بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
ہفتہ, 24 دسمبر 2016 11:31

مساجد کی فضیلت، احکام اور ہماری ذمہ داریاں

Written by  جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم , ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

بسم الله الرحمن الرحيم  

 

پہلا خطبہ:

یقیناً تمام  تعریفیں اللہ  کیلیے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد   اللہ کے بندے اور اس کے رسول  ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود  و سلامتی نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

اللہ کے بندو! کما حقہ اللہ سے ڈرو اور اسلام کے کڑے کو مضبوطی سے تھام لو۔

مسلمانو!

اللہ تعالی نے اپنی مخلوقات کو درجہ بندیوں میں تقسیم فرمایا کر اپنے فضل سے جسے چاہا اپنا بنایا، اور ہمیں نصوص کی روشنی میں فضیلتوں کو جاننے اور ان سے متعلقہ مشروع عبادات کی تعمیل پر پابند کیا، یہ حقیقت میں مسلمان کیلیے فضیلتوں والے اعمال بجا لانے اور بلند درجات پر فائز ہونے کیلیے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب ہے، مخلوق میں درجہ بندی کا معیار تقوی اور بندگی  پر ہے، ہم جنس افراد کی درجہ بندی بہت زیادہ متفاوت بھی ہو سکتی ہے جیسے کہ آپ ﷺ نے دو آدمیوں کے متعلق فرمایا: (یہ شخص اُس شخص جیسے زمین بھر افراد سے بھی بہتر ہے) بخاری

زمین کے درجے بھی اسی طرح ہیں، چنانچہ اللہ تعالی کے ہاں محبوب ترین مقام عبادت کے مقام ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (اللہ تعالی کے ہاں محبوب ترین جگہیں: مساجد ہیں) مسلم؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ: ان جگہوں پر عبادات اور اذکار کئے جاتے ہیں ، مومن جمع ہوتے ہیں، اور شعائرِ دین پر عمل ہوتا ہے۔

معزز اور محترم ترین مسجد؛ مسجد الحرام ہے، یہ دنیا کی سب سے پہلی مسجد اور لوگوں کیلیے مینارِ ہدایت ہے: {إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ}بیشک لوگوں کیلیے مکہ میں بنایا گیا پہلا گھر  بابرکت اور جہانوں کیلیے باعثِ ہدایت ہے۔ [آل عمران: 96] اللہ تعالی نے اس مسجد کا حج اور طواف واجب کیا اور اسے مومنوں کا قبلہ قرار دیا، یہاں ایک نماز دیگر مساجد کی نمازوں سے ایک لاکھ گنا بہتر ہے۔

دوسری افضل ترین مسجد آپ ﷺ کی مسجد ہے، مسجد نبوی کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقوی پر رکھی گئی : ( میری اس مسجد میں ایک نماز مسجد الحرام کے علاوہ دیگر  مساجد کی نمازوں سے ہزار گنا بہتر ہے) متفق علیہ ، یہ کسی بھی نبی کی تعمیر شدہ آخری مسجد ہے ۔

مسجد اقصی قبلہ اول اور رسول اللہ ﷺ کی جائے اسراء ہے، اس مسجد کی بنیاد مسجد الحرام کے بعد رکھی گئی۔

صرف انہی تین مساجد کی جانب ثواب کی نیت سے سفر کرنا  جائز ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: ( تین مسجدوں کے علاوہ کسی بھی مسجد کی جانب رخت سفر باندھنا جائز نہیں ہے: میری یہ مسجد، مسجد الحرام اور مسجد اقصی) متفق علیہ

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "تمام اہل علم کے مطابق ان تین مساجد کے علاوہ کسی بھی مسجد کی جانب ثواب کی نیت سے سفر کرنا مشروع نہیں ہے"

مسجد قباء کی بنیاد بھی پہلے دن سے ہی تقوی پر ہے، نبی ﷺ : (ہر ہفتے پیدل یا سوار ہو کر مسجد قباء آتے تھے) بخاری، اور ایک روایت میں ہے: (جو شخص اپنے گھر سے وضو کرے اور پھر مسجد قباء آ کر نماز پڑھے تو اس کیلیے عمرے کا اجر ہو گا) ابن ماجہ

اس دھرتی پر حرمین ، مسجد اقصی اور مسجد قباء  کے علاوہ کسی مسجد کی کوئی خاص فضیلت نہیں ہے، دیگر تمام مساجد کا حکم عام مساجد والا ہے۔

یہ مسجدیں ، بیوت اللہ ہیں، اللہ تعالی نے انہیں اپنی جانب ان کے اعزاز اور شرف  کی وجہ سے منسوب فرمایا، ان کا تذکرہ بار بار کیا، مساجد آباد کرنے والے چنیدہ  انبیائے کرام اور ان کے پیروکار ہوتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ}اور جب ابراہیم اور اسماعیل کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔[البقرة: 127] نبی ﷺ جیسے ہی قباء پہنچے تو پہلے مسجد قباء بنائی اور پھر جب مدینہ پہنچے تو اپنی مسجد تعمیر فرمائی۔

اللہ تعالی نے مساجد  کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کیلیے لوگوں کو ایک دوسرے سے ہٹائے رکھا، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا} اگر اللہ تعالی لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو عبادت خانے ،گرجے ،یہودیوں کے معبد خانے اور وہ مسجدیں بھی ڈھا دی جاتیں جہاں اللہ کا نام با کثرت لیا جاتا ہے۔ [الحج: 40]

مساجد بنانا اطاعت اور عبادت ہے، اللہ تعالی نے مسجد بنانے والے سے جنت کا وعدہ فرمایا، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جس نے اللہ کیلیے مسجد بنائی، اللہ تعالی اس کیلیے جنت میں ویسا ہی گھر بناتا ہے) متفق علیہ

مسجد جانے والے کو بھی اجر عظیم ملتا ہے ، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (اس کیلیے ہر قدم کے بدلے میں نیکی ہے، اللہ تعالی اس کا ایک درجہ بلند اور اس کی ایک برائی مٹا دیتا ہے) مسلم

بلکہ مسجد سے واپس گھر آتے ہوئے بھی اسی طرح نیکیاں لکھی جاتی ہیں، ایک آدمی نے آپ ﷺ سے عرض کیا: "میں چاہتا ہوں کہ میرا مسجد جانا اور مسجد سے واپس گھر آنا دونوں ہی بطورِ ثواب لکھا جائے" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اللہ تعالی نے تمہارے لیے یہ سب کچھ لکھ دیا ہے) مسلم

مساجد کی جانب زیادہ سے زیادہ چل کر جانا اور مساجد میں نمازوں کا انتظار کرنا رباط [راہِ الہی میں پہرہ] دینے کے مترادف ہے، (جو شخص صبح کے وقت مسجد جائے یا شام کے وقت، وہ جب بھی صبح یا شام کو مسجد جاتا ہے تو اللہ تعالی اس کیلیے جنت میں مہمان نوازی کی تیاری فرماتا ہے) متفق علیہ

(نماز کیلیے جو جتنا دور سے چل کر آئے گا اس کا اجر بھی اتنا ہی زیادہ ہو گا، اور امام کے ساتھ نماز ادا کرنے کیلیے انتظار کرنے والے کا اجر اس شخص سے زیادہ ہے جو [تنہا] نماز پڑھ کر سو جائے ) متفق علیہ

مسجدوں کی جانب چل کر جانا بھی گناہوں کی بخشش کا باعث ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص نماز کیلیے اچھی طرح وضو کرے اور فرض نماز ادا کرنے کیلیے چلے پھر لوگوں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ یا مسجد میں [اکیلے]نماز ادا کرے تو اللہ تعالی اس کے گناہ بخش دیتا ہے) مسلم

مسجد جانے کی پابندی اور مسجد سے لگاؤ: ہدایت اور  بہتری کا باعث ہے، جن سات لوگوں کو اللہ تعالی اپنا سایہ نصیب فرمائے گا جب اس کے سائے کے علاوہ کسی کا سایہ نہیں ہوگا، ان میں وہ شخص بھی ہے: (جس کا دل مسجد کے ساتھ اٹکا ہوا ہے) مسلم، امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے مسجد کے ساتھ سخت لگاؤ  تھا اور وہ مسجد میں نماز با جماعت کا اہتمام کرتا تھا"

(مسجد میں داخل ہونے کے بعد مسلمان اس وقت تک نماز کی حالت میں ہوتا ہے جب تک نماز اسے مسجد میں روکے رکھے، اور جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہے تو اس کیلیے فرشتے دعائیں کرتے ہوئے کہتے ہیں:  یا اللہ! اسے بخش دے، یا اللہ! اس پر رحم فرما) بخاری

سابقہ امتوں میں بھی مساجد کا مقام بہت بلند تھا، اللہ تعالی نے ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کو مسجد الحرام کی صفائی ستھرائی کا حکم دیا: {وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ} ہم نے ابراہیم اور اسماعیل سے وعدہ لیا کہ تم میرے گھر کو طواف اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھو گے [البقرة: 125] جناب عمران کی اہلیہ نے بھی اپنے نو مولود کی مسجد اقصی کی خدمت کیلیے نذر مانی تھی: {رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا} پروردگار! میں نے نذر مانی ہے کہ جو کچھ میرے بطن میں ہے وہ[مسجد اقصی کی خدمت کیلیے] آزاد ہے۔[آل عمران: 35]

اسلام نے بھی مسجد کو خوب مقام و مرتبہ دیا، اور خادمِ مسجد کی عزت افزائی فرمائی، چنانچہ نبی ﷺ نے مسجد میں جھاڑو دینے والی خاتون کے بارے میں استفسار کیا تو صحابہ نے کہا: "وہ تو فوت ہو گئی ہے" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (مجھے اس کی قبر بتلاؤ) تو صحابہ کرام نے آپ کی قبر بتلا دی، تو نبی ﷺ نے اس کا جنازہ پڑھا ۔  بخاری

جس وقت  دیہاتی شخص نے مسجد میں پیشاب کیا تو آپ ﷺ نے پانی کا ایک ڈول اس پر بہانے کا حکم دیا، پھر اسے مسجد میں پیشاب کی حرمت بھی بتلائی اور فرمایا: (مسجدوں میں بول و براز کرنا بالکل بھی درست نہیں) مسلم

مسجد میں آنے کے آداب میں یہ شامل ہے کہ اچھے لباس کے ساتھ آئیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَابَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ} اے بنی آدم ! جب بھی کسی مسجد میں جاؤ تو آراستہ ہو کر جاؤ [الأعراف: 31] مسجد کے آداب میں یہ بھی شامل ہے کہ مسجد میں آ کر سکون اور وقار  کے ساتھ رہے  اور چلے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جب نماز کی اقامت ہو جائے تو دوڑتے ہوئے مسجد نہ آؤ، بلکہ پر وقار انداز سے چلو، نماز کا جو حصہ مل جائے وہ پڑھ لو اور جو رہ جائے وہ پورا کر لو) متفق علیہ

جب مسجد میں داخل ہو تو مسجد کے احترام میں پہلے اپنا دایاں قدم   رکھے ، اور چونکہ مسجد عبادت، رحمت اور دعا کی جگہ ہے اس لیے داخل ہوتے وقت کہے: (اَللَّهُمَّ افْتَحْ لِيْ أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ)[یا اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے] اور جب باہر نکلے تو کہے:  (اَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ) [یا اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں]مسلم

اور تحیۃ المسجد کیلیے (اس وقت تک کوئی نہ بیٹھے جب تک دو رکعت نہ پڑھ لے)

مسجد میں اذان دی جائے تو یہ تحفظ اور امان کا باعث ہے؛ کیونکہ نبی ﷺ غزوے کے دوران اذان کی آواز کیلیے کان لگاتے، چنانچہ اگر اذان کی آواز سنائی دیتی تو حملہ نہ کرتے، وگرنہ حملہ کر دیتے تھے۔

اگلی صفوں کیلیے سبقت کرنے والے ہی کوشش کرتے ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (اگر لوگوں کو اذان اور پہلی صف کا اجر معلوم ہو جائے تو  انہیں قرعہ اندازی کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہ آئے  گا اور  وہ اس پر قرعہ اندازی بھی کر گزریں) مسلم

فرض نماز کے احترام میں : (جب جماعت کھڑی ہو جائے  تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہوتی) مسلم

نبی ﷺ نے مساجد کی آباد کاری کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا: (بیشک مساجد ذکرِ الہی، نماز اور تلاوتِ قرآن کیلیے ہیں) مسلم

مساجد کی آباد کاری ذکر اور علم کے ذریعے ہو گی:{فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ} ان گھروں میں جن کے بلند [یعنی آباد]کرنے اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ تعالی نے حکم دیا ہے [النور: 36] اللہ تعالی نے مسجدوں کو نیکیوں سے آباد کرنے والوں کی تعریف فرمائی اور یہ اعزاز بخشا کہ اللہ تعالی نے انہیں دنیا کے فتنے سے محفوظ فرما لیا ہے: {يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ(36) رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ } ان میں ایسے لوگ جو صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں [36]وہ ایسے لوگ ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت ذکرِ الہی، نماز کی پابندی اور زکاۃ کی ادائیگی سے غافل نہیں کرتیں، وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن قلب و بصر پھر جائیں گے۔ [النور: 36]  بلکہ ان کیلیے مومن اور ہدایت یافتہ ہونے کی گواہی بھی دی فرمانِ باری تعالی ہے: { إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسَى أُولَئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ} اللہ کی مساجد کو آباد کرنا تو اس کا کام ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے، نماز قائم کرے، زکاۃ ادا کرے اور اللہ کے سوا کسی  سے نہ ڈرے، امید ہے کہ ایسے ہی لوگ ہدایت یافتہ ہوں گے [التوبہ: 18]

فرشتے بھی مسجدوں میں آتے ہیں اور خطبہ سنتے ہیں ، نیز مسجدوں میں قائم ہونے والی علمی مجلسوں کو اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں (اللہ تعالی کے کسی گھر میں لوگ جمع ہو ں، قرآن مجید کی تلاوت کریں، قرآن کریم کا باہمی مذاکرہ کریں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، انہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں، نیز اللہ تعالی ان کا اپنے ہاں تذکرہ فرماتا ہے ) مسلم

مسجدوں میں حصولِ علم متاعِ دنیا سے افضل ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تم میں سے کوئی مسجد جا کر علم حاصل کیوں نہیں کرتا یا قران کریم کی دو آیتیں ہی کیوں نہیں پڑھتا!؟ یہ دو آیتیں اس کیلیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہیں، تین آیات تین اونٹنیوں سے بہتر ہیں، چار  آیات چار اونٹنیوں سے بہتر ہیں ، جتنی آیات اتنی ہی اونٹنیوں سے بہتر ہیں) مسلم

نبی ﷺ نے اپنی مسجد کو تعلیم  کیلیے استعمال کیا جس کے نتیجے میں ایسی  کھیپ تیار ہوئی جس کا ثانی نہ کوئی تھا اور نہ ہی ہو گا، آپ ﷺ مسجد نبوی میں علم اور ذکر کے حلقوں میں شامل ہونے کی ترغیب دیتے تھے، آپ ﷺ نے تین لوگوں کے بارے میں فرمایا: (ان میں سے ایک اللہ کی پناہ میں چلا گیا تو اللہ تعالی نے اسے پناہ دے دی، دوسرا  حیا کر گیا تو اللہ تعالی نے بھی اس سے حیا کر لی، اور تیسرے شخص نے اعراض کیا تو اللہ تعالی نے بھی اس سے اعراض کر لیا) متفق علیہ

مساجد میں روح کو سکون  اور چین ملتا  ہے، اس لیے مساجد میں چیخنا چلانا، لڑائی جھگڑا کرنا یا شور مچانا جائز نہیں ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے: (مسجد میں اپنے آپ کو بازاری شور سے بچاؤ) مسلم، یہی وجہ ہے کہ جس وقت عمر رضی اللہ عنہ نے کسی کو مسجد میں آواز بلند کرتے ہوئے سنا تو انہیں بلا کر فرمایا: (اگر تم یہاں کے رہائشی ہوتے تو سخت سزا دیتا، تم رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں آوازیں بلند کرتے ہو؟!) بخاری

مسجدیں امن و امان اور اطمینان کی جگہیں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: (جو بھی ہماری مسجد یا بازار میں نیزہ لیکر گزرے تو وہ اس کے پھل سے پکڑ لے تاکہ  کسی مسلمان کو زخمی نہ کر دے) متفق علیہ

مسجد میں عبادت کرنے والے کی اتنی شان ہے کہ اسے چھو کر بھی اذیت دینا جائز نہیں، چنانچہ ایک شخص جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آیا تو آپ ﷺ نے اسے فرمایا: (بیٹھ جاؤ تم ایذا پہنچا رہے ہو) ابو داود

بلکہ بد بو سے بھی مسجد میں عبادت کرنے والے کو تکلیف دینا جائز نہیں، آپ ﷺ نے ایسے شخص کو بطورِ سزا مسجد میں جانے سے روک دیا جس میں سے بد بو آ رہی ہو،  آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص لہسن یا پیاز کھائے  تو وہ ہم سے دور رہے یا ہماری مسجد سے دور رہے اور گھر بیٹھا رہے) متفق علیہ  ، ابن اثیر رحمہ اللہ کے مطابق: "یہ ممانعت بطور عذر نہیں ،بلکہ  مسجد سے دوری کا حکم بطورِ سزا ہے"

مسجدیں راحت اور آخرت یاد کرنے کی جگہیں ہیں یہاں پر دنیا داری سے کٹ کر اللہ تعالی کے ساتھ تعلق مضبوط کیا جاتا ہے؛ اسی لیے مسجدوں میں خرید و فروخت منع ہے، بلکہ اس پر ڈانٹ بھی پلائی گئی، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جب تم کسی کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو کہو: اللہ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے) ترمذی

مزید برآں مسجد میں دنیاوی پریشانیوں میں مشغول ہونے سے بھی روکا اور فرمایا: (جو شخص مسجد میں کسی کو اپنی گم شدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے سنے تو اسے کہہ دے: اللہ تمہاری چیز نہ لوٹائے، مسجدیں اس لیے نہیں بنائی گئیں!) مسلم

چونکہ مسجدیں سعادت مندی اور راہِ راست کا منبع ہیں اسی لیے آپ ﷺ : (جب آپ سفر سے آتے تو سب سے پہلے مسجد میں نماز ادا کرتے) بخاری

ہر مسلمان کی اولین ذمہ داری ہے کہ  صرف ایک اللہ کی بندگی کرے اور مسجد کے اندر یا مسجد سے باہر کہیں بھی اللہ کے سوا کسی کو نہ پکارے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا} اور بے شک مساجد اللہ کیلیے ہیں، کسی کو بھی اللہ کے ساتھ مت پکارو۔[الجن: 18] نیز مسجد زندہ لوگوں کے مستفید ہونے کی جگہ ہے؛ لہذا مسجدوں میں قبریں بنانا  اس مقصد کے منافی اور غیر اللہ کی بندگی کا ذریعہ  ہے۔

گناہ ویسے تو ہر مکان و آن ہی برے ہوتے ہیں لیکن مسجدوں میں غیبت  ، بد نظری، اور موبائل وغیرہ سے گانے بجانے سننے پر گناہوں کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے۔

باہمی الفت اور اتحاد کی فضا پیدا کرنا مساجد کے اہداف  میں سے ہے، اس لیے مساجد کو گروہ بندی اور اختلاف کا ذریعہ بنانا جائز نہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا الْحُسْنَى} اور وہ لوگ جنھوں نے مسجد بنائی تکلیف دینے اور کفر پھیلانے اور ایمان والوں کے درمیان تفریق ڈالنے کے لیے اور گھات لگانے کے لیے جنھوں نے اس سے پہلے اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کی اور یقیناً وہ ضرور قسمیں اٹھائیں گے کہ ہم نے بھلائی کے سوا کچھ ارادہ نہیں کیا ۔[التوبہ: 107] اگر کوئی شخص مزاروں وغیرہ جیسی عمارتیں تعمیر کر کے مسجدوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرے تو یہ بھی مسجد ضرار یا اس سے بھی بد تر ہوں گی، دینِ اسلام کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مساجد کے علاوہ کسی بھی جگہ کو عبادت کیلیے مختص نہ کیا جائے، تمام مساجد میں عبادات یکساں کی جاتی ہیں، ما سوائے مسجد الحرام کے؛ کیونکہ یہاں طواف وغیرہ مسجد الحرام کی امتیازی خوبی ہے۔

ان تمام تر تفصیلات کے بعد: مسلمانو!

مسجدیں مسلمانوں کیلیے اعزاز ، باعث شرف  اور دینی شعار ہیں،  مساجد کو نمازوں اور ذکرِ الہی کے ساتھ آباد کرنے والوں کو اللہ تعالی رفعت اور سعادت سے نواز کر ان کی شرح صدر فرما دیتا ہے، مسجدوں میں قرآن و سنت کی تعلیم مساجد کی آبادکاری کیلیے حکمِ ربانی کی تعمیل ہے، اس سے احیائے سنت نبوی کے ساتھ وقت اور عمل میں برکت ملتی ہے، انسان خود کو اور اپنی اولاد کو بہتری کی جانب گامزن کرتا ہے، اگر کوئی شخص  مساجد کی خیر سے محروم ہے یا  اس خیر میں رکاوٹ بنتا ہے تو وہ بہت سی فضیلتوں سے محروم ہے۔

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ} آپ کہہ دیں: میرے پروردگار نے انصاف کا حکم دیا ہے، اور ہر مسجد میں نماز کے وقت اپنی توجہ ٹھیک اسی کی طرف رکھو اورعبادت اسی کیلیے خالص کرتے ہوئے خالصتاً اسی کو پکارو ، جس طرح اس نے تمہیں پہلے پیدا کیا ہے اسی طرح تم پھر  پیدا کئے جاؤ گے ۔[الأعراف: 29]

 اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی  بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں کہ اس نے ہم پر احسان کیا ، اسی کے شکر گزار بھی ہیں کہ اس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اس کی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد  اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اللہ تعالی ان پر ، ان کی آل و صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں و سلامتی نازل فرمائے۔

مسلمانو!

  مساجد میں نماز با جماعت اسلام کے شعائر اور واجبات میں شامل ہے، رسول اللہ ﷺ نے با جماعت نماز سے پیچھے رہ جانے والوں کو جلا ڈالنے کا ارادہ فرمایا، بلا جماعت نماز پڑھنے کو منافقوں کی خاصیت شمار کیا گیا۔

بلکہ جس نابینا کو کوئی مسجد لانے والا بھی نہیں تھا اسے بھی نبی ﷺ نے مسجد آنے سے رخصت نہیں دی، لہذا اگر کوئی شخص اذان سنے اور بغیر کسی عذر کے مسجد نہ آئے تو اس کی نماز نہیں ، ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اگر کوئی شخص کما حقُّہ احادیث پر غور و فکر کرے تو اس کیلیے یہ واضح ہو جائے گا کہ نماز مسجد میں ادا کرنا فرضِ عین ہے"

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "جو شخص اسلام کی حالت میں اللہ تعالی سے ملاقات کرنا چاہتا ہے تو وہ مسجد میں نماز با جماعت کا اہتمام کرے؛ کیونکہ اللہ تعالی نے تمہارے نبی ﷺ کیلیے ہدایت کے طور طریقے مقرر کئے ہیں اور یہ بھی انہی میں سے ایک ہے، اگر تم نمازیں گھروں میں ایسے پڑھو جیسے یہ پیچھے رہنے والا گھر میں پڑھتا ہے، تو تم اپنے نبی کی سنت کو ترک کر دو گے، اور اگر تم نے اپنے نبی کی سنت کو ترک کر دیا تو تم گمراہ ہو جاؤ گے" مسلم

عورت کی اپنے گھر میں نماز مسجد میں نماز ادا کرنے سے بہتر ہے، لیکن اگر نماز کیلیے مسجد جائے تو مکمل پردے کے ساتھ نکلے  اور ہر ایسے کام سے بچے جو مردوں  کیلیے جاذب نظر ہو مبادا نیکیوں کی بجائے خطائیں جمع  کر لے۔

اسلام ؛ اپنی مساجد، اپنے احکامات اور اہلیانِ ایمان  کی باعث بلند و بالا رہے گا، کوئی اسلام سے جنگ کرے گا تو اسلام مزید مضبوط ہوگا اور اگر کوئی اسلام کو مہلت دے گا تو مزید پھیلے گا، آپ ﷺ کا فرمان ہے:  (یہ دین جہاں تک دن اور رات ہیں وہاں تک پہنچے گا، اللہ تعالی کسی پکے گھر -یعنی شہری آبادی-یا بالوں کے بنے ہوئے خیمے کے گھر کو -یعنی دیہاتی آبادی- اسلام داخل کئے بغیر نہیں چھوڑے گا) احمد، یعنی اسلام شہری اور دیہاتی ساری آبادیوں تک پہنچے گا اور کوئی بھی غلبۂ اسلام کو نہیں روک سکتا، فرمانِ باری تعالی ہے: {يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ} وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو پھونکوں سے بھجا دیں۔[التوبہ: 32] ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: "کفار کی مثال اس بارے میں اس شخص جیسی ہے جو سورج کی کرنوں اور چاند کی روشنی کو پھونکوں سے بھجانا چاہتا ہے، جیسے یہ ناممکن ہے اسی طرح اللہ تعالی نے رسولوں کی شریعت کو بھی مکمل اور غالب فرمانا ہے اسی لیے فرمایا:  "{وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ} لیکن اللہ اپنے نور کو پورا کئے بغیر رہنے والا نہیں، چاہے کافروں کو برا لگے![التوبہ: 32]

مسلمانوں پر اس وقت پے در پے فتنے، خونریز جنگیں، تباہی، بربادی، اور دشمن مسلط ہیں یہ چیزیں حقیقت میں مسلمانوں کو اللہ تعالی  کی جانب، نمازوں، مساجد اور قرآن مجید کی طرف رجوع کرنے کی یاد دہانی کرواتی ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ} تا کہ انہیں ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھائے، تا کہ وہ رجوع کریں۔[الروم: 41]

چاہے اسباب کمزور ہوں یا نا پید! اللہ تعالی نے مومنوں کی مدد کا وعدہ کیا ہوا ہے،  اللہ تعالی نے مسلمانوں کو غزوہ بدر میں غلبہ عطا فرمایا حالانکہ مسلمان  کم تھے، اسی طرح احزاب کے موقع پر چاروں اطراف کے مشرکوں نے نبی ﷺ کا محاصرہ کرنے کی کوشش کی  تو اللہ تعالی نے ان پر تیز اندھیری اور مشرکوں کیلیے غیر مرئی لشکر  مسلط کر دئیے ، جس پر مشرکین تتر بتر  اور شکست خوردہ ہو گئے۔

اللہ تعالی اپنے مومن بندوں کی مدد پر قادر ہے، اس میں اللہ تعالی کی حکمت  ہے کہ بسا اوقات دشمن ان پر حاوی ہو جاتے ہیں کہ مسلمانوں کو شہادت کا رتبہ ملے اور مصیبت پر صبر کریں نیز اللہ تعالی کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط بنائیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لِيَبْلُوَ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ}اور اگر اللہ تعالی چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا، لیکن وہ تمہیں ایک دوسرے سے آزمانا چاہتا ہے۔ [محمد: 4] اور اسی طرح دشمنانِ اسلام کے متعلق فرمایا:  {فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ إِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّا} ان کے بارے میں جلدی نہ کریں، ہم خود ان کے لئے مدت شمار کر رہے ہیں ۔[مريم: 84]

دعا  دکھ سکھ میں مومن کا اسلحہ ہے، اللہ کی بندگی فتح کو قریب اور جلدی لاتی ہے، اور جب ظلم بڑھ جائے تو مٹ جاتا ہے، {وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ} اور تمہارا پروردگار تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے۔[هود: 123]

یہ بات جان لو کہ اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور  فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام  بھیجا  کرو۔ [الأحزاب: 56]

اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد، یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے  کرنے والے خلفائے راشدین:  ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم اور سخاوت کے صدقے ہم سے بھی راضی ہوجا، یا اکرم الاکرمین!

یا  اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما،  یا اللہ! اس ملک کو اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو خوشحال اور امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات درست فرما، یا اللہ!  جلد از جلد ان کی مشکل کشائی فرما، انہیں فتح اور نصرت  سے نواز، یا رب العالمین!

یا اللہ! تباہی اور بربادی تیرے اور مسلمانوں کے دشمنوں کا مقدر بنا دے، یا اللہ! ان کے قدموں تلے سے زمین نکال دے، ان کے دلوں پر رعب ڈال دے، یا قوی! یا عزیز!

ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، اور ان کے سارے اعمال اپنی رضا کیلیے مختص فرما، یا اللہ! تمام مسلم  حکمرانوں کو تیری کتاب پر عمل کرنے اور نفاذِ شریعت  کی توفیق عطا فرما، یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! ہماری سرحدوں کو پر امن بنا، ہمارے ملک کی حفاظت فرما، اور ہر قسم کے فتنوں اور شر کو  دور فرما دے، یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے اگر تو ہمیں نہ بخشے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

یا اللہ! تو ہی اللہ ہے اور تیرے سوا کوئی معبودِ حقیقی نہیں ہے، تو ہی غنی ہے ہم فقیر ہیں، ہمیں بارش عطا فرما، اور ہمیں مایوس مت فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما۔

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے  منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے [قبول کرو]اور یاد رکھو۔ [النحل: 90]

تم عظیم و جلیل اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ  اور زیادہ دے گا ،یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے ، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔

Read 6623 times Last modified on ہفتہ, 24 دسمبر 2016 11:35

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم