بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
بدھ, 03 اپریل 2013 19:52

’’نماز‘‘اسلام کاعظیم رکن(مکمل خطبہ جمعہ)

Written by 

 

مسجدِنبوی کےخطبہ جمعہ کامکمل ترجمہ ،بعنوان:

’’نماز‘‘اسلام کاعظیم رکن

(اہمیت، فضائل و مسائل)

امامِ حرم ڈاکٹرعلی بن عبدالرحمن الحذیفی حفظہ اللہ

مؤرخہ: ۱۷جمادی الأولی۱۴۳۴ھ بمطابق: ۲۹مارچ ۲۰۱۳م

ترجمہ : شیعب مدنی

مراجعہ: حافظ حماد چاؤلہ

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرعلی بن عبدالرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نےجمعہ کا خطبہ اس عنوان پر دیا ’’نماز دینِ اسلام کاعظیم رکن ہے‘‘۔

اس خطبہ میں انہوں نے دلائلِ شرعیہ کی روشنی میں نما ز کی اہمیت بیان کی، اور یہ بتایا کہ یہ پچھلی امتوں کی شریعت  بھی رہی ہے، مگراس بارے میں امتِ مسلمہ کی کچھ  خصوصیات ہیں۔ اورکتاب و سنت سے نماز کے واجب ہونے کے دلائل اور فضائل بیان کئے،اور اسے چھوڑنے اور اس میں سستی کرنے سے ڈرایا۔

 

پہلا خطبہ

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے، ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی سے ہدایت مانگتے ہیں، اور ہم اپنے نفس کی برائیوں اور برے اعمال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور میں  گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جنہیں اللہ نے ہدایت  اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اس دین دین کو تمام ادیان پر غالب کردے اگرچہ مشرکوں کو یہ بات ناگوار گزرے۔

یا اللہ ! اپنے بندے اور رسول  محمدﷺ پر اور ان کی آل پر اور ان کے تمام صحابہ پر رحمتین، سلامتیاں اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و ثنا کے کے بعد:

تقوی کی فضیلت

اللہ سےاس طرح ڈریں جسطرح ڈرنے کا حق ہے، اور اسلام کے مضبوط کڑے کو تھام لیں؛ اللہ کا ڈر ہی معاملات کی اصلاح ، زمانوں کی عزت  اور قیامت کے دن بہترین نتیجہ کا  باعث ہے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:

((وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُعْظِمْ لَهُ أَجْرًا)) [الطلاق: 5].

ترجمہ: اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے گناہ مٹا دے گا اور اسے بڑا بھاری اجر دے گا۔

نماز کے فوائد

اللہ کے بندو!

کیا آپ لوگوں کو ایسے عظیم رکن،عزت والے عمل اور  ہمیشہ کی بھلائی کی فکر ہے،جس کے ذریعےاللہ آپ کے تمام اعمال درست فرمادیتا ہےاور دلوں کو پاکیزہ کردیتا ہے، اخلاق کو بلند فرمادیتا ہے، دنیا آباد کردیتاہے، اور جنتوں میں درجات بلند فرمادیتا ہے، اور سبقت لے جانے والوں تک آپ پہنچ جاتے ہیں، اور آپ کی امیدوں سے کہیں زیادہ آپ کو نعمتیں ملتی ہیں؟ کیاان چیزوں میں  آپ کی کوئی دلچسپی ہے؟

تو وہ کونسا ایسا رکنِ عظیم ہےجس کی بدولت  آپ ہر خیر کو حاصل کرلیتے ہیں اور اسی کی وجہ سے اللہ تعالی آپ کی ہر مصیبت کو ٹال دیتے ہیں؟

وہ (رکنِ عظیم) ہے: نماز،جسے اُس  کی شرائط، ارکان ، واجبات اور سنتوں کے ساتھ قائم کرنا۔

نماز ہرامّت میں فرض رہی ہے

توحید ع رسالت کی گواہی کے بعد نماز ہی ایک ایسا عظیم  ترین رکن ہے جسے اللہ نے ہر امّت میں فرض کیا ہے۔اور اللہ تعالی  پچھلے اور اگلے لوگوں سے نماز کے بغیر کوئی دین قبول نہیں کرےگا۔

((وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ (34) الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَالصَّابِرِينَ عَلَى مَا أَصَابَهُمْ وَالْمُقِيمِي الصَّلَاةِ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ)) [الحج: 34، 35].

ترجمہ: اور ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر فرمائے ہیں تاکہ چوپائے جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں دے رکھے ہیں  سمجھ لو کہ تم سب کا معبود برحق صرف ایک ہی ہے تم اسی کے تابع فرمان ہو جاؤ عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے! انہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے ان کے دل تھرا جاتے ہیں، انہیں جو برائی پہنچے اس پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وہ اس میں سے بھی دیتے رہتے ہیں۔

لیکن اللہ تعالی نے اپنے رحم و کرم سے اس امت کو بہت سی ایسی خصوصیات سے نوازا ہے جو پچھلی امتوں کو نہیں دی گئیں، جیسے: افضل ترین کتاب اور  رب کےمحبوب ترین رسولﷺ۔

امّتِ محمّدیہﷺ کی نماز کی فرضیت ایک انوکھے انداز سے!

اللہ عز وجل نے اس امت پر معراج کی رات آسمان میں پانچ نمازیں فرض کیں، اور اللہ نے اپنے بندے اور رسول محمدﷺ کی طرف وحی کی، اور ان سے وہ کلام کی اجو انہوں نے رب العزت سے سنا، اور ان پر بغیر کسی فرشتے کے واسطے کے پانچ نمازیں فرض کیں، جب سید البشر کو بلند آسمانوں سے سدرۃ المنتھی کی طرف معراج کرائی گئی، پھر اللہ نے انہیں ایسے اونچے مقام پر  بلایا جہاں تک کوئی نہیں پہنچ سکا۔

ثم أمرَ الله - سبحانه - جبريلَ - صلى الله عليه وسلم - أن يؤُمَّ نبيَّنا محمدًا - صلى الله عليه وسلم - في أول وقت كل صلاةٍ وآخره، فقال له: "يا محمد! هذا وقتُ الأنبياء من قبلك، والوقتُ ما بين هذين الوقتَين"؛ رواه أبو داود وغيره من حديث ابن عباس - رضي الله عنهما -.

ترجمہ: پھر اللہ تعالی نے جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیاکہ وہ ہمارے نبی محمدﷺ کی ہر نماز کے  ابتدائی اور آخری  وقت میں امامت کرائیں، اور ان سے فرمایا: اے محمدﷺ! یہ آپ سے پہلے انبیاء کا وقت ہےاور (نمازوں کاق اصل) وقت ان دونوں کے درمیان ہے۔اس حدیث کو ابوداود اور دیگر نے ابن عباس رضی الله عنهما سے روایت کیا ہے۔

تو اللہ نے اسے بلاواسطہ فرض کیا،اور جبرائیل علیہ السلام کی امامت کے ذریعہ فرض کیا، اور ان کی امامت کی وجہ سے اس کی فرضیت اور قدر  مزید بڑھ جاتی ہے، اور اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں اس کے افعال و اقوال کو بیان فرمایا۔اور رسول اللہ ﷺ نے اس کے ارکان ،واجبات اور مستحبات بیان کئے، اور اپنے صحابہ کو نماز  قائم کرنے کے لئے ہر قول و فعل سکھادیا۔اور  تمام حالات میں پوری زندگی ان کی امامت کرائی۔

نماز پیارے نبیﷺہی کے طریقے کے مطابق ہونی چاہیے

نبی علیہ السلام نے فرمایا:

«صلُّوا كما رأيتُموني أُصلِّي»؛ رواه البخاري ومسلم.

ترجمہ: نما زاس طرح پڑھیں جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

نماز کی حفاظت

اور ہر نئی نسل نے  پچھلے لوگوں سے نماز نقل کی ہے، اس کا کوئی قول یا فعل انہوں نے نہیں چھوڑا، اور  اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں مسلمان بنایا، اور ہمارے دین کی حفاظت فرمائی۔

اللہ سب سے بڑا ہے! اللہ کی رحمت بہت عظیم ہے! اور لوگوں پر اللہ کی نعمت بہت ہی جلیل القدر والی ہے۔

نماز بلا واسطہ عطا کی گئی

اور بغیر کسی فرشتے کے واسطے کےامت محمدیہ کے نبی محمدﷺ پراللہ کی طرف سے نماز کا فرض ہوجانا اللہ کے نزدیک نمازوں کی اہمیت اور قدر و منزلت کی ایک بہت ہی بڑی دلیل ہے۔ اور یہ تمام بھلائیوں کا مجموعہ ہے،  دین زمین میں اس وقت تک باقی رہے گا جب تک نماز باقی رہے گی، اور نماز کے کم ہونے سے دین بھی کم ہوجائے گا، اور نماز کے ختم ہونے سے  زمین میں دین بھی ختم ہوجائے گا،  اور نمازیوں کی کثرت سے ہی زمین میں اصلاح ہوتی ہے اور نمازیوں کی قلت سے زمین میں فساد ہوتا ہے۔

نماز قائم کرنا فتنوں سے حفاظت کااہم  ذریعہ

اور  اگر ہر مسلمان مرد و عورت نماز کو اس طرح قائم کرے جس طرح اللہ کے رسول ﷺ اور ان کے صحابہ نے قائم کیاتو یہ امت فتنوں، برائیوں ، مخالفتوں اور سزاؤں سے محفوظ رہے گی،  اور اللہ دشمنوں کے مقابلے میں ان کے لئے کافی ہوجائے گا، اور ہر مسلمان مرد و عورت کے حالات بہتر اور درست ہوجائیں گے، اور ان کا انجام بھی اچھا ہوجائے گا۔

نماز میں سسُتی  کرنے کے  سنگین نتائج

اور افراد کی اصلاح سے ہی معاشرے میں بھلائی عام ہوتی ہے، اور شر کم ہوتا ہے، اور لوگ نیکی کو پسند کرتے ہیں اور برائی سے نفرت کرتے ہیں، لیکن اگر  کچھ لوگوں نے نماز کو معمولی سمجھ کر چھوڑدیایا کچھ  لوگوں کی نما زکے ارکان اور واجبات میں کمی آگئی یا کچھ لوگوں نے  مساجد میں باجماعت نماز ادا کرنا  ترک کردیا، یا اسے دیر سے ادا کیا تو نماز میں کمی کی وجہ سے لوگوں کے معاملات خراب ہوجائیں گے، اور نمازوں کو ضائع کرنے والے ہر شخص کے کام بکھر جائیں گے، اور وہ نڈھال ہوجائے گا، اوراس کا اتحاد بھی پارا پارا ہوجائے گا۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

((وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا)) [الكهف: 28].

ترجمہ: اس کا کہنا نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے اور جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور جس کا کام حد سے گزر چکا ہے ۔

اور جس کا دل زندہ ہوتا ہے وہ سزا کو محسوس کرتا ہے، اور مردہ کو  تو کسی زخم کی کوئی تکلیف  ہی نہیں ہوتی۔

لوگوں کی زندگی میں نماز کے اثرات

ام سلمہ رضی اللہ عنھا کی بہترین  سوچ:

"كان الناسُ في عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يضَعون أبصارَهم في موضعِ سُجودِهم، وكانوا في عهد أبي بكرٍ يضَعون أبصارَهم قريبًا من موضعِ سُجودِهم، وكانوا في عهد عُمر يطمَحُ بعضُهم بأبصارِهم إلى جِهة القبلة، وفي عهد عُثمان تلفَّتُوا يمينًا وشمالاً، فوقَعت الفتنةُ".

ترجمہ: اللہ کے رسول ﷺ کے زمانے میں لوگ سجدے کی جگہ پر اپنی نگاہیں رکھا کرتے تھے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سجدے کی جگہ کے قریب نگاہ یں رکھتے، اور عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بعض لوگ اپنی نگاہوں کو قبلے کی طرف بھی گھمالیتے، اور عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں دائیں بائیں دیکھنا شروع کردیا تو فتنہ برپا ہوگیا۔

تو آپ  ام سلمہ رضی اللہ عنھا کی سمجھ کو دیکھئے کہ کس طرح انہوں نے نماز کا  اچھا یا برا اثر لوگوں کے معاملات میں پہچان لیا۔

انس رضی اللہ عنہ کی فکر:

ودخلَ بعضُ أصحاب أنس بن مالك - رضي الله عنه - فوجدَه يبكِي، فقال: ما يُبكِيك يا أبا حمزة؟ فقال: أبكِي لما أحدثَ الناسُ، حتى هذه الصلاة أخَّرُوها عن وقتِها.

ترجمہ: اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بعض احباب داخل ہوئے تو انہیں روتے ہوئے دیکھا، اور پوچھا: اے ابا حمزہ آپ کو کس چیز نے رُلایا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں اس لئے رو رہا ہوں کہ لوگوں نے نئی نئی چیزیں ایجاد کرلی ہیں۔

نماز دین کا اہم ستون ہے

نماز  ہی دین ہے اور اسلامی امور کا مجموعہ ہے، جیسا کہ  نبی ﷺ نے فرمایا:

«رأسُ الأمر الإسلام، وعمُودُه الصلاة»؛ رواه الترمذي من حديث مُعاذٍ - رضي الله عنه -.

ترجمہ: اصل چیز اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے۔

نماز سے گناہ معاف ہوتے ہیں

وعن أبي هريرة - رضي الله عنه - عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: «الصلواتُ الخمس، والجُمعة إلى الجُمعة كفَّارةٌ لما بينهنَّ ما لم تُغشَ الكبائر»؛ رواه مسلم.

ترجمہ: اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازیں ، اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہان کے درمیان کے وقت کا کفارہ ہیں جب تک کبیرہ گناہ نہ کئے ہوں۔

وعن عُبادة بن الصامِت - رضي الله عنه - قال: سمِعتُ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: «خمسُ صلواتٍ كتبهنَّ الله على العباد؛ فمن جاءَ بهنَّ ولم يُضيِّع منهنَّ شيئًا استِخفافًا بحقِّهنَّ كان له عند الله عهدٌ أن يُدخِلَه الجنة، ومن لم يأتِ بهنَّ فليس له عند الله عهدٌ .. الحديث»؛ رواه أبو داود والنسائي.

ترجمہ: عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا وہ فرمارہے تھے: اللہ نے پانچ نمازیں بندوں پر فرض کی ہیں؛ جو انہیں ادا کرے گا اور ان کو معمولی سمجھ کر انہیں ضائع نہیں کرے گاتو اللہ کا اس سے یہ وعدہ ہے کہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا، اور جو ان نمازوں کو ادا نہیں کرے گا تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں۔

نماز پر کامیابی کا دارومدار ہے

وعن عبد الله بن قُرطٍ - رضي الله عنه - قال: قال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: «أولُ ما يُحاسَبُ به العبدُ يوم القيامةِ الصلاةُ؛ فإن صلُحَت صلُح سائرُ عمله، وإن فسَدَت فسَدَ سائرُ عمله»؛ رواه الطبراني.

ترجمہ: عبد اللہ بن قرط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلا سوال نماز کے بارے میں ہوگا۔اگر اس کی نماز صحیح ہوئی تو باقی اعمال بھی صحیح ہوں گے، اور اگر اس کی نماز میں کوئی خرابی نکلی تو دیگر اعمال بھی خراب ہوں گے۔

اور  نماز کی روح  تین چیزوں میں ہے: خشوع ، سنت کے مطابق، اور باجماعت نماز ادا کرنا۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:

((قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ (1) الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ)) [المؤمنون: 1، 2].

ترجمہ: یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کر لی ۔ جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں ۔

وعن ابن عباس - رضي الله عنهما - أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «من سمِعَ النداءَ فلم يُجِب فلا صلاةَ له إلا من عُذرٍ»؛ رواه الحاكم، وقال: "صحيحٌ على شرطِهما".

ترجمہ: ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: جس آذان سنے اور پھر اس کا جواب نہ دے اور اگر اس کے پاس عذر نہ ہو تو اس کی نماز قبول نہیں ہوگی۔اسے حاکم نے روایت کیا اور کہا کہ : یہ حدیث صحیح بخاری اور مسلم کی شرط پر ہے۔

عورت کی افضل نماز

اور عورت کی نماز گھر میں افضل ہے،

عن أم سلَمة - رضي الله عنها - عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: «خيرُ مساجد النساء قعرُ بيوتهنَّ»؛ رواه أحمد والطبراني.

ترجمہ: ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: عورتوں کی سب سے بہترین مسجد ان کے گھر کا اندرونی حصہ ہے۔

وعن ابن مسعود - رضي الله عنه - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «المرأةُ عورةٌ، فإذا خرجَت استشرَفَها الشيطان»؛ رواه الترمذي.

ترجمہ: اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا: عورت ایک پردے کی چیز ہے، جب یہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھتا ہے۔

اور ابن خزیمہ اور ابن حبان میں  ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

«وأقربُ ما تكونُ من وجهِ ربِّها وهي في قعرِ بيتها».

ترجمہ: (عورت) اپنے رب کے چہرے کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کے اندرونی حصے میں ہوتی ہے۔

کیونکہ عورت اپنے گھر کے اندر جب ہوتی ہے تو فتنوں سے محفوظ رہتی ہے، نہ وہ کسی کو فتنہ میں ڈالتی ہے اور نہ ہی کوئی اسے فتنے میں ڈالتا ہے۔ہاں جب زیب و زینت کے ساتھ نکلتی ہے تو دوسروں کو بھی فتنے میں مبتلا کرتی ہے اور خود بھی فتنے میں مبتلا ہوجاتی ہے۔اور شر اور ہلاکت واقع ہوجاتے ہیں،

اللہ تعالی نے امھات المومنین سے ارشاد فرمایا:

((وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ)) [الأحزاب: 33]

ترجمہ: اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو   اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکٰوۃ دیتی رہو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو ۔

حالانکہ وہ مسلمان خواتین کے لئے ایک بہترین نمونہ ہیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا:

نماز ہر برائی سے روکتی ہے

((إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ)) [العنكبوت: 45].

ترجمہ: یقیناً نماز بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے ۔  بیشک اللہ کا ذکر بڑی چیز ہے جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے ۔

اللہ مجھے اور آپ کو قرآن کریم کی برکت سے فیض یاب فرمائے، اور اس کی آیات اور حکمتوں والی نصیحتوں سے فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور ہمیں رسولوں کے سردارکے اقوالِ زریں اور طریقوں کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔میں یہ بات کہہ رہا ہوں اور اپنے لئے ، آپ سب کے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے اللہ سے ہر گناہ کی  مغفرت مانگتا ہوں، آپ سب بھی بخشش مانگیں، بیشک وہ بہت زیادہ بخشنے والا اور  نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، پرہیزگار لوگوں کا امام ہے، میں اپنے رب ہی کی تعریف کرتا ہوں اور اسی کا شکر ادا کرتا ہوں، اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں، اور اسی سے مغفرت مانگتا ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک  نہیں، انتہائی طاقتور اور مضبوط ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں جو وعدے کو پورا کرنے والے اور امانت دار ہیں، یا اللہ!  اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ اور ان کی آل پر اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و ثنا کے بعد:

اللہ سے ڈریں  وہ آپ سب کے اعمال بہتر فرمادے گا اور گناہوں کو بھی بخش دے گا۔

سنتوں اور نوافل کی اہمیت

اللہ کے بندو! جان لیں کہ جن چیز وں سے نماز پاکیزہ رہتی ہے اور اس کی کمی دور ہوجاتی ہےوہ یہ ہیں: نماز سے پہلے اور بعد کی مؤکدہ سنتوں کی حفاظت کرنا، اور وتر کو ہمیشہ ادا کرنا، اور کثرت سے نوافل ادا کرنا، اور مسنون اذکارکو پڑھتے رہنا؛ یہ چیزیں فرض کو مکمل کردیتی ہیں اور گناہوں کو بخش دیتی ہیں۔

عن أم حبيبة - رضي الله عنها - عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: «من صلَّى قبل الظهر أربعًا وبعدها أربعًا حرَّمَه الله على النار»؛ رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه.

ترجمہ: ام حبیبہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: جوشخص ظہر سے پہلے چار اور  ظہر کے بعد چار رکعت ادا کرے گا تو اللہ اس پر آگ کو حرام کردے گا۔

وعن ابن عمر - رضي الله عنهما - عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: «رحِمَ الله امرأً صلَّى قبل العصر أربعًا»؛ رواه أبو داود والترمذي.

ترجمہ: اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اللہ اس نسان پر رحم فرمائے جو عصر سے پہلے چار رکعتیں ادا کرے۔

اور مغرب کے بعد دو یا چار رکعتیں، اور عشاء سے پہلے دو یا چار رکعتیں، اور عشاء کے بعد جتنی اللہ نے اسے توفیق دی ہو وہ نفل ادا کرے، اور آخر میں وتر پڑھ لےاور اس کا آخری وقت سحری کا وقت ہے۔اور  مسلم کی حدیث ہے:

«ركعتا الفجر خيرٌ من الدنيا وما فيها»؛ رواه البخاري ومسلم من حديث عائشة - رضي الله عنها -.

ترجمہ: فجر کی دو رکعتیں دنیا اور اس کی تمام نعمتوں سے بہتر ہیں۔

ایک دوسری حدیث میں ہے:

«وإنك لن تسجُد لله سجدةً إلا رفعَك الله بها درجةً، وحطَّ عنك بها خطيئةً».

ترجمہ: اور بیشک آپ اللہ کے سامنے ایک  سجدہ کرتے ہیں تو اللہ اس کی بدولت آپ کا ایک درجہ بلند فرمادیتا ہے، اور آپ کی ایک غلطی مٹا دیتا ہے۔

اور نبی علیہ السلام نے بعض صحابہ سے فرمایا:

«أعِنِّي على نفسِك بكثرةِ السُّجُود».

ترجمہ: کثرت سے سجدے کرکے اپنے (جنت میں اعلی مقام کے لئے) لئے میری مدد کریں۔

اور نماز کو چھوڑدینا آگ میں جانے کا سبب ہے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:

))مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ (42) قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ (43) وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ (44) وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ (45) وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ (46) حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ(( [المدثر: 42- 47].

ترجمہ: تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا۔ وہ جواب دیں گے ہم نمازی نہ تھے۔ نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔ اور ہم بحث کرنے والے (انکاریوں) کا ساتھ دے کر بحث مباحثہ میں مشغول رہا کرتے تھے ۔ اور روز جزا کو جھٹلاتے تھے۔ یہاں تک کہ ہمیں موت آگئی۔

درود و سلام کے فضائل

اللہ کے بندو!

))إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا(( [الأحزاب: 56]،

ترجمہ: اللہ تعالٰی اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو ۔

اور نبی علیہ السلام کا بھی فرمان ہے:

«من صلَّى عليَّ صلاةً واحدةً صلَّى الله عليه بها عشرًا».

ترجمہ: جو مجھ پر ایک درود بھیجے گا اللہ اس پر اس کے بدلے دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔

درود و سلام اور دعائیں:

اس لئے پچھلے اور اگلے لوگوں کے سردار رسولوں کے امام پر درود و سلام بھیجیں۔

یا اللہ! محمد ﷺ اور آل محمدﷺ پر رحمتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائیں،بیشک تو بہت تعریفوں والا اور بزرگی والا ہے۔

یا اللہ ! محمدﷺ اور آلِ محمدﷺ پر برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائیں،بیشک تو بہت تعریفوں والا اور بزرگی والا ہے۔

یا اللہ! ہمارے سردار محمدﷺ اور ان کی ازواج مطہرات ، اولاد اوراہل بیت پر بے شمار رحمتیں اور سلامتیاں نازل فرما۔

یا اللہ! تمام صحابہ سے راضی ہوجا، اور خلفائے راشدین سے بھی جوکہ ہدایت یافتہ ائمہ ہیں: ابو بکر و عمر، عثمان و علی اور تمام صحابہ رضی اللہ عنھم سے بھی ، اور تابعین سے بھی اور ان لوگوں سے بھی راضی ہوجا جوقیامت تک ان کی پیروی کریں گے۔

یااللہ! اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے! ان کے ساتھ ساتھ اپنے رحم و کرم سے ہم سے بھی راضی ہوجا۔

سب مسلمانوں کے لئے دعائیں:

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما، یا اللہ!  یا رب العالمین! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما،  اورکفر اور کافروں کو رسوا کردے، اور شرک اور مشرکوں کو ذلیل کردے۔ بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! مسلمانوں کے معاملات میں  رہنمائی فرما۔

یا اللہ!  اے تمام جہانوں کے رب!  اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے! اپنی رحمت سے ہمارے اور تمام مسلمانوں کے فوت شدہ لوگوں کو بخش دے،ان کی قبروں کو نور سے بھردے، ان کے گناہوں کو معاف فرمادے، ان کی نیکیوں کو بڑھادے، ان کی خطاؤں سے درگزر فرما۔

یا اللہ! اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے! اپنی رحمت سےحق کو ہمارے سامنے حق ہی دکھانا اور ہمیں اس کی اتباع کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اور اسے ہم پر مشتبہ نہ کرنا کہ ہم گمراہ ہوجائیں۔

یا اللہ!  اے تمام جہانوں کے رب! اپنی اطاعت پر ہمارے دلوں کو ثابت کردے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! ہم تجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ اپنے دین کی مدد فرما۔

یااللہ! اے قوی و غالب! اپنے دین اور کتاب و سنت کی تائید فرما۔ یااللہ! ہر جگہ قرآن و حدیث کی مدد فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

نفس کی شرارت سے اللہ کی پناہ:

یا اللہ! ہم تجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے ہی نفس کی شرارتوں سے محفوظ فرما۔ یا اللہ! ہمیں اپنے ہی نفس کی شرارتوں سے محفوظ فرما۔ اور ہمارے ہی برے عمال سے محفوظ فرما۔ یا اللہ! اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے! اپنی رحمت سے ہر شر والی چیز کے شر سے محفوظ فرما۔

مظلوموں کے لئے دعائیں:

یااللہ! شام میں ہمارے مسلمان بھائیوں پر  ظلم ہورہا ہے، یااللہ! ان پر تو واقعی ظلم ہوا ہے، یااللہ! اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے! ان پر ایسی مصیبتیں، پریشانیاں اور سختیاں آگئی ہیں جنہیں تیرے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا،

یا اللہ! ان پر ظالم قوم کو مسلط نہ کر، اے تمام جہانوں کے رب! اس  گردش کو انہی ظالموں پر ڈال دے، بیشک تو ہرچیز پر قادر ہے، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے! ان پر ظالم قوم کو مسلط نہ کر۔

یا اللہ! تو ہی مددگار ہےاوریقینا  تو ہرچیز پر قادر ہے، یااللہ! جلد ہی  ان کی مصیبتوں کو دور فرما، یااللہ! یا رب العالمین! جلد ہی ان کی سختیوں کو ختم کردے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے؛ اور بیشک تو ہی سچا معبود ہے ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں تیری ہی طرف ٹھکانہ ہے اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

دیارِ حرمین کے لئے خصوصی دعائیں:

یا اللہ! ہمارے ملکوں میں امن پیدا فرما، اور ہمارے امیر کی اصلاح فرما۔

یاللہ! اے تمام جہانوں کے رب! اس ملک کے ساتھ ساتھ تمام مسلم ممالک کو فراوانی اور  امن و سکون کا گہوارا بنادے۔

یا اللہ! حرمین شریفین کے خادم کو ہر اس کام کی توفیق عطا فرما جس سے تو خوش  اور راضی ہوتا ہے، یا اللہ!  انہیں ہدایت کی توفیق عطا فرما، اور اسے اپنی رضا کے کام والے اعمال کرنے  کی توفیق عطا فرما۔یا رب العالمین! دین کے معاملات میں  اور اسے نافذ کرنے میں  ان کی مدد فرما، اور اے تمام جہانوں کے رب!  ہر اس کام میں مدد فرما جس میں مسلمانوں اور عوام کے لئے بھلائی ہو، بیشک تو ہرچیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! اے عزت و جلال والے!  ہم تجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم پر بارش برسا۔ یا اللہ! اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے!  ہم پر بارش برسا۔ یااللہ!  یا ذاالجلال والاکرام! پل جھپکنے کے برابر یا اس سے بھی کم وقت کے لئے ہمیں اپنے (ہمارے)  ہی سپرد نہ کردینا۔

عمومی نصیحتیں

اللہ کے بندو!

))إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (90) وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ (( [النحل: 90، 91].

ترجمہ: اللہ تعالٰی عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے،  وہ خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔ اور اللہ تعالٰی کے عہد کو پورا کرو جب کہ تم آپس میں قول و قرار کرو اور قسموں کو ان کی پختگی کے بعد مت توڑو، حالانکہ تم اللہ تعالٰی کو اپنا ضامن ٹھہرا چکے ہو ۔ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو بخوبی جان رہا ہے۔

اور اللہ عظیم و جلیل کا ذکر کریں وہ آپ کا ذکر کرے گا، اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر ادا کیجئے وہ آپ کو مزید عطا فرمائے گا، اور اللہ کا ذکر تو سب سے بڑ اہے، اور اللہ جانتا ہےجو کچھ آپ سب کرتے ہیں۔

***

 

Read 5806 times Last modified on ہفتہ, 04 نومبر 2017 15:47

جدید خطبات

خطبات

  • آیت الکرسی کا مفہوم
    آیت الکرسی کا مفہوم
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 10 صفر 1440 کا خطبہ جمعہ " آیت الکرسی کا مفہوم اور افواہوں کے متعلق ہدایات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں عظیم ترین آیت ؛ آیت الکرسی ہے، اس آیت میں اللہ تعالی کے اسما و صفات کا جامعیت کے ساتھ ذکر ہے، سب سے پہلے اس آیت میں اللہ تعالی کی الوہیت کا اقرار، پھر ازل سے ابد تک قائم دائم رہنے کی صفت ذکر ہوئی، اللہ تعالی کو نیند آتی ہے اور نہ ہی اونگ، آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی بادشاہت میں شامل ہے، کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا، اور نبی ﷺ کی سفارش اہل توحید کے لیے سب سے پہلے میسر ہو گی، انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی علم غیب نہیں جانتا، اس کی کرسی آسمان و زمین سے بھی وسیع ہے، جس سے اللہ تعالی کی بے انتہا عظمت اور کبریائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اس لیے اللہ سے جب مانگیں تو وہ بھی بے حساب مانگیں، انہوں نے آخر میں یہ بھی…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 13-رجب- 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی کیلیے حسن اخلاق کا کوئی ثانی نہیں، اسی لیے کتاب و سنت میں اچھا اخلاق اپنانے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، نیز رسول اللہ ﷺ کی جن خوبیوں کا ذکر اللہ تعالی نے فرمایا ان میں حسن اخلاق سر فہرست ہے، آپ ﷺ نے خود فرمایا کہ مجھے اعلی اخلاقیات کی تکمیل کیلیے بھیجا گیا ہے، مومن شخص اعلی اخلاق کی بدولت نفل روزے اور راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے، اچھے اخلاق کا مالک شخص جنت میں رسول اللہ ﷺ کے قریب ترین ہو گا، حسن اخلاق کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ جنت جائیں گے، قیامت کے دن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہو گی، ایک جگہ آپ ﷺ یہاں تک فرما دیا کہ: نیکی حسن اخلاق کا نام ہے، پھر انہوں نے بتلایا کہ حسن خلق کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی شریعت کے مطابق ہو، دوسروں کی خدمت، جود و…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے "اللہ پر توکل؛ باہمت بننے کا ذریعہ" کے عنوان پر 07 ذوالقعدہ 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ خطرات اور مسائل سے بھری ہوئی دنیاوی زندگی میں انسان کو بلند ہمت بنانے کی اشد ضرورت ہے، اور اس کیلیے اللہ تعالی پر توکل بہترین طریقہ ہے، اگر انسان صحیح معنوں میں متوکل ہو تو وہ دنیا میں کسی کا محتاج نہیں رہتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ متوکل دنیا کی ہر چیز کو اللہ تعالی کے زیر تسلط اور ملکیت جانتا ہے لہذا جس چیز کی بھی اسے ضرورت محسوس ہو وہ چیز اللہ سے مانگنے پر اسے مل جاتی ہے، توکل ظاہری اسباب اپنانے سے متصادم نہیں ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہوتی ہے کہ انسان اسباب اپنانے کے بعد ان پر کلی اعتماد نہ کرے بلکہ اللہ تعالی کی ذات پر کامل بھروسا اور یقین رکھے، چنانچہ اسباب اپنانے کے بعد اس کے نتائج اللہ کے سپرد کر دینا توکل کا مطلب ہے ۔ سابقہ اقوام اور صحابہ کرام کے عمل سے توکل کا یہی مفہوم سامنے آتا ہے، دوسرے خطبے میں…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    شرم و حیا شریعت کی روشنی میں
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے07-جمادی ثانیہ-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" شرم و حیا شریعت کی روشنی میں" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ اسمائے حسنی کی معرفت عبادت الہی کی کنجی ہے انہی اسمائے حسنی میں سے ایک "اَلْحَيِيُّ" یعنی بہت زیادہ حیا کرنے والا بھی ہے، حیا اللہ تعالی کی صفت ہے، اس کا ذکر کتاب و سنت میں موجود ہے، حیا تمام تر اخلاقی اقدار کا سرچشمہ ہے، حیا انسان کو برائی سے روکتی ہے اور اچھے کاموں کی ترغیب دلاتی ہے، حیا ان اخلاقی اقدار میں شامل ہے جو اولین زمانۂ نبوت سے معتبر اور مطلوب ہیں، حیا سے اشرف المخلوقات سمیت فرشتے بھی موصوف ہیں، آدم، نوح، موسی سمیت تمام کے تمام انبیائے  علیہم السلام حیا سے آراستہ تھے، ہمارے نبی ﷺ سب سے زیادہ با حیا تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے، حیا خواتین کا فطری زیور اور زینت ہے، اسی لیے سیدہ عائشہ اور دیگر صحابیات حیا کی پیکر تھیں، بلکہ اہل جاہلیت بھی حیا پر قائم دائم تھے، نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق حیا سرتا پا خیر ہی خیر ہے، حیا…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عذاب قبر کے اسباب اور نجات کے ذرائع
    عذاب قبر کے اسباب اور نجات کے ذرائع
    پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ایمان اور صبر جیسی نعمت پر تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اس فضل پر اسی کا شکر بجا لاتے ہیں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، کائنات کے فیصلے اور تصرف اسی کے ہاتھ میں ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے مومنوں کو ان کی قبر کی حالت سے بہرہ ور فرمایا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور ہر جگہ پیش رو بننے والے صحابہ کرام پر رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہو، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] انسانی زندگی کے اس سفر میں متنوع اور مختلف مرحلے ہیں، انسان ایک عرصہ ماں کے پیٹ میں، پھر زمین کی پشت پر اور دوبارہ جی اٹھائے جانے تک زمین کے نیچے…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم