بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
منگل, 21 نومبر 2017 15:33

زندگی کے رنگ امنگوں کے سنگ

Written by  ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ ، ترجمہ شفقت الرحمن مغل

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں اسی نے دلوں کو رہنمائی عطا فرمائی ، اور دل نے ایمان سے ترقی پائی،  میں اللہ کی حمد اور شکر بجا لاتا ہوں کہ ہم جو بھی ارمان اور امنگ جگائیں اللہ تعالی ہمیں وہی عطا کر دیتا ہے، اور  میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، اس نے ہمیں دہکتی آگ سے ڈرایا ہے،  میں یہ بھی  گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے  اور رسول  ہیں، آپ نے حق بات کا بول بالا فرمایا اور باطل کا ڈٹ کا مقابلہ کیا۔  اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل  ،تمام صحابہ کرام   اور ان تمام لوگوں پر رحمتیں  نازل فرمائے جنہوں نے اپنا اور دوسروں کا تزکیۂ نفس کیا۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102]

اللہ تعالی نے اس وسیع کائنات کو  مسخر فرمایا اور اس دنیا کو  انسان کی نہ ختم ہونے والی امنگوں  کا میدان قرار دیا، تو کچھ لوگوں کی  زیادہ  تو کچھ کی کم امنگیں ہوتی ہیں؛ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (ابن آدم کھجوروں کی ایک وادی کا مالک ہو تو وہ اس جیسی ایک اور وادی کا ارمان کرنے لگے پھر دوسری کا یہاں تک کہ کئی وادیوں کی خواہش کرنے لگے گا اور ابن آدم کے پیٹ کو مٹی ہی بھرے گی) اس روایت کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔

امنگ نیکی کے لیے ہو تو قابل ستائش ہے، اور جو تمنا تقدیری فیصلوں پر اعتراض  اور ناممکن الحصول کے لیے ہوں تو وہ قابل مذمت ہیں، انسان کے ارمان انسان کے ارادوں کے ترجمان ہوتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (انسانی نفس تمنا اور چاہت رکھتا ہے)انہی ارمانوں کی وجہ سے کچھ تو شان و شوکت کی بلندیوں پر پہنچ جاتے ہیں اور کچھ ذلت کے گڑھوں میں جا گرتے ہیں۔

بلند ہمت اور بڑے عزائم والے لوگوں کے ارمانوں سے ان کی زندگیاں بھی رنگین ہوتی ہیں، یہ دیکھیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بیٹھے ہوئے کہتے ہیں: "اپنی اپنی تمنا بتلاؤ! تو ایک شخص نے کہا: میری یہ  خواہش ہے کہ اگر یہ گھر سونے سے بھرا ہوا ہو تو میں اسے راہِ الہی میں لٹا دوں۔ آپ نے پھر فرمایا:  اپنی اپنی تمنا بتلاؤ! تو دوسرے شخص نے کہا: میری یہ خواہش ہے کہ یہ گھر ہیرے جواہرات اور زبرجد سے بھرا ہو تو میں اسے راہِ الہی میں لٹا کر صدقہ کر دوں۔  آپ نے پھر فرمایا:  اپنی اپنی تمنا بتلاؤ! تو لوگوں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ کی کیا خواہش ہے؟ تو انہوں نے کہا: میرا یہ ارمان ہے کہ: یہ گھر ابو عبیدہ بن جراح، معاذ بن جبل، سالم مولی ابو حذیفہ، اور حذیفہ بن یمان جیسے لوگوں سے بھرا  ہوا ہو"

حطیم میں مصعب، عروہ، عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ  بن عمر رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے تو انہوں نے کہا: "اپنے اپنے ارمان بتلا!، تو عبداللہ بن زیبر نے کہا: "میں تو خلافت کی تمنا کرتا ہوں" اور عروہ نے کہا کہ: "میں تو یہ تمنا رکھتا ہوں کہ مجھ سے علم لیا جائے" مصعب  نے کہا کہ: "میں عراق کی گورنری چاہتا ہوں" آخر میں عبداللہ بن عمر نے کہا: "میرا ارمان یہی ہے کہ مجھے مغفرت مل جائے" ان سب کو ان کی خواہشات مل گئیں اور امید ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کو مغفرت بھی ملے گی"

اسی طرح عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی امنگیں بھی ان کے سنگ رہیں اور اللہ کے فضل سے پوری ہوئیں، امید ہے کہ ان کی آخری امنگ بھی پوری ہو گی، آپ کہتے ہیں: "میرا نفس ہمیشہ آرزو مند رہتا ہے، میں نے فاطمہ بنت عبدالملک  سے شادی کی تمنا کی تو میری ان سے شادی ہو گئی، پھر مجھے گورنر بننے کا شوق ہوا  تو میں گورنر بن گیا ، پھر دل میں خلیفہ بننے کی چاہت پیدا ہوئی  تو مجھے خلافت بھی مل گئی ، اور اب حصولِ جنت کا ارمان ہے امید ہے کہ یہ بھی ان شاء اللہ مجھے مل جائے گی "

اچھی خواہشات اور تمنائیں بھی عظیم ثواب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں، ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے چار قسم کے لوگوں کا ذکر فرمایا: (ایک شخص کو اللہ نے مال اور علم عطا فرمایا تو وہ اپنے علم کے مطابق دولت  کو راہِ حق میں خرچ کرتا ہے اور ایک شخص کو اللہ تعالی نے علم دیا لیکن اسے مال نہیں دیا اور وہ یہ خواہش رکھتا ہے کہ اگر اسے بھی دولت مل جائے تو وہ بھی اسی طرح خرچ کرے گا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ دونوں اجر میں برابر ہیں۔ اور ایک شخص کو اللہ تعالی نے مال دیا لیکن اسے کے پاس علم نہیں ہے اور وہ مال کو ناحق راستوں میں خرچ کرتا ہے ، اور ایک شخص کو اللہ تعالی نے نہ مال دیا اور نہ ہی دولت سے نوازا تو وہ بھی یہ کہتا ہے کہ اگر مجھے اس کی طرح مال مل جائے تو میں بھی اسی طرح اسے ناحق خرچ کروں گا  جیسے یہ کرتا ہے کہ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں) ابن ماجہ

نیک نیتی کے ساتھ عملی کاوش  اور جہدِ مسلسل نہ ہو  تو خالی ارمانوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے ، اللہ تعالی کا [عملی کاوش کی ترغیب کے لیے ]حکم ہے: {وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ} اور اپنے رب کی مغفرت  کی جانب دوڑ پڑو۔[آل عمران: 133]

بلکہ تمنائیں اور ارمان بھی دعا کی اقسام میں سے ایک ہیں، یہ بھی قبولیت  کی بنا پر شرمندہ تعبیر ہو جاتی ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جب تم میں سے کوئی اللہ سے تمنا کرے تو خوب کھل کر مانگے؛ کیونکہ وہ اپنے پروردگار سے مانگ رہا ہے) اس روایت کو ہیثمی نے روایت کیا ہے اور البانی  کے مطابق اس روایت کے راوی  صحیح [بخاری] کے ہیں۔

اسی طرح آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جب بھی تم میں سے کوئی تمنا کرے تو خیال رکھے کہ وہ کیا تمنا کر رہا ہے؛ کیونکہ اسے نہیں معلوم اس کی کون سی تمنا لکھ دی جائے [یعنی پوری کر دی جائے]) اس روایت کو احمد نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

اسی لیے دانش مند دشمن سے لڑائی کی تمنا نہیں رکھتا؛ آپ ﷺ کا فرمان ہے: (دشمن سے لڑائی کی تمنا مت کرو اور اللہ سے عافیت طلب کرو)

اسلام منفی سوچ کو اکھاڑ پھینکتا ہے، نہ ہی  سیاہ ارمان اسلام کے شایان شان ہیں، اسی لیے شدید فتنوں کے باوجود بھی موت کی تمنا سے منع کرتا ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تم میں سے کوئی کسی بھی تکلیف کے پہنچنے پر موت کی تمنا مت کرے، اور اگر تمنا کرنا ضروری ہو تو کہہ دے: (اَللَّهُمَّ أَحْيِنِيْ مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِيْ، وَتَوَفَّنِيْ إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِيْ) [یا اللہ! جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو مجھے زندہ رکھنا اور جب موت میرے لیے بہتر ہو تو مجھے  اپنے پاس بلا لینا]) متفق علیہ

حقیقت میں دل کے ارمان پروردگار سے گمان کی ترجمانی کرتے ہیں، ایک حدیث قدسی ہے کہ: (میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں، اب اس کی مرضی ہے وہ میرے بارے میں جیسا مرضی گمان کرے) [اسے ابن حبان نے اپنی صحیح  میں روایت کیا ہے] اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنے بندے کے ساتھ وہ سب کچھ کرنے پر قادر ہوں جو بندہ میرے بارے میں گمان کرتا ہے، لہذا اگر بندہ اپنے پروردگار کے بارے میں حسن ظن رکھے  تو یہ اس کی امنگوں اور ارمانوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس طرح اس کے خیالات بھی بلندیوں کو چھونے لگتے ہیں ۔

دانش مند شخص اپنے سپنے اللہ تعالی کی نعمتوں کا احساس کرتے ہوئے چُنتا ہے وہ اپنے کسی بھائی سے حسد نہیں کرتا یا ان کے پاس جو نعمت ہے اسے اپنے پاس منتقل کرنے کی نہیں سوچتا، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ}اور اس کی تمنا مت کرو جس کے ذریعے اللہ تعالی نے تمہیں ایک دوسرے پر فوقیت دی ہے۔[النساء: 32]

مسلمان کو اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ ارمان پورے ہونے کا تعلق اللہ تعالی کے حکم سے ہے، اس لیے اگر اس کے ارمان ادھورے رہ جائیں تو  جھلملاتا نہیں ہے اور نہ ہی افسردہ ہوتا ہے؛ کیونکہ خیر اسی چیز میں جو اللہ تعالی نے اس کے لیے اختیار فرمائی ہے، چنانچہ بندہ ہر حالت میں اپنے پروردگار کا شکر ہی بجا لاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ} اور یہ عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناگوار سمجھو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی چیز کو تم پسند کرو اور وہ تمہارے حق میں بری ہو۔ اور اللہ ہی خوب جانتا ہے، تم نہیں جانتے [البقرة: 216]

گھٹیا قسم کی تمنائیں ابلیس کی جانب سے ہوتی ہیں، شیطان نے اس بات کا تہیہ کیا ہوا ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کو جھوٹی امیدوں کے سمندر میں فوری لذت اور وہمی خوشحالی  کے لیے ڈبو دے گا ، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِينًا (119) يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا} اور جس شخص نے اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا سرپرست بنا لیا اس نے صریح نقصان اٹھایا [119] شیطان ان سے وعدہ کرتا اور امیدیں دلاتا ہے۔ اور جو وعدے بھی شیطان انہیں دیتا ہے وہ فریب کے سوا کچھ نہیں ہوتے [النساء: 119، 120]

اور اگر انسان کے ارمان دنیاوی امور تک ہی رہیں آخرت کے لیے ان میں کوئی جگہ نہ ہو تو وہ راہِ راست سے دور  اور گمراہ ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا (18) وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا} جو شخص دنیا چاہتا ہے تو ہم جس شخص کو اور جتنا چاہیں  دنیا میں ہی دے دیتے ہیں پھر ہم نے جہنم اس کے مقدر کر دی ہے جس میں وہ بدحال اور دھتکارا ہوا بن کر داخل ہو گا [19] اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرے اور اس کے لئے اپنی مقدور بھر کوشش بھی کرے اور مومن  بھی ہو تو ایسے لوگوں کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔ [الإسراء: 18، 19]

اور اگر کسی کے ارمان  بیداری اور نیند ہر حالت میں عملی اقدام سے خالی رہتے ہیں ، ہر وقت اس پر سستی اور کاہلی کا غلبہ رہتا ہے تو وہ سراب کے سوا کچھ نہیں پائے گا، انس بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (عقل مند وہی ہے جو اپنا  محاسبہ خود کرے اور موت کے بعد کیلیے تیاری کرے، اور عاجز وہ ہے جو ہوس پرستی میں ڈوبا رہے اور اللہ تعالی سے امیدیں لگائے)

اپنے ارمانوں کو پورا کرنے کے لیے جو شخص  جادو گروں اور شعبدہ بازوں سے  تعاون لے تو وہ اپنے آپ پر بہت زیادہ ظلم ڈھاتا ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص کسی کاہن یا جادو گر کے پاس آئے اور اس کی بات کی تصدیق کر دے تو وہ محمد  -ﷺ- پر نازل شدہ شریعت سے کفر کرتا ہے) اس روایت کو طبرانی نے نقل کیا ہے اور ابن حجر نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔

قبر میں جب برزخی زندگی شروع ہو گی تو اس وقت سب سے زیادہ حرج والے ارمان دل میں آئیں گے؛ مومن کا اپنی قبر میں ارمان ہو گا کہ جلدی سے قیامت قائم ہو جائے ؛ کیونکہ اسے نعمتیں اور مسرتیں نظر آ رہی ہیں، جبکہ کافر کا قبر میں ارمان یہ ہو گا کہ قیامت قائم نہ ہو ؛ کیونکہ وہ درد ناک عذاب کو دیکھ رہا ہو گا ۔

میت دوبارہ زندگی میں جانے کی تمنا کرے گی؛ کیونکہ اسے چھوٹ جانے والی عبادات کا ادراک ہو گا، میت تمنا کرے گی کہ اسے نماز پڑھنے کا موقع دے دیا جائے چاہے دو رکعت ہی کیوں نہ ہوں، ایک بار آپ ﷺ ایک قبر کے پاس سے گزرے اور فرمایا: (یہ کس کی قبر ہے؟) تو صحابہ کرام نے عرض کیا: " فلاں کی قبر ہے" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اس کے ہاں دو رکعت  تمہاری بقیہ دنیا سے زیادہ محبوب ہیں)

میت دنیا میں واپس آنے کی تمنا کرے گی تا کہ صدقہ اور اللہ کا ذکر کر لے چاہے ایک بار سبحان اللہ یا الا الہ الا اللہ کہنے کا موقع ہی کیوں نہ ملے، اللہ تعالی نے ان کے بارے میں فرمایا: {وَأَنْفِقُوا مِنْ مَا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُنْ مِنَ الصَّالِحِينَ} اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) اس سے پہلے خرچ کرو   کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے تو کہنے لگے اے میرے پروردگار مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا ؟ کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں ہو جاؤں۔ [المنافقون: 10]

درد ناک ترین تمنا جس سے بچنے کا کوئی ذریعہ نہیں وہ  روزِ قیامت عذاب جھیلنے والوں کی ندائے حسرت کی صورت میں ہو گی؛ چنانچہ کافر اور نافرمان شخص جس وقت اپنا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں پکڑے گا اور اسے اپنا ٹھکانا نظر آئے گا تو وہ مٹی ہو جانے کی تمنا کرے گا {ذَلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ مَآبًا (39) إِنَّا أَنْذَرْنَاكُمْ عَذَابًا قَرِيبًا يَوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَالَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا} یہ وہ دن ہے جو ایک حقیقت ہے۔ اب جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف واپس جانے کی راہ اختیار  کرے[39] ہم نے تمہیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا اور (چوکنا کر دیا) ہے جس دن انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی کو دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کہ کاش ! میں مٹی ہو جاتا۔  [النبأ: 39، 40]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن کریم کو بابرکت بنائے، اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو اس کی حکمت بھرئی نصیحتوں سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے  اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی  بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اسی نے ہمیں خیر و برکتیں عطا کی ہیں،  اور  میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا ہے  اس کا کوئی شریک نہیں، وہی ساری مخلوقات کا پروردگار ہے،  اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد  اللہ کے بندے  اور رسول ہیں ، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ، اور تمام صحابہ کرام  پر ہر وقت رحمتیں نازل فرمائے۔

حمد  و صلاۃ کے بعد:  میں تمام سامعین اور اپنے آپ کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں۔

امنگوں کے اس سفر میں اعلی ترین صورت حال اس وقت پیدا ہو گی جب اہل جنت اپنے ارمانوں کے مطابق جنت کی نعمتیں پا لیں گے، پروردگار بھی ان پر فیاضی فرمائے گا اور انہیں اپنے کرم سے عطا فرمائے گا (جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا جب جنت میں جائے گا  تو جنت اس کے لیے وسیع اور خوبصورت بن چکی ہو گی، تو پروردگار فرمائے گا: تم اپنی خواہشیں بتلاؤ، تو بندہ اپنی خواہشات بیان کرنا شروع کرے گا تو اللہ تعالی فرمائے گا: تجھے تیری ساری خواہشات دیتا ہوں اور دنیا سے دس گنا زیادہ بھی)

اللہ کے بندو!

رسولِ ہُدیٰ پر درود پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں تمہیں اسی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: }إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا{ اللہ اور اس کے فرشتے  نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود  و  سلام بھیجو۔ [الأحزاب: 56]

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین  ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی  سے راضی ہو جا،  انکے ساتھ  ساتھ اہل بیت، اور تمام صحابہ کرام  سے راضی ہو جا،  اور اپنے رحم ، کرم، اور احسان کے صدقے  ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! کافروں کیساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! تیرے اور دین کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں یا اسلام اور مسلمانوں کے متعلق برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعاء!  یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں یا اسلام اور مسلمانوں کے متعلق یا ہمارے ملک کے بارے میں برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعاء! یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں یا اسلام اور مسلمانوں کے متعلق  یا ہمارے ملک کے بارے میں برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعاء!

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے اعمال کی توفیق مانگتے ہیں، نیز جہنم  اور اس کے قریب کرنے والے تمام اعمال سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے، یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند بھی فرماتا ہے، یا اللہ! ہمیں تو معاف فرما دے۔

یا اللہ! ہم تجھ  اپنے اگلے پچھلے، خفیہ اعلانیہ تمام گناہوں سمیت ان گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں جنہیں تو ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے، تو ہی پست و بالا کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔

یا اللہ! ہم تیری نعمتوں کے زوال ، تیری طرف سے ملنے والی عافیت کے خاتمے ، تیری اچانک پکڑ اور تیری ہمہ قسم کی ناراضی سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! ہمارے سارے معاملات سنوار دے، اور ہمیں ایک لمحے کے لیے بھی ہمارے اپنے یا اپنی کسی مخلوق کے سہارے پر مت چھوڑنا۔

یا اللہ! ہم تجھ سے حسن خاتمہ کا سوال کرتے ہیں، ماضی میں جو کچھ بھی ہوا سب کی معافی چاہتے ہیں۔

یا اللہ! ہم پر اپنی برکتوں، رحمتوں اور رزق کے دروازے کھول دے۔

یا اللہ! ہماری نیکیوں، زندگی، بیویوں، اولاد،  دولت، اور اہل خانہ  میں برکت فرما، یا اللہ! جہاں بھی ہوں ہمیں برکت والا بنا ۔

یا اللہ! پوری دنیا میں کمزور مسلمانوں کی مدد فرما، یا اللہ! ان کا حامی و ناصر اور مدد گار بن جا۔

یا اللہ! وہ بھوکے ہیں ان کے کھانے پینے کا بندوبست فرما، وہ ننگے پاؤں ہیں انہیں جوتے عطا فرما، ان کے تن برہنہ ہیں انہیں ڈھانپنے کیلیے کپڑے عطا فرما، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے ان کا بدلہ چکا دے، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے ان کا بدلہ چکا دے، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے ان کا بدلہ چکا دے، یا ارحم الراحمین! یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ! ہمیں، ہمارے والدین اور تمام مسلمانوں کو بخش دے ، یا ارحم الراحمین!

 یا اللہ!ہمارے حکمران کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما،  یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! انہیں بہترین حاشیہ نشین عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! تمام مسلمان حکمرانوں کو کتاب و سنت کے نفاذ کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین!

{رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف  نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے [الأعراف: 23] {رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} [الحشر: 10] اے ہمارے پروردگار! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے، اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے[الحشر: 10] {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [البقرة: 201] ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]

تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو   وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی تمہارے تمام اعمال سے بخوبی واقف ہے۔

Read 614 times

جدید خطبات

خطبات

  • آیت الکرسی کا مفہوم
    آیت الکرسی کا مفہوم
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 10 صفر 1440 کا خطبہ جمعہ " آیت الکرسی کا مفہوم اور افواہوں کے متعلق ہدایات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں عظیم ترین آیت ؛ آیت الکرسی ہے، اس آیت میں اللہ تعالی کے اسما و صفات کا جامعیت کے ساتھ ذکر ہے، سب سے پہلے اس آیت میں اللہ تعالی کی الوہیت کا اقرار، پھر ازل سے ابد تک قائم دائم رہنے کی صفت ذکر ہوئی، اللہ تعالی کو نیند آتی ہے اور نہ ہی اونگ، آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی بادشاہت میں شامل ہے، کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا، اور نبی ﷺ کی سفارش اہل توحید کے لیے سب سے پہلے میسر ہو گی، انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی علم غیب نہیں جانتا، اس کی کرسی آسمان و زمین سے بھی وسیع ہے، جس سے اللہ تعالی کی بے انتہا عظمت اور کبریائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اس لیے اللہ سے جب مانگیں تو وہ بھی بے حساب مانگیں، انہوں نے آخر میں یہ بھی…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 13-رجب- 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی کیلیے حسن اخلاق کا کوئی ثانی نہیں، اسی لیے کتاب و سنت میں اچھا اخلاق اپنانے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، نیز رسول اللہ ﷺ کی جن خوبیوں کا ذکر اللہ تعالی نے فرمایا ان میں حسن اخلاق سر فہرست ہے، آپ ﷺ نے خود فرمایا کہ مجھے اعلی اخلاقیات کی تکمیل کیلیے بھیجا گیا ہے، مومن شخص اعلی اخلاق کی بدولت نفل روزے اور راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے، اچھے اخلاق کا مالک شخص جنت میں رسول اللہ ﷺ کے قریب ترین ہو گا، حسن اخلاق کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ جنت جائیں گے، قیامت کے دن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہو گی، ایک جگہ آپ ﷺ یہاں تک فرما دیا کہ: نیکی حسن اخلاق کا نام ہے، پھر انہوں نے بتلایا کہ حسن خلق کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی شریعت کے مطابق ہو، دوسروں کی خدمت، جود و…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے "اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ" کے عنوان پر 07 ذوالقعدہ 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ خطرات اور مسائل سے بھری ہوئی دنیاوی زندگی میں انسان کو بلند ہمت بنانے کی اشد ضرورت ہے، اور اس کیلیے اللہ تعالی پر توکل بہترین طریقہ ہے، اگر انسان صحیح معنوں میں متوکل ہو تو وہ دنیا میں کسی کا محتاج نہیں رہتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ متوکل دنیا کی ہر چیز کو اللہ تعالی کے زیر تسلط اور ملکیت جانتا ہے لہذا جس چیز کی بھی اسے ضرورت محسوس ہو وہ چیز اللہ سے مانگنے پر اسے مل جاتی ہے، توکل ظاہری اسباب اپنانے سے متصادم نہیں ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہوتی ہے کہ انسان اسباب اپنانے کے بعد ان پر کلی اعتماد نہ کرے بلکہ اللہ تعالی کی ذات پر کامل بھروسا اور یقین رکھے، چنانچہ اسباب اپنانے کے بعد اس کے نتائج اللہ کے سپرد کر دینا توکل کا مطلب ہے ۔ سابقہ اقوام اور صحابہ کرام کے عمل سے توکل کا یہی مفہوم سامنے آتا ہے، دوسرے خطبے میں…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے07-جمادی ثانیہ-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" شرم و حیا شریعت کی روشنی میں" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ اسمائے حسنی کی معرفت عبادت الہی کی کنجی ہے انہی اسمائے حسنی میں سے ایک "اَلْحَيِيُّ" یعنی بہت زیادہ حیا کرنے والا بھی ہے، حیا اللہ تعالی کی صفت ہے، اس کا ذکر کتاب و سنت میں موجود ہے، حیا تمام تر اخلاقی اقدار کا سرچشمہ ہے، حیا انسان کو برائی سے روکتی ہے اور اچھے کاموں کی ترغیب دلاتی ہے، حیا ان اخلاقی اقدار میں شامل ہے جو اولین زمانۂ نبوت سے معتبر اور مطلوب ہیں، حیا سے اشرف المخلوقات سمیت فرشتے بھی موصوف ہیں، آدم، نوح، موسی سمیت تمام کے تمام انبیائے  علیہم السلام حیا سے آراستہ تھے، ہمارے نبی ﷺ سب سے زیادہ با حیا تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے، حیا خواتین کا فطری زیور اور زینت ہے، اسی لیے سیدہ عائشہ اور دیگر صحابیات حیا کی پیکر تھیں، بلکہ اہل جاہلیت بھی حیا پر قائم دائم تھے، نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق حیا سرتا پا خیر ہی خیر ہے، حیا…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عذاب قبر کے اسباب اور نجات کے ذرائع
    عذاب قبر کے اسباب اور نجات کے ذرائع
    پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ایمان اور صبر جیسی نعمت پر تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اس فضل پر اسی کا شکر بجا لاتے ہیں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، کائنات کے فیصلے اور تصرف اسی کے ہاتھ میں ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے مومنوں کو ان کی قبر کی حالت سے بہرہ ور فرمایا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور ہر جگہ پیش رو بننے والے صحابہ کرام پر رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہو، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] انسانی زندگی کے اس سفر میں متنوع اور مختلف مرحلے ہیں، انسان ایک عرصہ ماں کے پیٹ میں، پھر زمین کی پشت پر اور دوبارہ جی اٹھائے جانے تک زمین کے نیچے…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم