بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
جمعرات, 29 مارچ 2018 13:50

حافظ عبدالحمید ازہررحمہ اللہ حیات وخدمات

Written by  محمد اسحاق بھٹی

حافظ عبدالحمیدازہررحمہ اللہ حیات وخدمات!

محمد اسحاق بھٹی[1]

گذشتہ دنوں جماعت کو ایک انتہائی گہرےصدمہ سے گزرنا پڑا کہ ایک عظیم شخصیت نامور عالم دین اور جماعت کا نہایت عظیم سرمایہ  علامہ حافظ عبد الحمید ازہر رحمہ اللہ دیارِ فانی سے رخصت ہوگئے ۔ ادارہ المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹرکو یہ اعزاز حاصل رہاکہ علامہ صاحب  المدینہ سینٹر کے علمی بورڈ کے رکن بھی تھے ۔ گاہے بگاہے یہاں تشریف لاتے ، اپنی قیمتی تجربات ونصائح سے مستفیدکرتے اور سینٹر کے پروجیکٹس میں مفید رہنمائی فرماتے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور انہیں اعلیٰ علیین اور جنت الفردوس میں مقام نصیب فرمائے ۔ انہ ولی التوفیق ۔

زیرِ نظر مضمون مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب نے اپنی مشہور کتا ب چمنستانِ حدیث میں علامہ حافظ عبد الحمید ازہر رحمہ اللہ کی زندگی میں لکھا تھا ،آج شیخ ہم میں موجود نہیں رہے ، ان کی وفات کے حوالے سے ادارہ ان کی حیات وخدمات پر مشتمل یہ تحریر شائع کررہا ہے ۔ تحریر کے آخر میں چند معلومات کا بھی اضافہ کردیاگیاہے ۔ امید ہے قارئین ان معلومات سے مستفید ہوں گے ۔

( ادارہ )

            میانہ قد،گندمی رنگت میں سرخی کی جھلک ۔ناک نقشہ خوب صورت ،صاف گو،علم وحلم کا دل پذیر مجموعہ ،مزاج میں اعتدال۔اچھے خطیب اور اچھے مدرس ۔طبیعت میں صالحیت اور حسنات کا غلبہ۔لمبی داڑھی ۔عمدہ خصال اور خوش گفتار ۔شلوار قمیص عام پہناوا ۔ہمارے اس عزیزالقدر دوست کو جو حافظ عبدالحمید ازہر کے نام سے موسوم ہیں،اللہ نے بہت سی خصوصیات سے نوازا ہے۔

            والد محترم کا نام حکیم فیض محمد تھا۔اس خاندان کے لوگ ضلع امرتسر کے موضع بھوجیاں کے علمائے کرام سے متاثر تھے،اسی لیے ان کے والد کا نام مولانا فیض محمد بھوجیانی کے نام پر رکھا گیا تھا۔جدِامجد کا اسم گرامی حکیم مولا بخش تھا۔ان کا تعلق ایک گاؤں ’’سُرسنگھ‘‘ سے تھا۔انہیں مقامی مسلمانوں میں احترام کی نظر سے دیکھاجاتاتھا اور سب لوگ ’’میاں جی‘‘ کہتے ہیں۔ایک بزرگ شیخ حبیب اللہ تھے،نیک طینت اور پسندیدہ خصائل کے مالک ۔انہی کی تلقین سے حکیم مولا بخش نے مسلک اہل حدیث قبول کیا۔پھر ان کی عقیدت کا مرکز غزنوی علما ئے کرام اور مولانا نیک محمد قرار پائے۔حکیم مولا بخش کی کوشش سے موضع سرُ سنگھ  میں ایک خاصی بڑی مسجد کی تعمیر شروع ہوئی ، لیکن ابھی مسجد مکمل نہیں ہوئی تھی کہ ملک کی تقسیم کا اعلان ہوگیا اور ان لوگوں کو وہاں سےنکلنا پڑا۔

            حافظ عبدالحمید ازہر کے نانا حاجی عبدالکریم تھے۔ ان کا تعلقِ سکونت ایک گاؤں ’’بلیئر‘‘ سے تھا۔یہ گاؤں ضلع لاہور میں تھا۔وہاں سکھوں کی اکثریت تھی۔حاجی عبدالکریم اپنے خاندان کے ساتھ وہاں سے نکلے اور موضع ’’پٹی‘‘ میں آبسے۔یہ خاصا بڑا قصبہ تھا اور ضلع لاہور میں تھا،اس میں مسلمانوں کی اکثریت تھی اور مسلمانوں میں بھی اہل حدیث حضرات کی تعداد زیادہ تھی۔لیکن تقسیم ملک کے نتیجے میں اس قصبے کو ضلع لاہور کی حدود سے نکال کر ضلع امرتسر میں شامل کردیاگیا اور وہ ہندوستان کے حصے میں آیا۔تقسیم ملک سے پہلے حافظ عبدالحمیدازہر کے ددھیال وننہیال عزت واحترام کی زندگی بسر کرتے تھے۔ملک تقسیم ہوا تو وہاں سے قصور آگئے اور اس شہر کے کوٹ اعظم خاں میںسکونت پذیر ہوگئے۔یہیں 10۔دسمبر1948ء کوحافظ عبدالحمیدازہر کی ولادت ہوئی۔پاکستان کی پیدائش 14۔اگست 1947ء کوہوئی۔عیسوی تقویم کے مطابق یہ عمر کے اعتبار سے پاکستان سے چاردن کم سولہ مہینے چھوٹے ہیں۔دعاہے اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ قائم رکھے اور یہ چھوٹی بڑی ہر آفت سے محفوظ رہے اور حافظ عبدالحمید ازہر کی زندگی صحت وعافیت کے ساتھ دراز ہو اور لوگ ان کی خطابتی اور تحریری مساعی سے مستفید ہوتے رہیں،آمین۔

            عبدالحمیدازہر کچھ بڑے ہوئے تو گورنمنٹ ہائی اسکول میں داخل کرادیے گئے۔اسکول کی تعلیم کے دوران ہی ناطرہ قرآن مجید پڑھنے کے بعد قصور کی جامع مسجد فریدیہ میں قاری نور احمد کھرل سے(جو قاری اظہاراحمد تھانوی کے شاگرد تھے)حفظِ قرآن کا آغاز کیا اور اللہ نے ان کوحفظ وتجوید کی نعمتِ عظمیٰ سے نوازا۔

            1965ء میں میٹرک  پاس کیا ۔انہی دنوں مولانا محمد اسحاق گوہڑوی رحمانی اپنے دوست شیخ عبدالکریم کی تعزیت کے لیے (جوایک حادثے میں وفات پاگئے تھے)قصور تشریف لائے۔ حافظ عبدالحمیدازہر کے دادا اور نانا انہیں مولاناموصوف کے پاس لے گئے اور آئندہ تعلیم کے لیے رائے طلب کی۔ اس رائے کے نتیجے میں جولائی 1965ء میں عبدالحمید ازہر کو ان کے ماموں مولانا عبدالعظیم انصاری اپنے ساتھ چینیاں والی مسجد (لاہور) لے آئے اور وہاں کے دارالحدیث میں داخل کرادیے گئے۔

      جب چینیاں والی مسجد میں عبدالحمید ازہر کی تعلیم کا آغاز ہوا ،اس وقت مولانا محمد اسحاق رحمانی وہاں صدر مدرس تھے اور مولانا عبدالعزیز نائب مدرس اور ہم سبق طلباء میں مولانا محموداحمد بن حافظ عبدالغفور(مریدکے)اور مولانا محمد عثمان (حال مدرس جامعہ اہل حدیث لاہور) شامل تھے۔

            اس سے اگلے سال بہ طور نائب مدرس وہاں مولانا عبدالخالق قدوسی شہید کا تقرر ہوا۔صرف ونحو کی بعض کتابیں،ترجمہ قرآن اور بلوغ المرام مولانا محمد اسحاق رحمانی سے پڑھنے کاشرف حاصل ہوا۔مشکوٰۃ شریف اور عربی ادب کی ابتدائی کتابیں مولاعبدالخالق قدوسی سے پڑھیں۔

            چینیاں والی مسجد کےمدرسے میں کچھ کمزوری کے اسباب ابھرےتو حافظ عبدالحمیدازہر گوجراں والا کی جامعہ محمدیہ چلے گئے۔وہاں مولاناعبدالحمیدہزاروی سے سنن نسائی،مولانا جمعہ خاں سےنورالانوار اور مولانا بشیرالرحمٰن سے دیوان حماسہ وغیرہ کتابیں پڑھیں۔حافظ عبدالمنان نورپوری سے بھی استفادہ کیا۔اسی دوران ڈاکٹر فضل الٰہی صاحب کی قیادت میں طلبا کا ایک وفد جامعہ محمدیہ اوکاڑہ گیا،جہاں مولانامعین الدین لکھوی کے زیرصدارت طلباکا جلسہ منعقد ہوا۔اس وفد کے شرکاء میں حافظ عبدالحمیدازہر بھی تھے۔وہیں ان کی  ملاقات ڈاکٹر حافظ عبدالرشیداظہر سے ہوئی جو جلدہی دوستی میں بدل گئی۔ان کی ترغیب پر حافظ عبدالحمیدازہر جامعہ سلفیہ (فیصل آباد)چلے گئے۔وہاں انہوں نے مندرجہ ذیل اساتذہ سے مندرجہ ذیل کتابیں پڑھیں۔

 مولنا ثناءاللہ ہوشیارپوری سے سنن ابی داود،مؤطاامام مالک اورحجۃ اللہ البالغہ ۔

 مولانا علی محمد سلفی سے جامع ترمذی اور دیوان متنبی۔

 حضرت حافظ عبداللہ بڈھیمالوی سے صحیح بخاری۔

 ہم سبق طلبا تھے ڈاکٹر شمس الدین نورستانی،حافظ مسعودعالم اوربعض دیگر حضرات۔

 ڈاکٹر محمدامان الجامعی اور شیخ علی مشرف العمری جامعہ اسلامیہ کی طرف سے جامعہ سلفیہ میں بہ طور مبعوث خدمات انجام دیتے تھے،حافظ صاحب نے ان سے بھی استفادہ کیا۔

1972ء میں جامعہ سلفیہ کا الحاق جامعہ اسلامیہ (مدینہ منورہ) سے ہوا۔پہلے سال دو طالب علموں کے داخلے کی منظوری آئی۔سالانہ امتحانات میں حافظ مسعودعالم اول اور حافظ عبدالحمیدازہر دوم آئے۔اس امتحان کے نتیجے میں ان دونوں کو جامعہ اسلامیہ میں داخل کرلیاگیا۔

یہ مدینہ منورہ پہنچے تو شیخ عبدالعزیزبن باز ،ڈاکٹر تقی الدین ہلالی،شیخ امین شنقیطی مصنف اضواء البیان کی زیارت کاموقع ملا۔وہیں مولانا عبدالغفار حسن ،شیخ حماد الانصاری،شیخ مختار شنقیطی،شیخ عبدالرؤف اللبدی سے استفادہ کیا۔علامہ ناصرالدین البانی جامعہ اسلامیہ کی مجلس مشاورت کے رکن کی حیثیت سے تشریف لایا کرتے تھے۔

شیخ ابوبکرجابرالجزائری تفسیر اور شیخ عبدالمحسن العباد بدایۃ المجتہد کے استاد تھے۔

1977ء میں حافظ عبدالحمیدازہر کو لیسانس (بی اے آنرز) کی ڈگری شاہ فہد کے ہاتھوں ملی ۔اس وقت وہ مملکتِ سعودیہ کے ولی عہد تھے،بعدازاں خادم حرمین شریفین ہوئے۔

دراسات علیا میں حافظ صاحب ممدوح کو قسمِ اصول الفقہ میں داخلہ ملا ۔لیکن کسی وجہ سے اس کی تکمیل نہ ہوسکی۔

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی نصابی تعلیم مکمل کرکے وطن واپس آئے تو مبعوث کی حیثیت سے 1980ء سے 1989ء تک پہلے مدرسہ تدریس القرآن والحدیث راولپنڈی میں اور پھرجامعہ سلفیہ اسلام آباد میں تدریسی خدمات سرانجام دیں۔اس اثنا میں ان سے جن خوش بخت حضرات نے کسب علم کیا وہ ہیں ڈاکٹر عبدالغفار بخاری،مولانامحمدیونس عاصم مرحوم(سابق شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ اسلام آباد)،مولانا محمد رفیق اخترکاشمیری ،مولاناعصمت اللہ( شیخ الحدیث جامعہ محمدیہ مظفرآباد)۔مولانا عبدالوحید(استاذ الحدیث جامعہ سلفیہ مسجد مکرم گوجراں والا)اور بعض دیگر اصحاب علم۔

حافظ عبدالحمیدازہر تحریر ونگارش کا بھی ذوق رکھتے ہیں اور ان کاقلم کتاب وسنت کی خدمت کےلیے ہمیشہ رواں رہتاہے،چنانچہ مختلف جماعتی جرائد میں ان کے رشحاتِ قلم خوانندگانِ محترم کے مطالعہ میں آتے ہیں اور ان کے لیے اضافۂ معلومات کاباعث بنتے ہیں۔ مضامین کے علاوہ ’’اہل حدیث کاتعارف‘‘کےنام سے ان کی ایک کتاب بھی ہے ،جس پر مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ نے تقریظ رقم فرمائی تھی۔

خطابت کاملکہ بھی اللہ تعالیٰ نے ان کو ودیعت فرمایاہے ۔وہ جامع محمدی اہل حدیث میں خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہیں۔

حافظ صاحب ممدوح کے ایک بھائی کا نام حافظ عبدالوحید ہے۔وہ جامعہ ام القریٰ کے سند یافتہ ہیں اور جامعہ کی طرف سے گولڈ میڈلسٹ ہیں۔

ایک بھائی علامہ محمدسعیدعابد تھے جو اسلامیہ گورنمنٹ ڈگری کالج قصور کے وائس پرنسپل تھے،افسوس ہے انہوں نے 19۔مئی 2011ء کوبعارضہ قلب اپنے مسکن قصور میں وفات پائی۔میں ان کے جنازے میں شامل تھا۔

پنجابی کے مشہور شاعر محمدشریف انجم مصنف ’’حرا داچانن‘‘(جوقصور میں مقیم ہیں) حافظ عبدالحمید ازہر کے خالہ زاد بھائی ہیں۔

دعاہے اللہ تعالیٰ اس گھرانے کے وفات شدگان کی مغفرت فرمائے اور زندوں کوکتاب وسنت کی خدمت کی توفیق بخشے۔

چند دیگرعلمی خدمات:[2]

(1)تعارف اہلحدیث

(2) حضورِ نماز

(3) بشر الصابرین

(4) ثواب و عذاب قبر:حافظ صاحب نے  ایک ضخیم کتاب بھی لکھ رکھی ہے جو لگ بھگ 500 صفحات پر مشتمل ہے۔

(5)مختصر صحیح بخاری: از علامہ البانی (ترجمہ و فوائد) ۔

(6)احباب دیوبند کی کرم فرمائیاں اہلحدیث پر: از علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید۔ اس کتاب حافظ عبدالحمید ازہررحمہ اللہ نے مبسوط مقدمہ لکھا جس کاحجم اصل رسالے سے بڑھ گیاہےجوکہ (80 صفحات پر مشتمل ہے)۔

(7)پیغام حرم: شیخ محمد سلطان معصومی کی کتاب "هدية السطان إلى مسلمي يابان"جس کا ترجمہ اپنے ایک شاگرد ِرشیدمولانا رفیق اختر کاشمیری سے کروایا. خود نظرثانی کی اوراس پر 60 صفحات کا مقدمہ لکھا۔

(8)مختصر ترغیب و ترہیب( مترجم)کی نظرثانی ومقدمہ۔

اعجاز حدیث (غیر مطبوع) اسی موضوع پر پیغام ٹی وی میں پروگرام کی بھی ریکارڈنگ کروائی۔

(9)فن نقد حدیث اور مولانا اصلاحی کے اندیشہ ہائے دور درازکے عنوان پر6 قسطوں پر مشتمل ہفت روزہ اہلحدیث لاہور میں مضامین شائع ہوئے۔

(10)تحقیق حدیث کے لیے قیاسی کسوٹیاں کے عنوان سے جاوید غامدی کی تردید میں 5 قسطوں میں ،الاعتصام لاہور میں مضامین شائع ہوئے۔

(11)حج وعمرہ کے احکام (پاکٹ سائز )۔

اس کے علاوہ جامعہ سلفیہ میں دورانِ تدریس ایک سہ ماہی رسا لہ بنام’’ نوائے شبان‘‘ جاری کیا جو بعدمیں’’ الآثار‘‘ کے نام سے ماہانہ میں تبدیل ہوگیا، لیکن یہ رسالہ تین سال ہی چل سکا،اس رسالے میں حافظ صاحب کا اداریہ، درس قرآن اور دیگرعلمی موضوعات پر مضامین شائع ہوتے تھے۔

وفات

حافظ عبدالحمیدازہر کافی عرصہ سے صاحب فراش تھے ،عارضہ قلب اور دیگر امراض نے گھیرا ہوا تھا۔ آخر کار وہ وقت موعود آن وارد ہوا جس سے کسی کو بھی مفر نہیںچنانچہ یکم صفر1437ھ بمطابق 14۔نومبر2015ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے ،اسی دن رات کو آٹھ بجے ان کا جنازہ راولپنڈی میں پڑھایاگیا ،امامت کے فرائض بقیۃ السلف استاذالاساتذہ فضیلۃ الشیخ حافظ مسعودعالم حفظہ اللہ نے انجام دیے۔

اللھم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ وأکرم نزلہ  ووسع مدخلہ  وقہ من فتنۃ القبر وعذاب النار،آمین۔

 

 



[1] نامور مؤرخ اہل حدیث و مصنف کتب کثیرہ

[2] محترم المقام مؤرخ اہل حدیث مولانا محمداسحاق بھٹی صاحب حفظہ اللہ نے ان کی ایک تصنیف کی طرف اشارہ کیاہے،شایدعدم دستیابی کی وجہ سے مزیدکاذکر نہیں کرپائے،خدمات کے عنوان میں کچھ مزید علمی خدمات کا تذکرہ کیا گیاہے۔(ادارہ(

Read 753 times Last modified on جمعرات, 29 مارچ 2018 13:54