بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
ہفتہ, 29 اپریل 2017 07:17

با اثر شخصیت کیسے بنیں؟

Written by  ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی ، ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

بسم الله الرحمن الرحيم

 

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہیں جس نے انسان کو بہترین انداز سے پیدا فرمایا، اسے قوت سماعت و بصارت سے نوازا، میں اسی کا شکر ادا کرتا ہوں اور اسی کی حمد خوانی کرتا ہوں کہ اس نے سورج کو ذاتی روشنی دی اور چاند سے روشنی پھیلائی، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی نے مومنوں کو جنت میں جگہ دی اور کافروں کا ٹھکانا جہنم بنایا، میں یہ بھی  گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے  اور رسول  ہیں، آپ نے متبعین سنت کو نہروں والی جنتوں کی راہ دکھائی، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل اور ان صحابہ کرام  پر رحمتیں  نازل فرمائے     ، جنہوں نے مؤثر ترین شخصیات بن کر دکھایا۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102]

اللہ تعالی کی انسان پر عظیم نعمتوں میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی اسے با اثر بنا دے  جس سے اس کا نام زندہ جاوید ہو جائے، اس کے نمایاں اثرات صدقہ جاریہ بنیں، اور مرنے کے بعد بھی نیکیاں جاری رہنے کی وجہ سے لازوال زندگی پا لے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّا نَحْنُ نُحْيِ الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ}  بلاشبہ ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں ۔ہم ان کی کارکردگی اور اثر انگیز کارنامے لکھ رہے ہیں۔ اور ہم نے ہر چیز کو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ [يس: 12]

زندگی گزارتے ہوئے انسان جو نیک نامی پیدا کرتا ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالی کی معیت اور خصوصی حفاظت حاصل ہوتی ہے، چنانچہ جس وقت رسول اللہ ﷺ پر اچانک پہلی بار وحی نازل ہوئی تو آپ ﷺ گھبرا گئے اور اپنی اہلیہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:  (مجھے تو اپنے بارے میں ڈر لگنے لگا ہے!)اس پر انہوں نے کہا: "بالکل نہیں! آپ خوش ہو جائیں، اللہ کی قسم! اللہ تعالی آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں فرمائے گا، آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، دوسروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور قدرتی آفات میں  دوسروں کی مدد کرتے ہیں " بخاری

اللہ تعالی رحمت کے دروازے کھول دے تو شخصیت کو با اثر بنانے والے کام کرنے کی توفیق دیتا ہے، اللہ تعالی ان کارناموں میں برکت فرما دیتا ہے، ان کے فوائد دگنے اور چگنے کر دیتا ہے، انسان کے چھوٹے اور معمولی سب کاموں کو  بار آور فرما دیتا ہے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (ایک درہم [کا اجر]ایک لاکھ درہم [کے اجر]سے بازی لے گیا) اسے نسائی اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

با اثر شخصیت بننے کا ہدف رضائے الہی کا حصول ہونا چاہیے؛ لہذا مسلمان  اپنے کارنامے رونما ہونے کا انتظار نہیں کرتا اور نہ ہی اپنے کارناموں کو محض ذاتی جد و جہد قرار دیتا ہے، فرمانِ نبوی ہے: (مجھے سابقہ امتیں دکھائیں گئیں :نبی گزرنے لگے کسی کے ساتھ ایک امتی تھا، کسی کے ساتھ دو امتی تھے، کسی کے ساتھ دس سے کم امتی تھے، اور کسی کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا۔) بخاری

اگر لوگوں کو مؤثر کارنامے سر انجام دینے والوں کی جد و جہد اور کوشش کا علم نہ ہو تو یہ کوئی مضر بات نہیں ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کو ہر چھوٹی بڑی چیز کا علم ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا }اور تم جو اچھائی بھی اپنے لیے آگے بھیجو گے تم اسے اللہ کے ہاں پا لو گے ، یہ تمہارے لیے بہتر اور اجر عظیم اجر کا باعث ہے۔[المزمل: 20]

انسان اپنے دل کی جس قدر اصلاح کرے اور اپنے خالق کا مقرب بن جائے تو اس کی کاوشیں بار آور ہو جاتی ہیں،  انسان ان کے نتائج سمیٹنے لگتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا} اور دیوار کی بات یہ ہے کہ وہ شہر میں رہنے والے دو یتیم لڑکوں کی تھی  ، اس دیوار کے نیچے ان کا خزانہ مدفون تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا۔( [1])[الكهف: 82]

کوئی بھی اچھا کام جس کی بنیاد بھی اچھی نیت پر ہو اس کے اثرات مزید گہرے، قبول عام پانے والے اور دیر پا ہوتے ہیں؛ فرمانِ باری تعالی ہے: {إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ} پاکیزہ کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں  اور اچھے کارناموں کو وہی بلندیاں بخشتا ہے [فاطر: 10] چنانچہ کوئی بھی عمل جو ایمان کی بنیاد پر نہ ہو تو اس کا انجام زوال، انحطاط اور تنزلی ہوتا ہے، چاہے وہ عمل کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔

اسلام با اثر شخصیت بننے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے؛ تا کہ زندگی کی تعمیر ہو اور زندگی اپنے مقاصد  کی تکمیل کا تسلسل جاری رکھ سکے؛ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور کسی کے ہاتھ میں  کھجور کا پودا ہو اور وہ قیامت قائم ہونے سے پہلے پودے کو زمین میں لگا سکتا ہو تو  وہ اسے لگا دے) بخاری نے اسے ادب المفرد میں روایت کیا اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔

اگر انسان کی جانب سے لگایا جانے والا پودا  اس کی اپنی زندگی میں فائدہ مند ثابت نہ ہو تو اس کے بعد آنے والی نسلیں اس سے ضرور مستفید ہوتی رہیں گی، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (کوئی بھی مسلمان کسی بھی قسم کا پودا لگائے یا فصل بوئے  اور اس میں سے پرندے، یا انسان یا چوپائے کھائیں تو یہ اس کیلیے صدقہ ہوگا) بخاری

حسن کارکردگی کے نتائج جسے معلوم ہوں تو وہ محنت اور جفا کشی کی بلندیوں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے، ان نتائج کے متعلق رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص اسلام میں کوئی اچھا طریقہ متعارف کرواتا ہے تو اسے اس کا اجر ملے گا، اور ان لوگوں کا اجر بھی ملے گا جنہوں نے اس پر عمل کیا، نیز ان میں سے کسی کے اجر کو کم بھی نہیں کیا جائے گا) مسلم

پختہ ایمان اور اچھی سیرت کا مالک مسلمان ہی با اثر شخصیت کا حامل عملی نمونہ ہوتا ہے؛ کیونکہ وہ جہاں بھی  ہو دوسروں کو فائدہ پہنچاتا ؛ چنانچہ اس کا رہن سہن ، طرزِ زندگی؛  عملی نمونہ اور مشعلِ راہ ہوتا ہے۔ آپ اللہ کے نبی ابراہیم علیہ السلام کو دیکھیں کہ اللہ تعالی سے دعا کرتے ہوئے فرماتے ہیں: {رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ(83) وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ (84) وَاجْعَلْنِي مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ} اے میرے رب ! مجھے قوت فیصلہ  عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں میں شامل فرما دے [83] اور میرے بعد آنے والوں میں مجھے سچی ناموری عطا فرما [84] مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا دے۔ [الشعراء: 83-  85] تو اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول کر کے فرمایا: {وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ} اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں ان کی ناموری رکھ دی۔[الصافات: 108] یہی وجہ ہے کہ اب کوئی بھی ہمارے نبی ﷺ پر درود پڑھتا ہے تو ابراہیم علیہ السلام پر بھی درود پڑھتا ہے۔

مسلمان کی کارکردگی زندگی میں یا وفات کے بعد منظر عام پر آ جائے تو یہ اللہ تعالی کی جانب سے خوشخبری  اور قبولیت کا اشارہ ہے؛ کیونکہ ایک بار رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا: "آپ بتلائیں کہ: اگر کسی شخص کی کارکردگی کی وجہ سے لوگ تعریف کرتے ہیں یا اس سے محبت کرتے ہیں [تو اس کا کیا حکم ہے؟]تو آپ ﷺ نے فرمایا: (یہ مومن کو جلد مل جانے والی خوشخبری ہے)"مسلم

حسن کارکردگی کے میدان بہت وسیع اور متنوع ہیں، ہر شخص اپنے رجحانات ، تجربے ، صلاحیتوں اور مہارتوں کے مطابق ان کا انتخاب کرتا ہے جیسے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام نے زندگی کے تمام گوشوں کے متعلق مؤثر ترین کارنامے تاریخ کے سپرد کئے، چاہے وہ فلاح و بہبود کا شعبہ ہو یا عدل و قضا کا، راہِ الہی میں خرچ کرنے کا یا جہاد کا، اور چاہے تعلیم کا ۔

کوئی بھی مفید سرگرمی جس سے دوسروں کا بھلا ہو، جس سے زندگی میں بہتری آئے؛  اس کے نتائج اچھے ہوتے ہیں اور اس کا اجر دائمی ہوتا ہے، مثلاً: تعلیم و تربیت، دینی دعوت، کسی کی ضروریات زندگی پوری کرنا اور مظلوموں کی مدد کرنا  وغیرہ۔

جس عبادت کا فائدہ زیادہ ہوگا وہ عبادت بھی افضل ہو گی؛ فرمانِ نبوی ہے: (جو شخص کسی ہدایت [پر عمل]کی دعوت دے تو اس پر عمل پیرا ہونے والوں کے برابر دعوت دینے والے کو بھی اجر ملے گا، نیز اس سے کسی کا بھی اجر کم نہیں ہو گا) مسلم

اس لیے عقلمند، زیرک اور دانا وہی ہے جو جانے کے بعد مؤثر کن کارنامے چھوڑ  جائے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (مومن کے مرنے کے بعد بھی جن اعمال اور نیکیوں کا ثواب اسے ملتا رہتا ہے ان میں یہ اعمال بھی ہیں:  لوگوں کو جو علم سکھایا اور پھیلایا ، نیک اولاد چھوڑی، وراثت میں چھوڑا ہوا قرآن کریم، یا کوئی مسجد یا مسافر خانہ بنایا، یا کوئی نہر کھدوائی یا جیتے جاگتے صحت و تندرستی میں اپنی کمائی سے کچھ صدقہ کر دیا ،ان سب کا اجر اسے مرنے کے بعد ملتا رہے گا) ابن ماجہ، البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

با اثر شخص کی امتیازی صفت یہ ہے کہ وہ ہر دم آخرت  کو یاد رکھتا ہے، اپنی ظاہری اور باطنی تعمیر کرتا ہے، اپنی ذات اور کارکردگی کو پروان چڑھاتا ہے، اس کے کردار اور گفتار میں تضاد نہیں ہوتا، فرمانِ باری تعالی ہے: {بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ} کیوں نہیں! جو شخص بھی اپنے آپ کو اللہ کا فرمانبردار  بنا دے اور وہ عمدہ ترین کارکردگی کا حامل بھی ہو تو اس کا اجر اس کے پروردگار کے ہاں اسے ضرور ملے گا اور ایسے لوگوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے [البقرة: 112]

با اثر شخص  کی صفت ہے کہ اس کے ہاں اخلاقی اقدار انتہائی گہری اور مضبوط ہوتی ہیں، وہ متوازن زندگی گزارتا ہے، انتہائی پر اعتماد نظر آتا ہے، اسے اپنی شخصیت اور پہچان پر فخر ہوتا ہے۔

لوگوں کے دلوں پر اور ان کی زندگی میں اثر انداز ہونے والے افراد ہی باہمی محبت اور الفت پیدا کرتے ہیں، جیسے کہ حدیث نبوی میں ہے: (جس وقت اللہ تعالی بندے سے محبت فرمائے تو جبریل کو بلا کر بتلاتا ہے: بیشک اللہ تعالی فلاں شخص سے محبت فرماتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو، تو جبریل اس سے محبت کرنے لگتا ہے، پھر جبریل اہلیان آسمان کو مخاطب کرتا ہے: فلاں شخص سے اللہ تعالی محبت فرماتا ہے اس لیے تم بھی اس سے محبت کرو، تو اہلیان آسمان بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر روئے زمین پر بھی اس کا چرچا پھیل جاتا ہے) بخاری

انسان ہدف مقرر کرنے کے بعد جس قدر تخصص کی جانب بڑھتا جائے مؤثر افراد میں شامل ہوتا جاتا ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا: (اللہ تعالی کے ہاں محبوب ترین اعمال  وہ ہیں جو ہمیشہ کئے جائیں چاہے معمولی ہی کیوں نہ ہوں) بخاری، مسلم

قرآن کریم بھی تخصص کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے:  {فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ} ایسا کیوں نہ ہوا کہ ہر فرقہ میں سے کچھ لوگ دین سمجھنے کیلیے نکلتے تاکہ جب وہ اپنی قوم میں واپس جائیں  تو اپنے لوگوں کو  [برے کاموں سے]ڈرائیں۔ اس طرح شاید وہ [برے کاموں سے] بچے رہتے [التوبہ: 122] اسی طرح فرمایا: {فَاسْأَلْ بِهِ خَبِيرًا} [اپنے مسائل]کے بارے میں ماہرین سے پوچھو۔[الفرقان: 59] ایک اور مقام پر فرمایا: {وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ} اور آپ کو ماہر کی طرح کوئی نہیں  بتلائے گا۔[فاطر: 14]

ہمارے کام اس وقت مؤثر بنیں گے جب ہم عمدہ کارکردگی  کو نصب العین بنائیں، بہترین انداز میں کام کریں اور اس کیلیے خوب محنت کریں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (بیشک اللہ تعالی نے ہر چیز پر انتہا درجے کی عمدہ کارکردگی فرض کر دی ہے)

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن کریم کو بابرکت بنائے، اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو اس کی حکمت بھرئی نصیحتوں سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے  اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی  بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ:

ہم شکر گزار بندوں کی طرح اللہ تعالی کی حمد بیان کرتے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں ، وہی تمام جہانوں کا پالنہار ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد ؛ رب العالمین کے بندے اور رسول  ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ،اور رب العالمین کے صحابہ پر رحمتیں نازل فرمائے۔

حمد  اور درود کے بعد:  میں تمام سامعین اور اپنے آپ کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں۔

کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے کام ظاہری طور پر اچھے ہیں لیکن وہ نتائج سے نابلد ہے، ان کا کوئی ہدف نہیں ، ان کی اخلاقی بنیادیں کھوکھلی ہیں،  ان کاموں کا مواد معیوب اور ڈھانچا بے کار  ہے، ان  سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ ایسے کرتوت تباہی  ، بربادی اور اخلاقی گراوٹ کا باعث بنتے ہیں: {الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا} یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی تمام تر کوشش دنیا کی زندگی کے لیے ہی کھپا دیں، اور یہ سمجھے بیٹھے کہ وہ بڑے اچھے کام کر رہے ہیں! [الكهف: 104]

کچھ لوگوں کے کارناموں کی تاثیر  اور قدر و قیمت اس وقت گر جاتی ہے جب وہ خفیہ اور بر ملا گناہ کریں، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (میں اپنی امت میں سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو روزِ قیامت تہامہ کے پہاڑوں جیسی چمکدار نیکیاں لے کر آئیں گے، لیکن اللہ تعالی انہیں اڑتی ہوئی دھول بنا دے گا) اس پر سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا: "اللہ کے رسول! ہمیں ان کے اوصاف واضح کر کے بتلائیں کہیں ہم ان لوگوں میں شامل نہ ہو جائیں اور ہمیں پتا بھی نہ چلے!" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (وہ تمہارے بھائی ہیں اور تمہاری قوم سے ہیں، وہ بھی رات کو اسی طرح قیام کرتے ہوں گے جس طرح تم  کرتے ہو، لیکن [ان میں منفی بات یہ ہو گی کہ] وہ جس وقت تنہا ہوتے ہیں تو اللہ تعالی کے حرام کردہ کام کر بیٹھتے ہیں ) ابن ماجہ، اسے البانی نے صحیح کہا ہے۔

بد کردار وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے لیے نیکیوں کے دروازے ہی بند کر رکھے ہیں، ان کے نامہ اعمال میں برائیوں کا سیلاب  اُمڈا رہتا ہے، حتی کہ ان بد کرداروں میں سے کوئی مر بھی جائے تو اس کی بد کرداری کا بوجھ اس پر باقی رہتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ} قیامت کے دن یہ لوگ اپنے پورے بوجھ کے ساتھ ہی ان کے بوجھ کے حصے دار ہوں گے جنہیں وہ گمراہ کرتے رہے۔ [النحل: 25]

اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: {وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهِمْ} وہ اپنے بوجھ ضرور اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے بہت سے بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہوں گے [العنكبوت: 13]

بد کردار شخص  اپنے معاشرے کو نقصان پہنچاتا ہے، اپنے وطن کو بد نام کرتا ہے، اپنی قوم کی عزت خاک میں ملاتا ہے؛ کیونکہ وہ ویب سائٹس اور مختلف ذرائع سے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے ،برائی کو اچھائی بنا کر پیش کرتا ہے، شبہات پھیلاتا ہے، گناہ اور زیادتی کی دعوت دیتا ہے، یا جرائم کی ترویج اور حیا باختہ چینلز کی تشہیر کرتا ہے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (اور جو شخص کسی ضلالت کی دعوت دے تو اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ دعوت دینے والے پر بھی ہو گا، اور ان میں سے کسی کا گناہ کم بھی نہیں کیا جائے گا) مسلم

اللہ کے بندو!

رسولِ ہُدیٰ پر درود پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں تمہیں اسی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: }إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا{ اللہ اور اس کے فرشتے  نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود  و  سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین  ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی  سے راضی ہو جا،  انکے ساتھ  ساتھ اہل بیت، اور تمام صحابہ کرام  سے راضی ہو جا،  اور اپنے رحم و کرم، اور احسان کے صدقے  ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما ، کافروں کیساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! تیرے اور دین کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں یا اسلام اور مسلمانوں کے متعلق برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعاء!

یا اللہ! اپنے دین، قرآن، سنت نبوی اور تیرے مومن بندوں کی مدد فرما،  یا اللہ! پوری دنیا میں کمزور مسلمانوں کی مدد فرما، یا اللہ! ان کا حامی و ناصر اور مدد گار بن جا۔

یا اللہ! وہ بھوکے ہیں ان کے کھانے پینے کا بندوبست فرما، وہ ننگے پاؤں ہیں انہیں جوتے عطا فرما، ان کے تن برہنہ ہیں انہیں ڈھانپنے کیلیے کپڑے عطا فرما، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے ان کا بدلہ چکا دے، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے ان کا بدلہ چکا دے، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے ان کا بدلہ چکا دے۔

یا اللہ! ان کے نشانے درست فرما، یا اللہ! ان کی صفوں میں اتحاد پیدا فرما، یا اللہ! انہیں حق بات پر متحد فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہماری سکیورٹی فورسز  اور سرحدوں پر مامور فوج کی  مدد فرما، یا اللہ! ان کی خصوصی مدد و حمایت فرما، یا اللہ! ان کے نشانے درست فرما، یا اللہ! ان کی جان و مال، عزت آبرو اور اولاد  سب کی حفاظت فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ان کی دشمنوں  کے خلاف مدد فرما، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہماری سکیورٹی فورسز  اور فوج کی   ہر جگہ پر حفاظت فرما،  یا رب العالمین!

 یا اللہ!ہمارے حکمران کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ ان کے تمام کام اپنی رضا کیلیے بنا لے یا رب العالمین! یا اللہ!ہمارے ان کے دونوں نائبوں کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو کتاب و سنت کے نفاذ اور شریعت کو بالا دستی دینے کی توفیق عطا فرما، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت مانگتے ہیں، اور جہنم سے پناہ مانگتے ہیں۔

یا اللہ! ہم تجھ سے ہر قسم کی خیر کا سوال کرتے ہیں چاہے وہ فوری ملنے والی یا تاخیر سے، ہمیں اس کے بارے میں علم ہے یا نہیں،  اور اسی طرح یا اللہ! ہم ہر قسم کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں چاہے وہ فوری آنے والا ہے یا تاخیر سے، ہمیں اس کے بارے میں علم یا نہیں۔

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے، یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے ابتدا سے لیکر انتہا تک ہر قسم کی جامع خیر کا سوال کرتے ہیں، شروع سے لیکر اختتام تک ، اول سے آخر تک ، ظاہری ہو یا باطنی  سب کا سوال کرتے ہیں، اور جنت میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تیری نعمتوں کے زوال ، تیری طرف سے ملنے والی عافیت کے خاتمے ، تیری اچانک پکڑ اور تیری ہمہ قسم کی ناراضی سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ کرنا، یا اللہ! ہمیں غلبہ عطا فرما، ہم پر کسی کو غلبہ نہ دینا، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف کوئی تدبیر نہ ہو، یا اللہ! ہمیں ہدایت دے اور ہمارے لیے ہدایت  آسان بھی بنا دے، یا اللہ! ہم پر ظلم ڈھانے والوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

یا اللہ! ہمیں تیرا ذکر، شکر اور تیرے لیے ہی مر مٹنے والا بنا،  تیری طرف رجوع کرنے والا اور تجھ ہی سے توبہ مانگنے والا بنا۔

یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، ہمارے گناہ معاف فرما، ہمارے دلائل ثابت فرما، ہماری زبانوں کو  درست سمت عطا فرما، اور ہمارے سینوں  کے میل نکال باہر فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم پر اپنی برکتوں، رحمتوں اور رزق کے دروازے کھول دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! فوت شدگان پر رحم فرما، بیماروں کو شفا یاب فرما، اور ہمارے معاملات کی باگ ڈور سنبھال لے،  یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہمیں اور ہمارے والدین سمیت تمام مسلمانوں کو بخش دے، یا ارحم الراحمین!

}رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ { ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف  نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے [الأعراف: 23] }رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ{ اے ہمارے پروردگار! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں, ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے,  اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے[الحشر: 10]  }رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ{ ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]

}إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ { اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]

تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو ، وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی تمہارے تمام اعمال سے بخوبی واقف ہے۔

 



([1])  یعنی باپ کی نیک نامی کی وجہ سے اللہ تعالی نے اولاد کے لیے خزانے کی حفاظت فرمائی۔

Read 1103 times

جدید خطبات

خطبات

  • آیت الکرسی کا مفہوم
    آیت الکرسی کا مفہوم
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 10 صفر 1440 کا خطبہ جمعہ " آیت الکرسی کا مفہوم اور افواہوں کے متعلق ہدایات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں عظیم ترین آیت ؛ آیت الکرسی ہے، اس آیت میں اللہ تعالی کے اسما و صفات کا جامعیت کے ساتھ ذکر ہے، سب سے پہلے اس آیت میں اللہ تعالی کی الوہیت کا اقرار، پھر ازل سے ابد تک قائم دائم رہنے کی صفت ذکر ہوئی، اللہ تعالی کو نیند آتی ہے اور نہ ہی اونگ، آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی بادشاہت میں شامل ہے، کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا، اور نبی ﷺ کی سفارش اہل توحید کے لیے سب سے پہلے میسر ہو گی، انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی علم غیب نہیں جانتا، اس کی کرسی آسمان و زمین سے بھی وسیع ہے، جس سے اللہ تعالی کی بے انتہا عظمت اور کبریائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اس لیے اللہ سے جب مانگیں تو وہ بھی بے حساب مانگیں، انہوں نے آخر میں یہ بھی…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 13-رجب- 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی کیلیے حسن اخلاق کا کوئی ثانی نہیں، اسی لیے کتاب و سنت میں اچھا اخلاق اپنانے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، نیز رسول اللہ ﷺ کی جن خوبیوں کا ذکر اللہ تعالی نے فرمایا ان میں حسن اخلاق سر فہرست ہے، آپ ﷺ نے خود فرمایا کہ مجھے اعلی اخلاقیات کی تکمیل کیلیے بھیجا گیا ہے، مومن شخص اعلی اخلاق کی بدولت نفل روزے اور راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے، اچھے اخلاق کا مالک شخص جنت میں رسول اللہ ﷺ کے قریب ترین ہو گا، حسن اخلاق کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ جنت جائیں گے، قیامت کے دن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہو گی، ایک جگہ آپ ﷺ یہاں تک فرما دیا کہ: نیکی حسن اخلاق کا نام ہے، پھر انہوں نے بتلایا کہ حسن خلق کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی شریعت کے مطابق ہو، دوسروں کی خدمت، جود و…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے "اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ" کے عنوان پر 07 ذوالقعدہ 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ خطرات اور مسائل سے بھری ہوئی دنیاوی زندگی میں انسان کو بلند ہمت بنانے کی اشد ضرورت ہے، اور اس کیلیے اللہ تعالی پر توکل بہترین طریقہ ہے، اگر انسان صحیح معنوں میں متوکل ہو تو وہ دنیا میں کسی کا محتاج نہیں رہتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ متوکل دنیا کی ہر چیز کو اللہ تعالی کے زیر تسلط اور ملکیت جانتا ہے لہذا جس چیز کی بھی اسے ضرورت محسوس ہو وہ چیز اللہ سے مانگنے پر اسے مل جاتی ہے، توکل ظاہری اسباب اپنانے سے متصادم نہیں ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہوتی ہے کہ انسان اسباب اپنانے کے بعد ان پر کلی اعتماد نہ کرے بلکہ اللہ تعالی کی ذات پر کامل بھروسا اور یقین رکھے، چنانچہ اسباب اپنانے کے بعد اس کے نتائج اللہ کے سپرد کر دینا توکل کا مطلب ہے ۔ سابقہ اقوام اور صحابہ کرام کے عمل سے توکل کا یہی مفہوم سامنے آتا ہے، دوسرے خطبے میں…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے07-جمادی ثانیہ-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" شرم و حیا شریعت کی روشنی میں" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ اسمائے حسنی کی معرفت عبادت الہی کی کنجی ہے انہی اسمائے حسنی میں سے ایک "اَلْحَيِيُّ" یعنی بہت زیادہ حیا کرنے والا بھی ہے، حیا اللہ تعالی کی صفت ہے، اس کا ذکر کتاب و سنت میں موجود ہے، حیا تمام تر اخلاقی اقدار کا سرچشمہ ہے، حیا انسان کو برائی سے روکتی ہے اور اچھے کاموں کی ترغیب دلاتی ہے، حیا ان اخلاقی اقدار میں شامل ہے جو اولین زمانۂ نبوت سے معتبر اور مطلوب ہیں، حیا سے اشرف المخلوقات سمیت فرشتے بھی موصوف ہیں، آدم، نوح، موسی سمیت تمام کے تمام انبیائے  علیہم السلام حیا سے آراستہ تھے، ہمارے نبی ﷺ سب سے زیادہ با حیا تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے، حیا خواتین کا فطری زیور اور زینت ہے، اسی لیے سیدہ عائشہ اور دیگر صحابیات حیا کی پیکر تھیں، بلکہ اہل جاہلیت بھی حیا پر قائم دائم تھے، نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق حیا سرتا پا خیر ہی خیر ہے، حیا…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عذاب قبر کے اسباب اور نجات کے ذرائع
    عذاب قبر کے اسباب اور نجات کے ذرائع
    پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ایمان اور صبر جیسی نعمت پر تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اس فضل پر اسی کا شکر بجا لاتے ہیں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، کائنات کے فیصلے اور تصرف اسی کے ہاتھ میں ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے مومنوں کو ان کی قبر کی حالت سے بہرہ ور فرمایا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور ہر جگہ پیش رو بننے والے صحابہ کرام پر رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہو، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] انسانی زندگی کے اس سفر میں متنوع اور مختلف مرحلے ہیں، انسان ایک عرصہ ماں کے پیٹ میں، پھر زمین کی پشت پر اور دوبارہ جی اٹھائے جانے تک زمین کے نیچے…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم