بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
پیر, 05 فروری 2018 16:03

فضائل علی رضی اللہ عنہ اور من گھڑت روایات

Written by 

فضائل علی رضی اللہ عنہ اور من گھڑت روایات

 

 

                                        حافظ محمد یونس اثری[1]

 نبی اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ذی شان ہے:’’ فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ‘‘[2]’’ تم پر میری سنت اور خلفاء راشدین جوکہ ہدایت یافتہ ہیں، کی پیروی لازم ہے۔ ‘‘ان خلفاء راشدین میں سب سے پہلے نمبر پر سیدنا ابو بکر صدیق رضی الله عنہ  ، دوسرے نمبر پر سیدنا عمر رضی الله عنہ  ، تیسرے نمبر پر سیدنا عثمان رضی الله عنہ  اور چوتھے نمبر پر سیدنا علی رضی الله عنہ  ہیں، سیدنا علی رضی الله عنہ  کی شخصیت اسلامی تاریخ کا ایک درخشندہ باب ہے، آپ کو جہاں خلیفہ رابع ہونے کا شرف حاصل ہے وہیں آپ کے حصے میں یہ مرتبت بھی آئی کہ آپ رسول اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  کے چچیرے بھائی اور داماد ہیں اور فاتح خیبر ہونے کا شرف بھی آپ کی شخصیت کا ایک ممتاز پہلو ہے۔ سیدنا علی رضی الله عنہ  ان شخصیات میں سے ہیں جنہیں سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں شمار کیا جاتا ہے، مردوں میں سب سے پہلے سیدنا ابو بکر  رضی الله عنہ ، خواتین میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اور بچوں میں سب سے پہلے سیدنا علی  رضی الله عنہ ایمان لائے، اس کے بعد مکی دور جو رسول اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  کے لئے انتہائی کٹھن اور صبر آزما دور تھا ، اس موقع پر ہر آن آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ کھڑے ہوئے، بلکہ ہجرت کی رات سیدنا ابو بکر  رضی الله عنہ کے حصے میں یہ شرف آیا کہ وہ رفیق سفر ِہجرت بنے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حصے میں یہ شرف آیا کہ انہوں نے اس رات نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے بستر پر آرام فرمایا،اور ہجرت کے بعد بھی آپ کبھی جنگوں میں نبی اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آتےہیں ، تو کبھی جنگ تبوک کے موقع پر مدینہ منورہ میں نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے جانشین کی صور ت میں ، کبھی آپ کو نبی اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  نے یمن کے لیے قاضی اور مبلغ کی حیثیت سے منتخب فرمایا تو کبھی فتح خیبر کے لیے عظیم سپہ سالار کی حیثیت سے منتخب فرمایا۔ بہرحال آپ کی شخصیت کے  یہ مختلف جھروکے کتب سیرت اور کتب تاریخ میں بکھرے پڑے ہیں جو کھو ل کھول کر آپ کے فضائل و مناقب  بیان کررہے ہیں۔

ان فضائل و مناقب سےکسی مؤمن کو کوئی انکار ہے نہ ہوسکتا ہے ، البتہ کسی ضعیف ، موضوع یا من گھڑت روایت سے ثابت منقبت کے اہل توحید و حدیث قائل نہیں، اور جس طرح سلف نے اس قسم کی روایات کی حقیقت کو لوگوں کے سامنے کھول کر نکیر بھی کی اور اس قسم کی روایات کے نشر سے گریز بھی کیا، اہل حدیث کا یہی منہج ہے کہ اس قسم کی مرویات جو دور حاضر میں بھی بڑی شدو مد کے ساتھ بیان کی جاتی ہیں اور جھوٹے قصے اور روایات بیان کرکے قصہ گو واعظین اور ذاکرین پیسہ بھی بٹورتے ہیں اور جاہل عوام کی داد بھی۔ لیکن دنیا کے چند ٹکوں کے لیے شریعت کے ساتھ تحریف و تبدیل کا سلوک جو وہ کرتے چلے جاتے ہیں،اس کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی، واضح رہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت جو قطعاً اس بات کی محتاج نہیں کہ اس کے لیے من گھڑت روایات کا سہارا لینا پڑے بلکہ ان کی عظمت تو صحیح ثابت شدہ مرویات میں بھرپور بیان ہوئی ہے۔

علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی کچھ اسی قسم کا تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا:

’’وفضل علي رضي الله عنه أشھر من أن يستدل عليه بمثل هذه الموضوعات، التي يتشبث الشيعة بھا، ويسودون كتبھم بالعشرات من أمثالها، مجادلين بھا في إثبات حقيقة لم يبق اليوم أحد يجحدها، وهي فضيلة علي رضي الله عنه.‘‘ [3]

’’سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت تو اس بات سے کہیں زیادہ مشہور ہے کہ اسے موضوع روایات سے استدلال کرکے بیان کیا جائے ، جنہیں شیعہ نے گھڑا اور اس طرح کی دسیوں مرویات کے ذریعے اپنی کتب کو سیاہ کرکے رکھ دیا۔ اور اس سے اثبات بھی اس حقیقت(سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت) کا کیا جاتا ہے جس سے کسی کو انکار ہی نہیں ‘‘۔

زیرنظر بحث میں ایسی ہی بعض روایات کی تحقیق مقصود ہے تاکہ ان کے بیان اور انہیں عام کرنے سے ہم حد درجہ احتیاط بھی برتیں اور جو لوگ اس قسم کی مرویات بیان کرتے ہیں ان سے بھی محتاط رہیں ۔واضح رہے کہ جیساکہ علامہ البانی  رحمۃ اللہ علیہ  نے اشار ہ کیا کہ فضیلت علی  رضی الله عنہ کے حوالےسے بکثرت من گھڑت روایات موجود ہیں ،سب کا احاطہ مقصود نہیں بلکہ ہم یہاں صرف دس روایات کا تذکرہ کررہے ہیں۔

پہلی روایت:

عن ابن عباس قال:قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم):’’حب علي يأكل الذنوب كما تأكل النار الحطب‘‘۔[4]

 ابن عباس  رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ علی کی محبت گناہوں کواس طرح کھاجاتی ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھاجاتی ہے‘‘۔

حکم :

اس کی سند میں احمد بن شبویہ مجہول ہے اور محمد بن مسلمۃ ضعیف ہے۔

خطیب بغدادی یہ روایت درج کرنے کے بعد فرماتے ہیں:’’رجال إِسْنَاده بعد مُحَمَّد بن مسلمة كلهم معروفون ثقات، والْحَدِيث بَاطِل مركب عَن هَذَا الْإِسْنَاد ‘‘۔

’’ اس کی سند میں محمد بن مسلمہ کے بعد سب کا ثقہ ہونا معروف ہے ، یہ حدیث باطل ہے اور اس سند سے بنائی ہوئی ہے‘‘۔

علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ اسے موضوعات میں لائےہیں۔ [5]

حافظ ذہبی  رحمۃ اللہ علیہ نےاس روایت کو باطل قرار دیا۔ [6]

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : ’’ومحمد بن مسلمة سيأتي ترجمته وإنه ضعيف والراوي عنه أحمد بن شبويه هذا مجهول فالآفة من أحدهم‘‘[7]

’’ محمد بن مسلمہ کا ترجمہ عنقریب آرہا ہے اور وہ ضعیف ہے اور اس سے روایت کرنے والا احمد بن شبویہ مجہول ہے آفت ان میں سے کسی ایک کی طرف سے ہے۔ ‘‘

علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ  نے اس روایت کو باطل قرار دیا۔[8]

دوسری روایت:

عن حذيفة، قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"من سره أن يحيا حياتي، ويموت ميتتي، ويتمسك بالقصبة الياقوتة التي خلقھا الله بيده ثم قال لها: كوني، فكانت، فليتول علي بن أبي طالب من بعدي " [9]

حذیفہ رضی الله عنہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ جسے یہ پسند ہوکہ وہ میری زندگی جیئے اور میری موت مرے، اوریاقوت سے مرصع موتی حاصل کرے جسے اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا پھر اسے کہا ہوجا ، وہ ہوگیا۔ اسے چاہئے کہ وہ میرے بعد علی کو دوست بنائے‘‘۔

حکم :  

علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ  نےاس کی سند میں موجود محمد بن زکریا الغلابی کو متہم قرار دیاہے۔[10]

ابن عراق الکنانی  رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی اس کی سند میں موجود محمد بن زکریا الغلابی کو متہم قرار دیا۔[11]

 

علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ  نے اس روایت کو السلسلۃ الضعیفۃ میں درج کیا اور موضوع قرار دیا۔علامہ البانی  رحمۃ اللہ علیہ  نے شریک بن عبداللہ القاضی پر جرح نقل کی کہ ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میرے والد نے اس کی حدیث کو چھوڑ دیا تھا۔ اس کی سند میں موجود ایک اور شخص محمد بن زکريا الغلابی کو اس حدیث کی اصل آفت قرار دیا اور امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ  سے نقل کیا کہ یہ حدیث گھڑتا تھا ، حافظ ذہبی  رحمۃ اللہ علیہ نے اسے متہم قرار دیا۔[12]

تیسری روایت:

ایک روایت عام طور پر بیان کی جاتی ہےکہ خیبر کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عصر کی نماز نکل گئی ، اور وجہ یہ تھی کہ نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گود میں سورہے تھے اور انہوں نے نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  کو اٹھانا مناسب نہ سمجھا اسی حال میں سورج غروب ہونے کا وقت ہوگیا، نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  بیدار ہوئے تو دعا کی:

’’اللّهم إنه كان في طاعتك وطاعة رسولك فاردد عليه الشمس‘‘۔[13]

’’ اے اللہ ! علی  رضی الله عنہ تیری اورتیرے نبی کی اطاعت میں بیٹھے رہے لہٰذا تو دوبارہ سورج کولوٹا دے‘‘ 

اور سورج دوبارہ واپس ہوا اور پھر نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  اورسیدنا علی نےعصرکی نماز ادا کی۔

حکم :

مختلف طرق سے یہ روایت مختلف کتب میں موجود ہے لیکن تمام طرق ہی اس کےموضوع درجے کے ہیں، حافظ ذہبی ، ابن الجوزی ، علامہ سیوطی، شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور علامہ البانی رحمہم اللہ نے اسے موضوع قرار دیاہے۔[14]

                                                                                   


                                                                                   

 

چوتھی روایت:

’’يا عمار بن ياسر! إن رأيت علياً قد سلك وادياً وسلك الناس وادياً غيره؛ فاسلك مع علي؛ فإنه لن يدلك على ردى، ولن يخرجك من هدى‘‘۔[15]

’’ نبی اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  نے عمار بن یاسر سے فرمایا: اے عمار بن یاسر! اگر تم دیکھو کہ علی ایک راہ پر ہیں اور باقی لوگ دوسری راہ پر تو تم علی کے ساتھ چلنا، کیونکہ وہ تمہیں کی ہلاکت کی طرف رہنمائی نہیں کریں گے اور نہ ہی تمہیں ہدایت سے نکالیں گے‘‘۔

حکم:

امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا: ’’هَذَا حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ بِلا شَكٍّ‘‘[16]یعنی یہ حدیث بلا شک و شبہ موضوع ہے۔ مزید معلی بن عبدالرحمٰن کے بارے میں جرح نقل کی کہ ابن المدینی رحمہ اللہ نے کہا کہ وہ حدیث گھڑتا تھا، ابوحاتم رازی نے کہا: متروک ہے، ابو زرعہ نے کہا کہ ذاھب الحدیث ہے۔

اس کی سند کے ایک اور راوی احمد بن عبداللہ المؤدب کےبارےمیں جرح نقل کی کہ ابن عدی نے کہا کہ یہ حدیث گھڑتا تھا، امام دارقطنی نے کہا کہ متروک الحدیث ہے۔

اور پھر اس کے دیگر طرق کی حقیقت بھی کھول دی۔

علامہ سیوطی  رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ’’ مَوْضُوع: والمعلى مَتْرُوك يضعُ وَأَبُو أَيُّوب لَمْ يشْھد صفّين‘‘  [17]یعنی یہ حدیث موضوع ہے ، معلی متروک ہے ، احادیث گھڑتا تھا، اور ابو ایوب تو جنگ صفین میں موجود ہی نہیں تھے۔


 

امام جورقانی  رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:’’هذا حديث موضوع لا شك فيه‘‘[18]اس حدیث کے موضوع ہونے میں کوئی شک نہیں۔

ابن العراق الکنانی بھی اسے تنزیہ الشریعۃ میں لائے۔[19]

علامہ البانی  رحمۃ اللہ علیہ  نے موضوع قراریاہے۔[20]

پانچویں روایت:

نبی اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: 

’’أنا وهذا (يعني: علياً) حجة على أمتي يوم القيامة‘‘۔[21]

’’ میں اور علی رضی اللہ عنہ قیامت کے دن اپنی امت پر حجت ہوں گے‘‘۔

حکم :

 علامہ البانی  رحمۃ اللہ علیہ نے موضوع قرار دیا۔[22]

اس کی سند میں ایک راوی مطر بن ابی مطر ہے جس کو  امام بخاری ، ابوحاتم ، نسائی نے منکر الحدیث قرار دیا۔[23]

ازدی نے متروک قرار دیا۔[24]

ساجی نے منکر الحدیث قرار دیا۔  [25]

ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں: ’’كان ممن يروي الموضوعات عن الاثبات،يروي عن أنس ما ليس من حديثه في فضل علي بن أَبي طالب وغيره،لا تحل الرواية عنه‘‘۔[26]

’’ یہ ان راویوں میں سے ہےجو ثقہ راویوں سے موضوع روایات بیان کرتے ہیں ، انس سے علی بن ابی طالب کی فضیلت کے بارے میں وہ روایت بیان کرتا ہےجو ان کی حدیث نہیں ، اس سے روایت لینا جائز نہیں‘‘۔

امام حاکم فرماتے ہیں:’’يضع الْأَحَادِيث فِي الْفَضَائِل فيرويھا عَن أنس بن مَالك‘‘ [27]

’’فضائل میں احادیث گھڑکے انس بن مالک سے بیان کرتا ہے‘‘۔

امام دارقطنی  رحمۃ اللہ علیہ نے اسے الضعفاء والمتروکین میں درج کیا ہے۔ [28]

حافظ ذہبی  رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد اسے باطل قرار دیا۔[29]

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نےاسے متروک قرار دیا.[30]

چھٹی روایت:

’’لما أسري بي؛ رأيت في ساق العرش مكتوباً: لا إله إلا الله، محمد رسول الله صفوتي من خلقي، أيدته بعلي ونصرته‘‘۔[31]

’’جب مجھے اسراء کروائی گئی میں نے عرش کے نیچےلکھا دیکھا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، محمد اللہ کے رسول ہیں اور مخلوق میں سے چنے ہوئے ہیں اورمیں نے علی کے ذریعے ان کی مدد کی ہے‘‘۔

حکم :

ابو الحمرا ء سے مروی یہ حدیث تاریخ دمشق لابن عساکر میں دو جگہ موجود ہے،  ایک جگہ (16/455، 456) پر یہ روایت ’’۔۔۔حدثنا عمار بن مطر حدثنا عمر بن ثابت عن أبي حمزة الثمالي عن سعيد بن جبير عن أبي الحمراء قال قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم)۔۔۔۔الخ ‘‘کی سند سے موجود ہے ۔

اس سند سے بھی یہ روایت موضوع کے درجے کی ہے ، جیسا کہ ابن عراق الکنانی نے اس سند میں موجود دو راوی عما ر بن مطر اور ابو حمزہ الثمالی پر جرح کی کہ یہ رافضی ہیں ، ثقہ نہیں ہیں۔ [32]

عمار بن مطر

حافظ ذہبی  رحمۃ اللہ علیہ نے یہ اشارہ کرتے ہوئے کہ بعض نے اس کی توثیق اور بعض نے اس کا حفظ بیان کیا ہے ،اس کے بعد کئی ایک اقوال جو اس پر جرح کے حوالے سے ہیں ، نقل کیے :

حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا: ھالک

ابن حبان فرماتے ہیں:’’ کان یسرق الحدیث ‘‘ یعنی یہ احادیث چراتا تھا۔

عقیلی فرماتے ہیں : ثقات سے اکثر مناکیر بیان کرتا ہے۔

ابو حاتم الرازی فرماتے ہیں : جھوٹ گھڑتا تھا۔

ابن عدی کہتے ہیں : اس کی احادیث باطل ہیں۔

دارقطنی فرماتے ہیں:یہ ضعیف ہے۔[33]


 

 

ابو حمزۃ الثمالی

اس کا نام ثابت بن ابی صفیۃ ہے ، اس کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ کے ذکر کردہ اقوال درج کیے جاتے ہیں۔

امام احمدفرماتے ہیں: لیس بشئی

امام ابن معین فرماتے ہیں: لیس بشئی

امام ابو حاتم فرماتے ہیں: لین الحدیث

امام نسائی فرماتے ہیں: لیس بثقۃ

حافظ ذہبی کہتے ہیں کہ سلیمانی نے اسے روافض میں سے شمار کیا ہے۔  [34]

اس کے بارے میں بحوالہ السلسلۃ الضعیفۃ  کلام آگے آرہا ہے۔

یہ حدیث تاریخ دمشق میں دوسری جگہ (42/336) ’’حدثنا إبراهيم بن هانئ النيسابوري حدثنا عبادة بن زياد الأسديحدثنا ناعمرو بن ثابت بن أبي المقدام عن أبي حمزة الثمالي عن سعيد بن جبير عن أبي الحمراء خادم رسول الله (صلى الله عليه وسلم) قال سمعت رسول الله (صلى الله عليه وسلم)۔۔۔۔الخ ‘‘ کی سند سے موجود ہے ۔

اس سند پر علامہ البانی رحمہ اللہ نےروایت کو موضوع قرار دیتے ہوئے تین راویوں عبادۃ بن زیاد الاسدی، عمرو بن ثابت اور ابو حمزۃ الثمالی پر جرح نقل کی  ، جن کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے ۔

ابو حمزۃ الثمالی :

امام دارقطنی فرماتے ہیں: متروک

امام ابن حبان فرماتے ہیں : احادیث میں کثیر الوھم ہے ، حتی کہ جب یہ منفرد ہو تو قابل احتجاج نہیں اور یہ غالی شیعہ ہے۔(مزید اس پر حافظ صاحب کا نقل کردہ کلام گزر چکا۔ )

عمرو بن ثابت :

امام ابن معین فرماتے ہیں : لیس بشئی اور ایک مقام پر لیس بثقۃ ولا مأمون

امام نسائی فرماتے ہیں : متروک الحدیث

امام ابن حبان فرماتے ہیں: موضوع روایات بیان کرتا ہے۔

امام ابو داؤد فرماتے ہیں: یہ رافضی، خبیث ہے۔

عبادۃ بن زیاد:

یہ بھی شیعہ ہے ، لیکن مختلف فیہ قرار دینے کے بعد اصل آفت اسے قرار نہیں دیتے۔[35]

اسی سند سے یہ روایت المعجم الکبیر میں بھی ہے اور المعجم الکبیر کے حوالے سے علامہ ہیثمی نے اسے نقل کیا اور عمرو بن ثابت پر متروک ہونے کی جرح کی ،[36]لہذا اس سند کا حکم بھی موضوع کا ہے۔

یہ روایت حلیۃ الاولیاء میں’’۔۔۔ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْكُوفِيُّ، قَالَ: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ۔۔۔الخ ‘‘ کی سند سے ہے [37]جو مذکورہ بالا دونوں سندوں سے مختلف ہے ،ابو نعیم اس روایت کے ذکر کے بعد فرماتے ہیں :’’غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، لَمْ نَكْتُبْهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ‘‘یعنی یہ یونس بن عبید عن سعید کے طریق سے غریب ہےہم نے اسے صرف اسی سند کے ساتھ لکھا ہے ، گویا کہ ابو نعیم رحمہ اللہ اشارہ فرمارہےہیں کہ باقی اسانید لکھنے کے قابل نہ تھیں۔لیکن جس سند سے ابو نعیم لائے ہیں اس میں بھی احمد بن الحسن الکوفی ہے ، جیساکہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس روایت کو حلیۃ الاولیاء کے طریق سے نقل کرکے احمد بن الحسن الکوفی کے بارے میں ابن حبان کی جرح نقل کی کہ یہ موضوع روایات بیان کرتا ہے اور دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے متروک قرار دیا۔ اورخود بھی علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس روایت کو لایصح قرار دیا۔لہذا  اس سند کے ساتھ بھی یہ موضوع کے درجے کی ہے۔ [38]

ساتویں روایت:

’’من أراد أن ينظر إلى آدم في علمه،وإلى نوح في فھمه، وإلى إبراهيم في حلمه،وإلى يحيى بن زكريا في زهده، وإلى موسى بن عمران في بطشه؛ فلينظر إلى علي بن أبي طالب‘‘  [39]

جو آدم کا علم ، نوح کا فہم ، ابراہیم کا حلم ، یحی بن زکریا کا زہد ، موسی بن عمران کی طاقت کو دیکھنا چاہے تو وہ علی کو دیکھ لے۔

علامہ ابن الجوزی نےاسے موضوع قرار دیا۔ [40]

علامہ جلال الدین سیوطی نے اس حکم کو برقرار رکھا، البتہ بعض طرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’(قلت) لَهُ طَرِيق آخر عَن أبي سَعِيد قَالَ ابْن شاهين قَالَ الديلمي أَخْبَرَنَا أبي حَدَّثَنَا عَلِيّ بْن دُكَيْن القَاضِي حَدَّثَنَا عَلِيّ بْن مُحَمَّد بْن يُوسُف حَدَّثَنَا الْفضل الْكِنْدِيّ حَدَّثَنَا عَبْد الله بْن مُحَمَّد بْن الْحَسَن مولى بني هَاشم بِالْكُوفَةِ حَدَّثَنَا عَلِيّ بْن الْحُسَيْن حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْن أبي هَاشم النَّوْفَلِي حَدَّثَنَا عَبْید الله بْن مُوسَى حَدَّثَنَا الْعَلَاء عَن أبي إِسْحَاق السبيعِي عَن أبي دَاوُد مقنع عَن أبي الْحَمْرَاء بِهِ وَورد عَن أبي سَعِيد قَالَ ابْن شاهين فِي السّنة حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْن الْحُسَيْن بْن حميد بْن الرّبيع حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْن عمرَان بْن حجاج حَدَّثَنَا عُبَيْد الله بْن مُوسَى عَن أبي رَاشد يَعْنِي الْحمانِي عَن أبي هَارُون الْعَبْدي عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا حَوْلَ النَّبِيِّ فَأَقْبَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فأدام رَسُول الله النَّظَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى آدَمَ فِي عِلْمِهِ


 

وَإِلَى نُوحٍ فِي حُكْمِهِ وَإِلَى إِبْرَاهِيمَ فِي حِلْمِهِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا وَالله أعلم.‘‘[41]

ابن عراق الکنانی نے بھی اس حکم کو برقرار رکھا البتہ ابن عباس والے شاھد کو کچھ اس طرح بیان کیا: ’’ (قلت) ومن حديث ابن عباس قال ابن بطة ثنا أبو ذر أحمد بن الباغندي ثنا أبي عن مسعر بن يحيى عن شريك عن أبى اسحق عن أبيه عن ابن عباس مرفوعا: " من أراد أن ينظر إلى آدم في علمه وإلى نوح في حكمته وإلى إبراهيم في خلته فلينظر إلى علي، " وقال الذهبي في الميزان: مسعر بن يحيى النھدي لا أعرفه وخبره منكر انتھى، وأبو الحمراء، قال البخاري: يقال له صحبة ولا يصح حديثه والله أعلم. ‘‘ ۔ [42]

السلسلۃ الضعیفۃ میں علامہ البانی نے اس روایت کو موضوع قرار دیتے ہوئےعلامہ سیوطی رحمہ اللہ اور ابن العراق کے بیان کردہ طرق کا جائزہ بھی پیش کردیا۔جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے :

  پہلی سند جس میں عبیداللہ بن موسی کے شاگرد محمد بن مسلم بن وارہ ہیں ، اس سند میں عبیداللہ کا استاذ ابو عمرو الازدی متروک ہے۔

دوسری سند جس میں عبیداللہ بن موسی کا شاگرد محمد بن ابی ہاشم النوفلی ہے، اس میں عبیداللہ بن موسی کا استاد علاء ہےاور وہ روایت کرتے ہیں ابو اسحاق السبیعی سے اور ان کا استاد ابو داؤد مقنع کو حافظ ابن حجر نے متروک اور ابن معین نے کذاب قرار دے رکھا ہے ، لہذا یہ سند بھی موضوع ہوئی۔

تیسری سند میں عبیداللہ بن موسی کا شاگرد محمد بن عمران بن حجاج ہے، اور عبیداللہ بن موسی کے استاد ابو راشد الحمانی روایت کرتے ہیں کہ ابو ھارون العبدی سے ، وہ ابوسعید خدری سے۔ اس سند میں ابو ھارون العبدی جس کا نام عمارۃ بن جوین شیعہ تھا، متروک راوی ہے، بعض نے کذاب بھی کہا۔ لہذا یہ سند بھی موضوع کے درجے کی ہے۔[43]

خلاصہ یہ ہے کہ اس مفہوم کی تمام اسانید خواہ ابو حمراء سے مروی ہوں یا ابو سعید سے یا ابن عباس سے یا انس سے سب موضوع کے درجے کی ہیں۔

 آٹھویں روایت:

’’يا علي! لك سبع خصال، لا يحاجك فيھن أحد يوم القيامة: أنت أول المؤمنين بالله إيماناً، وأوفاهم بعھد الله، وأقومهم بأمر الله، وأرأفھم بالرعية، وأقسمهم بالسوية، وأعلمهم بالقضية، وأعظمهم مزيةً يوم القيامة‘‘۔[44]

’’ اے علی ! تیری سات خصلتیں ہیں قیامت کے دن ان کے بارے میں تجھ سے کوئی جھگڑا نہیں کرے گا۔ تو سب سے پہلے ایمان لانے والا ہے، اور اللہ کے عہد کو سب سے زیادہ پورا کرنے والا ہے اور اللہ کے امر کو سب سے زیادہ قائم کرنے والا ہے اور رعیت سے سب سے زیادہ پیار کرنے والا ہے، اور سب سے زیادہ برابر تقسیم کرنے والا، اور معاملے کو سب سے زیادہ جاننے والا اور قیامت کے دن خصوصیت و مرتبہ کے لحاظ سے سب سے زیادہ اعظم ہوگا‘‘۔

اس روایت کی سند میں ع