بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
بدھ, 22 فروری 2017 17:11

تنہائی کے گناہوں سے بچاؤ

Written by  ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

بسم الله الرحمن الرحيم

فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 20-جمادی اولی- 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "تنہائی کے گناہوں سے بچاؤ" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے آفاقی  رابطوں کی سہولت کے دور میں ان کے منفی اثرات سے بچانے کیلیے خشیت الہی جیسا کوئی اکسیر نہیں، ہمیں اپنی عفت اور پاکدامنی کے تحفظ کیلیے تنہائی میں بھی خشیتِ الہی کی اشد ضرورت ہے، خشیتِ الہی در حقیقت سعادت مندی، اہل تقوی کی خوبی، قلبی اطمینان، گناہوں کی مغفرت، داخلۂ جنت ، فتنوں سے نجات، اور دل گدازی کا ذریعہ ہے، قرآن کریم کے مطابق خشیتِ الہی میں بے عقل و جان پتھروں کو بھی لرزا دینے کی صلاحیت ہوتی ہے، تو اس تناظر میں انسانی دل کا کیا حال ہونا چاہیے؟ اور آخر میں انہوں نے حصولِ خشیت کیلیے نبوی ادعیہ کا اہتمام کرنے کی تلقین بھی فرمائی۔

پہلا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہیں وہ قبول کرنے والا، نگران اور حساب رکھنے والا ہے، وہ ہر ایک کے ضمیر سے باخبر ، رازوں کو جاننے والا اور سینوں کے بھیدوں سے بھی واقف ہے، تمام معاملات اسی کی گرفت میں ہیں، اسی نے اپنے بندوں کی تمام حرکات شمار اور ان کی موت کا وقت مقرر کیا ہوا ہے، میں اپنے رب کے بے شمار اور لا تعداد فضل و کرم پر اسی کی حمد بیان کرتا ہوں اور شکر بجا لاتا ہوں ، شرکاء اور ہم سروں سے کہیں بلند ذات ہی پاک ہے، اس کے تسلط کے سامنے تمام سرکردہ اور سربراہ ہیچ ہیں، اس کی عظمت کے سامنے جگر بھی چاک ہو گئے اور اس کے ڈر  اور خوف سے ٹھوس اور سنگلاخ پہاڑ بھی پھٹ گئے۔

میں اللہ تعالی کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں  اس کی مخلوقات اور اس کی رضا کے مطابق، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی روشنائی کے برابر، اللہ تعالی پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ ، اللہ تعالی پاک ہے وہی عظمت والا ہے، ہمارے پروردگار تو پاک ہے! تو بہت عظیم ہے،  تو بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے، تو پاک ہے، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بہت بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں!

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں ، وہ معاندین  ، ہم پلہ اور اولاد سے پاک ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا اور امانت ادا کر دی اور امت کی خیر خواہی فرمائی، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں پر قیامت تک درود و سلام نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

اللہ کے بندوں!

میں خلوت و جلوت میں تمہیں اور اپنے آپ کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، یہی اللہ تعالی کی پہلے اور بعد میں آنے والوں کو نصیحت ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ} اور البتہ تحقیق ہم نے تم سے پہلے کتاب دیئے جانے والے لوگوں کو اور تمہیں بھی یہی نصیحت کی ہے کہ تقوی الہی اختیار کرو۔[النساء: 131]

مسلمانو!

ہمیں اس بات کی کتنی ضرورت ہے کہ ہم اللہ تعالی کو یاد کریں اور توبہ کیلیے تجدید عہد کریں، اپنے آپ کو ہوس پرستی سے روکنے اور تقوی اپنانے کیلیے تیار کریں۔

ہم یہ بھی احساس اجاگر کریں کہ اللہ تعالی ہمارا نگران ہے، وہ بہت عظیم ہے، اس کے حساب و عذاب کو ذہنوں میں تازہ کریں۔

ہم جدائیاں اور پنڈلی سے پنڈلی ملنے کے لمحات [یعنی: روزِ قیامت]کیلیے تیاری کریں، ہم اللہ تعالی کے سامنے پیش ہونے کیلیے زادِ راہ تیار کریں کہ اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، دوست اور بیٹوں سے دور بھاگے گا، اس دن ہر شخص کو اپنی پڑی ہو گی۔

اللہ کے بندو!

سائنسی انقلاب، نت نئی ٹیکنالوجی اور لوگوں کیلیے آفاقی رسائی  کی وجہ سے ثقافتی کشمکش پیدا ہو چکی ہے اور سماجی رابطے کے ذرائع سے ہم اپنے گھرانوں میں نبرد آزما ہیں، سوشل میڈیا تک ہر چھوٹے بڑے، مرد اور عورت کو رسائی حاصل ہے، ان حالات میں مسلمان کو اپنی اور اپنے اہل خانہ کی تربیت کیلیے ایک عظیم صفت اور جلیل القدر عبادت کی اشد ضرورت ہے جو کہ انتہائی عظیم الشان عبادت اور نیکی ہے،  وہ صفت اللہ تعالی کی حرام کردہ چیزوں اور گناہوں کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے، اس کی وجہ سے انسان حرام چیزوں سے بچ کر نیکیوں کی جانب راغب ہو سکتا ہے، بلکہ یہ ہر نیکی اور اچھے کام کی ترغیب دلاتی ہے، نیز اس کی وجہ سے دلوں میں اللہ تعالی کی ہیبت بھی پیدا ہوتی ہے۔

وہ صفت یہ ہے کہ خلوت اور جلوت میں خشیت الہی اپنائیں، اللہ کی قسم! یہ جتنی بلند خوبی ہے اس کی ہمیں اتنی ہی ضرورت بھی ہے ،اس سے اصلاح ہوتی ہے اور تقوی  حاصل ہوتا ہے، یہ ایمان کی دلیل نیز عقیدہ توحید اور اخلاص کا ثمر ہے، اس سے اخلاق پروان چڑھتا ہے ، ایک مکمل انسان کی صورت میں زندگی گزارنے کیلیے انسان کو خشیتِ الہی کی عملاً ضرورت ہے ۔

تنہائی میں اللہ تعالی سے ڈرنا صفتِ احسان کا تقاضا ہے، اور احسان کا مطلب یہ ہے کہ : (تم اللہ تعالی کی بندگی ایسے کرو کہ گویا تم اللہ تعالی کو دیکھ رہے ہو اور اگر تم اللہ تعالی کو نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے)

دل میں یہ احساس پیدا ہونا خشیتِ الہی کا لازم ہے کہ اللہ تعالی ہمارا نگران ہے، اور اس بات کا علم ہو کہ اللہ تعالی ہر چیز پر گواہ ہے، لوگوں کے دلوں اور ان کے اعمال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے، وہ آنکھوں کی خیانت اور سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے، اور اس کے بندے جہاں بھی ہوں وہ ان کے ساتھ ہے، {مَا يَكُونُ مِنْ نَجْوَى ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا} تین آدمی سرگوشی کریں تو وہ چوتھا ہوتا ہے اور پانچ کریں تو ہو چھٹا ہوتا ہے، اس سے کم لوگ کریں یا زیادہ لوگ وہ ان کے ساتھ ہی ہوتا ہے، چاہے وہ جہاں بھی ہوں[المجادلہ: 7]

اب جو شخص یہ جان لے کہ اللہ تعالی اسے ہر جگہ دیکھ رہا ہے، اللہ تعالی اس کے ظاہر و باطن ، خفیہ اور اعلانیہ  ہر چیز سے واقف ہے، اور یہی بات خلوت اور تنہائی میں بھی اجاگر رہے تو تنہائی میں بھی انسان گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔

اللہ کے بندو!

تنہائی میں خشیتِ الہی مغفرت کے دروازوں کی چابی ہے، اور اس میں خیر ہی خیر کے ساتھ اجر عظیم بھی ہے، {إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ} بیشک جو لوگ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں ان کیلیے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔[الملك: 12]

بن دیکھے اللہ تعالی سے ڈرنا  رضائے الہی اور جنت میں داخلے کا سبب ہے، {مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُنِيبٍ (33) ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ ذَلِكَ يَوْمُ الْخُلُودِ}  جو رحمن سے بن دیکھے  ڈرتا رہا اور رجوع کرنے والا دل  لے کر حاضر ہوا [33] اس [جنت]میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ یہ دن حیات ابدی کا دن ہے [ق: 33، 34]

اسی طرح فرمایا: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ (7) جَزَاؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ} جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، یقیناً وہ بہترین مخلوق ہیں [7] ان کے پروردگار کے ہاں ان کا بدلہ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے یہ سب کچھ اس کے لیے ہے جو اپنے پروردگار  سے ڈرتا رہا ۔[البینہ: 7، 8]

خشیت الہی متقی لوگوں کی صفت ہے{وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى وَهَارُونَ الْفُرْقَانَ وَضِيَاءً وَذِكْرًا لِلْمُتَّقِينَ (48) الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ وَهُمْ مِنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُونَ}  اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ اور ہارون کو جو کتاب (تورات) دی تھی وہ (حق و باطل میں) فرق کرنے والا تھی اور ایسے پرہیزگاروں کے لئے روشنی اور نصیحت  تھی۔ [48] جو اپنے پروردگار سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور وہ روز قیامت  کا خوف دل میں رکھتے ہیں۔ [الأنبياء: 48، 49]

خشیتِ الہی دلوں کو بھلائی کیلیے تیار کرتی ہے اور انہیں پند و نصائح قبول کرنے پر آمادہ کرتی ہے {إِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَخَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ} بے شک آپ متبعینِ قرآن اور تنہائی میں رحمن سے ڈرنے والوں کو ڈراتے ہیں[يس: 11] اسی طرح فرمایا:{سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَخْشَى [10] وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى } خشیت رکھنے والا ہی نصیحت پکڑے گا [10] اور بد بخت اس سے اجتناب کرے گا۔[الأعلى: 10- 11]

خشیتِ الہی کی وجہ سے پند و نصائح اور وعظ و نصیحت کا دلوں اور احساسات پر اثر مزید بڑھ جاتا ہے {اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ} اللہ نے بہترین کلام نازل کیا جو ایسی کتاب ہے جس کے مضامین ملتے جلتے اور بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ جن سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں پھر ان کی جلد اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ [الزمر: 23]

اللہ تعالی نے احرام باندھنے والوں کا خشیت اور خوفِ الہی  کیلیے امتحان لیا اور فرمایا: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّيْدِ تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَخَافُهُ بِالْغَيْبِ} اے ایمان والو ! اللہ ایسے شکار کے ذریعہ تمہاری آزمائش کرے گا جو تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہوں گے۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ کون غائبانہ طور پر  اللہ سے ڈرتا ہے۔ [المائدة: 94]

اللہ کے بندو!

پتھر جو کہ جمادات ہیں سننے کی طاقت نہیں رکھتے وہ بھی اللہ تعالی کے ڈر سے گر جاتے ہیں  اور پھٹ پڑتے ہیں، ان کا جمود ، بے عقلی اور لا شعوری بھی خشیتِ الہی کے اثرات کے سامنے رکاوٹ نہیں بن سکی، پتھروں کی مضبوطی ، ٹھوس پن اور سنگلاخی بھی پتھروں کو متاثر ہونے سے نہیں بچا سکی، {وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ} پتھروں میں سے تو کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں۔ اور کچھ ایسے ہیں جو پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلنے لگتا ہے۔ اور کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے ڈر سے (لرز کر) گر پڑتے ہیں۔ [البقرة: 74]

تو-اللہ کے بندو- ہمیں چاہیے کہ ہم بھی نصیحت پکڑیں، اپنے دلوں میں خشوع پیدا کریں اور ان پتھروں سے ہی عبرت حاصل کر لیں، أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ} جو لوگ ایمان لائے ہیں کیا ان کے لئے ایسا وقت نہیں آیا کہ اللہ کے ذکر سے اور جو حق نازل ہوا ہے، اس سے ان کے دل نرم ہو جائیں ؟ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں اس سے پہلے کتاب دی گئی تھی پھر ان پر ایک طویل مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے  اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں ۔ [الحديد: 16]

اللہ تعالی میرے اور آپ کیلیے قرآن مجید کو بابرکت بنائے، مجھے اور آپ کو قرآنی آیات اور حکمت بھری نصیحتوں سے مستفید فرمائے، میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور عظمت و جلال والے اللہ  سے اپنے اور سب مسلمانوں کیلیے تمام گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہوں، اس لیے آپ بھی اسی سے بخشش طلب کرو، بیشک وہ بخشنے والا ہے اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں اسی نے دلوں کو فطری طور پر خشیت عطا فرمائی، دل بھی اس کی محبت اور خوف سے اس کے مطیع بن گئے اور اپنے فضل و رحمت سے ہماری رہنمائی فرمائی، درود و سلام ہوں خاتم الانبیاء والمرسلین پر، ان کی آل اور اولیاء پر۔

اللہ کے بندو!

معاہدوں کی پاسداری کرو، کل کیلیے تیاری کر لو، آخرت قریب آ رہی ہے اور دنیا گزرتی جا رہی ہے، موت کا وقت قریب ہے، اور سفر بہت لمبا ہے، زادِ راہ معمولی ہے جبکہ خطرات بہت زیادہ ہیں۔

یہ بات ذہن نشین کر لو کہ تمہارے اعضا ہی تمہارے نا قابل تردید گواہ ہیں، اس لیے ان کا بھر پور خیال کرو خلوت و جلوت میں تقوی الہی اپناؤ؛ کیونکہ کوئی پوشیدہ سے پوشیدہ چیز بھی اس کے سامنے مخفی نہیں ہے، بلکہ ہر چیز اس کے سامنے عیاں ہے۔

مسلم اقوام!

تنہائی میں بھی خشیت الہی اپنانا سعادت مندی اور سکون کا باعث ہے، اس سے راحت اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، یہ فتنوں سے بچاؤ کا باعث بھی ہے، لذتِ خشیت  کا اسی کو علم ہے جس نے اس کی لذت چکھی ہے؛ لہذا نفس کو خشیت الہی کا پابند بنانے کیلیے پورے عزم اور کوشش سے محنت کرو  کہ نفس برائیوں سے رک جائے، اور بڑھاپے سے پہلے اسے نکیل ڈل جائے، کیونکہ اگر دل خوف، ڈر اور اللہ تعالی کے جلال سے معمور ہو تو اعضا گناہوں کے ارتکاب سے باز رہتے ہیں۔

نبی ﷺ سے یہ صحیح ثابت ہے کہ: (تین چیزیں باعث نجات ہیں: غضب اور خوشی ہر دو حال میں عدل کرنا، امیری اور فقیری میں میانہ روی اختیار کرنا، خلوت و جلوت میں اللہ کا خوف قائم رکھنا)

اللہ کے بندو!تزکیۂ نفس اور خشیتِ الہی دلوں کی اصلاح سے مربوط ہے: (متنبہ رہو! جسم میں ایک ٹکڑا ہے اگر وہ صحیح ہو جائے تو سارا جسم صحیح ہو جائے گا اور اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم برباد ہو جائے گا اور وہ دل ہے)

حصولِ خشیتِ الہی کیلیے دعائیں کرو، اس کام میں تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ بہترین نمونہ ہیں: (اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ [یا اللہ! ہمیں تیری اتنی خشیت عطا فرما جو ہمارے لیے تیری نافرمانی کے سامنے رکاوٹ بن جائے])

(اَللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، وَكَلِمَةَ الْعَدْلِ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا ، وَنَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى ، وَنَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَبِيْدُ ، وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ ، وَنَسْأَلُكَ الرِّضَاءَ بَعْدَ الْقَضَاءِ ، وَنَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَنَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ ، وَنَسْأَلُكَ الشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ ، فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ ، اَللَّهُمَّ زَيَنَّا بِزِيْنَةِ الْإِيْمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُّهْتَدِيْنَ، يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ![یا اللہ! ہم تجھ سے تنہائی اور بھرے مجمعے میں خشیت کا سوال کرتے ہیں، غضبناکی اور رضا مندی ہر دو حالت میں عدل  و حق پر مبنی بات کا سوال کرتے ہیں، اور ہم تجھ سے فقیری اور امیری میں میانہ روی  مانگتے ہیں، ہم نہ ختم ہونے والی نعمتوں کا سوال کرتے ہیں، آنکھوں کی دائمی ٹھنڈک چاہتے ہیں، تیرے فیصلوں پر رضامندی کے طلب گار ہیں، ہم تجھ سے مرنے کے بعد خوشحال زندگی کی درخواست کرتے ہیں، نیز تجھ سے تیرے چہرے کے دیدار کی لذت مانگتے ہیں، تجھ سے ملنے کا شوق چاہتے ہیں، یا اللہ! ہمیں یہ سب چیزیں بغیر کسی تنگی اور تکلیف کے عطا فرما، کسی بھی گمراہ کن آزمائش کے بغیر عطا فرما، یا اللہ! ہمیں زینتِ ایمان  سے مزین فرما، اور ہمیں ہدایت یافتہ رہنما فرما، یا رب العالمین])

یا اللہ! ہمارے دلوں اور اعمال کو سنوار دے، یا اللہ! ہمارے دلوں اور اعمال سنوار دے، یا اللہ! ہمارے دلوں اور اعمال سنوار دے۔ یا اللہ! دلوں کو پھیرنے والے، ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم بنا، یا اللہ! دلوں کو پھیرنے والے، ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر ثابت قدم بنا۔

یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ مت فرما، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما،  فرزندان توحید کی مدد فرما، یا اللہ! اس ملک کو اور دیگر تمام اسلامی ممالک کو  امن و سلامتی والا بنا۔

یا اللہ! ہمیں ہمارے خطوں میں امن عطا فرما، ہمارے حکمرانوں اور ملکی قیادت کی اصلاح فرما، یا اللہ! ہمارے حکمران کو  خصوصی توفیق سے نواز، ان کی خصوصی مدد فرما، ان کے ذریعے اپنا دین غالب فرما، یا رب العالمین!

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے تمہیں اپنے جس نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا ہے ان پر درود و سلام پڑھو، حکم دیتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام  بھیجا  کرو۔ [الأحزاب: 56]

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

{سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ (180) وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ (181) وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت والا ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں [180] پیغمبروں پر سلام ہے[182] اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔ [الصافات: 180 - 182]

 

Read 1538 times

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم