بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
بدھ, 19 اکتوبر 2016 14:49

سالِ نو اور ماہِ محرم کیلیے سنہری تعلیمات

Written by  ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ ۔ ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

بسم الله الرحمن الرحيم

پہلا خطبہ

یقیناً تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد   طلب کرتے ہیں ، اپنے گناہوں کی بخشش بھی اسی سے مانگتے ہیں، نیز نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، اور اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں محمد  اللہ بندے اور اس کے رسول  ہیں ۔

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}  اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں ہی آئے۔[آل عمران : 102]

{يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا}  لوگو! اپنے اس پروردگار سے ڈرتے رہو جس نے تمہیں ایک جان  سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا پھر ان دونوں سے [دنیا میں] بہت سے مرد  اور عورتیں پھیلا دیں ، نیز اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور قریبی  رشتوں کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرتے رہو ، بلاشبہ اللہ تم پر ہر وقت نظر رکھے ہوئے ہے [النساء : 1]

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا}ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور سچی بات کیا کرو، اللہ تعالی تمہارے اعمال درست کر دے گا، اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دے گا ، اور جو اللہ کے ساتھ اس کے رسول کی اطاعت کرے وہ بڑی کامیابی کا مستحق ہے۔ [الأحزاب: 70، 71]

حمد و صلاۃ کے بعد:

اللہ کے بندو! میں آپ  سب اور اپنے آپ کو خلوت و جلوت میں تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، اولین و آخرین  سب کیلیے اللہ تعالی کی یہی نصیحت ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ} اور ہم نے تم سے پہلے ان لوگوں کو بھی تاکیدی نصیحت کی تھی  جنہیں کتاب دی گئی کہ تم تقوی الہی اختیار کرو۔[النساء: 131]

یہ بات ذہن نشین کر لو -اللہ تعالی آپ پر رحم فرمائے -  وقت گزرتا جا رہا ہے، ایک سال مزید کم ہو چکا ہے،  گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا، گزرتا ہوا ہر لمحہ  تمہیں وعدہ شدہ دن کے قریب کرتا ہے، جس میں عام لوگوں کے ساتھ فرشتے بھی حاضر ہوں گے،  گزرنے والا ہر لحظہ جدائی اور قبر کی طرف دھکیلتا ہے۔

اس لیے زندگی کو غنیمت سمجھو، اپنا محاسبہ کرو اس سے قبل کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے، بڑی پیشی کیلیے تیار ہو جاؤ، اس دن اُسی شخص کا حساب آسان ہو گا جو دنیا میں اپنا محاسبہ خود کر لے، {وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا} جو بھی بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے تو اسے اللہ کے ہاں اس حال میں موجود پاؤ گے کہ وہ (اصل عمل سے) بہتر  اور اجر کے لحاظ سے بہت زیادہ ہو گی۔[المزمل: 20]

مسلمانو!

آپ نئے سال میں داخل ہو چکے ہیں، سال کی ابتدا حرمت والے مہینے سے ہوتی ہے اور سال کی انتہا بھی حرمت والے مہینے سے ہوتی ہے۔ دعا ہے کہ  آپ سال کی ابتدا اور تمام دنوں میں خوشحال رہیں، اور پورے سال کے اوقات و لمحات آپ کیلیے بابرکت بن جائیں۔

ماہِ محرم  ان مہینوں سے ہے جن کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: {إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ} جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس دن سے اللہ کے نوشتہ کے مطابق اللہ کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہی ہے، جن میں چار مہینے حرمت والے ہیں۔ یہی مستقل ضابطہ  ہے۔ لہذا ان مہینوں میں اپنے آپ پر ظلم نہ کرو [التوبۃ: 36]

رسول اللہ ﷺ نے اس ماہ کے بارے میں فرمایا: (زمانہ اپنی اسی اصلی حالت میں واپس آ گیا ہے جیسے اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کے تخلیق کے دن  انہیں بنایا تھا، سال میں بارہ مہینے ہوتے ہیں، ان میں سے چار حرمت والے ہیں، تین ایک ساتھ ہیں : ذو القعدہ، ذو الحجہ اور محرم، اسی طرح مضر قبیلے کا رجب  جو کہ جمادی اور شعبان کے درمیان ہے) متفق علیہ

اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ اپنے نئے سال کا استقبال اللہ تعالی کی اطاعت اور احکامات کی تعمیل کے ساتھ کرے، حرمت والے  مہینوں کی حرمت ذہن نشین کرے اور ان کی فضیلت و مقام و مرتبے  کا خیال رکھے؛ کیونکہ یہ ایک ایسی نیکی ہے جس کا ثواب تلاش کیا جاتا ہے اور [یہ نیکی چوک جانے کی صورت میں]اس کی سزا سے بچا جاتا ہے۔

حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اللہ تعالی نے سال کی ابتدا حرمت والے مہینے سے کی ہے اور اس کا اختتام بھی حرمت والے مہینے پر فرمایا، اللہ تعالی کے ہاں رمضان کے بعد ماہِ محرم سے افضل کوئی مہینہ نہیں ہے، ماہِ محرم کی حرمت مؤکد ہونے کے باعث اسے اللہ تعالی کا ٹھوس [یعنی: محترم ترین]مہینہ  کہا جاتا تھا"

اللہ کے بندو!

صاحبِ شریعت نے ماہِ محرم کے نفلی روزے رکھنے کی ترغیب دلائی ہے، اس لیے بھر پور کوشش کریں کہ آپ زیادہ سے زیادہ اس مہینے میں روزے رکھیں، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (ماہ رمضان کے بعد افضل ترین روزے  اللہ کے مہینے محرم کے ہیں، اور فرائض کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے) مسلم

مسلمانو!

متعدد اہل علم نے اس بات کو راجح قرار دیا ہے کہ ماہِ محرم  حرمت والے تمام مہینوں میں سے افضل  ترین مہینہ ہے؛ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام کے دلوں میں اس مہینے کی قدر بہت زیادہ تھی اسی لیے ہجری سال کی ابتدا اسی مہینے سے کی گئی۔

امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگ جمع ہوئے اور ان سے مشورہ لیا کہ اسلامی سال کی ابتدا کب سے کی جائے؟
تو کسی نے کہا:  نبی ﷺ کی ولادت سے۔
کسی نے کہا: آپ ﷺ کی بعثت سے۔
کسی نے کہا: آپ ﷺ کی ہجرت سے۔
اور کسی نے کہا: آپ ﷺ کی وفات سے۔

تاہم آپ رضی اللہ عنہ کا میلان ہجرت سے ابتدا کرنے پر ہوا؛ کیونکہ اللہ تعالی نے ہجرت کے ذریعے حق و باطل الگ الگ کر دیا، اور اسی کی وجہ سے مسلمانوں کیلیے ایک الگ مملکت وجود میں آئی۔

پھر عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا کہ: کس مہینے سے اسلامی سال کی ابتدا ہو؟
تو کسی نے کہا: ربیع الاول؛ کیونکہ آپ ﷺ اسی مہینے میں ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تھے۔
اور کسی نے کہا: رمضان سے۔

چنانچہ جناب عمر ، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم  اسلامی سال کی ابتدا ماہِ محرم سے کرنے پر متفق  ہو گئے، اور ساری امت نے ان کے اس فیصلے کو قبول کیا؛ کیونکہ ماہِ محرم حرمت والا مہینہ  ہے، اور اس کے ساتھ ذو الحجہ بھی حرمت والا مہینہ  ہے نیز محرم ایسے مہینے کے ساتھ بھی ہے جس میں نبی ﷺ نے انصار سے ہجرت  کیلیے بیعت لی تھی ، چنانچہ ابتدائے سال کیلیے تمام مہینوں پر اس مہینے کو ترجیح دی گئی ، اللہ تعالی عمر رضی اللہ عنہ سمیت نبی ﷺ کے تمام صحابہ کرام سے راضی ہو۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ: اس نئے سال میں مسلمانوں  پر کرم فرماتے ہوئے انہیں  غلبہ، واضح فتح، اور عزت  نصیب فرمائے، مسلمانوں کے دلوں کو آپس میں ملا دے، اور انہیں متحد فرما کر ان کی صفوں میں اتحاد پیدا فرمائے۔

اللہ کے بندے!

آپ کو لہو و لعب کیلیے یا فضول پیدا نہیں کیا گیا، آپ کو سونے، کھانے پینے اور کاہلی کیلیے پیدا نہیں کیا گیا، اس لیے وقت گزرنے سے پہلے وقت کو غنیمت سمجھو، اور ایسے مت ہو جانا جس کے بارے میں کسی اونٹوں کے چرواہے نے کہا تھا:

قَطَعْتَ شُهورَ العامِ لهواً وغفلةً

ولمْ تَحْتَرِمْ فيما أتَيْتَ المُحَرَّما

سال کے مہینے تم نے لہو اور غفلت میں گزار دیے، تم نے محرم کا ابھی احترام نہیں کیا

فلا رجَباً وافَيْتَ فيه بِحَقِّهِ

ولا صُمتَ شهرَ الصَوْمِ صوماً مُتَمَّماً

تم نے ماہِ رجب کا بھی پورا حق ادا نہیں کیا اور نہ ہی پورے ماہِ  صیام کے روزے رکھے

ولا في ليَالي عشرِ ذي الحجةِ الذي

مضى كُنْتَ قَوَّاماً ولا كُنْتَ مُحْرِماً

گزری ہوئی عشرہ  ذو الحجہ کی راتوں  میں تم نے کوئی قیام نہیں کیا اور نہ ہی تم نے احرام باندھا

فَهَل لك أن تمحو الذُّنوبَ بِعَبرةٍ

وتبكِي عليهَا حسرةً وتنَدُّماً

کیا اب بھی تم اپنے گناہوں کو آنسوؤں سے دھونا چاہتے ہو اور اپنی کار گزاری پر حسرت و ندامت کے اشک بہا سکتے ہو؟

وتستقبلَ العامَ الجديدَ بِتَوبةٍ

لعلَّك أن تمحُو بِهَا ما تَقَدَّما

تم نئے سال کا استقبال توبہ کے ساتھ کرو عین ممکن ہے کہ تم اپنے سابقہ گناہوں کو مٹوا لو

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (9) وَأَنْفِقُوا مِنْ مَا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُنْ مِنَ الصَّالِحِينَ (10) وَلَنْ يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ}  اے ایمان والو ! تمہارے اموال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں اور جو لوگ ایسا کریں وہی خسارہ اٹھانے والے ہیں [09] اور جو کچھ ہم نے تمہیں رزق دیا ہے۔ اس میں سے وہ وقت آنے سے پہلے پہلے خرچ کر لو کہ تم میں سے کسی کو موت آئے تو کہنے لگے : اے میرے پروردگار ! تو نے مجھے تھوڑی مدت اور مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کر لیتا  اور صالح لوگوں میں شامل ہو جاتا  [10] حالانکہ جب کسی کی موت آ جائے تو پھر اللہ کسی کو ہرگز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ [المنافقون: 9 - 11]

اللہ تعالی میرے اور آپ کیلیے قرآن مجید کو بابرکت بنائے، مجھے اور آپ کو قرآنی آیات اور حکمت بھری نصیحتوں سے مستفید فرمائے، میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور عظمت و جلال والے اللہ  سے اپنے اور سب مسلمانوں کیلیے تمام گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہوں، اس لیے آپ بھی اسی سے بخشش طلب کرو، بیشک وہ بخشنے والا ہے اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں کہ اس نے ہم پر احسان کیا ، اسی کے شکر گزار بھی ہیں کہ اس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اس کی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد  اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، آپ حصولِ رضائے الہی کی دعوت دینے والے تھے، اللہ تعالی ان پر ، ان کی آل و صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں و سلامتی نازل فرمائے۔

مسلم اقوام!

چند دنوں کے بعد یومِ عاشورا آنے والا ہے اور یہ دس محرم کا نام ہے، یہ ایک عظیم دن ہے، اس کی فضیلت بھی بہت قدیم ہے، اس دن کو تاریخی اور دینی  امتیازات حاصل ہیں:

یومِ عاشورا کا روزہ، نبی ﷺ اس دن کا روزہ رکھتے تھے  اور قریش بھی روزہ رکھتے تھے، جس وقت آپ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو روزہ رکھتے ہوئے پایا، پھر آئندہ سال آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا، اور جب اسی سال ماہِ رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو صومِ یومِ عاشورا کی فرضیت ختم ہو گئی، چنانچہ راجح موقف کے مطابق عاشورا کے روزے کا استحباب باقی رہ گیا۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ : نبی ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں  کو عاشورا کا روزہ رکھتے ہوئے پایا، جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: "اس دن میں اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام  اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ عطا فرما، چنانچہ ہم اس دن کی تعظیم کرتے ہوئے روزہ رکھتے ہیں" اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (ہمارا موسی سے تعلق ان سے زیادہ ہے، اس لیے تم بھی اس دن کا روزہ رکھو)

ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: " میں نے نبی ﷺ کو یومِ عاشورا سے زیادہ کسی بھی فضیلت والے دن کا روزہ اتنی دلچسپی سے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور اسی طرح ماہِ رمضان سے زیادہ کسی مہینے کے روزے اتنی دلجمعی سے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا" بخاری

صحیح مسلم میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "یومِ عرفہ کے روزے سے متعلق مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ وہ سابقہ اور لاحقہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، اور عاشورا کے روزے سے متعلق مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ   سابقہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے"

نبی ﷺ کو آخری عمر میں علم ہوا کہ یہودیوں نے عاشورا کو اپنا مذہبی تہوار بنا لیا ہے تو آپ ﷺ نے ارادہ فرما لیا کہ ہم آئندہ سال نو اور دس محرم کا روزہ رکھیں گے لیکن اس سے پہلے آپ کی وفات ہو گئی۔

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: "جس وقت رسول اللہ ﷺ نے عاشورا کا روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تو انہوں نے کہا:" اللہ کے رسول! اس دن کی یہود و نصاری تعظیم کرتے ہیں"  تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (آئندہ سال ان شاء اللہ ہم نو کا روزہ رکھیں گے) یعنی دس کا بھی ساتھ ملا کر ، لیکن آئندہ سال آنے سے پہلے آپ ﷺ کی وفات ہو گئی" مسلم

اس لیے افضل یہی ہے کہ: یہودیوں کی مخالفت کرتے ہوئے عاشورا سے ایک دن پہلے کا روزہ رکھیں اور اگر کوئی 9 کا روزہ نہ رکھ سکے تو پھر 10 محرم یعنی عاشورا کا لازمی رکھے۔

عاشورا کی خصوصیت ہے کہ: اس دن میں اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام اور آپ کی قوم کو نجات دی اور فرعون کو اس کی قوم سمیت ہلاک کر دیا۔

اسی لیے موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل سب نے  اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے روزہ رکھا، پھر نبی ﷺ نے بھی اللہ کا شکر ادا کرنے کیلیے اس دن کا روزہ رکھا۔

ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں اس دن کا روزہ رکھنے کی توفیق دے، اور ہماری سرحدوں پر پہرہ دینے والے فوجیوں کی مدد فرمائے، جیسے کہ اللہ تعالی نے فرعون  اور اس کے لاؤ لشکر پر موسی علیہ السلام  اور ان کی قوم کو عاشورا کے دن غالب فرمایا۔

اس کے بعد مسلمانو!

یہ اس دن کی ثابت شدہ امتیازی خصوصیات ہیں، لیکن من گھڑت روایات بنانے والوں نے عاشورا کے بارے میں بہت کچھ گھڑ لیا ہے جو کہ نبی ﷺ ، صحابہ کرام یا ائمہ سلف میں سے کسی سے بھی ثابت نہیں ہے، چنانچہ کچھ لوگوں نے غلو کرتے ہوئے بدعات ایجاد کیں اور ایسی عبادتیں گھڑ لیں جن کا شریعت میں کوئی تصور نہیں، اور ایسی خیالی اور گمراہی پر مبنی چیزوں پر جم گئے جس میں کوئی خیر نہیں ہے۔

فَلَوْ كَانَ يَدْرِيْ يَوْمُ عَاشُوْرَاءَ

مَا كَانَ يَجْرِيْ فِيْهِ مِنْ بَلَاءٍ

اگر یومِ عاشورا کو علم ہو جائے کہ اس دن میں کیا کچھ کارستانیاں ہوتی ہیں

مَا لَاحَ فَجْرُهُ وَلَا اسْتَنَارَا

وَلَا أَضَاءَتْ شَمْسُهُ نَهَارًا

تو اس دن فجر ہی روشن نہ ہو اور نہ ہی دن میں سورج چمکے!

اس لیے اللہ کے بندو! اپنے اور اپنے دین کے بارے میں اللہ تعالی ڈرو، بدعات میں مت پڑو، اللہ کی شریعت کو مت بدلو، تمہیں شریعت کا امین بنایا گیا ہے اس لیے تم ہی لوگوں کیلیے نکالی جانے والی بہترین امت ہو، تمہیں خبردار بھی کیا گیا ہے تم ہی بہترین امت ہو، ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایسی شریعت پر چھوڑا ہے جو کہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے اس کی راتیں بھی دن کی طرح روشن ہیں، (اور جو شخص بھی ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کرے جو دین میں پہلے نہیں تھی تو وہ مردود ہے)، (جو شخص کوئی ایسا عمل کرے جس کے متعلق ہمارا کوئی حکم نہیں ہے تو وہ مردود ہے) اللہ تعالی کی عبادت اُسی طریقے سے کی جا سکتی ہے جو اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کی زبان سے جاری کروایا ہے، اس طریقے پر اضافہ کرنا غلو، افراط اور زیادتی ہے، جبکہ آپ کے طریقے میں کمی کرنا کوتاہی اور کاہلی ہے۔

حذیفہ رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں: "ایسی کوئی بھی عبادت جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام نے نہیں کی تو وہ تم بھی مت کرو؛ کیونکہ انہوں نے بعد میں آنے والوں کیلیے [کمی پوری کرنے کی]کوئی گنجائش نہیں چھوڑی، اس لیے اللہ تعالی سے ڈرو اور ان لوگوں کا راستہ اپناؤ جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، اللہ کی قسم! اگر تم  ان کے راستے پر ڈٹ گئے تو  تم بلندیوں تک پہنچ جاؤ گے، اور اگر تم ان کے راستے کو چھوڑ کر دائیں بائیں نکل گئے تو تم بہت ہی زیادہ گمراہی میں پڑ جاؤ گے۔"

ہم دعا گو ہیں کہ  اللہ تعالی ہمیں سنت پر چلنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں بدعات سے دور رکھے اور ان سے بچائے، ہمیں غلو اور نفرت دونوں راستوں سے محفوظ رکھے، حق کیلیے ہماری شرح صدر فرمائے، اور ہمیں اعتدال و میانہ روی اختیار کرنے کی توفیق دے، بیشک وہی اس کی قدرت و صلاحیت رکھتا ہے۔

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما   اور اپنے نیک بندوں کی مدد فرما، یا اللہ! اس ملک کو اور دیگر تمام اسلامی ممالک کو امن و امان سے بھر پور فرما، یا اللہ! ہمیں ہمارے علاقوں میں امن و امان عطا فرما اور ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما۔

یا اللہ! ہمارے حکمران کو  خصوصی توفیق سے نواز، ان کی خصوصی مدد فرما، ان کے ذریعے اپنا دین غالب فرما، یا اللہ! انہیں اور ان کے دونوں نائبوں کو اسلام اور مسلمانوں کے حق میں بہتر  فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرما، ایسے کام کرنے کی توفیق دے جس میں ملک و قوم  کی بہتری ہو، یا رب العالمین!

یا اللہ! سرحدوں پر پہرہ دینے والے  ہمارے فوجیوں کی مدد فرما، یا اللہ! ان کے نشانے درست فرما، ان کے عزائم مضبوط فرما، اور ان کی خصوصی مدد فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! جان نچھاور کرنے والے ہمارے فوجیوں کی شہادت قبول فرما، بیماروں کو صحت یاب فرما، زخمیوں کے زخم مندمل فرما، یا اللہ! فوجی جوانوں کے اہل خانہ، مال و دولت اور اولاد کی حفاظت فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! اس ملک کی خصوصی حفاظت فرما، اس ملک کا خصوصی تحفظ فرما، یا اللہ! جو بھی اس ملک کے بارے میں برے ارادے رکھے یا اللہ! اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اور اس کی عیاری اسی کی تباہی کا باعث بن جائے، یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ! ہم دشمن کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں، اور تیری مدد سے اسے پچھاڑتے ہیں، یا اللہ! تو ہمیں دشمن کے مقابلے میں کافی ہو جا، یا رب العالمین!

یا اللہ! مسلمانوں کے حالات درست فرما، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات درست فرما، یا اللہ! ملک شام میں ہمارے بھائیوں کی مشکلات رفع فرما، یا اللہ! ملک شام میں ہمارے بھائیوں کی مشکلات رفع فرما، یا اللہ! اے درجات کو بلند کرنے والے! حاجت روائی کرنے والے! دعائیں قبول کرنے والے! اور مشکل کشائی کرنے والے! ان کی مشکلات  رفع فرما، ان کی مصیبتیں ختم فرما، اور ان کے معامالات کی باگ ڈور سنبھال لے، اور جلد از جلد ان کے دکھ وا فرما، اور ان میں اتحاد پیدا فرما۔

یا اللہ! ان کی جانوں کی حفاظت فرما، ان کی عیب پوشی فرما، اور دہشت زدہ لوگوں  کو امن عطا فرما، یا اللہ! وہ بھوکے ہیں ان کے کھانے پینے کا بندوبست فرما، یا اللہ! جسم سے عاری ہیں انہیں لباس مہیا فرما، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے ان کا بدلہ لے۔

پروردگار! ان پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں، انہیں ظلم و زیادتی، استبداد، جلا وطنی اور حصار کا سامنا ہے ، یا اللہ! اے کمزور لوگوں کی مدد کرنے والے! مومنوں کو نجات دینے والے!  ان تمام مصیبتوں کو ان  کی مدد کا باعث بنا دے: کیونکہ تنگی کے بعد آسانی ہے، بیشک ہر تنگی کے بعد آسانی ہے۔

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام  بھیجا  کرو۔ [الأحزاب: 56]

اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد، یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین : ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین!

 

Read 4945 times

جدید خطبات

خطبات

  • آیت الکرسی کا مفہوم
    آیت الکرسی کا مفہوم
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 10 صفر 1440 کا خطبہ جمعہ " آیت الکرسی کا مفہوم اور افواہوں کے متعلق ہدایات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں عظیم ترین آیت ؛ آیت الکرسی ہے، اس آیت میں اللہ تعالی کے اسما و صفات کا جامعیت کے ساتھ ذکر ہے، سب سے پہلے اس آیت میں اللہ تعالی کی الوہیت کا اقرار، پھر ازل سے ابد تک قائم دائم رہنے کی صفت ذکر ہوئی، اللہ تعالی کو نیند آتی ہے اور نہ ہی اونگ، آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی بادشاہت میں شامل ہے، کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا، اور نبی ﷺ کی سفارش اہل توحید کے لیے سب سے پہلے میسر ہو گی، انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی علم غیب نہیں جانتا، اس کی کرسی آسمان و زمین سے بھی وسیع ہے، جس سے اللہ تعالی کی بے انتہا عظمت اور کبریائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اس لیے اللہ سے جب مانگیں تو وہ بھی بے حساب مانگیں، انہوں نے آخر میں یہ بھی…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 13-رجب- 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی کیلیے حسن اخلاق کا کوئی ثانی نہیں، اسی لیے کتاب و سنت میں اچھا اخلاق اپنانے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، نیز رسول اللہ ﷺ کی جن خوبیوں کا ذکر اللہ تعالی نے فرمایا ان میں حسن اخلاق سر فہرست ہے، آپ ﷺ نے خود فرمایا کہ مجھے اعلی اخلاقیات کی تکمیل کیلیے بھیجا گیا ہے، مومن شخص اعلی اخلاق کی بدولت نفل روزے اور راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے، اچھے اخلاق کا مالک شخص جنت میں رسول اللہ ﷺ کے قریب ترین ہو گا، حسن اخلاق کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ جنت جائیں گے، قیامت کے دن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہو گی، ایک جگہ آپ ﷺ یہاں تک فرما دیا کہ: نیکی حسن اخلاق کا نام ہے، پھر انہوں نے بتلایا کہ حسن خلق کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی شریعت کے مطابق ہو، دوسروں کی خدمت، جود و…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے "اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ" کے عنوان پر 07 ذوالقعدہ 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ خطرات اور مسائل سے بھری ہوئی دنیاوی زندگی میں انسان کو بلند ہمت بنانے کی اشد ضرورت ہے، اور اس کیلیے اللہ تعالی پر توکل بہترین طریقہ ہے، اگر انسان صحیح معنوں میں متوکل ہو تو وہ دنیا میں کسی کا محتاج نہیں رہتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ متوکل دنیا کی ہر چیز کو اللہ تعالی کے زیر تسلط اور ملکیت جانتا ہے لہذا جس چیز کی بھی اسے ضرورت محسوس ہو وہ چیز اللہ سے مانگنے پر اسے مل جاتی ہے، توکل ظاہری اسباب اپنانے سے متصادم نہیں ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہوتی ہے کہ انسان اسباب اپنانے کے بعد ان پر کلی اعتماد نہ کرے بلکہ اللہ تعالی کی ذات پر کامل بھروسا اور یقین رکھے، چنانچہ اسباب اپنانے کے بعد اس کے نتائج اللہ کے سپرد کر دینا توکل کا مطلب ہے ۔ سابقہ اقوام اور صحابہ کرام کے عمل سے توکل کا یہی مفہوم سامنے آتا ہے، دوسرے خطبے میں…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے07-جمادی ثانیہ-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" شرم و حیا شریعت کی روشنی میں" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ اسمائے حسنی کی معرفت عبادت الہی کی کنجی ہے انہی اسمائے حسنی میں سے ایک "اَلْحَيِيُّ" یعنی بہت زیادہ حیا کرنے والا بھی ہے، حیا اللہ تعالی کی صفت ہے، اس کا ذکر کتاب و سنت میں موجود ہے، حیا تمام تر اخلاقی اقدار کا سرچشمہ ہے، حیا انسان کو برائی سے روکتی ہے اور اچھے کاموں کی ترغیب دلاتی ہے، حیا ان اخلاقی اقدار میں شامل ہے جو اولین زمانۂ نبوت سے معتبر اور مطلوب ہیں، حیا سے اشرف المخلوقات سمیت فرشتے بھی موصوف ہیں، آدم، نوح، موسی سمیت تمام کے تمام انبیائے  علیہم السلام حیا سے آراستہ تھے، ہمارے نبی ﷺ سب سے زیادہ با حیا تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے، حیا خواتین کا فطری زیور اور زینت ہے، اسی لیے سیدہ عائشہ اور دیگر صحابیات حیا کی پیکر تھیں، بلکہ اہل جاہلیت بھی حیا پر قائم دائم تھے، نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق حیا سرتا پا خیر ہی خیر ہے، حیا…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عذاب قبر کے اسباب اور نجات کے ذرائع
    عذاب قبر کے اسباب اور نجات کے ذرائع
    پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ایمان اور صبر جیسی نعمت پر تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اس فضل پر اسی کا شکر بجا لاتے ہیں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، کائنات کے فیصلے اور تصرف اسی کے ہاتھ میں ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے مومنوں کو ان کی قبر کی حالت سے بہرہ ور فرمایا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور ہر جگہ پیش رو بننے والے صحابہ کرام پر رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہو، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] انسانی زندگی کے اس سفر میں متنوع اور مختلف مرحلے ہیں، انسان ایک عرصہ ماں کے پیٹ میں، پھر زمین کی پشت پر اور دوبارہ جی اٹھائے جانے تک زمین کے نیچے…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم