتے  وقت  حیا کا اہتمام کرتی ہے۔ اسی طرح چلتے پھرتے  اور باہر نکلتے وقت حیا کا عملی نمونہ بن کر رہتی ہے۔

حیا حقیقت میں مسلمان خاتون کی اصل جمع پونجی ہے، حیا کے ذریعے ہی خاتون اپنی عزت آبرو کی حفاظت کرتی ہے۔

حیا خاتون کا امانت دار حجاب ہے، حیا ہی عورت کی خوبصورتی  اور عورت کے پاکدامن ہونے کی مضبوط دلیل ہے، حیا ہر عورت کیلیے محفوظ ترین جگہ ہے۔

مسلم خواتین!

اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ایک خاتون کے حیا کا ذکر موسی علیہ السلام کے واقعے میں کیا ہے کہ جب موسی علیہ السلام مدین کے کنویں پر پہنچے  تو وہاں شعیب کی بیٹیوں نے حیا داری کی اعلی منظر کشی کی ، اس منظر کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ:

جس وقت موسی علیہ السلام نے ان دونوں کی عفت اور مردوں سے دوری دیکھی تو ان کے جانوروں کو خود ہی پانی پلایا دیا، اسی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا: {وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِنَ النَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِنْ دُونِهِمُ امْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا قَالَتَا لَا نَسْقِي حَتَّى يُصْدِرَ الرِّعَاءُ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ (23) فَسَقَى لَهُمَا} پھر جب وہ مدین کے کنویں پر پہنچے تو دیکھا کہ بہت سے لوگ (اپنے جانوروں کو) پانی پلا رہے ہیں اور ان سے ہٹ کر ایک طرف دو عورتیں (اپنی بکریوں کو) روکے ہوئے کھڑی ہیں۔ موسیٰ نے ان سے پوچھا:  تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ وہ کہنے لگیں : "ہم اس وقت پانی پلا نہیں سکتیں جب تک یہ چرواہے پانی پلا کر واپس نہ چلے جائیں اور ہمارا باپ بہت بوڑھا ہے " [23] چنانچہ موسیٰ نے ان عورتوں کی بکریوں کو پانی پلا دیا [القصص: 23، 24] ان دونوں کی عفت اور مردوں سے الگ تھلگ رہنا حیا کے باعث تھا، اور حیا ہی مسلمان خاتون کا شعار ہوتا ہے نیز حیا اچھی تربیت کی علامت ہے۔

انہی آیات میں اچھے کردار کے ایک اور منظر کی جانب بھی اشارہ موجود ہے کہ جب چال اور انداز گفتگو میں بھی حیا اور اطمینان  چھلک رہا  تھا تو اللہ تعالی نے واپس آنے والی لڑکی کی مدح سرائی فرمائی کہ وہ چلتے ہوئے حیا سے لبریز تھی چنانچہ وہ مٹکائی اور نہ ہی اٹھلائی، بے پردگی بھی نہ کی اور نہ ہی نرم لہجے میں بات کی: {فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا} تو ان دونوں میں سے ایک شرم سے چلتی ہوئی ان کے پاس آئی اور کہنے لگی : "آپ نے ہماری بکریوں کو جو پانی پلایا ہے تو میرا باپ آپ کو بلاتا ہے تاکہ آپ کو اس کا اس کا صلہ دے "  [القصص: 25]

مسلمان بہن!

یہ دیکھیں: آپ کی ماں اور آپ کیلیے اسوہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا حیا کا انتہائی اعلی عملی نمونہ پیش کرتی ہیں کہ زندہ اور فوت شدہ سب سے حیا کرتے ہوئے پردہ کرتے ہوئے کہتی ہیں: "جس گھر میں رسول اللہ ﷺ اور ابو بکر مدفون ہیں میں وہاں یہ کہتے ہوئے بغیر حجاب کے داخل ہو جاتی تھی کہ یہاں میرے خاوند اور والد ہی تو مدفون ہیں، لیکن جب عمر وہاں دفن ہوئے تو اللہ کی قسم! میں جب بھی وہاں گئی تو حجاب کے ساتھ گئی کہ مجھے عمر سے حیا آتی ہے۔"

اسی طرح جب قافلے گزرتے اور آپ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احرام کی حالت میں ہوتیں تو اپنی اوڑھنی اپنے چہرے پر ڈال لیتی تھیں۔

آپ رضی اللہ عنہا صحیح حدیث کے مطابق مردوں سے الگ تھلگ طواف کرتی تھیں، مردوں کی بھیڑ سے دور رہتی تھیں۔

جب آپ کی لونڈی نے کہا: میں نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور دو یا تین بار حجر اسود کا بوسہ بھی لیا ، تو سیدہ عائشہ کہنے لگیں: "اللہ تمہیں اس کا اجر نہ دے! تم مردوں سے  دھکم پیل ہوتی ہو!  تم تکبیر کہہ کر چلتی کیوں نہیں بنیں؟"

مسلمان خاتون!

عورت کا حجاب  اور حشمت دونوں ہی عورت کے دین  اور اخلاق کا لازمی حصہ ہیں، چنانچہ اگر کوئی عورت اپنی فطرت سے باغی ہو  کر دین سے بیزار ہو جائے، چادر اتار دے ، ستر پوشی چاک کر دے، اپنے مخصوص اعضا کھلے رکھے تو اس کا دین بھی برباد اور اس میں  امانت داری بھی ختم ہو جاتی ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جہنمیوں کی دو قسمیں میں نے ابھی تک نہیں دیکھیں!)ان میں سے ایک کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: (تن پر لباس کے باوجود برہنہ خواتین جو کہ دوسروں کو اپنی طرف مائل کرنے والی اور خود مائل ہونے والی ہیں، ان کے سر بختی اونٹ کی ڈھلکی ہوئی کوہان کی طرح ہیں، وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی بلکہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیں گی، حالانکہ کی جنت کی خوشبو انتہائی دوری سے محسوس کی جا سکتی ہے)

مسلمانو!

(خبردار! تم میں سے ہر ایک ذمہ دار اور ہر ذمہ دار سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا، چنانچہ مرد اپنے اہل خانہ کا ذمہ دار اور ا س سے اِن کے بارے میں پوچھا جائے گا، عورت اپنے خاوند کے گھر اور بچوں  کی ذمہ دار ہے، عورت سے اِن کے بارے میں پوچھا جائے گا، خبردار تم میں سے ہر ایک ذمہ دار اور ہر ذمہ دار سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا) مسلم

یا اللہ! ہم تجھ سے اتنی حیا مانگتے ہیں جو ہمیں تیری نافرمانی سے روک دے، یا اللہ! ہمیں اچھے اخلاق کی توفیق دے، تیرے سوا اچھے اخلاق کی توفیق دینے والا کوئی نہیں۔ نیز ہمیں برے اخلاق سے پھیر دے ان سے پھیرنے والا تیرے سوا کوئی نہیں!

یا اللہ! ہم تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت اور تونگری کا سوال کرتے ہیں۔

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما اور اپنے موحد بندوں کی مدد فرما۔

یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو پر امن اور مستحکم بنا دے۔

یا اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما، یا اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما، یا اللہ! ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما،  یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، نیکی اور تقوی کے کاموں کیلیے ان کی رہنمائی فرما۔

یا اللہ!  انہیں اور ان کے ولی عہد کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے بہترین اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرما، جن میں ملک و قوم کی خیر و بھلائی ہو ، یا رب العالمین!

یا اللہ! حجاج کرام کا حج قبول فرما، یا اللہ! حجاج کرام کا حج قبول فرما، یا اللہ! ان کی خصوصی حفاظت فرما، یا اللہ! انہیں مکمل تحفظ عطا فرما، یا اللہ! انہیں ان کے گھروں تک عظیم و اجر و ثواب کے ساتھ صحیح سلامت  واپس پہنچا، یا اللہ! ان کے حج کو خالص اپنی رضا کیلیے بنا لے، یا اللہ! ان کے حج کو تیری بارگاہ میں حصولِ جنت کا موجب بنا، یا رب العالمین!

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام  بھیجا  کرو۔ [الأحزاب: 56]

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین، جو کہ یکسو خلیفہ تھے یعنی ابو بکر، عمر، عثمان اور علی  سمیت تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، تابعین عظام اور روزِ قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والے لوگوں سے راضی ہو جا،  نیز ان کے ساتھ ساتھ اپنے رحم، کرم اور احسان کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا۔ یا ارحم الراحمین!

Read 1335 times

جدید خطبات

خطبات

  • آیت الکرسی کا مفہوم
    آیت الکرسی کا مفہوم
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 10 صفر 1440 کا خطبہ جمعہ " آیت الکرسی کا مفہوم اور افواہوں کے متعلق ہدایات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں عظیم ترین آیت ؛ آیت الکرسی ہے، اس آیت میں اللہ تعالی کے اسما و صفات کا جامعیت کے ساتھ ذکر ہے، سب سے پہلے اس آیت میں اللہ تعالی کی الوہیت کا اقرار، پھر ازل سے ابد تک قائم دائم رہنے کی صفت ذکر ہوئی، اللہ تعالی کو نیند آتی ہے اور نہ ہی اونگ، آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی بادشاہت میں شامل ہے، کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا، اور نبی ﷺ کی سفارش اہل توحید کے لیے سب سے پہلے میسر ہو گی، انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی علم غیب نہیں جانتا، اس کی کرسی آسمان و زمین سے بھی وسیع ہے، جس سے اللہ تعالی کی بے انتہا عظمت اور کبریائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اس لیے اللہ سے جب مانگیں تو وہ بھی بے حساب مانگیں، انہوں نے آخر میں یہ بھی…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 13-رجب- 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی کیلیے حسن اخلاق کا کوئی ثانی نہیں، اسی لیے کتاب و سنت میں اچھا اخلاق اپنانے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، نیز رسول اللہ ﷺ کی جن خوبیوں کا ذکر اللہ تعالی نے فرمایا ان میں حسن اخلاق سر فہرست ہے، آپ ﷺ نے خود فرمایا کہ مجھے اعلی اخلاقیات کی تکمیل کیلیے بھیجا گیا ہے، مومن شخص اعلی اخلاق کی بدولت نفل روزے اور راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے، اچھے اخلاق کا مالک شخص جنت میں رسول اللہ ﷺ کے قریب ترین ہو گا، حسن اخلاق کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ جنت جائیں گے، قیامت کے دن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہو گی، ایک جگہ آپ ﷺ یہاں تک فرما دیا کہ: نیکی حسن اخلاق کا نام ہے، پھر انہوں نے بتلایا کہ حسن خلق کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی شریعت کے مطابق ہو، دوسروں کی خدمت، جود و…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے "اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ" کے عنوان پر 07 ذوالقعدہ 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ خطرات اور مسائل سے بھری ہوئی دنیاوی زندگی میں انسان کو بلند ہمت بنانے کی اشد ضرورت ہے، اور اس کیلیے اللہ تعالی پر توکل بہترین طریقہ ہے، اگر انسان صحیح معنوں میں متوکل ہو تو وہ دنیا میں کسی کا محتاج نہیں رہتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ متوکل دنیا کی ہر چیز کو اللہ تعالی کے زیر تسلط اور ملکیت جانتا ہے لہذا جس چیز کی بھی اسے ضرورت محسوس ہو وہ چیز اللہ سے مانگنے پر اسے مل جاتی ہے، توکل ظاہری اسباب اپنانے سے متصادم نہیں ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہوتی ہے کہ انسان اسباب اپنانے کے بعد ان پر کلی اعتماد نہ کرے بلکہ اللہ تعالی کی ذات پر کامل بھروسا اور یقین رکھے، چنانچہ اسباب اپنانے کے بعد اس کے نتائج اللہ کے سپرد کر دینا توکل کا مطلب ہے ۔ سابقہ اقوام اور صحابہ کرام کے عمل سے توکل کا یہی مفہوم سامنے آتا ہے، دوسرے خطبے میں…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے07-جمادی ثانیہ-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" شرم و حیا شریعت کی روشنی میں" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ اسمائے حسنی کی معرفت عبادت الہی کی کنجی ہے انہی اسمائے حسنی میں سے ایک "اَلْحَيِيُّ" یعنی بہت زیادہ حیا کرنے والا بھی ہے، حیا اللہ تعالی کی صفت ہے، اس کا ذکر کتاب و سنت میں موجود ہے، حیا تمام تر اخلاقی اقدار کا سرچشمہ ہے، حیا انسان کو برائی سے روکتی ہے اور اچھے کاموں کی ترغیب دلاتی ہے، حیا ان اخلاقی اقدار میں شامل ہے جو اولین زمانۂ نبوت سے معتبر اور مطلوب ہیں، حیا سے اشرف المخلوقات سمیت فرشتے بھی موصوف ہیں، آدم، نوح، موسی سمیت تمام کے تمام انبیائے  علیہم السلام حیا سے آراستہ تھے، ہمارے نبی ﷺ سب سے زیادہ با حیا تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے، حیا خواتین کا فطری زیور اور زینت ہے، اسی لیے سیدہ عائشہ اور دیگر صحابیات حیا کی پیکر تھیں، بلکہ اہل جاہلیت بھی حیا پر قائم دائم تھے، نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق حیا سرتا پا خیر ہی خیر ہے، حیا…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عذاب قبر کے اسباب اور نجات کے ذرائع
    عذاب قبر کے اسباب اور نجات کے ذرائع
    پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ایمان اور صبر جیسی نعمت پر تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اس فضل پر اسی کا شکر بجا لاتے ہیں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، کائنات کے فیصلے اور تصرف اسی کے ہاتھ میں ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے مومنوں کو ان کی قبر کی حالت سے بہرہ ور فرمایا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور ہر جگہ پیش رو بننے والے صحابہ کرام پر رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہو، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] انسانی زندگی کے اس سفر میں متنوع اور مختلف مرحلے ہیں، انسان ایک عرصہ ماں کے پیٹ میں، پھر زمین کی پشت پر اور دوبارہ جی اٹھائے جانے تک زمین کے نیچے…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم