بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

جمعرات, 01 فروری 2018 18:49

گھرکا ماحول پرسکون اور خوشگوار کیسے بنائیں

مقرر/مصنف 

گھرکا ماحول پرسکون اور خوشگوار کیسے بنائیں!

شریعت مطہرہ کی روشنی میں چند رہنما اصول

عبداللہ شمیم[1]

 

مسائل اور پریشانیاں ہر گھر کا مسئلہ ہے،جس کی وجہ سے گھر میں آرام و سکون نہ ہونے کے ساتھ ساتھ بے برکتی بھی پیدا ہوتی ہے،ان مسائل سے آگاہی اور ان کا تدراک خوشحال گھرانے کے لیے ضروری ہے۔سکون، اطمینان اور برکت اللہ تعالیٰ کچھ اسباب کے ذریعے سے فراہم کرتا ہے۔ لہذا ان اسباب کو سمجھ کر اپنے گھروں میں رائج کر کےماحول کو پر سکون بنانا ضروری بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔

گھر دو چیزوں کا نام ہے، ایک گھر کے در و دیوار، دوسرا گھر میں رہنے والے افراد ۔ گھر کی خوبصورتی جہاں در و دیوار سے ہوتی ہے وہیں سکون و اطمینان کےحصول کے لیے،افراد کے باہمی روابط اور خوشگوار ماحول سے ہے۔

اللہ تعالیٰ کی عطا کر دہ نعمتوں میں سے ایک نعمت گھر ہے،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے[وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُيُوْتِكُمْ سَكَنًا](النحل :80)

 ترجمہ:’’ اور اللہ نے بنایا تمہارے لیے تمہارے گھروں کو آرام و سکون کی جگہ‘‘۔

امام ابن کثیررحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:’’اس مقام پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ایک خاص نعمت کا ذکر فرمارہا ہے جو گھر کی صورت میں ہے جو کہ انسان کے لیے جائے پناہ بھی ہے اور مکان استقرار بھی۔مزید کئی فوائدبھی اسی جگہ سے منسلک ہوتے ہیں‘‘۔[2]

گھر وہ جگہ ہے جہاں انسان کی عزت محفوظ رہتی ہے،کیونکہ گھر ہی ہے جہاں عورت مستورہوتی ہے اور اپنے آپ کو محفوظ رکھتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 [وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى](الاحزاب:33)

ترجمہ:’’اور اپنے گھروں میں ٹکی رہو اور پہلی جاہلیت کے زینت ظاہر کرنے کی طرح زینت ظاہر نہ کرو‘‘

لہذا گھر وہ نعمت ہے جہاں انسان اپنے اکثر اوقات احسن انداز  سے گزار تا ہے گرمی کی شدت اور سردی کی سختی سے اپنے آپ کو بچاتا ہے۔اپنی خلوت و اجتماع کے لمحات بھی یہیں بسر کرتا ہے۔

اس نعمت کا صحیح ادراک ان لوگوں کے مشاہدہ سے ہوتا ہے جو لوگ اس نعمت سے محروم ہیں ،جن کی زندگی کے شب و روزکھلے آسمان تلے بسر ہوتے ہیںانہیں آرام کے لیے چار دیواری میسر نہیں ہے۔

اس نعمت کی اہمیت کے حوالے سے نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا :

’’طوبٰی لمن ملک لسانہ ووسعہ بیتہ وبکی علیٰ خطیئۃ‘‘[3]

’’کامیابی کی خوشخبری ہےایسے شخص کے لیے جو اپنی زبان پر کنڑول رکھتا ہے،اور اس کے لیے اس کا گھر کافی ہےاور اپنے گناہوں پرروتا ہے ‘‘۔

تو گھر کے درو دیوار کی کشادگی و تزئین اللہ کی نعمت ہے جس کی قدر کرنا ہمارے لیے لازم ہے۔

گھر میں برکت سکون اور اطمینان بھی اللہ کی نعمت ہے اور دین اسلام نے حصول برکت کے کچھ اسباب ذکر کیے ہیں، جنہیں ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔

(1)ایک دوسرے کا احساس:

گھر کے افرادکا باہمی ربط اور ایک دوسرے کےحال احوال سے مطلع ہونا شرعی تقاضہ ہے،جب قوم ِ نوح پر عذاب آیا تو جناب نوح علیہ السلام نے بارگاہ الٰہی میں استدعا کی:

[ وَنَادٰي نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِيْ مِنْ اَهْلِيْ وَاِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ](ھود:45)

ترجمہ:’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا، پس کہا اے میرے رب ! بیشک میرا بیٹا میرے گھر والوں سے ہے اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے‘‘۔

سیدنانوح علیہ السلام نے اپنے اس بیٹے کی فکر بھی کی جو کہ کافر اور مستحق عذاب تھا۔

جناب ابراہیم علیہ السلام کو ایسی ہی فکر اپنے والد کے لیے تھی چنانچہ قرآن مجید میں مذکو رہےکہ کتنے پیارے اور میٹھے انداز میں اپنے والد کو سمجھانے کی کوشش کی۔

[يٰٓاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِيْ عَنْكَ شَـيْــًٔا (مریم:42)

ترجمہ:’’ اے میرے پیارے والد! تو اس چیز کی عبادت کیوں کرتا ہے جو نہ سنتی ہے اور نہ دیکھتی ہے اور نہ تیرے کسی کام آتی ہے ؟ ‘‘۔

[يٰٓاَبَتِ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّيْطٰنِ وَلِيًّا](مریم:45)

ترجمہ:’’اے میرےپیارے والد ! بیشک میں ڈرتا ہوں کہ تجھ پر رحمان کی طرف سے کوئی عذاب آپڑے، پھر تو شیطان کا ساتھی بن جائے‘‘۔

آخرمیں یہ فکر بھی لاحق تھی کہ یہ سرکشی کہیں میرے والد کو برباد نہ کردے۔

یہی ابراہیم علیہ السلام تھے جب فرشتوں نے ان کے سامنے قوم لوط پر عذاب کاذ کر کیا تو فوراََ جناب لوط علیہ السلام کا احساس کر تے ہوئے کہنے لگے[قَالَ اِنَّ     فِيْهَا لُوْطًا]

ترجمہ:’’اس نے کہا اس میں تو لوط ہے‘‘۔

ایک دوسرے کا احساس ،ضرورت کے وقت کام آنا سنت انبیاء بھی ہے اور شرعی تقاضا بھی جوکہ سکون و اطمینان کی اساس وبنیادہے۔

لہذا ضرورت ہے کہ ہم گھر کے ہر فرد کا احساس کریں اور اس حوالہ سے اپنی ذمہ داری ادا کریں۔

(2)نیک سیرت ہم سفر کا انتخاب:

ہر گھر کی بنیا د شوہر اور بیوی ہیں،لہٰذا ایسی عورت کو بطور بیوی انتخاب کیا جائے جو اپنے اخلاق و سیرت کے اعتبار سے نمایاں ہو ،اور اخلاق و سیرت میں بنیادی امر دین ہے۔اسی بارے میں نبی اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے :

’تنكح المرأة لأربع لمالها ولحسبھا ولجمالها ولدينھا فاظفر بذات الدين تربت يداك‘[4]

ترجمہ:’’عورت سے چار چیزوں کو سامنے رکھ کر نکاح کیا جاتا ہے(1)مالداری کی وجہ سے( 2 )حسب و نسب کے سبب(3)حسن و جمال کی وجہ سے(4) دینداری کی وجہ سے ‘‘۔

نیز فرمایا:’’الدُّنْيَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ‘‘۔[5]

ترجمہ:’’دنیا سازو سامان ہے اور دنیا کا بہترین سامان نیک بیوی ہے‘‘۔

بلکہ تعلیماََ یہ بھی فرمادیا ’لِيَتَّخِذْ أَحَدُكُمْ قَلْبًا شَاكِرًا،وَلِسَانًا ذَاكِرًا ، وَزَوْجَةً مُؤْمِنَةً تُعِينُ أَحَدَكُمْ عَلَى أَمْرِ الْآخِرَةِ‘[6]

ترجمہ:’’تمہارے پاس شکر گزار دل ہو،ذکر کرنے والی زبا ن ہو اور مومنہ بیوی جو آخرت(میں کامیابی) کے امور میں تمہارا مدد گار ثابت ہو‘‘۔

اسی طرح دوسری جانب شوہر کے انتخاب کےلیے شریعت نے اسی قسم کی تعلیم لڑکی کے ولی کو بھی ارشاد فرمائی ہے، نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان:’إذا أتاکم من ترضون دينه وخلقه فزوجوه، إلا تفعلوا تكن فتنة في الأرض، وفساد عريض‘۔[7]

ترجمہ’’تمہارے پاس ایسے شخص کا رشتہ آئے جس کے دین اخلاق سے تم مطمئن ہو تو شادی کروا دیا کرو،اگر تم ایسا نہیں کروگے تو یہ امر زمین میں باعث فتنہ فساد بنے گا‘‘۔

لہٰذا رشتہ کےمعاملے میں دونوں جانب سے مکمل چھان بین اور تحقیق ہونی چاہیے اور جب اطمینان ہوجائے تو اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے ایک اچھے گھر کی بنیاد رکھی جائے۔

(3) اصلاح کی کوشش کرنا:

ایك دوسرے كو نصیحت كرنا،سمجھانا شریعت کے بنیادی اصولوں میں سےہے،اور اس بنیاد کی کامیابی اخلاق حسنہ اور دین میں مضمر ہے۔اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے گھریلو معاملات میں ایک دوسرے کو اچھے انداز سے سمجھانا، اصلاح کرنا ،گھر میں خوشگوار ماحول کو قائم رکھتاہے۔اور یہ ذمہ داری گھر کے ہرفرد پراپنی حیثیت کے مطابق ادا کرناضروری ہے،نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے۔

’كُلُكُّم راعٍ و كُلُكُّم مَسؤولٌ عَن رَعِيَتِهِ‘[8]

ترجمہ:’’تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور تم میں سےہر ایک سےاس کی نگہبانی سے متعلق (قیامت کے دن) سوال ہوگا‘‘۔

(4) دینی تربیت کا اہتمام کرنا:

گھریلو ماحول کی سعادت کا راز دینی تربیت میں پوشیدہ ہے،جتنا گھر میں دین کا اہتمام ہوگا اتناہی وہ گھر خوشحال ہوگا۔ جیسا کہ خود نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  کا طرزِ عمل بیان کرتے ہوئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی

 ہیں:’’ کان رسول اللہ ﷺ یصلی من اللیل فاذا أوتر قال قومی فأوتری یا عائشہ‘‘۔[9]

ترجمہ :’’رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  رات کے وقت نماز پڑھتےپھر جب وتر پڑھ لیتے تو فرماتے اے عائشہ اٹھو اور وتر پڑھو‘‘۔

بلکہ آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے دعائے رحمت فرمائی ہے ،جو آدمی رات میںا ٹھ کر نماز اداکرتا ہے اور پھر اپنی بیوی کو بھی نماز کے لیے اٹھاتاہے‘‘۔[10]

(5) گھر میں ذکر کا اہتمام کرنا:

یہ بات مسلّم ہے کہ برکت ورحمت اللہ کی طرف سے آتی ہے اور ذریعہ برکت ذکر الٰہی ہے،گھر میں مختلف انداز کے ذکر مختلف طریقوں سے احادیث میں ملتے ہیں۔

(ا)گھر میں د اخل ہونے کی دعا:نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے :’’جب بندہ اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے تو داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ اب یہاں رات گزارنے کی جگہ ہے نہ ہی رات کا کھانا‘‘۔[11]

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  گھر میں داخل ہوتے وقت اس دعا کا اہتمام کرتے

(ب)گھر سے نکلتے وقت دعا کرنا:رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے جب بندہ اپنے گھر سے نکلتے ہوئے یہ الفاظ ادا کرتا ہے۔’’بسم اللہ توکلت علی اللہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ‘‘ تو ایسےشخص کے لیے کہا جاتا ہے کہ تیرے لیے کافی ہے یقیناََ تیری رہنمائی کردی گئی،کفایت کردی گئی اور تجھے بچالیا گیا پھر اس شخص سے شیطان جدا ہوتا ہے اور اس سے دوسرا شیطان کہتا ہےاب کیسے تو اس شخص کا مقابلہ کرےگا جس کی رہنمائی کفایت اور بچاؤ کیا جاچکا ہے۔[12]

)سورۃ بقرہ کی تلاوت کرنا: رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ،بے شک شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس گھر میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔[13]

ایک روایت میں فرمان مبارک یوں بھی وارد ہوا ہے کہ اپنے گھروں میں سورہ بقرہ پڑھا کرو کیونکہ جس گھر میں سورہ بقرہ پڑھی جائے وہاں شیطان داخل نہیں ہوتا۔[14]

شیطان کے نزدیک سب سے بہترین کام شوہر اور بیوی میں اختلافات پیدا کرنا ہے جس سے ایک گھر تباہ ہوجاتا ہے جبکہ گھروں میں اس قسم کےذکر و اذکار اورتلاوت قرآن کا اہتمام شیطان اور شیطانی مکر وفریب سے محفوظ رکھتا ہے۔

(6)اولاد کی تربیت:

اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہمیشہ ہمارے سامنے رہنا چاہیے۔

[يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا ](التحریم:6)

ترجمہ:’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ ‘‘۔

لہذا گھر کے سربراہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ گھر کے تمام افراد خصوصاََ اولاد کی تربیت پر توجہ دے،کیونکہ گھر کا سکھ چین بچوں کی سعادت سے ہے اوربچوں کی سعادت دین میں مضمر ہے۔

 


 

 

(7)باہمی اختلافات تنازعات اور گھریلو جھگڑوں کے معاملات پرتبادلہ خیال بچوں کے سامنے نہ کریں ۔

 عموما یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ میاں بیوی اپنے جگھڑے ، شب وروز کی نوک جھونک سب کچھ بچوں کے سامنے ہورہا ہوتاہے ۔ اس سے بچے نفسیاتی طور پر بہت متاثر ہوتے ہیں ۔ بلکہ بسا اوقات تو بات اس حدتک آگے نکل جاتی ہے کہ باپ بچوں سے کہتا ہے اپنی ماں سے بات نہیں کرنا ، یا پھر ماں کہتے ہے باپ سے بات نہ کرنا ۔ یا پھر اگر کسی رشتہ دار سے اختلاف ہو جیسے عموماً چچا ، خالو کے خاندانی اختلاف رہتے ہیں ان اختلافات کو بھی میاں بیویٰ گھر میں بچوں سے سامنے ڈسکس کرتے ہیں ۔ اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بچپن سے ہی دشمنیاں پلنا شروع ہوجاتی ہیں ۔ اور بچے سمجھتے ہیں کہ ہمارا فلاں چچا اچھا ہے اور فلاں بہت برا ۔ اور جب یہ اولاد بڑی ہوتی ہے تو دو خاندانوں میں بوئے گئے نفرت کے بیج اتنے پختہ ہوچکے ہوتے ہیں کہ قتل وغارت ، قطع کلامی ، سب وشتم تک بات پہنچ جاتی ہے لہذا تمام گھر والوں چاہے ماں باپ ہو ، نانا، نانی ہوں ۔ یا دادا دادی سب اس بات کا از حد خیال رکھیں کہ خاندانی تنازعات کا ذکر بچوں کی موجودگی میں نہ چھیڑیں ۔ بچوں کو ہمیشہ یہ احساس دلائیں کہ سب رشتہ دار آپ سے بے پناہ محبت کرتے اور چاہتے ہیں ۔ سب رشتہ دار اکرام وتکریم میں برابر ہیں ۔

(8) گھر میں ایسے آلات نہ لائیں یا ایسے افراد کو جگہ نہ دیں جو بری عادات واخلاق کے حامل ہوں ۔

آج کل الیکٹرونک آلات بالخصوص ٹیلیوزن موبائلز کا دور دورہ ہے ۔ بچے ہوش سنبھالتے ہی انہیں ہاتھ میں پکڑ لیتے ہیں ۔ بات کارٹوں سے شروع ہوتی ہے اور پھر حیاباختہ پروگرامز کے مشاہدے سے بھی آگے نکل جاتی ہے ۔ لہذا والدین بہت زیادہ محتاط رہیں کہ فلم ، ڈرامے یا پھر موبائلز مستقل بچوں کے ہاتھ میں دینے کے نتائج بہت بھیانک ہوسکتے ہیں ۔ اسی طرح خادم خادمائیں بھی ایسی نہ رکھیں جو بری عادات واطوار کی حامل ہوں ۔

(9) اپنے بچوں کو ٹائم دیں ۔

آپ کتنے بھی مصروف ہوں ۔آپ کی اولاد آپ کی ہے اور آپ نے ہی ان کی تربیت کرنی ہے اور اس کے ثمرات سمیٹنے ہیں ۔ لہذا اپنے بچوں کو ٹائم دیں انہیں سیروتفریح کیلئے لے کر جائیں ، انہیں اچھی اچھی باتیں سکھائیں ، قرآن مجید، دعائیں سکھانے کا اہتمام کریں ۔ سونے سے پہلے اپنی نگرانی میں بچوں سے سوتے وقت کی دعائیں پڑھوائیں ، انہیں اچھے اچھے اسلامی واقعات سنا کر ایمان اور اہل ایمان سے محبت ان کے دلوں میں پیدا کریں ۔

(10) دعا:

اپنی کوشش و عمل کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ سعادت و کامیابی توفیق الٰہی کے بغیر ناممکن ہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ سے مسلسل دعا کے ذریعے گھروں میں سکون طلب کرنا عبادالرحمٰن کا شیوہ ہے۔

[وَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا](الفرقان:74)

ترجمہ:’’ اور وہ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہمیں ہماری بیویوں اور اولادوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا‘‘۔

 



[1] ریسرچ اسکالر المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی

[2] تفسیر ابن کثیر،تفسیر سورۃ النحل:80

[3] معجم طبرانی (2340)صححہ الالبانی و صحیح الجامع(3928)

[4] صحیح البخاری :باب الأ کفاء فی الدین ،کتاب النکاح حدیث:5090

[5] صحیح المسلم: باب خیر متاع الدنیا والمرأۃ الصالحۃ ،کتاب الرضاع حدیث:1469

[6]  سنن ابن ماجہ: باب أفضل النساء،کتاب النکاح،حدیث:1856

[7] سنن ابن ماجہ:باب الأ کفاء کتاب النکاح حدیث:1967

[8] صحیح البخاری :باب قو انفسکم واھلیکم نارا۔کتاب النکاح ،حدیث:5188

[9] صحیح المسلم :باب صلاۃ اللیل۔۔۔ کتاب صلاۃ المسافر۔۔۔۔۔حدیث:744

[10] سنن ابی داؤد:باب قیام اللیل کتاب الصلاۃ حدیث:1308

[11] صحیح المسلم: کتاب الأشربۃ باب استحباب تخمیر الإناء،حدیث 2018

[12] سنن ابی داؤد:کتاب الأدب،باب مایقول اذا خرج من بیتہ،حدیث:5095

[13] صحیح المسلم: باب الاستحباب صلاۃ النافلۃ کتاب صلاۃ المسافرین،حدیث:780

[14] مستدرک حاکم ،4/25،حدیث:2062

Read 364 times Last modified on جمعرات, 01 فروری 2018 18:55