بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
پیر, 05 فروری 2018 16:03

فضائل علی رضی اللہ عنہ اور من گھڑت روایات

Written by 

فضائل علی رضی اللہ عنہ اور من گھڑت روایات

 

 

                                        حافظ محمد یونس اثری[1]

 نبی اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ذی شان ہے:’’ فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ‘‘[2]’’ تم پر میری سنت اور خلفاء راشدین جوکہ ہدایت یافتہ ہیں، کی پیروی لازم ہے۔ ‘‘ان خلفاء راشدین میں سب سے پہلے نمبر پر سیدنا ابو بکر صدیق رضی الله عنہ  ، دوسرے نمبر پر سیدنا عمر رضی الله عنہ  ، تیسرے نمبر پر سیدنا عثمان رضی الله عنہ  اور چوتھے نمبر پر سیدنا علی رضی الله عنہ  ہیں، سیدنا علی رضی الله عنہ  کی شخصیت اسلامی تاریخ کا ایک درخشندہ باب ہے، آپ کو جہاں خلیفہ رابع ہونے کا شرف حاصل ہے وہیں آپ کے حصے میں یہ مرتبت بھی آئی کہ آپ رسول اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  کے چچیرے بھائی اور داماد ہیں اور فاتح خیبر ہونے کا شرف بھی آپ کی شخصیت کا ایک ممتاز پہلو ہے۔ سیدنا علی رضی الله عنہ  ان شخصیات میں سے ہیں جنہیں سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں شمار کیا جاتا ہے، مردوں میں سب سے پہلے سیدنا ابو بکر  رضی الله عنہ ، خواتین میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اور بچوں میں سب سے پہلے سیدنا علی  رضی الله عنہ ایمان لائے، اس کے بعد مکی دور جو رسول اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  کے لئے انتہائی کٹھن اور صبر آزما دور تھا ، اس موقع پر ہر آن آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ کھڑے ہوئے، بلکہ ہجرت کی رات سیدنا ابو بکر  رضی الله عنہ کے حصے میں یہ شرف آیا کہ وہ رفیق سفر ِہجرت بنے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حصے میں یہ شرف آیا کہ انہوں نے اس رات نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے بستر پر آرام فرمایا،اور ہجرت کے بعد بھی آپ کبھی جنگوں میں نبی اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آتےہیں ، تو کبھی جنگ تبوک کے موقع پر مدینہ منورہ میں نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے جانشین کی صور ت میں ، کبھی آپ کو نبی اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  نے یمن کے لیے قاضی اور مبلغ کی حیثیت سے منتخب فرمایا تو کبھی فتح خیبر کے لیے عظیم سپہ سالار کی حیثیت سے منتخب فرمایا۔ بہرحال آپ کی شخصیت کے  یہ مختلف جھروکے کتب سیرت اور کتب تاریخ میں بکھرے پڑے ہیں جو کھو ل کھول کر آپ کے فضائل و مناقب  بیان کررہے ہیں۔

ان فضائل و مناقب سےکسی مؤمن کو کوئی انکار ہے نہ ہوسکتا ہے ، البتہ کسی ضعیف ، موضوع یا من گھڑت روایت سے ثابت منقبت کے اہل توحید و حدیث قائل نہیں، اور جس طرح سلف نے اس قسم کی روایات کی حقیقت کو لوگوں کے سامنے کھول کر نکیر بھی کی اور اس قسم کی روایات کے نشر سے گریز بھی کیا، اہل حدیث کا یہی منہج ہے کہ اس قسم کی مرویات جو دور حاضر میں بھی بڑی شدو مد کے ساتھ بیان کی جاتی ہیں اور جھوٹے قصے اور روایات بیان کرکے قصہ گو واعظین اور ذاکرین پیسہ بھی بٹورتے ہیں اور جاہل عوام کی داد بھی۔ لیکن دنیا کے چند ٹکوں کے لیے شریعت کے ساتھ تحریف و تبدیل کا سلوک جو وہ کرتے چلے جاتے ہیں،اس کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی، واضح رہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت جو قطعاً اس بات کی محتاج نہیں کہ اس کے لیے من گھڑت روایات کا سہارا لینا پڑے بلکہ ان کی عظمت تو صحیح ثابت شدہ مرویات میں بھرپور بیان ہوئی ہے۔

علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی کچھ اسی قسم کا تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا:

’’وفضل علي رضي الله عنه أشھر من أن يستدل عليه بمثل هذه الموضوعات، التي يتشبث الشيعة بھا، ويسودون كتبھم بالعشرات من أمثالها، مجادلين بھا في إثبات حقيقة لم يبق اليوم أحد يجحدها، وهي فضيلة علي رضي الله عنه.‘‘ [3]

’’سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت تو اس بات سے کہیں زیادہ مشہور ہے کہ اسے موضوع روایات سے استدلال کرکے بیان کیا جائے ، جنہیں شیعہ نے گھڑا اور اس طرح کی دسیوں مرویات کے ذریعے اپنی کتب کو سیاہ کرکے رکھ دیا۔ اور اس سے اثبات بھی اس حقیقت(سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت) کا کیا جاتا ہے جس سے کسی کو انکار ہی نہیں ‘‘۔

زیرنظر بحث میں ایسی ہی بعض روایات کی تحقیق مقصود ہے تاکہ ان کے بیان اور انہیں عام کرنے سے ہم حد درجہ احتیاط بھی برتیں اور جو لوگ اس قسم کی مرویات بیان کرتے ہیں ان سے بھی محتاط رہیں ۔واضح رہے کہ جیساکہ علامہ البانی  رحمۃ اللہ علیہ  نے اشار ہ کیا کہ فضیلت علی  رضی الله عنہ کے حوالےسے بکثرت من گھڑت روایات موجود ہیں ،سب کا احاطہ مقصود نہیں بلکہ ہم یہاں صرف دس روایات کا تذکرہ کررہے ہیں۔

پہلی روایت:

عن ابن عباس قال:قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم):’’حب علي يأكل الذنوب كما تأكل النار الحطب‘‘۔[4]

 ابن عباس  رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ علی کی محبت گناہوں کواس طرح کھاجاتی ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھاجاتی ہے‘‘۔

حکم :

اس کی سند میں احمد بن شبویہ مجہول ہے اور محمد بن مسلمۃ ضعیف ہے۔

خطیب بغدادی یہ روایت درج کرنے کے بعد فرماتے ہیں:’’رجال إِسْنَاده بعد مُحَمَّد بن مسلمة كلهم معروفون ثقات، والْحَدِيث بَاطِل مركب عَن هَذَا الْإِسْنَاد ‘‘۔

’’ اس کی سند میں محمد بن مسلمہ کے بعد سب کا ثقہ ہونا معروف ہے ، یہ حدیث باطل ہے اور اس سند سے بنائی ہوئی ہے‘‘۔

علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ اسے موضوعات میں لائےہیں۔ [5]

حافظ ذہبی  رحمۃ اللہ علیہ نےاس روایت کو باطل قرار دیا۔ [6]

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : ’’ومحمد بن مسلمة سيأتي ترجمته وإنه ضعيف والراوي عنه أحمد بن شبويه هذا مجهول فالآفة من أحدهم‘‘[7]

’’ محمد بن مسلمہ کا ترجمہ عنقریب آرہا ہے اور وہ ضعیف ہے اور اس سے روایت کرنے والا احمد بن شبویہ مجہول ہے آفت ان میں سے کسی ایک کی طرف سے ہے۔ ‘‘

علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ  نے اس روایت کو باطل قرار دیا۔[8]

دوسری روایت:

عن حذيفة، قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"من سره أن يحيا حياتي، ويموت ميتتي، ويتمسك بالقصبة الياقوتة التي خلقھا الله بيده ثم قال لها: كوني، فكانت، فليتول علي بن أبي طالب من بعدي " [9]

حذیفہ رضی الله عنہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ جسے یہ پسند ہوکہ وہ میری زندگی جیئے اور میری موت مرے، اوریاقوت سے مرصع موتی حاصل کرے جسے اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا پھر اسے کہا ہوجا ، وہ ہوگیا۔ اسے چاہئے کہ وہ میرے بعد علی کو دوست بنائے‘‘۔

حکم :  

علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ  نےاس کی سند میں موجود محمد بن زکریا الغلابی کو متہم قرار دیاہے۔[10]

ابن عراق الکنانی  رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی اس کی سند میں موجود محمد بن زکریا الغلابی کو متہم قرار دیا۔[11]

 

علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ  نے اس روایت کو السلسلۃ الضعیفۃ میں درج کیا اور موضوع قرار دیا۔علامہ البانی  رحمۃ اللہ علیہ  نے شریک بن عبداللہ القاضی پر جرح نقل کی کہ ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میرے والد نے اس کی حدیث کو چھوڑ دیا تھا۔ اس کی سند میں موجود ایک اور شخص محمد بن زکريا الغلابی کو اس حدیث کی اصل آفت قرار دیا اور امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ  سے نقل کیا کہ یہ حدیث گھڑتا تھا ، حافظ ذہبی  رحمۃ اللہ علیہ نے اسے متہم قرار دیا۔[12]

تیسری روایت:

ایک روایت عام طور پر بیان کی جاتی ہےکہ خیبر کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عصر کی نماز نکل گئی ، اور وجہ یہ تھی کہ نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گود میں سورہے تھے اور انہوں نے نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  کو اٹھانا مناسب نہ سمجھا اسی حال میں سورج غروب ہونے کا وقت ہوگیا، نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  بیدار ہوئے تو دعا کی:

’’اللّهم إنه كان في طاعتك وطاعة رسولك فاردد عليه الشمس‘‘۔[13]

’’ اے اللہ ! علی  رضی الله عنہ تیری اورتیرے نبی کی اطاعت میں بیٹھے رہے لہٰذا تو دوبارہ سورج کولوٹا دے‘‘ 

اور سورج دوبارہ واپس ہوا اور پھر نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  اورسیدنا علی نےعصرکی نماز ادا کی۔

حکم :

مختلف طرق سے یہ روایت مختلف کتب میں موجود ہے لیکن تمام طرق ہی اس کےموضوع درجے کے ہیں، حافظ ذہبی ، ابن الجوزی ، علامہ سیوطی، شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور علامہ البانی رحمہم اللہ نے اسے موضوع قرار دیاہے۔[14]

                                                                                   


                                                                                   

 

چوتھی روایت:

’’يا عمار بن ياسر! إن رأيت علياً قد سلك وادياً وسلك الناس وادياً غيره؛ فاسلك مع علي؛ فإنه لن يدلك على ردى، ولن يخرجك من هدى‘‘۔[15]

’’ نبی اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  نے عمار بن یاسر سے فرمایا: اے عمار بن یاسر! اگر تم دیکھو کہ علی ایک راہ پر ہیں اور باقی لوگ دوسری راہ پر تو تم علی کے ساتھ چلنا، کیونکہ وہ تمہیں کی ہلاکت کی طرف رہنمائی نہیں کریں گے اور نہ ہی تمہیں ہدایت سے نکالیں گے‘‘۔

حکم:

امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا: ’’هَذَا حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ بِلا شَكٍّ‘‘[16]یعنی یہ حدیث بلا شک و شبہ موضوع ہے۔ مزید معلی بن عبدالرحمٰن کے بارے میں جرح نقل کی کہ ابن المدینی رحمہ اللہ نے کہا کہ وہ حدیث گھڑتا تھا، ابوحاتم رازی نے کہا: متروک ہے، ابو زرعہ نے کہا کہ ذاھب الحدیث ہے۔

اس کی سند کے ایک اور راوی احمد بن عبداللہ المؤدب کےبارےمیں جرح نقل کی کہ ابن عدی نے کہا کہ یہ حدیث گھڑتا تھا، امام دارقطنی نے کہا کہ متروک الحدیث ہے۔

اور پھر اس کے دیگر طرق کی حقیقت بھی کھول دی۔

علامہ سیوطی  رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ’’ مَوْضُوع: والمعلى مَتْرُوك يضعُ وَأَبُو أَيُّوب لَمْ يشْھد صفّين‘‘  [17]یعنی یہ حدیث موضوع ہے ، معلی متروک ہے ، احادیث گھڑتا تھا، اور ابو ایوب تو جنگ صفین میں موجود ہی نہیں تھے۔


 

امام جورقانی  رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:’’هذا حديث موضوع لا شك فيه‘‘[18]اس حدیث کے موضوع ہونے میں کوئی شک نہیں۔

ابن العراق الکنانی بھی اسے تنزیہ الشریعۃ میں لائے۔[19]

علامہ البانی  رحمۃ اللہ علیہ  نے موضوع قراریاہے۔[20]

پانچویں روایت:

نبی اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: 

’’أنا وهذا (يعني: علياً) حجة على أمتي يوم القيامة‘‘۔[21]

’’ میں اور علی رضی اللہ عنہ قیامت کے دن اپنی امت پر حجت ہوں گے‘‘۔

حکم :

 علامہ البانی  رحمۃ اللہ علیہ نے موضوع قرار دیا۔[22]

اس کی سند میں ایک راوی مطر بن ابی مطر ہے جس کو  امام بخاری ، ابوحاتم ، نسائی نے منکر الحدیث قرار دیا۔[23]

ازدی نے متروک قرار دیا۔[24]

ساجی نے منکر الحدیث قرار دیا۔  [25]

ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں: ’’كان ممن يروي الموضوعات عن الاثبات،يروي عن أنس ما ليس من حديثه في فضل علي بن أَبي طالب وغيره،لا تحل الرواية عنه‘‘۔[26]

’’ یہ ان راویوں میں سے ہےجو ثقہ راویوں سے موضوع روایات بیان کرتے ہیں ، انس سے علی بن ابی طالب کی فضیلت کے بارے میں وہ روایت بیان کرتا ہےجو ان کی حدیث نہیں ، اس سے روایت لینا جائز نہیں‘‘۔

امام حاکم فرماتے ہیں:’’يضع الْأَحَادِيث فِي الْفَضَائِل فيرويھا عَن أنس بن مَالك‘‘ [27]

’’فضائل میں احادیث گھڑکے انس بن مالک سے بیان کرتا ہے‘‘۔

امام دارقطنی  رحمۃ اللہ علیہ نے اسے الضعفاء والمتروکین میں درج کیا ہے۔ [28]

حافظ ذہبی  رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد اسے باطل قرار دیا۔[29]

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نےاسے متروک قرار دیا.[30]

چھٹی روایت:

’’لما أسري بي؛ رأيت في ساق العرش مكتوباً: لا إله إلا الله، محمد رسول الله صفوتي من خلقي، أيدته بعلي ونصرته‘‘۔[31]

’’جب مجھے اسراء کروائی گئی میں نے عرش کے نیچےلکھا دیکھا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، محمد اللہ کے رسول ہیں اور مخلوق میں سے چنے ہوئے ہیں اورمیں نے علی کے ذریعے ان کی مدد کی ہے‘‘۔

حکم :

ابو الحمرا ء سے مروی یہ حدیث تاریخ دمشق لابن عساکر میں دو جگہ موجود ہے،  ایک جگہ (16/455، 456) پر یہ روایت ’’۔۔۔حدثنا عمار بن مطر حدثنا عمر بن ثابت عن أبي حمزة الثمالي عن سعيد بن جبير عن أبي الحمراء قال قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم)۔۔۔۔الخ ‘‘کی سند سے موجود ہے ۔

اس سند سے بھی یہ روایت موضوع کے درجے کی ہے ، جیسا کہ ابن عراق الکنانی نے اس سند میں موجود دو راوی عما ر بن مطر اور ابو حمزہ الثمالی پر جرح کی کہ یہ رافضی ہیں ، ثقہ نہیں ہیں۔ [32]

عمار بن مطر

حافظ ذہبی  رحمۃ اللہ علیہ نے یہ اشارہ کرتے ہوئے کہ بعض نے اس کی توثیق اور بعض نے اس کا حفظ بیان کیا ہے ،اس کے بعد کئی ایک اقوال جو اس پر جرح کے حوالے سے ہیں ، نقل کیے :

حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا: ھالک

ابن حبان فرماتے ہیں:’’ کان یسرق الحدیث ‘‘ یعنی یہ احادیث چراتا تھا۔

عقیلی فرماتے ہیں : ثقات سے اکثر مناکیر بیان کرتا ہے۔

ابو حاتم الرازی فرماتے ہیں : جھوٹ گھڑتا تھا۔

ابن عدی کہتے ہیں : اس کی احادیث باطل ہیں۔

دارقطنی فرماتے ہیں:یہ ضعیف ہے۔[33]


 

 

ابو حمزۃ الثمالی

اس کا نام ثابت بن ابی صفیۃ ہے ، اس کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ کے ذکر کردہ اقوال درج کیے جاتے ہیں۔

امام احمدفرماتے ہیں: لیس بشئی

امام ابن معین فرماتے ہیں: لیس بشئی

امام ابو حاتم فرماتے ہیں: لین الحدیث

امام نسائی فرماتے ہیں: لیس بثقۃ

حافظ ذہبی کہتے ہیں کہ سلیمانی نے اسے روافض میں سے شمار کیا ہے۔  [34]

اس کے بارے میں بحوالہ السلسلۃ الضعیفۃ  کلام آگے آرہا ہے۔

یہ حدیث تاریخ دمشق میں دوسری جگہ (42/336) ’’حدثنا إبراهيم بن هانئ النيسابوري حدثنا عبادة بن زياد الأسديحدثنا ناعمرو بن ثابت بن أبي المقدام عن أبي حمزة الثمالي عن سعيد بن جبير عن أبي الحمراء خادم رسول الله (صلى الله عليه وسلم) قال سمعت رسول الله (صلى الله عليه وسلم)۔۔۔۔الخ ‘‘ کی سند سے موجود ہے ۔

اس سند پر علامہ البانی رحمہ اللہ نےروایت کو موضوع قرار دیتے ہوئے تین راویوں عبادۃ بن زیاد الاسدی، عمرو بن ثابت اور ابو حمزۃ الثمالی پر جرح نقل کی  ، جن کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے ۔

ابو حمزۃ الثمالی :

امام دارقطنی فرماتے ہیں: متروک

امام ابن حبان فرماتے ہیں : احادیث میں کثیر الوھم ہے ، حتی کہ جب یہ منفرد ہو تو قابل احتجاج نہیں اور یہ غالی شیعہ ہے۔(مزید اس پر حافظ صاحب کا نقل کردہ کلام گزر چکا۔ )

عمرو بن ثابت :

امام ابن معین فرماتے ہیں : لیس بشئی اور ایک مقام پر لیس بثقۃ ولا مأمون

امام نسائی فرماتے ہیں : متروک الحدیث

امام ابن حبان فرماتے ہیں: موضوع روایات بیان کرتا ہے۔

امام ابو داؤد فرماتے ہیں: یہ رافضی، خبیث ہے۔

عبادۃ بن زیاد:

یہ بھی شیعہ ہے ، لیکن مختلف فیہ قرار دینے کے بعد اصل آفت اسے قرار نہیں دیتے۔[35]

اسی سند سے یہ روایت المعجم الکبیر میں بھی ہے اور المعجم الکبیر کے حوالے سے علامہ ہیثمی نے اسے نقل کیا اور عمرو بن ثابت پر متروک ہونے کی جرح کی ،[36]لہذا اس سند کا حکم بھی موضوع کا ہے۔

یہ روایت حلیۃ الاولیاء میں’’۔۔۔ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْكُوفِيُّ، قَالَ: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ۔۔۔الخ ‘‘ کی سند سے ہے [37]جو مذکورہ بالا دونوں سندوں سے مختلف ہے ،ابو نعیم اس روایت کے ذکر کے بعد فرماتے ہیں :’’غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، لَمْ نَكْتُبْهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ‘‘یعنی یہ یونس بن عبید عن سعید کے طریق سے غریب ہےہم نے اسے صرف اسی سند کے ساتھ لکھا ہے ، گویا کہ ابو نعیم رحمہ اللہ اشارہ فرمارہےہیں کہ باقی اسانید لکھنے کے قابل نہ تھیں۔لیکن جس سند سے ابو نعیم لائے ہیں اس میں بھی احمد بن الحسن الکوفی ہے ، جیساکہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس روایت کو حلیۃ الاولیاء کے طریق سے نقل کرکے احمد بن الحسن الکوفی کے بارے میں ابن حبان کی جرح نقل کی کہ یہ موضوع روایات بیان کرتا ہے اور دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے متروک قرار دیا۔ اورخود بھی علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس روایت کو لایصح قرار دیا۔لہذا  اس سند کے ساتھ بھی یہ موضوع کے درجے کی ہے۔ [38]

ساتویں روایت:

’’من أراد أن ينظر إلى آدم في علمه،وإلى نوح في فھمه، وإلى إبراهيم في حلمه،وإلى يحيى بن زكريا في زهده، وإلى موسى بن عمران في بطشه؛ فلينظر إلى علي بن أبي طالب‘‘  [39]

جو آدم کا علم ، نوح کا فہم ، ابراہیم کا حلم ، یحی بن زکریا کا زہد ، موسی بن عمران کی طاقت کو دیکھنا چاہے تو وہ علی کو دیکھ لے۔

علامہ ابن الجوزی نےاسے موضوع قرار دیا۔ [40]

علامہ جلال الدین سیوطی نے اس حکم کو برقرار رکھا، البتہ بعض طرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’(قلت) لَهُ طَرِيق آخر عَن أبي سَعِيد قَالَ ابْن شاهين قَالَ الديلمي أَخْبَرَنَا أبي حَدَّثَنَا عَلِيّ بْن دُكَيْن القَاضِي حَدَّثَنَا عَلِيّ بْن مُحَمَّد بْن يُوسُف حَدَّثَنَا الْفضل الْكِنْدِيّ حَدَّثَنَا عَبْد الله بْن مُحَمَّد بْن الْحَسَن مولى بني هَاشم بِالْكُوفَةِ حَدَّثَنَا عَلِيّ بْن الْحُسَيْن حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْن أبي هَاشم النَّوْفَلِي حَدَّثَنَا عَبْید الله بْن مُوسَى حَدَّثَنَا الْعَلَاء عَن أبي إِسْحَاق السبيعِي عَن أبي دَاوُد مقنع عَن أبي الْحَمْرَاء بِهِ وَورد عَن أبي سَعِيد قَالَ ابْن شاهين فِي السّنة حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْن الْحُسَيْن بْن حميد بْن الرّبيع حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْن عمرَان بْن حجاج حَدَّثَنَا عُبَيْد الله بْن مُوسَى عَن أبي رَاشد يَعْنِي الْحمانِي عَن أبي هَارُون الْعَبْدي عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا حَوْلَ النَّبِيِّ فَأَقْبَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فأدام رَسُول الله النَّظَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى آدَمَ فِي عِلْمِهِ


 

وَإِلَى نُوحٍ فِي حُكْمِهِ وَإِلَى إِبْرَاهِيمَ فِي حِلْمِهِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا وَالله أعلم.‘‘[41]

ابن عراق الکنانی نے بھی اس حکم کو برقرار رکھا البتہ ابن عباس والے شاھد کو کچھ اس طرح بیان کیا: ’’ (قلت) ومن حديث ابن عباس قال ابن بطة ثنا أبو ذر أحمد بن الباغندي ثنا أبي عن مسعر بن يحيى عن شريك عن أبى اسحق عن أبيه عن ابن عباس مرفوعا: " من أراد أن ينظر إلى آدم في علمه وإلى نوح في حكمته وإلى إبراهيم في خلته فلينظر إلى علي، " وقال الذهبي في الميزان: مسعر بن يحيى النھدي لا أعرفه وخبره منكر انتھى، وأبو الحمراء، قال البخاري: يقال له صحبة ولا يصح حديثه والله أعلم. ‘‘ ۔ [42]

السلسلۃ الضعیفۃ میں علامہ البانی نے اس روایت کو موضوع قرار دیتے ہوئےعلامہ سیوطی رحمہ اللہ اور ابن العراق کے بیان کردہ طرق کا جائزہ بھی پیش کردیا۔جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے :

  پہلی سند جس میں عبیداللہ بن موسی کے شاگرد محمد بن مسلم بن وارہ ہیں ، اس سند میں عبیداللہ کا استاذ ابو عمرو الازدی متروک ہے۔

دوسری سند جس میں عبیداللہ بن موسی کا شاگرد محمد بن ابی ہاشم النوفلی ہے، اس میں عبیداللہ بن موسی کا استاد علاء ہےاور وہ روایت کرتے ہیں ابو اسحاق السبیعی سے اور ان کا استاد ابو داؤد مقنع کو حافظ ابن حجر نے متروک اور ابن معین نے کذاب قرار دے رکھا ہے ، لہذا یہ سند بھی موضوع ہوئی۔

تیسری سند میں عبیداللہ بن موسی کا شاگرد محمد بن عمران بن حجاج ہے، اور عبیداللہ بن موسی کے استاد ابو راشد الحمانی روایت کرتے ہیں کہ ابو ھارون العبدی سے ، وہ ابوسعید خدری سے۔ اس سند میں ابو ھارون العبدی جس کا نام عمارۃ بن جوین شیعہ تھا، متروک راوی ہے، بعض نے کذاب بھی کہا۔ لہذا یہ سند بھی موضوع کے درجے کی ہے۔[43]

خلاصہ یہ ہے کہ اس مفہوم کی تمام اسانید خواہ ابو حمراء سے مروی ہوں یا ابو سعید سے یا ابن عباس سے یا انس سے سب موضوع کے درجے کی ہیں۔

 آٹھویں روایت:

’’يا علي! لك سبع خصال، لا يحاجك فيھن أحد يوم القيامة: أنت أول المؤمنين بالله إيماناً، وأوفاهم بعھد الله، وأقومهم بأمر الله، وأرأفھم بالرعية، وأقسمهم بالسوية، وأعلمهم بالقضية، وأعظمهم مزيةً يوم القيامة‘‘۔[44]

’’ اے علی ! تیری سات خصلتیں ہیں قیامت کے دن ان کے بارے میں تجھ سے کوئی جھگڑا نہیں کرے گا۔ تو سب سے پہلے ایمان لانے والا ہے، اور اللہ کے عہد کو سب سے زیادہ پورا کرنے والا ہے اور اللہ کے امر کو سب سے زیادہ قائم کرنے والا ہے اور رعیت سے سب سے زیادہ پیار کرنے والا ہے، اور سب سے زیادہ برابر تقسیم کرنے والا، اور معاملے کو سب سے زیادہ جاننے والا اور قیامت کے دن خصوصیت و مرتبہ کے لحاظ سے سب سے زیادہ اعظم ہوگا‘‘۔

اس روایت کی سند میں عصمہ بن محمد کذاب ہے جو احادیث گھڑتا تھا۔ ابن معین نے اس کے بارے میں کہا کہ یہ کذاب ہے، احادیث گھڑتا تھا، عقیلی نے کہا کہ ثقہ راویوں سے باطل روایات بیان کرتا ہے۔

علامہ سخاوی نے اس سمیت چند ایک روایات ذکر کرکے فرمایا: و کلھا واھیۃ۔[45]’’سب کمزور ہیں‘‘۔

علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے موضوع قرار دیاہے۔[46]

نویں روایت:

نبی اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا : ’’ النظر إلى علي عبادة‘‘

یعنی :’’ علی کی طرف دیکھنا عبادت ہے‘‘۔[47]

حکم :

یہ روایت بھی موضوع ہے۔ 

امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس کے تیرہ (13) طرق پیش کرنے کے بعد یہ فیصلہ دیا’’هذا الحديث لا يصح من جميع طرقه ‘‘ اس حدیث کی تمام طرق صحیح نہیں ہیں۔[48]

علامہ البانی رحمہ اللہ اس روایت کو موضوع قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیںکہ یہ روایت عبد الله بن مسعود، عمران بن حصين، عائشہ، أبو بكر الصديق، أبو هريرة،أنس بن مالك، معاذ بن جبل،عثمان بن عفان، وغيرھم سے بیان کی جاتی ہے اور ان تمام اسانید پر کلام نقل کیا۔ [49]

تنبیہ : 

بعض کا اسے روایت متواتر[50]قرار دینا صحیح نہیں کیونکہ اس کا کوئی طریق صحیح ثابت نہیں۔ اور بعض کا اس کے کسی طریق کو صحیح قرار دینا بھی صحیح نہیں[51]، جیساامام کہ ابن الجوزی اور علامہ البانی رحمہ اللہ کے تفصیلی

 کلام کی طرف مراجعت سے واضح ہوجائے گا۔ اسی طرح بعض کا اس روایت کثرت طرق کی بنیاد پر حسن لغیرہ قرار دینابھی درست ہیں۔ [52]

دسویں روایت:

نبی اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا: ’’ أنا مدينة العلم، وعلي بابھا، فمن أراد العلم فليأته من بابه‘‘

’’ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں، پس جو علم کا ارادہ رکھتا ہے ، وہ اس کے پاس دروازے سے آئے‘‘۔[53]

حکم:

یہ روایت موضوع ، بعض نے کثرت طرق کی بنیاد پر اسے حسن کہا ، جو کہ صحیح نہیں ، جیساکہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس پر تفصیلی کلام فرمایاہے ،جس کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

 ابن جریر نے تہذیب الآثار میں ، طبرانی نے المعجم الکبیر میں، امام حاکم نے  المستدرک میں ، خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد میں ، ابن عساکر نے تاریخ دمشق میںابن عباس سے مرفوعاً روایت کی ۔

امام حاکم نے اسے صحیح الاسناد کہا تو حافظ ذہبی نے اس پر نقد کرتے ہوئے موضوع قراردیا۔

امام حاکم نے ابو الصلت کو ثقہ ، مامون قرار دیا تو اس پر بھی حافظ ذہبی نے تعاقب کیا اور کہا کہ یہ ثقہ اور مامون نہیں۔

انہوں نے اپنی کتاب الضعفاء والمتروکین میںکہا کہ کئی ایک نے اسے متھم بالکذب قرار دیا۔ ابو زرعہ نے کہا : ثقہ نہیں ، ابن عدی نے کہا کہ متھم ہے۔ دیگر نے کہا کہ رافضی ہے، اور حافظ ابن حجر نے کہا :صدوق ، منکر روایات بیان کرتا ہے اور شیعہ تھا، مزید کہا کہ عقیلی نے اسے کذاب کہہ کر افراط سے کام لیا۔

علامہ البانی فرماتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ ابن معین کے علاوہ اس کی کسی نے توثیق نہیں کی اور ابن معین سے بھی متعدد روایات اس پر جرح یا تعدیل کے حوالے سے پانچ مختلف روایات ذکر کرتے ہوئے کہا اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ ابن معین بالجزم اس کی توثیق نہیں کی،مزید یہ کہ ابن معین سے اس حدیث کے حکم کے تعلق سے بھی پانچ مختلف روایات مروی ہیں۔ جن میں سے اکثر اس حدیث کی تضعیف کی طرف مائل ہیں۔

اس کی چھ متابعات ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ’’فهؤلاء ستة متابعين لأبي الصلت، ليس فيهم من يقطع بثقته‘‘ یہ چھ متابعین ہیں ابو الصلت کے جن میں سے قطعی طور پر کسی ایک بھی توثیق ثابت نہیں۔

پھر مزید یہ کہ روایت کرنے والے اعمش ہیں جو مجاھد سے بالعنعنۃ روایت کررہے ہیں، حالانکہ وہ مدلس ہیں ، حافظ ابن حجر اور یعقوب بن شیبہ کی صراحت کے مطابق اعمش کی مجاھد سے بہت کم ہی روایات سنی ہیں ، اور ان میں سماع کی صراحت جو دس کے قریب ہیں ، اور مذکورہ روایت میں تصریح سماع نہیں۔ مزید یہ کہ وہ باقی مرویات مجاھدسے لیث یا ابو یحی القتات کے واسطے سے لیتے ہیں ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں۔

اس کا ایک شاہد سیدنا علی سے مروی ہے جس کے الفاظ ہیں انا باب الحکمۃ و علی بابھا، اسے خود امام ترمذی نے منکر قرار دیا۔

اس کا ایک اور شاہد سیدنا جابر سے مروی ہے ، جوکہ مستدرک حاکم اور تاریخ بغداد میں ہے۔

اس کے الفاظ ہیں:’’هذا أمير البررة، وقاتل الفجرة، منصور من نصره، مخذول من خذله، - يمد بھا صوته -، أنا مدينة العلم.... ‘‘’’یہ نیک لوگوں کے امیر، فاجروں کے قاتل ہیں ، جو ان کی مدد کرے گا و مدد کیا جائے گا اور جو انہیں رسوا کرے گا وہ رسوا کیا جائے گا، آپ  نے ان کلمات کے ساتھ اپنی آواز کو بلند کیا اور پھر فرمایا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں ۔ ‘‘


 

 

امام حاکم نے یہ روایت ذکرکرنے کے بعد فرمایا:’’اسنادہ صحیح‘‘حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس پر نقد کیا اور فرمایا:’’العجب من الحاكم وجرأته في تصحيح هذا وأمثاله من البواطيل، وأحمد هذا دجال كذاب ‘‘

’’حاکم (رحمہ اللہ ) کی جرأت پر تعجب ہے کہ ایسی باطل قسم کی روایات کو صحیح قرار دے رہے ہیں اور یہ احمد تو دجال اور کذاب ہے۔ ‘‘

دوسری جگہ فرمایا: ’’بل واللہ موضوع، وأحمد كذّاب، فما أجهلك على سعة معرفتك‘‘

’’ یہ حدیث تو موضوع ہے اور احمد کذاب ہے ، (اور آپ کا اس حدیث کو صحیح قرار دینا )  آپ کی کتنی بڑی ناواقفیت ہے باوجود اس کے کہ آپ وسیع معرفت رکھتے ہیں۔

اس کا تیسرا شاہد جو کہ انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، اس کے دو طریق ہیں ۔

ایک طریق پیش ہے: ’’عن محمد بن جعفر الشاشي: أخبرنا أبو صالح أحمد بن مزيد: أخبرنا منصور بن سليمان اليمامي: أخبرنا إبراهيم بن سابق: أخبرنا عاصم بن علي: حدثني أبي عن حميد الطويل عنه مرفوعا به‘‘ اس  پر علامہ البانی رحمہ اللہ نے تبصرہ فرمایا: ’’وهذا إسناد ضعيف مظلم، من دون عاصم بن علي لم أعرف أحدا منھم، ووالد عاصم - وهو علي بن عاصم بن صھيب الواسطي - ضعيف‘‘

’’ عاصم بن علی سے نیچے یہ سند تو ضعیف اور اندھیرہ ہے ، ان میں سے میں کسی ایک کو نہیں جانتا ، اور عاصم کا والد ، علی بن عاصم بن صہیب الواسطی  بھی ضعیف ہے۔ ‘‘

دوسرا طریق ’’عن عمر بن محمد بن الحسين الكرخي: أخبرنا علي بن محمد بن يعقوب البردعي: أخبرنا أحمد بن محمد بن سليمان قاضي القضاة بـ (نوقان) : حدثني أبي: أخبرنا الحسن بن تميم بن تمام عن أنس بن مالك به دون الزيادة، وزاد:".... وأبو بكر وعمر وعثمان سورها، وعلي بابھا ... ".‘‘

اس پر علامہ البانی رحمہ اللہ نے تبصرہ فرمایا: ابن عساکر نے اس کو روایت کرنے کے بعد سند اور متن دونوں لحاظ سے منکر قرار دیا۔ علامہ البانی کہتے ہیں بلکہ باطل روایت ہے اور اس کا بطلان واضح ہے۔

خلاصہ یہ ہے اس باب کی تمام روایات اپنے متابعات و شواہد کے ساتھ صحیح کے درجے تک نہیں پہنچتی بلکہ موضوع ہی ہیں ، اور آخر میں علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس کے متن پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کلام نقل فرمایا کہ یہ روایت متن کے اعتبار سے بھی موضوع ہے چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

" وحديث"أنا مدينة العلم وعلى بابھا"أضعف وأوهى، ولهذا إنما يعد في الموضوعات وإن رواه الترمذي، وذكره ابن الجوزي وبين أن سائر طرقه موضوعة، والكذب يعرف من نفس متنه، فإن النبي صلى الله عليه وسلم إذا كان مدينة العلم، ولم يكن لها إلا باب واحد، ولم يبلغ العلم عنه إلا واحد؛فسد أمر الإسلام. ولهذا اتفق المسلمون على أنه لا يجوز أن يكون المبلغ عنه العلم واحد، بل يجب أن يكون المبلغون أهل التواتر الذين يحصل العلم بخبرهم للغائب، وخبر الواحد لا يفيد العلم بالقرآن والسنن المتواترة. وإذا قالوا: ذلك الواحد المعصوم يحصل العلم بخبره. قيل لهم: فلابد من العلم بعصمته أولا، وعصمته لا تثبت بمجرد خبره قبل أن نعرف عصمته لأنه دور ولا إجماع فيھا. ثم علم الرسول صلى الله عليه وسلم من الكتاب والسنة قد طبق الأرض، وما انفرد به علي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فيسير قليل، وأجل التابعين بالمدينة هم الذين تعلموا في زمن عمر وعثمان. وتعليم معاذ للتابعين لأهل اليمن أكثر من تعليم علي رضي الله عنه، وقدم علي على الكوفة وبھا من أئمة التابعين عدد: كشريح، وعبيدة، وعلقمة، ومسروق، وأمثالهم ‘‘۔

’’ یہ حدیث ضعیف اور کمزور ترین ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے موضوعات میں شمار کیا گیا ہے ، گو کہ اسے ترمذی نے روایت کیا ۔ ابن الجوزی نے اسے ذکر کیا اور اس کے تمام طرق کا موضوع  ہونا بیان کیا۔ اور جھوٹ تو اس کے متن سے ہی معلوم ہورہا ہے کیونکہ اگر نبی اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  شہر علم ہیں ، اور اس کا ایک ہی دروازہ ہے ، نبی کا علم بس اس ایک ہی دروازے سے پہنچتا تو اس طرح اسلام کا معاملہ خراب ہوجاتا، یہی وجہ ہے کہ مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ یہ جائز ہی نہیں کہ نبی اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  سےمبلغِ علم بس ایک ہو،بلکہ ضروری ہے کہ مبلغین بڑی تعداد میں ہوں جن کی خبر سے علم غیر حاضر لوگوں تک پہنچے، اور خبر واحد علم کا فائدہ نہیں دیتی ، (الا یہ کہ دیگر قرائن اس کے ساتھ مل جائیں ،اور جب یہ قرائن موجود نہ ہوں، یا اکثر لوگوں سے مخفی ہوں، تو قرآن یا سنن متواترہ کا علم حاصل نہیں ہوگا۔ )جب وہ یہ کہیں کہ اس واحد معصوم (علی رضی اللہ عنہ) کی خبر سے علم حاصل ہوجائے گا۔ جواب یہ ہے کہ علم کے لیے پہلے عصمت ضروری ہے اور عصمت صرف خبر کے ساتھ ثابت نہیں ہوتی ،جب تک کہ معروف نہ ہو، کیونکہ عصمت گھومتی ہے (باقی ائمہ شیعہ کے بارے میں بھی)اور یہ عصمت اجماع سے ثابت نہیں ، پھر علم الرسول، کتاب و سنت سے پوری زمین میںپھیلا ہوا ہے، اورعلی رضی اللہ عنہ سوائے چند روایات کے اس علم کے بیان میں منفرد نہیں ہیں، اور بڑے بڑے جلیل القدر تابعین نے دور عمر ، دور عثمان میں علم حاصل کیا،سیدنا معاذ کا تابعین اور اہل یمن کو تعلیم دینا سیدنا علی کی تعلیم سے زیادہ ہے، جب علی کوفہ آئے وہاں ائمہ تابعین میں سے ایک تعداد موجود تھی ، جیساکہ شریح ، عبیدہ، علقمہ ، مسروق اور دیگر۔ انتھی [54]

بہرحال ان دس روایات کے بیان پر اکتفا کیاجاتا ہے، ورنہ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ سب سے زیادہ روایات روافض نے اہل بیت اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل اور سیدنا معاویہ وغیرہ کے خلاف گھڑیں، اور جب بغیر تحقیق کے روایات بیان کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ، بس یہیں سے یہ بگاڑ پیدا ہوتا چلا گیا ، جس کا واحد حل صرف صحیح روایات کا انتخاب ، اور صرف ان کتابوں کی طرف رجوع جن میں صحیح روایات کو بیان کیا جاتا ہے ، مثلا ً سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت کے مطالعے کے حوالے سے صحیح روایات پر مبنی چند ایک کتب کی طرف رہنمائی پیش خدمت ہے:

کتب احادیث میں سے صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، مناقب پر مشتمل ابواب موجود ہیں ،جن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی باب ہے، اور وہ صرف صحیح روایات پر مشتمل ہے ، اسی طرح جامع ترمذی میں بھی مناقب کا باب موجود ہے جس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ موجود ہے۔ اور اس کی بھی اکثر روایات صحیح ہیں، اور ضعیف روایات کی محققین کی طرف سے نشاندہی کر دی گئی ہے،

اسی طرح صحابہ کے حوالے سے عربی میں لکھی گئی بنیادی کتب جن میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی الاصابۃ فی تمییز الصحابہ ، ابن الأثیر کی اسد الغابۃ  وغیرہ کا مطالعہ کیا جائے۔

اور اکرم ضیاء العمری کی’’عصر الخلافۃ الراشدۃ‘‘، ڈاکٹر علی محمد الصلابی کی ’’أسمى المطالب في سيرة أمير المؤمنين علي بن أبي طالب‘‘اس کا اردو ترجمہ بھی بنام ’’سیدنا علی رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے ‘‘ دارالسلام سے شائع ہوا،سیف اللہ خالد صاحب کی اردو میں کتاب ’’ سیرت علی المرتضیٰ ‘‘ دارالاندلس سے طبع ہوئی ، یہ بھی بڑی مفید کتاب ہے ۔ ان کتابوں کا مطالعہ کیا جائے اور پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت سے ملنے والے اسباق کو اپنے لیے بھی نمونہ سمجھا جائے اور اسی طرز پر زندگی بسر کی جائے ۔

واللہ ولی التوفیق


 

 



[1] ریسرچ اسكالر المدینه اسلامك ریسرچ سینٹر

[2] سنن ابی داؤد: 4607، جامع ترمذی : 2676، وقال ھذا حدیث حسن صحیح ، سنن ابن ماجہ : 42، علامہ البانی رحمہ اللہ نے فرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔

[3] سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ : 894

[4] تاریخ دمشق : 13/52، تاریخ بغداد:5/318

[5] الموضوعات: 1/370

[6]  تلخیص الموضوعات: 264

[7] لسان المیزان : 588

[8] السلسلۃ الضعیفۃ:1206

[9] حلیۃ الاولیاء:1/86، 4/174

[10] اللآلىء المصنوعة :1/337

[11]  تنزیہ الشریعۃ 1/361

[12] السلسلۃ الضعیفۃ: 893

[13] شرح مشکل الآثار: 2/9

[14] دیکھئے:السلسلۃ الضعیفۃ : 971

[15]  تاریخ دمشق : 42/72

[16] الموضوعات لابن الجوزی:2/12

[17]  اللآلی المصنوعۃ:1/374

[18] الاباطیل والمناکیر:1/329

[19] تنزیہ الشریعۃ : 1/371

[20]  السلسلۃ الضعیفۃ: 4896

[21] تاریخ بغداد: 2/88، تاریخ دمشق : 42/308

[22]  السلسلۃ الضعیفۃ: 4900

[23] میزان الاعتدال ، ترجمۃ مطر

[24]  تھذیب التھذیب، ترجمۃ مطر

[25]  تھذیب التھذیب،ترجمہ مطر

[26] الاباطیل والمناکیر،المجروھین:3/5

[27] الاباطیل والمناکیر :1/329 ،مستدرک حاکم:10/170

[28] الاباطیل والمناکیر :1/329 ،الضعفاء والمتروکین:530

[29] الاباطیل والمناکیر :1/329 ،میزان الاعتدال ترجمہ مطر

[30] الاباطیل والمناکیر :1/329 ،تقریب التھذیب:6703

[31] ( أخرجه ابن عساكر: (16/ 455 - 456) اس میں عمار بن مطر اور ابو حمزۃ الثمالی مجروح ہیں۔ اور صفحہ نمبر (42/ 336) پر ایک اور طریق سے ذکر کیاکہ اس میں عبادہ بن زیادہ ، عمرو بن ثابت اور ابو حمزۃ الثمالی مجروح ہیں۔ اس روایت کو امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں روایت کیا ہے، (22/ 200) ح 526  ، سند وہی ہے۔اور اسے ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء (3/27) میں بیان کیا ہے، اور اس سند میں احمد بن الحسن الکوفی ہے۔

[32] تنزیہ الشریعۃ: 164

[33]  میزان الاعتدال :6004

[34] میزان الاعتدال: 1358

[35] السلسلۃ الضعیفۃ : 4902

[36] مجمع الزوائد : 14702

[37] حلیۃ الاولیاء : 3/27

[38] العلل المتناھیۃ : 378

[39]   تاریخ دمشق : 42/313

[40] الموضوعات :1/370

[41] اللآلی المصنوعۃ :1/325

[42] تنزیہ الشریعۃ :1/385

[43] السلسلۃ الضعیفۃ : 4903

[44] حلیۃ الاولیاء: 1/66

[45] مقاصد الحسنۃ : 1/135

[46] السلسلۃ الضعیفۃ : 4913

[47] مستدرک حاکم : 4681، عن عمران بن حصین و 4682 عن عبداللہ ، حلیۃ الاولیاء : 2/182 ، عن عائشۃ ، تاریخ بغداد: ۔۔۔ عن ابی ھریرۃ

[48]  الموضوعات : 1/358، حدیث نمبر : 13

[49] تفصیل کے لیےدیکھئے: السلسلۃ الضعیفۃ :4702

[50]  جیساکہ صاحب نظم المتناثر (243)نے علامہ سیوطی کے حوالے سے کہا کہ کثرت طرق کی بنا پر وہ اسے متواتر شمار کرتے ہیں

[51] جیساکہ امام حاکم نے صحیح قرار دیا اور اس پر تعاقب کرتےہوئے ،حافظ ذہبی نے تلخیص میں اس روایت کوموضوع قرار دیا۔

[52]  جیسا کہ علامہ شوکانی نےالفوائد المجموعہ میں  یہ بات کہی اور حاشیہ میں اس پر علامہ معلمی نے نقد کرتے ہوئے کہا علامہ شوکانی کا یہ کہنا صحیح نہیں کیونکہ بعض طرق کی حالت پر خود علامہ شوکانی مطلع نہیںہوسکے۔

[53] المعجم الکبیر:11061 ،  المستدرک  علی الصحیحین :4637، 4638 ،عن ابن عباس ،المستدرک علی الصحیحین : 4369، عن جابر ،  جامع ترمذی:۔۔۔ عن علی  و لفظہ أنا دار الحكمة، وعلي بابها  وقال الترمذی : منکر

[54] السلسلۃ الضعیفۃ :2955

Read 1534 times Last modified on پیر, 05 فروری 2018 16:08