بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
منگل, 08 دسمبر 2015 00:00

وابستگی، تعلق، اور لگاؤ کا شرعی مفہوم

Written by  فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ث ترجمہ شفقت الرحمن مغل

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں ، تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جس نے مؤمنوں کو ثابت قدمی عطا فرمائی اور انہیں سچی وابستگی سے نوازا، میں خوشحالی اور تنگی ہر حالت میں اسی کیلئے حمد و شکر بجا لاتا ہوں ،  میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے، آسمان و زمین میں اسی کی عبادت کی جاتی ہے، میں یہ بھی  گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اسکے بندے  اور رسول  ہیں، نماز، روزہ، اور حمد و ثنا بیان کرے والوں آپ کا مقام و مرتبہ بہت ہی اعلی ہے، اللہ تعالی آپ پر ، آپکی آل ، اور  صادق و وفا دار صحابہ کرام پر رحمتیں  نازل فرمائے   ۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی وصیت کرتا ہوں، یہی آخرت کیلئے زادِ راہ، اور مصیبتوں میں قوت ، اور آزمائش میں تحفظ کا باعث ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا}اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہمیشہ سچی بات کہو [70] وہ تمہارے اعمال سدھار دے  گا اور گناہ فرما دے گا، جو بھی اللہ  اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو وہ بہت بڑی کامیابی پا گیا۔ [الأحزاب : 70 - 71]

وابستگی  اور تعلق حقیقت میں ترقی اور بلندی کا راز ہے، جو انسان کو آگے بڑھنے پر ابھارتا ہے، اس سے لگاؤ مضبوط ہوتا ہے اور بہتری محسوس ہوتی ہے، عظیم ترین  تعلق اور وابستگی یہ ہے کہ انسان کا اللہ تعالی کیساتھ مضبوط لگاؤ ہو، یہی لگاؤ اطمینان، خوشحالی اور ابدی سعادت مندی کا باعث بنتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ} متوجہ رہو! یقیناً اللہ کے دوست نہ خوف میں مبتلا ہونگے اور نہ ہی وہ غمگین ہونگے۔[يونس : 62]

تعلق اور وابستگی کی ایک صورت : اسلام سے وابستگی ہے، یہ ایک عظیم نعمت ہے، چاہے مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں، اسلام سے موڑنے والے متنوع اسباب  ہوں، اور اسلام کے خلاف محاذ آرائی کی آگ جتنی بھی بھڑکے؛ اسلام سے وابستگی ہر حالت میں ٹھوس، پائیدار اور مضبوط رہتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَفِي هَذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلَاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ}  اس نے تمہیں اپنے کام کے لیے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی ، اپنے والد ابراہیم کی ملت پر قائم ہو جاؤ ، اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام "مسلم "رکھا تھا اور قرآن میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ ، اب تم نماز قائم کرو ، زکاۃ دو اور اللہ سے وابستہ رہو وہ تمہارا مولی ہے وہ بہت ہی اچھا مولی اور بہت ہی اچھا مدد گار ہے [الحج : 78]

اسلام سے وابستگی کی عظمت ہمیں اس طرح نظر آتی ہے کہ یہ ہر قسم کے تعصب سے بالا تر ہے، چنانچہ کسی عربی کو عجمی پر ، سفید کو سیاہ فام  پر کوئی ترجیح نہیں ہے، اگر کسی کو ترجیح حاصل ہے تو وہ صرف تقوی کی بنیاد پر ہے۔

اسلام ہر قسم کی فرقہ واریت اور تعصب سے وابستگی کو ہی مسترد کر چکا ہے، اہل باطل سے وابستگی تو دور کی بات ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُرًا كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ} انہوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا ، اب ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی پر خوش ہے [المؤمنون : 53] تا کہ ایک ہی وابستگی اور تعلق صاف اور شفاف انداز میں پھلے پھولے، کیونکہ: {أُولَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ} یہی اللہ کا گروہ ہے، اور اللہ کا گروہ ہی کامیاب ہوگا۔[المجادلہ: 22]

اسلام سے وابستگی کامل اتباع اور تابعداری ، اعضا کو اطاعتِ الہی پر کار بند کرنے اور  دوستی صرف اللہ و رسول اللہ ﷺ سے رکھنے کا نام ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ} تمہارا دوست تو صرف اللہ ، رسول اللہ، اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکاۃ  دیتے ہیں اور وہ جھکنے والے ہیں [المائدة : 55]

اسلام سے وابستہ ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ ہم امت کیساتھ بھی مضبوط تعلق قائم کریں، امت مسلمہ کے حالات  کو سمجھیں، امت مسلمہ کے غلبہ کیلئے جد و جہد کریں، رسول اللہ ﷺ کا فرمان  ہے: (مؤمنوں کی باہمی محبت، الفت، اور انس کی مثال ایک جسم کی طرح ہے، اگر اس میں سے ایک عضو بھی بیمار ہو تو سارا جسم بے خوابی اور بخار کی سی کیفیت میں مبتلا رہتا ہے)

بالکل اسی طرح ہم پورے فخر کیساتھ  اپنی تاریخ سے وابستگی کا اظہار کرتے ہیں، ہماری تاریخ نے پوری دنیا کیلئے رہنمائی  کا علم بلند کیا، اور ہماری زبان سرمدی و ابدی رہنے والی زبان قرآن کی زبان ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {قُرْآنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ}قرآن عربی زبان میں ہے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے تاکہ لوگ برے انجام سے بچیں [الزمر : 28]

جذباتی وابستگی کو بھی اسلام نے مہذب دائرے میں بند کیا، اور اس کی سمت کا صحیح تعین  کرتے ہوئے اسے قابو میں رکھا، فرمانِ باری تعالی ہے: {لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ} اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے لوگوں کو آپ ان لوگوں سے محبت کرتے ہوئے نہیں پاؤ گے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے۔  [المجادلہ : 22]

اور اسی طرح نبی ﷺ کا فرمان ہے: (تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے ہاں اس کے والد، اولاد، اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہیں بن جاتا )

اخلاق کے ذریعے مسلمان کی اسلام کیساتھ وابستگی  کی حقیقت عیاں ہوتی ہے، چنانچہ مسلمان کی شکل و صورت، گفتگو، لباس اور چال چلن اسے واضح کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (اللہ تعالی نے خواتین کیساتھ مشابہت اپنانے والے مردوں اور مردوں کیساتھ مشابہت اپنانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے)

اسی طرح آپ ﷺ کا فرمان ہے: (مسلمان فحش گوئی، اور بد کلامی کرنے والا نہیں ہوتا، اور  نہ ہی مسلمان لعن طعن کرنے والا ہوتا ہے)  اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ اخلاقی  زبوں حالی  اسلام سے وابستگی  ختم کرنے کا باعث ہے۔

اسلام کیساتھ کمزور وابستگی کے  مترادف ایک اور چیز بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان کا اسلامی تشخص مندمل ہو جائے، چنانچہ دینی شعائر کو  ظاہر کرنے سے شرمانے لگے، حالانکہ اسلام نے جس طرح اندرونی طہارت کا اہتمام کیا ہے اسی طرح بیرونی  خوبصورتی کا بھی اہتمام کیا ہے، تا کہ اسلامی شخصیت دوسروں سے ممتاز  اور اغیار کی تقلید سے پاک ہو۔

اپنے وطن سے محبت اور وابستگی فطری چیز ہے،  یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان جہاں رہے اس سے محبت نہ کرے کہ جس مٹی پر پروان چڑھا، اور وہاں کے رہنے والوں میں شامل ہو کر اس علاقے کی تاریخ کا حصہ بھی بنا، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ اقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ أَوِ اخْرُجُوا مِنْ دِيَارِكُمْ مَا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٌ مِنْهُمْ} اور اگر ہم ان پر فرض کر دیتے کہ اپنے آپ کو قتل کرو، یا اپنے وطن سے نکل جاؤ، تو  اس کی تعمیل بہت کم لوگ کرتے۔[النساء : 66]

بلکہ اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کو بھی وطن کی جدائی دے کر آزمایا، چنانچہ  نبی ﷺ نے مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا: (یقیناً توں اللہ کی سب سے بہترین سر زمین ہے، اور اللہ کے ہاں سب سے محبوب دھرتی ہے، اگر مجھے یہاں سے نہ نکالا جاتا تو میں کبھی نہ نکلتا)

پھر جب نبی ﷺ کو علم ہوا کہ وہ مدینہ میں ہی رہیں گے تو مدینہ کی محبت دل میں ڈالنے کیلئے اللہ تعالی سے دعا کی، آپ اپنے آبائی وطن کیلئے بھی خیر کی دعا فرماتے تھے: ("اَللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي الْمَدِيْنَةِ ضِعْفَيْ مَا جَعَلْتَ فِي مَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ"[یا اللہ! مدینہ میں مکہ سے بھی دو گنا برکت ڈال دے])

اسلام نے وطن سے محبت کے جذبات کو بڑے ہی پیارے انداز میں کنٹرول کیا ، چنانچہ وطن سے وابستگی کو دین سے وابستگی کیساتھ مشروط کیا، بلکہ حقیقت میں وطن کی محبت بھی اسلام کیساتھ وابستگی سے کشید کر دہ ہے، کیونکہ وطن سے وابستگی اسی وقت ہوگی جب وطن میں شرعی نفاذ ہوگا، لہذا وطن سے وابستگی بھی اسلامی  اقدار میں سے  ہے جو کہ ایسے معاشرے کی بنیاد رکھتی ہے جس کی قوت پہلے اپنے عقیدے اور پھر باہمی اتحاد  میں پنہاں ہے۔

اپنے وطن سے حقیقی پیار اور محبت کرنے والا وہی شخص ہو سکتا ہے جو اپنے ایمان میں قوی ہو، اور تبھی دنیا و آخرت میں خوشحالی ملے گی، اپنے وطن سے وابستگی جتنی ٹھوس ہوگی اتنا ہی امن و امان مستحکم ہوگا، اور درآمد شدہ فکری انحراف سے تحفظ ملے گا،  اندرونی تعلقات  مضبوط ہونگے، اس طرح وطن کی دھرتی پر فتنہ و فساد بپا کرنے والوں سے بچاؤ بھی ممکن ہوگا۔

اپنے وطن سے وابستگی کا تقاضا یہ ہے کہ  اپنی سر زمین سے محبت، اس کیلئے جانثاری،  یہاں کے علمائے کرام کا احترام، حکمرانوں کی اطاعت، واجبات اور ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے نبھایا جائے، ملکی املاک اور اداروں کی حفاظت، قوانین کی پاسداری، ملکی تعمیر و ترقی کیلئے جد  و جہد سمیت  یہ امر بھی ضروری ہے کہ کوئی ہم وطن ملک و قوم کے نقصان کا باعث بننے والے کسی بھی شر پسند عنصر کا آلہ کار مت بنے۔

اپنے وطن سے وابستگی میں یہ بھی شامل ہے کہ: غریبوں پر خرچ کریں، ہم وطنوں کیساتھ فراخ دلی سے ملیں، ملکی منصوبوں کی تکمیل کیلئے تعاون کریں، چنانچہ جس طرح آپ اس وطن  سے مستفید اور یہاں کی نعمتوں سے بہرہ مند ہو رہے ہیں تو وطن کا بھی یہ حق بنتا ہے کہ  آپ ملک کیلئے کچھ اچھا کر دکھائیں، اور ترقی و خوشحالی کے منصوبوں میں بھر پور کردار ادا کریں، کیونکہ {هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ}اچھائی کا بدلہ صرف اچھائی ہی ہے۔ [الرحمن : 60]

اپنے وطن سے وابستگی میں یہ بھی شامل ہے کہ : پڑوسی کیساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (ایسا شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے شر سے پڑوسی محفوظ نہ ہو)

ہم وطنوں کی تعمیر و ترقی اور خیر خواہی کا تقاضا ہے کہ باہمی تعاون کی فضا پیدا کریں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تم میں سے کوئی اس وقت تک کام ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کیلئے وہی کچھ پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے)

یہ بھی وطن سے وابستگی ہے کہ نیکی، انصاف، اور احسان پر مبنی تعامل کیا جائے، حتی کہ غیر مسلموں سے بھی ایسا ہی برتاؤ رکھا جائے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (جس نے کسی بھی معاہدہ شدہ شخص پر ظلم کیا، یا حقوق میں کمی کی، یا اس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالا، یا اس کی رضا مندی کے بغیر اس سے کچھ بھی لیا تو میں قیامت کے دن اس سے جھگڑا کرونگا)

اللہ تعالی ہم سب کیلئے قرآن مجید کو با برکت بنائے ، مجھے اور آپ سب کو قرآن مجید سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے  اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی  بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلئے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کی رہنمائی عطا کی، اور ہمیں تمام لوگوں میں سے بہترین  امت بنایا،  میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ بادشاہ ، اور بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے، نیز  یہ بھی  گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اسکے بندے اور رسول ہیں، آپ نماز، روزہ اور قیام کرنے والوں میں سب سے افضل ترین شخصیت کے مالک ہیں،  اللہ تعالی آپ پر، آپکی آل ، نور و ہدایت کے امام صحابہ کرام پر درود و سلامتی نازل فرمائے ۔

حمدو صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں ۔

کنبے قبیلے  سے تعلق داری اور وابستگی اسلام میں بہت ہی اہمیت اور بلندی کی حامل ہے، اور دوسروں کا تعاون کرتے ہوئے عزیز و اقارب کو ترجیح دینے کا حکم دیا ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:  (مرد اپنے اہل خانہ کا ذمہ دار ہے، اور اس سے ان کے بارے میں باز پرس ہوگی، عورت اپنے خاوند کے گھر کی ذمہ دار ہے، اور اس سے اس کے بارے میں باز پرس ہوگی)

 کنبے قبیلے سے وابستگی بھی حقیقت میں ملکی تعمیر و ترقی میں شامل ہے، بالکل اسی طرح  قبیلے اور خاندان کا شیرازہ بکھرے تو یہ ملک و قوم کی ترقی میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

ایک مسلمان کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ  اللہ کے ہاں حسب نسب کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا، نبی ﷺ کا فرمان ہے: (جس کا عمل اسے پیچھے چھوڑ دے تو اس کا نسب اُسے آگے نہیں پہنچا سکتا)

تمام تر ادارے ملک سے وابستگی کو مضبوط  کرنے کے ذمہ دار ہیں، خاندان، اسکول، استاد، درسی نصاب، مسجد، علمائے کرام، واعظین، اور میڈیا سب پر یہ ذمہ داری یکساں طور پر عائد ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داریوں کے بارے میں پوچھا جائے گا)

اللہ کے بندو!

رسولِ ہُدیٰ پر درود و سلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں اسی کا تمہیں حکم دیا ہے: }إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا{اللہ اور اس کےفرشتے  نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود  و  سلام بھیجا کرو۔[الأحزاب: 56]

یا اللہ! محمد -ﷺ- پر انکی اولاد اور ازواج مطہرات پر رحمت  و سلامتی بھیج، جیسے کہ تو نے ابراہیم کی آل پر رحمتیں بھیجیں، اور محمد  -ﷺ- پر انکی اولاد اور ازواج مطہرات پر  برکتیں نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر برکتیں نازل فرمائیں، بیشک تو لائق تعریف اور بزرگی والا ہے۔

یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین  ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی  رضی اللہ عنہم سے راضی ہو جا،  انکے ساتھ  ساتھ اہل بیت، اور تمام صحابہ کرام  سے راضی ہو جا،  اور اپنے رحم و کرم، اور احسان کے صدقے  ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، اور کافروں کیساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! اپنے اور دین کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! اس ملک کو اور سارے اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! جو کوئی بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بری نیت رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں،  اس کی مکاری اسی کی تباہی و بربادی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعا! یا اللہ! جو کوئی بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بری نیت رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں،  اس کی مکاری اسی کی تباہی و بربادی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعا! یا اللہ! جو کوئی بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بری نیت رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں،  اس کی مکاری اسی کی تباہی و بربادی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعا!

یا اللہ! مسلمانوں کی پوری دنیا میں حفاظت فرما، یا اللہ! پوری دنیا میں کمزور مسلمانوں کی حفاظت فرما،  یا اللہ!  ان کی مدد فرما، ان کا حامی و ناصر بن جا، یا اللہ! وہ بھوکے ہیں ان کے کھانے پینے کا بندو بست فرما،  یا اللہ! وہ پیروں سے ننگے ہیں انہیں جوتے عطا فرما،  بدن پر کپڑے نہیں ہیں انہیں کپڑے عطا فرما،  یا اللہ! مسلمانوں پر ظلم کیا جا رہا ہے تو ان کا انتقام لے، یا اللہ! مسلمانوں پر ظلم کیا جا رہا ہے تو ان کا انتقام لے، یا اللہ! مسلمانوں پر ظلم کیا جا رہا ہے تو ان کا انتقام لے۔

یا اللہ! مسلمانوں کے نشانے درست فرما، یا اللہ! ان کی صفوں میں اتحاد پیدا فرما،  اور انہیں حق بات پر متحد فرما۔

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب  کرنے والے تمام اعمال کا سوال کرتے ہیں، اور یا اللہ! ہم تجھ سے جہنم اور اسے کے قریب کرنے والے اعمال سے پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے، یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لئے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے ابتدا سے لیکر انتہا تک ہر قسم کی خیر کا سوال کرتے ہیں، شروع سے لیکر آخر تک ، اول سے آخر تک ، ظاہری ہو یا باطنی  اور جنت میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ ہدایت، تقوی، عفت، اور غنی کا سوال کرتے ہیں۔

یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ کر، یا اللہ! ہمیں غلبہ عطا فرما، ہم پر کسی کو غلبہ نہ دے، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف کوئی تدبیر نہ ہو، یا اللہ! ہمیں ہدایت دے اور ہمارے لئے ہدایت  آسان بھی بنا دے، یا اللہ! ظالموں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

یا اللہ ہمیں تیرا ذکر کرنے والا بنا،  تیرا شکر گزار بنا، تیرے لئے مٹنے والا بنا، تیری ہی جانب لوٹنے والا اور رجوع کرنے والا بنا۔

یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، ہمارے گناہوں کو دھو ڈال ، ہماری حجت ثابت کر دے، ہماری زبان کی حفاظت فرما،  اور ہمارے سینے کی تمام بیماریاں  ختم کر دے۔

یا اللہ! فوت شدگان پر رحم فرما، بیماروں کو شفا یا ب فرما، قیدیوں کو رہائی عطا فرما، اور ہمارے تمام معاملات کی باگ ڈور سنبھال، اور ہماری مکمل رہنمائی فرما،  یا رب العالمین!

یا اللہ!ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، یا اللہ!انہیں اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، اور تیری راہنمائی کے مطابق انہیں توفیق دے، اس کے تمام کام اپنی رضا کیلئے بنا لے ، یا رب العالمین! یا اللہ!ان کے دونوں نائب کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو تیری شریعت نافذ کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین!

رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ {ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف  نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے [الأعراف: 23]}رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ{اے ہمارے پروردگار! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں, ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے,  اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے[الحشر: 10]}رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ{ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]

}إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ{اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]

تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی کو تمہارے تمام اعمال کا بخوبی علم ہے۔

Read 1716 times

جدید خطبات

خطبات

  • آیت الکرسی کا مفہوم
    آیت الکرسی کا مفہوم
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 10 صفر 1440 کا خطبہ جمعہ " آیت الکرسی کا مفہوم اور افواہوں کے متعلق ہدایات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں عظیم ترین آیت ؛ آیت الکرسی ہے، اس آیت میں اللہ تعالی کے اسما و صفات کا جامعیت کے ساتھ ذکر ہے، سب سے پہلے اس آیت میں اللہ تعالی کی الوہیت کا اقرار، پھر ازل سے ابد تک قائم دائم رہنے کی صفت ذکر ہوئی، اللہ تعالی کو نیند آتی ہے اور نہ ہی اونگ، آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی بادشاہت میں شامل ہے، کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا، اور نبی ﷺ کی سفارش اہل توحید کے لیے سب سے پہلے میسر ہو گی، انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی علم غیب نہیں جانتا، اس کی کرسی آسمان و زمین سے بھی وسیع ہے، جس سے اللہ تعالی کی بے انتہا عظمت اور کبریائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اس لیے اللہ سے جب مانگیں تو وہ بھی بے حساب مانگیں، انہوں نے آخر میں یہ بھی…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 13-رجب- 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی کیلیے حسن اخلاق کا کوئی ثانی نہیں، اسی لیے کتاب و سنت میں اچھا اخلاق اپنانے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، نیز رسول اللہ ﷺ کی جن خوبیوں کا ذکر اللہ تعالی نے فرمایا ان میں حسن اخلاق سر فہرست ہے، آپ ﷺ نے خود فرمایا کہ مجھے اعلی اخلاقیات کی تکمیل کیلیے بھیجا گیا ہے، مومن شخص اعلی اخلاق کی بدولت نفل روزے اور راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے، اچھے اخلاق کا مالک شخص جنت میں رسول اللہ ﷺ کے قریب ترین ہو گا، حسن اخلاق کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ جنت جائیں گے، قیامت کے دن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہو گی، ایک جگہ آپ ﷺ یہاں تک فرما دیا کہ: نیکی حسن اخلاق کا نام ہے، پھر انہوں نے بتلایا کہ حسن خلق کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی شریعت کے مطابق ہو، دوسروں کی خدمت، جود و…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے "اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ" کے عنوان پر 07 ذوالقعدہ 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ خطرات اور مسائل سے بھری ہوئی دنیاوی زندگی میں انسان کو بلند ہمت بنانے کی اشد ضرورت ہے، اور اس کیلیے اللہ تعالی پر توکل بہترین طریقہ ہے، اگر انسان صحیح معنوں میں متوکل ہو تو وہ دنیا میں کسی کا محتاج نہیں رہتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ متوکل دنیا کی ہر چیز کو اللہ تعالی کے زیر تسلط اور ملکیت جانتا ہے لہذا جس چیز کی بھی اسے ضرورت محسوس ہو وہ چیز اللہ سے مانگنے پر اسے مل جاتی ہے، توکل ظاہری اسباب اپنانے سے متصادم نہیں ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہوتی ہے کہ انسان اسباب اپنانے کے بعد ان پر کلی اعتماد نہ کرے بلکہ اللہ تعالی کی ذات پر کامل بھروسا اور یقین رکھے، چنانچہ اسباب اپنانے کے بعد اس کے نتائج اللہ کے سپرد کر دینا توکل کا مطلب ہے ۔ سابقہ اقوام اور صحابہ کرام کے عمل سے توکل کا یہی مفہوم سامنے آتا ہے، دوسرے خطبے میں…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے07-جمادی ثانیہ-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" شرم و حیا شریعت کی روشنی میں" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ اسمائے حسنی کی معرفت عبادت الہی کی کنجی ہے انہی اسمائے حسنی میں سے ایک "اَلْحَيِيُّ" یعنی بہت زیادہ حیا کرنے والا بھی ہے، حیا اللہ تعالی کی صفت ہے، اس کا ذکر کتاب و سنت میں موجود ہے، حیا تمام تر اخلاقی اقدار کا سرچشمہ ہے، حیا انسان کو برائی سے روکتی ہے اور اچھے کاموں کی ترغیب دلاتی ہے، حیا ان اخلاقی اقدار میں شامل ہے جو اولین زمانۂ نبوت سے معتبر اور مطلوب ہیں، حیا سے اشرف المخلوقات سمیت فرشتے بھی موصوف ہیں، آدم، نوح، موسی سمیت تمام کے تمام انبیائے  علیہم السلام حیا سے آراستہ تھے، ہمارے نبی ﷺ سب سے زیادہ با حیا تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے، حیا خواتین کا فطری زیور اور زینت ہے، اسی لیے سیدہ عائشہ اور دیگر صحابیات حیا کی پیکر تھیں، بلکہ اہل جاہلیت بھی حیا پر قائم دائم تھے، نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق حیا سرتا پا خیر ہی خیر ہے، حیا…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عذاب قبر کے اسباب اور نجات کے ذرائع
    عذاب قبر کے اسباب اور نجات کے ذرائع
    پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ایمان اور صبر جیسی نعمت پر تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اس فضل پر اسی کا شکر بجا لاتے ہیں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، کائنات کے فیصلے اور تصرف اسی کے ہاتھ میں ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے مومنوں کو ان کی قبر کی حالت سے بہرہ ور فرمایا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور ہر جگہ پیش رو بننے والے صحابہ کرام پر رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہو، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] انسانی زندگی کے اس سفر میں متنوع اور مختلف مرحلے ہیں، انسان ایک عرصہ ماں کے پیٹ میں، پھر زمین کی پشت پر اور دوبارہ جی اٹھائے جانے تک زمین کے نیچے…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم