بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

جمعرات, 08 جون 2017 13:32

نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات

مقرر/مصنف  جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ ، ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 07-رمضان- 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ تھوڑے وقت میں زیادہ  نیکیاں سمیٹنا بہت اعلی ہدف  ہے اور ماہِ رمضان اس ہدف کی تکمیل کیلیے معاون ترین مہینہ ہے چنانچہ اس مہینے میں قیام اور صیام  کا اہتمام کر کے ہم اپنے سابقہ گناہ معاف کروا سکتے ہیں  اور دیگر نیکیاں بجا لا کر اپنے نامہ اعمال کو نیکیوں سے پر کر سکتے ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیکیاں کرنے کے بعد انہیں تحفظ دینا بھی انتہائی اہم کام ہے، بہت سے لوگ اس جانب توجہ نہیں دیتے اور اپنی محنت پر پانی پھیر دیتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اپنی محنت دوسروں کے کھاتے میں ڈالنے والے ہی مفلس ہوتے ہیں جو کہ قیامت کے دن حقوق العباد کی پامالی کے صلے میں اپنی نیکیاں دوسروں میں تقسیم کروا بیٹھیں گے، لہذا اگر کسی سے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو فوری معافی مانگ لیا کرے اسی میں نجات ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ روزے رکھتے ہوئے اصل ہدف یعنی حصول تقوی آنکھوں سے بالکل اوجھل نہیں ہونا چاہیے۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے اہلیان میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے متعلق اللہ سے ڈرنے کی تلقین  کی اور کہا کہ کسی بھی ایسی چیز کو نشر مت کریں جس کے کسی بھی اعتبار سے منفی اثرات مرتب ہوں، پھر آخر میں سب مسلمانوں کیلیے جامع دعائیں بھی مانگیں۔

پہلا خطبہ

تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں اسی کے نام اچھے اور صفات اعلی ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں  وہ یکتا ہے ، اس کا دنیا و آخرت میں کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد  اللہ کے چنیدہ بندے  اور برگزیدہ رسول  ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام نیکو کار اور پرہیز گار صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! تم تنہا ہو یا بزم میں تقوی اختیار کرو گے تو دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جاؤ گے۔

بہترین مقصد اور علی ترین ہدف یہ ہے کہ انسان نیکیوں کیلیے جد و جہد میں تاخیر مت کرے، نیکیوں کی بہاروں میں ڈھیروں نیکیاں کمائے: {وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ (10) أُولَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ} سبقت لے جانے والے ہی آگے بڑھنے والے ہیں [10] یہی لوگ مقرب بھی ہیں۔[الواقعہ: 10، 11]

ماہِ رمضان میں نیکیاں سمیٹنے  اور ہمہ قسم کی عبادت کے ذریعے قربِ الہی کی جستجو کا موقع ہوتا ہے، رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث میں ہے کہ: (جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے روزہ رکھے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں) اور اسی طرح یہ بھی حدیث ہے کہ: (جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے قیام کرے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں) ان دونوں حدیثوں  کے صحیح ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔

مسلم اقوام!

اس زندگی میں وہی شخص کامیاب ہے جو خود ممنوعہ امور دور رہے اور اپنی زندگی گناہوں سے میلی نہ کرے۔

دوسری جانب یہ انتہائی خسارے اور گھاٹے کی بات ہے کہ مسلمان پہلے نیکیوں کے حصول میں خوب تگ و دو کرے  لیکن جلد ہی اپنی محنت پر پانی بھی پھیر دے  اور کیا کرایا غارت کر دے!!

حقیقی مفلسی بھی یہی ہے کہ انسان اپنی نیکیاں حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی کے عوض دوسروں کو دے دے، اُس کی نیکیاں کسی بھی نوعیت کے ظلم کے عوض میں مظلوم کو دے دی جائیں، یا کسی بھی اذیت کے بدلے میں  اور زیادتی کے عوض  دوسروں میں بانٹ دی جائیں، حالانکہ رب العالمین نے ان تمام گناہوں کو حرام قرار دیا اور ہمارے نبی ﷺ نے ان سے خبردار فرمایا ہے۔

ایک بار آپ ﷺ نے صحابہ کرام سے بات چیت کرتے ہوئے پوچھا: (کیا جانتے ہو مفلس کون ہے؟) صحابہ نے عرض کیا: ہمارے ہاں وہ شخص مفلس ہے جس کے پاس دولت اور ضروریات زندگی نہ ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: (میری امت میں  وہ شخص مفلس ہے جو قیامت کے دن نمازیں، روزے اور زکاۃ لے کر آئے گا، اور [ساتھ میں]اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت لگائی ہو گی، کسی کا مال ہڑپ کیا ہو گا، کسی کا خون بہایا ہو گا، کسی کو مارا ہو گا، تو ان میں سے ہر ایک کو اس کی نیکیاں دی دے جائیں گی، پھر جب اس کی نیکیاں بھی ختم ہو جائیں گی اور ابھی حساب باقی ہو گا  تو دوسروں کے گناہ اس پر ڈال دئیے جائیں گے اور پھر اِسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا) مسلم

امام نووی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: " حقیقی مفلس وہی ہے جو مکمل طور پر تباہ و برباد ہو گا جس کی تباہی یقینی ہو گی، چنانچہ اس کی نیکیاں لے کر مدعیوں میں تقسیم کر دی جائیں گی اور جب اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو مدعیوں کے گناہوں کو لیکر اس پر ڈال دیا جائے گا اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا، اس طرح حقیقی مفلس کی تباہی، بربادی، اور ہلاکت ہو گی۔"

اس لیے مسلمان! اللہ سے ڈر، اپنے آپ کو تمام گناہوں سے بچاؤ، تباہی اور بربادی کے ذرائع سے اپنے آپ کو محفوظ کر لو۔

اسلامی بھائیو!

اسی میں نجات ہے کہ اپنے آپ کو برائی سے محفوظ رکھیں، در حقیقت اطاعت گزاری ہی سعادت مندی ہے، اسی میں کامیابی ہے کہ اپنی نیکیوں کے مثبت نتائج  کو ضائع نہ ہونے دے؛ آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جس شخص نے کسی کی دولت یا عزت پر ظلم کیا ہو تو وہ مظلوم شخص سے آج ہی معافی مانگ لے، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جب درہم و دینار کچھ نہیں ہوں گے، [اور اس کے ظلم کے مطابق ]اس کی نیکیاں لے لی جائیں گی ، اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو مظلوم کی برائیاں اس پر ڈال دی  جائیں گی) بخاری، جبکہ دیگر روایات میں یہ بھی الفاظ شامل ہیں کہ: (پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا)

ابن ہبیرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "قصاص ساری نیکیوں کو ہڑپ کر سکتا ہے، اس سے کوئی نیکی باقی نہیں بچ سکتی"

اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں شیطانی مکاری کے نتائج میں ملنے والی تباہی اور بربادی سے متنبہ فرما دیا تھا؛ لہذا اللہ کے بندے! اس فانی دنیا میں حقوق العباد کی تلافی سے ہر ممکن طور پر بچو، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (قیامت کے دن حقداروں کو ان کے حقوق ضرور دئیے جائیں گے، یہاں تک کہ بے سینگ بکری کو بھی سینگ والی بکری سے قصاص لیکر دیا جائے گا) مسلم

مطلب یہ ہے کہ: اللہ تعالی مظلوم کا حق ظالم سے ضرور لیکر دے گا، اور اس کی وضاحت سابقہ احادیث میں گزر چکی ہے۔

مسلمانو!

روزے دار جب ایک ایسی بہار میں ہو جس میں مومنین بڑھ چڑھ کر نیکیاں کرتے ہیں، تو ہر روزے دار کی ذمہ داری ہے کہ روزوں کی حقیقت یعنی خلوت و جلوت ہر حالت میں تقوی اپنانے کی تربیت حاصل کرے، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کر دئیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تا کہ تم متقی بن جاؤ۔[البقرة: 183]

نبی ﷺ کی ابدی اور دائمی تعلیمات  ہمارے لیے بہترین واعظ  ہیں آپ کی تعلیمات مسلمان کو کسی بھی ایسی برائی سے روکنے کیلیے کافی ہیں جن کا نتیجہ تباہی اور نقصان ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو کوئی بھی بیہودگی نہ کرے، نہ چیخے چلائے اور نہ ہی گالم گلوچ کرے، اگر اسے کوئی برا بھلا کہے یا گالی دے تو کہہ دے: میں روزے کی حالت میں  ہوں) بخاری

اس لیے مسلمان! اپنی نیکیوں کا تحفظ یقینی بنائیں، اپنی عبادات  کے ارد گرد حفاظتی باڑ کی دیکھ بھال کرتے رہیں، اس کیلیے سر توڑ کوشش کریں؛ وگرنہ آپ کی نیکیاں کسی اور کو دے دی جائیں گی اور یہ بہت بڑا گھاٹے کا سودا ہے ۔

آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص خلاف شریعت بات یا اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے ، تو اللہ تعالی کو اس کے بھوکے اور پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے) بخاری

اس لیے مسلمانو!  نبی ﷺ کی جانب سے ملنے والی اعلی ترین تعلیمات پر مضبوطی سے کار بند ہو جاؤ، تو تم ہی کامیاب، کامران، اور خوش و خرم ہو جاؤ گے۔

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن حکیم کو بابرکت بنائے، اور احادیث نبوی  میں موجود  اس کی تفسیر سے ہمیں مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اور اپنے ، آپ سب اور تمام مسلمانوں کیلیے اللہ تعالی سے گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں آپ  بھی اسی سے بخشش مانگو بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ

ڈھیروں ، پاکیزہ اور برکتوں والی تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں  کہ اللہ سوا  کوئی معبودِ بر حق نہیں ، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اُس کے بندے اور رسول ہیں، یا اللہ! اپنے رسول محمد -ﷺ-پر رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

منبرِ رسول اللہ ﷺ  سے ہم تمام میڈیا ہاؤسز اور ذرائع ابلاغ کے لکھاریوں کو یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈریں، دین اسلام کے متعلق اللہ تعالی سے ڈریں، مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کے متعلق اللہ کا خوف کھائیں کہ وہ اس فانی دینا کیلیے کسی بھی ایسی چیز کے نشر کرنے سے گریز کریں جو دین سے متصادم  یا دین کے روشن چہرے کو مسخ کرنے کا سبب بننے ، کوئی ایسی بات نشر مت کریں جو مسلمہ شرعی اقدار میں شک کا باعث بنے، یا رذیل اور گھٹیا حرکتوں میں ملوث ہونے کا ذریعہ بنے؛ کیونکہ یہ سنگین اور انتہائی قبیح حرکت ہو گی۔

شرعی مسلمہ اصولوں میں یہ بھی شامل ہے  کہ جو شخص لوگوں کے برائی میں ملوث ہونے کا باعث بنے گا تو اس پر گناہ میں ملوث ہونے والوں کے برابر گناہ ہو گا، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهِمْ} اور وہ لازمی طور پر اپنا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھ کے ساتھ مزید بوجھ بھی اٹھائیں گے۔[العنكبوت: 13]

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا فرمان بھی ہے کہ: (جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ اپنائے تو اس پر اس برے طریقے کا بوجھ بھی ہو گا اور اس پر عمل کرنے والوں کا بوجھ بھی ہو گا، نیز ان میں سے کسی کا بوجھ کم بھی نہیں کیا جائے گا)

اللہ تعالی امام شاطبی پر رحمتیں برسائے کہ انہوں نے بڑی بہترین گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : "خوش نصیب ہے وہ شخص جس کے مرنے کے ساتھ ہی اس کے گناہ بھی مر جاتے ہیں، جبکہ اس شخص کیلیے تباہی اور بربادی ہے جو خود تو مر جائے لیکن اس کے گناہ سینکڑوں برس زندہ رہیں، ان گناہوں کی وجہ سے اسے قبر میں عذاب ملتا رہے گا اور ان کے ختم ہونے تک پوچھ گچھ جاری رہے گی!!"

تو ایسی باتیں میڈیا پر نشر کرنے کا کیا فائدہ !؟ کہ کچھ مسلمان میڈیا پر اللہ  تعالی، قرآن کریم اور سنت رسول  سے متصادم چیزوں کو پھیلانے میں مگن ہیں، اور لوگوں کو برائیوں کی دلدل میں پھنسا رہے ہیں،  اللہ تعالی ہم سب کو اپنی پناہ میں رکھے۔ [آمین]

اللہ تعالی نے ہمیں جلیل القدر عمل یعنی نبی کریم ﷺ پر درود و سلام کا حکم دیا ہے ، یا اللہ! ہمارے حبیب اور ہمارے نبی محمد -ﷺ- پر رحمتیں، برکتیں، اور سلامتی نازل فرما۔

یا اللہ! خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان اور علی  سمیت تمام  آل اور صحابہ کرام سے راضی ہو جا، یا اللہ! تابعین کرام اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے بھی راضی ہو جا۔

مسلمانو! ہمیں اس گھڑی میں اللہ تعالی سے انتہائی عاجزی، انکساری اور انہماک کے ساتھ دعا کرنی چاہیے ، دعا کرتے ہوئے ہماری زبانیں صحیح انداز میں ہماری دلی آہ و زاری کی ترجمانی کریں۔

یا اللہ! ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں یا اللہ! تو یکتا ہے، تو بے نیاز ہے،  تو تنہا ہے،  یا اللہ! یا حیی! یا قیوم! ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی مشکل کشائی فرما دے، یا اللہ! مسلمانوں کی مشکل کشائی فرما دے، یا اللہ! مسلمانوں سے مصیبتیں ٹال دے۔

یا اللہ! شامی مسلمانوں کی حالتِ زار پر اپنا رحم و کرم فرما، یا اللہ! ان کے تنگ حالات ختم فرما دے، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! انہیں امن و امان عطا فرما، یا اللہ! انہیں متحد فرما، یا اللہ! انہیں صحیح سلامت اپنے اپنے علاقوں میں واپس پہنچا، یا اللہ! یمن ، لیبیا، اراکان، فلسطین اور پوری دنیا میں مسلمانوں پر اپنا کرم فرما۔یا الٰہ الاولین و الآخرین!

یا اللہ! مسلمانوں کی پریشانیوں کا خاتمہ فرما، یا اللہ! ان پر اپنی رحمت نازل فرما کر سب لوگوں سے انہیں بے نیاز کر دے۔

یا اللہ! یا حیی! یا قیوم! ہم تجھ سے تمام مسلمانوں کیلیے امن مانگتے ہیں، یا اللہ! تمام مسلمانوں کو دہشت سے امن عطا فرما۔

یا اللہ! جو بھی ہمارے خلاف مکاری کرے یا اللہ! اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! تباہی اس کا مقدر بنا دے، یا اللہ! اس پر اپنی ناراضی اور عذاب نازل فرما، یا اللہ! اس پر اپنی ناراضی اور عذاب نازل فرما، یا الٰہ الاولین و الآخرین! یا قوی! یا متین! یا عزیز! یا قوی!

یا اللہ! جو بھی مسلمانوں پر مسلط ہو چکا ہے یا اللہ! اس پر اپنا ایسا لشکر مسلط فرما دے جسے ظالموں سے کوئی نہ روک سکے۔ یا اللہ! ان کے راز فاش فرما، یا اللہ! ان کے راز فاش فرما، یا اللہ! ان کے راز فاش فرما۔ یا اللہ! ان کے قدموں تلے سے زمین کھسکا دے، یا اللہ! ان پر اپنا قہر نازل فرما، یا رب الارض و السماوات!

یا اللہ! مسلمانوں کی حکمرانی اچھے لوگوں کو عطا فرما، یا اللہ! مسلمانوں کی حکمرانی اچھے لوگوں کو عطا فرما، یا اللہ! مسلمانوں کی حکمرانی اچھے لوگوں کو عطا فرما۔

یا اللہ! اپنے بندے خادم حرمین کو تیرے پسندیدہ اور رضا کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ!  انہیں  تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ان کے ذریعے مسلمانوں کو نیکی اور تقوی پر متحد فرما دے، یا اللہ! ان کے ذریعے مسلمانوں کو نیکی اور تقوی پر متحد فرما دے، یا اللہ! اور ان کے نائبوں کو بھی تیرے پسندیدہ اور رضا کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما ، یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو اسلام اور مسلمانوں کی خدمت  کیلیے اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرما ، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! مومن مرد و زن کی بخشش فرما، یا اللہ! مسلمان مرد و زن کی بخشش فرما ، یا اللہ! زندہ یا فوت شدگان تمام کی بخشش فرما۔

یا اللہ! ہمارے ملکوں کو امن و امان کا گہوارہ بنا، یا اللہ! ہمارے ملکوں کو امن و امان کا گہوارہ بنا، یا اللہ! ہر جگہ پر ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ہر جگہ پر ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! یا ذوالجلال والاکرام! یا غنی! یا حمید! یا غنی! یا حمید! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمارے دلوں پر ایمانی بارش فرما، اور ہماری دھرتی پر پانی کی بارش فرما، یا حیی! یا قیوم! یا ذوالجلال والاکرام!

اللہ کے بندو! اللہ کا ڈھیروں ذکر کرو، اور صبح و شام بھی اسی کی تسبیح بیان کرو ۔

Read 333 times

جدید خطبات

خطبات

  • سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور ہمارے حالات
    سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور ہمارے حالات
    پہلا خطبہ یقیناً تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد   طلب کرتے ہیں ، اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نیز نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، اور اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں سیدنا محمد  -ﷺ-اللہ بندے اور اس کے رسول  ہیں ، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا، امانت ادا کر دی  اور امت کی مکمل خیر خواہی فرمائی، نیز  راہِ حق میں کما حقہ جہاد کیا یہاں تک کہ آپ اس جہاں سے رخصت ہوگئے، اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر روزِ قیامت تک ڈھیروں سلامتی اور رحمتیں نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: سب سے سچا کلام قرآن مجید ہے، سب سے افضل ترین طرزِ زندگی جناب محمد ﷺ کا ہے، بد ترین امور  بدعات ہیں اور ہر بدعت…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • کرپشن اور بد عنوانی کی مذمت اور دیارِ غیر میں مسلمان کی ذمہ داری
    کرپشن اور بد عنوانی کی مذمت اور دیارِ غیر میں مسلمان کی ذمہ داری
    ﷽   پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے  ہیں، اسی نے اپنے بندوں  میں روزی، رزق اور اپنا فیض تقسیم فرمایا، اللہ تعالی نے چوری حرام قرار دی اور اس پر چوروں اور ڈاکوؤں کے ہاتھ کاٹنے کی سزا مقرر فرمائی ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک  نہیں  ، اسی کا فرمان ہے: {مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ} تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ ہمیشہ رہے گا۔ [النحل: 96]، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں  کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، آپ کو مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث فرمایا گیا۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام  پر  اس وقت تک رحمتیں نازل فرمائے جب تک آفتاب  طلوع ہوتا رہے اور سورج کی روشنی چمکتی رہے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو! اللہ سے ڈرو، کہ تقوی الہی افضل ترین نیکی ہے، اور اس کی اطاعت سے ہی قدرو منزلت بڑھتی ہے {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ سے ایسے…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات
    نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر  جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے17-ذوالحجہ-1438  کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں"نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس  میں انہوں نے سعادت حج پانے والوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا کہ کائنات کی تخلیق کا مقصد اللہ کی عبادت ہے، اور عبادت کی قبولیت کیلیے جد و جہد از بس ضروری ہے، چنانچہ عدم ایمان کے باعث کافر اور منافق کا کوئی بھی عمل  آخرت میں فائدہ نہیں دے گا البتہ انہیں دنیا میں پورا بدلہ دے دیا جائے گا،  عمل کی قبولیت کیلیے اخلاص اور اتباعِ سنت  لازمی امور ہیں،  اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ نیکی کا مقصود  اور مطلوب صرف رضائے الہی ہو ، جس کیلیے نیت  بنیادی کردار کی حامل ہے؛ کیونکہ نیت کی وجہ سے چھوٹا عمل بھی بڑا بن جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ: تقوی، تسلسل کے ساتھ نیکیاں، نیکی کیلیے دلی رغبت، نیکی پر ثابت قدمی اور انسانی اعضا کا صحیح سلامت رہنا نیکی قبول ہونے کی علامات میں سے ہیں،  اگر انسان کو عبدیت کی حقیقی معرفت مل جائے تو اسے اپنی ساری زندگی کی عبادات بھی ہیچ نظر آئیں اسی لیے تو…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عرشِ الہی کا تعارف اور مسجد اقصی کی حالت
    عرشِ الہی کا تعارف اور مسجد اقصی کی حالت
    پہلا خطبہ: یقیناً تمام  تعریفیں اللہ  کیلیے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی اور  بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد   اللہ کے بندے اور اس کے رسول  ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود  و سلامتی نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: اللہ کے بندو! اللہ سے کما حقہ ڈور، خلوت اور جلوت میں اسی کو اپنا نگہبان  اور نگران سمجھو۔ مسلمانو! اللہ تعالی صفاتِ جلال اور جمال سے موصوف ہے۔ اس کی ذات، اسما، صفات اور افعال سب ہی کامل ترین ہیں۔ اس کا کوئی ہم نام یا ہم سر نہیں ، اس کی کوئی شبیہ یا اس کا کوئی ثانی نہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {لَيْسَ كَمِثْلِهِ…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟
    ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟
    ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟۔ پہلا خطبہ تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جس نے سعادت مندی اور مسرتیں اپنے اطاعت گزار بندوں کیلیے لکھ دی ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں  وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں وہی پہلے اور بعد میں آنے والے سب لوگوں کا معبود ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد  اللہ کے بندے  اور تمام انبیاء میں افضل ترین ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، اسی میں سعادت مندی اور خوشحالی پنہاں ہے۔ اللہ کے بندو! ذہنی سکون، دلی اطمینان اور سعادت  پوری انسانیت کے مقاصد میں شامل ہے، یہ ساری بشریت کا  ہدف ہے، سب لوگ انہیں حاصل کرنے کیلیے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خوب کوشش  اور تگ و دو کرتے ہیں، لیکن انسان جتنی بھی کوشش کر لے اس کیلیے دنیا کی جتنی مرضی رنگینیاں جمع کر لے، خواہشات نفس  پوری کرنے کیلیے جتنی بھی دوڑ دھوپ کر لے، انہیں یہ سب…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم