بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

ہفتہ, 17 دسمبر 2016 08:14

حالات سنوارنے کیلیے حکام اور عوام کی ذمہ داریاں

مقرر/مصنف  جسٹس حسین بن عبد العزیز آل الشیخ, ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

بسم الله الرحمن الرحيم

پہلا خطبہ

تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، وہ قوت والا اور مضبوط ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، اور اس کا کوئی شریک نہیں، وہ بہت بڑا انتقام لینے والا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد  اللہ کے بندے  اور اس کے رسول  ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو تقوی الہی اپنانے کی نصیحت کرتا ہوں، یہی اللہ تعالی کی گزشتہ اور پیوستہ سب لوگوں کیلیے تاکیدی نصیحت ہے۔

مسلمانوں کو جن مشکلات کا سامنا ہے، جو تکلیفیں انہیں پہنچ رہی ہیں، عذاب کی جتنی بھی صورتیں ان کے آنگن میں رونما ہیں، یہ تمام امور ان سے محاسبہ نفس کرنے  کا تقاضا کرتے ہیں، حالات انہیں مقامِ استفسار پر لا کھڑا کر رہے ہیں کہ پروردگار کے ساتھ ان کا تعلق  کیسا ہے؟ وہ اپنے دین پر اور نبی ﷺ کی سیرت پر کس قدر عمل پیرا ہیں؟

کوئی بھی انسان ان حالات  کا خاتمہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس لیے ان حالات کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنی سمت اور منہج  کو سمجھیں، خوابِ غفلت سے بیدار ہوں اور شریعتِ الہی و سنتِ نبوی پر عمل  پیرا ہونے میں کی جانے والی کوتاہی  کا خاتمہ کریں۔

مسلمانوں پر اجتماعی ،انفرادی ، علاقائی اور عالمی مصیبتیں آن پڑی ہیں، جن سے ایسے اسباب کی تلاش  مزید دو چند ہو گئی ہے جو انہیں مشکلات سے نکالیں اور نقصانات سے بچائیں، ان تمام اسباب کی جڑ اور بنیاد  جو کہ بہت سے لوگوں کے ذہنوں سے اوجھل ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کی کامل بندگی کریں، ہم اللہ تعالی کی شریعت پر عمل پیرا ہوں اور دکھ سکھ، خلوت و جلوت ہر حالت میں اللہ تعالی کو اپنا نگران و نگہبان سمجھیں، پروردگار کا فرمان ہے: {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا} اور جو اللہ سے ڈرے اللہ تعالی اس کیلیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔[الطلاق: 2] ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں: "یعنی: اللہ تعالی اسے دنیا و آخرت کی تمام مشکلات سے نجات دیتا ہے"

چنانچہ جس وقت بھی مسلمان اس بنیادی نکتے پر انفرادی اور اجتماعی عمل کریں گے تو ان کیلیے تمام تنگیوں سے نکلنے کا راستہ بن جائے گا، جس وقت بھی مسلم معاشرے  اپنی زندگی کے تمام گوشوں میں اسی طرح عمل پیرا نہیں ہو جاتے جیسے کہ ہمارے نبی اور اس امت کے سلف صالحین عمل پیرا تھے، وہ جب بھی اسے عملی جامہ پہنا دے گیں تو ان کے حالات سدھر جائیں گے، زندگی خوشحال ہو جائے گی، ان کے امور سنور جائیں گے، اور امن و امان قائم ہو گا، بلکہ ان کا دشمن بھی شکست خوردہ ہو جائے گا۔

جب بھی مسلمانوں کا کوئی حکمران یا ذمہ دار شخص تقوی الہی اپنائے تو اس کی عزت، رفعت اور سلطنت میں اضافہ ہوتا ہے اور زندگی میں اس کی شان بلند ہوتی ہے اور اس کا انجام بھی بہت اچھا ہوتا ہے: {أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ} خبردار! بیشک اللہ کے اولیاء پر نہ خوف ہو گا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔[يونس: 62] انہیں جتنی بھی تکلیفیں آن پہنچیں اللہ تعالی کی خصوصی معیت اور حمایت ان کے ساتھ ہوتی ہے جو ان کی حفاظت فرماتی ہے اور ان کا خیال رکھتی ہے۔

جب یہ قطعی اصول معلوم ہو گیا تو مسلمانوں کو آج  اپنے دین، جان، مال، عزت آبرو، معیشت اور روزی روٹی کیلیے مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا ہے، ان کی وجہ سے زندگی اچھی نہیں گزر رہی ، انہیں خوشحالی میسر نہیں ہے، ان کے راستے پر امن نہیں ہیں، حالات میں استحکام مفقود ہے، تو مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ خوابِ غفلت سے بیدار ہوں، عقل کے ناخن لیں، ان کٹھن حالات سے سبق سیکھ کر اپنے پروردگار سے رجوع کریں، اور یہ یقین رکھیں کہ حالات جتنے بھی سنگین ہو جائیں تب بھی اللہ کے دین اور شریعت سے رو گردانی  ، اسی طرح گناہوں اور ممنوعہ کام کرنے پر ملنے والی اخروی سزاؤں سے یہ حالات کہیں کم تر  ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَخْزَى وَهُمْ لَا يُنْصَرُونَ} اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے اور ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔[فصلت: 16]

اسی طرح فرمایا: {وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ } ہم انھیں بڑے عذاب سے پہلے ہلکے عذاب کا مزا بھی ضرور چکھائیں گے تا کہ وہ باز آ جائیں۔ [السجدة: 21]

مسلم اقوام!

اللہ تعالی نے  فضل و کرم اور سخاوت و رحمت فرماتے ہوئے ہمارے ذہنوں سے اوجھل ہمیں ایک حقیقت سے بہرہ ور فرمایا حالانکہ دنیاوی نقطہ نظر کو سامنے رکھ کر سیاسی تجزیے بہت کیے جاتے ہیں لیکن یہ حقیقت بے اعتنائی کا شکار ہی رہتی ہے ، اس کے بارے میں ہمارا پروردگار فرماتا ہے: { وَبَلَوْنَاهُمْ بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ} اور ہم انہیں اچھے اور برے حالات سے آزماتے رہے تا کہ وہ [اللہ کی طرف] پلٹ آئیں ۔[الأعراف: 168]

اسی طرح فرمایا: {ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ} بحر و بر میں فساد پھیل گیا ہے جس کی وجہ لوگوں کے اپنے کمائے  ہوئے اعمال ہیں۔ تا کہ اللہ تعالی لوگوں کو ان کے کچھ اعمال  کا مزا چکھا دے؛ امید ہے کہ وہ ایسے کاموں سے باز آ جائیں [الروم: 41]

مسلمانوں کو انواع و اقسام کی مصیبتوں اور آزمائشوں کا سامنا ہے ، اس صورت میں ان کیلیے ایک ہی راستہ ہے کہ مسلمان اپنے رب سے رجوع کریں، اسی کے سامنے گڑ گڑائیں، تمام گناہوں اور ہلاک کرنے والے اعمال سے سچی اور پکی توبہ مانگیں، ہر قسم کے گناہوں اور برائیوں سے پہلو تہی کا اللہ تعالی سے معاہدہ کر کے اسی کی جانب متوجہ ہوں، انفرادی اور اجتماعی ہر اعتبار سے بدی اور مہلک گناہوں کے راستے چھوڑ دیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَأَخَذْنَاهُمْ بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ} آپ سے پہلے ہم بہت سی قوموں کی طرف رسول بھیج چکے ہیں۔ پھر  ہم نے انہیں سختی اور تکلیف میں مبتلا کر دیا تاکہ وہ عاجزی سے دعا کریں [الأنعام: 42]

اسلامی بھائیو!

ان مصیبتوں کو اللہ کے سوا کوئی دور نہیں کر سکتا، اللہ کی طرف ہی دوڑو، امت مسلمہ! گناہوں کی وجہ سے جو خرابیاں پیدا ہوئیں ہیں انہیں نیکی سے درست کرو، تمہاری زندگی میں معصیت اور مہلک گناہوں کا اندھیرا ہے اسے تقوی کے نور اور آسمان و زمین کے پروردگار کی بندگی سے بدل دو اور افضل المخلوقات ﷺ کی سنت پر کار بند ہو جاؤ، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} اور سب کے سب اللہ کی طرف توبہ کرو اے مومنو، تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔[النور: 31]

اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے: {فَإِنْ يَتُوبُوا يَكُ خَيْرًا لَهُمْ} اگر وہ توبہ کریں تو ان کیلیے بہتر ہو گا۔[التوبة: 74]

اللہ تعالی کا فرمان ہے: {فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ} کیا یونس کی قوم کے سوا کوئی ایسی مثال ہے کہ کوئی قوم (عذاب دیکھ کر) ایمان لائے تو اس کا ایمان اسے فائدہ دے ؟ جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے رسوائی کا عذاب دور کر دیا اور ایک مدت تک انہیں سامان زیست سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا [يونس: 98]

ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: "جس وقت یونس علیہ السلام کی قوم نے عذاب کے اسباب دیکھے جن سے یونس علیہ السلام ڈراتے تھے تو سب کے سب اللہ تعالی سے پناہ اور مدد مانگنے کیلیے نکل کھڑے ہوئے، وہ سب کے سب اپنے بال بچوں، ڈھور ڈنگروں  کے ساتھ باہر نکل آئے اور اللہ تعالی سے عذاب ٹالنے کی التجا کرنے لگے تو اللہ تعالی نے ان پر رحم فرمایا اور ان سے عذاب ٹال دیا" انہوں نے اپنی زبان سے مانگا اور زبانِ حال سے اپنی بات کی تصدیق بھی پیش کی۔

اور اے امتِ سید الانبیاء و افضل المرسلین! تم سب سے بہترین امت ہو، اللہ تعالی نے تم سے یقینی وعدے فرمائے ہیں، اللہ تعالی کا فضل کبھی مؤخر نہیں ہو گا بشرطیکہ تم مصیبت کے وقت اپنے رب کی جانب رجوع کرو، مشکل کے وقت تم اسی سے تعلق بناؤ، تم پر آنے والی مصیبت باقی نہیں رہے گی، اور آئندہ تم پر عذاب نازل نہیں ہوں گے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ}اور اللہ تعالی انہیں استغفار کرنے کی حالت میں عذاب دینے والا نہیں ۔[الأنفال: 33]

نبوی درسگاہ  کے تربیت یافتہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "تم اپنی کثرتِ تعداد کی وجہ سے غالب نہیں آتے، بلکہ تمہاری فتح آسمان سے آتی ہے"

حدودِ الہی کی پاسداری کرو، تمہیں اللہ تعالی کی جانب سے رحمت ملے گی جس سے تمہاری زندگی سنور جائے گی، بد حالی ختم ہو جائے گی اور تمہارا دشمن پیٹھ پھیر کر بھاگے گا، فرمانِ باری تعالی ہے: {لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ} تم اللہ تعالی سے استغفار کیوں نہیں کرتے تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔[النمل: 46]

مسلم حکمرانو!

امت مسلمہ کے علاقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے کسی سے مخفی نہیں ہے، پوری امت کو خطرات اور خوف و ہراس نے اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے یہ اللہ کی رحمت کے بغیر ختم ہونے والے نہیں ہیں، یہ حالات تمہیں اللہ تعالی کے سامنے ایک فریضہ اور واجب ادا کرنے کیلیے کھڑا کرتے ہیں کہ تم اپنا محاسبہ کرو، تم امت کے حالات کو شریعت کے ترازو میں تولو، تم سنجیدگی ، اخلاص اور سچے دل کے ساتھ بہتری کیلیے کوششیں کرو اور صرف وہی اقدامات کرو جن سے اللہ تعالی راضی ہو، یہ امت امانت ہے ، یہ امت تمہاری گردنوں پر امانت ہے اللہ تعالی کے سامنے اس دن تم سے پوچھا جائے گا جب مال اور اولاد کچھ بھی فائدہ نہیں دیں گے، جب الجبار عزوجل فرمائے گا: آج بادشاہی کس کیلیے ہے ؟ اور پھر خود ہی فرمائے گا: صرف زبردست اور تنہا اللہ کیلیے  !

سیاست صرف شریعت الہی کے مطابق کرو، ان کی رہنمائی رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق کرو، اپنے معاشروں میں شریعتِ الہی کا نفاذ کرو، شریعت کا نفاذ ساری مخلوق پر واجب ہے، تمہارے معاشروں میں جو کچھ بھی رضائے الہی کے منافی امور ہیں ان کا مقابلہ کرو اور ایسے بن جاؤ جیسے کہ اللہ تعالی نے تمہیں حکم دیا ہے: {الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ} اگر ہم انہیں زمین کا اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں، بھلے کاموں کا حکم دیں اور برے کاموں سے روکیں اور سب کاموں کا انجام  تو اللہ کے ہاتھ میں ہے [الحج: 41]

خلیفہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "بیشک اللہ تعالی حکمران کے ذریعے ان چیزوں کا بھی سد باب فرما دیتا ہے جن کا سد باب قرآن سے نہیں ہوتا"

تمہارے ذریعے ہی اللہ تعالی امت کے حالات درست فرمائے گا بشرطیکہ تم امت کو مرادِ الہی کے مطابق ڈھال دو،  لہذا اپنے اپنے ممالک کے امور اسلام کے مطابق سدھارو، اس طرح امت شر سے محفوظ ہو جائے گی اور تمام خدشات اور خطرات سے نجات پا جائے گی، امت کو حقارت، رسوائی اور عار سے خلاصی ملے گی، ساری امت کے دستور  کی بنیاد رسول اللہ ﷺ کا بتلایا ہوا اصول ہو: (تم اللہ کے حقوق کی حفاظت کرو، اللہ تمہاری حفاظت کرے گا اور تم اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے)

اس لیے مسلم حکمرانو! مسلم معاشروں کے متعلق اللہ تعالی سے ڈرو ، دین اسلام کے بارے میں اللہ تعالی ڈرو اور یہ جان لو کہ تم پر سب سے بڑی ذمہ داری یہ عائد ہوتی ہے کہ لوگوں کی دینی اور دنیاوی  ضرورتوں کو تحفظ دو، نیکی کا حکم دو برائی سے روکو، کھلے عام گناہ کرنے والوں  اور ہلڑ بازی کرنے والوں کو پکڑو، تمام مسلم معاشروں میں ہر صاحب منصب کی یہ ذمہ داری ہے، اللہ تعالی کے سامنے کھڑا ہونے سے پہلے ذرا رسول اللہ ﷺ  کا فرمان کان کھول کر سنو: (کسی بھی بندے کو اللہ تعالی رعایا پر حکمران بنائے  اور اسے جب موت آئے تو وہ اپنی رعایا کو دھوکا دینے والا ہو تو اللہ تعالی اس پر جنت حرام کر دیتا ہے) متفق علیہ

سب سے بڑا ظلم لوگوں کو ان کے دین سے پھیرنا اور پھر اس کے بعد ان کے ذریعہ معاش کو تباہ کرنا سب سے بڑا ظلم ہے۔

اسلام کو تحفظ دو، مسلم حکمرانو! تمام دشمنوں کے سامنے ایک صف میں کھڑے ہو جاؤ، دشمن تمہارے بارے میں کسی قرابت اور معاہدے کا پاس نہیں رکھتے، خطرات موڑنے کیلیے سب متحد ہو جاؤ، شریر لوگوں کے شر کی روک تھام کیلیے اٹھ کھڑے ہوں، کینہ رکھنے والے دشمنوں کی چالوں اور لالچی حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کیلیے تیاری کرو،  اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ} اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کے مقابلے کیلیے قوت تیار رکھو۔[الأنفال: 60] اور قوت میں توبہ  اور شریعتِ الہی کے مطابق اپنے امور سنوارنا  بھی شامل ہے۔

میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور  اللہ تعالی سے اپنے اور تمام سامعین کے گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہوں ، آپ بھی اسی سے بخشش طلب کریں، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں صرف ایک اللہ کیلیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں  کہ اللہ علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں ، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اُس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

لوگو!

تقوی الہی اپناؤ، اللہ تعالی تمہارے لیے ہر قسم کی تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا دے گا اور ہر پریشانی سے تمہیں نکال دے گا اور تمہیں وہاں سے روزی عطا فرمائے گا جہاں سے تمہیں وہم و گمان بھی نہیں ہو گا۔

امت اسلامیہ!

تمام مسلمانوں کو حلب اور موصل میں رونما ہونے والے سفاکانہ قتل عام  نے انتہائی رنجیدہ کر دیا ہے، اس ستم گری اور خون ریزی میں سفاکیت کی انتہا کر دی گئی ہے،  لیکن اگر مصیبتیں بڑھتی جائیں تو ہمیں چاہیے کہ غالب اور عطا کرنے والے سے گڑگڑا کر مانگیں، امید اور خوف دونوں کے ساتھ اسی کو پکاریں، اسی کی بندگی اخلاص کے ساتھ کریں۔

سلف صالحین میں سے کسی نے کہا ہے: " مجھے چار لوگوں کے بارے میں تعجب ہے کہ وہ چار آیتوں سے کیسے غافل ہو جاتے ہیں: جسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ اس آیت سے کس طرح غافل ہو جاتا ہے: {وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ (83) فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِنْ ضُرٍّ} اور ہم نے ایوب کو بھی نوازا جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا: " مجھے بیماری لگ گئی  ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے " [83] چنانچہ ہم نے ان کی دعا قبول کی اور جو بیماری انہیں لگی تھی اسے دور کر دیا۔ [الأنبياء: 83، 84]
اور جس شخص کو دکھ اور غم ہو تو وہ کس طرح اللہ تعالی کے یونس علیہ السلام کے بارے میں فرمان سے غافل ہو جاتا ہے:
{
أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ (87) فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ} تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں تو پاک ہے میں ہی قصور وار تھا [87] تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کیا اور انہیں اس غم سے نجات دی اور ہم اسی طرح ایمان رکھنے والوں کو نجات  دیا کرتے ہیں۔ [الأنبياء: 87، 88]
جس شخص کے بارے میں لوگ مکاریاں کر رہے ہوں تو وہ کیسے  اللہ تعالی کے اس فرمان سے غافل ہو جاتا ہے:
{
وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ (44) فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا} اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ بلاشبہ اللہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔ [45] تو ان لوگوں نے جو چالیں اس کے خلاف چلی تھیں اللہ نے ان سے اسے بچا لیا  ۔[غافر: 44، 45]
اور جو شخص دہشت زدہ ہو وہ کس طرح اللہ تعالی کے اس فرمان سے غافل ہو  جاتا ہے:
{الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ  [173] فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ} جن کو لوگوں نے کہا کہ: "لوگوں نے تمہارے مقابلے کیلیے ایک بڑا لشکر جمع کر لیا ہے لہذا ان سے ڈر جاؤ " تو ان کا ایمان اور بھی زیادہ  ہو گیا اور کہنے لگے: "ہمیں تو اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے" [173] تو وہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی نعمت حاصل کر کے واپس آئے، انہیں کوئی تکلیف بھی  نہ پہنچی [آل عمران:173،  174] "

ہونا تو یہ چاہیے کہ اللہ تعالی کی تاکیدی نصیحت ہر وقت تمہاری زندگی میں  شامل حال ہو: {إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ} یقین مانو کہ اللہ تعالی پرہیز گاروں اور نیک کاروں کے ساتھ ہے۔ [النحل: 128]

بلاؤں کو ٹالنے اور مشکل کشائی کے اسباب میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کریں، اسی میں صدقہ اور محتاج لوگوں کی مدد بھی شامل ہے، خصوصاً شورش  زدہ علاقوں میں  پھنسے ہوئے مسلمانوں کی مدد کریں، جیسے کہ حلب، موصل، یمن، برما، فلسطین اور دیگر علاقوں کے مکینوں کی مدد کریں۔

مسلمان تاجرو! تمہاری بہت بڑی ذمہ داری بنتی ہے ، اس ذمہ داری کو ادا کرنے پر تمہارا دینی اور دنیاوی ہر طرح کا فائدہ ہو گا، تم اپنے لیے توشۂ آخرت بناؤ، اپنے بھائیوں کی مدد کرو، تمام غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرو اللہ تعالی کی جانب سے تمہارے اموال محفوظ ہوں گے تمہاری تجارت میں برکت ہو گی اسی طرح تمہاری اور تمہارے ممالک کی ہر قسم  کے نقصانات سے حفاظت کی جائے گی: {إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ} بیشک اللہ کی رحمت نیک کاروں کے قریب ہے۔[الأعراف: 56]

یا اللہ! ہمارے نبی اور حبیب محمد -ﷺ- پر رحمتیں، برکتیں، اور سلامتی نازل فرما۔

یا اللہ! خلفائے راشدین، آلِ نبی اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، یا اللہ! قیامت تک اچھے طریقے سے ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے بھی راضی ہو جا۔

یا اللہ! حلب، موصل ، یمن اور پوری دنیا میں تمام مسلم علاقوں کے اندر ہمارے بھائیوں کی مشکل کشائی فرما، یا ذو الجلال والاکرام!

یا اللہ! ان کی پریشانیاں ختم فرما دے، یا اللہ! ان کو پہنچنے والی مصیبتیں دور فرما دے، یا اللہ! ان سے بلائیں ٹال دے، یا اللہ! ان سے بلائیں ٹال دے، یا اللہ! ان کے سخت حالات ختم فرما دے، یا اللہ! ان کے یہ سخت دن ختم فرما دے، یا اللہ! جتنے بھی فتنے مسلمانوں کو در پیش ہیں یا اللہ! سب کو بھسم فرما دے، یا اللہ! جتنے بھی فتنے مسلمانوں کو در پیش ہیں یا اللہ! سب کو بھسم فرما دے۔

یا اللہ! ظالموں پر اپنی پکڑ سخت فرما، یا اللہ! جارحیت کرنے والوں پر اپنی پکڑ سخت فرما، یا اللہ! جارحیت کرنے والوں پر اپنی پکڑ سخت فرما، یا اللہ! ان کی جارحیت کو انہی پر قحط سالی بنا دے، یا ذو الجلال والاکرام!

یا اللہ! جو بھی مسلمانوں کے بارے میں چالیں چلے ، یا اللہ! تو اس کے خلاف تدبیریں فرما، یا اللہ! ان پر اپنا لاؤ لشکر مسلط فرما دے، یا اللہ! ان پر اپنا لاؤ لشکر مسلط فرما دے، یا اللہ! ان کی مکاری انہی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا ذو الجلال والاکرام!

یا اللہ! تمام مسلم ممالک کو ہر قسم کے نقصان اور شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! مملکتِ حرمین کی حفاظت فرما، یا اللہ! اس ملک کی اپنی طرف سے خصوصی حفاظت فرما، یا اللہ! اسے اپنی خصوصی حفاظت اور عنایتوں سے نواز۔

یا اللہ! خادم حرمین کو تیرے پسندیدہ اور رضا کا باعث بننے والے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ!  انہیں رہنما اور ہدایت یافتہ بنا، یا اللہ! ان کے ذریعے مسلمانوں میں اتحاد پیدا فرما، یا اللہ! ان کے ذریعے مسلمانوں میں اتحاد پیدا فرما، یا اللہ! انہیں مسلمانوں کے مفاد میں اتحاد کا ذریعہ بنا، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! مومن مرد و خواتین کی بخشش فرما، مسلمان مرد و خواتین کی بخشش فرما، زندہ اور فوت شدہ سب کی بخشش فرما۔

یا اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہم ہر قسم کی گمراہ کن دعوت سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا اللہ! ہم ہر قسم کی گمراہ کن دعوت سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا اللہ! ہر ایسی سیاست سے بھی تیری پناہ چاہتے ہیں جو تفریق کا باعث بنے ، یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! یا حیی! یا قیوم! یا اللہ! مسلمانوں کے حالات سنوار دے، یا اللہ! مسلمانوں پر اتنی رحمت فرما کہ تیرے سوا کسی کے وہ محتاج نہ رہیں، یا اللہ! مسلمانوں پر اتنی رحمت فرما کہ تیرے سوا کسی کے وہ محتاج نہ رہیں، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! یا غنی! یا حمید! یا اللہ! یا غنی! یا حمید! یا غنی! یا کریم! یا غنی! یا کریم! یا غنی! یا حمید! یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمارے ملک میں اور مسلم ممالک میں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمارے ملک میں اور مسلم ممالک میں بارش عطا فرما۔

یا اللہ! ہمیں بارش کا پانی مہیا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش کا پانی مہیا فرما، یا اللہ! ہمیں برکتوں والی بارش کا پانی مہیا فرما، یا ذو الجلال والاکرام!

یا اللہ! ہم پر اپنی برکت نازل فرما، یا اللہ! ہم پر اپنی برکت نازل فرما، یا اللہ! ہم پر اپنی برکت نازل فرما، یا حیی! یا قیوم! یا ذو الجلال و الاکرام!

اللہ کے بندو! اللہ کا ڈھیروں ذکر کرو، اور صبح و شام بھی اسی کی تسبیح بیان کرو ۔

Read 784 times Last modified on ہفتہ, 17 دسمبر 2016 08:53

جدید خطبات

خطبات

  • سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور ہمارے حالات
    سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور ہمارے حالات
    پہلا خطبہ یقیناً تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد   طلب کرتے ہیں ، اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نیز نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، اور اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں سیدنا محمد  -ﷺ-اللہ بندے اور اس کے رسول  ہیں ، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا، امانت ادا کر دی  اور امت کی مکمل خیر خواہی فرمائی، نیز  راہِ حق میں کما حقہ جہاد کیا یہاں تک کہ آپ اس جہاں سے رخصت ہوگئے، اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر روزِ قیامت تک ڈھیروں سلامتی اور رحمتیں نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: سب سے سچا کلام قرآن مجید ہے، سب سے افضل ترین طرزِ زندگی جناب محمد ﷺ کا ہے، بد ترین امور  بدعات ہیں اور ہر بدعت…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • کرپشن اور بد عنوانی کی مذمت اور دیارِ غیر میں مسلمان کی ذمہ داری
    کرپشن اور بد عنوانی کی مذمت اور دیارِ غیر میں مسلمان کی ذمہ داری
    ﷽   پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے  ہیں، اسی نے اپنے بندوں  میں روزی، رزق اور اپنا فیض تقسیم فرمایا، اللہ تعالی نے چوری حرام قرار دی اور اس پر چوروں اور ڈاکوؤں کے ہاتھ کاٹنے کی سزا مقرر فرمائی ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک  نہیں  ، اسی کا فرمان ہے: {مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ} تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ ہمیشہ رہے گا۔ [النحل: 96]، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں  کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، آپ کو مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث فرمایا گیا۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام  پر  اس وقت تک رحمتیں نازل فرمائے جب تک آفتاب  طلوع ہوتا رہے اور سورج کی روشنی چمکتی رہے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو! اللہ سے ڈرو، کہ تقوی الہی افضل ترین نیکی ہے، اور اس کی اطاعت سے ہی قدرو منزلت بڑھتی ہے {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ سے ایسے…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات
    نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر  جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے17-ذوالحجہ-1438  کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں"نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس  میں انہوں نے سعادت حج پانے والوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا کہ کائنات کی تخلیق کا مقصد اللہ کی عبادت ہے، اور عبادت کی قبولیت کیلیے جد و جہد از بس ضروری ہے، چنانچہ عدم ایمان کے باعث کافر اور منافق کا کوئی بھی عمل  آخرت میں فائدہ نہیں دے گا البتہ انہیں دنیا میں پورا بدلہ دے دیا جائے گا،  عمل کی قبولیت کیلیے اخلاص اور اتباعِ سنت  لازمی امور ہیں،  اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ نیکی کا مقصود  اور مطلوب صرف رضائے الہی ہو ، جس کیلیے نیت  بنیادی کردار کی حامل ہے؛ کیونکہ نیت کی وجہ سے چھوٹا عمل بھی بڑا بن جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ: تقوی، تسلسل کے ساتھ نیکیاں، نیکی کیلیے دلی رغبت، نیکی پر ثابت قدمی اور انسانی اعضا کا صحیح سلامت رہنا نیکی قبول ہونے کی علامات میں سے ہیں،  اگر انسان کو عبدیت کی حقیقی معرفت مل جائے تو اسے اپنی ساری زندگی کی عبادات بھی ہیچ نظر آئیں اسی لیے تو…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عرشِ الہی کا تعارف اور مسجد اقصی کی حالت
    عرشِ الہی کا تعارف اور مسجد اقصی کی حالت
    پہلا خطبہ: یقیناً تمام  تعریفیں اللہ  کیلیے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی اور  بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد   اللہ کے بندے اور اس کے رسول  ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود  و سلامتی نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: اللہ کے بندو! اللہ سے کما حقہ ڈور، خلوت اور جلوت میں اسی کو اپنا نگہبان  اور نگران سمجھو۔ مسلمانو! اللہ تعالی صفاتِ جلال اور جمال سے موصوف ہے۔ اس کی ذات، اسما، صفات اور افعال سب ہی کامل ترین ہیں۔ اس کا کوئی ہم نام یا ہم سر نہیں ، اس کی کوئی شبیہ یا اس کا کوئی ثانی نہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {لَيْسَ كَمِثْلِهِ…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟
    ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟
    ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟۔ پہلا خطبہ تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جس نے سعادت مندی اور مسرتیں اپنے اطاعت گزار بندوں کیلیے لکھ دی ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں  وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں وہی پہلے اور بعد میں آنے والے سب لوگوں کا معبود ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد  اللہ کے بندے  اور تمام انبیاء میں افضل ترین ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، اسی میں سعادت مندی اور خوشحالی پنہاں ہے۔ اللہ کے بندو! ذہنی سکون، دلی اطمینان اور سعادت  پوری انسانیت کے مقاصد میں شامل ہے، یہ ساری بشریت کا  ہدف ہے، سب لوگ انہیں حاصل کرنے کیلیے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خوب کوشش  اور تگ و دو کرتے ہیں، لیکن انسان جتنی بھی کوشش کر لے اس کیلیے دنیا کی جتنی مرضی رنگینیاں جمع کر لے، خواہشات نفس  پوری کرنے کیلیے جتنی بھی دوڑ دھوپ کر لے، انہیں یہ سب…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم