بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
بدھ, 17 اپریل 2013 22:33

صحابہ کرام(رضی اللہ عنھم)کی عظمت وشان مکمل ترجمہ خطبہ

Written by 

مسجدِحرام مکۃ المکرّمۃ کے خطبہ جمعہ کا مکمل ترجمہ،بعنوان:

صحابہ  کرام(رضی اللہ عنھم)کی عظمت وشان

قرآن و حدیث کی نظر میں

امامِ حرم ڈاکٹراسامہ بن عبد اللہ الخیاط حفظہ اللہ

مؤرخہ: ۲جمادی الثانی۱۴۳۴ھ بمطابق: ۱۲ اپریل ۲۰۱۳م

ترجمہ: شعیب مدنی ، مراجعہ: حافظ حماد چاؤلہ

 فضیلۃ الشیخ اسامہ بن عبد اللہ خیاط حفظہ اللہ نے جمعہ کا خطبہ اس عنوان پر دیا

’’کتاب و سنت  میں صحابہ  کرام (رضی اللہ عنھم) کا مقام‘‘

اس میں انہوں نے  کتاب و سنت سے صحابہ کرام  رضی اللہ عنھم کے فضائل ذکر کئے۔ اوراہل علم کا درجِ ذیل امور پر اتفاق و اجماع ذکر کیا کہ:

صحابہ کرام سے محبت کرنااور اُن کاظاہری و باطنی طور پر عملاًاحترام کرنا،  صحابہ سےبغض و عداوت رکھنے والوں سے نفرت و عداوت رکھنا،  صحابہ کےباہمی  ظاہری اختلاوافات میں خاموشی اختیار کرنا اور ہر قسم کی منفی رائی دہی سے اجتناب کرنا، اور یہ عقیدہ رکھناکہ تمام صحاباءمجتہد ہیں اور اللہ کے یہاں انتہائی معزَّزاوراجر و ثواب والے ہیں اور اُن کی سیرت و کردار کو زبانی و عملی طور پر اپنانا’’ ہر مسلمان پرفرض و واجب ہے‘‘۔

پہلا خطبہ

ہر قسم کی حمد و ثنا اللہ کے لئے ہےجس نے اپنے ولیوں کو عزتوں سے نوازا، اور مخلوقات کے دلوں میں ان کی محبت بٹھادی، میں اللہ سبحانہ وتعالی ہی کی تعریف کرتا ہوں جو اپنے بندوں پر غالب ہے اور اس کا لشکر بھی  بہت مضبوط ہے۔اور میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کی کوئی بیوی ہے اور نہ ہی اس کی اولاد۔ اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور  نبی محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں جو سب سے  زیادہ متقی  و سخی ہیں، یااللہ! آپﷺ پر اور ان کی آل پر اور تمام صحابہ کرام رضي اللہ عنہم اجمعین پرہمیشہ اور مسلسل رحمتیں اور سلامتی نازل فرما۔

حمد وثنا کے بعد:

اللہ کے بندو!  اللہ سے ڈرو، اور اسی کی عبادت کرو، اور اسی کا شکر ادا کرو،اور اسی کی طرف رجوع کرو۔اور یاد رہے کہ تمہیں اس کے سامنے کھڑا ہونا ہے تو اس دن کی کامیابی کے لئے تیاری کرو۔

((فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ)) [لقمان: 33].

ترجمہ: (دیکھو) تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکے باز (شیطان) تمہیں دھوکے میں ڈال دے۔

سچے و حقیقی ایمان اور نیک اعمال کے فوائد

اے مسلمانو!

بیشک سچے ایمان  اور  اُس عمل صالح کے آثار کہ جس میں اللہ کی رضا مطلوب ہو اور نبی علیہ السلام کی سنت کی پیروی ہو بے حد بلند   اور عزت والے ہوتے ہیں  ۔ اور ایمان کا میٹھا پھل اور اچھا درخت وہ ہے جو اللہ تعالی اہلِ ایمان کے لئے لوگوں  کے دلوں میں بہت زیادہ اور سچی محبت  کی صورت میں بٹھادیتا ہے۔

((إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا)) [مريم: 96].

ترجمہ: بیشک جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے شائستہ ونیک  اعمال کیے  اُن کے لئے اللہ رحمٰن محبت پیدا کر دے گا ۔

اللہ کے بندو!

اس  محبت کی سب سے  بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالی کی محبت کی نشانی ہے، جیساکہ  صحیح بخاری اور مسلم کی حدیث میں ہے:

عن أبي هريرة - رضي الله عنه - أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: «إن اللهَ إذا أحبَّ عبدًا دعا جبريل فقال: إني أحبُّ فلانًا فأحِبَّه»، قال: «فيُحبُّه جبريل، ثم يُنادي في السماء فيقول: إن اللهَ يحبُّ فلانًا فأحِبُّوه، فيُحبُّه أهلُ السماء، ثم يُوضعُ له القبولُ في الأرض، وإذا أبغضَ عبدًا دعا جبريلَ فيقول: إني أُبغِضُ فلانًا فأبغِضه، فيُبغِضُه جبريلُ، ثم يُنادِي في أهل السماء: إن اللهَ يُبغِضُ فلانًا فأبغِضُوه»، قال: «فيُبغِضُونَه، ثم يُوضَع له البغضاءُ في الأرض».

ترجمہ: سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: یقینا جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو بلاتا ہے۔اور اس  سے یہ فرماتا  ہے کہ میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں آپ بھی اس سے محبت کریں تو وہ بھی اس سے محبت کرتے ہیں ، پھر وہ (جبرائیل علیہ السلام ) آسمان میں ندا لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالی فلاں شخص سے محبت کرتا ہے آپ سب بھی اس سے محبت کریں تو آسمان والےبھی  اس سے محبت کرتے ہیں، پھر زمین میں بھی اس کی مقبولیت عام کردی جاتی ہے، اور جب اللہ کسی بندے سے نفرت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو بلاتا ہے۔اور اس  سے یہ فرماتا  ہے کہ میں فلاں شخص سےنفرت کرتا ہوں آپ بھی اس سے نفرت کریں تو وہ بھی اس سے نفرت  کرتے ہیں ، پھر وہ (جبرائیل علیہ السلام ) آسمان میں ندا لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالی فلاں شخص سے نفرت کرتا ہے آپ سب بھی اس سے نفرت کریں تو آسمان والے بھی اس سےنفرت  کرتے ہیں، پھر زمین میں بھی اس کی نفرت  عام کردی جاتی ہے۔

جلیل القدر تابعی زید بن اسلم عدوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"من اتَّقى اللهَ أحبَّه الناسُ ولوكرِهوا".کہ جوشخص اللہ سے ڈرتا ہےتو لوگ اس سے محبت کرتے ہیں اگرچہ انہیں (بعض لوگوں کو)ناپسند ہی کیوں نہ  ہو۔

اس کا مطلب یہ ہے: تمام لوگ اس سے محبت کرتے ہیں، اس کی تعریف کرتے ہیں، اس کی مدح کرتے ہیں، اگرچہ بعض لوگ اس سے نفرت بھی کرنا چاہیں تو نہیں کرسکیں گے۔اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں، یہ تو ایمان  اور تقوی کا نتیجہ ہے جس کی بدولت اہلِ ایمان کواللہ تعالی نےاپنی ولایت کی خوشخبری دی،اور یہ بھی خبر دی کہ قیامت کے دن انہیں نہ تو کسی قسم کا کوئی خوف ہوگا، اور نہ ہی انہیں اس پر کوئی غم ہوگا جو وہ دنیا میں چھوڑ کر جانے والے ہیں۔

((أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (62) الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ)) [يونس: 62، 63].

ترجمہ: یاد رکھو کے اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (برائیوں سے) پرہیز رکھتے ہیں۔

اسی طرح اللہ کے پاس ان کا اتنا باعزت مقام بن چکاہوتا ہےکہ جو اُن سے دشمنی کرے گا اللہ تعالی  نے اُس سے جنگ کا اعلان کیا ہے، جیساکہ بخاری میں ہے:

عن أبي هريرة - رضي الله عنه - أنه قال: قال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: «إن الله تعالى قال: من عادَى لي وليًّا فقد آذنتُه بالحربِ ..» الحديث.

ترجمہ: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی کا فرمان ہے: جس نے میرے ولی  سے دشمنی کی میں اس سے اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔

یعنی میں اس کے ساتھ وہ سلوک کروں گا جودورانِ جنگ  دشمن سے کیا جاتا ہے ۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو بھی یہ دشمنی کرے گا وہ اللہ کی طرف سے ہلاکت کا مستحق ہوگا۔اور اہلِ علم کے قول کے مطابق اس میں  بہت سخت تنبیہ  وڈراواہے ؛ کیونکہ جس سے اللہ جنگ کرے وہ تو ہلاک ہوکر ہی رہے گا۔ اور جب دشمنی کے معاملے میں یہ بات ثابت ہوگئی تو دوستی (ولایت) کے بارے میں بھی یہ بات ثابت ہوگئی کہ جو شخص اللہ کے ولی سے دوستی کرے گا اللہ اسے بھی عزت دے گا۔

صحابہ کرام کی  محبت اور احترام ہر شخص پر واجب ہے

اللہ کے بندو!

اور سب سے عظمت والے لوگ وہ ہیں  جن کی  محبت اور دوستی رکھنا  بھی واجب ہے اور اور ان کی دشمنی سے  پرہیز کرنا بھی ضروری ہے وہ اللہ کے رسول ﷺ کے صحابہ ہیں جنہیں اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کی صحبت کے لئے چُنا ہے، اور انہیں (لوگوں تک)  دین منتقل کرنے اور قرآنِ مجید کی ذمہ داری نبھانے یہ توفیق عطا فرمائی، اور ان سے راضی ہوگیا اور ان کی تعریفیں کیں اور پاکیزگی بیان کی۔

 

شانِ صحابہ کے بارے میں قرآنی آیات

اللہ رب العزت نے فرمایا:

((وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ)) [التوبة: 100].

ترجمہ: اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے  یہ بڑی کامیابی ہے۔

اللہ تعالی نے فرمایا:

((مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ... ))الآية [الفتح: 29]،

ترجمہ: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں، تو انہیں دیکھے گا رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالٰی کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں۔

اور اللہ تعالی کا فرمان ہے:

((لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا)) [الفتح: 18]

ترجمہ: یقیناً اللہ تعالٰی مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وہ درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے  ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کرلیا اور ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی۔

اورفرمانِ الٰہی ہے:

((لَا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُولَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ)) [الحديد: 10].

ترجمہ: تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے فی سبیل اللہ دیا ہے اور قتال کیا ہے وہ (دوسروں کے) برابر نہیں  بلکہ ان کے بہت بڑے درجے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیے،  ہاں بھلائی کا وعدہ تو اللہ تعالٰی کا ان سب سے ہے  جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔

عظمتِ صحابہ کے بارے میں آحادیثِ نبویۃ

نبی مکرّم علیہ السلام نےاپنے کسی بھی صحابی  کو گالی دینے، بُرا کہنے و سمجھنے  سے سخت منع فرمایا ہے،اور یہ بھی فرمایا کہ کوئی بھی مسلمان  اپنا سارا مال خرچ کرکے بھی میرے(رسول اکرمﷺکے)کسی بھی ادنیٰ سے صحابی کے رتبہ اور فضیلت کو نہیں پہنچ سکتا،  حدیث یہ ہے:

«لا تسبُّوا أصحابي؛ فلو أن أحدَكم أنفقَ مثلَ أُحدٍ ذهبًا ما بلغَ مُدَّ أحدهم ولا نصيفَه»؛ أخرجه الشيخان في "صحيحيهما".

ترجمہ: میرے صحابہ کو گالی یا بُرا نہ کہنا، (جان لو کہ )تم میں سے کوئی بھی اُحد پہاڑ کے برابر سونابھی(صدقہ و خیرات میں ) خرچ کرلے تووہ اُن(صحابہ)میں سے کسی بھی  ایک کے مکمل یا آدھے مُد (آدھا کلو یا ایک پاؤاناج کےخرچ  کرنے کی فضیلت و مقام) تک بھی نہیں پہنچ سکتا (بخاری و مسلم)۔

دوسری حدیث میں ہے:

وفي "الصحيحين" أيضًا من حديث عمران بن حُصين - رضي الله عنه - أن رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - قال: «خيرُ الناس قرني، ثم الذين يلُونَهم، ثم الذين يلُونَهم». قال عمران: فلا أدري أذَكَر بعد قرنِه قرنَيْن أم ثلاثة.

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: سب سے بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہیں۔

اور بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ان کی فضیلت اس طرح بیان ہوئی ہے:

وأخرج الشيخان عن أبي سعيد الخُدري - رضي الله عنه - أنه قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «يأتي على الناس زمانٌ فيغزُو فِئامٌ من الناس، فيقولون: هل فيكم من صاحبَ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم -؟ فيقولون: نعم، فيُفتحُ لهم. ثم يأتي على الناس زمانٌ فيغزُو فِئامٌ من الناس، فيقال: هل فيكم من صاحبَ أصحاب رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؟ فيقولون: نعم، فيُفتَحُ لهم. ثم يأتي على الناس زمانٌ فيغزُو فِئامٌ من الناس، فيقال: هل فيكم من صاحبَ من صاحبَ أصحاب رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؟ فيقولون: نعم، فيُفتَحُ لهم».

ترجمہ: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ  کچھ لوگ جنگ کریں گےاور پوچھیں گے: کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جسے اللہ کے رسول ﷺکی صحبت نصیب ہوئی ہو؟ (یعنی کوئی صحابی رسولﷺہے؟)وہ کہیں گے: جی، تو انہیں  فتح نصیب ہوگی۔  پھر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ  کچھ لوگ جنگ کریں گےاور یہ پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جسے اللہ کے رسول ﷺکے کسی صحابی کی صحبت نصیب ہوئی ہو؟ (یعنی کوئی تابعی ہے؟)وہ کہیں گے: جی، تواُنہیں بھی  فتح نصیب ہوگی۔  پھر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ  کچھ لوگ جنگ کریں گےاور پوچھیں گے: کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جسے اللہ کے رسول ﷺکے صحابی کی صحبت پانے والے کی صحبت نصیب ہوئی ہو؟ (یعنی کوئی تبع تابعی ہے؟)وہ کہیں گے: جی، تو ان کے ہاتھ پر بھی فتح ہوگی۔

(یعنی جنگ میں صحاباء ، تانعین و اتباعِ تابعین میں سے کسی کی بھی  موجودگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت کے نزول اور لوگوں  کی فتح کا سبب ہوگا، اور تاریخ شاہد ہے ایسا ہی ہوا اسلام کے شروع کے تین سو سال  کہ جوصحاباء ، تانعین و اتباعِ تابعین کے زمانے تھے اسلامی فتوحات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلاگیا)

اور پیارے نبی علیہ السلام نے یہ بات بھی بیان فرمادی کہ انصار سے  محبت کرنا سچے ایمان کی نشانی ہے ، اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی نشانی ہے۔اس بارے میں صحیح بخاری و مسلم میں نبی علیہ السلام کا فرمان ہے۔

«آية الإيمان حبُّ الأنصار، وآية النفاق بُغضُ الأنصار»؛ أخرجه الشيخان في "صحيحيهما".

ترجمہ: انصار سے محبت  کرنا ایمان کی نشانی ہے ، اور انصار سے بغض رکھنا منافق کی علامت ہے۔

 

سلف صالحین کاصحابہ کرام کےبارےمیں مؤقف

اور انہی صحیح اور صریح  (واضح) نصوص کی بنیاد پرہی اہلِ حق نے سب سے افضل ترین شخصیات صحابہ کرام کے بارے میں  اپنا موقف بیان کیا ہے۔

اسی ضمن میں امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"ونحبُّ أصحابَ رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، ولا نُفرِطُ في حبِّ أحدٍ منهم، ولا نتبرَّأُ من أحدٍ منهم، ونُبغِضُ من يُبغِضُهم وبغير الحقِّ يذكُرهم، ولا نذكُرهم إلا بخيرٍ، وحبُّهم دينٌ وإيمانٌ وإحسانٌ، وبُغضُهم كفرٌ ونفاقٌ وطُغيان".

ترجمہ: اور ہم اللہ کے رسول ﷺ کے صحابہ سے محبت کرتے ہیں، اور ان میں سے کسی کی محبت میں بھی غلو نہیں کرتے، اور نہ ہی ان میں سے کسی ایک سے براءت کرتے (اور نہ ہی کسی پر تبرّاء کرتے )ہیں، اور ہر اس شخص سے بغض رکھتے ہیں  جو ان (صحابہ) سے بغض رکھتا ہےاور جوان کی برائی کرتا ہے۔اور ہم ہمیشہ اُن کا ذکرفقط  اچھائی ، خیر و بھلائی ہی کے ساتھ کرتے ہیں ،اُن (صحابہ )سے  محبت کرنا دین، ایمان اور احسان ہے، اور ان سے بغض رکھنا کفر، نفاق اور سرکشی ہے۔

صحابہ کرام فخر واعزاز کے مستحق ہیں

اللہ کے بندو!

ان(صحابہ)  کی محبت دین، ایمان اور احسان کا مجموعہ ہے؛ کیونکہ اس میں اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کی تکمیل ہے، اور اس وجہ سے بھی کہ انہوں نے اللہ کے دین کی مدد کی، اور اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ جہاد کیااور جان، مال اور خون سب کچھ قربان کردیا۔

اور زمانہ گزرنے کے باوجود بھی امت ان سے بھرپور محبت کرتی ہے، ان کی سیرت کا مستقل اہتمام کرتی ہے تاکہ اس کی خوبصورتی اور جلال کی بہترین صورت، بلندی، شرف ، عالی شان مقام اور عمدہ نمونہ نکھر کر  سامنے آسکے۔

صحابہ کے بارے میں ہمیشہ  اچھے نظریات رکھنا لازمی ہے

اور جو کچھ ان کے درمیان ہوا اس بارے میں گفتگو سے پرہیز کرنا، اوریہ عقیدہ رکھناکہ وہ سب مجتہد ہیں اور اس میں ان کے لئے اجر ہے، اللہ ان سے راضی ہوجائے اور انہیں بھی راضی کردے، اور اسلام اور اہلِ اسلام کی طرف سے اتنا بہترین بدلہ دے جو وہ اپنے نیک و کار اور متقی بندوں کو دیا کرتا ہے۔

اللہ مجھے اور آپ کو اپنی کتاب کے احکامات اور نبی علیہ السلام کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، میں یہ بات کہہ رہا ہوں اور ہم سب سمیت تمام   مسلمانوں کے لئے  اللہ ذوالجلال والاکرام سے ہر گناہ کی مغفرت مانگتا ہوں۔

دوسرا خطبہ

بیشک ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے، ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں، اسی سے مدد  اور مغفرت مانگتے ہیں، اور ہم اپنے نفس کی شرارتوں اوربرے اعمال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔

یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر اور ان کی آل پر اور ان کے صحابہ پر رحمتیں اور سلامتیاں نازل فرما۔

صحابہ کی عظمت اور بُلندسیرت و کردارکے بارے میں  سلف صالحین کے اقوال

حمدو ثنا کے بعد:

اللہ کے بندو!

جلیل القدر  صحابی سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے:

"من كان منكم مُستنًّا فليستنَّ بمن قد ماتَ؛ فإن الحيَّ لا تُؤمنُ عليه الفتنة، أولئك أصحابُ محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، كانوا أفضلَ هذه الأمة، وأبرَّها قلوبًا، وأعمقَها علمًا، وأقلَّها تكلُّفًا، قومٌ اختارَهم الله لصُحبة نبيِّه وإقامَة دينِه، فاعرِفوا لهم فضلَهم، واتَّبِعوهم في آثارهم، وتمسَّكوا بما استطعتُم من أخلاقِهم ودينهم؛ فإنهم كانوا على الهُدى المُستقيم".

ترجمہ: آپ لوگوں میں جو شخص بھی کسی طریقے کو اپنانا چاہتا ہے، اسے چاہئے کہ وہ اُن کے طریقے کو اپنائے جو فوت ہوچکا ہے،(یعنی جواُسوقت فوت شدہ صحابہ تھے ) کیونکہ  زندہ انسان کی فتنے سے بچنے کی کوئی گارنٹی نہیں، اور وہ لوگ محمدﷺکے صحابہ ہی ہیں ( جو اس دنیا سے چلے گئے ہیں اور انہی کی پیروی میں بھلائی ہے)۔جواس امت کے افضل ترین لوگ تھے، انتہائی نیک دل، راسخ علم والے، کم سے کم تکلف کرنے والے، وہ ایسے لوگ تھے جنہیں اللہ نے اپنے نبی کی صحبت اور اقامتِ دین کے لئے منتخب فرمایا، تو تم  سب  ان کی فضیلت کو پہچانو، اُن کے نقش قدم پر چلو،اور جتنا ممکن ہو ان کے اخلاق اور دین کو اپناؤ؛ کیونکہ وہ سیدھے راستے پر تھے۔

اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک یہ بھی قول ہے:

"إن اللهَ تعالى نظرَ في قلوبِ العباد، فوجدَ قلبَ محمدٍ - صلى الله عليه وسلم - خيرَ قلوبِ العباد، فاصطفاهُ لنفسِه، وابتعثَه برسالتِه، ثم نظرَ في قلوبِ العباد بعد قلب محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، فوجدَ قلوبَ أصحابِه خيرَ قلوب العباد، فجعلَهم وُزراءَ نبيِّه، يُقاتِلون على دينِه".

ترجمہ: یقینا اللہ تعالی نے بندوں کے دلوں میں دیکھا، تو محمدﷺ کا دل سب سے بہتر پایا، اسی لئے انہیں اپنے لئے چُن لیا، اور اپنا پیغام دے کر بھیجا، پھر محمدﷺ کے دل کے بعد بندوں کے دلوں کو دیکھا تو ان کے صحابہ کے دلوں کو سب سے  بہترین پایا اس لئے انہیں اپنے نبی کے وزرا ءبنادیا، جو اس کے دین کی خاطر جہاد کرتے تھے۔

اللہ کے بندو!

اللہ سے ڈریں اور صحابہ کرام کا حق،  فضیلت و مرتبہ پہچان لیں،  نبی علیہ السلام کے ساتھ ان کا کوئی بھی ایک لمحہ گزارنا بھی انتہائی فضیلت کا باعث ہے، جیسا کہ  امامِ مفسرین عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا ہے:

"لمُقامُ أحدهم ساعة مع النبي صلى الله عليه وسلم خيرٌ من عمل أحدِكم أربعين سنة".وفي رواية:"خيرٌ من عبادةِ أحدِكم عُمُره".

ترجمہ: کسی بھی  صحابی  کا نبی علیہ السلام کے ساتھ ایک لمحہ گزارنااتم میں سے کسی شخص کے چالیس دن کے عمل سے بہتر ہے۔اور ایک روایت میں ہے کہ  اُس کی ساری زندگی کی عبادت سے بہتر ہے۔

درود و سلام

ہمیشہ یاد رکھیں!

سب لوگوں کو اللہ تعالی نے خیرِ خلق پر درود و سلام بھیجنے  کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے:

((إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا)) [الأحزاب: 56].

ترجمہ: اللہ تعالٰی اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو ۔

یا اللہ! اپنے بندے اور رسول  محمد ﷺ پر رحمتیں اور سلامتی نازل فرما، اور چاروں خلفاء ابو بکر و عمر و عثمان و علی  سے راضی ہوجا۔اور آل و اصحاب اور تابعین سے بھی راضی ہوجا، اور ان سے بھی راضی ہوجا جوقیامت تک ان کی پیروی کریں گے، اور اے سب سے زیادہ  عفو و درگزر کرنے والے! ان کے ساتھ ساتھ اپنی مہربانی، کرم اور بھلائی کے ذریعہ ہم سے بھی  راضی ہوجا۔

تمام مسلمانوں کے لئے دعائیں

اے اللہ! اے تمام جہانوں کے رب! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔  دین کے احکامات کی حفاظت فرما۔  دین کے دشمنوں  اور تمام سرکش و فساد کرنے والوں کو نیست و نابود کردے۔  مسلمانوں کے دلوں میں الفت پیدا فرما۔ انکی صفوں میں اتحاد پیدا فرما۔ انکے قائدین کی اصلاح فرمادے۔ اور انہیں  حق بات پر متفق فرمادے۔

یا اللہ! اپنے دین اورکتاب  کی حفاظت  فرما اور اپنے نبی محمد ﷺ کی سنت کی حفاظت فرما۔ اور اپنے سچے مومن مجاہدین بندوں کی مدد فرما۔

حکمرانوں کی اصلاح کے لئے دعائیں

یا اللہ ! ہمارے وطنوں میں ہماری حفاظت فرما، اور ہمارے ائمہ اور امیر المومنین کی اصلاح فرما اور حق کے ذریعہ ان کی مدد فرما۔انہیں نیک رفقاء کی صحبت عطا فرما۔ اے دعا کو بخوبی سننے والے! انہیں ہر اس قول و عمل کی توفیق دے جس سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔

یا اللہ! اے وہ ذات جس کی طرف قیامت کے دن لوٹ کر جانا ہے! ہمارے امیر اور ان کے وزیر اور ان کے بھائیوں (عہدے داران) کو ان کاموں کی توفیق دے جن میں اسلام اور مسلمانوں کے  لئے بھلائی  ہو، اور جن (کاموں ) میں تمام لوگوں اور شہروں کی بھلائی ہو۔

یا اللہ! ہمارے تمام معاملات کا انجام بہتر فرما، اور دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا۔

یا اللہ ! ہم تیری نعمتوں کے ختم ہونے سے تیری پناہ مانگتے ہیں، اور تیری عافیت کے پلٹ جانے سے، اور اچانک تیری سزا سے، اور تیرے غصہ سے بھی (تیری پناہ مانگتے ہیں)۔

یا اللہ! ہمارے دین کی اصلاح فرما جو ہمارے معاملات میں  عصمت (گناہوں سے بچنے) کا باعث ہے۔اور ہماری دنیا کو بھی سنوار دے جو ہمارے لئے ذریعہء معاش ہے۔اور ہماری آخرت بھی بہتر فرما جس میں ہمارا انجام ہے۔ اور ہماری زندگی کو زیادہ سے زیادہ نیکیاں سمیٹنے کا ذریعہ بنادے، اور موت کو ہر برائی سے راحت کا ذریعہ بنادے۔

یا اللہ ! ہم تجھ سے  بھلائی کے کام کرنے ،  برائیوں کو چھوڑنے  اور  مسکینوں  سے محبت کرنے کی توفیق مانگتے ہیں۔اور بخشش اور رحمت کی دعا کرتے ہیں۔اور اگر  کسی قوم کو عذاب دینے کا ارادہ ہو تو ہمیں  آزمائش میں مبتلا ہونے سے پہلے ہی اپنے پاس بلالینا ۔

دشمنانِ اسلام پر بددعائیں

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے رب! جس طرح تو چاہے ہمارے لئے  اپنے اور ہمارے دشمنوں کے مقابلے میں کافی ہوجا۔ یا اللہ! یا رب العالمین!   جس طرح تو چاہے ہمارے لئے  اپنے اور ہمارے دشمنوں کے مقابلے میں کافی ہوجا۔ یا  اللہ! ہم تجھے ہی ان کے مقابلے میں کرتے ہیں  اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ یا  اللہ! ہم تجھے ہی ان کے مقابلے میں کرتے ہیں  اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ یا  اللہ! ہم تجھے ہی ان (دشمنوں)  کے مقابلے میں کرتے ہیں  اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے رب! سوریا کے مسلمانوں کی  حفاظت فرما، برما میں انکی حفاظت فرما، فلسطین میں ان کی حفاظت فرما، یااللہ! ان کی تائید فرما، اے عزت و عظمت والی ذات! اپنے کرم  سے  تو ہی ان کا حامی ہوجا۔ یااللہ! اے تمام جہانوں کے رب! ان کی بگڑے ہوئےمعاملات کو سنوار دے، کمزوروں پر رحم فرما، ان کے شدتِ بھوک سے نڈھال لوگوں کو کھانا عطا فرما،  جو  کپڑوں کے محتاج ہیں انہیں کپڑے عطا فرما، انکے مقتولین کو شھادت کا درجہ عطا فرما، ان کے  زخمیوں کو شفا عطا فرما۔

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے رب! ہر جگہ مسلمانوں کے گھروں اور وطنوں میں انکی  حفاظت فرما، انہیں فتنوں کے شر سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے رب! ہمیں اور تمام مسلمانوں کو ظاہری و باطنی فتنے سے محفوظ فرمالے۔

((رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ)) [آل عمران: 8]

ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بڑی عطا دینے والا ہے۔

((رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ)) [الأعراف: 23]

ترجمہ: دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے ۔

((رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ)) [البقرة: 201].

ترجمہ: اور بعض لوگ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور عذاب جہنم سے نجات دے۔

اور اللہ اپنے بندے اور رسول ہمارے نبی محمدﷺ اور انکی آل اور تمام صحابہ پر رحمتیں اور سلامتی  بھیجے، اور ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

 

Read 12039 times Last modified on ہفتہ, 04 نومبر 2017 14:57

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    in خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم