بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
بدھ, 28 فروری 2018 16:22

دکھوں،غموں اور پریشانیوں کا علاج قرآن و سنت کی روشنی میں

Written by  محمد کامران یاسین

دکھوں،غموں اور پریشانیوں کا علاج قرآن و سنت کی روشنی میں!

(جمع و ترتیب)محمد کامران یاسین[1]

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على هادي الأنام وخاتم الأنبياء والمرسلين نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين، ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين، أما بعد:

اس حقیقت سے کوئی انسان انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا میں ہر امیر غریب،نیک و بد کو قانون قدرت کے تحت دکھوں،غموں اور پریشانیوں سے کسی نہ کسی شکل میں ضرور واسطہ پڑتا ہے،اس کا سبب یہ ہے کہ یہ دنیا دارالعمل اور امتحان گاہ ہے، انسان یہاں آزمائش کے لئے بھیجا گیا ہے۔ اسے آزادی سے نیکی اور بدی کرنے کی قوت دی گئی ہے جسے بروئے کار لا کر وہ نیکی کی صورت میں اجر و ثواب اور نافرمانی کی صورت میں عذاب و سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔

غربت و تنگدستی اور امارت و خوشحالی بھی، اس دنیا کے دارالعمل ہونے کا ایک حصہ ہے۔ یہاں دو قسم کے لوگ بستے ہیں، ایک وہ جو آسودہ حال اور دولت مند ہیں اور ہر قسم کی آسائش و آرام سے بہرہ ور ہیں۔ دوسرے وہ جو غریب و مفلوک الحال ہیں اور زندگی کی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ مصائب و آلام انہیں ڈستے رہتے ہیں اور وہ زندگی یوں گزارتے ہیں جیسے دکھوں کے منوں بوجھ تلے دبے ہوئے ہوں اور اس بوجھ میں تخفیف کے آثار بھی دکھائی نہ دیتے ہوں۔

انسان کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتا ہو، اسے دکھوں سے مفر نہیں، یہ الگ بات ہے کسی کو کم اور کسی کو زیادہ دکھوں سے واسطہ پڑتا ہے اور زندگی اسے پہاڑ نظر آنے لگتی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ مصائب و آلام سے چھٹکارا حاصل کر ے مگر وہ اس طرح گلے کا ہار بن جاتے ہیں کہ روایتی کمبل کی طرح چھوڑنے کا نام نہیں لیتے۔ گلے کا ہار بننے والے ان دکھوں کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا، کسی بھی پہلو سے وہ زندگی کے لئے عذاب بن سکتے ہیں۔ مسلسل ناکامیاں اور حوصلہ شکن محرومیاں انہیں جنم دیتی ہیں اور غم کے اندھیرے غاروں میں جاگراتی ہیں۔ اقتصادی بدحالی، معاشرتی ناہمواری، عدم مساوات، ظلم و ستم، ناانصافی اور ریاستی جبر بھی اس کے اسباب میں سے ہیں، جس سے انسان کا ذہنی توازن بگڑ جاتا ہے اور جسمانی قوت اس طرح متاثر ہوتی ہے کہ وہ صدیوں کا بیمار نظر آنے لگتا ہے۔ اس دکھ بھری دنیا کے سمندر میں تنکے کی طرح بہنے کے باوجود انسان ہاتھ پاؤں ضرور مارتا ہے اور یہ کوشش کرتا رہتا ہے کہ دکھوں سے نجات پالے اور غموں کے بھنور سے باہر آ جائے۔

واضح رہے کہ مصیبتوں اور دکھوں کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں ۔ایک نفسیاتی اور روحانی ، دوسری جسمانی اور بیرونی ذیل میں نفسیاتی اور روحانی پریشانیوں کا بالتفصیل ذکر کرنا چاہوں گا۔

نفسیاتی پریشانیاں:نفسیاتی پریشانیوں سے مراد وہ تمام نفسیاتی امراض اور جلد اثر کر جانے والے جذبات ہیں جن کی وجہ سے انسان اپنا توازن اور خود پہ کنٹرول کھو بیٹھتا ہے۔اگر چہ اس طرح کی پریشانیاں بہت زیادہ ہیں اور ان پر علیحدہ علیحدہ بالتفصیل بحث ہو سکتی ہے لیکن ہم ان میں سے صرف انہی کا ذکر کریں گے جن کا عام طور پر لوگ شکار ہوتے ہیں۔

الهم:(پریشانی)

انسان کا معمولی و غیر معمولی چیزوں کے بارے مسلسل پریشان رہنا ’الہم‘ کہلاتا ہے ۔ بعض اوقات  یہ پریشانی مستقبل میں درپیش چیلنجز اور مسئولیت کے بارہ میں ہوتی ہے ۔یہ ایسا نفسیاتی مرض ہے جو شیطان انسان کے دل میں وسوسوں کی صورت میں ڈالتا ہے اور اسک کےروز مرہ کے معمولات کو 'اگرچہ وہ چھوٹے ہی کیوں نہ ہوں، ایک پہاڑ کی صورت میں پیش کرتا ہے ۔یہ پریشانیاں انسان کو کمزور کردیتی ہیں اور انسان حوادثات زمانہ میں پھنس کر رہ جاتاہے ،خصوصاََجب انسان اپنے خالق حقیقی سے کٹ جائے ، سنت نبوی سے اپنے مسائل کا حل تلاش نہ کرے اور اپنے ازلی دشمن کی پیروی کرے تو اللہ تعالیٰ انسان کو ان پریشانیوں کے ذریعے آزماتاہے تا کہ انسان معصیت کو چھوڑتے ہوئے رجوع الی اللہ کرے اور اپنے پیدا کرنے والے کی رضا و منشاکے مطابق چلے ۔

حزن: (غم)

اسے ماہرین نفسیات کی اصطلاح میں’کآبہ‘کےنام سے پہچاناجاتا ہے۔ یہ لفظ اکثر ان غموں پر بولا جاتا ہے جو کسی معین حادثہ کی پیش آنے کی وجہ سے لگ جاتے ہیں یا کئی حادثات کا نتیجہ ہوتے ہیں جیسے اپنے کسی عزیز کی گمشدگی ،مالی خسارہ ،طویل مرض کا لگ جانا یا نامناسب سوسائٹی کے ساتھ رہنا پڑجائے۔ان کے علاوہ اور بھی بہت سے اسباب ہوتے ہیں جو انسان کے ہاں اس طرح کے غم کو پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ، یہ ایک طبعی وفطری معاملہ ہے چنانچہ جب اس کے اسباب پائے جائیں گے تو یہ صورت حال ضرور پیدا ہو گی ۔ تقریباً ہر انسان اس میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ایسے میں ان غموں سے چھٹکا را صرف قرآنی احکامات اورسنت نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ممکن ہے ۔ اسوۂ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ایسی ہی رہنمائی ہمیںاس وقت ملتی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے لخت جگر کی وفات ہوئی۔ اس حادثے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے گہرا اثر لیتے ہوئے فرمایا تھا، اے ابراہیم !تیری جدائی نے اتنا غمگین کردیا ہے کہ آنکھیں بہہ رہی اور دل افسردہ ہے لیکن ہم زبان سے صرف وہی کہتے ہیں جس سے ہمارا رب راضی ہو ۔

القلق :(اضطراب و بےچینی ڈپریشن)

ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ انسان کا کسی مخفی اور غیر معروف چیز کے اپنے اوپر واقع ہونے کا خوف محسوس کرنا قلق ( اضطراب ) کہلاتاہے ۔ قلق ایک ایسی نفسیاتی بیماری ہے جو کسی کو بھی لاحق ہوتی ہے تو وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے ، نہ خود میں ٹھہراؤ اور نہ ہی اپنے ماحول میں امن پاتا ہے ،بلکہ ایسے شخص میں ہمہ وقت اضطراب اور طبیعت میں کشیدگی و کھینچاؤ کی کیفیت رہتی ہے ۔ یہ تکلیف عموماََکسی غیر مانوس چیز کو دیکھنے ، اچانک حملے یا اخلاقیات سے گرے ’’جواری ، شراب نوش،دھوکے باز ‘‘ رفقاء کے ملنے اور غیر محفوظ مستقبل کا خوف دامن گیر ہونے والے شیطانی وسوسوں سے جنم لیتی ہے۔ یہ چیزیں انسان میں اندرونی کوتاہیوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ ان کی وجہ سے انسان اوران شیطانی وسوسوں کے درمیان ایک ذہنی کشمکش شروع ہو جاتی ہے جن پر شیطان کو موقع ہاتھ آتا ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرتا ،بھٹکاتا ،شکوک و شبہات اور ذہنی ،فکری و نفسیاتی ٹکراؤ پیدا کرتاہے۔ظاہر بات ہے ان قوتوں پر شیطان کو غلبہ دے دیا گیا ہے ۔

الخوف :(ڈر)

بعض ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ خوف ایک ایسی کیفیت کانام ہے جس میں انسان نفسیاتی بےچینی اور اعصابی تناؤ محسوس کرتا ہے۔عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔مسلسل خوف و ہراس کی کیفیت میں رہتے ہوئے انسان سرکش ہو جاتا ہے۔ حالات سے بےگانہ ہو جاتا ہے۔

واضح رہے کہ خوف کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ایک ایجابی و مثبت اور دوسرا سلبی و منفی کا نوعیت کا خوف۔

مثبت یہ ہے کہ اللہ کے عذاب و سزا کا خوف ہو۔ یہ ہر انسان کے لئے ضروری اور مطلوب ہے ۔بلکہ یہی وہ خوف ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ عبادت صرف اللہ کی کر نی چاہیے۔ یہ انسان کی زندگی میں رویے کی اصلاح کرتا ہے۔ فرد اور معاشرے کے باہمی تعلق میں توازن بھی اسی سے ممکن ہے۔ مومنین کو اللہ تعالیٰ نے اسی صفت ِ خوف سے متصف کیا ہے۔

اور منفی نوعیت کا خوف وہ ہوتا ہے جس میں غیر اللہ سے ڈرا جائے۔یا اطاعت الہٰی میں مانع ہو یا جس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے انسان اللہ کی نافرمانی مول لےبیٹھتا ہے۔جیسے جادوں گروں اور دجالین کا خوف۔

فطری اور پیدائشی خوف کی ایک تیسری قسم بھی بنائی گئی ہے ،یعنی وہ خوف جو بذات خود مثبت یا منفی میں سے کسی نوعیت کا بھی حامل نہیں جیسے وہ انسان جو اندھیروں کا عادی نہیں ہوتا اسے تاریکیوں سے ڈر لگنا شروع ہو جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ تاہم خوف کی یہ نوعیت اگرچہ بذات خود تو معصیت کے ارتکاب اور ترک اطاعت میں کوئی دخل نہیں رکھتی لیکن اگر یہی صورت بندے کے لئے کسی فعل معصیت میں مانع ہو جائے یا کسی فعل اطاعت کا موجب بن جائے تو یہ بھی مثبت اور منفی ہو جاتی ہے۔

اسی طرح خوف کی متعدد صورتیں ہیں جیسا کہ موت کا خوف ،لوگوں کا ڈر ،کسی بیماری کا خوف ،فقروغربت کا خوف اورغیر محفوظ مستقبل کا خوف ان کے علاوہ متعدد ایسے اسباب و موثرات ہیں جو انسان میں خوف کو جنم دیتے ہیں۔

الیأس:(مایوسی)

مایوسی اس ذہنی کیفیت کو کہتے ہیں جس میں انسان اس وقت مبتلا ہوتا ہے جب وہ اپنی آرزوں کے ناموافق حالات پاتا ہے۔یہ امید کے بر عکس ہے ، ناامیدی ایک ایسا مرض ہے کہ جسے ہمیشہ منفی صورت میں اثر انداز ہونے والی پریشانی خیال کیا جاتاہے ۔اس سے پستیاں مقدر بنتی ہیں ۔مایوس انسان زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے چلا جاتاہے ۔ وہ غوروفکر کی صلاحیت کھوبیٹھتا ہے۔ اس سے انسانی آزادی ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔مایوسی سے ترقی و ایجادات اور حصول مقاصد میں بہت بڑی رکاوٹ آکھڑی ہوتی ہے۔مایوس انسان کا شیطان متلاشی ہوتا ہے ۔ اس کے ملنے سے شیطان کی فرحت و سرور کی کوئی انتہاء نہیں رہتی۔ پھر وہ ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے۔ جن پہلوؤں سے وہ غالب ہوتے ہیں انہیں خوشنما بنا کر پیش کرتا ہے۔ تاکہ یہ اپنے سارے نظام زندگی میں ان کے تابع ہو جائیں۔دشمنان اسلام کو ایک سپر طاقت کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ ان کی عقل و فکر اور صنعتی ترقی کو بڑا چڑھا کردکھاتا ہے۔ یہاں تک کہ مایوسیوں کے مارئے ہوئے لوگ پکا راٹھتے ہیں’’ہم ان ترقی یافتہ قوموں کے ہم پلہ کیسے ہوسکتے ہیں ہماری حالت اور ان کی حالت کےکیسے برابر ہو سکتی ہے؟ یہ ایسی بڑی پریشانی اور خطرناک مرض ہے جسکی وجہ سے مسلمانوں کے بڑے بڑے لشکر بھی پاؤں تک روند دیے گئے‘‘ ۔

ان تمام آلام ومصائب سے نکلنے کے عموماً دو رستے اختیار کیے جاتے ہیں ان میں پہلا ذریعہ صرف اور صرف توجہ الی اللہ ہے اور یقین کامل رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہر قوت پر غالب ہے ، ہر سرکش پر ہاوی ہے ، یہ اسی کی شا ن ہے کہ اس کی ملکیت و بادشاہت پر کوئی غالب نہیں آسکتا ، اس کائنا ت میں کچھ بھی ایسا نہیں کہ اس کے امر اور حکمت کے بغیر حرکت کرسکے ،جب اس درجہ کا ایمان و یقین انسان کو حاصل ہوتا ہے تو ان پریشانیوں کی تکالیف اور ان کے اثر و رسوخ سے خود کو آزاد کر سکتاہے ، عالم یکسوئی اور عالم شجاعت کی منازل کو طے کرسکتاہے ۔ چنانچہ وہ بے خوف ہوکر محنت کرتا ہے۔ مشقت اٹھاتا ہے۔حالات بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔کیونکہ وہ اپنی زندگی کو ایک ایسی ذات سے منسلک کر لیتاہے جو ہر چیز پر غالب اور سخت گیر ہے۔

اور دوسرا رستہ جو اختیار کیا جاتا ہےوہ سراسر شریعت کے خلاف بھی ہے اور بلکہ مزید پریشانی کا باعث بھی ہے آپ آئے دن اخباروں میں پڑہتے رہتے ہیں کہ فلاں شخص نے نوکری نہ ملنے کی وجہ سے خود کشی کرلی،فلاں دوشیزہ نے محبت کی ناکامی میں اپنی جان دے دی،فلاں آدمی بیماری سے تنگ آکر پنکھے سےلٹک گیاالغرض بے شمار قسم کے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں اور بہت سے مسلمان کلمہ پڑھنے والےبسا اوقات تھوڑی سی پریشانی کی وجہ سے موت کو گلے لگا لیتے ہیں اور ہمیشہ کے لیے جہنم چلے جاتے ہیں یا پھرنشہ آور اشیاء کے استعمال اور حرام کاریوں کے ذریعہ اس غم اور اضطراب کو ختم کرنے یا کم کرنے کی سعی لاحاصل کی جاتی ہے ۔

میرے بھائیو اور قابل احترام بہنو!یہ دنیا مصیبتوں ،پریشانیوں اور غموں کا گھر ہے،بعض لوگ اولاد کی نافرمانی کی وجہ سے پریشان بعض خواتین اپنے خاوند کی بے راہ روی کے متعلق غمگین رہتی ہیں، کچھ لوگ مال، اسباب کے ختم ہوجانے پر غم میں ڈوبے رہتے ہیں، بعض لوگوں کو اولاد نہ ہونے کا غم ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا: [لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍ][ البلد:4]’’ یقیناً ہم نے انسان کو (بڑی) مشقت میں پیدا کیا ہے ‘‘۔غم،دکھ اور پریشانی کا آجانا کوئی نئی بات نہیں یہ تو اس کائنات کے افضل ترین انسانوں یعنی انبیائے کرام کو بھی آئیں۔

کائنات کے امام کو بھی ایک غم تھا جس کا ذکر قرآن نے ان الفاظ میں کہا[فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا][ الکہف:6]’’پس اگر یہ لوگ اس بات (یعنی قرآن) پر ایمان نہ لائیں تو کیا آپ ان کے پیچھے اس غم میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے‘‘۔

کس قدر اپنی امت کا غم ہے،کہ میری پوری امت جنت میں چلی جائے ۔قرآن کی ایک آیت باربار تلاوت کرتے۔

[اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚوَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ][المائدہ:118]

’’اگر تو ان کوسزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو معاف فرما دے تو تو ُ زبردست ہے حکمت والا ہے‘‘۔

آج ہمیں دنیا کی فکر ہے کسی طرح ہماری دنیا اچھی ہو جائے،آخرت کی کوئی فکر نہیں،قبر کی کوئی فکر نہیں جہاں ہزاروں سال رہنا ہے روز محشر کی کوئی فکر نہیں جس کا ایک دن پچاس ہزار سال کا ہوگا۔جہنم کی کوئی فکر نہیں جس کے بارے میں ہمارے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’آگ سے بچوخواہ ایک کھجور کا ٹکڑا ہی دے کر بچ سکتے ہو‘‘۔[2]

اس تمہید کے بعد ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ دکھوں،غموں اور پریشانیوں کا علاج آخر کیا ہے؟

 غم اور پریشانیوں کا علاج تو آج سے چودہ سو سال پہلے قرآن و حدیث میں بڑے احسن انداز کے ساتھ بیان کردیا گیا۔ وہ انسان خوش قسمت ہے جو اس غم،دکھ اور پریشانی کو صبر اور حوصلہ کے ساتھ برداشت کرتا ہے۔


 

 

پہلا علاج اصلاح عقیدہ

بے شمار دکھوں،غموں اور پریشانوں کی بنیادی وجہ عقیدہ کی خرابی ہے،کتنے ہی مسائل ایسے ہیں جو عقیدہ کی نعمت سے محرومی کی بنا پر ہمارے لئے مصیبت بنے ہوئے ہیں اور بہت سارے لوگوں کا اس طرف دھیان بھی نہیں ،صحیح عقیدہ دین اسلام کی بنیاد ہے اور ملت اسلامیہ کی اساس اسی پر قائم ہے اور انسان کے تمام اقوال و افعال اسی وقت صحیح اور بارگاہ الہٰی میں قبول ہوں گے جب اس کا عقیدہ صحیح اور درست ہوگا۔

[وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ][ النحل:36]

’’ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو)صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام (باطل)معبودوں سے بچو‘‘۔

ہر قسم کی مالی،بدنی عبادت اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہو۔جس طرح اللہ تعالیٰ نےقرآن کریم کی اس آیت میں فرمایا: (قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ)  [الانعام:162]

’’کہہ دو میری نماز،میری قربانی،میرا جینا، میرا مرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہے‘‘۔

اللہ تعالیٰ کائنات کے امام کو مخاطب ہیں[وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ][ الزمر:65]

’’یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہو جائے گا۔‘‘

تمام انبیا کی دعوت کا اساس عقیدہ توحید تھی اور آج بہت سارے مسلمانوں میں عقیدے کا بگاڑ ہے۔ مشکل کشا ہمارا کوئی اور ہے حاجت روا اور ہے بگڑی بنانے والا دستگیر اور ہے۔ اس لیے ہر شخص اپنے عقیدے کی اصلاح کرے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:[اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا][النساء:48]

’’یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سواء جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا‘‘۔

نیزفرمایا:(اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰىهُ النَّارُ ۭوَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ] [ المائدہ:72]’’یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا‘‘۔

دوسرا علاج: تقویٰ

جس مسلمان کو تقویٰ کی دولت نصیب ہو جائے وہ غموں اور پریشانیوں سے آسانی سے چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنی آسانیاں اور کشادگی پیدا کردیتے ہیں کہ وہ اندازہ بھی نہیں کر سکتا۔

فرمان باری تعالیٰ ہے:

[وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ] [الاعراف:96]

’’اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے‘‘۔

فرمان باری تعالیٰ ہے:

[ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ] [الطلاق:2،3]

’’اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہےاور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو‘‘۔

تفسیر یعنی آزمائشوں ،مصیبتوں،غموں اور پریشانیوں سے نکلنے کا راستہ پیدا فرمادیتا ہے اور رزق بھی عطا فرماتا ہے۔فرمان باری تعالیٰ ہے:

 [ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ يُسْرًا][الطلاق : 4]

’’اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ تعا لیٰ اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا‘‘۔

تیسرا علاج :کثرت سے استغفار و توبہ

اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے عذاب پر حاوی ہے ، انسان جب کسی مصیبت پریشانی اور غم میں مبتلا ہو جائے تو اسے چائے کہ اللہ تعالیٰ سے کثرت کے ساتھ استغفار و توبہ کرے،یعنی فوراََ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے پرور دگار سے مغفرت طلب کرے، اور اس کی طرف رجوع کرے، سچی توبہ کرتے ہوئے گناہوں کو چھوڑ نے کا عہد کرے، کیونکہ اکثر مصائب انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں۔

فرمان باری تعالیٰ ہے:

[وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ][الشوری:30]

’’تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے، اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے‘‘۔

اور یہ تو اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے ورنہ اگر ہمارے ہرگناہ پر پکڑ ہوتی ، جیسااللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ][الفاطر آیت: 45]

’’اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر ان کے اعمال کے سبب ان کی پکڑ فرمانے لگتا تو روئے زمین پر ایک جاندار کو نہ چھوڑتا‘‘۔

انسان جب گناہ کرتا ہے تو اس کا نتیجہ پریشانی اور غم کی صورت میں سامنے آتا ہے کیونکہ گناہ کی لذت وقتی اور عارضی ہوتی ہے، اور گناہوں کی نحوست اس کے دن کا آرام اور راتوں کی نیند چھین لیتی ہے۔

فرمان باری تعالیٰ ہے:

[اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى] [ ہود:3]

 

’’اور یہ کہ تم لوگ اپنے گناہ اپنے رب سے معاف کراؤ پھر اس کی طرف متوجہ رہو، وہ تم کو وقت مقرر تک اچھا سامان (زندگی) دے گا‘‘۔

 نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو یہ ہی درس دیا،جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نےکیا:(فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًا يُّرْسِلِ السَّمَاۗءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًاوَّيُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَيَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّيَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًا مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًا)[ نوح آیت: 10تا13 ]

’’اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواؤ (اور معافی مانگو) وہ یقیناً بڑا بخشنے والا ہےوہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گااور تمہیں خوب پے درپے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لئے نہریں نکال دے گا۔تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی برتری کا عقیدہ نہیں رکھتے۔‘‘

چوتھا علاج:اللہ تعالیٰ کا ذکر

فرمان باری تعالیٰ ہے:

(اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ ۭ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ)[الرعد:28]

جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے۔

ذکر اللہ سے مراد اللہ تعالیٰٰٰ کی توحید بھی ہے، ذکر اللہ سے مراد دعا،تلاوت قرآن،نوافل بھی ہے۔ کائنات کے امام کا فرمان ہے:’’جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے،وہ درست ہو تا ہے تو سارا جسم صحیح ہوتا ہے، اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو سارا جسم خراب ہوجاتا ہے اور وہ دل ہے۔‘‘[3]

فرمان باری تعالیٰ ہے:[فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ][البقر ۃ:152]

’’ اس لئے تم میرا ذکر کرو میں بھی تمہیں یاد کروں گا‘‘۔

حدیث قدسی ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جیسا وہ مجھ سے گمان رکھے جب وہ میرا ذکر کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اگر اپنے جی میں ذکر کرے تو میں بھی اسے اپنے جی میں یاد کرتا ہوں،اور اگر وہ کسی مجلس میں میرا ذکر کرے تو میں اس سے بہتر مجلس میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔ ‘‘{[4]

ذکر اللہ کا فائدہ :جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہو جائےتوکیا پھر پریشانیاں ،دکھ اور غم اس کے قریب آئیں گے۔

فرمان باری تعالیٰ ہے:

( وَالذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّالذّٰكِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا) [الاحزاب:35]

’’بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں (ان سب کے)لئے اللہ تعالیٰ نے (وسیع مغفرت)اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے‘‘۔

انبیاعلیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے ذکر کرنے کا حکم دیا۔

جبزکریا علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں: [ھُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ ۚ قَالَ رَبِّ ھَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۚ اِنَّكَ سَمِيْعُ الدُّعَاۗءِ][آل عمران:38]

’’اسی جگہ زکریا (علیہ السلام)نے اپنے رب سے دعا کی، کہا کہ اے میرے پروردگار مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما۔ بیشک تو دعا کا سننے والا ہے۔‘‘

فرمان باری تعالیٰ ہے:

 [وَاذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِيْرًا وَّسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْاِبْكَارِ][ آل عمران:41]

’’تو اپنے رب کا ذکر کثرت سے کر اور صبح شام اسی کی تسبیح بیان کرتا رہ ‘‘۔

یونس علیہ السلام ایک بہت بڑے غم ،پریشانی اور دکھ و مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں ایک بہت بڑی مچھلی اللہ کے حکم سے ان کو نگل کر سمندر کی تہہ میں جا بیٹھتی ہے،رات کا اندھیرا، مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا،اور سمندر کی تہہ کا اندھیرا۔

فرمان باری تعالیٰ ہے:

[فَنَادٰي فِي الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ ][الانبیاء:87]

’’بالا آخر وہ اندھیروں کے اندر سے پکار اٹھا کہ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے بیشک میں ظالموں میں ہوگیا‘‘۔

پھر فرمایا:[فَاسْتَجَبْنا لَهٗ ۙ وَنَجَّيْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ]

’’ تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات دے دی‘‘۔

پھر فرماما:[وَكَذٰلِكَ نُـــــْۨـجِي الْمُؤْمِنِيْنَ ][ الانبیاء:88]

’’اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیا کرتے ہیں ‘‘۔نیز فرمایا:

[فَلَوْلَآ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِيْنَ) (لَـلَبِثَ فِيْ بَطْنِهٖٓ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ][ الصافات:143، 144]

’’پس اگر یہ پاکی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے۔ تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ میں ہی رہتے۔‘‘

سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں لیکن میزان میں وزنی ہیں اور اللہ کو محبوب ہیں۔‘‘

’سُبْحَانَ اللہ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللہ الْعَظِيمِ‘

سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’سُبْحَانَ اللہُ وَالْحَمْدُ للہُ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ وَاللہُ أَکْبَرُ‘

کہنا میرے نزدیک ہر اس چیز سے محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔

اندازہ کریں سورج جب طلوع ہوتا ہے تو اس کی روشنی تمام چیزوں پر پڑتی ہے۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ’سُبْحَانَ اللہ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ‘

کہتا ہے اس کیلئے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔

سیدناابی ذررضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا:’’ کیا میں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ تمہیں نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ضرور بتائیں۔ فرمایا: کہو ’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہِ‘

سیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا :’’افضل ترین ذکر ’ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ‘ اور افضل دعا (الْحَمْدُ للہ) ہے۔‘‘

پانچواں علاج:نیک اعمال

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جگہ جگہ نیک اعمال کرنے کا حکم اور ترغیب دی ہے، اور یہ وضاحت بھی فرمائی ہے کہ نیک اعمال ہی دنیا اور آخرت کی فلاح کا راستہ ہیں۔جہاں نیک اعمال کا اہتمام انسان کی کامیابی کی بنیاد ہے،وہاں غموں،پریشانیوں اور دکھوںسے بچنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ۚوَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ][ النحل:97]

’’جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن با ایمان ہو تو ہم یقیناً اسےنہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔(حَيٰوةً طَيِّبَةً) بہترزندگی سے مراددنیا کی زندگی ہے،یعنی دنیا کی زندگی میں بھی وہ خوش اور اسے سکون ملے گا،دوسرا فائدہ اور آخرت میں بھی جو اس نے نیک اعمال کیے تھے اچھا بدلہ دیا جائے گا۔[ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا ][الکہف:30]

’’ہم کسی نیک عمل کرنے والے کا ثواب ضائع نہیں کرتے ‘‘۔

حدیث نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم ہے:سیدناابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،ایک مرتبہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا کائنات کے امام نے فرمایا:’’یہ آرام پانے والا یا آرام دینے والاہے؟صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو سمجھ نہیں آئی ،کائنات کے امام نے فرمایا :ایماندار نیک عمل کرنے والا بندہ تو مرکر دنیا کی تکالیف،مصیبتوں اور غموں سے نجات پاکر اللہ تعالیٰ کی رحمت میں آرام پاتا ہے، اور بےایمان،فاسق و فاجرکے مرنے سے دوسرے لوگ،شجر،درخت اور چوپائے آرام پاتے ہیں۔‘[5]

اس لیے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی خوشحال اورپر سکون ہو تو نیک اعمال میں جلدی کریں ۔جیسا کہ کائنات کے امام نے فرمایا:

’بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنْ الدُّنْيَا‘[6]

’’ ان فتنوں کے ظاہر ہونے سے پہلے جلد جلد نیک اعمال کرلو جو اندھیری رات کی طرح چھا جائیں گے صبح آدمی ایمان والا ہوگا اور شام کو کافر یا شام کو ایمان والا ہوگا اور صبح کافر اور دنیوی نفع کی خاطر اپنا دین بیچ ڈالے گا۔‘‘

دکھوں،غموںاورپریشانیوںسےچھٹکاراحاصل کرناچاہتےہیںتونیکیوںکی طرف جلدی کریں۔اعمال صالحہ ایسی نیکیاں ہیں جو ظاہر طور پر ہلکی پھلکی ہیں ، جنہیں ہم معمولی سمجھ کر ضائع کردیتے ہیں،حالانکہ قطرے قطرے سے سمندر بنتا ہے،کئی چھوٹی چھوٹی نیکیاں مل کر ایک بہت بڑےاجر و ثواب کا باعث بن سکتی ہیں پھر ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کسی انسان کی معمولی سے نیکی کی وجہ سے اس کی مغفرت کر دیتا ہے جیسا کہ حدیث ِ مبارکہ ہے: رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ ایک آدمی چل رہا تھا، اسی دوران میں اسے پیاس لگی وہ ایک کنویں میں اترا اور اس سے پانی پیا، کنویں سے باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا ہے، اس نے کہا کہ اس کو بھی ویسی ہی پیاس لگی ہوگی جیسی مجھے لگی تھی،چنانچہ اس نے اپنا موزہ پانی سے بھرا پھر اس کو منہ سے پکڑا پھر اوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا اللہ نے اس کی نیکی قبول کی، اور اس کو بخش دیا، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کیا چوپائے میں بھی ہمارے لئے اجر ہے، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:  ہر تر جگر والے( یعنی جاندار) میں ثواب ہے۔‘‘

جبکہ بعض اوقات ایک معمولی سا گناہ بھی کسی انسان کو رحمت الہٰی سے دور کردیتا ہے۔سیدہ اسما بنت ابی بکر رضی اللہ عنھماسے روایت ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف کی نماز پڑھی، اور فرمایا :’’ مجھ سے دوزخ قریب ہوگئی یہاں تک کہ میں نے کہا کہ اے پروردگار!کیا میں بھی ان دوزخیوں کے ساتھ ہوں گا!اتنے میں میری نظر ایک عورت پر پڑی، میں نے خیال کیا کہ اس کو ایک بلی نوچ رہی ہے، آپ نے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے؟ تو فرشتوں نے کہا کہ اس عورت نے بلی کوقیدکررکھاتھا(نہ اپنے گھر کھلایانہ آزاد کیانہ وہ خود کچھ کھالے) یہاں تک کہ بھوک کے سبب سے مر گئی۔‘‘{

آج دنیا کی زندگی میں شاید ہمیں نیکیوں کی قدرو قیمت کا احساس نہیں لیکن کل قیامت کے دن یہ ہی وہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہوں گی جو ہمارے نامہ اعمال کو بھر دیں گی اس لیے نیک اعمال کرکے اس دنیا کو بھی اچھا بنائیں اور اپنی آخرت کو بھی سنواریں تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل ہو۔آئیے چند ایک نیکیوں کی طرف نظر ڈالیں۔

(1)اچھی نیت کرنا (2)کسی مسلمان کی مدد کرنا (3)کسی مسلمان کے عیب کے پردہ پوشی کرنا (4)نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا (5)سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنا (6)نماز جنازہ پڑھنا (7)دینی علم سیکھنا (8) سلام کرنا، سلام کا جواب دینا (9)پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنا (10)صلح کرادینا (11)جماعت میں صف کے خلا کو پر کردینا (12)صلہ رحمی کرنا (13)تلاوت قرآن کریم (14)زبان کو قابو میں رکھنا (15)فرض نماز کے بعد اذکار (16)جمعہ کے دن جلدی مسجد جانا (17)وضو کے بعد دعا پڑہنا (18)پہلی صف میں دائیں طرف نماز پڑہنا (19)اللہ سے دعا کرنا (20)ذکر اللہ کرتے

رہنا (21)درود شریف پڑھنا۔

چھٹا علاج:یہشعور کہ غم گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہیں

ایک سچا مسلمان اس بات کو جانتا ہے کہ اسے دنیا میں جو بھی چھوٹا بڑا غم یا پریشانی لاحق ہوتی ہے اس کے بدلے اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جیسا کہ صادق ومصدوق جناب محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مسلمانوں کو جب کوئی رنج، دکھ فکر، حزن ایذا اور غم پہنچتا ہے یہاں تک کہ کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰٰٰ اس کے ذریعہ اس کے گناہ دور کر دیتا ہے۔‘‘

اس حدیث کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک مسلمان کو پہنچنے والا ہر غم اور پریشانی دکھ محض بیکار نہیں بلکہ اس کی نیکیوں اور اچھائیوں میں اضافے اور اس کے گناہوں میں کمی کا باعث ہے۔(شرط)یہ ہے کہ انسان کا عقیدہ درست ہو اور وہ صبر کرے۔علمائے سلف میں سے بعض نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اگر غم نہ ہوتے تو ہم قیامت کے دن مفلس اور خالی ہوتے،ان میں سے بعض وہ بھی تھےجو غم پریشانی اور مصیبت پر ایسے ہی خوش ہوتے جیسے ہم کوئی نعمت ملنے پر خوش ہوتےہیں۔کسی کی غلطی کی سزا اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں ہی دے دے اور آخرت کا عذاب اس سے ختم کر دیا جائے تو اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوگی۔

مسند احمد میں یہ روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک آدمی کی ملاقات ایسی عورت سے ہوئی جو زمانہ جاہلیت میں جسم فروشی کیا کرتی تھی،اس آدمی نے اس عورت سے چھیڑ خانی شروع کردی اس عورت نے کہا رک جاؤ اللہ تعالیٰ نے زمانہ جاہلیت کا دور ختم کردیا ہے،اور ہمیں اسلام کی طرف ہدایت دی ہے، جب اس نے یہ الفاظ سنے تو گھبرا کر جلدی سے پیچھے ہٹ گیا، کہ اچانک اس کا چہرا دیوار سے رگڑ کھا کر زخمی ہوگیا، وہ آدمی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس گیا،اور سارا ماجرا سنایا،رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بندے اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے،کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے ،تو اس کو اس گناہ کی سزا بہت جلد دے دیتا ہے،اور جب کسی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتاہے تو اس کی سزا قیامت تک کے لیے مؤخر کردیتا ہے ،تاکہ اس کو جہنم کی آگ میں پھینکے۔‘‘

اس لیے اگر دنیا میں کوئی غم ، کوئی پریشانی یا تکلیف آئے تو صبر کریں۔اور ان غموں کو اپنے لیے رحمت سمجھیں۔

ساتواں علاج:موت کو یاد رکھنا

انسان جب اپنی موت کو ہر وقت یاد رکھتا ہےتو بہت سارے غموں اور پریشانیوں سے اپنے آپ کو بچا لیتا ہے،جس طرح صحیح بخاری میںرسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ لذات کو ختم کرنے والی یعنی موت کو زیادہ سے زیادہ یاد کیا کرو‘‘۔

جب انسان اس بات کو اپنے دل میں جگہ دے کہ موت کسی وقت بھی اس کے تمام منصوبوں کو درہم برہم کر سکتی ہے، تو بہت سی پریشانیاں اور غم اپنے آپ ختم ہو جاتے ہیں۔قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے کئی ایک مقامات پر اس حضرت انسان کو موت کی یاد دہانی کرائی ہے۔

؎  آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں۔

آٹھواں علاج:اللہ تعالیٰ سے مسلسل دعاکرتےرہنا

غم ختم کرنے اور پریشانی دور کرنے کا ایک بہترین علاج دعا ہے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر وقت دعا کرتا رہے کہ پرور دگار اسے ہر غم ،پریشانی اور مصیبت سے بچائے رکھے۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم جیسی ہستی بھی کثرت سے پریشانیوں ،غموں اور مصیبتوں سے بچنے کے لیے دعا کیا کرتے تھے۔

پیارے پیغمبر کے خادم انس رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ میں ایک دفعہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا، جب کسی جگہ پر ٹھہرتے تو میں نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو کثرت سے دعا کرتے ہوئے دیکھا، وہ دعا یہ تھی،’اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ‘

’’اے اللہ میں فکر،عاجزی اورسستی،بخیلی اور بزدلی،قرض داری کے بوجھ اور ظالموں کے غلبے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے  فرمایا:[اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ] [النمل : 62]

’’بے کس کی پکار کو جب کہ وہ پکارے، کون قبول کر کے سختی کو دور کر دیتا ہے‘‘۔اس لیے جب بھی انسان پر کوئی غم، دکھ،پریشانی نازل ہو تو وہ حقیقی خالق کے سامنے ہی اپنے ہاتھ پھلائے۔

جس طرح اللہ تعالیٰ نےقرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:

[وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ ۭ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙفَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَلْيُؤْمِنُوْابِيْ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ][البقرہ : 186]

’’جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہیے وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے۔‘‘

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی پریشانی ہوتی۔ تو آپ یہدعا پڑھتے:

’يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ‘

’’ اے زندہ رہنے والے اے سب کو تھامنے والے میں تیری رحمت کے ساتھ مدد مانگتا ہوں۔‘‘

سیدہ آسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہافرماتی ہیں مجھے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کیا میں تجھے ایسے کلمات نہ بتاؤں ،جو تو مصیبت اور پریشانی کے وقت کہا کرے۔(أَللہُ أَللہُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا)

’’اللہ اللہ میرا پروردگار ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔‘‘

نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے مصیبت زدہ کے لیے ایک اور دعا بتائی ہے:’اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ‘

’’اے اللہ میں تیری رحمت ہی کی امید رکھتا ہوں،بس تو آنکھ جھپکنےکے برابر بھی مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کر اور میرے لیے میرے تمام کام درست کردے، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔‘‘

 

اس لیے ہمیں چاہیے کہ مشکل ہو یا آسانی ہو،ہم ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعا ئیں مانگتے رہیں۔آپ اندازہ لگائیں،انبیاء علیہ السلام پر بھی جب کوئی پریشانی یا غم یا تکلیف آئی تو انھوں نے بھی سب سے پہلے دعا کا سہارا لیا۔ہم سب کے والد آدم علیہ السلام ایک نافرمانی سرزد ہو جانے کی وجہ سے پریشان ہوئے،تو اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ دعا سکھلائی[رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَاوَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ](اعراف:23)

’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے‘‘۔

سیدنانوح علیہ السلام کی دعا: [اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ]( القمر:10)

’’میں (کافروں کے مقابلے میں)کمزور ہو تو میری مدد فرما‘‘۔

سیدنازکریا علیہ السلام کی دعا: [رَبِّ لَا تَذَرْنِيْ فَرْدًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَ]( انبیاء:89)

’’اے میرے پروردگار! مجھے تنہا نہ چھوڑ، تو سب سے بہتر وارث ہے۔‘‘

سیدنا ایوب علیہ السلام کی دعا: ( وَاَيُّوْبَ اِذْ نَادٰي رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ)[الانبیاء:83]

’’ایوب (علیہ السلام) کی اس حالت کو یاد کرو جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘

سیدناموسی علیہ السلام کی دعا: [ رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ ][القصص:16]

’’اے میرے رب میں نے اپنے نفس پر ظلم کر ڈالا میری مغفرت فرما۔‘‘

جیسا کہ پہلے بیان کیا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کررہے ہیں حالانکہ اگلے پچھلے گناہ سب معاف ہیں پھر بھی ان کی زندگی کا کوئی بھی لمحہ ایسا نہیں کہ وہ اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے گھر میں داخل ہوتے نکلتے دعا کر رہے ہیں۔

چند ایک دعائیں جو نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔

’اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ‘

 

’’ اے اللہ میں تجھ سے طلب کرتا ہوں بخشش اور سلامتی دنیا اور آخرت میں‘‘۔

ایک اور دعا:’اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا‘

’’اے اللہ میں تجھ سے طلب کرتا ہوں ایسا علم جو مفید ہے،پاک روزی اور ایسا عمل جو مقبول ہو‘‘۔

ایک اور دعا:’اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى‘

اے اللہ میں تجھ سے طلب کرتا ہوں ہدایت،تقویٰ،پاک دامنی اور استغفار۔

ان چار الفاظ پر غور کریں کہ جسے ہدایت مل جائے،جسے اللہ کی طرف سے رہنمائی حاصل ہو جائے اور جو اس کام سے بچ جائے، جو ہواللہ کی ناراضگی کاباعث ہواور جو پاک دامن بھی ہو۔غنی سے مراد اللہ نے اسے اتنا دیا ہو کہ اس کے بعد اسے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہ ہو،اللہ اکبر کتنی عظیم دعا ہے۔

اگر ہم ان دعاؤں کو خود بھی یاد کریں اور گھر میں بیوی اور بچوں کو بھی یاد کرائیں تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے گھروں سے بہت سارے غم ،پریشانیاں اور دکھ ختم ہو جائیں گے۔’لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنْ الدُّعَاءِ)

فرمایا:’’اللہ کے ہاں دعا سے زیادہ عظمت والا کوئی عمل نہیں۔‘‘

 نواں علاج:نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کی کثرت

دکھوں ،غموں اور پریشانیوں کا ایک بہتریں علاج نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود شریف کا اہتمام ہے۔

نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بڑی اہم نیکی ، گناہوں کی معافی کا سبب، درجات کی بلندی، غم و پریشانی سے نجات ، دعا کی قبولیت کا وسیلہ ہے،سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتے ہیں کہ میں آپ پر کثرت سے درود پڑھتا ہوں دعا میں آپ پر صلی اللہ علیہ وسلم  پر کتنا درود پڑھوں ؟آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تو جتنا چاہے تیرے لیے بہتر ہے پھر تیرا یہ مجھ پر درود پڑھنا تیرے تمام غم دور کردے گا، اور تیرے گناہ معاف ہوجائیں گے‘‘۔

دسواں علاج:نماز کا اہتمام کرنا

نماز مومن کی معراج ،آنکھوں کی ٹھنڈک ،دل کا سکون اور غموں اور پریشانیوں کو ختم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں اہل ایمان والوں سےفرمایا:

[يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ۭاِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ][البقرہ:153]

’’اے ایمان والو صبر اور نماز کے ذریعہ سے مدد چاہو، اللہ تعالیٰٰٰ صبر والوں کے ساتھ ہے۔‘‘

 محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی بھی پریشان ہوتے یا انھیں تکلیف دہ معاملہ سے واسطہ پڑتا تو آپ فورًا دو رکعت نماز پڑہتے اور اللہ تعالیٰ سے اس تکلیف کو رفع کرنے کے لیے مدد طلب کرتے ۔ تو اے غموں، پریشانیوں اور دکھوں میں مبتلا میرے بھائیو اور بہنوں ،وضو کر کے دو رکعت پڑہو اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو۔(اورپانچوں نمازوں کی پابندی کیا کریں)

گیارہواںعلاج:اللہ تعالیٰ کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کا اقرار

پریشانیوں کو ختم کرنے کا ایک آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ظاہری و باطنی نعمتوں پر غور کرنے اور ان کے بدلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی کوشش کرتا رہے،کیونکہ شکر ایسی دولت ہے جو انسان کو مذید نعمتوں کا وارث بناتی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

[وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ][ إبراہیم:7]

’’اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکرگزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیادہ دوں گا‘‘۔

انسان ہر وقت اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہے،اتنی بے شمار نعمتیں جیسا کہ میں فرمایا:

[وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا][النحل آیت18]

’’اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کوگننا بھی چاہو تو نہیں گن سکتے‘‘۔

اگر انسان تھوڑا سا غور کرے کہ رب کائنات نے اسے کتنی نعمتیں دے رکھی ہیں اور بے شمار نعمتیں تو بن


 

 مانگے اللہ تعالیٰ بے حساب دے رہا ہے،تو بہت ساری تکالیف ،غموں اور پریشانیوں سے چھٹکار مل جائے گا۔

 جناب محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اپنے سے کم تر کی طرف دیکھو اور اپنے سے زیادہ (مالدار)کی طرف نہ دیکھو تاکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں تمھیں حقیر محسوس نہ ہوں۔

 آج اگر ہم اللہ تعالیٰ کی ظاہری اور باطنی ،دینی اور دنیاوی نعمتوں پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلے گا کہ پروردگار نے ہمیں خیر کثیر عطا کر رکھی ہے اور بہت ساری تکالیف ،غموں اور پریشانیوں سے نجات دے رکھی ہے۔

بارہواں علاج:صبر کرنا

پریشانیوں اور دکھوں کا بہترین اور بنیادی علاج صبر ہے۔[يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ۭاِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ][ البقرہ:153]

اے ایمان والو صبر اور نماز کے ذریعہ سے مدد چاہو، اللہ تعالیٰٰٰ صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کے ہر کام میں اس کے لیے بھلائی ہے اور یہ مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے ،کہ اگر اسے خوشی ملتی ہے ،تو اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور یہ شکر کرنا بھی اس کےلیے بہتر ہے‘‘۔(یعنی اس پر اجر ہے)اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے ،تو یہ صبر کرنا بھی اس کے لیے بہتر ہے یعنی صبر بھی بجائے خود ایک عمل اور باعث اجر ہے۔

 اللہ تعالیٰ نے فرمایا:[وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ)[البقرۃ:155]

اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔

سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’ میرا وہ مومن بندہ جس کی محبوب چیز میں واپس لےلوں ،لیکن وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کرے تو اس کے لیے میرے پاس جنت کے سوا کوئی بدلہ نہیں ہے‘‘۔

بچے ،بیوی،والدین یہ سب انسان کے لیے محبوب ترین چیزیں ہیں۔ان کی وفات پر اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر صبر کرنا جنت میں داخلے کا سبب ہے۔اور صبر بھی پہلے لمحات میں۔ جیسا کہ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ اتَّقِي اللہ وَاصْبِرِي إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى‘[7]

سیدناانس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:’’ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گذرے جو ایک قبر کے قریب رو رہی تھی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ سے ڈرو!اور صبر کرو!صبر تو وہی کہلائے گا جو ابتداء مصیبت میں ہو‘‘۔

سیدناابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ کہ مسلمان کو جو بھی تھکان،بیماری،فکر،غم اور تکلیف پہنچتی ہے حتی کہ کانٹا بھی چبھتا ہے ،تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے‘‘۔

اللہ اکبر دیکھیں ایک مومن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل کا خاص معاملہ ہے کہ دنیا میں غموں اور تکلیفوں کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیا،بشرطیکہ مومن صبر کرے۔

شدت غم اور رنج میں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے،جو دعائے کرب کے نام سے مشہور ہے:

’لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ‘

 ’’نہیں ہے کوئی معبود برحق مگر اللہ وہ اکیلا ہے نہیں کوئی شریک اس کا ،اسی کی بادشاہت ہے اوراسی کے لیے ہر تعریف، اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے‘‘۔

کسی مصیبت یا غم کی خبر سنتے ہی یہ دعا پڑھنی چاہیے:’إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْھَا إِلَّا أَخْلَفَ اللہُ لَهُ خَيْرًا مِنْھَا‘

’’يقيناً ہم اللہ ہی کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں یا اللہ مجھے میری مصیبت کے عوض بہتراجر دے اور اس سے بہتر بدلہ عطا فرما‘‘۔

 جو آپ کی تقدیر میں لکھا جاچکا ہے وہ آپ کو پہنچ کررہےگا،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نےارشاد فرمایا:[قُلْ لَّنْ يُّصِيْبَنَآ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا ۚهُوَ مَوْلٰىنَا ۚوَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ][التوبہ:51]

’’ہرگز ہمیں نہیں پہنچے گا مگر وہ ہی جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا ہے وہ ہی ہمارا کارساز ہے اور مومن اللہ ہی پر بھروسا رکھیں‘‘۔

اور فرمایا:[مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا ۭ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ][الحدید:22]

’’نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ تمہاری جانوں میں مگر اس سے پہلے ہم اس کو پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے اور یہ (کام)اللہ تعالیٰ پر آسان ہے‘‘۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق یعنی بنانے سے پچاس ہزار سال قبل ہی ساری تقدیریں لکھ دیں تھیں‘‘۔

 پھر کسی چیز کے جانے کا اتنا غم کیوں کہ اپنے آپ کو بیمار کرلیں یا خود کشی کریں۔

یہ چند ایک نسخے دکھوں، غموں اور پریشانیوں کے علاج کے تحریرکیے ہیں،جن کے نفاذ سے يقيناًانسان اپنی الجھی اور غمزدہ زندگی کو دوبارہ(حیاۃََ طیبۃََ)میں تبدیل کرسکتا ہے، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تاحیات اپنی ہدایت اور حفظ و امان میں رکھے۔



[1] ریسرچ اسکالر المدینہ اسلامک ریسرچ سینڑ کراچی

[2] صحیح البخاری:کتاب الزکوٰۃ،باب اتقواالنار ولو بشق ثمرۃوالقلیل منی صدقۃ

[3] صحیح بخاری:کتاب الایمان،باب فضل من استبرأ لدینہ

[4] صحیح المسلم:باب الحث علی ذکرہ اللہ تعالیٰ ،ج4ص2061

[5] صحیح البخاری:حدیث۔6147،صحیح المسلم۔950

[6] صحیح المسلم :باب الآبار علی الطرق اذا لم یتا ٔ ذبھا

[7] صحیح البخاری:کتاب الجنائز،باب زیارۃ القبور

Read 1495 times Last modified on ہفتہ, 10 مارچ 2018 10:33
  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

دکھوں،غموں اور پریشانیوں کا علاج قرآن و سنت کی روشنی میں!

(جمع و ترتیب)محمد کامران یاسین[1]

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على هادي الأنام وخاتم الأنبياء والمرسلين نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين، ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين، أما بعد:

اس حقیقت سے کوئی انسان انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا میں ہر امیر غریب،نیک و بد کو قانون قدرت کے تحت دکھوں،غموں اور پریشانیوں سے کسی نہ کسی شکل میں ضرور واسطہ پڑتا ہے،اس کا سبب یہ ہے کہ یہ دنیا دارالعمل اور امتحان گاہ ہے، انسان یہاں آزمائش کے لئے بھیجا گیا ہے۔ اسے آزادی سے نیکی اور بدی کرنے کی قوت دی گئی ہے جسے بروئے کار لا کر وہ نیکی کی صورت میں اجر و ثواب اور نافرمانی کی صورت میں عذاب و سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔

غربت و تنگدستی اور امارت و خوشحالی بھی، اس دنیا کے دارالعمل ہونے کا ایک حصہ ہے۔ یہاں دو قسم کے لوگ بستے ہیں، ایک وہ جو آسودہ حال اور دولت مند ہیں اور ہر قسم کی آسائش و آرام سے بہرہ ور ہیں۔ دوسرے وہ جو غریب و مفلوک الحال ہیں اور زندگی کی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ مصائب و آلام انہیں ڈستے رہتے ہیں اور وہ زندگی یوں گزارتے ہیں جیسے دکھوں کے منوں بوجھ تلے دبے ہوئے ہوں اور اس بوجھ میں تخفیف کے آثار بھی دکھائی نہ دیتے ہوں۔

انسان کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتا ہو، اسے دکھوں سے مفر نہیں، یہ الگ بات ہے کسی کو کم اور کسی کو زیادہ دکھوں سے واسطہ پڑتا ہے اور زندگی اسے پہاڑ نظر آنے لگتی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ مصائب و آلام سے چھٹکارا حاصل کر ے مگر وہ اس طرح گلے کا ہار بن جاتے ہیں کہ روایتی کمبل کی طرح چھوڑنے کا نام نہیں لیتے۔ گلے کا ہار بننے والے ان دکھوں کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا، کسی بھی پہلو سے وہ زندگی کے لئے عذاب بن سکتے ہیں۔ مسلسل ناکامیاں اور حوصلہ شکن محرومیاں انہیں جنم دیتی ہیں اور غم کے اندھیرے غاروں میں جاگراتی ہیں۔ اقتصادی بدحالی، معاشرتی ناہمواری، عدم مساوات، ظلم و ستم، ناانصافی اور ریاستی جبر بھی اس کے اسباب میں سے ہیں، جس سے انسان کا ذہنی توازن بگڑ جاتا ہے اور جسمانی قوت اس طرح متاثر ہوتی ہے کہ وہ صدیوں کا بیمار نظر آنے لگتا ہے۔ اس دکھ بھری دنیا کے سمندر میں تنکے کی طرح بہنے کے باوجود انسان ہاتھ پاؤں ضرور مارتا ہے اور یہ کوشش کرتا رہتا ہے کہ دکھوں سے نجات پالے اور غموں کے بھنور سے باہر آ جائے۔

واضح رہے کہ مصیبتوں اور دکھوں کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں ۔ایک نفسیاتی اور روحانی ، دوسری جسمانی اور بیرونی ذیل میں نفسیاتی اور روحانی پریشانیوں کا بالتفصیل ذکر کرنا چاہوں گا۔

نفسیاتی پریشانیاں:نفسیاتی پریشانیوں سے مراد وہ تمام نفسیاتی امراض اور جلد اثر کر جانے والے جذبات ہیں جن کی وجہ سے انسان اپنا توازن اور خود پہ کنٹرول کھو بیٹھتا ہے۔اگر چہ اس طرح کی پریشانیاں بہت زیادہ ہیں اور ان پر علیحدہ علیحدہ بالتفصیل بحث ہو سکتی ہے لیکن ہم ان میں سے صرف انہی کا ذکر کریں گے جن کا عام طور پر لوگ شکار ہوتے ہیں۔

الهم:(پریشانی)

انسان کا معمولی و غیر معمولی چیزوں کے بارے مسلسل پریشان رہنا ’الہم‘ کہلاتا ہے ۔ بعض اوقات  یہ پریشانی مستقبل میں درپیش چیلنجز اور مسئولیت کے بارہ میں ہوتی ہے ۔یہ ایسا نفسیاتی مرض ہے جو شیطان انسان کے دل میں وسوسوں کی صورت میں ڈالتا ہے اور اسک کےروز مرہ کے معمولات کو 'اگرچہ وہ چھوٹے ہی کیوں نہ ہوں، ایک پہاڑ کی صورت میں پیش کرتا ہے ۔یہ پریشانیاں انسان کو کمزور کردیتی ہیں اور انسان حوادثات زمانہ میں پھنس کر رہ جاتاہے ،خصوصاََجب انسان اپنے خالق حقیقی سے کٹ جائے ، سنت نبوی سے اپنے مسائل کا حل تلاش نہ کرے اور اپنے ازلی دشمن کی پیروی کرے تو اللہ تعالیٰ انسان کو ان پریشانیوں کے ذریعے آزماتاہے تا کہ انسان معصیت کو چھوڑتے ہوئے رجوع الی اللہ کرے اور اپنے پیدا کرنے والے کی رضا و منشاکے مطابق چلے ۔

حزن: (غم)

اسے ماہرین نفسیات کی اصطلاح میں’کآبہ‘کےنام سے پہچاناجاتا ہے۔ یہ لفظ اکثر ان غموں پر بولا جاتا ہے جو کسی معین حادثہ کی پیش آنے کی وجہ سے لگ جاتے ہیں یا کئی حادثات کا نتیجہ ہوتے ہیں جیسے اپنے کسی عزیز کی گمشدگی ،مالی خسارہ ،طویل مرض کا لگ جانا یا نامناسب سوسائٹی کے ساتھ رہنا پڑجائے۔ان کے علاوہ اور بھی بہت سے اسباب ہوتے ہیں جو انسان کے ہاں اس طرح کے غم کو پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ، یہ ایک طبعی وفطری معاملہ ہے چنانچہ جب اس کے اسباب پائے جائیں گے تو یہ صورت حال ضرور پیدا ہو گی ۔ تقریباً ہر انسان اس میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ایسے میں ان غموں سے چھٹکا را صرف قرآنی احکامات اورسنت نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ممکن ہے ۔ اسوۂ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ایسی ہی رہنمائی ہمیںاس وقت ملتی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے لخت جگر کی وفات ہوئی۔ اس حادثے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے گہرا اثر لیتے ہوئے فرمایا تھا، اے ابراہیم !تیری جدائی نے اتنا غمگین کردیا ہے کہ آنکھیں بہہ رہی اور دل افسردہ ہے لیکن ہم زبان سے صرف وہی کہتے ہیں جس سے ہمارا رب راضی ہو ۔

القلق :(اضطراب و بےچینی ڈپریشن)

ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ انسان کا کسی مخفی اور غیر معروف چیز کے اپنے اوپر واقع ہونے کا خوف محسوس کرنا قلق ( اضطراب ) کہلاتاہے ۔ قلق ایک ایسی نفسیاتی بیماری ہے جو کسی کو بھی لاحق ہوتی ہے تو وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے ، نہ خود میں ٹھہراؤ اور نہ ہی اپنے ماحول میں امن پاتا ہے ،بلکہ ایسے شخص میں ہمہ وقت اضطراب اور طبیعت میں کشیدگی و کھینچاؤ کی کیفیت رہتی ہے ۔ یہ تکلیف عموماََکسی غیر مانوس چیز کو دیکھنے ، اچانک حملے یا اخلاقیات سے گرے ’’جواری ، شراب نوش،دھوکے باز ‘‘ رفقاء کے ملنے اور غیر محفوظ مستقبل کا خوف دامن گیر ہونے والے شیطانی وسوسوں سے جنم لیتی ہے۔ یہ چیزیں انسان میں اندرونی کوتاہیوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ ان کی وجہ سے انسان اوران شیطانی وسوسوں کے درمیان ایک ذہنی کشمکش شروع ہو جاتی ہے جن پر شیطان کو موقع ہاتھ آتا ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرتا ،بھٹکاتا ،شکوک و شبہات اور ذہنی ،فکری و نفسیاتی ٹکراؤ پیدا کرتاہے۔ظاہر بات ہے ان قوتوں پر شیطان کو غلبہ دے دیا گیا ہے ۔

الخوف :(ڈر)

بعض ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ خوف ایک ایسی کیفیت کانام ہے جس میں انسان نفسیاتی بےچینی اور اعصابی تناؤ محسوس کرتا ہے۔عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔مسلسل خوف و ہراس کی کیفیت میں رہتے ہوئے انسان سرکش ہو جاتا ہے۔ حالات سے بےگانہ ہو جاتا ہے۔

واضح رہے کہ خوف کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ایک ایجابی و مثبت اور دوسرا سلبی و منفی کا نوعیت کا خوف۔

مثبت یہ ہے کہ اللہ کے عذاب و سزا کا خوف ہو۔ یہ ہر انسان کے لئے ضروری اور مطلوب ہے ۔بلکہ یہی وہ خوف ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ عبادت صرف اللہ کی کر نی چاہیے۔ یہ انسان کی زندگی میں رویے کی اصلاح کرتا ہے۔ فرد اور معاشرے کے باہمی تعلق میں توازن بھی اسی سے ممکن ہے۔ مومنین کو اللہ تعالیٰ نے اسی صفت ِ خوف سے متصف کیا ہے۔

اور منفی نوعیت کا خوف وہ ہوتا ہے جس میں غیر اللہ سے ڈرا جائے۔یا اطاعت الہٰی میں مانع ہو یا جس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے انسان اللہ کی نافرمانی مول لےبیٹھتا ہے۔جیسے جادوں گروں اور دجالین کا خوف۔

فطری اور پیدائشی خوف کی ایک تیسری قسم بھی بنائی گئی ہے ،یعنی وہ خوف جو بذات خود مثبت یا منفی میں سے کسی نوعیت کا بھی حامل نہیں جیسے وہ انسان جو اندھیروں کا عادی نہیں ہوتا اسے تاریکیوں سے ڈر لگنا شروع ہو جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ تاہم خوف کی یہ نوعیت اگرچہ بذات خود تو معصیت کے ارتکاب اور ترک اطاعت میں کوئی دخل نہیں رکھتی لیکن اگر یہی صورت بندے کے لئے کسی فعل معصیت میں مانع ہو جائے یا کسی فعل اطاعت کا موجب بن جائے تو یہ بھی مثبت اور منفی ہو جاتی ہے۔

اسی طرح خوف کی متعدد صورتیں ہیں جیسا کہ موت کا خوف ،لوگوں کا ڈر ،کسی بیماری کا خوف ،فقروغربت کا خوف اورغیر محفوظ مستقبل کا خوف ان کے علاوہ متعدد ایسے اسباب و موثرات ہیں جو انسان میں خوف کو جنم دیتے ہیں۔

الیأس:(مایوسی)

مایوسی اس ذہنی کیفیت کو کہتے ہیں جس میں انسان اس وقت مبتلا ہوتا ہے جب وہ اپنی آرزوں کے ناموافق حالات پاتا ہے۔یہ امید کے بر عکس ہے ، ناامیدی ایک ایسا مرض ہے کہ جسے ہمیشہ منفی صورت میں اثر انداز ہونے والی پریشانی خیال کیا جاتاہے ۔اس سے پستیاں مقدر بنتی ہیں ۔مایوس انسان زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے چلا جاتاہے ۔ وہ غوروفکر کی صلاحیت کھوبیٹھتا ہے۔ اس سے انسانی آزادی ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔مایوسی سے ترقی و ایجادات اور حصول مقاصد میں بہت بڑی رکاوٹ آکھڑی ہوتی ہے۔مایوس انسان کا شیطان متلاشی ہوتا ہے ۔ اس کے ملنے سے شیطان کی فرحت و سرور کی کوئی انتہاء نہیں رہتی۔ پھر وہ ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے۔ جن پہلوؤں سے وہ غالب ہوتے ہیں انہیں خوشنما بنا کر پیش کرتا ہے۔ تاکہ یہ اپنے سارے نظام زندگی میں ان کے تابع ہو جائیں۔دشمنان اسلام کو ایک سپر طاقت کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ ان کی عقل و فکر اور صنعتی ترقی کو بڑا چڑھا کردکھاتا ہے۔ یہاں تک کہ مایوسیوں کے مارئے ہوئے لوگ پکا راٹھتے ہیں’’ہم ان ترقی یافتہ قوموں کے ہم پلہ کیسے ہوسکتے ہیں ہماری حالت اور ان کی حالت کےکیسے برابر ہو سکتی ہے؟ یہ ایسی بڑی پریشانی اور خطرناک مرض ہے جسکی وجہ سے مسلمانوں کے بڑے بڑے لشکر بھی پاؤں تک روند دیے گئے‘‘ ۔

ان تمام آلام ومصائب سے نکلنے کے عموماً دو رستے اختیار کیے جاتے ہیں ان میں پہلا ذریعہ صرف اور صرف توجہ الی اللہ ہے اور یقین کامل رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہر قوت پر غالب ہے ، ہر سرکش پر ہاوی ہے ، یہ اسی کی شا ن ہے کہ اس کی ملکیت و بادشاہت پر کوئی غالب نہیں آسکتا ، اس کائنا ت میں کچھ بھی ایسا نہیں کہ اس کے امر اور حکمت کے بغیر حرکت کرسکے ،جب اس درجہ کا ایمان و یقین انسان کو حاصل ہوتا ہے تو ان پریشانیوں کی تکالیف اور ان کے اثر و رسوخ سے خود کو آزاد کر سکتاہے ، عالم یکسوئی اور عالم شجاعت کی منازل کو طے کرسکتاہے ۔ چنانچہ وہ بے خوف ہوکر محنت کرتا ہے۔ مشقت اٹھاتا ہے۔حالات بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔کیونکہ وہ اپنی زندگی کو ایک ایسی ذات سے منسلک کر لیتاہے جو ہر چیز پر غالب اور سخت گیر ہے۔

اور دوسرا رستہ جو اختیار کیا جاتا ہےوہ سراسر شریعت کے خلاف بھی ہے اور بلکہ مزید پریشانی کا باعث بھی ہے آپ آئے دن اخباروں میں پڑہتے رہتے ہیں کہ فلاں شخص نے نوکری نہ ملنے کی وجہ سے خود کشی کرلی،فلاں دوشیزہ نے محبت کی ناکامی میں اپنی جان دے دی،فلاں آدمی بیماری سے تنگ آکر پنکھے سےلٹک گیاالغرض بے شمار قسم کے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں اور بہت سے مسلمان کلمہ پڑھنے والےبسا اوقات تھوڑی سی پریشانی کی وجہ سے موت کو گلے لگا لیتے ہیں اور ہمیشہ کے لیے جہنم چلے جاتے ہیں یا پھرنشہ آور اشیاء کے استعمال اور حرام کاریوں کے ذریعہ اس غم اور اضطراب کو ختم کرنے یا کم کرنے کی سعی لاحاصل کی جاتی ہے ۔

میرے بھائیو اور قابل احترام بہنو!یہ دنیا مصیبتوں ،پریشانیوں اور غموں کا گھر ہے،بعض لوگ اولاد کی نافرمانی کی وجہ سے پریشان بعض خواتین اپنے خاوند کی بے راہ روی کے متعلق غمگین رہتی ہیں، کچھ لوگ مال، اسباب کے ختم ہوجانے پر غم میں ڈوبے رہتے ہیں، بعض لوگوں کو اولاد نہ ہونے کا غم ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا: [لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍ][ البلد:4]’’ یقیناً ہم نے انسان کو (بڑی) مشقت میں پیدا کیا ہے ‘‘۔غم،دکھ اور پریشانی کا آجانا کوئی نئی بات نہیں یہ تو اس کائنات کے افضل ترین انسانوں یعنی انبیائے کرام کو بھی آئیں۔

کائنات کے امام کو بھی ایک غم تھا جس کا ذکر قرآن نے ان الفاظ میں کہا[فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا][ الکہف:6]’’پس اگر یہ لوگ اس بات (یعنی قرآن) پر ایمان نہ لائیں تو کیا آپ ان کے پیچھے اس غم میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے‘‘۔

کس قدر اپنی امت کا غم ہے،کہ میری پوری امت جنت میں چلی جائے ۔قرآن کی ایک آیت باربار تلاوت کرتے۔

[اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚوَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ][المائدہ:118]

’’اگر تو ان کوسزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو معاف فرما دے تو تو ُ زبردست ہے حکمت والا ہے‘‘۔

آج ہمیں دنیا کی فکر ہے کسی طرح ہماری دنیا اچھی ہو جائے،آخرت کی کوئی فکر نہیں،قبر کی کوئی فکر نہیں جہاں ہزاروں سال رہنا ہے روز محشر کی کوئی فکر نہیں جس کا ایک دن پچاس ہزار سال کا ہوگا۔جہنم کی کوئی فکر نہیں جس کے بارے میں ہمارے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’آگ سے بچوخواہ ایک کھجور کا ٹکڑا ہی دے کر بچ سکتے ہو‘‘۔[2]

اس تمہید کے بعد ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ دکھوں،غموں اور پریشانیوں کا علاج آخر کیا ہے؟

 غم اور پریشانیوں کا علاج تو آج سے چودہ سو سال پہلے قرآن و حدیث میں بڑے احسن انداز کے ساتھ بیان کردیا گیا۔ وہ انسان خوش قسمت ہے جو اس غم،دکھ اور پریشانی کو صبر اور حوصلہ کے ساتھ برداشت کرتا ہے۔


 

 

پہلا علاج اصلاح عقیدہ

بے شمار دکھوں،غموں اور پریشانوں کی بنیادی وجہ عقیدہ کی خرابی ہے،کتنے ہی مسائل ایسے ہیں جو عقیدہ کی نعمت سے محرومی کی بنا پر ہمارے لئے مصیبت بنے ہوئے ہیں اور بہت سارے لوگوں کا اس طرف دھیان بھی نہیں ،صحیح عقیدہ دین اسلام کی بنیاد ہے اور ملت اسلامیہ کی اساس اسی پر قائم ہے اور انسان کے تمام اقوال و افعال اسی وقت صحیح اور بارگاہ الہٰی میں قبول ہوں گے جب اس کا عقیدہ صحیح اور درست ہوگا۔

[وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ][ النحل:36]

’’ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو)صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام (باطل)معبودوں سے بچو‘‘۔

ہر قسم کی مالی،بدنی عبادت اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہو۔جس طرح اللہ تعالیٰ نےقرآن کریم کی اس آیت میں فرمایا: (قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ)  [الانعام:162]

’’کہہ دو میری نماز،میری قربانی،میرا جینا، میرا مرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہے‘‘۔

اللہ تعالیٰ کائنات کے امام کو مخاطب ہیں[وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ][ الزمر:65]

’’یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہو جائے گا۔‘‘

تمام انبیا کی دعوت کا اساس عقیدہ توحید تھی اور آج بہت سارے مسلمانوں میں عقیدے کا بگاڑ ہے۔ مشکل کشا ہمارا کوئی اور ہے حاجت روا اور ہے بگڑی بنانے والا دستگیر اور ہے۔ اس لیے ہر شخص اپنے عقیدے کی اصلاح کرے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:[اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا][النساء:48]

’’یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سواء جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا‘‘۔

نیزفرمایا:(اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰىهُ النَّارُ ۭوَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ] [ المائدہ:72]’’یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا‘‘۔

دوسرا علاج: تقویٰ

جس مسلمان کو تقویٰ کی دولت نصیب ہو جائے وہ غموں اور پریشانیوں سے آسانی سے چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنی آسانیاں اور کشادگی پیدا کردیتے ہیں کہ وہ اندازہ بھی نہیں کر سکتا۔

فرمان باری تعالیٰ ہے:

[وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ] [الاعراف:96]

’’اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے‘‘۔

فرمان باری تعالیٰ ہے:

[ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ] [الطلاق:2،3]

’’اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہےاور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو‘‘۔

تفسیر یعنی آزمائشوں ،مصیبتوں،غموں اور پریشانیوں سے نکلنے کا راستہ پیدا فرمادیتا ہے اور رزق بھی عطا فرماتا ہے۔فرمان باری تعالیٰ ہے:

 [ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ يُسْرًا][الطلاق : 4]

’’اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ تعا لیٰ اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا‘‘۔

تیسرا علاج :کثرت سے استغفار و توبہ

اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے عذاب پر حاوی ہے ، انسان جب کسی مصیبت پریشانی اور غم میں مبتلا ہو جائے تو اسے چائے کہ اللہ تعالیٰ سے کثرت کے ساتھ استغفار و توبہ کرے،یعنی فوراََ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے پرور دگار سے مغفرت طلب کرے، اور اس کی طرف رجوع کرے، سچی توبہ کرتے ہوئے گناہوں کو چھوڑ نے کا عہد کرے، کیونکہ اکثر مصائب انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں۔

فرمان باری تعالیٰ ہے:

[وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ][الشوری:30]

’’تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے، اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے‘‘۔

اور یہ تو اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے ورنہ اگر ہمارے ہرگناہ پر پکڑ ہوتی ، جیسااللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ][الفاطر آیت: 45]

’’اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر ان کے اعمال کے سبب ان کی پکڑ فرمانے لگتا تو روئے زمین پر ایک جاندار کو نہ چھوڑتا‘‘۔

انسان جب گناہ کرتا ہے تو اس کا نتیجہ پریشانی اور غم کی صورت میں سامنے آتا ہے کیونکہ گناہ کی لذت وقتی اور عارضی ہوتی ہے، اور گناہوں کی نحوست اس کے دن کا آرام اور راتوں کی نیند چھین لیتی ہے۔

فرمان باری تعالیٰ ہے:

[اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى] [ ہود:3]

 

’’اور یہ کہ تم لوگ اپنے گناہ اپنے رب سے معاف کراؤ پھر اس کی طرف متوجہ رہو، وہ تم کو وقت مقرر تک اچھا سامان (زندگی) دے گا‘‘۔

 نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو یہ ہی درس دیا،جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نےکیا:(فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًا يُّرْسِلِ السَّمَاۗءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًاوَّيُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَيَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّيَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًا مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًا)[ نوح آیت: 10تا13 ]

’’اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواؤ (اور معافی مانگو) وہ یقیناً بڑا بخشنے والا ہےوہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گااور تمہیں خوب پے درپے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لئے نہریں نکال دے گا۔تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی برتری کا عقیدہ نہیں رکھتے۔‘‘

چوتھا علاج:اللہ تعالیٰ کا ذکر

فرمان باری تعالیٰ ہے:

(اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ ۭ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ)[الرعد:28]

جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے۔

ذکر اللہ سے مراد اللہ تعالیٰٰٰ کی توحید بھی ہے، ذکر اللہ سے مراد دعا،تلاوت قرآن،نوافل بھی ہے۔ کائنات کے امام کا فرمان ہے:’’جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے،وہ درست ہو تا ہے تو سارا جسم صحیح ہوتا ہے، اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو سارا جسم خراب ہوجاتا ہے اور وہ دل ہے۔‘‘[3]

فرمان باری تعالیٰ ہے:[فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ][البقر ۃ:152]

’’ اس لئے تم میرا ذکر کرو میں بھی تمہیں یاد کروں گا‘‘۔

حدیث قدسی ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جیسا وہ مجھ سے گمان رکھے جب وہ میرا ذکر کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اگر اپنے جی میں ذکر کرے تو میں بھی اسے اپنے جی میں یاد کرتا ہوں،اور اگر وہ کسی مجلس میں میرا ذکر کرے تو میں اس سے بہتر مجلس میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔ ‘‘{[4]

ذکر اللہ کا فائدہ :جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہو جائےتوکیا پھر پریشانیاں ،دکھ اور غم اس کے قریب آئیں گے۔

فرمان باری تعالیٰ ہے:

( وَالذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّالذّٰكِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا) [الاحزاب:35]

’’بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں (ان سب کے)لئے اللہ تعالیٰ نے (وسیع مغفرت)اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے‘‘۔

انبیاعلیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے ذکر کرنے کا حکم دیا۔

جبزکریا علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں: [ھُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ ۚ قَالَ رَبِّ ھَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۚ اِنَّكَ سَمِيْعُ الدُّعَاۗءِ][آل عمران:38]

’’اسی جگہ زکریا (علیہ السلام)نے اپنے رب سے دعا کی، کہا کہ اے میرے پروردگار مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما۔ بیشک تو دعا کا سننے والا ہے۔‘‘

فرمان باری تعالیٰ ہے:

 [وَاذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِيْرًا وَّسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْاِبْكَارِ][ آل عمران:41]

’’تو اپنے رب کا ذکر کثرت سے کر اور صبح شام اسی کی تسبیح بیان کرتا رہ ‘‘۔

یونس علیہ السلام ایک بہت بڑے غم ،پریشانی اور دکھ و مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں ایک بہت بڑی مچھلی اللہ کے حکم سے ان کو نگل کر سمندر کی تہہ میں جا بیٹھتی ہے،رات کا اندھیرا، مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا،اور سمندر کی تہہ کا اندھیرا۔

فرمان باری تعالیٰ ہے:

[فَنَادٰي فِي الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ ][الانبیاء:87]

’’بالا آخر وہ اندھیروں کے اندر سے پکار اٹھا کہ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے بیشک میں ظالموں میں ہوگیا‘‘۔

پھر فرمایا:[فَاسْتَجَبْنا لَهٗ ۙ وَنَجَّيْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ]

’’ تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات دے دی‘‘۔

پھر فرماما:[وَكَذٰلِكَ نُـــــْۨـجِي الْمُؤْمِنِيْنَ ][ الانبیاء:88]

’’اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیا کرتے ہیں ‘‘۔نیز فرمایا:

[فَلَوْلَآ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِيْنَ) (لَـلَبِثَ فِيْ بَطْنِهٖٓ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ][ الصافات:143، 144]

’’پس اگر یہ پاکی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے۔ تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ میں ہی رہتے۔‘‘

سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں لیکن میزان میں وزنی ہیں اور اللہ کو محبوب ہیں۔‘‘

’سُبْحَانَ اللہ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللہ الْعَظِيمِ‘

سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’سُبْحَانَ اللہُ وَالْحَمْدُ للہُ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ وَاللہُ أَکْبَرُ‘

کہنا میرے نزدیک ہر اس چیز سے محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔

اندازہ کریں سورج جب طلوع ہوتا ہے تو اس کی روشنی تمام چیزوں پر پڑتی ہے۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ’سُبْحَانَ اللہ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ‘

کہتا ہے اس کیلئے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔

سیدناابی ذررضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا:’’ کیا میں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ تمہیں نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ضرور بتائیں۔ فرمایا: کہو ’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہِ‘

سیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا :’’افضل ترین ذکر ’ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ‘ اور افضل دعا (الْحَمْدُ للہ) ہے۔‘‘

پانچواں علاج:نیک اعمال

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جگہ جگہ نیک اعمال کرنے کا حکم اور ترغیب دی ہے، اور یہ وضاحت بھی فرمائی ہے کہ نیک اعمال ہی دنیا اور آخرت کی فلاح کا راستہ ہیں۔جہاں نیک اعمال کا اہتمام انسان کی کامیابی کی بنیاد ہے،وہاں غموں،پریشانیوں اور دکھوںسے بچنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ۚوَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ][ النحل:97]

’’جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن با ایمان ہو تو ہم یقیناً اسےنہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔(حَيٰوةً طَيِّبَةً) بہترزندگی سے مراددنیا کی زندگی ہے،یعنی دنیا کی زندگی میں بھی وہ خوش اور اسے سکون ملے گا،دوسرا فائدہ اور آخرت میں بھی جو اس نے نیک اعمال کیے تھے اچھا بدلہ دیا جائے گا۔[ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا ][الکہف:30]

’’ہم کسی نیک عمل کرنے والے کا ثواب ضائع نہیں کرتے ‘‘۔

حدیث نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم ہے:سیدناابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،ایک مرتبہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا کائنات کے امام نے فرمایا:’’یہ آرام پانے والا یا آرام دینے والاہے؟صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو سمجھ نہیں آئی ،کائنات کے امام نے فرمایا :ایماندار نیک عمل کرنے والا بندہ تو مرکر دنیا کی تکالیف،مصیبتوں اور غموں سے نجات پاکر اللہ تعالیٰ کی رحمت میں آرام پاتا ہے، اور بےایمان،فاسق و فاجرکے مرنے سے دوسرے لوگ،شجر،درخت اور چوپائے آرام پاتے ہیں۔‘[5]

اس لیے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی خوشحال اورپر سکون ہو تو نیک اعمال میں جلدی کریں ۔جیسا کہ کائنات کے امام نے فرمایا:

’بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنْ الدُّنْيَا‘[6]

’’ ان فتنوں کے ظاہر ہونے سے پہلے جلد جلد نیک اعمال کرلو جو اندھیری رات کی طرح چھا جائیں گے صبح آدمی ایمان والا ہوگا اور شام کو کافر یا شام کو ایمان والا ہوگا اور صبح کافر اور دنیوی نفع کی خاطر اپنا دین بیچ ڈالے گا۔‘‘

دکھوں،غموںاورپریشانیوںسےچھٹکاراحاصل کرناچاہتےہیںتونیکیوںکی طرف جلدی کریں۔اعمال صالحہ ایسی نیکیاں ہیں جو ظاہر طور پر ہلکی پھلکی ہیں ، جنہیں ہم معمولی سمجھ کر ضائع کردیتے ہیں،حالانکہ قطرے قطرے سے سمندر بنتا ہے،کئی چھوٹی چھوٹی نیکیاں مل کر ایک بہت بڑےاجر و ثواب کا باعث بن سکتی ہیں پھر ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کسی انسان کی معمولی سے نیکی کی وجہ سے اس کی مغفرت کر دیتا ہے جیسا کہ حدیث ِ مبارکہ ہے: رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ ایک آدمی چل رہا تھا، اسی دوران میں اسے پیاس لگی وہ ایک کنویں میں اترا اور اس سے پانی پیا، کنویں سے باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا ہے، اس نے کہا کہ اس کو بھی ویسی ہی پیاس لگی ہوگی جیسی مجھے لگی تھی،چنانچہ اس نے اپنا موزہ پانی سے بھرا پھر اس کو منہ سے پکڑا پھر اوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا اللہ نے اس کی نیکی قبول کی، اور اس کو بخش دیا، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کیا چوپائے میں بھی ہمارے لئے اجر ہے، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:  ہر تر جگر والے( یعنی جاندار) میں ثواب ہے۔‘‘

جبکہ بعض اوقات ایک معمولی سا گناہ بھی کسی انسان کو رحمت الہٰی سے دور کردیتا ہے۔سیدہ اسما بنت ابی بکر رضی اللہ عنھماسے روایت ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف کی نماز پڑھی، اور فرمایا :’’ مجھ سے دوزخ قریب ہوگئی یہاں تک کہ میں نے کہا کہ اے پروردگار!کیا میں بھی ان دوزخیوں کے ساتھ ہوں گا!اتنے میں میری نظر ایک عورت پر پڑی، میں نے خیال کیا کہ اس کو ایک بلی نوچ رہی ہے، آپ نے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے؟ تو فرشتوں نے کہا کہ اس عورت نے بلی کوقیدکررکھاتھا(نہ اپنے گھر کھلایانہ آزاد کیانہ وہ خود کچھ کھالے) یہاں تک کہ بھوک کے سبب سے مر گئی۔‘‘{

آج دنیا کی زندگی میں شاید ہمیں نیکیوں کی قدرو قیمت کا احساس نہیں لیکن کل قیامت کے دن یہ ہی وہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہوں گی جو ہمارے نامہ اعمال کو بھر دیں گی اس لیے نیک اعمال کرکے اس دنیا کو بھی اچھا بنائیں اور اپنی آخرت کو بھی سنواریں تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل ہو۔آئیے چند ایک نیکیوں کی طرف نظر ڈالیں۔

(1)اچھی نیت کرنا (2)کسی مسلمان کی مدد کرنا (3)کسی مسلمان کے عیب کے پردہ پوشی کرنا (4)نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا (5)سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنا (6)نماز جنازہ پڑھنا (7)دینی علم سیکھنا (8) سلام کرنا، سلام کا جواب دینا (9)پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنا (10)صلح کرادینا (11)جماعت میں صف کے خلا کو پر کردینا (12)صلہ رحمی کرنا (13)تلاوت قرآن کریم (14)زبان کو قابو میں رکھنا (15)فرض نماز کے بعد اذکار (16)جمعہ کے دن جلدی مسجد جانا (17)وضو کے بعد دعا پڑہنا (18)پہلی صف میں دائیں طرف نماز پڑہنا (19)اللہ سے دعا کرنا (20)ذکر اللہ کرتے

رہنا (21)درود شریف پڑھنا۔

چھٹا علاج:یہشعور کہ غم گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہیں

ایک سچا مسلمان اس بات کو جانتا ہے کہ اسے دنیا میں جو بھی چھوٹا بڑا غم یا پریشانی لاحق ہوتی ہے اس کے بدلے اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جیسا کہ صادق ومصدوق جناب محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مسلمانوں کو جب کوئی رنج، دکھ فکر، حزن ایذا اور غم پہنچتا ہے یہاں تک کہ کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰٰٰ اس کے ذریعہ اس کے گناہ دور کر دیتا ہے۔‘‘

اس حدیث کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک مسلمان کو پہنچنے والا ہر غم اور پریشانی دکھ محض بیکار نہیں بلکہ اس کی نیکیوں اور اچھائیوں میں اضافے اور اس کے گناہوں میں کمی کا باعث ہے۔(شرط)یہ ہے کہ انسان کا عقیدہ درست ہو اور وہ صبر کرے۔علمائے سلف میں سے بعض نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اگر غم نہ ہوتے تو ہم قیامت کے دن مفلس اور خالی ہوتے،ان میں سے بعض وہ بھی تھےجو غم پریشانی اور مصیبت پر ایسے ہی خوش ہوتے جیسے ہم کوئی نعمت ملنے پر خوش ہوتےہیں۔کسی کی غلطی کی سزا اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں ہی دے دے اور آخرت کا عذاب اس سے ختم کر دیا جائے تو اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوگی۔

مسند احمد میں یہ روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک آدمی کی ملاقات ایسی عورت سے ہوئی جو زمانہ جاہلیت میں جسم فروشی کیا کرتی تھی،اس آدمی نے اس عورت سے چھیڑ خانی شروع کردی اس عورت نے کہا رک جاؤ اللہ تعالیٰ نے زمانہ جاہلیت کا دور ختم کردیا ہے،اور ہمیں اسلام کی طرف ہدایت دی ہے، جب اس نے یہ الفاظ سنے تو گھبرا کر جلدی سے پیچھے ہٹ گیا، کہ اچانک اس کا چہرا دیوار سے رگڑ کھا کر زخمی ہوگیا، وہ آدمی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس گیا،اور سارا ماجرا سنایا،رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بندے اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے،کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے ،تو اس کو اس گناہ کی سزا بہت جلد دے دیتا ہے،اور جب کسی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتاہے تو اس کی سزا قیامت تک کے لیے مؤخر کردیتا ہے ،تاکہ اس کو جہنم کی آگ میں پھینکے۔‘‘

اس لیے اگر دنیا میں کوئی غم ، کوئی پریشانی یا تکلیف آئے تو صبر کریں۔اور ان غموں کو اپنے لیے رحمت سمجھیں۔

ساتواں علاج:موت کو یاد رکھنا

انسان جب اپنی موت کو ہر وقت یاد رکھتا ہےتو بہت سارے غموں اور پریشانیوں سے اپنے آپ کو بچا لیتا ہے،جس طرح صحیح بخاری میںرسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ لذات کو ختم کرنے والی یعنی موت کو زیادہ سے زیادہ یاد کیا کرو‘‘۔

جب انسان اس بات کو اپنے دل میں جگہ دے کہ موت کسی وقت بھی اس کے تمام منصوبوں کو درہم برہم کر سکتی ہے، تو بہت سی پریشانیاں اور غم اپنے آپ ختم ہو جاتے ہیں۔قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے کئی ایک مقامات پر اس حضرت انسان کو موت کی یاد دہانی کرائی ہے۔

؎  آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں۔

آٹھواں علاج:اللہ تعالیٰ سے مسلسل دعاکرتےرہنا

غم ختم کرنے اور پریشانی دور کرنے کا ایک بہترین علاج دعا ہے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر وقت دعا کرتا رہے کہ پرور دگار اسے ہر غم ،پریشانی اور مصیبت سے بچائے رکھے۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم جیسی ہستی بھی کثرت سے پریشانیوں ،غموں اور مصیبتوں سے بچنے کے لیے دعا کیا کرتے تھے۔

پیارے پیغمبر کے خادم انس رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ میں ایک دفعہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا، جب کسی جگہ پر ٹھہرتے تو میں نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو کثرت سے دعا کرتے ہوئے دیکھا، وہ دعا یہ تھی،’اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ‘

’’اے اللہ میں فکر،عاجزی اورسستی،بخیلی اور بزدلی،قرض داری کے بوجھ اور ظالموں کے غلبے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے  فرمایا:[اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ] [النمل : 62]

’’بے کس کی پکار کو جب کہ وہ پکارے، کون قبول کر کے سختی کو دور کر دیتا ہے‘‘۔اس لیے جب بھی انسان پر کوئی غم، دکھ،پریشانی نازل ہو تو وہ حقیقی خالق کے سامنے ہی اپنے ہاتھ پھلائے۔

جس طرح اللہ تعالیٰ نےقرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:

[وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ ۭ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙفَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَلْيُؤْمِنُوْابِيْ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ][البقرہ : 186]

’’جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہیے وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے۔‘‘

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی پریشانی ہوتی۔ تو آپ یہدعا پڑھتے:

’يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ‘

’’ اے زندہ رہنے والے اے سب کو تھامنے والے میں تیری رحمت کے ساتھ مدد مانگتا ہوں۔‘‘

سیدہ آسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہافرماتی ہیں مجھے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کیا میں تجھے ایسے کلمات نہ بتاؤں ،جو تو مصیبت اور پریشانی کے وقت کہا کرے۔(أَللہُ أَللہُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا)

’’اللہ اللہ میرا پروردگار ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔‘‘

نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے مصیبت زدہ کے لیے ایک اور دعا بتائی ہے:’اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ‘

’’اے اللہ میں تیری رحمت ہی کی امید رکھتا ہوں،بس تو آنکھ جھپکنےکے برابر بھی مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کر اور میرے لیے میرے تمام کام درست کردے، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔‘‘

 

اس لیے ہمیں چاہیے کہ مشکل ہو یا آسانی ہو،ہم ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعا ئیں مانگتے رہیں۔آپ اندازہ لگائیں،انبیاء علیہ السلام پر بھی جب کوئی پریشانی یا غم یا تکلیف آئی تو انھوں نے بھی سب سے پہلے دعا کا سہارا لیا۔ہم سب کے والد آدم علیہ السلام ایک نافرمانی سرزد ہو جانے کی وجہ سے پریشان ہوئے،تو اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ دعا سکھلائی[رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَاوَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ](اعراف:23)

’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے‘‘۔

سیدنانوح علیہ السلام کی دعا: [اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ]( القمر:10)

’’میں (کافروں کے مقابلے میں)کمزور ہو تو میری مدد فرما‘‘۔

سیدنازکریا علیہ السلام کی دعا: [رَبِّ لَا تَذَرْنِيْ فَرْدًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَ]( انبیاء:89)

’’اے میرے پروردگار! مجھے تنہا نہ چھوڑ، تو سب سے بہتر وارث ہے۔‘‘

سیدنا ایوب علیہ السلام کی دعا: ( وَاَيُّوْبَ اِذْ نَادٰي رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ)[الانبیاء:83]

’’ایوب (علیہ السلام) کی اس حالت کو یاد کرو جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘

سیدناموسی علیہ السلام کی دعا: [ رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ ][القصص:16]

’’اے میرے رب میں نے اپنے نفس پر ظلم کر ڈالا میری مغفرت فرما۔‘‘

جیسا کہ پہلے بیان کیا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کررہے ہیں حالانکہ اگلے پچھلے گناہ سب معاف ہیں پھر بھی ان کی زندگی کا کوئی بھی لمحہ ایسا نہیں کہ وہ اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے گھر میں داخل ہوتے نکلتے دعا کر رہے ہیں۔

چند ایک دعائیں جو نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔

’اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ‘

 

’’ اے اللہ میں تجھ سے طلب کرتا ہوں بخشش اور سلامتی دنیا اور آخرت میں‘‘۔

ایک اور دعا:’اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا‘

’’اے اللہ میں تجھ سے طلب کرتا ہوں ایسا علم جو مفید ہے،پاک روزی اور ایسا عمل جو مقبول ہو‘‘۔

ایک اور دعا:’اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى‘

اے اللہ میں تجھ سے طلب کرتا ہوں ہدایت،تقویٰ،پاک دامنی اور استغفار۔

ان چار الفاظ پر غور کریں کہ جسے ہدایت مل جائے،جسے اللہ کی طرف سے رہنمائی حاصل ہو جائے اور جو اس کام سے بچ جائے، جو ہواللہ کی ناراضگی کاباعث ہواور جو پاک دامن بھی ہو۔غنی سے مراد اللہ نے اسے اتنا دیا ہو کہ اس کے بعد اسے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہ ہو،اللہ اکبر کتنی عظیم دعا ہے۔

اگر ہم ان دعاؤں کو خود بھی یاد کریں اور گھر میں بیوی اور بچوں کو بھی یاد کرائیں تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے گھروں سے بہت سارے غم ،پریشانیاں اور دکھ ختم ہو جائیں گے۔’لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنْ الدُّعَاءِ)

فرمایا:’’اللہ کے ہاں دعا سے زیادہ عظمت والا کوئی عمل نہیں۔‘‘

 نواں علاج:نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کی کثرت

دکھوں ،غموں اور پریشانیوں کا ایک بہتریں علاج نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود شریف کا اہتمام ہے۔

نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بڑی اہم نیکی ، گناہوں کی معافی کا سبب، درجات کی بلندی، غم و پریشانی سے نجات ، دعا کی قبولیت کا وسیلہ ہے،سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتے ہیں کہ میں آپ پر کثرت سے درود پڑھتا ہوں دعا میں آپ پر صلی اللہ علیہ وسلم  پر کتنا درود پڑھوں ؟آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تو جتنا چاہے تیرے لیے بہتر ہے پھر تیرا یہ مجھ پر درود پڑھنا تیرے تمام غم دور کردے گا، اور تیرے گناہ معاف ہوجائیں گے‘‘۔

دسواں علاج:نماز کا اہتمام کرنا

نماز مومن کی معراج ،آنکھوں کی ٹھنڈک ،دل کا سکون اور غموں اور پریشانیوں کو ختم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں اہل ایمان والوں سےفرمایا:

[يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ۭاِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ][البقرہ:153]

’’اے ایمان والو صبر اور نماز کے ذریعہ سے مدد چاہو، اللہ تعالیٰٰٰ صبر والوں کے ساتھ ہے۔‘‘

 محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی بھی پریشان ہوتے یا انھیں تکلیف دہ معاملہ سے واسطہ پڑتا تو آپ فورًا دو رکعت نماز پڑہتے اور اللہ تعالیٰ سے اس تکلیف کو رفع کرنے کے لیے مدد طلب کرتے ۔ تو اے غموں، پریشانیوں اور دکھوں میں مبتلا میرے بھائیو اور بہنوں ،وضو کر کے دو رکعت پڑہو اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو۔(اورپانچوں نمازوں کی پابندی کیا کریں)

گیارہواںعلاج:اللہ تعالیٰ کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کا اقرار

پریشانیوں کو ختم کرنے کا ایک آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ظاہری و باطنی نعمتوں پر غور کرنے اور ان کے بدلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی کوشش کرتا رہے،کیونکہ شکر ایسی دولت ہے جو انسان کو مذید نعمتوں کا وارث بناتی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

[وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ][ إبراہیم:7]

’’اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکرگزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیادہ دوں گا‘‘۔

انسان ہر وقت اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہے،اتنی بے شمار نعمتیں جیسا کہ میں فرمایا:

[وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا][النحل آیت18]

’’اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کوگننا بھی چاہو تو نہیں گن سکتے‘‘۔

اگر انسان تھوڑا سا غور کرے کہ رب کائنات نے اسے کتنی نعمتیں دے رکھی ہیں اور بے شمار نعمتیں تو بن


 

 مانگے اللہ تعالیٰ بے حساب دے رہا ہے،تو بہت ساری تکالیف ،غموں اور پریشانیوں سے چھٹکار مل جائے گا۔

 جناب محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اپنے سے کم تر کی طرف دیکھو اور اپنے سے زیادہ (مالدار)کی طرف نہ دیکھو تاکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں تمھیں حقیر محسوس نہ ہوں۔

 آج اگر ہم اللہ تعالیٰ کی ظاہری اور باطنی ،دینی اور دنیاوی نعمتوں پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلے گا کہ پروردگار نے ہمیں خیر کثیر عطا کر رکھی ہے اور بہت ساری تکالیف ،غموں اور پریشانیوں سے نجات دے رکھی ہے۔

بارہواں علاج:صبر کرنا

پریشانیوں اور دکھوں کا بہترین اور بنیادی علاج صبر ہے۔[يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ۭاِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ][ البقرہ:153]

اے ایمان والو صبر اور نماز کے ذریعہ سے مدد چاہو، اللہ تعالیٰٰٰ صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کے ہر کام میں اس کے لیے بھلائی ہے اور یہ مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے ،کہ اگر اسے خوشی ملتی ہے ،تو اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور یہ شکر کرنا بھی اس کےلیے بہتر ہے‘‘۔(یعنی اس پر اجر ہے)اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے ،تو یہ صبر کرنا بھی اس کے لیے بہتر ہے یعنی صبر بھی بجائے خود ایک عمل اور باعث اجر ہے۔

 اللہ تعالیٰ نے فرمایا:[وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ)[البقرۃ:155]

اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔

سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’ میرا وہ مومن بندہ جس کی محبوب چیز میں واپس لےلوں ،لیکن وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کرے تو اس کے لیے میرے پاس جنت کے سوا کوئی بدلہ نہیں ہے‘‘۔

بچے ،بیوی،والدین یہ سب انسان کے لیے محبوب ترین چیزیں ہیں۔ان کی وفات پر اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر صبر کرنا جنت میں داخلے کا سبب ہے۔اور صبر بھی پہلے لمحات میں۔ جیسا کہ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ اتَّقِي اللہ وَاصْبِرِي إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى‘[7]

سیدناانس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:’’ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گذرے جو ایک قبر کے قریب رو رہی تھی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ سے ڈرو!اور صبر کرو!صبر تو وہی کہلائے گا جو ابتداء مصیبت میں ہو‘‘۔

سیدناابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ کہ مسلمان کو جو بھی تھکان،بیماری،فکر،غم اور تکلیف پہنچتی ہے حتی کہ کانٹا بھی چبھتا ہے ،تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے‘‘۔

اللہ اکبر دیکھیں ایک مومن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل کا خاص معاملہ ہے کہ دنیا میں غموں اور تکلیفوں کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیا،بشرطیکہ مومن صبر کرے۔

شدت غم اور رنج میں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے،جو دعائے کرب کے نام سے مشہور ہے:

’لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ‘

 ’’نہیں ہے کوئی معبود برحق مگر اللہ وہ اکیلا ہے نہیں کوئی شریک اس کا ،اسی کی بادشاہت ہے اوراسی کے لیے ہر تعریف، اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے‘‘۔

کسی مصیبت یا غم کی خبر سنتے ہی یہ دعا پڑھنی چاہیے:’إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْھَا إِلَّا أَخْلَفَ اللہُ لَهُ خَيْرًا مِنْھَا‘

’’يقيناً ہم اللہ ہی کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں یا اللہ مجھے میری مصیبت کے عوض بہتراجر دے اور اس سے بہتر بدلہ عطا فرما‘‘۔

 جو آپ کی تقدیر میں لکھا جاچکا ہے وہ آپ کو پہنچ کررہےگا،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نےارشاد فرمایا:[قُلْ لَّنْ يُّصِيْبَنَآ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا ۚهُوَ مَوْلٰىنَا ۚوَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ][التوبہ:51]

’’ہرگز ہمیں نہیں پہنچے گا مگر وہ ہی جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا ہے وہ ہی ہمارا کارساز ہے اور مومن اللہ ہی پر بھروسا رکھیں‘‘۔

اور فرمایا:[مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا ۭ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ][الحدید:22]

’’نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ تمہاری جانوں میں مگر اس سے پہلے ہم اس کو پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے اور یہ (کام)اللہ تعالیٰ پر آسان ہے‘‘۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق یعنی بنانے سے پچاس ہزار سال قبل ہی ساری تقدیریں لکھ دیں تھیں‘‘۔

 پھر کسی چیز کے جانے کا اتنا غم کیوں کہ اپنے آپ کو بیمار کرلیں یا خود کشی کریں۔

یہ چند ایک نسخے دکھوں، غموں اور پریشانیوں کے علاج کے تحریرکیے ہیں،جن کے نفاذ سے يقيناًانسان اپنی الجھی اور غمزدہ زندگی کو دوبارہ(حیاۃََ طیبۃََ)میں تبدیل کرسکتا ہے، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تاحیات اپنی ہدایت اور حفظ و امان میں رکھے۔



[1] ریسرچ اسکالر المدینہ اسلامک ریسرچ سینڑ کراچی

[2] صحیح البخاری:کتاب الزکوٰۃ،باب اتقواالنار ولو بشق ثمرۃوالقلیل منی صدقۃ

[3] صحیح بخاری:کتاب الایمان،باب فضل من استبرأ لدینہ

[4] صحیح المسلم:باب الحث علی ذکرہ اللہ تعالیٰ ،ج4ص2061

[5] صحیح البخاری:حدیث۔6147،صحیح المسلم۔950

[6] صحیح المسلم :باب الآبار علی الطرق اذا لم یتا ٔ ذبھا

[7] صحیح البخاری:کتاب الجنائز،باب زیارۃ القبور