بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
منگل, 21 مئی 2013 06:31

’’دنیائے فانی سے خبر دار رہیں‘‘ مکمل خطبہ جمعہ

Written by 

مسجدِنبوی کے خطبہ جمعہ کا مکمل ترجمہ ،بعنوان:

’’دنیائے فانی سے خبر دار رہیں‘‘

ڈاکٹرحسین بن عبد العزیز آلِ الشیخ حفظہ اللہ

(امام وخطیب مسجدِ نبوی،قاضی سپریم کورٹ مدینہ منورہ)

مؤرخہ: 2جمادی الثانی۱۴۳۴ھ بمطابق: ۱۲اپریل ۲۰۱۳م

ترجمہ: شعیب مدنی، مراجعہ : حافظ حماد چاؤلہ

فضیلۃ الشیخ حسین بن عبدالعزیز آل الشیخ حفظہ اللہ نے جمعہ کا خطبہ اس موضوع پر دیا

’’دنیائے فانی سے خبردار رہیں‘‘

ایک منفرد اورممتاز خطبہ جمعہ جس میں انہوں نے دنیا کی حقیقت اور اس سے متعلق نفسانی خواہشات کے بارے میں گفتگو فرمائی،  اور بتایا کہ تمام مسلمانوں کے لئےبہت ضروری  ہےکہ  وہ کسی بھی حال میں اپنے دینی معاملات اور اللہ  اور رسولﷺ کی اطاعت پر دنیا کے معاملات کو ترجیح نہ دیں۔ اور انہوں نے ہر نافرمانی اور حرام کاموں سے ڈرایا جن سے بندے کی آخرت برباد ہوتی ہے، مکمل ترجمہ خطبہ پیشِ خدمت ہے۔

پہلا خطبہ

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے  اس دنیاوی  زندگی کو ذمہ داری والی اورفنا ہونے والی بنایاہے، اور آخرت کو بدلے اور ہمیشگی کا گھر بنایا ہے ۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے اپنے متقی بندوں کو مکمل جزا دینے کا عدہ کیا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمدﷺ اس کے بندے اور برگزیدہ رسول ہیںﷺ۔ یا اللہ! ان پر اور ان کی آل پر اور ان کے نیک و متقی صحابہ پررحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

حمد وثنا کے بعد،  اے  مسلمانو! میں مجھ سمیت آپ سب کو اللہ  سےڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں؛ اور یہی دنیا و آخرت میں  سعادت، کامیابی و کامرانی کا راستہ ہے۔

ہماری کوتاہیاں

اللہ کے بندو! یقینا ہم کٹھن حالات سے گزر رہے ہیں، جس میں اکثر لوگوں کے نزدیک دینی امور  پرذاتی مصلحتیں غالب آچکی ہیں، اور اخلاقی صفات پر ذاتی مفادات کو ترجیح دی جارہی ہے۔ دلوں میں دنیا کی محبت بیٹھ چکی ہے، اور لوگ دنیا کی ظاہری زیب و زینت کے پیچھے مکمل طور پر دوڑ  رہے  ہیں، اور اکثر لوگوں کی دوستی اور دشمنی کی بنیادبھی یہی  فانی دنیا ہے۔اسی کی خاطرمعاملات کو چلاتے ہیں اور اسی کو حاصل کرنے کے لئے لڑائی جھگڑے اور بحث و مباحثہ کرتے ہیں۔

 

مسلمان پر شدید ترین فتنے

اے مسلمانوں کی جماعت! بیشک بندے کے دین  پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی بات یہ ہے کہ شرعی ضابطوں اور دینی حدود و  قیود کو پسِ پشت ڈال کراس فانی دنیا کی محبت کے پیچھے  ڈورنا۔

اس فانی زندگی کے سازو سامان کی خاطر کھلم کھلا دشمنیاں کرنا، اور ایمان اور اسلامی احکام کا خیال رکھے بغیر اسے ہی اپنی غرض و غایت بنالینا بدترین فتنوں میں سے ہے۔ اور ایمانی صفات اور اسلامی احکامات کوبھُلا کرصرف اسی  (دنیاوی زندگی ) کو اپنا مقصد اور  ہدف بنالینا مسلمان کے لئے بہت بڑا فتنہ ہے۔

دنیا کو غرض و غایت بنالینے پر وعید

جی ہاں، اے مسلمانوں کی جماعت!

یہی سب سے خطرناک فتنہ ہے کہ اپنا سب سے اہم کام ، غایتِ علم، کوششوں کا محور اور اپنے وجود کا مقصد اس دنیا کو بنا  لینا،  ایسے لوگوں کے لئے اللہ نے یہ وعید سنائی ہے:

((وَوَيْلٌ لِلْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيدٍ (2) الَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا أُولَئِكَ فِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ)) [إبراهيم: 2،3]

ترجمہ: اور کافروں کے لئے تو سخت عذاب کی (صورت میں )ہلاکت ہے۔ جو آخرت کے مقابلے میں دنیاوی زندگی کو پسند رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں ٹیڑھ پن پیدا کرنا چاہتے ہیں  یہی لوگ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں ۔

اور اللہ تعالی نے مزید اس بارے میں ارشاد فرمایا: ((إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَاللَّهُ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ)) [التغابن: 15].

ترجمہ: تمہارے مال اور اولاد تو سراسر تمہاری آزمائش ہیں  اور بہت بڑا اجر اللہ ہی کے پاس ہے.

ہمارے  پیارے نبی ﷺ نے اس  عیب لگانے والی حالت سے ان الفاظ  کے ذریعہ پناہ مانگی ہے:

«اللهم لا تجعل مُصيبتَنا في ديننا، ولا تجعل الدنيا أكبر همِّنا، ولا مبلغَ علمِنا».

ترجمہ: یا اللہ! ہمارے دین میں مصیبت پیدا نہ کرنا، اور اس دنیا کوہماری سب سے بڑی فکر اور علم کی انتہا نہ بنانا۔

اے مسلمانوں کی جماعت!

جس کے  دین پر دنیا کی محبت غالب آگئی، اور اُس نےاللہ کی اطاعت پراپنی خواہشات کو ترجیح دی تو وہ شیطان کی مضبوط رسیوں اور بڑے شکار  میں جگڑا جاچکا ہے، ہمارے رب نے اس راستے سے مسلمانوں کو روکتے  ہوئے یہ ارشاد فرمایا ہے:

((يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ)) [فاطر: 5].

ترجمہ: لوگو! اللہ تعالٰی کا وعدہ سچا ہے تمہیں زندگانی دنیا دھوکے میں نہ ڈالے  اور نہ دھوکے باز شیطان غفلت میں ڈالے۔

اور صحیح بخاری میں نبی علیہ السلام کی حدیث ہے:

«تعِسَ عبدُ الدينار، تعِسَ عبدُ الدرهم، تعِسَ عبدُ الخميصة، تعِسَ عبدُ الخَميلة، إن أُعطِيَ منها رضِي، وإن لم يُعطَ لم يرضَ».

ترجمہ: دینار کا پجاری ہلاک ہوگیا،  دینار کا پجاری ہلاک ہوگیا،کپڑے یا چادر کا پجاری ہلاک ہوگیا،گھنے باغات کا پجاری ہلاک ہوگیا،کہ اگر  اسے کچھ دیا جائے تو وہ خوش ہوجاتا ہے اور اگر اسے نہ دیا جائے تو وہ ناراض ہوجاتا ہے۔

چند ضروری ہدایات

اللہ کے بندو! اس دور میں جہاں مادّی زندگی وحشت ناک بن کر سرکشی پر اُتر آئی ہے، اور درہم و دینار کی پوجا کی جارہی ہے، اور بعض لوگوں کے دلوں پرمنصب و  ریاست کا غلبہ ہوچکا ہے، جس نے انہیں عدل اور شریعت کے طور طریقوں کو بھُلادیا ہے،  اس وقت ضروت اس بات کی ہے کہ:

ہم سب  قرآن و سنت کی نصیحتوں کو یاد کریں، ان کے احکامات پر عمل کریں، اللہ رحمٰن و رحیم کی رضا حاصل کریں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق زندگی گزاریں تاکہ اپنے نفس کا محاسبہ کرسکیں، اور اس کی خطرناک اور قبیح  بیماریوں کا علاج کرسکیں۔

اسلامی بھائیو!

اس آیتِ کریمہ کو قبول کرنے اور عمل کرنے کی غرض سے  غور و تدبر  کے ساتھ سنیئے، فرمانِ الٰہی ہے:

((إِنَّ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا وَرَضُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاطْمَأَنُّوا بِهَا وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ آيَاتِنَا غَافِلُونَ (7) أُولَئِكَ مَأْوَاهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ)) [يونس: 7، 8].

ترجمہ: جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا یقین نہیں ہے اور وہ دنیاوی زندگی پر راضی ہوگئے اور اس میں جی لگا بیٹھے ہیں اور جو لوگ ہماری آیتوں سے غافل ہیں۔ ایسے لوگوں کا ٹھکانا ان کے اعمال کی وجہ سے دوزخ ہے۔

دنیا وی آسائشوں ،عیّاشیوں کا غلبہ غربت سے  کہیں زیادہ نقصان دہ ہے

اللہ آپ سب پر رحم فرمائے! پیارے نبی علیہ السلام کی اس حدیثِ جلیل کو یاد رکھیں:

عن أبي الدرداء - رضي الله عنه - قال: خرج علينا رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - ونحن نتذكَّر الدنيا، نتذكَّرُ الفقرَ ونتخوَّفُه، فقال: «آلفقرَ تخافُون؟! والذي نفسي بيده؛ لتُصبَّنَّ عليكم الدنيا صبًّا، حتى لا يُزيغَ قلبَ أحدكم إزاغةً إلا هي»؛ أي: إلا هذه الحياة «وايْمُ الله! لقد تركتُكم على مثل البيضاء، ليلُها ونهارُها سواء».

ترجمہ: سیدناابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ ہمارے پاس آئے اور ہم دنیا کی باتیں کررہے تھے، غربت کو یاد کرکے خوف محسوس کررہے تھے، نبی علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم  لوگ فقیری سے ڈرتے ہو؟!  ُاس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے؛ اس دنیا کو تم لوگوں پربہت کشادہ کردیا جائے گا یہاں تک کہ یہ کچھ لوگوں کے دلوں کوٹیڑھا کردے گی۔ اللہ کی قسم!  میں نے تم لوگوں کو ایسےواضح و روشن راستہ پر لا کھڑا کیا ہے جس کی رات اور دن (روشنی کے حساب سے) برابر ہیں۔

ہر بُرائی کی جڑ اور فتنوں کا سب سے بڑا دروازہ

یہ بہت ہی عظیم حدیث ہے، اور نبوت کی بھی ایک نشانی  ہے جو اس زمانے میں ہمارے خطرناک حالات کا علاج بتارہی ہے، اور حق سے منہ پھیرنے کے اسباب بیان کر رہی ہے۔ اور  سیدھے راستے سے ہٹانے والی  سب سے خطرناک باتیں  اور فتنوں کے سب سے بڑے دروازے یہ ہیں:

دلوں پر دنیا کا غلبہ،  فانی ہوجانے والی خواہشات  اور چند لمحات کی لذت کو حاصل کرنے میں مشغول ہوکراپنی دائمی  بربادی کو دعوت دیناہے۔

یقینا اگر دنیا اور اس کی لذتوں سے تعلق رکھنے والا دل ایمانی حقائق اور اسلامی اخلاق سے خالی ہو تو وہ بندے کو ہر بُری صفت اور قبیح فعل پرآمادہ کرے گا، اسی لئے فرضی زکاۃ  ادا نہ کرنے والا   دراصل درہم و دینار کی محبت میں آکر بخیلی کرتا ہے۔اور فانی دنیا  کا غلبہ اور  زائل ہوجانے والی شہوات کی محبت ہی بندوں پر ظلم کا سبب بنتی ہے۔اور  بعض لوگ  اس فنا ہونے والے سامان کی وجہ سے ہی جھوٹ،  ملاوٹ، دھوکہ اور حسد میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ تو دنیا کی محبت ہی ہر برائی کی جڑ ہے، اسلامی احکامات کو پسِ پشت ڈال کرمحض دنیا کو ہی محبوب بنالینا ہر برائی کا پیش خیمہ ہے۔صحیح بخاری میں فرمانِ رسولﷺہے:

«إنّ أكثرَ ما أخافُ عليكم: ما يُخرِجُ الله لكم من بركات الأرض». قيل: وما بركاتُ الأرض؟ قال: «زهرةُ الدنيا».

ترجمہ: اللہ کے رسول ﷺکا فرمانِ مبارک ہے: بیشک مجھے  تم لوگوں سے متعلق سب سے زیادہ جو ڈر ہےوہ اللہ تعالی کی اُن برکتوں کے حوالہ سے ہے جو زمین سے نکلتی ہیں۔ کسی نے عرض کیا: زمین کی برکتیں کیا ہیں؟ فرمایا: دنیا  کا مال و متاع۔ (یعنی تم اُن برکتوں یعنی دنیا میں مبتلا ہوکر آخرت کو بھول جاؤ گے)

دنیا کے دھوکہ سے بچنا عقلمندی کا ثبوت ہے

اے مسلمانوں کی جماعت!

کیا  ہم عقل استعمال نہیں کرتے؟، کیا اس دنیا کی حقیقت سے نصیحت حاصل نہیں کرتے، یہ تو مصائب  سے بھری ہوئی جگہ ہے،  خوف و خطر نے اسے چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے؟! کیا عقل سلیم اور صحیح منہج کا یہی تقاضہ ہے کہ ہم اس دنیا کی ظاہری زیب و زینت اور دھوکہ کے سامان  سے دھوکہ کھاکر ہمیشہ کے گھر (آخرت)کو بھول جائیں اور اسے حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں۔

اے مخلوق! کیا توثابت شدہ موت کی حقیقت کی طرف نہیں جارہا؟، کیا تو نے نہیں دیکھا کہ دنیا ایک سائے کی مانند ہے جو کچھ وقت تو سایہ دیتا ہے پھر زائل ہوتاچلاجاتا ہے، جبکہ ہمارے رب نے ارشاد فرمایا:

((وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ)) [آل عمران: 185]. ترجمہ: اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کی جنس ہے ۔

اللہ کی قسم؛ جو بھی اللہ کے احکامات سے منہ موڑتا ہوا ، ممنوعہ چیزوں میں واقع ہوتا ہوا اس دنیا کے پیچھے بھاگتا ہے اور دین کے راستے کو چھوڑ دیتا ہے، تو چاہے وہ فردِ واحد ہو یا پوری قوم ہو اسے بہت بڑی ندامت ، حسرت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک واقعہ  ذکر کیا جاتا ہے:

ذُكِر أن أحد الملوك جُمِعَت له الدنيا في زمانِه، فنالَ من حلالِها وحرامِها، وما تشتهِيه الأنفُس، فعندما وافاه الأجلُ تذكَّرَ حالَه في الدنيا وما آلَ إليه مصيرُه، فقال: يا ليتني لم أملِك هذا المُلك وكنتُ عسيفًا - أي: أجيرًا -، أو راعيًا في غنَمٍ.

ترجمہ: ایک بادشاہ کواپنے وقت میں  پوری دنیا کی نعمتیں اور آسائشیں مل گئیں اور اس نے حلال و حرام کی تمیز کئے بغیر ہر خواہش کو پورا کیا اور جب اس کی موت کا وقت آیا تواس نے اپنی دنیاوی زندگی کو اورآخرت میں اس کے انجام کا جائزہ لیا تو کہنے لگاکہ: کاش!  مجھے اس دنیا کی بادشاہت نہ ملتی اور  میں ایک نوکر یا بکریوں کا چرواہا بن کر زندگی گزارتا۔

دردمندانہ نصیحتیں

’’سعادت مندی کا تقاضہ‘‘

اےمردِ مسلمان اور اے مسلمان  خاتون!

اگر آپ سعادت، عزت اور امن و سکون  چاہتے ہیں تو دنیاوی چمک دھمک بظاہر  کتنی ہی عظیم کیوں نہ نظر آئے اس  کی خاطر  دین کو نہ بیچ دینا۔

مسلمان کی جان ،مال اور عزت پامال کرنے والے کو نصیحت!

اے وہ شخص! جسے اس دنیا نے اندھا کردیا ہے اور اس نے  دنیاوی مال و دولت کو ترجیح دی،دنیاوی مفاد کی خاطر  معصوموں کا خون بہایا، محفوظ عزتوں کو پامال کیا، پاکیزہ مال کو چھینا، تونے بہت بڑا جرم کیا ہے، اور بڑے بگڑی بنانے والے(اللہ)کی مخالفت کی ہے، اپنے رب  سے ڈرجا،اور نیکی کی طرف آجا، اور (آخرت میں) اپنے انجام کو یاد  رکھ۔

حلام و حرام میں فرق نہ رکھنے والے کو نصیحت!

اے وہ شخص! جسے اس دنیا نے دھوکہ دیا ہے، اور اس نے حلال و حرام کو ملانے کی کوششیں کیں! اللہ سے ڈرجاؤ ! اس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے اور گھر، مال اور وطن سب چھوٹ جائے۔

سود کا لین دین کرنےاور ترویج دینے والے کو نصیحت!

اے وہ شخص! جو سود کے معاملات میں گھرا ہوا ہے اور مسلمانوں کے درمیان سود کو ترویج دے رہا ہے! وہ  اللہ جل جلالہ کا خوف  دل میں بٹھااور اس کی ناراضگی سے بچ جا، اُس (اللہ)کی پکڑ سخت اور  تکلیف دہ ہے۔

ذرائع ابلاغ ( میڈیا)کے ذریعہ بے حیائی و فحاشی کو فروغ دینے والے کو نصیحت!

اے  مسلمانوں کی اولاد میں سےوہ شخص! جس نے رسوا کن  چینلز کو مؤمنوں کے درمیان  آزاد انہ نشر کیا  ہے!  اپنے رب سے توبہ کر، اور اللہ تعالی کا یہ فرمان یاد کر: ((إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ)) [النور: 19].

ترجمہ: جو لوگ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں ۔

اے بے حیائی و فحاشی  کے  چینلز چاہنےاورچلانے والو!

کیا وہ وقت نہیں آیا کہ تم اپنے رب کی طرف رجوع کرو؟حالانکہ تم دیکھ رہے ہو کہ مسلمانوں کو ہر طرف سے فتنوں نے گھیرا ہوا ہے! کیا تمہیں جان و مال   میں آنے والی فوری سزا کا ڈر نہیں؟! یا آخرت میں برے انجام کی کوئی فکر نہیں!  کہ پھر ندامت  کا کوئی موقع نہیں ملے گا۔

ہمارے رب نے شہروں میں  سرکشی اور فساد کرنے والوں کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے:

((فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ (13) إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ)) [الفجر: 13، 14].

ترجمہ: آخر تیرے رب نے ان سب پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ یقیناً تیرا رب گھات میں ہے۔

نفسانی خواہشات کے پُجاری کو نصیحت!

اے وہ شخص! جسے برائی پر ابھارنے والے  نفس نے پیسوں پر کام کرنے کو اتنا مزین کردیا ہے کہ وہ سودی اور فسادی بن گیا! ان جرائم اور بیہودہ کاموں   پر اللہ کی لعنت کو یاد کرو،  جان لو کہ جو کچھ تم لے رہے ہو وہ آگ ہے، رسوائی ہے اور عار ہے، اور فوراً توبہ کرو، اور اللہ کی طرف رجوع کرو۔

دھوکہ  ،خیانت اور کرپشن کرنے والے کو نصیحت!

اے وہ شخص! جو تمام مسلمانوں کی فلاح و بہبود سے متعلقہ منصوبہ جات کی تکمیل و تنفیذ میں دھوکہ دیتا ہے! اگر تو نے اس دھوکہ سے بہت سارا مال اور بڑی دولت بھی اکھٹی کرلی تو یاد رکھنا کہ تمہارا تو صرف وہی مال ہوگا جو تم نے کھایا، پیا ، پہنااور اُڑادیا، لیکن جان لینا کہ اس وقت  اللہ تعالی گھات  میں ہوتا ہے اور بہت ہی  قوی امکان  ہے کہ توفوری سزا  میں مبتلا ہوجائے، جس کا یہ عمل ہو ،اُس کے لئے آخرت کی وعید کا بھی انتظار نہیں کیا جاتا۔

وگرنہ تمام مسلمانوں کو دھوکہ دیناتو  شرعی نصوص کی بنیاد پر بہت ہی خطرناک معاملہ اور سنگین جرم ہے، جبکہ بعض لوگ اس میں بہت ہی سستی و غفلت کرتے ہیں، کیونکہ اس پر کسی مخلوق کی نگرانی  تو ہوتی نہیں، اور خالق کی نگرانی کو وہ بھول جاتےہیں۔

اپنے عہدہ و منصب سےناجائز فائدے اٹھانے  والے کو نصیحت!

اے وہ شخص! جو   مسلمانوں کے مال و املاک  میں اپنی نوکری  وعہدہ کی وجہ سے فائدہ اٹھاتا ہے! آخرت کو یاد کر، جان لے کہ تو  اس دنیائے فانی  کو چھوڑکر  باقی رہنے والی جگہ(آخرت)کی طرف جانے والا ہے،  زبردست طاقتورمالک  کے سامنے اپنےپیش کئے جانے کو یاد کر، قبر کے سوال کویاد  کر، اور یہ بھی یاد رکھ کہ موجودہ اوراگلے تمام مسلمان  تجھ سے اُس مال کے  بارے میں جھگڑا کریں گے جس کے ساتھ تو کھیلتا رہا ۔

کیا نبی علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا: «كلُّ لحمٍ نبَت من سُحتٍ فالنارُ أولَى به، إن أقوامًا يتخوَّضُون في مالِ الله بغير حقٍّ، فلهم النارُ يوم القيامة».

کہ ہر وہ گوشت جو حرام سے پلا،بڑا ہو وہ  آگ میں جانے کا  مستحق ہے، یقینا کچھ لوگ اللہ کے مال کوناجائز طریقہ سےحاصل کرتے ہیں ،قیامت میں ان کے لئے آگ  ہے۔

اپنے عہدہ و منصب کو غلط استعمال کرنے والے کو نصیحت!

اے وہ شخص! جسے  اُس کے عہدے و منصب نے  دھوکہ میں مبتلا رکھا ہوا ہےاور وہ اس لئے ظلم کرتا ہے تاکہ وہ اس عہدے پر برقرار رہ سکے اور اسے بچاسکے، اور جس سے بھی اس کی دشمنی ہو اسے وہ نقصان پہنچاتا ہے، اور اپنے اس عہدے سے رشتہ داروں یا دوستوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔  جان لے کہ عہدہ  ومنصب ہمیشہ نہیں رہتا۔ اس بارے میں کسی نے کیاخوب کہا ہے:

إن الوظائفَ لا تدومُ لواحِدٍ                     إن كنتَ تُنكِرُ ذا فأينَ الأولُ؟

ترجمہ: کسی کی بھی نوکری ہمیشہ نہیں رہتی، اگر آپ نہیں مانتے تو پچھلا شخص کہاں ہے( جو آپ سے پہلے یہ کام کیا کرتا تھا) ؟

یقینا دن تو بدلتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔

تمام عہدہ داران کو نصیحت!

اے عہدے دار!

آپ کو خیانت کے معاملات اور امانت کو ضائع کرنے  سے بچنا چاہئے،اور  عام  سرکاری منصب تو مسلمانوں کی مصلحتوں کے تقاضوں کے  مطابق اور نقصانات کو دور کرنے کے لئے ہوتا ہے، خبردار! کہ آپ ایک شخص کو چھوڑ کر دوسرے کی طرف داری کریں، یا اپنے عہدے کو اپنی اور رشتہ داروں کی مصلحتوں کے مفاد میں استعمال کریں۔

آپ اپنے معاملات میں امانت سے کام لیں، افعال اور  پالیسیوں میں عدل کریں اگرچہ انتظامی نگراں کی آنکھوں سے آپ اوجھل ہی کیوں نہ ہوں ،پرجان لیں کہ آپ کا رب آنکھوں کی خیانت کوبھی جانتا ہے اور سینے کے رازوں کو بھی جانتا ہے، اور سب سے بدترین شخص وہ ہے جو  کسی دوسرے کے دنیاوی فائدے کی خاطر اپنے دین کو نقصان پہنچائے، اور اللہ تعالی بھی اسے ہلاک کرتا ہے جو ہلاکت والے کام کرے۔

ہر شخص جنت یا جہنم کا سودا کررہا ہے

فرمانِ رسول ﷺ ہے: «كل الناسِ يغدُو؛ فبائِعٌ نفسَه فمُعتِقُها أو مُوبِقُها»؛ رواه مسلم.

ترجمہ: سب لوگ گھر سے نکلتے ہیں ، اور اپنے نفس کا سودا کرتے ہیں، یا تو اسے (جہنم سے)آزاد کردیتے  ہیں یا پھر اسے ہلاک کریتے ہیں۔


 

یعنی: ہر انسان اس زندگی میں اپنے نفس کے ساتھ بھاگ دوڑ کرتا ہے؛ اور کچھ ایسےلوگ  ہیں جو اسے اللہ کے لئے بیچ دیتے ہیں اور اللہ ہی  کی فرماں برداری  کرتے ہیں اور اس کے احکامات کے دائرے میں رہتے ہیں، اس طرح وہ اپنے نفس کو آگ سے آزاد کرلیتے ہیں۔ اور کچھ لوگ ایسے ہیں  جو نفس کو شیطان کے لئے بیچ دیتے ہیں اور دنیا اور خواہشات کے پیچھے لگے رہتے ہیں، اور دینی امور پر دنیا کو ترجیح دیتے ہیں، تو اس طرح وہ نفس کو ہلاک کردیتے ہیں۔

میں یہ بات کہہ رہا ہوں، اور اللہ تعالی سے اپنے لئے،آپ سب کے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے ہر گناہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اس سے مغفرت مانگیں، بیشک وہ بہت مغفرت  کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

اللہ تعالی کے احسان پر اُسی کے لئے ہر قسم کی تعریف ہے، اور اُس کی توفیق اور احسانات پر بھی اُسی کا شکر ہے، اوراُس کی شان کی عظمت بیان کرتے ہوئے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور رسول محمدﷺ اُس کے بندے اور رسول ہیں،اُن پر بے انتہا صلوٰۃ و سلام ہو۔

حمدو ثنا کے بعد:

اے مسلمانو!  میں تمہیں اور اپنے آپ کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں اور پچھلے اور اگلے لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ  نے یہی نصیحت فرمائی ہے۔

ابدی سعادت کا پیمانہ

اے مسلمانوں کی جماعت!

دینی احکامات کو ادا کرنا، شرعی ضابطوں  اور احکامِ نبویﷺکے مطابق زندگی گزارنا ابدی  سعادت و خوشحالی کا پیمانہ ہے؛ اور جو اِس راستے سے بھٹک گیا اُسے قیامت کے دن سخت  سزا کی وعید سنائی گئی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

((فَأَمَّا مَنْ طَغَى (37) وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا (38) فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَى (39) وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى (40) فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى)) [النازعات: 37- 41].

ترجمہ: تو جس (شخص) نے سرکشی کی (ہوگی)،اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دی ہوگی،(اسکا) ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ ہاں البتہ جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرگیااور اپنے نفس کو خواہشات سے روکے رکھا، تو جنت ہی اس کا ٹھکانا ہے۔

اور افضل ترین عمل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجنا،  یا اللہ!  ہمارے نبی محمد ﷺ پر اور اُن کی آل پر اور اُن کے تمام صحابہ پر رحمتیں، سلامتیاں اور برکتیں نازل فرما۔

مسلمانوں کے لئے دعائیں:

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ یا اللہ! ہر مظلوم مسلمان کی مد فرما۔ یا اللہ! ہر مظلوم مسلمان کی مد فرما۔ یا اللہ! ہر مظلوم مسلمان کی مد فرما۔ یاللہ! مسلمانوں کی پریشانیوں کو دور فرما۔

یا اللہ! ہمارے ملک سمیت تمام مسلم ممالک کو امن عطا فرما۔ یا اللہ! ہمارے  ملک سمیت تمام مسلم ممالک کو امن عطا فرما۔

یا اللہ!   اے سب سے زیادہ عزت دار! اس ملک کو امن و سکون اور برکتوں والا بنادے۔

یا اللہ! ہمارے اور  تمام مسلمانوں کے حالات درست فرما۔ یا اللہ! ہم سے اور تمام مؤمنوں سے راضی ہوجا۔ یا اللہ! اے عزت و جلال والے! ہم سے اور تمام مؤمنوں سے راضی ہوجا۔

یا اللہ! ہمارے اور  تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش فرما۔ یا اللہ! ہمارے اور  تمام مومنوں کے گناہوں کی بخشش فرما۔ یا اللہ! ہماری اور  تمام مومنوں  کی توبہ قبول فرما۔ یا اللہ! دنیا کو  ہمارا بڑا فکری ٹارگیٹ اور علم کی انتہاء نہ بنانا،  اور ہمارے دین کو  مصیبت سے محفوظ رکھنا۔

 

مظلوم مسلمانوں کے لئے دعائیں اور ظالموں پر بددعائیں:

 

یا اللہ! شام میں ہمارے بھائیوں کی حفاظت فرما۔ یا اللہ! شام میں ہمارے بھائیوں کی حفاظت فرما۔ یا اللہ! ان کی مشکل کو دور فرما۔ یا اللہ! ان کی مشکل کو دور فرما۔ یا اللہ! امن و سکون کو ان کے حق میں لکھ دے۔

یا اللہ! ان ظالموں کو ہلاک کردے۔ یا اللہ! اے عزت و جلال والے! ان ظالموں کو ہلاک کردے۔ یا اللہ! مسلمانوں سے  ظلم کا خاتمہ فرمادے۔

یا اللہ! مسلمانوں سے  ظلم کا خاتمہ فرمادے۔ یا اللہ! اے عزت و جلال والے! مسلمانوں سے  ظلم کا خاتمہ فرمادے۔

مسلم ممالک اور خصوصا سعودیہ کے لئے دعائیں::

یا اللہ! خادمِ حرمین کو ہر اس کام  کی توفیق عطا فرما جس سے تو راضی اور خوش ہوتا ہے، اور ان کی پیشانی سے پکڑ کر نیکی اور تقوی  کے کاموں میں مصروف کردے۔ یا اللہ! ان کے نائب کو بھی عملِ صالح کی توفیق عطا فرما۔یا اللہ! انہیں  ہر اس کام  کی توفیق عطا فرما جس سے تو راضی اور خوش ہوتا ہے۔

یا اللہ! ہمارے  اس ملک سمیت تمام مسلم ممالک کو امن و سکون کا گہوارہ بنادے۔

یا اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی  بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔

بارش کی دعائیں:

یا اللہ! بیشک تو ہی بے نیاز ہے، یا اللہ! بیشک تو ہی بے نیاز ہے، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں پانی مہیا فرما، یا اللہ! ہمیں پانی مہیا فرما، اے عزت وجلال والے!۔

اللہ کے بندو! اللہ کا بہت زیادہ ذکر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرو۔

وآخرُ دعوانا ان الحمدُ للہ ربّ العالمین

***

 

Read 4858 times Last modified on ہفتہ, 04 نومبر 2017 14:59

جدید خطبات

خطبات

  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اعتدال اور فتوی نویسی کے ضوابط
    اعتدال اور فتوی نویسی کے ضوابط
    ﷽  شریعت اعتدال اور میانہ روی کا نام ہے، اللہ تعالی نے شرعی احکامات انسان کی کمزوری کو مد نظر رکھ کر مرتب فرمائے ہیں، متعدد آیات اور احادیث اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اسلام آسانی والا دین ہے، لیکن آسانی سے مراد یہ ہرگز نہیں ہے کہ انسان من مانیاں کرنے لگے اور دل چاہتے انداز میں شرعی احکام کی تعبیر اور تعمیل کرے، بلکہ آسانی سے مراد یہ ہے کہ شرعی دلائل جس چیز کی رخصت دیتے ہیں ان پر عمل کیا جائے، پھر یہ سنگین غلطی ہے کہ شریعت میں موجود اعتدال اور میانہ روی کے نام پر ایسی گری ہوئی باتیں کی جائیں جن کا اسلام سے دور کا تعلق نہ ہو،  اس پر انہوں نے اہل علم کے اقوال ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ فقہی مذاہب میں موجود شاذ اور اچنبھے اقوال کو اپنانا شریعت سے دوری ہے، اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ کتاب و سنت کی روشنی میں بھر پور انداز سے عمل کرنے کی کوشش کی جائے، اور اسی کی دوسروں کو دعوت دیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر نا اہل اور مقاصد شریعت سے نابلد افراد دنیاوی مفادات کی خاطر فتوی نویسی پر تل جائیں…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اسرا و معراج، فضائل و اسباق
    اسرا و معراج، فضائل و اسباق
    پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى} پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجد الحرام سے مسجد اقصی  کی سیر کروائی۔ [الإسراء: 1]، میں لا تعداد اور بے شمار نعمتوں پر اللہ کی حمد اور شکر بجا لاتا ہوں ، اور  گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، وہ بلند و بالا ہے،  میں یہ بھی  گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے  اور رسول  ہیں، آپ کو معراج کے سفر میں آسمانوں کی  بلندیوں پر لے جایا گیا۔  اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل  ،اور تمام صحابہ کرام    سمیت آپ کے تابعداروں پر رحمتیں  نازل فرمائے ۔ حمد و صلاۃ کے بعد:  میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا} پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجد الحرام سے مسجد…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • آیت الکرسی کا مفہوم
    آیت الکرسی کا مفہوم
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 10 صفر 1440 کا خطبہ جمعہ " آیت الکرسی کا مفہوم اور افواہوں کے متعلق ہدایات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں عظیم ترین آیت ؛ آیت الکرسی ہے، اس آیت میں اللہ تعالی کے اسما و صفات کا جامعیت کے ساتھ ذکر ہے، سب سے پہلے اس آیت میں اللہ تعالی کی الوہیت کا اقرار، پھر ازل سے ابد تک قائم دائم رہنے کی صفت ذکر ہوئی، اللہ تعالی کو نیند آتی ہے اور نہ ہی اونگ، آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی بادشاہت میں شامل ہے، کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا، اور نبی ﷺ کی سفارش اہل توحید کے لیے سب سے پہلے میسر ہو گی، انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی علم غیب نہیں جانتا، اس کی کرسی آسمان و زمین سے بھی وسیع ہے، جس سے اللہ تعالی کی بے انتہا عظمت اور کبریائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اس لیے اللہ سے جب مانگیں تو وہ بھی بے حساب مانگیں، انہوں نے آخر میں یہ بھی…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 13-رجب- 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی کیلیے حسن اخلاق کا کوئی ثانی نہیں، اسی لیے کتاب و سنت میں اچھا اخلاق اپنانے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، نیز رسول اللہ ﷺ کی جن خوبیوں کا ذکر اللہ تعالی نے فرمایا ان میں حسن اخلاق سر فہرست ہے، آپ ﷺ نے خود فرمایا کہ مجھے اعلی اخلاقیات کی تکمیل کیلیے بھیجا گیا ہے، مومن شخص اعلی اخلاق کی بدولت نفل روزے اور راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے، اچھے اخلاق کا مالک شخص جنت میں رسول اللہ ﷺ کے قریب ترین ہو گا، حسن اخلاق کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ جنت جائیں گے، قیامت کے دن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہو گی، ایک جگہ آپ ﷺ یہاں تک فرما دیا کہ: نیکی حسن اخلاق کا نام ہے، پھر انہوں نے بتلایا کہ حسن خلق کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی شریعت کے مطابق ہو، دوسروں کی خدمت، جود و…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم