بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

ہفتہ, 29 اپریل 2017 07:25

ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں

مقرر/مصنف  ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان ، ترجمہ شفقت الرحمن مغل

پہلا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہیں وہی دنوں اور مہینوں  کا دائرہ چلانے والا ہے، وہ سالوں اور برسوں کو قصہ پارینہ بنانے والا ہے، وہ تمام مخلوقات کو جمع فرمائے گا، جب تک دن، مہینے اور سال یکے بعد دیگرے آتے رہیں گے نیز باد صبا اور پچھمی ہوائیں چلتی رہیں  گی میں تمام معاملات پر اسی کا حمد خواں رہوں گا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے ہمارے لیے دین مکمل کیا اور نعمتیں پوری فرمائیں اور ہمارے لیے دین اسلام پسند کیا، مبنی بر یقین یہ سچی گواہی   دلوں کو ٹھنڈ پہنچاتی ہے اور قبر میں بھی فائدہ دے گی، نیز جس دن صور پھونکا جائے گا تب ہمیں با وقار بنا دے گی، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا اور امانت ادا کر دی ،امت کی خیر خواہی فرمائی، اور موت تک راہِ الہی میں جہاد کرنے کا حق ادا کر دیا ۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں پر قیامت تک درود و سلام نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

کتاب اللہ بہترین کلام   اور سب سے بہترین طریقہ  جناب محمد ﷺ کا ہے، بدعات دین میں بدترین امور ہیں، ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی آگ میں لے جانے والی ہے۔

اللہ کے بندو!

تقوی الہی اپناؤ اور اسی کی اطاعت کرو، یہی اللہ تعالی کی پہلے اور بعد میں آنے والوں کو نصیحت ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ} اور البتہ تحقیق ہم نے تم سے پہلے کتاب دیئے جانے والے لوگوں کو اور تمہیں بھی یہی نصیحت کی ہے کہ تقوی الہی اختیار کرو۔[النساء: 131]

مسلم اقوام!

انسان کو عبث اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا گیا اور نہ ہی اسے جزا اور سزا کے بغیر چھوڑا جائے گا، اللہ تعالی نے انسان کو مکلف بنایا ہے اور اس کا جلد ہی حساب لیا جائے گا، چنانچہ ذرے کے برابر بھی عمل کرنے والا شخص اپنا عمل پا لے گا اور ذرہ برابر بدی کرنے والا شخص  بھی بدلہ پا لے گا۔

اللہ تعالی نے ہمیں اسلام کی دولت سے نوازا، ہمیں افضل ترین رسول ﷺ کا امتی بنایا اور ہمیں اعلی ترین کتاب عطا فرمائی، ہمیں بہترین امت قرار دیا، ان تمام نعمتوں پر اللہ تعالی کا ہی شکر ہے، یہ اسی کا ہم پر احسان ہے۔

مسلمانو!

اللہ تعالی نے کچھ اوقات ،دنوں  اور مہینوں کو دیگر  پر فضیلت دی ہے۔ ان اوقات، دنوں اور مہینوں کا خاص مقام اور احترام اس فضیلت کا تقاضا ہے، بسا اوقات ان کیلیے خصوصی عبادات بھی مقرر کی گئی ہیں، نیز ان کا احترام اور خصوصی عبادات شریعت کی پابند ہیں، ان میں من گھڑت چیزوں کی کوئی گنجائش نہیں۔

شریعت میں حرمت والے مہینوں  کی دیگر مہینوں پر فضیلت اور فوقیت  ثابت شدہ ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ} مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ ہے، اسی دن سے جب سے آسمان و زمین کو پیدا کیا ۔ ان میں سے چار حرمت و ادب کے ہیں ۔ یہی درست دین ہے  ۔تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو [التوبہ: 36]

ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں  فرمایا تھا: (بیشک زمانہ اپنی اسی حالت پر واپس آ گیا ہے جیسے اللہ تعالی نے آسمان و زمین کی تخلیق کے وقت اسے بنایا تھا، ایک سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے اس میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں، ذو القعدہ، ذو الحجہ اور محرم تین مہینے مسلسل ہیں جبکہ چوتھا مہینہ مضر قبیلے کا  ماہِ رجب ہے جو کہ جمادی اور شعبان کے درمیان آتا ہے) متفق علیہ

ان چار مہینوں کو حرمت والا اس لیے قرار دیا گیا کہ ان میں حج اور عمرہ کی ادائیگی آسان ہو جائے۔

اللہ کے بندو!

ماہِ رجب  ہم پر سایہ فگن ہے، یہ حرمت والا مہینہ ہے، ہم اس کی حرمت کا خیال کر کے اللہ تعالی کی بندگی کرتے ہیں، اس ماہ کی فضیلت اور شرف سے واقف بھی اللہ کی بندگی میں شامل ہے، ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں اس ماہ میں اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اس لیے  جن چیزوں کو اللہ تعالی نے عظمت دی ہے ان کی بھر پور تعظیم کرو {وَمَنْ يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ عِنْدَ رَبِّهِ} اور جو شخص اللہ کی احترام والی  چیزوں کی تعظیم کرے تو یہ بات اس کے پروردگار کے ہاں اس کے لئے بہتر ہے [الحج: 30]

اللہ کے بندو!

دین کی بنیاد لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ  پر قائم ہے، کلمے کے دونوں حصوں کا تقاضا اخلاص اور اتباع سنت ہے، چنانچہ اللہ تعالی کوئی بھی عمل جو اخلاص یا نبی ﷺ کی اتباع سے عاری ہو قبول نہیں فرماتا: {فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا} جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھتا ہے اسے چاہئے کہ وہ نیک عمل کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرے۔ [الكهف: 110]

اب چونکہ عبادات  توقیفی ہوتی ہیں  ان میں اپنی من مانی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ، اس لیے طریقہ عبادت کیلیے سلف کی اتباع  میں ہی خیر ہے اور بعد میں آنے والے لوگوں کے نت نئے  طریقے اپنانا سراپا شر ہے۔

لہذا جس عبادت کو اللہ تعالی نے یا اللہ کے رسول ﷺ نے کسی وقت یا جگہ کے ساتھ خاص نہیں کیا اس عبادت کو کسی وقت یا جگہ کے ساتھ مختص کرنے  کی کسی کو اجازت نہیں ؛ کیونکہ ہمیں شریعتِ الہی کے مطابق عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اپنی خواہشات اور جذبات کے مطابق عبادت کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، اس لیے ہمارے لیے سمع و طاعت واجب ہے اور ہمارے لیے احکاماتِ الہیہ پر عمل ضروری ہے، {إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ} مومنوں کی تو بات ہی یہ ہوتی ہے کہ جب انھیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو وہ کہتے ہیں کہ "ہم نے سن لیا اور اطاعت  کی"  ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ [النور: 51]

مسلم اقوام!

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ماہِ رجب بابرکت  مہینہ ہے؛ کیونکہ یہ حرمت والے مہینوں میں سے ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ  ہم اس مہینے میں ایسی عبادات کریں جن کی ہمیں شریعت نے اجازت نہیں دی۔

اس لیے اس ماہ میں خصوصی نوعیت کی نماز پڑھنا، مخصوص رات کو قیام کرنا اور اس رات میں جشن منانا جائز نہیں ہے، ماہِ رجب کا مقام بھی دیگر حرمت والے مہینوں کی طرح ہے، اور اس کے بارے میں آنے والی مخصوص روایات من گھڑت یا ضعیف ہیں ان  سے شرعی حکم کشید نہیں ہو سکتا، لوگ  اس مہینے میں  جو مخصوص اعمال کرتے ہیں یہ دورِ جاہلیت کے باقی ماندہ اثرات ہیں۔

اس لیے سنت  طریقے پر کاربند رہیں، سنتوں کے شیدائی بنیں اور بدعات سے دور رہیں، ایک دوسرے  کو نصیحت کریں، باہمی طور پر حق پر چلنے اور صبر کرنے کی تلقین کرتے رہیں۔

اللہ کی جانب دعوت دینے والے کی بات سنیں وہ اہل کتاب کو دعوت دیتے ہوئے کہتا ہے: {قُلْ يَاأَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوا أَهْوَاءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا مِنْ قَبْلُ وَأَضَلُّوا كَثِيرًا وَضَلُّوا عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ}آپ کہہ دیں: اے اہل کتاب ! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو اور ان لوگوں کے پیچھے نہ چلو جو پہلے ہی گمراہ ہیں اور بہت لوگوں کو گمراہ کر چکے ہیں  اور سیدھی راہ سے بھٹک چکے ہیں [المائدة: 77]

اس لیے اتباعِ حق سب سے ضروری ا مر ہے،  باطل چیز ہر حالت میں باطل ہی رہتی ہے اس میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا۔

ہمیں رسول اللہ ﷺ واضح  دین پر چھوڑ کر گئے ہیں  اس میں رات کے اندھیرے بھی دن کی طرح روشن ہیں۔

نیز پیغام رسالت کی تکمیل اس آیت سے مکمل ہو چکی ہے: {الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا} آج کافر تمہارے دین سے پوری طرح مایوس  ہو گئے ہیں۔ لہذا ان سے مت ڈرو، صرف مجھ سے  ہی ڈرو۔ آج کے دن میں نے تمہارا دین تمہارے لیے مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت  پوری کر دی اور تمہارے لیے بحیثیت دین، اسلام  کو پسند کیا ہے۔ [المائدة: 3]

اس لیے جو شخص نجات  اور اجر و ثواب چاہتا ہے  تو وہ اللہ تعالی کی شریعت پر اکتفا کرے۔

نت نئے افکار اور بدعات سے  فتنے ہی جنم لیتے ہیں، ان سے آزمائشیں اور تنگیاں پیدا ہوتی ہیں، گناہ اور بدی جنم لیتی ہے، بدعات سے سنتوں کی راہ میں رکاوٹیں بنتی ہیں، خود ساختہ افکار سے اتحاد امت سبوتاژ ہوتا ہے ۔دین، عقل اور فطرت میں خرابیاں آتی ہیں، کوئی بھی قوم جس قدر بدعات ایجاد کرے تو اتنی ہی  سنتیں  ان سے چوک جاتی ہیں۔

عرباض  بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: " ہمیں رسول اللہ ﷺ نے انتہائی بلیغ وعظ فرمایا : اس سے دل پگھل گئے، اور آنکھیں اشکبار ہو گئیں، تو ہم نے کہا: "اللہ کے رسول! یہ تو کسی الوداع کہنے والا کا وعظ تھا، ہمیں کوئی وصیت کر دیں" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (میں تمہیں تقوی الہی کی وصیت کرتا ہوں ، نیز سمع و طاعت  کی وصیت کرتا ہوں چاہے  کوئی غلام  تمہارا امیر بن جائے، یقیناً میرے بعد زندہ رہنے والا بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا، اس لیے تم میری  اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت  اپنانا، اسے اپنی داڑھوں  سے  پکڑ لینا، نیز اپنے آپ کو نت نئے [دینی]امور سے بچانا ؛ کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہوتی ہے) "

اللہ تعالی میرے اور آپ کیلیے قرآن مجید کو بابرکت بنائے، ہمیں اپنے نبی کریم کی سنت اور آپ کی رہنمائی کے مطابق چلنے کی توفیق دے، میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور عظمت و جلال والے اللہ  سے اپنے اور سب مسلمانوں کیلیے تمام گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہوں، اس لیے آپ بھی اسی سے بخشش طلب کرو، بیشک وہ بخشنے والا ہے اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں اس نے ہماری اسلام کی جانب رہنمائی فرمائی اگر وہ ہمیں  راہ نہ لگاتا تو ہم کبھی بھی ہدایت نہیں پا سکتے تھے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے ہمیں ہمہ قسم کی خیر کے متعلق بتلایا اور ہر قسم کے شر سے خبردار کیا، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، آپ کے صحابہ کرام، اور قیامت کے دن تک آپ کی سنت پر کار بند  لوگوں پر رحمتیں نازل فرمائے۔

اللہ کے بندو!

تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے، اس کیلیے نبی ﷺ کے طریقے اور احکام و نواہی   کی پاسداری کریں، آپ کے سلیقے کو اپنائیں، بدعات و گمراہی سے ہر ممکنہ حد تک بچیں۔

امام شاطبی  رحمہ اللہ کہتے ہیں: "بدعتی شخص شریعت   سے عناد رکھتا ہے اور اس کی مخالفت کرتا ہے؛ کیونکہ شریعت نے بندگی  کی ضروریات کیلیے خاص طریقے اور سلیقے مقرر کر دئے ہیں، نیز مخلوق کو ان پر چلنے کا پابند بنانے کیلیے امر، نہی، وعدوں اور وعیدوں سے کام لیا، مزید  ترغیب کیلیے بتلایا کہ شرعی طریقوں میں خیر ہے ان کی مخالفت  یا ان سے تجاوز کرنے میں نقصان ہی نقصان ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کو تو ہر چیز کا علم ہے لیکن ہمیں کسی چیز کا ذاتی علم  نہیں ہے، ان تمام امور کیلیے اللہ تعالی نے جہانوں پر رحمت کرتے ہوئے رسول ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ لیکن بدعتی شخص ان تمام تر چیزوں کو یکسر مسترد کر دیتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ شریعت کے بتلائے ہوئے طریقوں سے ہٹ کر کچھ طریقے اور بھی ہیں ، شریعت نے جو حد بندی کی ہے وہ درست نہیں! جن طریقوں کو شریعت نے محدود کیا ہے  وہ اصل میں لا محدود ہیں! گویا کہ وہ یہ کہتا ہے کہ: جیسے شریعت بنانے والے کو علم ہے ایسے ہی ہمیں بھی علم ہے، بلکہ ہم شریعت بنانے والے سے بڑھ کر بھی طریقے دریافت کر سکتے ہیں!! گویا کہ اُسے ایسی باتیں مل گئی ہیں جو شریعت بنانے والے کو نہیں مل سکیں!! اگر بدعتی شخص کا یہی نظریہ ہو تو یہ شریعت اور اللہ تعالی کے ساتھ کفر ہے، اور اگر اس کا یہ نظریہ نہیں ہے تو پھر یہ واضح گمراہی ہے" امام شاطبی کی گفتگو مکمل ہوئی۔

یا اللہ! ہمیں  حق بات کو حق سمجھ کر اس کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرما، اور باطل کو باطل سمجھ کر اس ے بچنے کی توفیق عطا فرما، ہم پر حق و باطل متنازعہ نہ بنا مبادا گمراہ ہو جائیں، یا اللہ! ہمیں  گمراہیاں پھوٹنے کے وقت سنت پر کار بند رہنے والے بنا۔

یا اللہ! جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! اے آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر ہر چیز کو جاننے والے، تو ہی اپنے بندوں میں اختلاف ہونے پر فیصلے فرماتا ہے، تو ہماری ایسی مبنی بر حق چیزوں کے متعلق رہنمائی عطا فرما جن کے بارے میں اختلاف کیا جاتا ہے، بیشک تو جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی جانب گامزن کر دیتا ہے۔

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما،  توحید پرستوں کی مدد فرما، یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو پر امن  بنا۔

یا اللہ! ہمارے ملکوں میں امن کی دولت نصیب فرما اور ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما۔

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری مرضی کے مطابق اقدامات کی توفیق عطا فرما، اور ان کی خصوصی مدد فرما، یا ذو الجلال والاکرام!

یا اللہ! ہماری سرحدوں کی حفاظت فرما،  ہمارے فوجیوں کی مدد  فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمان کے حالات سنوار دے، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمان کے حالات سنوار دے، یا اللہ! اے درجات بلند کرنے والے! اے ضروریات پوری کرنے والے! اے مشکل کشا! ہمارے بھائیوں کی شام میں  مشکل کشائی  فرما، یا اللہ! ان کی مصیبتوں کا خاتمہ فرما، یا اللہ! ان کی مصیبتوں کا خاتمہ فرما، یا اللہ! ان کی تنگیاں ختم فرما، یا اللہ! ان کی تنگیاں ختم فرما، اور ان کے معاملات سنوار دے، یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! ملحدوں کے چنگل سے انہیں آزاد فرما، یا اللہ! ملحدوں کے چنگل سے انہیں محفوظ فرما، یا اللہ! ان کی جانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ان کی جانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ان کی عیب پوشی فرما، خوف زدہ کو امن عطا فرما، یا اللہ! مظلوم مسلمانوں کا انتقام لے، یا اللہ! ظالموں پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! ظالموں پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! ظالموں کو ایسے پکڑ جیسے غالب اور طاقتور پکڑ تا ہے۔

یا اللہ! ہمارے معبود! مشکلات اور مصیبتیں حد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں، معاملات بہت سنگین حد تک خراب ہو چکے ہیں، انہیں سنوارنے والا تیرے علاوہ کوئی نہیں ہے!  انہیں سنوارنے والا تیرے علاوہ کوئی نہیں ہے! یا اللہ! جلد از جلد ان کی مشکل کشائی فرما، یا اللہ! جلد از جلد ان کی مشکل کشائی فرما، یا رب العالمین! یا ارحم الراحمین! یا ذو الجلال و الاکرام! یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! صومالیہ میں ہمارے بھائیوں کی مدد فرما، یا اللہ! انہیں جن  مشکلات کا سامنا  ہے ان کا خاتمہ فرما، یا اللہ! انہیں جن  مشکلات کا سامنا  ہے ان کا خاتمہ فرما، یا اللہ! ان کی زندگی بہت تنگ ہو چکی ہے، یا اللہ! ان کے آسانیاں فرما۔

یا اللہ! وہ بھوکے ہیں ان کے کھانے پینے کا بندو بست فرما، یا اللہ! وہ بھوکے ہیں ان کے کھانے پینے کا بندو بست فرما، یا اللہ! وہ تن سے ننگے ہیں انہیں لباس مہیا فرما، یا اللہ! وہ آزمائش میں ہیں ان پر رحم فرما، یا اللہ! وہ آزمائش میں ہیں ان پر رحم فرما ، یا اللہ! وہ آزمائش میں ہیں ان پر رحم فرما ۔

یا اللہ! قحط سالی کی وجہ سے پتھر بھی  پھٹ گئے، دھرتی  چٹیل میدان بن چکی ہے، جانور پیاسے مر رہے ہیں، ماؤں کی آہ و بکا اور سسکیوں سے آسمان گونج اٹھا ہے، یا اللہ! جن ماؤں کی گودیں اجڑ چکی ہیں اور جن کے سہاگ اجڑ چکے ہیں  ، یا اللہ! سب پر رحم فرما۔

یا اللہ! ان پر اپنی رحمت کی برکھا برسا ، موسلا دھار  خوب بارش نازل فرما، جس سے بنجر زمین پر ہریالی  آ جائے اور نقصانات کا ازالہ ممکن ہو جائے۔

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام  بھیجا  کرو۔ [الأحزاب: 56]

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

{سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ (180) وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ (181) وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت والا ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں [180] پیغمبروں پر سلام ہے[182] اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔ [الصافات: 180 - 182]

 

Read 392 times

جدید خطبات

خطبات

  • سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور ہمارے حالات
    سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور ہمارے حالات
    پہلا خطبہ یقیناً تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد   طلب کرتے ہیں ، اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نیز نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، اور اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں سیدنا محمد  -ﷺ-اللہ بندے اور اس کے رسول  ہیں ، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا، امانت ادا کر دی  اور امت کی مکمل خیر خواہی فرمائی، نیز  راہِ حق میں کما حقہ جہاد کیا یہاں تک کہ آپ اس جہاں سے رخصت ہوگئے، اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر روزِ قیامت تک ڈھیروں سلامتی اور رحمتیں نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: سب سے سچا کلام قرآن مجید ہے، سب سے افضل ترین طرزِ زندگی جناب محمد ﷺ کا ہے، بد ترین امور  بدعات ہیں اور ہر بدعت…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • کرپشن اور بد عنوانی کی مذمت اور دیارِ غیر میں مسلمان کی ذمہ داری
    کرپشن اور بد عنوانی کی مذمت اور دیارِ غیر میں مسلمان کی ذمہ داری
    ﷽   پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے  ہیں، اسی نے اپنے بندوں  میں روزی، رزق اور اپنا فیض تقسیم فرمایا، اللہ تعالی نے چوری حرام قرار دی اور اس پر چوروں اور ڈاکوؤں کے ہاتھ کاٹنے کی سزا مقرر فرمائی ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک  نہیں  ، اسی کا فرمان ہے: {مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ} تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ ہمیشہ رہے گا۔ [النحل: 96]، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں  کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، آپ کو مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث فرمایا گیا۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام  پر  اس وقت تک رحمتیں نازل فرمائے جب تک آفتاب  طلوع ہوتا رہے اور سورج کی روشنی چمکتی رہے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو! اللہ سے ڈرو، کہ تقوی الہی افضل ترین نیکی ہے، اور اس کی اطاعت سے ہی قدرو منزلت بڑھتی ہے {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ سے ایسے…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات
    نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر  جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے17-ذوالحجہ-1438  کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں"نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس  میں انہوں نے سعادت حج پانے والوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا کہ کائنات کی تخلیق کا مقصد اللہ کی عبادت ہے، اور عبادت کی قبولیت کیلیے جد و جہد از بس ضروری ہے، چنانچہ عدم ایمان کے باعث کافر اور منافق کا کوئی بھی عمل  آخرت میں فائدہ نہیں دے گا البتہ انہیں دنیا میں پورا بدلہ دے دیا جائے گا،  عمل کی قبولیت کیلیے اخلاص اور اتباعِ سنت  لازمی امور ہیں،  اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ نیکی کا مقصود  اور مطلوب صرف رضائے الہی ہو ، جس کیلیے نیت  بنیادی کردار کی حامل ہے؛ کیونکہ نیت کی وجہ سے چھوٹا عمل بھی بڑا بن جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ: تقوی، تسلسل کے ساتھ نیکیاں، نیکی کیلیے دلی رغبت، نیکی پر ثابت قدمی اور انسانی اعضا کا صحیح سلامت رہنا نیکی قبول ہونے کی علامات میں سے ہیں،  اگر انسان کو عبدیت کی حقیقی معرفت مل جائے تو اسے اپنی ساری زندگی کی عبادات بھی ہیچ نظر آئیں اسی لیے تو…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عرشِ الہی کا تعارف اور مسجد اقصی کی حالت
    عرشِ الہی کا تعارف اور مسجد اقصی کی حالت
    پہلا خطبہ: یقیناً تمام  تعریفیں اللہ  کیلیے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی اور  بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد   اللہ کے بندے اور اس کے رسول  ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود  و سلامتی نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: اللہ کے بندو! اللہ سے کما حقہ ڈور، خلوت اور جلوت میں اسی کو اپنا نگہبان  اور نگران سمجھو۔ مسلمانو! اللہ تعالی صفاتِ جلال اور جمال سے موصوف ہے۔ اس کی ذات، اسما، صفات اور افعال سب ہی کامل ترین ہیں۔ اس کا کوئی ہم نام یا ہم سر نہیں ، اس کی کوئی شبیہ یا اس کا کوئی ثانی نہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {لَيْسَ كَمِثْلِهِ…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟
    ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟
    ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟۔ پہلا خطبہ تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جس نے سعادت مندی اور مسرتیں اپنے اطاعت گزار بندوں کیلیے لکھ دی ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں  وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں وہی پہلے اور بعد میں آنے والے سب لوگوں کا معبود ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد  اللہ کے بندے  اور تمام انبیاء میں افضل ترین ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، اسی میں سعادت مندی اور خوشحالی پنہاں ہے۔ اللہ کے بندو! ذہنی سکون، دلی اطمینان اور سعادت  پوری انسانیت کے مقاصد میں شامل ہے، یہ ساری بشریت کا  ہدف ہے، سب لوگ انہیں حاصل کرنے کیلیے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خوب کوشش  اور تگ و دو کرتے ہیں، لیکن انسان جتنی بھی کوشش کر لے اس کیلیے دنیا کی جتنی مرضی رنگینیاں جمع کر لے، خواہشات نفس  پوری کرنے کیلیے جتنی بھی دوڑ دھوپ کر لے، انہیں یہ سب…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم