بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

ہفتہ, 24 مارچ 2018 13:38

اپنے بیماروں کا علاج کتاب و سنت سے کیسے کریں؟

مقرر/مصنف 

اپنے بیماروں کا علاج کتاب و سنت سے کیسے کریں؟!

 مترجم :  خالدحسین گورایہ [1]

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علي سید الأنبیاء والمرسلین نبینا محمد وعلیٰ آلہ وصحبہ أجمعین۔۔۔۔۔۔۔ أما بعد!

تمہید :

تمام تعریفات اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں جو یہ فرماتاہے کہ

{ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ}

ترجمہ : ’’ اے لوگوں! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے اور دلوں میں جو روگ ہیں ان کے لئے شفا ہے اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان  والوں کے لئے‘‘۔ [يونس: 57]

اور درود وسلام ہو پیارے محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  پر جو یہ فرماتے ہیں کہ ’’ بیشک اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کے ساتھ اس کی دوا بھی اتاری ہے جس نے جان لیا اس نے جان لیا اور جو جاہل رہا وہ جاہل ہی رہا ‘‘۔[2]

اما بعد :

آج کے اس آخری دور میں قرآن مجید سے علاج کرنے کی صورت عام ہوچکی ہے ۔ یہصورت  بلاشک وشبہ ایک بہت اچھی چیز ہے ، لیکن جو چیز پریشان کن اور قابلِ افسوس ہے وہ یہ کہ اس کام کو سرانجام دینے والے چند جاہل قاری حضرات ہیں جو علم شرعی سے بالکل کورے ہوتے ہیں ، ان کا یہ منافع بخش کاروبار بن گیاہےاور لوگوں کا مال باطل وناجائز طریقوں سے بٹورنے  میں لگے ہوئےہیں ۔ جبکہ دوسری جانب بہت سے لوگ محض میڈیکل علاج پر تکیہ کرکے شرعی دواؤں اور دعاؤں کو بالکل فراموش کر چکے ہیں ۔ یہی وہ بنیادی وجہ تھی جس بنا پر اس موضوع پر ایک عاجزانہ تحریر لکھنے کیلئے میں نے قلم اٹھایا ، جب میں نے محسوس کیا کہ لوگوں کے عقائد ( بالخصوص ان قراء حضرات کے)  درست کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔( ان میں اہل توحید بھی ہیں ) کہ ان کا بدعات طلاسم اور صوفی خرافات سے ناطہ وتعلق توڑا جائے ، اس کے ساتھ ان ڈاکٹرز حضرات کی اصلاح کی بھی ضرورت ہے جنہوں نے بیماری میں ایمان کے کرادار کو بالکل فراموش کردیاہے اور صحیح شرعی دم سے لاپرواہی اور پہلو تہی اختیار کرتے ہیں ۔

 اس لئے ضروری تھا کہ چند ضروری قواعد وضوابط متعین کردئے جائیں ، اور قرآنی علاج کےلئے چند کلینک کھولے جائیں تاکہ کتاب وسنت کے دلائل کی روشنی میں صحیح شرعی مفاہیم کی وضاحت کے ساتھ اس شعبہ کوشعبہ بازوں اور دجالوںسے محفوظ کیا جاسکے ۔ یہ کلینک دیگر طبی ونفسیاتی ہسپتالوں  

کےساتھ اور سرکاری( سعودی حکومت کی) سرپرستی میں ہونے چاہئیں ، اس کے ساتھ مناسب قراء اور صلاح وتقویٰ اور علم شرعی سےمالا مال لوگوںکو منتخب کرکے وہاں بٹھایاجائے اس کے ساتھ مسلسل ان کی نگرانی بھی کی جاتی رہنی چاہئے ، اسی ذریعہ سے اصل دوا یعنی شرعی دم اور سببِ دوا یعنی مادی وطبی اشیاء میں جمع ممکن ہے ۔ رسو ل اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا علاج میں یہی منہج ہو اکرتاتھا جیسا کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :’’ تم دو شفاؤں کو لازم پکڑو قرآن اور شہد ‘‘۔[3]

علامہ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس فرمان میں طبِ بشری اور طب الٰہی  دونوں کو یکجا کردیاہے ‘‘۔[4]

چونکہ لوگوں کی غالب واکثر بیماریوں کی وجہ نظر بد ہوتی ہے اور اس حدیث ( العین حق ) (نظر بر حق ہے )کا معنی یہ ہے اللہ کا ذکر کئے بغیر کسی کی توصیف وتعریف کرنا ( زبان کا زہر ہے )  نہ کہ اس سے مراد آنکھ بطور آلہ مراد ہے ۔ اس کی نسبت آنکھ کی جانب ا س لئے کی گئی ہےکہ کیونکہ حقیقت حال کا وصف وہی بیان کر رہی ہوتی ہے ، اس وقت موقع پر موجود شیاطین اسے لے کر موصوف کو تکلیف دینے کی ٹھان لیتے ہیں ( اللہ کے حکم سے ) کیونکہ نظر بد کا یہ مفہوم شرعی میرے علم کے مطابق شاید اس سے پہلے بیان نہیں ہوا ، لہٰذا میں نے اس کتابچہ میں بے پناہ کوشش کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بعد عقیدہ کے متخصص علماء کرام کی رہنمائی سے(دم) کی شرعی اصول بندی کردی جائے جوکہ زیادہ ضروری تھا ۔ [5]

 میں اللہ سے درخواست کرتا ہوں جو عظمت والا ہے اور بڑی عظمت والے عرش کا مالک ہے کہ وہ اس کتابچہ کو پڑھنے والے اسے لوگوں تک پہنچانے والےاور اس کے لکھنے والے کیلئے دعا کرنے والے کو اس سے فائدہ پہنچائے ۔ {إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ} [هود: 88]

ترجمہ:’’ میں تو جہاں تک ہوسکے اصلاح ہی چاہتا ہوں‘‘

 وصلی اللہ علی نبینا محمدوآلہ وسلم

فصل اول :

علاج کا طریقہ کار

کسی بھی نوعیت کی بیماری کے علاج سے قبل چند ضروری قواعد اور اقدامات کو مدنظر رکھنا بہت ضروری ہوتاہے ، جن میں سے چند ایک ذیل میں درج کئے جاتے ہیں :

(1)  فراست سے کام لینا : فرمان باری تعالیٰ ہے :{ إِنَّ فِي ذٰلِكَ لَآيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ} [الحجر: 75]

ترجمہ : ’’ بلا شبہ گہری نظر رکھنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ‘‘۔

فراست {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} [الفاتحة: 5] کے منازل ومراتب میں سے ایک اہم مرتبہ ہے ۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’ مدارج السالکین(2/284) ‘‘ میں رقمطراز ہیں کہ ’’مجاہد کہتے ہیں ’’ متوسمین‘‘ سے مراد فہم وفراست رکھنے والے ہیں ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’ دیکھنے والے مراد ہیں ۔ قتادہ کہتے ہیں ’’ عبرت ونصیحت حاصل کرنے والے ‘‘ جبکہ مقاتل کہتے ہیں ’’ غور وفکر کرنے والے مراد ہیں ‘‘۔

فراست سے مراد : ظاہری حالات وواقعات کی روشنی میں باطنی اخلاق وکردار کا اندازہ لگانا مراد ہے ۔[6]

یہاں اسی فراست کے حوالے سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت نقل کرنا ضروری ہے وہ فرماتی ہیں  :’’رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ان کے گھر میں ایک لڑکی کو دیکھا جس کے چہرے پر نشان تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا اس کو دم کرو، اس کو نظر لگ گئی ہے‘‘ ۔[7]

( حدیث میں لفظِ ’’سفعۃ‘‘وارد ہوا ہے )اس کی تعریف میں علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ:’’ ابراہیم حربی فرماتے ہیں :’’ اس سے مراد چہرے کی سیاہی ہے ‘‘۔ اور اصمعی لکھتے ہیں ’’ سیاہی مائل زرد رنگ ‘‘ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ’’ اس سے مراد پیلا پن ہے ‘‘ ۔ اور ابن قتیبہ لکھتے ہیں :’’ ایسے رنگ کا نمایاں ہونا جو چہرے کی رنگت سے منفرد ہو ‘‘۔

(سفعۃ) کی تفسیر میں یہ جو تمام معنی بیان کئے گئے ہیں سب تقریبا قریب قریب ہی ہیں ۔ اگر چہرے کا رنگ زرد ہے تو سفعہ محض سیاہ ہوگا ، اور اگر چہرے کا رنگ سفید ہے تو سفعہ پیلا پن ہوگا ، اگر چہرے کا رنگ سیاہ ہوگا تو سفعہ ایسا زرد رنگ جو سیاہی مائل ہو ، ہوگا ‘‘۔ [8]

لہذا (معالج کو چاہئےکہ ) مریض اگر مرد ہے تو اس کے چہرے کا اچھی طرح جائزہ لے ۔ اور اگر وہ خاتون ہے تو اجنبی مرد کے لئے اس کا چہرہ دیکھنا جائز نہیں ،الا کہ دم کرنے والا شخص اس عورت کا محرم ہو تو وہ اس کا چہرہ دیکھ سکتاہے ۔

(2)   بیماری کی تشخیص اور اس کی نوعیت کا سمجھنا :

لہٰذا پہلے لمحے میں ہی مریض کو مارپیٹ شروع کردینا ، اس کا گلا دبانا ، ناک میں کوئی چیز ڈالنا ، بجلی کا کرنٹ لگانا کار آمد نہیں ہوتا ۔ بلکہ اس طرح کے حربے بسا اوقات مریض یا معالج کیلئے خطرناک نتائج کا باعث بن جاتے ہیں ۔ لہٰذا علاج میں مرحلہ وار ترتیب کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے ۔ کیونکہ جنات کا کسی انسان کے جسم میں داخل ہونا افعالِ منکرات میں سے ایک منکر ہے ، جس کی تردید منکرفعل کے مراتب کو سامنے رکھتے ہوئے کی جانی چاہئے ۔

اس لئے سب سے پہلے مریض پر شرعی اوراد اور قرآن مجید کی آیات پڑھنا بذات خود شفا یابی کا مرحلہ اور کامیاب طریقہ علاج بھی ہے بلکہ یہ اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کے ذریعے سے اس ( شریر ) جن کی ہدایت کی جانب رہنمائی اور دعوت بھی ہے کہ وہ برائی سے تائب ہوکر ہدایت کو قبول کرے ۔

جب ہم رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی جانب سے بعض مریضوں ( جو جنات وشیاطین کے متاثرہ تھے ) کے علاج کا جائزہ لیتے ہیں کہ آپ نے ان متاثرہ افراد کا علاج کیسے کیا تو اس کی حکمت اور تاثیر کا آپ کو بخوبی اندازہ ہوجائے گا ۔

ان میں سے چند ایک لمحات ومواقع ملاحظہ فرمائیں ۔

1 امام احمد رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں ایک روایت سیدنا ابن عباس سے نقل کی کہ ’’ ایک عورت اپنے بیٹے کو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں لائی اور عرض کرنے لگی ، اے اللہ کے رسول(  صلی اللہ علیہ وسلم ) ’’ میرے اس بیٹے کو پاگل پن کے دورے پڑتے ہیں جو عموما ہمارے دوپہر اور رات کے کھانے وقت پڑتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ہمارا کھانا خراب کردیتا ہے ۔ فرماتے ہیں :’’ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور اس کیلئے دعا کی ،جس سے اس نے زور سے کھانسااور الٹی کی تو اس کے پیٹ سے کتے کے بچے کی مانند ایک سیاہ جانور نکل کر بھاگا‘‘[9]

2امام احمدرحمہ اللہ ام ابان بنت الوازع اور وہ اپنے والد سے نقل کرتی ہیں کہ ’’ ان کے دادا اپنے ایک پاگل بیٹے کو لیکر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’اسے میرے قریب کرو ، اور اس کی پیٹھ میری طرف کردو ، آپ نے اس کے کپڑے اکٹھے کرکے اوپر اور نیچے دونوں جانب سے مضبوطی سے پکڑے ، اور اس کی پیٹھ پر مارنے لگے ، اور یہ فرماتے رہے ’’ اخسأ عدوا للہ ‘‘ تو وہ لڑکا بالکل ٹھیک طرح سے دیکھنے بھالنے لگ گیا ۔ ابن ماجہ کی روایت میں عثمان بن ابی  العاص کی روایت میں ان الفاظ کا تذکرہ ہےکہ ’’ اخرج عدو اللہ ‘‘ اے اللہ کے دشمن نکل جاؤ ۔ [10]

3 امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں اسامہ بن زید کی ایک طویل حدیث نقل کی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں ’ ’ میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ حج کے سفر پر نکلا یہاں تک کہ جب آپ بطن روحاء کے مقام پر پہنچے تو ایک عورت اپنے بیٹے کو لیکر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئی اور فرمانے لگی اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میرا یہ بیٹا جس دن سے پید اہوا ہے اس دن سے آج تک اس (کی تکلیف ) میں افاقہ نہیں ہوا اور نہ ہوش آیا ہے ، آپ نے اس کے سینے اور پیٹ کے درمیان کجاوہ رکھا پھر اس کے منہ میں تھتکارا ۔ اور فرمایا ’’ اے اللہ کے دشمن نکل جاؤ میں اللہ کا رسول ہوں ‘‘ فرماتے ہیں :’’ آپ نے پھر وہ بچہ اس خاتون کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا ’ ’ اسے لے  جاؤ اب اسے کوئی مسئلہ نہیں ہے ‘‘ ۔ [11]

4امام ابو یعلیٰ حسن الصنعانی کے طریق سے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کرتے  ہیں کہ انہوں نے کسی آسیب زدہ شخص کے کان میں کچھ پڑھا تو وہ ٹھیک ہوگیا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ابن مسعود سے دریافت کیا کہ ’’ آپ نے اس کے کان میں کیا پڑھا ہے؟ ‘‘  ابن مسعود فرمانے لگے میں نے یہ آیات پڑھی ہیں :

{اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ ١١٥؁ فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ ١١٦؁ وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ  ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ  ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ  ۭ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ ١١٧؁وَقُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ ١١٨؁ۧ } [المؤمنون: 115 - 118]

ترجمہ :’’کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یونہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ سچا بادشاہ ہے وہ بڑی بلندی والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی کریم عرش کا مالک ہےاور جو کوئی اس سب کے باوجود اللہ کے ساتھ کسی بھی اور ایسے خودساختہ اور فرضی معبود کو پکارے گا جس کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل  نہیں تو سوائے اسکے نہیں کہ اس کا حساب اس کے رب کے یہاں ہی ہوگا، یہ قطعی اور یقینی امر ہے کہ کافر کبھی فلاح نہیں پا سکیں گے اور اے پیغمبر آپ یوں کہا کریں کہ اے میرے رب، بخشش فرما، اور رحم فرما کہ تو ہی ہے سب سے بڑا رحم کرنے والا‘‘۔

 رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  فرمانے لگے ، اگر کوئی صاحبِ توفیق شخص یہ آیات کسی پہاڑ پر پڑھ دے تو وہ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائے ‘‘۔

امام ہیثمی فرماتے ہیں ’’ اس روایت میں ابن لھیعۃ ہے جو کہ ضعیف ہے اور اس کی حدیث حسن درجے کی ہے ۔ جبکہ سند کے دیگر راوی صحیح کے راوی ہیں ۔‘‘[12]

لہٰذا ان روایات کی رو سے طریقہ علاج میں جو فرق دیکھا گیاہے وہ مرض کے اسباب ، علامات ،


 اور ان کے مختلف طریقہ ہائے علاج کی وجہ سے ہے ۔ یہیں سے ہمارے سامنے بعض معالجین کی ناکامی کی اصل وجہ کھل کر سامنے آجاتی ہےکہ وہ ہر قسم کے امراض وعلامات سے صرف ایک ہی طریقہ ( جو ماردھاڑ کا ہوتاہے ) سے نبٹنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

 (3)قرآن ہر چیز کا علاج ہے :

دوا اور علاج میں بنیادی بات یہ ہے کہ وہ قرآن مجید سے ہونا چاہیے ۔ پھر دوسرے نمبر پر مروج داؤں کے ساتھ ۔ ( یہ محض روحانی امراض میں نہیں ) بلکہ جسمانی امراض میں بھی اسی چیز کو ملحوظ خاطر رکھا جائے ، نہ کہ جیسا بعض جاہل معالجین یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی فرد کی بیماری کا تعلق جسمانی عضو سے ہے تو وہ ہسپتالوں سے رجوع کرے ، اور جس کو نفسیاتی مرض لاحق ہے وہ نفسیاتی کلینک اور ماہرین نفسیات سے رجوع کرے ۔ اور اگر کوئی روحانی بیماری میں مبتلا ہے تو اس کا علاج دم ، ادعیہ اور قرآن سے کیا جاتاہے ۔

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ لوگ اس طرح کی تقسیم کس بنیاد پر کرتے ہیں ؟ جبکہ قرآن دلوں کا علاج اور اس کی دوا ہے ، اور جسموں کی سلامتی اور اس کی شفا ہے ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے :{ وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ  } [الإسراء: 82]

ترجمہ : ’ ’ یہ قرآن جو ہم نازل کر رہے ہیں مومنوں کیلئے تو سراسر شفا اور رحمت ہے ‘‘۔

یہاں لفظ ِ ’’ شفا ء‘‘ پر غور کریں ، اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ قرآن ’’ دوا ‘‘ ہے ۔ بلکہ یہ کہا کہ یہ ’’شفاء‘‘ ہے ۔ کیونکہ شفا دوا کا ظاہری اور حتمی نتیجہ ہے ۔ جبکہ دوا میں یہ احتمال پایا جاتاہے کہ ہوسکتاہے وہ شفا یاب کرے یا نہ کرے ؟

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’ زاد المعاد ‘‘ میں لکھتے ہیں :’’ قرآن مجید ہر قسم کی دلی اور جسمانی، دنیاوی واخروی بیماریوں کا مکمل علاج ہے۔ لیکن ہر کسی کو قرآن سے شفاء حاصل کرنے کی اہلیت اور توفیق نصیب نہیں ہوتی ۔ اگر بیمار شخص اس قرآن سےدوا کا حصول اچھے طریقے سے کرے اور اپنی بیماری پر مرہم مکمل سچائی ، ایمان ، مکمل قبولیت اور اعتقاد کامل وجازم اور شرائط کی تکمیل کے ساتھ رکھے تو اس کا مقابلہ کبھی بھی کوئی بیماری نہیں کرسکتی ۔ اوریہ ہوبھی کیسے سکتاہے کہ بیماریاں رب سماء وارض کے کلام کا مقابلہ کرسکیں ؟! ایسا کلام کہ اگر وہ پہاڑوں پر نازل ہوتا تو انہیں ریزہ ریزہ کردیتا، اور اگر زمین پر نازل ہوتا تو اسے چیر دیتا ۔ لہٰذا دلوں اور جسموں کی کوئی بھی بیماری ہو مگر قرآن میں اس کا علاج اور اس کے سبب پر دلالت ورہنمائی موجود ہے ۔ تو جسے قرآن شفاء نہ دے سکے اللہ اسے کبھی شفاء نہ دے ، اور جسے قرآن کافی نہ ہو اسے اللہ بھی کافی نہ ہو۔‘‘[13]

لہٰذا قرآن مجید سے علاج کرتے وقت یقینِ کامل ، اور اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن رکھنا بہت ضروری ہے ۔ کیونکہ بیمار کے دوا سے فائدہ اٹھانے کی بنیادی شرط ہی یہ ہے کہ وہ اسے قبول کرے اور اس سے فائدہ حاصل ہونے کا اعتقاد رکھے‘‘ ۔ [14]

اللہ تعالیٰ کے کلام کو تجرباتی طور پر استعمال نہیں کیا جاتا ایسا کرنا اعتقاد میں خلل کی دلیل ہے ۔ اگر کسی نے زمزم کے پانی کو بطور تجربہ استعمال کیا تو اسے اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ضروری ہے کہ کامل یقین کے ساتھ اس سے اللہ کے حکم سے فائدہ حاصل ہونے کے عقیدہ کے ساتھ پیا جائے تو فائدہ حاصل ہوگا ۔

الغرض قرآن مجید کے ذریعہ جسمانی امراض کے علاج کی بات کی جائے تو بات بہت طول پکڑ جائے گی مگر بغرض تفہیم میں یہاں چند ایک مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔

بہت سی ( جسمانی اور نفسیاتی ) بیماریاں ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں بڑھانے میں شیطان کا کلیدی کردار ہوتاہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے خون کی گردش میں تصرف کا اختیار دیا ہوا ہے ۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ذی شان ہے کہ ’’ شیطان بنی آدم میں خون کی طرح دوڑتا ہے ‘‘ ۔ [15]

انہی علامات میں سے ایک غصہ بھی ہے ۔

غصہ :  غصہ بہت سی بیماریوں کے جنم لینے کا باعث بنتاہے ۔ اس لئے جب ایک شخص آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوا  اور عرض کرنے لگا کہ اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  مجھے وصیت ونصیحت  فرمائیے ، تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسے فرمایا:’’ لا تغضب ‘‘ غصہ مت کرو ۔ اس نے بار بار نصیحت کرنے کا کہا تو آپ نے ہر بار یہی جواب دیا کہ ’’ غصہ نہ کرو ‘‘ ۔ [16]

غصہ کی تاثیر جسم پر واضح طور پر دیکھی اور محسوس کی جاسکتی ہے ،معدہ کا زخم ( السر ) تیزابیت ، اور اعصابی قولون اسی شدید غصہ کا ہی نتیجہ ہیں ۔اسی طرح بعض لوگوں میں شوگر کی وجہ وہ بے چینی ہے جس کی وجہ غصہ ہوتاہے ، اسی طرح بہت سے پوشیدہ امراض وغیرہ کا باعث یہی غصہ بنتاہے ۔

خصوصا سراوردماغ کی بیماریاں جن میں درد، شریانوں کا پھٹنا، دماغی سکتہ ، اچانک فالج کا اٹیک ، نیز دل کی بیماریاں ، angina pectoris وغیرہ ان سب کا بنیادی سبب غصہ ہی ہوتاہے ۔اور غصہ ان بیماریوں کی پیدائش اور افزائش وبڑھوتری میں کلیدی کردارادا کرتاہے ۔ بلکہ غصہ ہی ہر برائی کی جڑ ہے ۔ غصہ شیطان کی طرف سے ہوتاہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے :

    {وَاذْكُرْ عَبْدَنَآ اَيُّوْبَ ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ   41؀ۭ} [ص: 41]

ترجمہ :’’اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا (بھی) ذکر کر، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے رنج اور دکھ پہنچایا ہے‘‘۔

حتی کہ بعض اہل علم کا یہاں تک کہنا ہے کہ ایوب علیہ السلام کو تمام جسمانی اور نفسیاتی بیماریاں لاحق ہوئیں تھیں ۔ اور باری جل وعلا کے اس  فرمان کہ ’’بِنُصْبٍ وَعَذَاب‘‘ سے مراد ہے کہ ’’ شیطان نے مجھے تھکاوٹ ، درد اور نفسیاتی عذاب میں مبتلا کیا ہے ۔ یہاں ان بیماریوں کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے کیونکہ ان کا سبب وہی ( شیطان لعین ) تھا ، اور باری جل وعلا کےادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے تکلیف وبیماری کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی گئی ‘‘۔ [17]

الحمد للہ بہت سی بیماریوں میں مبتلا افراد پر قرآن کریم پڑھا گیا بالخصوص مہلک بیماریوں جن کا ہوسکتاہے سبب شیطان ہو ۔ جیساکہ کینسر ، شریانوں کا پھٹنا ، دائمی دمہ،فالج،بانجھ پن ، شوگر ، اور دل وغیرہ کی بیماریوں میں مبتلا افراد پر یہ قرآن پڑھا گیا توانہیں اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم واحسان سے شفا ء


نصیب ہوئی ۔ایسے ہی خواتین میں ایک بیماری جو عام ہے کہ ماہواری کے ایام کابے ترتیب ہوجانا چاہے وہ دیر سے آنے کی بیماری ہو یا اس کا دورانیہ بغیر کسی ظاہری سبب کے طویل ہوجاتا ہواس کا سبب بھی بسا اوقات جنات ( وشیاطین )بنتے ہیں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو مرتبہ اس کے متعلق پوچھا گیا ، پہلی مرتبہ آپ نے یہ فرمایاکہ ’’ذاک عرق‘‘ [18]

’’ یہ تو ایک رگ کا خون ہے ‘‘ ۔

اور دوسری مرتبہ جب آپ سے حمنہ بنت جحش نے سوال کیا کہ :’’ مجھے بہت زیادہ حیض آتاتھا ، تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :’’ انما ھی رکضۃ من رکضات الشیطان ‘‘ ۔ [19]

’’ یہ تو شیطان کچھ چبھوتا ہے‘‘

( اس میں شیطان کا مقصد یہ ہوتاہے کہ ) وہ کوشش کرتاہے کہ حیض کا دورانیہ بڑھا دے یا تو وہ کچھ خون روک لیتاہے پھر مدت گذرنے کے بعد اسے چھوڑ دیتاہے ، تاکہ عورت نماز نہ پڑھ سکے اور قرآن کی تلاوت نہ کرسکے ، یا پھر وہ مقررہ جگہ کو زخمی کردیتاہے تاکہ عورت وہم میں مبتلا ہوجائے ، جس سے وہ حیض اور زخم کے خون میں فرق نہیں کرپاتی جس کی بنا پر وہ نماز سے رکی رہتی ہے ۔

اسی طرح فالج کی بیماری ہے۔ جن بسا اوقات بعض مریضوں کے فالج سے متاثرہ اعضاء پر اپنا کنٹرول حاصل کرلیتاہے اور ان پر قابو پانے کے بعد ان کی حرکت روک دیتاہے ، جس سے اس کے ساتھ درج ذیل چند علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔

  نفسیاتی دباؤ اورتناؤکے ساتھ تنگی اور مستقل درد ، جب ایسے مریض پر قرآن پڑھا جائے تو وہ فالج سے متاثرہ جگہ پر کچھ سکون محسوس کرتاہے ۔اور اگر مریض سکون محسوس نہ کرے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جن اعصاب کو تباہ کرکے جسم کو مفلوج کیفیت دے کر اس سے نکل چکاہے لہٰذا مریض کا جسم اسی حالت میں رہتاہے ۔اور ایک لمبے عرصے تک جسم اسی حالت میں رہنے کی وجہ سے مفلوج ہوچکا ہوتاہے ۔ اس طرح کی صورت حال انتہائی مہلک صورت حال ہوتی ہے جس کے لئے صبر اور اللہ تعالیٰ سے شفا کی نیت سے مستقل دم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔

مثلا : معدہ ، اعصاب اور ہڈی جوڑوں وغیرہ کا علاج یہ ہے کہ دم کرنے والا اپنا ہاتھ درد کے مقام پر رکھ کر ( تین دفعہ بسم اللہ کہہ کر ) یہ دعاسات مرتبہ پڑھے

    ’’ أعُوْذُ بِعِزَّةِ اللّٰہِ وَقُدْرَتِہٖ مِنْ شَرِّ مَآ أجِدُ وَأُحَاذِرُ ‘‘

تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے درد جاتا رہے گا ۔ ان شاء اللہ ۔

جہاں تک نفسیاتی امراض کا تعلق ہے جن میں سے چند ایک کا تذکرہ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں [20]

پاگل پن: یہ ایک انتہائی خطرناک ذہنی مرض ہے جس کا علاج ڈاکٹر حضرات گولیوں اور انجکشنوں سے کرتے ہیں ۔ اور ایسا بہت کم ہی ہوتا ہے کہ مریض اس مہلک بیماری سے پوری طرح شفایاب ہوسکے جبکہ بہت سے ایسے مریض ہیں جو اس بیماری میں مبتلا تھے اور ان کا علاج شرعی طریقہ (یعنی دم ) سے کا گیا تو انہیں صحت وعافیت کی زندگی نصیب ہوگئی ۔

وسوسے : یہ ایسی بیماری ہے جس کا سبب بسا اوقات جنات بنتے ہیں ( اس سے ان کا مقصد بندہ کو اپنے رب وخالق سے تعلق کو ختم کرنا اور توڑنا ہوتاہے ) یہ وسوسے وضو سے شروع ہوتے ہیں اور عقیدہ میں تشکیک پر ختم ہوتے ہیں ۔

اس کا علاج درجِ ذیل طریقے سے کیا جاتاہے ۔

اول: فکری وذہنی وسوسے اور ان کا علاج : اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کیا جائے ، اور ان وسوسوں کو اہمیت نہ دی جائے، ان سے صرف نظرکیا جائے، اور خیالات کو جھٹکنے کی کوشش کی جائے ۔ وسوسوں کے برعکس کام کیا جائے ۔ شیطان سے پناہ مانگی جائے۔ ( اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ کہے) اور اپنے بائیں جانب تھتکارے ۔ مریض اپنے نفس اور فکر کو ذکر اور عمل نافع میں مشغول رکھے ۔ نیز دوستوں بھائیوں سے خوش طبعی سے ملے اور صلہ رحمی کرے ۔

دوم : حسی وسوسے :  وسوسوں کی اس قسم کو علماء نفس کے ہاں وسواس قہری( یعنی غیر ارادی اور خطرناک وسوسے) کا نام دیا جاتاہے ۔ وسوسوں کی یہ صورت فکری وذہنی وسوسوں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے ۔ اس صورت میں مریض اپنے جسم کے مختلف حصوں میں تکلیف اور درد محسوس کرتاہے ۔

اس قسم کے وسوسوں کا علاج ایک تو اسی طریقہ سے کیا جائے جیسا کہ پہلی قسم میں بیان ہوا ہے ۔ اس پر مستزاد ان کا علاج حسی طریقے سے بھی کیا جائے۔ اس میں مریض کو چاہئے کہ وہ حرکت کرے ، اور خود سے سستی کاہلی کو اتار پھینکے ۔ اس کاہلی کے ازالے کے لئے اسے چاہئے کہ وہ عزیز واقارب سے ملاقات کرے ان کی زیارت کرے ان سے میل جول رکھے ، دوستوں سے ملے ، صلہ رحمی کرے ، ٹھنڈے پانی سے غسل کرے تاکہ خون کی گردش فعال ہو ۔ اس کے ساتھ ، ورزش کا اہتمام کرے ، سفر کرے ، اور نیک شگون اور اچھی توقعات قائم کرتے ہوئے اپنے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرائے ۔ اور اللہ تعالیٰ کی قضاء وقدر پر راضی رہے ،ایسا شخص مجاہد فی سبیل اللہ کے قائم مقام ہے ۔ باری جل وعلا نے ایوب علیہ السلام کے حوالے سے ارشاد فرمایا :

        {وَاذْكُرْ عَبْدَنَآ اَيُّوْبَ ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ   41؀ۭ} [ص: 41]

ترجمہ : ’’اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا (بھی) ذکر کر، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے رنج اور دکھ پہنچایا ہے‘‘۔

تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس بیماری کیلئے ایوب علیہ السلام سے یہ نہیں کہا کہ اسے ختم کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو کیونکہ یہ حسی وسوسے تھے ان کیلئے ضروری تھا کہ کوئی حسی فعل انجام دیا جائے تاکہ ان کا ازالہ ہو تو باری جل وعلا نے انہیں یہ فرمایا کہ :

           {اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ ۚ ھٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّشَرَابٌ  42؀} [ص: 42]

ترجمہ : اپنا پاؤں مارو، یہ نہانے کا ٹھنڈا اور پینے کا پانی ہے۔

 اہل اصول کے ہاں قاعدہ ہے کہ ’’ اعتبار لفظ کے عموم کا ہے سبب کے خاص ہونے کا نہیں ‘‘۔ ( اس


لئے یہ حکم صرف ایوب علیہ السلام کیلئے نہیں بلکہ ان سب کیلئے ہے جو حسی وسوسوں میں مبتلا ہوں ) ۔

امام احمد رحمہ اللہ کے بارے میں ان کے شاگرد ابوبکر المروذی فرماتے ہیں کہ ’’ میں ابی عبد اللہ کے ساتھ مسجد کیلئے نکلا جب وہ مسجد میں داخل ہوئے اور نماز شروع کی جب رکوع کرنے لگے تو میں نے دیکھا کہ انہوں نے اپنے کپڑے سے ہاتھ نکالا اور دو انگلیوں سے اشارہ کرنے اور انہیں ہلانے لگے ۔ جب نماز ختم ہوئی تو میں نے دریافت کیا اور کہا کہ اے اباعبد اللہ میں نے دیکھا کہ آپ نماز میں اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کر رہے تھے ؟آپ فرمانے لگے کہ ’’ میرے پاس شیطان آیا اور اس نے یہ کہا کہ آپ نے اپنے پاؤں نہیں دھوئے ، میں نے انگلیوں سے اشارہ کرکے اسے بتایاکہ میں نے دو گواہوں کی موجودگی میں پاؤں دھوئے ہیں ‘‘۔ [21]

ہاں اگر انسان ضرورت محسوس کرے تو نفسیاتی دواؤں کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ، بلکہ ان سے وقتی افاقہ حاصل ہوتاہے لیکن وہ مکمل علاج نہیں ،محض ایک مادی سبب ہونے کے باعث انسان اسے استعمال کرسکتاہے جس کی شریعت میں اجازت بھی موجود ہے اور ان داواؤں کو اصل دوا یعنی شرعی دم کے ساتھ ملاکر استعمال کیا جائے ۔ ( جس سے جلد افاقہ کا امکان ہے ) ۔

ڈپریشن افسردگی اور غمگینی کا علاج : اس مرض کا علاج زیادہ وقت مسجد میں گذارنا ہے ، نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:’’ میری آنکھوںکی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے ‘‘۔ [22]

اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کوئی اچانک کوئی مشکل مسئلہ درپیش آجاتا تو آپ نماز کی طرف دوڑ پڑتے ، جنات کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ انسان کو تنہائی میں لائیں تاکہ وہ اس پر اپنی دسترس حاصل کرسکیں  اس لئے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے سونے ، جاگنے اور سفر میں تنہائی اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ اگر شیاطین انسان کو تنہا کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں تو شعوری طور پر اسے تنہا کردیتے ہیں ، جس کی بنا پر انسان لوگوں میں ہوتے ہوئے بھی خود کو تنہا محسوس کرتاہے اس کا ذہن منتشر ہوجاتاہے ، اور فکر پراگندہ خیالات میں محواور منتشر ہوجاتی ہے ۔

الغرض جسمانی اور نفسیاتی امراض سے متعلق بات بہت طویل ہے ۔ اس کیلئے علامہ ابن قیم کی کتاب زاد المعاد کا مطالعہ کرنا چاہیئے ۔

یہاں یہی کافی ہے کہ ہم شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے حوالے سے ایک مثال آپ کے سامنے رکھیں کہ وہ جسمانی امراض کا علاج قرآن مجید سے کیسے کیا کرتے تھے ؟

ایک شخص جس کا خون رسے جا رہا تھا اور تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا آپ نے اس پر یہ لکھا کہ

{وَقِيلَ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَا سَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِّ وَقِيلَ بُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ} [هود: 44]

ترجمہ:’’فرما دیا گیا کہ اے زمین اپنے پانی کو نگل جا اور اے آسمان بس کر تھم جا، اسی وقت پانی سکھا دیا گیا اور کام پورا کر دیا گیا اور کشتی ' جودی ' نامی پہاڑ پر جا لگی اور فرما دیا گیا کہ ظالم لوگوں پر لعنت نازل ہو ۔‘‘

تو اللہ کے حکم سے اس شخص کو شفا نصیب ہوگئی ‘‘۔ [23]

یہاں آپ اللہ تعالیٰ کے کلام کی عظمت ملاحظہ فرمائیں کہ یہ آیت محض طوفان کے ساتھ خاص نہیں ، شیخ نے یہاں انسان کو زمین سے تشبیہ دی اور یہ اپنی حد تک قرآنی علاج کا ایک طے شدہ منہج اور طریقہ کا ر ہے ۔ اس لئے آپ ’ ’ ارض ‘‘ یعنی زمین کے لفظ کو لیں  اس پر انسان کو قیاس کرتے چلے جائیں اس طرح اعصابی اور لقوہ وگنٹھیاکے مریضوں پر آپ اللہ تعالیٰ کے اس کلام کو پڑھئے

       {وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ (3) وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ (4) وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ} [الانشقاق: 3 - 5]

ترجمہ :’’اور جب زمین میں پھیلادی جائے گی۔ اور اس میں جو ہے اسے وہ اگل دے گی اور خالی ہو جائے گیاور اپنے رب پر کان لگائے گی اور اسی لائق وہ ہے‘‘۔

سینے کے امراض کے لئے

     {أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ (1) وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ (2) الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ} [الشرح: 1 - 3]

ترجمہ :’’کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیااور تجھ پر سے تیرا بوجھ ہم نے اتار دیا جس نے تیری پیٹھ توڑ دی تھی‘‘۔

اور باطنی امراض کے لئے یہ آیت پڑھیں

       {إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا } [الزلزلة: 1]

ترجمہ : جب زمین پوری طرح جھنجھوڑ دی جائے گی۔

اور اسی طرح کرتے چلے جائیں ۔[24]

خلاصہ باب : آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرمانا :’’ جب ان کے پاس ایک عورت ان کا علاج کر رہی تھی تو آپ نے فرمایا ’’ اس کا علاج کتاب اللہ سے کرو ‘‘۔ [25]

اہم تنبیہ : گذشتہ سطور سے یہ نہ سمجھا جائے کہ انسان دوائی اسباب یعنی بیماری کی تشخیص  اور ان کے عمومی علاج کیلئے ہسپتال  وغیرہ جانے کو بالکل نظر انداز کردے ۔ لیکن ہر بیماری  کے علاج میں بنیاد قرآن کریم اور نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت شدہ دعاؤں کو بنایاجائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ دوا بھی استعمال کریں کیونکہ شریعت نے اس کا بھی حکم دیاہے ، لیکن اس کے ساتھ یہ یقین کامل ہو کہ      شفا ءصرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ، اگر اللہ تعالیٰ نے شفا نازل فرمادی تو اس کے حکم سے دوا اثر کرے گی اور فائدہ دے گی نہ کہ اس کے برعکس ۔ کیونکہ باری جل وعلا کا فرمان مبارک ہے

      {وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ} [الشعراء: 80]

ترجمہ :’’ اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے‘‘۔

الغرض دوا شفا ءکے اسباب میں سے ایک سبب ہے ۔ ہمارے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بعض احادیث میں اس کی طرف اشارہ بھی دیاہے ۔ جیسا کہ آپ نے ایک روایت میں فرمایا:’’ ہر بیماری کی دوا ہے، لہٰذا جب وہ بیماری کے موافق ہو جاتی ہے تو بیمار اللہ کے حکم یعنی اس کی مشیت و ارادہ سےصحت یاب ہوجاتا ہے‘‘۔[26]

ایک روایت میں ہے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’  اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی میں بھلائی ہو تو پچھنے لگوانے یا شہد پینے میں ہے‘‘ ۔ [27]

تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرماناکہ :’’اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی میں بھلائی ہو‘‘۔ اس سے واضح ہوا کہ ہوسکتاہے اللہ تعالیٰ اس میں بھلائی نہ رکھے کیونکہ یہ ایک سبب ہے ( جو کبھی اثر کرتاہے کبھی نہیں )

جبکہ شرعی دم اصل اور بنیاد ہے ۔

اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرما:’’آپ لوگ اس کلونجی کو پابندی سے استعمال کرو اس میں موت کے  علاوہ ہر بیماری کے لئے شفا ہے‘‘ [28]

اور جس شخص کا پیٹ خراب ہوگیاتھا آ پ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کے بارے میں فرمایاتھا ’’ اسے شہد پلاؤ‘‘۔ [29]

اسامہ بن شریک  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ’’میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس تشریف فرماتھا کہ چند اعرابی حاضر ہوئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کیا ہم دوائی استعمال کریں ؟  تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ جی ہاں اے اللہ کے بندو دوائی استعمال کرو ، اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کی شفا بھی نازل کی ہے ، سوائے ایک بیماری کے ، اور وہ بڑھاپا ہے ‘‘۔ [30]

تو یہاں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرمانا کہ ’’ تداووا ‘‘ کہ دوا استعمال کرو ، لیکن یہ دوا بذات خود شفا ءنہیں دیتی بلکہ یہ ایک سبب کی حیثیت رکھتی ہے ( شفا باری جلا وعلا کی طرف سے نصیب ہوتی ہے) ۔

4 : تصوراتی قراءت :

( یہاں یہ چیز ملحوظ رہے کہ ) دم میں محض قراءت کرنا یا آیات کا ورد کرنا کفایت نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ان آیات اور دعاؤں کے مفاہیم اور معانی پر بھی غور کیا جائے ، اور ان سے متاثر ہوا جائے ۔ اگر آپ اس قراءت کا جنات ودیگر جسمانی امراض پر قوت وطاقت کا مظاہرہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ان آیات کے عظیم معانی پر غور وخوض کریں ۔ یہ جنات پر اثر کرتی ہیں اور دیگر جسمانی امراض سے شفایاب کرتی ہیں ۔ اس میں آپ شیخ الاسلام کے طریقہ علاج کو ملاحظہ کریں کہ انہوں نے کیسے خون کے رساؤ کا علاج کیا ، زمین کو انسان سے تشبیہ دی ، اس رساؤ کو اس زمین نےنگل لیا ، جس جگہ سے خون  تھم گیا  ، اوررساؤ سوکھ گیا  اورکام پورا کردیا گیا ، اور مرض یقینا ختم ہوگیا ۔!

اگر آپ اپنی نماز قراءت اور دم میں خشوع وخشیت اختیار کرنا چاہتے ہیں تو اسے ایسے پڑھو جیسا صحابہ پڑھا کرتے تھے : ان میں سے ایک جنت کا تصور ایسے کرتا تھا گویا کہ وہ اسکے اپنے دائیں طرف ہو اور وہ اس کی نعمتیں محسوس کر رہا ہو ، اور جھنم کا تصور ایسا کہ جیسے وہ اس کے بائیں جانب ہو اور وہ کے عذاب ومصائب کو گویا محسوس کر رہا ہے ، تو وہ اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہے ۔ رحمٰن کے عرش کو اپنے سامنے تصور کرتا اس پر غشی طاری ہوجاتی ۔ خشوع کی وجہ سے ان کے سینے سے ایسی آواز سنائی دیتی جیساکہ کسی ہانڈی میں اُبال آرہا ہو ۔ ان کا اس فانی دنیا سے احساس ختم ہوجاتا، اگر ان پر مسجد کی چھت بھی گر جاتی تو انہیں محسوس نہ ہوتا ۔ ہمیں بھی ایسا ہی تصور اور یقین چاہئے ،تو دیکھئے گا اللہ کی قسم ہماری سب بیماریاں ختم ہوجائیں گی ، ہر مرض سے ہمیں شفا مل جائے گی ، یہ قرآں تو ایسا قرآن ہے اگر پہاڑ پر اتار دیا جاتا تو اسے ریزہ ریزہ کردیتا تو کیا یہ قرآن خون اور گوشت پوست سے بنے اس جسم کو ٹھیک نہیں کرسکتا !!

 (5) شفاصرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے :

  بسا اوقات ایسا بھی ہوتاہے کہ انسان تمام اسباب استعمال کرلیتاہے جن میں قرآن مجید کی قراءت  اور دواؤں وغیرہ کا استعمال ، اور مریض میں قرآنی یا دوائی علاج کو قبول کرنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود اسے شفا ءنہیں ملتی ! یہ ضروی نہیں کہ ہر حال میں شفا ملے ، کیونکہ ان  تمام اسباب کا مسبّب اللہ تعالیٰ ہے ۔ اس چیز کا مشاہدہ آپ زندگی کے دیگر شعبہ جات میں بھی کرسکتے ہیں ۔ مثلا کسی علاقے میں زلزلہ آگیا ، اور اللہ کے حکم سے عمارت بھی زمین بوس ہوگئی ، جس کی وجہ سے کچھ لوگوں کی موت واقع ہوگئی جبکہ اس عمارت کے ملبے نیچے آنے والے کچھ لوگ بچ بھی جاتے ہیں ، جبکہ وہ بھی ان تمام مراحل سے گذرے ہوتے ہیں جن سے وفات پائے ہوئے لوگ گذرے ہوتے ہیں ۔ اسی طرح کسی معین فرد  میں جادو کے اسباب بھی مکمل ہوجاتے ہیں لیکن جادو اثر نہیں کرتا ، کیونکہ باری جل وعلا فرماتے ہیں :

 {وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ} [البقرة: 102]

ترجمہ :’’دراصل وہ بغیر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ‘‘

کبھی اللہ تعالیٰ اپنی حکمت خاصہ کے تحت علاج کے اسباب متوفر ہونے کے باوجود بیماری کو باقی رکھنا چاہتے ہیں جس کا مقصد یہ بھی ہوتاہے کہ بندہ اپنے تمام امور اللہ تعالیٰ کے سپرد کردے ، اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ بندہ کے گناہوں کو مٹادے ، اور اس میں ابتلاء وآزمائش بھی ہوسکتی ہے کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بندہ سے محبت کرتاہے۔ جیسا کہ ہمارے نبی ابوا لانبیاء سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہوا کہ جب انہیں آگ میں ڈالا گیا ، انہیں آگ کی تپش نے چھوا ، اس لمحے اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ

    {قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ } [الأنبياء: 69]

ترجمہ :’’ہم نے فرما دیا اے آگ! تو ٹھندی پڑ جا اور ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے سلامتی (اور آرام کی چیز) بن جا‘‘۔

یعنی ہم نے آگ کو حکم دیا ، جبکہ ابراہیم علیہ السلام آگ میں تھے اور اس کی تپش محسوس کررہے تھے ۔

لیکن یہاں سوال پیدا ہوتاہے اگر شفا ءنہ لکھی ہو تو کسی بیماری میں مبتلا شخص پر قرآن مجید پڑھنے کاکیا فائدہہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے ذریعے بیمار کے سینے میں اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر عافیت کی ٹھنڈک اور صبر کا یقین کامل ہوجاتاہے کہ اس کے حکم سے شفا ءمل کر رہے گی ، جس سے بیمارکے دل میں ایک سکون کی لہر دوڑ جاتی ہے اور وہ اس تکلیف کے باوجود آرام محسوس کرتاہے ۔

(6)  لوگوں کی بہت سی بیماریوں کا سبب نظربد ہوتی ہے جبکہ اس کے علاوہ استثنائی کیفیات ہوتی ہیں:

اس کی دلیل نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرمان مبارک ہے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ کی قضاء وقدر کے بعد میری امت میں سب سے زیادہ اموات نظربد سے ہوتی ہیں ‘‘۔[31]

 اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک روایت میں ارشاد فرمایاکہ :’’ نظر بندے کو قبر میں اور اونٹ کو ہنڈیا میں ڈال دیتی ہے ‘‘۔[32]

ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں کہ لوگ بہت سی اموات کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں جن میں متعدی امراض ، معدہ کے امراض ، کینسر ، اور حادثات وغیرہ شامل ہیں ۔ ان میں اکثر امراض وعلل کا سبب قضاء وقدر کے بعد نظر بد ہوتی ہے ۔

اور فراست کے ضمن میں ہم گذشتہ بحث میں بیان کر آئے ہیں کہ ایک ’’ سفعۃ‘‘ بھی ہے : جس سے مراد چہرے کا پیلا پن ، اور پھیکا پڑنا ہے ۔ اس سے معلوم پڑتاہے کہ بیشتر مریض جو نظر بد میں مبتلا ہوتے ہیںاور یہی  نفس اور حسد ہے ۔ اصطلاح میں کوئی جھگڑا نہیں آپ اسے جو بھی نام چاہے دے لیں ۔ ( اس کی وجہ نظربد ہی ہوتی ہے ) اس کا علاج اللہ تعالیٰ کے حکم سے بہت آسان ہے جس کی تفصیل آئندہ سطور میں آپ ملاحظہ کرسکیں گے باذن اللہ ۔

یہاں بہت سے معالجین یہ غلطی کرتے ہیں ( اللہ انہیں ہدایت دے ) کہ مریض کو پریشان ، بے چین اور اس کے ذہن میں یہ سوچ ڈال دیتے ہیں کہ وہ کالے یا لال جادو میں مبتلا ہے ۔ یا اس پرسفلی یا علوی جن مسلط ہیں !۔ اس کی وجہ سے مریض اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایو س ہونے لگتاہے ۔ اس کے ساتھ وہ بیمار کیلئے طرح طرح کی ایذا رسانی کا باعث بنتے ہیں ۔ جس میں مار نا، گلا دبانا اور وسوسوں کے ذریعے اس پر جن مسلط کردیتے ہیں ، یہ اور اس طرح کے تمام اعمال نہ دین ہیں اور نہ دین کا حصہ ، ان روحانی معالجین کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے۔ اور اپنے بھائی کےخلاف شیطان کا معاون نہیں  بنناچاہئے  ۔

اورجہاں تک جادوکا تعلق ہے تو وہ ایک حقیقت ہے اور موجود بھی ، لیکن یہ اتنا منتشر نہیں جیسا کہ نظربد ہے ۔ ( سعودیہ میں )اس کی غالب صورتیں بیرونی لیبر کے ساتھ آئی ہیں ۔

یہ بات نوٹ میں رہے کہ جادو کی اشاعت وترویج وانتشارکی جگہیں وہ ہیں جہاں یہودی مقیم ہوتے ہیں ۔ جیساکہ لبید بن اعصم یہودی نے ہمارے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  پر جادو کیا تھا ۔ اسی طرح سمندروں  دریاؤں کے مقامات بھی جادو کی افزائش کے مقامات ہیں جہاں ابلیس اپنا تخت لگاتاہے اور پھر لوگوں میں فساد بپا کرنے کیلئے اپنے لاؤ لشکر کو بھیجتا ہے ۔ [33]

ہاں (جنات کی جانب سے ) عشق کے معاملات بہت شاذ ونادر ہوتے ہیں ، اسی طرح تکلیف کے بدلے بھی وہ تکلیف دیتے ہیں ، کبھی کبھار بدلہ میں تکلیف دے جاتے ہیں ، اس کا علاج بھی شرعی دم سے ہے ۔ لیکن اس کیلئے ایک عرصہ انتظار اور صبر سے کام لینا پڑتاہے جس کے بعدان جنات کا اثر بھی اللہ کے حکم سے زائل ہوجاتاہے ۔

یہ چند اہم اور بینادی خطوات وقواعد تھے جن کا شرعی رقیہ ودم سے علاج کرتے وقت لحاظ رکھنا چاہئے ۔اور معالج کو ان ضوابط کا پابندہونا چاہئے۔ واللہ اعلم [34]

 فصل دوم

نظر بد حق ہے

نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:’’ نظر بد حق  ہےاس کے ساتھ شیطان اور ابن آدم کا حسد شامل ہوجاتے ہیں‘‘۔ [35]

اس حدیث سے پتہ چلتاہے کہ ہر انسان کے اردگرد شیاطین جن موجودہیں جو طا ق میں رہتے ہیں کہ اسے کسی طرح کوئی نقصان پہنچائیں ، ہر انسان حسد کا شکار ہوسکتاہے ، اور نظر بدسے صرف وہی بچ سکتاہے جسے اللہ تعالیٰ بچا ئے ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی کتاب السلوک میں لکھتے ہیں :’’ حسد نفس کی بیماریوں میں سے ایک ( مہلک ) بیماری ہے ، یہ بیماری بہت عام ہے چیدہ چیدہ لوگ ہی اس سے بچ پاتے ہیں ، اس لئے مثال دی جاتی ہے کہ ’’ کوئی بھی جسم حسد سے خالی نہیں ، لیکنتنگ ظرف اسے ظاہر کردیتاہے اور کریم اسے چھپا کر رکھتاہے ‘‘۔اورتنگ ظرف اسے ظاہر کردیتاہے سے مرادیہ کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تعریف وتوصیف اللہ تعالیٰ کا نام لئے بغیر کرتاہے ، ( امام حسن بصری رحمہ اللہ سے کہا گیاکہ : کیا مومن بھی حسد کرسکتاہے ؟ تو آپ فرمانے لگے :کیا آپ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو بھول گئے ، تمہارا والد نہ رہے ، لیکن اس کادستہ تمہارے دل میں ہے ، یہ آپ کو اس وقت تک نقصان نہیں پہنچائے گا جب تک تم ہاتھ یا زبان سے اس کا اظہار نہ کردو ) [36]

سلف میں سے بعض کا کہنا ہے :’’ حسد وہ پہلا گناہ ہے جس کے ذریعہ آسمانوں میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی گئی ، یعنی : ابلیس لعین کا وہ حسد جو اس نے آدم علیہ السلام سے کیا ۔ اور یہی وہ گناہ ہے جو روئے زمین پر بھی سب سے پہلا ہے یعنی : آدم کے ایک بیٹے نے اپنے دوسرے بھائی سے حسد کیا حتی کہ اس کو قتل کردیا ۔ [37]

اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے ’’ اللہ تعالیٰ کی قضاء وقدر کے بعد میری امت میں سب سے زیادہ اموات نظر بد کی وجہ سے ہیں ‘‘۔[38]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ جو شخص کسی مسلمان بھائی سے متعلق اپنے دل میں حسد پائے تو اسے چاہئے کہ اس کے ساتھ تقویٰ اور صبرسے کام لے اور اپنے دل میں آنے والے خیال کو برا جانے ‘‘۔


 

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے ہیں :’’ تین چیزیں ایسی ہیں جن سے کوئی نہیں بچ سکتا:’’ حسد، بدگمانی ، اور بدشگونی ( طیرۃ)اور میں آپ کو وہ اسباب بیان کرتاہوں جو ان سے بچا سکتے ہیں۔ جب حسد کا خیال آئے تو بغض ونفرت نہ کرو ، اگر بدگمانی کا خیال آئے تو ٹوہ میں نہ لگو ، جب بدشگونی کا خیال آئے تو جو کام کرنا چاہتے ہو اسے کر گذرو ‘‘۔ اسے ابن ابی الدنیا نے روایت کیاہے ، سنن میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے  مروی ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ پہلی امتوں کی بیماری تم میں سرایت کرچکی ہے : حسد ، بغض وعناد ، اور یہ مونڈ دینے والی ہے ، میں یہ نہیں کہتاکہ بال مونڈ دیتی ہے ، لیکن یہ ( بیماری ) دین کو مونڈ ڈالتی ہے ‘‘آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہاں حسد کو بیماری سے تعبیر کیاہے ۔ [39]

اب ہم سیدنا ابو ہریرۃ  رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث کی طرف آتے ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:’’نظر بد حق ہے ، اس کے ساتھ شیطان اور ابن آدم کا حسد شامل ہوجاتے ہیں‘‘

علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :’’ یہ حدیث بعض لوگوں کی سمجھ میں نہ آسکی وہ کہنے لگے کہ ’’نظر بد اتنی دور سے کیسے کام کرتی ہے کہ متاثرہ شخص کو اتنی دور سے نقصان پہنچا سکے ، اور بہت سے لوگ محض ان کی طرف دیکھنے سے بیمار پڑ جاتے ہیں ،اور ان کی قوت وطاقت جواب دے جاتی ہے ، تویہ سب ان روحوں[40]کی اس تاثیر سے ہوتاہے جو اللہ تعالیٰ نے ان میں پیدا کی ہوتی ہے ، اور اس کے نظر سے گہرے تعلق ہونے کی وجہ سے اس کی نسبت نظر کی طرف کردی گئی ہے ، لہذا نظر کی کوئی تاثیر نہیں بلکہ اصل تاثیر روح کی ہے ، اور جو نظر لگانے والے کی آنکھ سے نکلتاہے وہ معنوی تیر ہے ، اگر وہ اس بدن میں پیوست ہوجائے جس میں کوئی حفاظتی چیز نہیںہوتی تو وہ اس پر اثر انداز ہوجائے گا ، بصورت دیگر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا ۔ بلکہ وہ نظر لگانے والے کی طرف پلٹ جائے گا جیسا کہ حسی تیر ہوتاہے یہ دونوں برابر ہیں ‘‘۔ [41]

لہٰذا آنکھ سے نکلنے والی چیز اس کا وصف ( یعنی زبان کا زہر ہوتاہے ) ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ  نابینا شخص کی نظر بھی لوگوں کو لگ جاتی ہے ۔ اور شیطان جو تاک میں رہتاہے وہ اس وصف کو جو انسان کی زبان سےاللہ تعالیٰ کانام لئےبغیر نکلا ہوتاہے اسے کیچ کرلیتاہے ،اور جس سے حسد کیا گیاہے (اللہ کے حکم سے ) اس کے بدن پر اثر انداز ہوجاتاہے ،اگر وہاں کوئیحفاظتی حصار نہ ہوتو ۔

نظر لگانے والوں کی اقسام :

)۱) نظر لگانے والوں میں کچھ لوگ صاحبِ نفسِ خبیثہ ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قضاء وقدر پر ایمان نہیں رکھتے ، ایمان بھی ان کا کمزور ہوتاہے ، کسی غیر سے نعمت کا خاتمہ ہی انہیں خوش کرسکتاہے ، ایسے لوگ اپنے بھائی کا ذکر کرتے وقت اس کی توصیف وتعریف کے وقت اللہ کا ذکر اوربرکت کی دعا  نہیں کرتے ، تو اس لفظ کو وہاںموجود شیطانی روحیں کیچ کرلیتی ہیں جن کا مقصد ہی مسلمان کو ایذا پہنچاناہوتاہے تو اس وقت ( اگر اللہ چاہے اور کوئیحفاظتی حصار بھی نہ ہو تو ) مہلک ہوتی ہے ۔ یہ وہی نظر ہے جس کے بارے میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ نظر بد بندے کو قبر میں اور اونٹ کو ہانڈی میں ڈال دیتی ہے ‘‘۔ یہ حسد وہی یہودیوں والا حسد ہے یا جو ان کےطرز پہ ہوتے ہیں ( اللہ تعالیٰ اس سے پناہ میں رکھے ) ۔

۲) کچھ نظر لگانے والے صاحبِ نفسِ طیبہ ہوتے ہیں لیکن منافست کی بازی میں وہ کسی مومن کی توصیف وتعریف بغیر اللہ کا نام لئے کردیتے ہیں ، جسے وہاں موجود شیاطین کیچ کرلیتے ہیں ، پس وہ جس کو نظر لگائی گئی اسے اس کے جسم ، اعضاء میں تکلیف دینے کی ٹھان لیتے ہیں ، یا پھر اسے نفسیاتی ٹارچر کرتے ہیں جس میں اسے خوف ، تنگی ، وغیرہ میں مبتلا کرنا ہوتاہے ۔ اس صورت حال میں نظر محضپریشان کن ہوتی ہے ۔ اور اس کا علاج بھی اللہ کے حکم سے بہت آسان ہوتاہے ۔ اس قسم کی مثال صحیح بخاری میں عامر بن ربیعہ اور سہل بن حنیف کے حوالے سے مروی روایت ہے۔ جسے مفصلاً ذکر کیا جائے گاان شاء اللہ۔

یہ بات علم میں رہے کہ کوئی بھی مسلمان اللہ کے حکم سے اگر کسی مسلمان بھائی کو نقصان پہنچا سکتاہے تو اس کی ایک ہی شرط ہے کہ وہ : اللہ تعالیٰ کا نام لئےبغیر اس بھائی کی توصیف وتعریف کرے ۔ یہ عمل شرعاً حرام ہے کیونکہ یہ زبان کا زہر ہے جو اپنا اثر دکھاتاہے اور شریعت نے اس سے منع فرمایاہے ۔ علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ نظربغیر حسد کے خود پسندی سے بھی لگ جاتی ہےاگر چہ وہ شخص محب ہو اور نیک آدمی بھی کیوں نہ ہو ،تو جس کواگر کوئی چیز پسند آجائے تو اسے چاہئے کہ وہ فوراً اس پسند آنے والی چیز کیلئے برکت کی دعا کرے ( یعنی ماشاء اللہ تبارک اللہ کہے ) ۔یہی چیز اس کی طرف سے دم ہوگی ‘‘[42]

حدیث عامر بن ربیعہ اور سہل بن حنیف :

سدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف فرماتے ہیں کہ’’ میرے والد سہل بن حنیف نہا رہے تھے۔ عامر بن ربیعہ( رضی اللہ عنہ ) ان کے قریب سے گزرے تو فرمایا میں نے آج تک ایسا آدمی نہ دیکھا۔ پردہ دار لڑکی کا بدن بھی تو ایسا نہیں ہوتا۔ تھوڑی ہی دیر میں سہل گر پڑے۔ انہیں نبی(  صلی اللہ علیہ وسلم ) کی خدمت میں لایا گیا اور عرض کیا گیا ذرا سہل کو دیکھئے تو گر پڑا ہے۔ فرمایا تمہیں کس کے متعلق خیال ہے کہ (اسکی نظر لگی ہے ؟) لوگوں نے عرض کیا عامر بن ربیعہ کی۔ فرمایا آخر تم میں سے ایک اپنے بھائی کو کیوں قتل کرتا ہے ؟ جو تم میں سے کوئی اپنے بھائی میں ایسی بات دیکھے جو اسے اچھی لگے تو اس کو چاہئے کہ بھائی کو برکت کی دعا دے۔ پھر آپ نے پانی منگوایا اور عامر (رضی اللہ عنہ) سے فرمایا وضو کریں۔ انہوں نے چہرہ دھویا اور کہنیوں تک ہاتھ دھوئے اور دونوں گھٹنے دھوئے اور ازار کے اندر (ستر) کا حصہ دھویا۔ آپ نے یہ دھون( پیچھے سے) سہل پر ڈالنے کا حکم فرمایا، اسی لمحے سہل رضی اللہ عنہ ٹھیک ہوگئے‘‘۔[43]ایک روایت میں ہے ’’ مجھے گمان ہے کہ آپ نے فرمایا’’ اس حکم دیا تو


انہوں نے اس سے کچھ پی لیا ‘‘۔[44]

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ زاد المعاد میں فرماتے ہیں :’’ کپڑے کی چنّٹ اور اندرونی اعضاء اور تہبند کا اندرونی حصہ یہ وہ جسم انسانی کے حصے ہیں جن سے شیطانی ارواح کا تعلق ہوتاہے ‘‘[45]

امام ترمذی رحمہ اللہ نے بسند حسن روایت نقل کی ہے کہ ’’نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  جنوں اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگاکرتے تھے ‘‘۔[46]

فوائدِ حدیث :

اول : جب عامر بن ربیعہ نے سہل کی اللہ تعالیٰ کا نام لئے بغیر توصیف وتعریف کی تو شیطان نے ان کلمات کو پسند کرتے ہوئے اچک کر سہل کو تکلیف پہنچادی ، یہ منظر دیکھ کر صحابہ  رضی اللہ عنہم نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور ماجرا بیان کیا ، اس وقت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سے سب سے پہلا سوال یہ پوچھاکہ ’’ کیا تم کسی ایک پر تہمت لگاتے ہو‘‘  اسی ضمن میں دیگر سوال بھی آسکتے ہیں جو مریض سے پوچھے جاسکتے ہیں :

جیساکہ :

۱: کیا آپ کسی کو متہم کرتے ہیں کہ اس نے آپ کی تعریف بیان کی ہو یا کوئی صفت مدح ذکر کی ہو ؟

۲: کیا آپ کو کسی شخص نے بتایاہے کہ اس نے کسی کو آپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے یا کچھ کلمات کہتے ہوئے سنا ہے ؟

۳ : کیا آپ خواب میں دیکھتے ہیں کوئی مخصوص شخص آپ کو مسلسل تکلیف دے رہاہے ؟

۴: کیا آپ خواب میں چند حیوانات :جیسا کہ کتے ، اونٹ ، بلیاں ، بندر ، سانپ ، بچھویا بھونرا وغیرہ کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ پر حملہ آور ہو رہے ہیں ؟[47]

ابتدائی تین سوالوں کا جواب اگر ہاں میں ہے تو وصف بیان کرنے والے شخص کا جوٹھا اس کا لعاب یا پسینہ ، لیکر اسے پانی میں ملاکر متاثرہ شخص کےسر پر سےایک بار بہایاجائے ۔ اور اگر نظر نے جسم کے

کسی اندرونی حصے کو متاثر کیاہو جیساکہ پیٹ تواس پانی کو پی لینا چاہئے۔اوران دونوں کاموں میں جمع کرنا بھی افضل ہے ۔

اور چوتھے سوال کا جواب اگر ہاں میں ہوتو اس کے متعلق ہمیں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس فرمان سے رہنمائی ملتی ہے جس میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ خواب کی کنیت اور نام ہوتے ہیں لہذا انہیں ان کی کنیت اور ناموں کے لحاظ سےپہچانا کرو ‘‘۔[48]

پس اس مریض سے ہم پوچھیں کہ آپ اس حیوان سے اپنے عزیزوں دوستوں اور پڑوسیوں میں سے کون مراد لیتے ہیں ، یا آپ اس حیوان کو کس جگہ پاتے ہیں ؟ اس سوال سے اس کے دل میں چند افراد کا نقشہ آئے گا جس کی روشنی میں ان پر حسنِ ظن رکھتے ہوئے ان کا استعمال شدہ پانی وغیرہ لیکرمریض کو پلایا جائے ۔ کیونکہ انسان اگر مسلسل اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تو وہ اس ذریعہ سے اس شیطان کو تکلیف پہنچاتا رہتاہے جو اس صفت وتعریف کے ذریعے آیا ہوتاہے ، اس لئے پھر وہ اسے خواب میں نظر لگانے والے شخص یا ایسے جانور کی شکل میں نظر آتاہے جس سے نظر لگانے والے کی نشاندہی ہو ، تاکہ وہ اس تکلیف سے نجات پائے جس میں وہ مسلسل جکڑا ہواہے ۔ جیساکہ وہ اپنی زبان حال سے یہ کہہ رہاہوتاہے کہ :’’ یہ ہے وہ شخص نظر لگانے والا لہٰذا اس کا اثر لے لو اور مجھے اس عذاب سے نجات دلادو جس میں میں مبتلاہوں‘‘ کیونکہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے ہیں:’’ تم میں سے ایک اپنے شیطان کو اتنا تھکا دیتاہے جتناکہ تم میں سے ایک اپنے اونٹ کو سفر میں تھکادیتاہے ‘‘۔[49]یعنی کثر ت ذکر کی وجہ سے ۔ ( اس کا شیطان اس کے سامنے ہتھیار ڈال دیتاہے )۔

دوم : کسی کی تعریف کے ساتھ برکت کی دعا کرنا اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا  اس جن کومتاثرہ شخص تک پہنچے سے روک دیتاہے اور اسے اس سے محفوظ کردیتاہے ۔ اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ کہنا کہ ’’ تم نے برکت کی دعا کیوں نہ کی ؟‘‘ سے یہی معنیٰ مستفید ہوتاہے ۔ اور جیسا کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاکہ ’’ جنات کی آنکھوں اور بنی آدم کی شرمگاہوں کے درمیان  پردہ :’’ بسم اللہ ‘‘ کہنا ہے‘‘ ۔ [50]

سوم : نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے عامر بن ربیعہ کو غسل کرنے کا حکم دیا ۔ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’کپڑوں کی چنّٹاور اندرونی اعضاء اور تہبند کا اندرونی حصہ یہ وہ جسم انسانی کے حصے ہیں جن سے شیطانی ارواح کا تعلق ہوتاہے‘‘۔[51]اس سے مراد یہ کہ انسان کے پسینہ کی منفرد بو ہوتی ہے ،جو ہر انسان کا دوسرے سے مختلف ہوتاہے ، کتے کو بھی یہ پتہ ہوتاہے اور اس شیطان کو بھی جو اس نظر بد لگانے والے سے نکلا ہوتاہے ، تو جب اس کا پسینہ یا اس کی لعاب لیکر اس سے غسل کیا جاتاہے یا اسے پیا جاتاہے اگر تکلیف پیٹ کے اندرونی حصہ میں ہوتو ، اس سے وہ شیطان دور ہوجاتاہے کیونکہ وہ اس وصف سے مربوط ہوتاہے جو اسے پسند آیاہو ، جیساکہ اس نظر بد لگانے والے نے اپنے سے نکلنےوالے اس پسینے وغیرہ میں متاثرہ شخص کو اختیار دے دیا کہ وہ اس سے اس کے شیطان سے خلاصی حاصل کرلے ، تو اس وقت اس کا شیطان اس شخص سے نکل جاتاہے‘‘۔ !

چہارم : ’’ اس کے پشت سے اس پر پانی انڈیلا گیا ‘‘ یعنی اس جگہ سے جہاں سے نظر لگانے والے نے دیکھا تھا ، کیونکہ اس تعریف کے باعث نکلنے والا شیطان کا سبب وہ گہری سفیدی ہے جو عمومی طور پر جسم میں تھی ، سر پر پانی اس لئے بہایا گیا تاکہ متاثرہونے والے جسم کے تمام حصوں پر پانی پہنچ جائے ۔اور اگر کسی متاثرہ شخص کو زیادہ کھانے کی وجہ سےنظر لگی ہو اور اس کے پیٹ میں درد شروع ہوجائے تو ضروری ہے کہ یہ اثر ( لعاب یا پسینہ ) اس کے پیٹ کے اندرونی حصوں تک پہنچے کیونکہ وہی جگہ نظر سے متاثر ہے ، اسی طرح دیگر اعضاء کا بھی مسئلہ ہے ، اور اس کیلئے غسل کرنا بھی شرط نہیں ۔[52]


 

فائدہ : طبی سائنس [53]کی رو سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے لعاب ، پسینہ ، ناخن ، اور خون ، اگر انسانی جسم سے علیحدہ بھی ہوجائیں تو وہ ایک خاص لہریں چھوڑتے اور خارج کرتے رہتے ہیں ، اس لئے جادوگر ناخن ، اور بال جادوئی عمل میں استعمال کرتے ہیں تاکہ ان لہروں کو بذریعہ جن استعمال کراتے ہوئے جادو سے متاثرہ شخص کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال کرسکیں ۔

پنجم : رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے سہل رضی اللہ عنہ کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا :’’ اے اللہ ا س نظر کی گرمی سردی اور تکلیف دور فرمادے ‘‘۔ یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ نظر کا پیچھا شیطان کرتا رہتاہے ، اور جزی طور پر وہ متاثرہ شخص کو متلبس بھی کرتاہے جس سے اس کو سینے میں گھٹن محسوس ہوتی ہے (شیطان کے اس دباؤ کی وجہ سے )۔ جس کے التباس کی علامات میں سے یہ بھی علامت ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ کمر کی گرمی ، ہاتھوں پاؤں کا ٹھنڈا ہونا ، اور سارے جسم میں تھکاوٹ محسوس ہونا ، اس کے ساتھ ساتھ وہ تنگی اور گھٹن بھی ہے جس میں ڈکار جمائیوں اور شدید اشتعال شامل ہے ۔

ششم : اگر وہ کسی معین کو مورد الزام نہیں لگاتا تو اس وقت اسے چاہئے کہ وہ قراء ت کا آغاز کردے ، لیکن اس سے قبل مریض کیلئے چند ضروری ہدایات کی پیروی ضروری ہے جس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا (ان شاء اللہ )

نظر بد لگنے کا پتہ کیسے چلے گا ؟

   نظر بد سے متاثرہ انسان کی چند علامات ہیں جن میں ۔ سردرد، چہرے کی پیلاہٹ ، زیادہ پسینہ آنا، زیادہ پیشاب آنا ،ڈکار اور جمائیوں کا زیادہ آنا ، نیند کی کمی یا کثرت ، بھوک کا نہ لگنا ، دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں رطوبت کا پایا جانا اور ان میں سونے کی کیفیت کا پید اہونا۔ دل کی دھڑکن کا کم ہونا، دل بیٹھنا ، غیر طبیعی خوف، شدید ترین غصہ اور اشتعال ، غم اور دل میں گھٹن کا احساس ، کمر کے نچلے حصے میں اور دونوں کندھوں کے درمیان درد محسوس کرنا ، رات کو پسینے میں شرابور ہونا۔یہ علامات نظر بد کی قوت اور نظر لگانے والوں کی قلت وکثر ت کے اعتبار سے تمام کی تمام بھی پائی جاسکتی ہیں یا ان میں سے چند علامات پائی جاتی ہیں ۔ اور ایسے بھی ہوسکتاہے کہ یہ علامات اس شخص میں بھی پائی جائیں جو نظر بد کا شکار نہ ہو جس کی وجہ کوئی جسمانی یا نفسیاتی مرض ہوتاہے ۔

جس پر دم کیا جائے اس کیلئے دم سے قبل چند ضروری ہدایات :

1 : یقین کامل اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسنِ ظن رکھنا : اور یہ کامل یقین رکھے کہ قرآن میں شفا ہے ، اسے چاہئے کہ قرآن کریم کا علاج بطور تجربہ نہیں بلکہ یقین کامل سے کرے ۔

2: تصوراتی قراءت کا اہتمام کرنا : وہ یہ کہ پڑھنے والا اور جس پر پڑھا جا رہاہے یہ تصور رکھیں کہ یہ آیات اس مریض کو شفا دیں گی اور اس ایذا دینے والے جن وغیرہ کی اللہ کے حکم سے ہدایت کا باعث بنیں گی ۔

3 :  شک کا طریقہ استعمال کرنا : وہ یہ کہ کسی پر شک ظاہر کرنے کے طریقہ کا استعمال کرنا جیسا کہ عامر بن ربیعہ کی گزشتہ حدیث میں گذرا کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سے پوچھا ’’ تم کسے مورد الزام ٹھہراتے ہو ‘‘ یہ صحیح حدیث ہے جس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ نظربد کو ثابت کرنے کیلئے اس شخص پر شک کا اظہار کیا جائے جس پر گمان غالب ہو کہ اس سے نظر لگی ہے یا لگ سکتی ہے ، اور یہ چیز ظلم یا فساد نہیں کہلائے گی کیونکہ یہاں متاثرہ شخص جس پر دم کیا جا رہاہے اسے یہ احساس دلانا لازمی ہے کہ وہ اس متہم شخص سے حسن ظن رکھے اور یہ کہ اس نے جو اس کی تعریف کی ہے وہ حسد میں نہیں بلکہ مذاق اورہنسی میں کی ہے۔ ہاں البتہ اس نے تعریف کرتے وقت اللہ کا ذکر نہیں کیا اس لئے اس تعریف میں شیطان شامل ہوگیااور اس کو لیکر مریض کو نقصان پہنچانے لگا جبکہ تعریف کرنے والے کو اس کا پتہ تک بھی نہ تھا کہ ایسا ہوگیاہے ۔ کیونکہ یہ مس شیطانی جو اس تعریف کی وجہ سےجاری ہوا ہے یہ وصف جزوی اور بیرونی ہے جو انسان کو باہر سے تکلیف پہنچاتاہے اور اس کے ساتھ اس کا کچھ اثرجزوی طور پر جسم کے اندرونی حصہ پر بھی اثر انداز ہوتاہے جس کے ساتھ جسم کی کیمیائی حالت میں تبدیلی آجاتی ہے ، اسصورت میں ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوجاتے ہیں ، اور آنکھوں اور کمر میں حرارت پیدا ہوجاتی ہے ، ہونٹ خشک ہوجاتے ہیں اور زائداشتعال اور عجیب وغریب افکار کا ظہور ہوتاہے ، تو یہ جزوی مس ایسا نہیں کہ ایسے دخول کلی قرار دیا جائے کہ اس سے مخطابت ممکن ہو[54]تو یہ بات محض شک تک محدود رہے گی جس کے بارے میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم   نے رہنمائی کی ہے ۔ کہ اس شخص ان افراد سے متعلق پوچھا جائے جن کی اسے نظر لگنے کا خدشہ ممکن تھا ۔ تو وہ تمام لوگ اس شک کی فہرست میں آجائیں گے جن کا اس نے نام لیا ۔ ( اس بنا پر ان سے ان کا لعاب، پسینہ یا دیگر چیز لیکر مریض کا علاج ممکن ہوجائے گا )۔

 نظر بد سے متاثرہ شخص پر پڑھے جانے والے اوراد واذکار

قرآنی آیات : سورہ فاتحہ ، سورہ بقرۃ کا ابتدائی حصہ ، آیت الکرسی ، سورہ بقری کی آخری دو آیات ، سورہ آل عمران کا ابتدائی حصہ ، سورہ حشری کی آخری آیات ( 22تا24 )

فرمان باری تعالیٰ :

 { فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ } [البقرة: 137]

 { وَإِنْ يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ} [القلم: 51]

  { أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا} [النساء:54]

 { فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ} [الملك: 3]

 {يَا قَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّهِ وَآمِنُوا بِهِ يَغْفِرْ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ} [الأحقاف: 31]

 معوذتین ( سورہ الفلق اور سورۃ الناس ) ۔ سورہ اخلاص ۔ اور اس کےساتھ شفاء والی آیات پڑھی


 جائیں جوکہ یہ ہیں :

 { وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا} [الإسراء: 82]

 {قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ} [فصلت: 44]

 {يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ} [يونس: 57]

 {وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ} [التوبة: 14]

 { وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ} [الشعراء: 80]

 مسنون دعائیں :

 ( اَسْئَلُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَّشْفِیَکَ)سات مرتبہ

 ( اُعِیْذُکَ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَّھَامَّۃٍ وَّمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَّامَّۃٍ )تین مرتبہ

 (اَللّٰهُمَّ ربَّ النَّاسِ ، أَذْهِب الْبَأسَ ، واشْفِ ، أَنْتَ الشَّافي لا شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ ، شِفاءً لا يُغَادِرُ سقَماً) تین مرتبہ

 (حَسْبِيَ اللّٰهُ لَا إِلٰـهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ) سات مرتبہ

 ( بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِی لاَیَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآئِ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ) تین مرتبہ

 (اَللّٰهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا)

چند ضروی ہدایات :

قرآن کریم کی تمام آیات شفا ءاور ہدایت کی نیت سے دم کیا جاسکتاہے ۔

 دم کرنے کے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے چند طریقے منقول ہیں جو یہ ہیں ۔

1: دم پڑھنا اور اس کے ساتھ تھتکارنا ہرآیت کے اختتام پر یا چند آیات کے بعد یا مکمل قراءت کے بعد ۔

2: تھتکارنے کے بغیر دم کرنا۔

3: آیات وادعیہ پڑھنا پھر انگلی سےلعاب لیکر اس کو مٹی سے ملاکر تکلیف کی جگہپر ملنا ۔

4: متاثرہ جگہ پرملنے  کے ساتھ دم کرنا۔

ابتدا میں یہ خیال رکھا جائے کہ بہتر یہ ہے کہ ابتدا میں مریض پر زیادہ دم نہ پڑھا جائے بلکہ بعض دعاؤں اوراذکار پر ہی اکتفا کیا جائے ۔ کیونکہ ( دم )  دعا کے مثل ہے ، جس میں افراط وتفریط نہیں ، اور اس لئے بھی کہ دم کرنے والا اور جس پر کیا جارہاہے اکتا نہ جائیں ، اس شخص کو جسے کسی زہریلی چیز نے کاٹ لیا تھا اور ایک صحابی نے اس پر صرف سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تھا یہ اس امر کی واضح دلیل ہے ۔

 

چوتھی فصل

حسد اور جادو

حسد کی اقسام :

مندوب اور جائز حسد : اسے غبطہ( یعنی رشک ) کہا جاتاہے ۔ا ور اس کا معنیٰ یہ ہے کہ کوئی انسان کسی دوسری مسلمان بھائی کی خود پر برتری کو دیکھ کر یہ چاہے کہ میں بھی اس جیسا ہوجاؤں یا اس سے بہتر ہوجاؤں لیکن اس کے ساتھ وہ اپنے اس بھائی سے اس نعمت کے زوال کی تمنا نہ کرے ، اسے نیکمیں مقابلہ کہا جاتاہے ۔ جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہا کہ ’’ میں کبھی کسی چیز میں آپ کا مقابلہ نہیں کروں گا ‘‘ یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جب ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے گھر کا سارا سامان لیکر حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوگئے ۔

شیخ الاسلام فرماتے ہیں :’’ جو عمر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا وہ جائز مقابلہ اور رشک تھا تو یہ چیز محمود اور قابل ستائش ہے ، لیکن صدیق رضی اللہ عنہ کی حالت ان سے افضل اور بہتر تھی ، وہ اس طرح کہ ان کی طبیعت مقابلہ سے مطلقا خالی تھی وہ دوسرے کے حال کی جانب بالکل نہیں دیکھتے تھے ‘‘[55]

یہی حال اس صحابی کا تھا جس کے بارے میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا تھا کہ ’’ ابھی تم پر ایک جنتی شخص داخل ہوگا‘‘ ۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی ۔ تو جب ان صحابی سے سیدنا عبد اللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہنے اس کی وجہ دریافت کی تو وہ فرمانے لگے :’’ میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے متعلق کوئی کینہ نہیں رکھتا اور کسی مسلمان کو ملنے والی نعمتوں اور خیر پر اس سے حسد نہیں کرتا‘‘ تو عبد اللہ  فرمانے لگے ’’ یہی وہ چیز ہے جس نے آپ کو اس درجے تک پہنچایا اور جس کی ہم میں طاقت نہیں ہے‘‘۔ [56]

اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کی ہمارے پیارے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ صورت حال تھی کہ جب آپ اسراء ومعراج کے موقع پر موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گذرے تو وہ رونے لگے۔

 تو یہ رشک ہےجسے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے ایک فرمان میں حسد کا نام دیاہےچنانچہ آپ نے فرمایا ’’  کسی شخص پر حسد ( رشک ) کرنا سوائے دو شخصوں کے جائز نہیں، ایک وہ شخص جسے اللہ نے کتاب دی اور وہ اٹھ کر اسے رات کو پڑھتا ہے اوردوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور وہ دن رات اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہے‘‘  ۔ [57]

اسی اعلیٰ صفت کی بنیاد پر ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ایمان کا وزن پوری امت کے ایمان سے کیا گیا ۔

وہ ان میں سے ہیں جن کے بارے میں باری جل وعلا نے یہ فرمایا :

{وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ (10) أُولَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ} [الواقعة: 10، 11]

ترجمہ :’’اور جو سبقت لے گئے تو وہ سبقت لے گئے ،یہ وہ (خوش نصیب) ہیں جن کو نوازا گیا ہوگا قرب (خاص) سے‘‘۔

دوم : جائز حسد :دنیا کے معاملات میں دو شرائط کے ساتھ رشک جائز ہے ۔

پہلی شرط : برکت کی دعا اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ ۔

دوسری شرط :اپنے مومن بھائی سے اس نعمت کے زوال کی تمنا نہ کی جائے ۔

صحیح بخاری ، 2/ 201

سوم : مکرہ حسد : اپنے بھائی کی کوئی توصیف بیان کرنا اللہ کا نام لئے بغیر ، اور برکت کی دعا دئے بغیر ۔ جس شخص نے ایسا کیا گویا کہ اس نے اپنے بھائی کیلئے شیطان کے تکلیف دینے کا دروازہ کھول دیاہے ، اگرچہ وہ اس سے نعمت کے زوال کا متمنی نہیں تھا ، وہ چونکہ ذکر نہیں کرتا اس لئے مذموم ہے۔ اصل تو یہ ہے کہ انسان ہر وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے ،اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تعریف ومدح کی ہے جو اٹھتے بیٹھتے اور اپنے پہلؤوں پر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ۔ صرف اللہ کا ذکر مقصود نہیں بلکہ اس میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ اپنے دیگرمسلمان بھائیوں کیلئے شیطانی ایذا رسانی کا دروازہ نہ کھولا جائے ۔ جیسا کہ عامر بن ربیعہ اور سہل بن سعد کے واقعہ میں آپ ملاحظہ کر چکے ہیں ۔ [58]

چہارم : حرام حسد : اگر کوئی حسد سابقہ شرائط سے عاری ہے تو وہ حرام کہلائے گا ، لہذا جس نے کسی کی تعریف کے وقت برکت کی دعا نہ دی ، اور اپنے بھائی سے نعمت کے زوال کی تمنا کی ، تو یہ قاتل نظر بد ہے ۔ اور اس طرح کی نظر بد صرف اور صرف نفسِ خبیثہ سے ہی صادر ہوتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ، اس کی مثال یہود کے حسد کی مانند ہے ۔[59]

نظر بد کا جادو سے تعلق :

   باری جل وعلا کا سورہ فلق میں یہ فرمان :

{ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ (4) وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ } [الفلق: 4، 5]

’’اور گرہ (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی)۔اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وہ حسد کرے‘‘۔

( ملاحظہ کریں کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے کیسے ‘‘نفاثات ‘‘ کو معرفہ اور اس سے قبل  ( غاسق اور حاسد) کونکرہ بیان کیا ہے ؟ کیونکہ ہر گرہ پر پھوکنے والے جادوگر میں شر ہے ، جبکہ ہر غاسق اور حاسد صاحبِ شر نہیں ہوتا ) ۔ [60]

فائدہ : بعض عامۃ الناس کا خیال ہے کہ اگر نظر بد لگانے والے کو پتہ چل جائے کہ اس سے اثر لیا گیاہے تو ، یہ اثر فائدہ نہیں دے گا ، جبکہ یہ سوچ سراسر غلط ہے اور عامر بن ربیعہ اور سہل کے حوالے سے مروی روایت کے برخلاف ہے کیونکہ اس روایت میں ہے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے عامر کو کہا کہ : ’’اپنے بھائی کیلئے غسل کرو تو وہ تو جانتاتھا ، اس کے باوجود نظر بد کا اثر ختم ہوگیا ‘‘۔

فائدہ : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جادو اور حسد کو یکجا کرکے بیان کیا ہے ، یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ان دونوں میں باہمی ربط موجودہے ۔جادوگر بالوں یا ناخنون کی گرہ پر پھونکتاہے جس کے ذریعے وہ ایک شیطان خاص کردیتاہے تاکہ وہ مسحور شخص کو ایذا پہنچاتارہے ۔ اور حاسد ( نظر بد والا شخص ) بھی شیطان کو ایک وصف جو اسے پسند آیا ہوتاہے جس پر وہ اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا سے خاص کردیتاہے جو شیطان نظر بد سے متاثرہ شخص کو نقصان پہنچاتارہتاہے ۔ یہ دونوں نقصان پہنچاتے ہیں  لہذا اثر میں مشترک ہیں اور وسیلہ میں مختلف ۔

فائدہ :  فرمان باری تعالیٰ ہے :   {وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ} [الفلق: 4]

ترجمہ : ’’ اور گرہ (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی)‘‘۔

فائدہ: زہریلی نظر جس کا ذکر اہل علم نے کیا ہے اوراسے سانپوں میںدم بریدہ اور سفید دھاری دارکو قیاس کیا ہے ، کیونکہ اسے ذاتی طور پر زہریلی طاقت ودیعت کی گئی ہوتی ہے۔ جیساکہ مرغے کی آنکھ کو ملائکہ کے دیکھنے کی قوت عطا کی گئی ہے ، اور کتے اور گدھے کیآنکھ کو شیاطین کے دیکھنے کی صلاحیت عطا کی گئی ہے ، جبکہ انسان کاجہاں تک تعلق ہے تو اسے جوایذا دینے والی زہریلی طاقت دی گئی ہے وہ ذاتی نہیں ہے ،بلکہ وہ وصف ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا جاتاجیساکہ گذشتہ حدیث میں بیان ہوا کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :’’ نظر بد حق ہے اس میں شیطان شامل ہوتاہے ‘‘ یہ اثرنظر کے دیکھنے کی وجہ سے نہیں ہے [61]

جیسا کہ ابن حجر رحمہ اللہ نے سابقہ بحث میں واضح کردیاہے ۔ اس کی مزید توضیح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس فرمان سے بھی ہوجاتی ہے جس میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  ’’ جنوں اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے ‘‘۔کیونکہ ان دونوں میں باہمی تعلق وربط ہوتا ہے ۔

فائدہ : عامۃ الناس کے ہاں یہ بھی تصور پایا جاتاہے کہ اگر کسی پر جن مسلط ہوا ہے تو اگر وہ عورت ہے تو اس پر مرد جن مسلط ہوگا اور اگر مرد ہے تو اس پر عورت جن مسلط ہوگی ۔ یہ نظریہ بھی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی اس حدیث کے خلاف ہے جس میں جب آپ کے پاس ایک پاگل مرد علاج کیلئے لایا گیا تو آپ نے اس کے جن کو کہا ’’ اللہ کے دشمن نکل جاؤ میں اللہ کا رسول ہوں ‘‘ یعنی آپ نے مذکر کے خطاب سے مخاطب کیا ( جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ جن مرد تھا ) ۔

فائدہ : بعض علماء نے ذکر کیا ہے کہ جادو میں بیری کے پتوں کا استعمال اور ان سے غسل کرنا فائدہ مند ہوتاہے ۔ یہ چیز نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت نہیں بلکہ یہ وہ تجربات ہیں جو وھب بن منبہ نے کیے جسے ابن حجرنے فتح الباری میں نقل کیا ہے ۔ بیری کی خاصیت یہ ہے کہ وہ جنوں کو سدرۃ المنتہی ٰ کی یاد دلاتی ہے جس کے پاس جنت الماویٰ ہے ، اور جنت میں سدر مخضود (بغیر کانٹوں کے بیری ) کی یاد دلاتی ہے،  جس سے وہ ڈر جاتے ہیں کیونکہ وہ حساس طبیعت کےمالک ہوتے ہیں۔ لہٰذا بیری کا استعمال چاہے وہ جادو میں ہویا کسی اور چیز میں اس سے جنات کو تکلیف ہوتی ہے ۔ اور اس کامحض جادو سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے ۔

دعوت الی اللہ کی نیت سے دم کرنے کی اہمیت پر مشتمل اہم فائدہ:

فرمان باری تعالیٰ ہے :{وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ} [ا ٰل عمران: 104]

ترجمہ :’’اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں‘‘۔

علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :’’ وہ کسے دعوت دیتے ہیں ؟ اس میں مفعول محذوف ہے ۔ اس میں ہر وہ شامل ہے جس کو دعوت دی جائے ، کوئی بھی انسان ، اور کیا جنوں کو بھی دعوت دی جائے گی ؟ جی ہاں انہیں بھی دعوت دی جائے گی ، اس لئے یہاں عموم کی وجہ سے مفعول محذوف ہے ۔ ‘‘ [62]

پانچویں فصل

نظر بد اور جادو سے بچاؤ کی تدابیر

مصیبت کے نزول سے قبل اس سے بچانے اور محفوظ رکھنے والے اعمال :

 ۱: بندہ اپنے رب کو یاد رکھے اس کے اوامر کی اطاعت کرتے ہوئے : جیساکہ مسجد میں باجماعت پانچ وقت کی نماز وں کی پابندی کرے۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:’’ جس آدمی نے صبح کی نماز پڑھی تو وہ اللہ کی ذمہ داری میں ہے اللہ کی ذمہ داری میں خلل نہ ڈالو تو جو اس طرح کرے گا اللہ اسے اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دے گا‘‘۔[63]

والدین کی اطاعت اور ان سے حسنِ سلوک ۔

نفلی نمازوں ، روزوں اور قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کرنا ۔

اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے منع کردہ امور سے اجتناب کرے ۔ حرام چیزوں پر نظر ڈالنے سے بچے ، بیہودہ چینلز سے دور رہے ، گانوں کے گانے اور سننے کو ترک کردے ، منکرات پر مبنی مجالس کا بائیکاٹ کرے ۔ ایسا کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی وہ حفاظت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتاہے ، جس کے بارے میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے اس فرمان کے ذریعے بشارت دی کہ ’’ احفظ اللہ یحفظک ‘‘[64]اللہ کو ہمیشہ یاد رکھ وہ تجھے محفوظ رکھے گا ‘‘۔

۲:اذکار واوراد کا کثرت سے اہتمام کرے ۔

قرآن وسنت سے ثابت شدہ اذکار اور داعاؤں کا اہتمام کرنا ، ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہنا ، جیساکہ نماز کے بعد کے اذکار کا اہتمام کرنا ، یومیہ بنیاد پر قرآن مجید کی تلاوت کا اور صبح وشام کے اذکار کا اہتمام کرنا ۔ نیز اس کے ساتھ سوتے وقت اور جاگتے وقت کی دعاؤں کا اہتمام کرنا ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے :

{وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَإِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمٰى} [طه: 124]

ترجمہ :’’ اور (ہاں) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی، اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کرکے اٹھائیں گے‘‘۔

مصیبت اور بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد کے وہ اعمال جو اللہ کے حکم سےاس بیمارے کے خاتمے کا باعث بنتے ہیں 

1: دوران دم یقین ِ کامل اور اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن رکھنا : انسان یہ نہ کہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے کلام کا تجربہ کرکے دیکھتاہوں ۔ بلکہ یقین رکھے کہ اسی میں شفا ء ہے ۔ اور علاج کی اصل اور بنیادی دوا یہی ہے ۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :

{ وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظَّالِمِيْنَ إِلَّا خَسَارًا}

ترجمہ :’’قرآن جو ہم نازل کر رہے ہیں مومنوں کے لئے تو سراسر شفا اور رحمت ہے۔ ہاں ظالموں کو بجز نقصان کے اور کوئی زیادتی نہیں ہوتی‘‘۔ [الإسراء: 82]

2: خالق ومالک کی تعظیم وتکریم بجالانا اور اسی سے التجا کرنا: اسی سے تعلق جوڑنا توبہ کرنا اور ہر وقت اسے پکارتے رہنا ، کیونکہ وہ اکیلا ویکتا ہی شفاء دے سکتاہے ۔ اور اگر آپ کو تکلیف پہنچتی ہے تو آپ کا خود اپنے اوپر دم کرنا اس سے بہتر ہے کہ کوئی اور آپ پر دم کرے ۔

3 : لوگوں سے احسان کا معاملہ کرنا ، اور صدقہ وخیرات کرتے رہنا :نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان مبارک ہے : ’’جس آدمی نے کسی مومن سے دنیا میں مصیبتوں کو دور کیا اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی مصیبتوں کو دور کرے گا اور جس نے تنگ دست پر آسانی کی اللہ اس پر دنیا میں اور آخرت میں آسانی کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس بندے کی مدد میں ہوتاہے اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرےگا اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندہ کی مدد میں لگا


رہتاہے کہ جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے‘‘[65]

اور ابی امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ اپنے بیماروں کا علاج صدقہ سے کیا کرو ‘‘ ۔[66]

آیۃ الکرسی

صبح وشام ایک مرتبہ، سوتے وقت ایک مرتبہ، ہرفرض نماز کے بعد ایک مرتبہ۔

فرشتوں کےذریعہ حفاظت، شیاطین کو گھروں سےبھگانے کا ذریعہ، جنت میں داخلے کا سبب۔

سورہ ِبقرۃ آخری دو آیتیں

ایک مرتبہ شام میں یا نیند سے قبل  یا اپنے گھر میں  پڑھیں۔

ہر قسم کی شریر چیزوں کے شرسے حفاظت اور تین راتوں تک شیاطین کو گھر سے دور رکھنے کا ذریعہ۔

سورہ اخلاص، (قل ھو اللہ احد)، اور معوذتان،(سورہ فلق) (سورہ الناس)

صبح وشام تین تین مرتبہ، سوتے وقت ایک مرتبہ، ہرفرض نماز کے بعد ایک مرتبہ۔

ہر قسم کی شریر چیزوں کے شرسے بچاؤ اور انسانی نظربد سے حفاظت۔

بِسْمِ اللهِ الّذِيْ لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِيْ الأَرْضِ وَلَا فِيْ السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيْعُ العَلِيْمُ۔

   صبح وشام  تین بار۔

کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا،اچانک افتاد سے حفاظت، ہرتکلیف سے بچاؤ کا ذریعہ۔

 

 

 

 

 


 

أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔

تین مرتبہ شام کے وقت ، اور کسی بھی جگہ پڑاؤ ڈالتے وقت۔

تمام املاک کی ہرقسم کےنقصان سے حفاظت،زہریلے جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں کے زہر کو زائل کرنے کا سبب۔

حَسْبِيَ اللّٰهُ لَا إِلٰـهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ)

صبح وشام  سات بار۔

دنیا کے تمام غموں سے حفاظت کا باعث۔

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير

(بازار میں داخل ہوتے وقت ولہ الحمد کےبعد ان الفاط کو بڑھا دیں) يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَّا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٍ ۔

صبح وشام دس دس مرتبہ یا دن میں سو مرتبہ یا اس سے زیادہ بار،بازار میں داخل ہوتے ہوئے ایک مرتبہ۔

سو نیکیوں کو جمع کرنے اور سو گناہوں کو مٹانےکا سبب ،دس گردنوں کو آزاد کرنے کا ثواب،نامہ اعمال میں دس لاکھ نیکیوں کا اندراج اور دس لاکھ خطاؤں کو مٹانے کا باعث(جنت میں ایک گھر کی تعمیر کا ذریعہ)۔

بسم الله، توكَّلْتُ على الله، ولا حَوْلَ ولا قُوةَ إلا بِالله۔

گھر سے نکلتے وقت ایک مرتبہ

تین مختلف حصاروں کے ذریعہ شیطان سے حفاظت:اللہ اس شخص کے لئے کافی ہوجائے گا، اسے شیطان کے شر سے بچائے گااورشیطان کو اس سے دور رکھے گا۔

 

 


 

أعوذ بالله العظيم، وبوجهه الكريم، وسلطانه القديم، من الشيطان الرجيم۔

مسجد میں داخل ہوتے وقت ایک مرتبہ

اس دن شیطان سے مکمل حفاظت کا سبب۔

أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الَّذِیْ لَا إِلٰہَ إِلَّا ھُوَالْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاأَتُوْبُ إِلَیْہِ۔

کثرت کے ساتھ پڑھا جائے

تمام گناہوں سے خلاصی کا سبب چاہے وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔

کثرت سے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   پر درود پڑھنا اور افضل ترین درود درودِ ابراہیمی(جونماز میں پڑھا جاتا ہے) ہے۔

اس کی حد مقرر نہیں البتہ کم ازکم صبح وشام دس دس مرتبہ پڑھا جائے۔

دنیا اور آخرت کی بھلائی کو جمع کرنے والا عمل یعنی دنیا کے تمام غموں سے حفاظت کا باعث اور تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ اورآخرت میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی شفاعت کا ذریعہ۔

تمام فرض نمازوں کی مسجد میں باجماعت ادائیگی۔

پانچ نمازیں

جن و انس میں موجود شیطانوں کے ہر قسم کے شرسے حفاظت۔

أسْتَوْدِعُكُمُ اللّٰهَ الَّذِيْ لَا تُضِيْعُ وَدَائِعَهٗ-

جس چیز کی بھی حفاظت مقصود ہو اس پر ایک بار پڑھیں۔

مال واولاد دیگر چیزوں کی حفاظت اور چوری اورنقصان سے بچاؤ کا ذریعہ۔

 



[1]  فاضل مدینہ یونیورسٹی

[2] مسند امام احمد ، 4\/872، ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیاہے ، اور علامہ ہیثمی فرماتے ہیں عبدا للہ بن مسعود کی سند سے یہ روایت صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں ۔

[3] سنن ابن ماجہ ، 2/1142 ، نمبر (3452) اس روایت کی سند صحیح ہے ۔

[4] المنہج السوی للسیوطی ، تحقیق حسن الاھدل ص 307

[5] س مفہوم کو ہمارے فاضل شیخ جناب محمد ابن عثیمین رحمہ اللہ پر پڑھا گیا تو آپ نے ایک فتویٰ میں اس کی تائید کی ۔ جو ایک کیسٹ ریکارڈ میں موجود ہے ۔

[6]  الفراسۃ للرازی ، ص 27

[7] بخاری، کتاب الطب ،10/171، مسلم  (  2197)  کتاب السلام ۔

[8] فتح الباري ، 10/212

[9] مسند امام احمد 1/254

[10] ابن ماجہ ، کتاب الطب ، حدیث نمبر 3548

[11] سنن بیہقی ، 6/24

[12] مجمع الزوائد 5/115

[13] زاد المعاد 4/ 352

[14] زاد المعاد ،4/98

[15] متفق علیہ

[16]  بخاری ، 10/519

[17]  المعجم المفہرس لالفاظ القرآن الکریم ، حسن علی کریمۃ ، ص 132

[18] ابوداؤد ، 286

[19]  رواہ الترمذی ، صحیح سنن الترمذی للالبانی  1/ 40

[20] نفسیاتی اور مسِ شیطانی کی بیماری میں فرق یہ ہے کہ : نفسیاتی امراض جذباتی تاثرات کا نام ہے ، اگر یہ بڑھ جائیں تو مس شیطانی کےمقدمات بن جاتے ہیں ، کیونکہ شیطانمشتعل اعصاب پر حملہ آور ہوتاہے ،اس لئے شریعت میں انسان کو تنہا سونے ، اکیلئے سفر کرنے سے منع کیا گیاہے ۔ جیسا کہ حدیث میں وارد ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ ایک سوار ایک شیطان ہے ، دو سوار دو شیطان ہیں اور تین سوار ، سوار ہیں  ‘‘

[21]  مناقب امام احمد ، لابن الجوزی ۔ تحقیق ڈاکٹر عبد اللہ ترکی ص245

[22]  مسند امام احمد ، 5/ 464

[23] زاد المعاد 4/358

[24] نوٹ : یہ چند مثالیں ہیں ، لہذا یہ آیات ان بیماریوں اور ان کے علاوہ دیگر بیماریوں پر بھی پڑھی جاسکتی ہیں ، اسی طرح مذکورہ بالا بیماریوں پر یہ آیات اور ان کے علاوہ دیگر آیات بھی پڑھی جاسکتی ہیں ۔ ( یہ بطور مثال ہیں اس کی شرعاًکوئی تحدید وتعیین نہیں )

[25]  السلسلہ الصحیحہ للألبانی ، 1931

[26] صحیح مسلم ، 14/191

[27] صحیح بخاری ،7/159

[28] صحیح بخاری ، 7/ 160

[29] صحیح بخاری ، 7/ 159

[30] صحیح سنن ترمذی ، از علامہ البانی رحمہ اللہ 2/202

[31] اس روایت کو حافظ ابن حجر نے فتح الباری  10/214 ،میں حسن قرار دیاہے ، جبکہ امام سخاوی نے مقاصد حسنہ صفحہ470   میں ، اور علامہ البانی نے سلسلہ صحیحہ صفحہ 747 میں اسے حسن قرار دیاہے ۔

[32]  اس روایت کو ابو نعیم نے الحلیۃ ، 7/90 ،علامہ خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد 9/244، میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیاہے ۔ اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع (4023) میں بیان کیاہے ۔

[33]  صحیح مسلم 2/ 153.

[34] مزید تفصیل کیلئے مصنف کی کتاب ’’ قواعد الرقیۃ الشرعیۃ ‘‘ کا مطالعہ کریں جو مذکورہ موضوع میں کافی وشافی کتاب ہے ۔

[35]  بخاری ،10/203،  مسند احمد ، 21439

[36] كتاب السلوك لابن تيمیۃ  10/ 125

[37] ادب الدنیا والدین ، للماوردی ، ص 260

[38] صحیح الجامع ، حدیث نمبر  (1217)یہ حدیث حسن صحیح ۔

[39] كتاب السلوك لابن تيمیۃ  10/ 126

[40] یعنی شیطانی روحیں ، اور یہی رائے صحیح ہے اور حدیث سے موافق بھی ہے اور تجربہ بھی اس کا گواہ ہے ، نہ کہ اس سے مراد محض انسانی روحیں ہیں ، یہاں ابن حجر کو وہم ہواہے ، تفصیل کیلئے دیکھیں ابن قیم رحمہ اللہ کی کتاب زاد المعاد 4/163میں اس پر تعلیق

[41] فتح الباري لابن حجر 10/212

[42] فتح الباری :10/215

[43]  صحیح الجامع للألبانی ( 3908)

[44] مسند امام احمد 3/447

[45] زاد المعاد 4/ 163

[46]  زاد المعاد 4/ 159

[47] علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے مدارج السالکین1/405 میں خواب کی تعبیر کرنے والوں کا حیوانات کی دلالت کے بارے میں بڑا نفیس کلا م کیا ہے اسے دیکھا جاسکتاہے ۔

[48]  اس روایت کو ابن ماجہ نے نقل کیاہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے ۔

[49] مسند امام احمد 2/380

[50] الجامع الکبیر للسیوطی  14622

[51] زاد المعاد 4/ 163

[52] سماحۃ الشیخ علامہ عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ ہم نے بارہا تجربہ کیا ہے کہ چہرہ دھونا کلی کرنا اور ہاتھوں کو دھونا ہی نظر بد کے علاج کیلئے کافی ہے ، اگر کسی معین انسان پر الزام ہو ، اگرچہ وہ غسل نہ کرے ‘‘ دیکھئے : فتاویٰ السحر والعین والمس ، کیسٹ تسجیلات بردین ۔

[53] سائنس میں اس کانام ( ریڈیونک ) ہے ۔ اس سی ذاتی لہر نکلتی ہے ۔ یہ ایک خاص علم ہے جس سے میڈیکلی علاج میں مرض کی تشخیص کیلئے مدد لی جاتی ہے ۔ برطانیہ ، جرمنی ، فرانس ، اور امریکہ میں اس کی باقاعدہ درسگاہیں ہیں ۔ اس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ہر انسان کی ایک ذاتی لہر ہوتی ہے جو دوسرے انسان سے بالکل مختلف ہوتی ہے ، جیسا انسان کی انگلیوں کے نشان آپس میں نہیں ملتے اسی طرح یہ بھی ہر انسان کی دوسرے سے مختلف لہر ہوتی ہے ۔ لہذا انسان کے جسم سے جو چیز بھی علیحدہ ہوتی ہے جیسے بال ، ناخن ، لعاب ، پسینہ یا خون اس میں وہ لہر ساتھ ہوتی ہے ۔ اس لہر کو صرف ایک ہی چیز ختم کرسکتی ہے وہ یہ کہ انہیں تلف کردیا جائےیا دفنا دیا جائے۔ ایسا کرنے سے اس لہر کی تاثیر ختم ہوجاتی ہے ۔اور جادوگر اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے ۔

[54]  اور اصل یہی ہے کہ اس سے ہم کلام نہ ہوا جائے تاکہ اس شر کو دور کیا جاسکے جو اس پر مرتب ہوتاہے ۔

[55] السلوک 10/ 118

[56] السلوک 10 / 119

[57] صحیح بخاری ، 2/ 201

[58] ان کا ایسا کرنا مذموم ٹہرا تھا کیونکہ انہوں نے اپنے بھائی کی تعریف کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا تھا ۔

[59] یہ فعل انتہائی مذموم فعل ہے ، کیونکہ اس میں اللہ کا ذکر نہیں ہوتا اور اپنے بھائی سے نعمت کے زوال کی تمنا ہوتی ہے ۔

[60] فتح الرحمٰن لابی زکریا الانصاری 634

[61] کیونکہ نابینا کی نظر بھی لگ جاتی ہے ۔

[62] تفسیر سورہ آل عمران ۔از شیخ عثیمین رحمہ اللہ  کیسٹ نمبر ۳۰  ، تسجیلات الاستقامۃ ۔

[63] صحیح مسلم

[64] مسند احمد ، سنن ترمذی

[65] صحیح مسلم

[66] صحیح الجامع للالبانی  2358

Read 638 times Last modified on ہفتہ, 24 مارچ 2018 14:33
  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

اپنے بیماروں کا علاج کتاب و سنت سے کیسے کریں؟!

 مترجم :  خالدحسین گورایہ [1]

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علي سید الأنبیاء والمرسلین نبینا محمد وعلیٰ آلہ وصحبہ أجمعین۔۔۔۔۔۔۔ أما بعد!

تمہید :

تمام تعریفات اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں جو یہ فرماتاہے کہ

{ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ}

ترجمہ : ’’ اے لوگوں! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے اور دلوں میں جو روگ ہیں ان کے لئے شفا ہے اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان  والوں کے لئے‘‘۔ [يونس: 57]

اور درود وسلام ہو پیارے محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  پر جو یہ فرماتے ہیں کہ ’’ بیشک اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کے ساتھ اس کی دوا بھی اتاری ہے جس نے جان لیا اس نے جان لیا اور جو جاہل رہا وہ جاہل ہی رہا ‘‘۔[2]

اما بعد :

آج کے اس آخری دور میں قرآن مجید سے علاج کرنے کی صورت عام ہوچکی ہے ۔ یہصورت  بلاشک وشبہ ایک بہت اچھی چیز ہے ، لیکن جو چیز پریشان کن اور قابلِ افسوس ہے وہ یہ کہ اس کام کو سرانجام دینے والے چند جاہل قاری حضرات ہیں جو علم شرعی سے بالکل کورے ہوتے ہیں ، ان کا یہ منافع بخش کاروبار بن گیاہےاور لوگوں کا مال باطل وناجائز طریقوں سے بٹورنے  میں لگے ہوئےہیں ۔ جبکہ دوسری جانب بہت سے لوگ محض میڈیکل علاج پر تکیہ کرکے شرعی دواؤں اور دعاؤں کو بالکل فراموش کر چکے ہیں ۔ یہی وہ بنیادی وجہ تھی جس بنا پر اس موضوع پر ایک عاجزانہ تحریر لکھنے کیلئے میں نے قلم اٹھایا ، جب میں نے محسوس کیا کہ لوگوں کے عقائد ( بالخصوص ان قراء حضرات کے)  درست کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔( ان میں اہل توحید بھی ہیں ) کہ ان کا بدعات طلاسم اور صوفی خرافات سے ناطہ وتعلق توڑا جائے ، اس کے ساتھ ان ڈاکٹرز حضرات کی اصلاح کی بھی ضرورت ہے جنہوں نے بیماری میں ایمان کے کرادار کو بالکل فراموش کردیاہے اور صحیح شرعی دم سے لاپرواہی اور پہلو تہی اختیار کرتے ہیں ۔

 اس لئے ضروری تھا کہ چند ضروری قواعد وضوابط متعین کردئے جائیں ، اور قرآنی علاج کےلئے چند کلینک کھولے جائیں تاکہ کتاب وسنت کے دلائل کی روشنی میں صحیح شرعی مفاہیم کی وضاحت کے ساتھ اس شعبہ کوشعبہ بازوں اور دجالوںسے محفوظ کیا جاسکے ۔ یہ کلینک دیگر طبی ونفسیاتی ہسپتالوں  

کےساتھ اور سرکاری( سعودی حکومت کی) سرپرستی میں ہونے چاہئیں ، اس کے ساتھ مناسب قراء اور صلاح وتقویٰ اور علم شرعی سےمالا مال لوگوںکو منتخب کرکے وہاں بٹھایاجائے اس کے ساتھ مسلسل ان کی نگرانی بھی کی جاتی رہنی چاہئے ، اسی ذریعہ سے اصل دوا یعنی شرعی دم اور سببِ دوا یعنی مادی وطبی اشیاء میں جمع ممکن ہے ۔ رسو ل اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا علاج میں یہی منہج ہو اکرتاتھا جیسا کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :’’ تم دو شفاؤں کو لازم پکڑو قرآن اور شہد ‘‘۔[3]

علامہ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس فرمان میں طبِ بشری اور طب الٰہی  دونوں کو یکجا کردیاہے ‘‘۔[4]

چونکہ لوگوں کی غالب واکثر بیماریوں کی وجہ نظر بد ہوتی ہے اور اس حدیث ( العین حق ) (نظر بر حق ہے )کا معنی یہ ہے اللہ کا ذکر کئے بغیر کسی کی توصیف وتعریف کرنا ( زبان کا زہر ہے )  نہ کہ اس سے مراد آنکھ بطور آلہ مراد ہے ۔ اس کی نسبت آنکھ کی جانب ا س لئے کی گئی ہےکہ کیونکہ حقیقت حال کا وصف وہی بیان کر رہی ہوتی ہے ، اس وقت موقع پر موجود شیاطین اسے لے کر موصوف کو تکلیف دینے کی ٹھان لیتے ہیں ( اللہ کے حکم سے ) کیونکہ نظر بد کا یہ مفہوم شرعی میرے علم کے مطابق شاید اس سے پہلے بیان نہیں ہوا ، لہٰذا میں نے اس کتابچہ میں بے پناہ کوشش کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بعد عقیدہ کے متخصص علماء کرام کی رہنمائی سے(دم) کی شرعی اصول بندی کردی جائے جوکہ زیادہ ضروری تھا ۔ [5]

 میں اللہ سے درخواست کرتا ہوں جو عظمت والا ہے اور بڑی عظمت والے عرش کا مالک ہے کہ وہ اس کتابچہ کو پڑھنے والے اسے لوگوں تک پہنچانے والےاور اس کے لکھنے والے کیلئے دعا کرنے والے کو اس سے فائدہ پہنچائے ۔ {إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ} [هود: 88]

ترجمہ:’’ میں تو جہاں تک ہوسکے اصلاح ہی چاہتا ہوں‘‘

 وصلی اللہ علی نبینا محمدوآلہ وسلم

فصل اول :

علاج کا طریقہ کار

کسی بھی نوعیت کی بیماری کے علاج سے قبل چند ضروری قواعد اور اقدامات کو مدنظر رکھنا بہت ضروری ہوتاہے ، جن میں سے چند ایک ذیل میں درج کئے جاتے ہیں :

(1)  فراست سے کام لینا : فرمان باری تعالیٰ ہے :{ إِنَّ فِي ذٰلِكَ لَآيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ} [الحجر: 75]

ترجمہ : ’’ بلا شبہ گہری نظر رکھنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ‘‘۔

فراست {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} [الفاتحة: 5] کے منازل ومراتب میں سے ایک اہم مرتبہ ہے ۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’ مدارج السالکین(2/284) ‘‘ میں رقمطراز ہیں کہ ’’مجاہد کہتے ہیں ’’ متوسمین‘‘ سے مراد فہم وفراست رکھنے والے ہیں ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’ دیکھنے والے مراد ہیں ۔ قتادہ کہتے ہیں ’’ عبرت ونصیحت حاصل کرنے والے ‘‘ جبکہ مقاتل کہتے ہیں ’’ غور وفکر کرنے والے مراد ہیں ‘‘۔

فراست سے مراد : ظاہری حالات وواقعات کی روشنی میں باطنی اخلاق وکردار کا اندازہ لگانا مراد ہے ۔[6]

یہاں اسی فراست کے حوالے سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت نقل کرنا ضروری ہے وہ فرماتی ہیں  :’’رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ان کے گھر میں ایک لڑکی کو دیکھا جس کے چہرے پر نشان تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا اس کو دم کرو، اس کو نظر لگ گئی ہے‘‘ ۔[7]

( حدیث میں لفظِ ’’سفعۃ‘‘وارد ہوا ہے )اس کی تعریف میں علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ:’’ ابراہیم حربی فرماتے ہیں :’’ اس سے مراد چہرے کی سیاہی ہے ‘‘۔ اور اصمعی لکھتے ہیں ’’ سیاہی مائل زرد رنگ ‘‘ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ’’ اس سے مراد پیلا پن ہے ‘‘ ۔ اور ابن قتیبہ لکھتے ہیں :’’ ایسے رنگ کا نمایاں ہونا جو چہرے کی رنگت سے منفرد ہو ‘‘۔

(سفعۃ) کی تفسیر میں یہ جو تمام معنی بیان کئے گئے ہیں سب تقریبا قریب قریب ہی ہیں ۔ اگر چہرے کا رنگ زرد ہے تو سفعہ محض سیاہ ہوگا ، اور اگر چہرے کا رنگ سفید ہے تو سفعہ پیلا پن ہوگا ، اگر چہرے کا رنگ سیاہ ہوگا تو سفعہ ایسا زرد رنگ جو سیاہی مائل ہو ، ہوگا ‘‘۔ [8]

لہذا (معالج کو چاہئےکہ ) مریض اگر مرد ہے تو اس کے چہرے کا اچھی طرح جائزہ لے ۔ اور اگر وہ خاتون ہے تو اجنبی مرد کے لئے اس کا چہرہ دیکھنا جائز نہیں ،الا کہ دم کرنے والا شخص اس عورت کا محرم ہو تو وہ اس کا چہرہ دیکھ سکتاہے ۔

(2)   بیماری کی تشخیص اور اس کی نوعیت کا سمجھنا :

لہٰذا پہلے لمحے میں ہی مریض کو مارپیٹ شروع کردینا ، اس کا گلا دبانا ، ناک میں کوئی چیز ڈالنا ، بجلی کا کرنٹ لگانا کار آمد نہیں ہوتا ۔ بلکہ اس طرح کے حربے بسا اوقات مریض یا معالج کیلئے خطرناک نتائج کا باعث بن جاتے ہیں ۔ لہٰذا علاج میں مرحلہ وار ترتیب کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے ۔ کیونکہ جنات کا کسی انسان کے جسم میں داخل ہونا افعالِ منکرات میں سے ایک منکر ہے ، جس کی تردید منکرفعل کے مراتب کو سامنے رکھتے ہوئے کی جانی چاہئے ۔

اس لئے سب سے پہلے مریض پر شرعی اوراد اور قرآن مجید کی آیات پڑھنا بذات خود شفا یابی کا مرحلہ اور کامیاب طریقہ علاج بھی ہے بلکہ یہ اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کے ذریعے سے اس ( شریر ) جن کی ہدایت کی جانب رہنمائی اور دعوت بھی ہے کہ وہ برائی سے تائب ہوکر ہدایت کو قبول کرے ۔

جب ہم رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی جانب سے بعض مریضوں ( جو جنات وشیاطین کے متاثرہ تھے ) کے علاج کا جائزہ لیتے ہیں کہ آپ نے ان متاثرہ افراد کا علاج کیسے کیا تو اس کی حکمت اور تاثیر کا آپ کو بخوبی اندازہ ہوجائے گا ۔

ان میں سے چند ایک لمحات ومواقع ملاحظہ فرمائیں ۔

1 امام احمد رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں ایک روایت سیدنا ابن عباس سے نقل کی کہ ’’ ایک عورت اپنے بیٹے کو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں لائی اور عرض کرنے لگی ، اے اللہ کے رسول(  صلی اللہ علیہ وسلم ) ’’ میرے اس بیٹے کو پاگل پن کے دورے پڑتے ہیں جو عموما ہمارے دوپہر اور رات کے کھانے وقت پڑتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ہمارا کھانا خراب کردیتا ہے ۔ فرماتے ہیں :’’ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور اس کیلئے دعا کی ،جس سے اس نے زور سے کھانسااور الٹی کی تو اس کے پیٹ سے کتے کے بچے کی مانند ایک سیاہ جانور نکل کر بھاگا‘‘[9]

2امام احمدرحمہ اللہ ام ابان بنت الوازع اور وہ اپنے والد سے نقل کرتی ہیں کہ ’’ ان کے دادا اپنے ایک پاگل بیٹے کو لیکر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’اسے میرے قریب کرو ، اور اس کی پیٹھ میری طرف کردو ، آپ نے اس کے کپڑے اکٹھے کرکے اوپر اور نیچے دونوں جانب سے مضبوطی سے پکڑے ، اور اس کی پیٹھ پر مارنے لگے ، اور یہ فرماتے رہے ’’ اخسأ عدوا للہ ‘‘ تو وہ لڑکا بالکل ٹھیک طرح سے دیکھنے بھالنے لگ گیا ۔ ابن ماجہ کی روایت میں عثمان بن ابی  العاص کی روایت میں ان الفاظ کا تذکرہ ہےکہ ’’ اخرج عدو اللہ ‘‘ اے اللہ کے دشمن نکل جاؤ ۔ [10]

3 امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں اسامہ بن زید کی ایک طویل حدیث نقل کی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں ’ ’ میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ حج کے سفر پر نکلا یہاں تک کہ جب آپ بطن روحاء کے مقام پر پہنچے تو ایک عورت اپنے بیٹے کو لیکر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئی اور فرمانے لگی اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میرا یہ بیٹا جس دن سے پید اہوا ہے اس دن سے آج تک اس (کی تکلیف ) میں افاقہ نہیں ہوا اور نہ ہوش آیا ہے ، آپ نے اس کے سینے اور پیٹ کے درمیان کجاوہ رکھا پھر اس کے منہ میں تھتکارا ۔ اور فرمایا ’’ اے اللہ کے دشمن نکل جاؤ میں اللہ کا رسول ہوں ‘‘ فرماتے ہیں :’’ آپ نے پھر وہ بچہ اس خاتون کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا ’ ’ اسے لے  جاؤ اب اسے کوئی مسئلہ نہیں ہے ‘‘ ۔ [11]

4امام ابو یعلیٰ حسن الصنعانی کے طریق سے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کرتے  ہیں کہ انہوں نے کسی آسیب زدہ شخص کے کان میں کچھ پڑھا تو وہ ٹھیک ہوگیا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ابن مسعود سے دریافت کیا کہ ’’ آپ نے اس کے کان میں کیا پڑھا ہے؟ ‘‘  ابن مسعود فرمانے لگے میں نے یہ آیات پڑھی ہیں :

{اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ ١١٥؁ فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ ١١٦؁ وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ  ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ  ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ  ۭ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ ١١٧؁وَقُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ ١١٨؁ۧ } [المؤمنون: 115 - 118]

ترجمہ :’’کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یونہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ سچا بادشاہ ہے وہ بڑی بلندی والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی کریم عرش کا مالک ہےاور جو کوئی اس سب کے باوجود اللہ کے ساتھ کسی بھی اور ایسے خودساختہ اور فرضی معبود کو پکارے گا جس کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل  نہیں تو سوائے اسکے نہیں کہ اس کا حساب اس کے رب کے یہاں ہی ہوگا، یہ قطعی اور یقینی امر ہے کہ کافر کبھی فلاح نہیں پا سکیں گے اور اے پیغمبر آپ یوں کہا کریں کہ اے میرے رب، بخشش فرما، اور رحم فرما کہ تو ہی ہے سب سے بڑا رحم کرنے والا‘‘۔

 رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  فرمانے لگے ، اگر کوئی صاحبِ توفیق شخص یہ آیات کسی پہاڑ پر پڑھ دے تو وہ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائے ‘‘۔

امام ہیثمی فرماتے ہیں ’’ اس روایت میں ابن لھیعۃ ہے جو کہ ضعیف ہے اور اس کی حدیث حسن درجے کی ہے ۔ جبکہ سند کے دیگر راوی صحیح کے راوی ہیں ۔‘‘[12]

لہٰذا ان روایات کی رو سے طریقہ علاج میں جو فرق دیکھا گیاہے وہ مرض کے اسباب ، علامات ،


 اور ان کے مختلف طریقہ ہائے علاج کی وجہ سے ہے ۔ یہیں سے ہمارے سامنے بعض معالجین کی ناکامی کی اصل وجہ کھل کر سامنے آجاتی ہےکہ وہ ہر قسم کے امراض وعلامات سے صرف ایک ہی طریقہ ( جو ماردھاڑ کا ہوتاہے ) سے نبٹنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

 (3)قرآن ہر چیز کا علاج ہے :

دوا اور علاج میں بنیادی بات یہ ہے کہ وہ قرآن مجید سے ہونا چاہیے ۔ پھر دوسرے نمبر پر مروج داؤں کے ساتھ ۔ ( یہ محض روحانی امراض میں نہیں ) بلکہ جسمانی امراض میں بھی اسی چیز کو ملحوظ خاطر رکھا جائے ، نہ کہ جیسا بعض جاہل معالجین یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی فرد کی بیماری کا تعلق جسمانی عضو سے ہے تو وہ ہسپتالوں سے رجوع کرے ، اور جس کو نفسیاتی مرض لاحق ہے وہ نفسیاتی کلینک اور ماہرین نفسیات سے رجوع کرے ۔ اور اگر کوئی روحانی بیماری میں مبتلا ہے تو اس کا علاج دم ، ادعیہ اور قرآن سے کیا جاتاہے ۔

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ لوگ اس طرح کی تقسیم کس بنیاد پر کرتے ہیں ؟ جبکہ قرآن دلوں کا علاج اور اس کی دوا ہے ، اور جسموں کی سلامتی اور اس کی شفا ہے ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے :{ وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ  } [الإسراء: 82]

ترجمہ : ’ ’ یہ قرآن جو ہم نازل کر رہے ہیں مومنوں کیلئے تو سراسر شفا اور رحمت ہے ‘‘۔

یہاں لفظ ِ ’’ شفا ء‘‘ پر غور کریں ، اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ قرآن ’’ دوا ‘‘ ہے ۔ بلکہ یہ کہا کہ یہ ’’شفاء‘‘ ہے ۔ کیونکہ شفا دوا کا ظاہری اور حتمی نتیجہ ہے ۔ جبکہ دوا میں یہ احتمال پایا جاتاہے کہ ہوسکتاہے وہ شفا یاب کرے یا نہ کرے ؟

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’ زاد المعاد ‘‘ میں لکھتے ہیں :’’ قرآن مجید ہر قسم کی دلی اور جسمانی، دنیاوی واخروی بیماریوں کا مکمل علاج ہے۔ لیکن ہر کسی کو قرآن سے شفاء حاصل کرنے کی اہلیت اور توفیق نصیب نہیں ہوتی ۔ اگر بیمار شخص اس قرآن سےدوا کا حصول اچھے طریقے سے کرے اور اپنی بیماری پر مرہم مکمل سچائی ، ایمان ، مکمل قبولیت اور اعتقاد کامل وجازم اور شرائط کی تکمیل کے ساتھ رکھے تو اس کا مقابلہ کبھی بھی کوئی بیماری نہیں کرسکتی ۔ اوریہ ہوبھی کیسے سکتاہے کہ بیماریاں رب سماء وارض کے کلام کا مقابلہ کرسکیں ؟! ایسا کلام کہ اگر وہ پہاڑوں پر نازل ہوتا تو انہیں ریزہ ریزہ کردیتا، اور اگر زمین پر نازل ہوتا تو اسے چیر دیتا ۔ لہٰذا دلوں اور جسموں کی کوئی بھی بیماری ہو مگر قرآن میں اس کا علاج اور اس کے سبب پر دلالت ورہنمائی موجود ہے ۔ تو جسے قرآن شفاء نہ دے سکے اللہ اسے کبھی شفاء نہ دے ، اور جسے قرآن کافی نہ ہو اسے اللہ بھی کافی نہ ہو۔‘‘[13]

لہٰذا قرآن مجید سے علاج کرتے وقت یقینِ کامل ، اور اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن رکھنا بہت ضروری ہے ۔ کیونکہ بیمار کے دوا سے فائدہ اٹھانے کی بنیادی شرط ہی یہ ہے کہ وہ اسے قبول کرے اور اس سے فائدہ حاصل ہونے کا اعتقاد رکھے‘‘ ۔ [14]

اللہ تعالیٰ کے کلام کو تجرباتی طور پر استعمال نہیں کیا جاتا ایسا کرنا اعتقاد میں خلل کی دلیل ہے ۔ اگر کسی نے زمزم کے پانی کو بطور تجربہ استعمال کیا تو اسے اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ضروری ہے کہ کامل یقین کے ساتھ اس سے اللہ کے حکم سے فائدہ حاصل ہونے کے عقیدہ کے ساتھ پیا جائے تو فائدہ حاصل ہوگا ۔

الغرض قرآن مجید کے ذریعہ جسمانی امراض کے علاج کی بات کی جائے تو بات بہت طول پکڑ جائے گی مگر بغرض تفہیم میں یہاں چند ایک مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔

بہت سی ( جسمانی اور نفسیاتی ) بیماریاں ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں بڑھانے میں شیطان کا کلیدی کردار ہوتاہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے خون کی گردش میں تصرف کا اختیار دیا ہوا ہے ۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ذی شان ہے کہ ’’ شیطان بنی آدم میں خون کی طرح دوڑتا ہے ‘‘ ۔ [15]

انہی علامات میں سے ایک غصہ بھی ہے ۔

غصہ :  غصہ بہت سی بیماریوں کے جنم لینے کا باعث بنتاہے ۔ اس لئے جب ایک شخص آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوا  اور عرض کرنے لگا کہ اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  مجھے وصیت ونصیحت  فرمائیے ، تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسے فرمایا:’’ لا تغضب ‘‘ غصہ مت کرو ۔ اس نے بار بار نصیحت کرنے کا کہا تو آپ نے ہر بار یہی جواب دیا کہ ’’ غصہ نہ کرو ‘‘ ۔ [16]

غصہ کی تاثیر جسم پر واضح طور پر دیکھی اور محسوس کی جاسکتی ہے ،معدہ کا زخم ( السر ) تیزابیت ، اور اعصابی قولون اسی شدید غصہ کا ہی نتیجہ ہیں ۔اسی طرح بعض لوگوں میں شوگر کی وجہ وہ بے چینی ہے جس کی وجہ غصہ ہوتاہے ، اسی طرح بہت سے پوشیدہ امراض وغیرہ کا باعث یہی غصہ بنتاہے ۔

خصوصا سراوردماغ کی بیماریاں جن میں درد، شریانوں کا پھٹنا، دماغی سکتہ ، اچانک فالج کا اٹیک ، نیز دل کی بیماریاں ، angina pectoris وغیرہ ان سب کا بنیادی سبب غصہ ہی ہوتاہے ۔اور غصہ ان بیماریوں کی پیدائش اور افزائش وبڑھوتری میں کلیدی کردارادا کرتاہے ۔ بلکہ غصہ ہی ہر برائی کی جڑ ہے ۔ غصہ شیطان کی طرف سے ہوتاہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے :

    {وَاذْكُرْ عَبْدَنَآ اَيُّوْبَ ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ   41؀ۭ} [ص: 41]

ترجمہ :’’اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا (بھی) ذکر کر، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے رنج اور دکھ پہنچایا ہے‘‘۔

حتی کہ بعض اہل علم کا یہاں تک کہنا ہے کہ ایوب علیہ السلام کو تمام جسمانی اور نفسیاتی بیماریاں لاحق ہوئیں تھیں ۔ اور باری جل وعلا کے اس  فرمان کہ ’’بِنُصْبٍ وَعَذَاب‘‘ سے مراد ہے کہ ’’ شیطان نے مجھے تھکاوٹ ، درد اور نفسیاتی عذاب میں مبتلا کیا ہے ۔ یہاں ان بیماریوں کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے کیونکہ ان کا سبب وہی ( شیطان لعین ) تھا ، اور باری جل وعلا کےادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے تکلیف وبیماری کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی گئی ‘‘۔ [17]

الحمد للہ بہت سی بیماریوں میں مبتلا افراد پر قرآن کریم پڑھا گیا بالخصوص مہلک بیماریوں جن کا ہوسکتاہے سبب شیطان ہو ۔ جیساکہ کینسر ، شریانوں کا پھٹنا ، دائمی دمہ،فالج،بانجھ پن ، شوگر ، اور دل وغیرہ کی بیماریوں میں مبتلا افراد پر یہ قرآن پڑھا گیا توانہیں اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم واحسان سے شفا ء


نصیب ہوئی ۔ایسے ہی خواتین میں ایک بیماری جو عام ہے کہ ماہواری کے ایام کابے ترتیب ہوجانا چاہے وہ دیر سے آنے کی بیماری ہو یا اس کا دورانیہ بغیر کسی ظاہری سبب کے طویل ہوجاتا ہواس کا سبب بھی بسا اوقات جنات ( وشیاطین )بنتے ہیں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو مرتبہ اس کے متعلق پوچھا گیا ، پہلی مرتبہ آپ نے یہ فرمایاکہ ’’ذاک عرق‘‘ [18]

’’ یہ تو ایک رگ کا خون ہے ‘‘ ۔

اور دوسری مرتبہ جب آپ سے حمنہ بنت جحش نے سوال کیا کہ :’’ مجھے بہت زیادہ حیض آتاتھا ، تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :’’ انما ھی رکضۃ من رکضات الشیطان ‘‘ ۔ [19]

’’ یہ تو شیطان کچھ چبھوتا ہے‘‘

( اس میں شیطان کا مقصد یہ ہوتاہے کہ ) وہ کوشش کرتاہے کہ حیض کا دورانیہ بڑھا دے یا تو وہ کچھ خون روک لیتاہے پھر مدت گذرنے کے بعد اسے چھوڑ دیتاہے ، تاکہ عورت نماز نہ پڑھ سکے اور قرآن کی تلاوت نہ کرسکے ، یا پھر وہ مقررہ جگہ کو زخمی کردیتاہے تاکہ عورت وہم میں مبتلا ہوجائے ، جس سے وہ حیض اور زخم کے خون میں فرق نہیں کرپاتی جس کی بنا پر وہ نماز سے رکی رہتی ہے ۔

اسی طرح فالج کی بیماری ہے۔ جن بسا اوقات بعض مریضوں کے فالج سے متاثرہ اعضاء پر اپنا کنٹرول حاصل کرلیتاہے اور ان پر قابو پانے کے بعد ان کی حرکت روک دیتاہے ، جس سے اس کے ساتھ درج ذیل چند علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔

  نفسیاتی دباؤ اورتناؤکے ساتھ تنگی اور مستقل درد ، جب ایسے مریض پر قرآن پڑھا جائے تو وہ فالج سے متاثرہ جگہ پر کچھ سکون محسوس کرتاہے ۔اور اگر مریض سکون محسوس نہ کرے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جن اعصاب کو تباہ کرکے جسم کو مفلوج کیفیت دے کر اس سے نکل چکاہے لہٰذا مریض کا جسم اسی حالت میں رہتاہے ۔اور ایک لمبے عرصے تک جسم اسی حالت میں رہنے کی وجہ سے مفلوج ہوچکا ہوتاہے ۔ اس طرح کی صورت حال انتہائی مہلک صورت حال ہوتی ہے جس کے لئے صبر اور اللہ تعالیٰ سے شفا کی نیت سے مستقل دم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔

مثلا : معدہ ، اعصاب اور ہڈی جوڑوں وغیرہ کا علاج یہ ہے کہ دم کرنے والا اپنا ہاتھ درد کے مقام پر رکھ کر ( تین دفعہ بسم اللہ کہہ کر ) یہ دعاسات مرتبہ پڑھے

    ’’ أعُوْذُ بِعِزَّةِ اللّٰہِ وَقُدْرَتِہٖ مِنْ شَرِّ مَآ أجِدُ وَأُحَاذِرُ ‘‘

تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے درد جاتا رہے گا ۔ ان شاء اللہ ۔

جہاں تک نفسیاتی امراض کا تعلق ہے جن میں سے چند ایک کا تذکرہ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں [20]

پاگل پن: یہ ایک انتہائی خطرناک ذہنی مرض ہے جس کا علاج ڈاکٹر حضرات گولیوں اور انجکشنوں سے کرتے ہیں ۔ اور ایسا بہت کم ہی ہوتا ہے کہ مریض اس مہلک بیماری سے پوری طرح شفایاب ہوسکے جبکہ بہت سے ایسے مریض ہیں جو اس بیماری میں مبتلا تھے اور ان کا علاج شرعی طریقہ (یعنی دم ) سے کا گیا تو انہیں صحت وعافیت کی زندگی نصیب ہوگئی ۔

وسوسے : یہ ایسی بیماری ہے جس کا سبب بسا اوقات جنات بنتے ہیں ( اس سے ان کا مقصد بندہ کو اپنے رب وخالق سے تعلق کو ختم کرنا اور توڑنا ہوتاہے ) یہ وسوسے وضو سے شروع ہوتے ہیں اور عقیدہ میں تشکیک پر ختم ہوتے ہیں ۔

اس کا علاج درجِ ذیل طریقے سے کیا جاتاہے ۔

اول: فکری وذہنی وسوسے اور ان کا علاج : اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کیا جائے ، اور ان وسوسوں کو اہمیت نہ دی جائے، ان سے صرف نظرکیا جائے، اور خیالات کو جھٹکنے کی کوشش کی جائے ۔ وسوسوں کے برعکس کام کیا جائے ۔ شیطان سے پناہ مانگی جائے۔ ( اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ کہے) اور اپنے بائیں جانب تھتکارے ۔ مریض اپنے نفس اور فکر کو ذکر اور عمل نافع میں مشغول رکھے ۔ نیز دوستوں بھائیوں سے خوش طبعی سے ملے اور صلہ رحمی کرے ۔

دوم : حسی وسوسے :  وسوسوں کی اس قسم کو علماء نفس کے ہاں وسواس قہری( یعنی غیر ارادی اور خطرناک وسوسے) کا نام دیا جاتاہے ۔ وسوسوں کی یہ صورت فکری وذہنی وسوسوں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے ۔ اس صورت میں مریض اپنے جسم کے مختلف حصوں میں تکلیف اور درد محسوس کرتاہے ۔

اس قسم کے وسوسوں کا علاج ایک تو اسی طریقہ سے کیا جائے جیسا کہ پہلی قسم میں بیان ہوا ہے ۔ اس پر مستزاد ان کا علاج حسی طریقے سے بھی کیا جائے۔ اس میں مریض کو چاہئے کہ وہ حرکت کرے ، اور خود سے سستی کاہلی کو اتار پھینکے ۔ اس کاہلی کے ازالے کے لئے اسے چاہئے کہ وہ عزیز واقارب سے ملاقات کرے ان کی زیارت کرے ان سے میل جول رکھے ، دوستوں سے ملے ، صلہ رحمی کرے ، ٹھنڈے پانی سے غسل کرے تاکہ خون کی گردش فعال ہو ۔ اس کے ساتھ ، ورزش کا اہتمام کرے ، سفر کرے ، اور نیک شگون اور اچھی توقعات قائم کرتے ہوئے اپنے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرائے ۔ اور اللہ تعالیٰ کی قضاء وقدر پر راضی رہے ،ایسا شخص مجاہد فی سبیل اللہ کے قائم مقام ہے ۔ باری جل وعلا نے ایوب علیہ السلام کے حوالے سے ارشاد فرمایا :

        {وَاذْكُرْ عَبْدَنَآ اَيُّوْبَ ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ   41؀ۭ} [ص: 41]

ترجمہ : ’’اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا (بھی) ذکر کر، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے رنج اور دکھ پہنچایا ہے‘‘۔

تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس بیماری کیلئے ایوب علیہ السلام سے یہ نہیں کہا کہ اسے ختم کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو کیونکہ یہ حسی وسوسے تھے ان کیلئے ضروری تھا کہ کوئی حسی فعل انجام دیا جائے تاکہ ان کا ازالہ ہو تو باری جل وعلا نے انہیں یہ فرمایا کہ :

           {اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ ۚ ھٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّشَرَابٌ  42؀} [ص: 42]

ترجمہ : اپنا پاؤں مارو، یہ نہانے کا ٹھنڈا اور پینے کا پانی ہے۔

 اہل اصول کے ہاں قاعدہ ہے کہ ’’ اعتبار لفظ کے عموم کا ہے سبب کے خاص ہونے کا نہیں ‘‘۔ ( اس


لئے یہ حکم صرف ایوب علیہ السلام کیلئے نہیں بلکہ ان سب کیلئے ہے جو حسی وسوسوں میں مبتلا ہوں ) ۔

امام احمد رحمہ اللہ کے بارے میں ان کے شاگرد ابوبکر المروذی فرماتے ہیں کہ ’’ میں ابی عبد اللہ کے ساتھ مسجد کیلئے نکلا جب وہ مسجد میں داخل ہوئے اور نماز شروع کی جب رکوع کرنے لگے تو میں نے دیکھا کہ انہوں نے اپنے کپڑے سے ہاتھ نکالا اور دو انگلیوں سے اشارہ کرنے اور انہیں ہلانے لگے ۔ جب نماز ختم ہوئی تو میں نے دریافت کیا اور کہا کہ اے اباعبد اللہ میں نے دیکھا کہ آپ نماز میں اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کر رہے تھے ؟آپ فرمانے لگے کہ ’’ میرے پاس شیطان آیا اور اس نے یہ کہا کہ آپ نے اپنے پاؤں نہیں دھوئے ، میں نے انگلیوں سے اشارہ کرکے اسے بتایاکہ میں نے دو گواہوں کی موجودگی میں پاؤں دھوئے ہیں ‘‘۔ [21]

ہاں اگر انسان ضرورت محسوس کرے تو نفسیاتی دواؤں کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ، بلکہ ان سے وقتی افاقہ حاصل ہوتاہے لیکن وہ مکمل علاج نہیں ،محض ایک مادی سبب ہونے کے باعث انسان اسے استعمال کرسکتاہے جس کی شریعت میں اجازت بھی موجود ہے اور ان داواؤں کو اصل دوا یعنی شرعی دم کے ساتھ ملاکر استعمال کیا جائے ۔ ( جس سے جلد افاقہ کا امکان ہے ) ۔

ڈپریشن افسردگی اور غمگینی کا علاج : اس مرض کا علاج زیادہ وقت مسجد میں گذارنا ہے ، نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:’’ میری آنکھوںکی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے ‘‘۔ [22]

اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کوئی اچانک کوئی مشکل مسئلہ درپیش آجاتا تو آپ نماز کی طرف دوڑ پڑتے ، جنات کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ انسان کو تنہائی میں لائیں تاکہ وہ اس پر اپنی دسترس حاصل کرسکیں  اس لئے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے سونے ، جاگنے اور سفر میں تنہائی اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ اگر شیاطین انسان کو تنہا کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں تو شعوری طور پر اسے تنہا کردیتے ہیں ، جس کی بنا پر انسان لوگوں میں ہوتے ہوئے بھی خود کو تنہا محسوس کرتاہے اس کا ذہن منتشر ہوجاتاہے ، اور فکر پراگندہ خیالات میں محواور منتشر ہوجاتی ہے ۔

الغرض جسمانی اور نفسیاتی امراض سے متعلق بات بہت طویل ہے ۔ اس کیلئے علامہ ابن قیم کی کتاب زاد المعاد کا مطالعہ کرنا چاہیئے ۔

یہاں یہی کافی ہے کہ ہم شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے حوالے سے ایک مثال آپ کے سامنے رکھیں کہ وہ جسمانی امراض کا علاج قرآن مجید سے کیسے کیا کرتے تھے ؟

ایک شخص جس کا خون رسے جا رہا تھا اور تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا آپ نے اس پر یہ لکھا کہ

{وَقِيلَ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَا سَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِّ وَقِيلَ بُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ} [هود: 44]

ترجمہ:’’فرما دیا گیا کہ اے زمین اپنے پانی کو نگل جا اور اے آسمان بس کر تھم جا، اسی وقت پانی سکھا دیا گیا اور کام پورا کر دیا گیا اور کشتی ' جودی ' نامی پہاڑ پر جا لگی اور فرما دیا گیا کہ ظالم لوگوں پر لعنت نازل ہو ۔‘‘

تو اللہ کے حکم سے اس شخص کو شفا نصیب ہوگئی ‘‘۔ [23]

یہاں آپ اللہ تعالیٰ کے کلام کی عظمت ملاحظہ فرمائیں کہ یہ آیت محض طوفان کے ساتھ خاص نہیں ، شیخ نے یہاں انسان کو زمین سے تشبیہ دی اور یہ اپنی حد تک قرآنی علاج کا ایک طے شدہ منہج اور طریقہ کا ر ہے ۔ اس لئے آپ ’ ’ ارض ‘‘ یعنی زمین کے لفظ کو لیں  اس پر انسان کو قیاس کرتے چلے جائیں اس طرح اعصابی اور لقوہ وگنٹھیاکے مریضوں پر آپ اللہ تعالیٰ کے اس کلام کو پڑھئے

       {وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ (3) وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ (4) وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ} [الانشقاق: 3 - 5]

ترجمہ :’’اور جب زمین میں پھیلادی جائے گی۔ اور اس میں جو ہے اسے وہ اگل دے گی اور خالی ہو جائے گیاور اپنے رب پر کان لگائے گی اور اسی لائق وہ ہے‘‘۔

سینے کے امراض کے لئے

     {أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ (1) وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ (2) الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ} [الشرح: 1 - 3]

ترجمہ :’’کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیااور تجھ پر سے تیرا بوجھ ہم نے اتار دیا جس نے تیری پیٹھ توڑ دی تھی‘‘۔

اور باطنی امراض کے لئے یہ آیت پڑھیں

       {إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا } [الزلزلة: 1]

ترجمہ : جب زمین پوری طرح جھنجھوڑ دی جائے گی۔

اور اسی طرح کرتے چلے جائیں ۔[24]

خلاصہ باب : آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرمانا :’’ جب ان کے پاس ایک عورت ان کا علاج کر رہی تھی تو آپ نے فرمایا ’’ اس کا علاج کتاب اللہ سے کرو ‘‘۔ [25]

اہم تنبیہ : گذشتہ سطور سے یہ نہ سمجھا جائے کہ انسان دوائی اسباب یعنی بیماری کی تشخیص  اور ان کے عمومی علاج کیلئے ہسپتال  وغیرہ جانے کو بالکل نظر انداز کردے ۔ لیکن ہر بیماری  کے علاج میں بنیاد قرآن کریم اور نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت شدہ دعاؤں کو بنایاجائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ دوا بھی استعمال کریں کیونکہ شریعت نے اس کا بھی حکم دیاہے ، لیکن اس کے ساتھ یہ یقین کامل ہو کہ      شفا ءصرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ، اگر اللہ تعالیٰ نے شفا نازل فرمادی تو اس کے حکم سے دوا اثر کرے گی اور فائدہ دے گی نہ کہ اس کے برعکس ۔ کیونکہ باری جل وعلا کا فرمان مبارک ہے

      {وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ} [الشعراء: 80]

ترجمہ :’’ اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے‘‘۔

الغرض دوا شفا ءکے اسباب میں سے ایک سبب ہے ۔ ہمارے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بعض احادیث میں اس کی طرف اشارہ بھی دیاہے ۔ جیسا کہ آپ نے ایک روایت میں فرمایا:’’ ہر بیماری کی دوا ہے، لہٰذا جب وہ بیماری کے موافق ہو جاتی ہے تو بیمار اللہ کے حکم یعنی اس کی مشیت و ارادہ سےصحت یاب ہوجاتا ہے‘‘۔[26]

ایک روایت میں ہے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’  اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی میں بھلائی ہو تو پچھنے لگوانے یا شہد پینے میں ہے‘‘ ۔ [27]

تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرماناکہ :’’اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی میں بھلائی ہو‘‘۔ اس سے واضح ہوا کہ ہوسکتاہے اللہ تعالیٰ اس میں بھلائی نہ رکھے کیونکہ یہ ایک سبب ہے ( جو کبھی اثر کرتاہے کبھی نہیں )

جبکہ شرعی دم اصل اور بنیاد ہے ۔

اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرما:’’آپ لوگ اس کلونجی کو پابندی سے استعمال کرو اس میں موت کے  علاوہ ہر بیماری کے لئے شفا ہے‘‘ [28]

اور جس شخص کا پیٹ خراب ہوگیاتھا آ پ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کے بارے میں فرمایاتھا ’’ اسے شہد پلاؤ‘‘۔ [29]

اسامہ بن شریک  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ’’میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس تشریف فرماتھا کہ چند اعرابی حاضر ہوئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کیا ہم دوائی استعمال کریں ؟  تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ جی ہاں اے اللہ کے بندو دوائی استعمال کرو ، اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کی شفا بھی نازل کی ہے ، سوائے ایک بیماری کے ، اور وہ بڑھاپا ہے ‘‘۔ [30]

تو یہاں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرمانا کہ ’’ تداووا ‘‘ کہ دوا استعمال کرو ، لیکن یہ دوا بذات خود شفا ءنہیں دیتی بلکہ یہ ایک سبب کی حیثیت رکھتی ہے ( شفا باری جلا وعلا کی طرف سے نصیب ہوتی ہے) ۔

4 : تصوراتی قراءت :

( یہاں یہ چیز ملحوظ رہے کہ ) دم میں محض قراءت کرنا یا آیات کا ورد کرنا کفایت نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ان آیات اور دعاؤں کے مفاہیم اور معانی پر بھی غور کیا جائے ، اور ان سے متاثر ہوا جائے ۔ اگر آپ اس قراءت کا جنات ودیگر جسمانی امراض پر قوت وطاقت کا مظاہرہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ان آیات کے عظیم معانی پر غور وخوض کریں ۔ یہ جنات پر اثر کرتی ہیں اور دیگر جسمانی امراض سے شفایاب کرتی ہیں ۔ اس میں آپ شیخ الاسلام کے طریقہ علاج کو ملاحظہ کریں کہ انہوں نے کیسے خون کے رساؤ کا علاج کیا ، زمین کو انسان سے تشبیہ دی ، اس رساؤ کو اس زمین نےنگل لیا ، جس جگہ سے خون  تھم گیا  ، اوررساؤ سوکھ گیا  اورکام پورا کردیا گیا ، اور مرض یقینا ختم ہوگیا ۔!

اگر آپ اپنی نماز قراءت اور دم میں خشوع وخشیت اختیار کرنا چاہتے ہیں تو اسے ایسے پڑھو جیسا صحابہ پڑھا کرتے تھے : ان میں سے ایک جنت کا تصور ایسے کرتا تھا گویا کہ وہ اسکے اپنے دائیں طرف ہو اور وہ اس کی نعمتیں محسوس کر رہا ہو ، اور جھنم کا تصور ایسا کہ جیسے وہ اس کے بائیں جانب ہو اور وہ کے عذاب ومصائب کو گویا محسوس کر رہا ہے ، تو وہ اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہے ۔ رحمٰن کے عرش کو اپنے سامنے تصور کرتا اس پر غشی طاری ہوجاتی ۔ خشوع کی وجہ سے ان کے سینے سے ایسی آواز سنائی دیتی جیساکہ کسی ہانڈی میں اُبال آرہا ہو ۔ ان کا اس فانی دنیا سے احساس ختم ہوجاتا، اگر ان پر مسجد کی چھت بھی گر جاتی تو انہیں محسوس نہ ہوتا ۔ ہمیں بھی ایسا ہی تصور اور یقین چاہئے ،تو دیکھئے گا اللہ کی قسم ہماری سب بیماریاں ختم ہوجائیں گی ، ہر مرض سے ہمیں شفا مل جائے گی ، یہ قرآں تو ایسا قرآن ہے اگر پہاڑ پر اتار دیا جاتا تو اسے ریزہ ریزہ کردیتا تو کیا یہ قرآن خون اور گوشت پوست سے بنے اس جسم کو ٹھیک نہیں کرسکتا !!

 (5) شفاصرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے :

  بسا اوقات ایسا بھی ہوتاہے کہ انسان تمام اسباب استعمال کرلیتاہے جن میں قرآن مجید کی قراءت  اور دواؤں وغیرہ کا استعمال ، اور مریض میں قرآنی یا دوائی علاج کو قبول کرنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود اسے شفا ءنہیں ملتی ! یہ ضروی نہیں کہ ہر حال میں شفا ملے ، کیونکہ ان  تمام اسباب کا مسبّب اللہ تعالیٰ ہے ۔ اس چیز کا مشاہدہ آپ زندگی کے دیگر شعبہ جات میں بھی کرسکتے ہیں ۔ مثلا کسی علاقے میں زلزلہ آگیا ، اور اللہ کے حکم سے عمارت بھی زمین بوس ہوگئی ، جس کی وجہ سے کچھ لوگوں کی موت واقع ہوگئی جبکہ اس عمارت کے ملبے نیچے آنے والے کچھ لوگ بچ بھی جاتے ہیں ، جبکہ وہ بھی ان تمام مراحل سے گذرے ہوتے ہیں جن سے وفات پائے ہوئے لوگ گذرے ہوتے ہیں ۔ اسی طرح کسی معین فرد  میں جادو کے اسباب بھی مکمل ہوجاتے ہیں لیکن جادو اثر نہیں کرتا ، کیونکہ باری جل وعلا فرماتے ہیں :

 {وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ} [البقرة: 102]

ترجمہ :’’دراصل وہ بغیر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ‘‘

کبھی اللہ تعالیٰ اپنی حکمت خاصہ کے تحت علاج کے اسباب متوفر ہونے کے باوجود بیماری کو باقی رکھنا چاہتے ہیں جس کا مقصد یہ بھی ہوتاہے کہ بندہ اپنے تمام امور اللہ تعالیٰ کے سپرد کردے ، اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ بندہ کے گناہوں کو مٹادے ، اور اس میں ابتلاء وآزمائش بھی ہوسکتی ہے کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بندہ سے محبت کرتاہے۔ جیسا کہ ہمارے نبی ابوا لانبیاء سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہوا کہ جب انہیں آگ میں ڈالا گیا ، انہیں آگ کی تپش نے چھوا ، اس لمحے اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ

    {قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ } [الأنبياء: 69]

ترجمہ :’’ہم نے فرما دیا اے آگ! تو ٹھندی پڑ جا اور ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے سلامتی (اور آرام کی چیز) بن جا‘‘۔

یعنی ہم نے آگ کو حکم دیا ، جبکہ ابراہیم علیہ السلام آگ میں تھے اور اس کی تپش محسوس کررہے تھے ۔

لیکن یہاں سوال پیدا ہوتاہے اگر شفا ءنہ لکھی ہو تو کسی بیماری میں مبتلا شخص پر قرآن مجید پڑھنے کاکیا فائدہہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے ذریعے بیمار کے سینے میں اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر عافیت کی ٹھنڈک اور صبر کا یقین کامل ہوجاتاہے کہ اس کے حکم سے شفا ءمل کر رہے گی ، جس سے بیمارکے دل میں ایک سکون کی لہر دوڑ جاتی ہے اور وہ اس تکلیف کے باوجود آرام محسوس کرتاہے ۔

(6)  لوگوں کی بہت سی بیماریوں کا سبب نظربد ہوتی ہے جبکہ اس کے علاوہ استثنائی کیفیات ہوتی ہیں:

اس کی دلیل نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرمان مبارک ہے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ کی قضاء وقدر کے بعد میری امت میں سب سے زیادہ اموات نظربد سے ہوتی ہیں ‘‘۔[31]

 اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک روایت میں ارشاد فرمایاکہ :’’ نظر بندے کو قبر میں اور اونٹ کو ہنڈیا میں ڈال دیتی ہے ‘‘۔[32]

ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں کہ لوگ بہت سی اموات کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں جن میں متعدی امراض ، معدہ کے امراض ، کینسر ، اور حادثات وغیرہ شامل ہیں ۔ ان میں اکثر امراض وعلل کا سبب قضاء وقدر کے بعد نظر بد ہوتی ہے ۔

اور فراست کے ضمن میں ہم گذشتہ بحث میں بیان کر آئے ہیں کہ ایک ’’ سفعۃ‘‘ بھی ہے : جس سے مراد چہرے کا پیلا پن ، اور پھیکا پڑنا ہے ۔ اس سے معلوم پڑتاہے کہ بیشتر مریض جو نظر بد میں مبتلا ہوتے ہیںاور یہی  نفس اور حسد ہے ۔ اصطلاح میں کوئی جھگڑا نہیں آپ اسے جو بھی نام چاہے دے لیں ۔ ( اس کی وجہ نظربد ہی ہوتی ہے ) اس کا علاج اللہ تعالیٰ کے حکم سے بہت آسان ہے جس کی تفصیل آئندہ سطور میں آپ ملاحظہ کرسکیں گے باذن اللہ ۔

یہاں بہت سے معالجین یہ غلطی کرتے ہیں ( اللہ انہیں ہدایت دے ) کہ مریض کو پریشان ، بے چین اور اس کے ذہن میں یہ سوچ ڈال دیتے ہیں کہ وہ کالے یا لال جادو میں مبتلا ہے ۔ یا اس پرسفلی یا علوی جن مسلط ہیں !۔ اس کی وجہ سے مریض اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایو س ہونے لگتاہے ۔ اس کے ساتھ وہ بیمار کیلئے طرح طرح کی ایذا رسانی کا باعث بنتے ہیں ۔ جس میں مار نا، گلا دبانا اور وسوسوں کے ذریعے اس پر جن مسلط کردیتے ہیں ، یہ اور اس طرح کے تمام اعمال نہ دین ہیں اور نہ دین کا حصہ ، ان روحانی معالجین کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے۔ اور اپنے بھائی کےخلاف شیطان کا معاون نہیں  بنناچاہئے  ۔

اورجہاں تک جادوکا تعلق ہے تو وہ ایک حقیقت ہے اور موجود بھی ، لیکن یہ اتنا منتشر نہیں جیسا کہ نظربد ہے ۔ ( سعودیہ میں )اس کی غالب صورتیں بیرونی لیبر کے ساتھ آئی ہیں ۔

یہ بات نوٹ میں رہے کہ جادو کی اشاعت وترویج وانتشارکی جگہیں وہ ہیں جہاں یہودی مقیم ہوتے ہیں ۔ جیساکہ لبید بن اعصم یہودی نے ہمارے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  پر جادو کیا تھا ۔ اسی طرح سمندروں  دریاؤں کے مقامات بھی جادو کی افزائش کے مقامات ہیں جہاں ابلیس اپنا تخت لگاتاہے اور پھر لوگوں میں فساد بپا کرنے کیلئے اپنے لاؤ لشکر کو بھیجتا ہے ۔ [33]

ہاں (جنات کی جانب سے ) عشق کے معاملات بہت شاذ ونادر ہوتے ہیں ، اسی طرح تکلیف کے بدلے بھی وہ تکلیف دیتے ہیں ، کبھی کبھار بدلہ میں تکلیف دے جاتے ہیں ، اس کا علاج بھی شرعی دم سے ہے ۔ لیکن اس کیلئے ایک عرصہ انتظار اور صبر سے کام لینا پڑتاہے جس کے بعدان جنات کا اثر بھی اللہ کے حکم سے زائل ہوجاتاہے ۔

یہ چند اہم اور بینادی خطوات وقواعد تھے جن کا شرعی رقیہ ودم سے علاج کرتے وقت لحاظ رکھنا چاہئے ۔اور معالج کو ان ضوابط کا پابندہونا چاہئے۔ واللہ اعلم [34]

 فصل دوم

نظر بد حق ہے

نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:’’ نظر بد حق  ہےاس کے ساتھ شیطان اور ابن آدم کا حسد شامل ہوجاتے ہیں‘‘۔ [35]

اس حدیث سے پتہ چلتاہے کہ ہر انسان کے اردگرد شیاطین جن موجودہیں جو طا ق میں رہتے ہیں کہ اسے کسی طرح کوئی نقصان پہنچائیں ، ہر انسان حسد کا شکار ہوسکتاہے ، اور نظر بدسے صرف وہی بچ سکتاہے جسے اللہ تعالیٰ بچا ئے ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی کتاب السلوک میں لکھتے ہیں :’’ حسد نفس کی بیماریوں میں سے ایک ( مہلک ) بیماری ہے ، یہ بیماری بہت عام ہے چیدہ چیدہ لوگ ہی اس سے بچ پاتے ہیں ، اس لئے مثال دی جاتی ہے کہ ’’ کوئی بھی جسم حسد سے خالی نہیں ، لیکنتنگ ظرف اسے ظاہر کردیتاہے اور کریم اسے چھپا کر رکھتاہے ‘‘۔اورتنگ ظرف اسے ظاہر کردیتاہے سے مرادیہ کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تعریف وتوصیف اللہ تعالیٰ کا نام لئے بغیر کرتاہے ، ( امام حسن بصری رحمہ اللہ سے کہا گیاکہ : کیا مومن بھی حسد کرسکتاہے ؟ تو آپ فرمانے لگے :کیا آپ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو بھول گئے ، تمہارا والد نہ رہے ، لیکن اس کادستہ تمہارے دل میں ہے ، یہ آپ کو اس وقت تک نقصان نہیں پہنچائے گا جب تک تم ہاتھ یا زبان سے اس کا اظہار نہ کردو ) [36]

سلف میں سے بعض کا کہنا ہے :’’ حسد وہ پہلا گناہ ہے جس کے ذریعہ آسمانوں میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی گئی ، یعنی : ابلیس لعین کا وہ حسد جو اس نے آدم علیہ السلام سے کیا ۔ اور یہی وہ گناہ ہے جو روئے زمین پر بھی سب سے پہلا ہے یعنی : آدم کے ایک بیٹے نے اپنے دوسرے بھائی سے حسد کیا حتی کہ اس کو قتل کردیا ۔ [37]

اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے ’’ اللہ تعالیٰ کی قضاء وقدر کے بعد میری امت میں سب سے زیادہ اموات نظر بد کی وجہ سے ہیں ‘‘۔[38]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ جو شخص کسی مسلمان بھائی سے متعلق اپنے دل میں حسد پائے تو اسے چاہئے کہ اس کے ساتھ تقویٰ اور صبرسے کام لے اور اپنے دل میں آنے والے خیال کو برا جانے ‘‘۔


 

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے ہیں :’’ تین چیزیں ایسی ہیں جن سے کوئی نہیں بچ سکتا:’’ حسد، بدگمانی ، اور بدشگونی ( طیرۃ)اور میں آپ کو وہ اسباب بیان کرتاہوں جو ان سے بچا سکتے ہیں۔ جب حسد کا خیال آئے تو بغض ونفرت نہ کرو ، اگر بدگمانی کا خیال آئے تو ٹوہ میں نہ لگو ، جب بدشگونی کا خیال آئے تو جو کام کرنا چاہتے ہو اسے کر گذرو ‘‘۔ اسے ابن ابی الدنیا نے روایت کیاہے ، سنن میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے  مروی ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ پہلی امتوں کی بیماری تم میں سرایت کرچکی ہے : حسد ، بغض وعناد ، اور یہ مونڈ دینے والی ہے ، میں یہ نہیں کہتاکہ بال مونڈ دیتی ہے ، لیکن یہ ( بیماری ) دین کو مونڈ ڈالتی ہے ‘‘آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہاں حسد کو بیماری سے تعبیر کیاہے ۔ [39]

اب ہم سیدنا ابو ہریرۃ  رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث کی طرف آتے ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:’’نظر بد حق ہے ، اس کے ساتھ شیطان اور ابن آدم کا حسد شامل ہوجاتے ہیں‘‘

علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :’’ یہ حدیث بعض لوگوں کی سمجھ میں نہ آسکی وہ کہنے لگے کہ ’’نظر بد اتنی دور سے کیسے کام کرتی ہے کہ متاثرہ شخص کو اتنی دور سے نقصان پہنچا سکے ، اور بہت سے لوگ محض ان کی طرف دیکھنے سے بیمار پڑ جاتے ہیں ،اور ان کی قوت وطاقت جواب دے جاتی ہے ، تویہ سب ان روحوں[40]کی اس تاثیر سے ہوتاہے جو اللہ تعالیٰ نے ان میں پیدا کی ہوتی ہے ، اور اس کے نظر سے گہرے تعلق ہونے کی وجہ سے اس کی نسبت نظر کی طرف کردی گئی ہے ، لہذا نظر کی کوئی تاثیر نہیں بلکہ اصل تاثیر روح کی ہے ، اور جو نظر لگانے والے کی آنکھ سے نکلتاہے وہ معنوی تیر ہے ، اگر وہ اس بدن میں پیوست ہوجائے جس میں کوئی حفاظتی چیز نہیںہوتی تو وہ اس پر اثر انداز ہوجائے گا ، بصورت دیگر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا ۔ بلکہ وہ نظر لگانے والے کی طرف پلٹ جائے گا جیسا کہ حسی تیر ہوتاہے یہ دونوں برابر ہیں ‘‘۔ [41]

لہٰذا آنکھ سے نکلنے والی چیز اس کا وصف ( یعنی زبان کا زہر ہوتاہے ) ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ  نابینا شخص کی نظر بھی لوگوں کو لگ جاتی ہے ۔ اور شیطان جو تاک میں رہتاہے وہ اس وصف کو جو انسان کی زبان سےاللہ تعالیٰ کانام لئےبغیر نکلا ہوتاہے اسے کیچ کرلیتاہے ،اور جس سے حسد کیا گیاہے (اللہ کے حکم سے ) اس کے بدن پر اثر انداز ہوجاتاہے ،اگر وہاں کوئیحفاظتی حصار نہ ہوتو ۔

نظر لگانے والوں کی اقسام :

)۱) نظر لگانے والوں میں کچھ لوگ صاحبِ نفسِ خبیثہ ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قضاء وقدر پر ایمان نہیں رکھتے ، ایمان بھی ان کا کمزور ہوتاہے ، کسی غیر سے نعمت کا خاتمہ ہی انہیں خوش کرسکتاہے ، ایسے لوگ اپنے بھائی کا ذکر کرتے وقت اس کی توصیف وتعریف کے وقت اللہ کا ذکر اوربرکت کی دعا  نہیں کرتے ، تو اس لفظ کو وہاںموجود شیطانی روحیں کیچ کرلیتی ہیں جن کا مقصد ہی مسلمان کو ایذا پہنچاناہوتاہے تو اس وقت ( اگر اللہ چاہے اور کوئیحفاظتی حصار بھی نہ ہو تو ) مہلک ہوتی ہے ۔ یہ وہی نظر ہے جس کے بارے میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ نظر بد بندے کو قبر میں اور اونٹ کو ہانڈی میں ڈال دیتی ہے ‘‘۔ یہ حسد وہی یہودیوں والا حسد ہے یا جو ان کےطرز پہ ہوتے ہیں ( اللہ تعالیٰ اس سے پناہ میں رکھے ) ۔

۲) کچھ نظر لگانے والے صاحبِ نفسِ طیبہ ہوتے ہیں لیکن منافست کی بازی میں وہ کسی مومن کی توصیف وتعریف بغیر اللہ کا نام لئے کردیتے ہیں ، جسے وہاں موجود شیاطین کیچ کرلیتے ہیں ، پس وہ جس کو نظر لگائی گئی اسے اس کے جسم ، اعضاء میں تکلیف دینے کی ٹھان لیتے ہیں ، یا پھر اسے نفسیاتی ٹارچر کرتے ہیں جس میں اسے خوف ، تنگی ، وغیرہ میں مبتلا کرنا ہوتاہے ۔ اس صورت حال میں نظر محضپریشان کن ہوتی ہے ۔ اور اس کا علاج بھی اللہ کے حکم سے بہت آسان ہوتاہے ۔ اس قسم کی مثال صحیح بخاری میں عامر بن ربیعہ اور سہل بن حنیف کے حوالے سے مروی روایت ہے۔ جسے مفصلاً ذکر کیا جائے گاان شاء اللہ۔

یہ بات علم میں رہے کہ کوئی بھی مسلمان اللہ کے حکم سے اگر کسی مسلمان بھائی کو نقصان پہنچا سکتاہے تو اس کی ایک ہی شرط ہے کہ وہ : اللہ تعالیٰ کا نام لئےبغیر اس بھائی کی توصیف وتعریف کرے ۔ یہ عمل شرعاً حرام ہے کیونکہ یہ زبان کا زہر ہے جو اپنا اثر دکھاتاہے اور شریعت نے اس سے منع فرمایاہے ۔ علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ نظربغیر حسد کے خود پسندی سے بھی لگ جاتی ہےاگر چہ وہ شخص محب ہو اور نیک آدمی بھی کیوں نہ ہو ،تو جس کواگر کوئی چیز پسند آجائے تو اسے چاہئے کہ وہ فوراً اس پسند آنے والی چیز کیلئے برکت کی دعا کرے ( یعنی ماشاء اللہ تبارک اللہ کہے ) ۔یہی چیز اس کی طرف سے دم ہوگی ‘‘[42]

حدیث عامر بن ربیعہ اور سہل بن حنیف :

سدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف فرماتے ہیں کہ’’ میرے والد سہل بن حنیف نہا رہے تھے۔ عامر بن ربیعہ( رضی اللہ عنہ ) ان کے قریب سے گزرے تو فرمایا میں نے آج تک ایسا آدمی نہ دیکھا۔ پردہ دار لڑکی کا بدن بھی تو ایسا نہیں ہوتا۔ تھوڑی ہی دیر میں سہل گر پڑے۔ انہیں نبی(  صلی اللہ علیہ وسلم ) کی خدمت میں لایا گیا اور عرض کیا گیا ذرا سہل کو دیکھئے تو گر پڑا ہے۔ فرمایا تمہیں کس کے متعلق خیال ہے کہ (اسکی نظر لگی ہے ؟) لوگوں نے عرض کیا عامر بن ربیعہ کی۔ فرمایا آخر تم میں سے ایک اپنے بھائی کو کیوں قتل کرتا ہے ؟ جو تم میں سے کوئی اپنے بھائی میں ایسی بات دیکھے جو اسے اچھی لگے تو اس کو چاہئے کہ بھائی کو برکت کی دعا دے۔ پھر آپ نے پانی منگوایا اور عامر (رضی اللہ عنہ) سے فرمایا وضو کریں۔ انہوں نے چہرہ دھویا اور کہنیوں تک ہاتھ دھوئے اور دونوں گھٹنے دھوئے اور ازار کے اندر (ستر) کا حصہ دھویا۔ آپ نے یہ دھون( پیچھے سے) سہل پر ڈالنے کا حکم فرمایا، اسی لمحے سہل رضی اللہ عنہ ٹھیک ہوگئے‘‘۔[43]ایک روایت میں ہے ’’ مجھے گمان ہے کہ آپ نے فرمایا’’ اس حکم دیا تو


انہوں نے اس سے کچھ پی لیا ‘‘۔[44]

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ زاد المعاد میں فرماتے ہیں :’’ کپڑے کی چنّٹ اور اندرونی اعضاء اور تہبند کا اندرونی حصہ یہ وہ جسم انسانی کے حصے ہیں جن سے شیطانی ارواح کا تعلق ہوتاہے ‘‘[45]

امام ترمذی رحمہ اللہ نے بسند حسن روایت نقل کی ہے کہ ’’نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  جنوں اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگاکرتے تھے ‘‘۔[46]

فوائدِ حدیث :

اول : جب عامر بن ربیعہ نے سہل کی اللہ تعالیٰ کا نام لئے بغیر توصیف وتعریف کی تو شیطان نے ان کلمات کو پسند کرتے ہوئے اچک کر سہل کو تکلیف پہنچادی ، یہ منظر دیکھ کر صحابہ  رضی اللہ عنہم نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور ماجرا بیان کیا ، اس وقت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سے سب سے پہلا سوال یہ پوچھاکہ ’’ کیا تم کسی ایک پر تہمت لگاتے ہو‘‘  اسی ضمن میں دیگر سوال بھی آسکتے ہیں جو مریض سے پوچھے جاسکتے ہیں :

جیساکہ :

۱: کیا آپ کسی کو متہم کرتے ہیں کہ اس نے آپ کی تعریف بیان کی ہو یا کوئی صفت مدح ذکر کی ہو ؟

۲: کیا آپ کو کسی شخص نے بتایاہے کہ اس نے کسی کو آپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے یا کچھ کلمات کہتے ہوئے سنا ہے ؟

۳ : کیا آپ خواب میں دیکھتے ہیں کوئی مخصوص شخص آپ کو مسلسل تکلیف دے رہاہے ؟

۴: کیا آپ خواب میں چند حیوانات :جیسا کہ کتے ، اونٹ ، بلیاں ، بندر ، سانپ ، بچھویا بھونرا وغیرہ کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ پر حملہ آور ہو رہے ہیں ؟[47]

ابتدائی تین سوالوں کا جواب اگر ہاں میں ہے تو وصف بیان کرنے والے شخص کا جوٹھا اس کا لعاب یا پسینہ ، لیکر اسے پانی میں ملاکر متاثرہ شخص کےسر پر سےایک بار بہایاجائے ۔ اور اگر نظر نے جسم کے

کسی اندرونی حصے کو متاثر کیاہو جیساکہ پیٹ تواس پانی کو پی لینا چاہئے۔اوران دونوں کاموں میں جمع کرنا بھی افضل ہے ۔

اور چوتھے سوال کا جواب اگر ہاں میں ہوتو اس کے متعلق ہمیں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس فرمان سے رہنمائی ملتی ہے جس میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ خواب کی کنیت اور نام ہوتے ہیں لہذا انہیں ان کی کنیت اور ناموں کے لحاظ سےپہچانا کرو ‘‘۔[48]

پس اس مریض سے ہم پوچھیں کہ آپ اس حیوان سے اپنے عزیزوں دوستوں اور پڑوسیوں میں سے کون مراد لیتے ہیں ، یا آپ اس حیوان کو کس جگہ پاتے ہیں ؟ اس سوال سے اس کے دل میں چند افراد کا نقشہ آئے گا جس کی روشنی میں ان پر حسنِ ظن رکھتے ہوئے ان کا استعمال شدہ پانی وغیرہ لیکرمریض کو پلایا جائے ۔ کیونکہ انسان اگر مسلسل اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تو وہ اس ذریعہ سے اس شیطان کو تکلیف پہنچاتا رہتاہے جو اس صفت وتعریف کے ذریعے آیا ہوتاہے ، اس لئے پھر وہ اسے خواب میں نظر لگانے والے شخص یا ایسے جانور کی شکل میں نظر آتاہے جس سے نظر لگانے والے کی نشاندہی ہو ، تاکہ وہ اس تکلیف سے نجات پائے جس میں وہ مسلسل جکڑا ہواہے ۔ جیساکہ وہ اپنی زبان حال سے یہ کہہ رہاہوتاہے کہ :’’ یہ ہے وہ شخص نظر لگانے والا لہٰذا اس کا اثر لے لو اور مجھے اس عذاب سے نجات دلادو جس میں میں مبتلاہوں‘‘ کیونکہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے ہیں:’’ تم میں سے ایک اپنے شیطان کو اتنا تھکا دیتاہے جتناکہ تم میں سے ایک اپنے اونٹ کو سفر میں تھکادیتاہے ‘‘۔[49]یعنی کثر ت ذکر کی وجہ سے ۔ ( اس کا شیطان اس کے سامنے ہتھیار ڈال دیتاہے )۔

دوم : کسی کی تعریف کے ساتھ برکت کی دعا کرنا اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا  اس جن کومتاثرہ شخص تک پہنچے سے روک دیتاہے اور اسے اس سے محفوظ کردیتاہے ۔ اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ کہنا کہ ’’ تم نے برکت کی دعا کیوں نہ کی ؟‘‘ سے یہی معنیٰ مستفید ہوتاہے ۔ اور جیسا کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاکہ ’’ جنات کی آنکھوں اور بنی آدم کی شرمگاہوں کے درمیان  پردہ :’’ بسم اللہ ‘‘ کہنا ہے‘‘ ۔ [50]

سوم : نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے عامر بن ربیعہ کو غسل کرنے کا حکم دیا ۔ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’کپڑوں کی چنّٹاور اندرونی اعضاء اور تہبند کا اندرونی حصہ یہ وہ جسم انسانی کے حصے ہیں جن سے شیطانی ارواح کا تعلق ہوتاہے‘‘۔[51]اس سے مراد یہ کہ انسان کے پسینہ کی منفرد بو ہوتی ہے ،جو ہر انسان کا دوسرے سے مختلف ہوتاہے ، کتے کو بھی یہ پتہ ہوتاہے اور اس شیطان کو بھی جو اس نظر بد لگانے والے سے نکلا ہوتاہے ، تو جب اس کا پسینہ یا اس کی لعاب لیکر اس سے غسل کیا جاتاہے یا اسے پیا جاتاہے اگر تکلیف پیٹ کے اندرونی حصہ میں ہوتو ، اس سے وہ شیطان دور ہوجاتاہے کیونکہ وہ اس وصف سے مربوط ہوتاہے جو اسے پسند آیاہو ، جیساکہ اس نظر بد لگانے والے نے اپنے سے نکلنےوالے اس پسینے وغیرہ میں متاثرہ شخص کو اختیار دے دیا کہ وہ اس سے اس کے شیطان سے خلاصی حاصل کرلے ، تو اس وقت اس کا شیطان اس شخص سے نکل جاتاہے‘‘۔ !

چہارم : ’’ اس کے پشت سے اس پر پانی انڈیلا گیا ‘‘ یعنی اس جگہ سے جہاں سے نظر لگانے والے نے دیکھا تھا ، کیونکہ اس تعریف کے باعث نکلنے والا شیطان کا سبب وہ گہری سفیدی ہے جو عمومی طور پر جسم میں تھی ، سر پر پانی اس لئے بہایا گیا تاکہ متاثرہونے والے جسم کے تمام حصوں پر پانی پہنچ جائے ۔اور اگر کسی متاثرہ شخص کو زیادہ کھانے کی وجہ سےنظر لگی ہو اور اس کے پیٹ میں درد شروع ہوجائے تو ضروری ہے کہ یہ اثر ( لعاب یا پسینہ ) اس کے پیٹ کے اندرونی حصوں تک پہنچے کیونکہ وہی جگہ نظر سے متاثر ہے ، اسی طرح دیگر اعضاء کا بھی مسئلہ ہے ، اور اس کیلئے غسل کرنا بھی شرط نہیں ۔[52]


 

فائدہ : طبی سائنس [53]کی رو سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے لعاب ، پسینہ ، ناخن ، اور خون ، اگر انسانی جسم سے علیحدہ بھی ہوجائیں تو وہ ایک خاص لہریں چھوڑتے اور خارج کرتے رہتے ہیں ، اس لئے جادوگر ناخن ، اور بال جادوئی عمل میں استعمال کرتے ہیں تاکہ ان لہروں کو بذریعہ جن استعمال کراتے ہوئے جادو سے متاثرہ شخص کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال کرسکیں ۔

پنجم : رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے سہل رضی اللہ عنہ کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا :’’ اے اللہ ا س نظر کی گرمی سردی اور تکلیف دور فرمادے ‘‘۔ یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ نظر کا پیچھا شیطان کرتا رہتاہے ، اور جزی طور پر وہ متاثرہ شخص کو متلبس بھی کرتاہے جس سے اس کو سینے میں گھٹن محسوس ہوتی ہے (شیطان کے اس دباؤ کی وجہ سے )۔ جس کے التباس کی علامات میں سے یہ بھی علامت ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ کمر کی گرمی ، ہاتھوں پاؤں کا ٹھنڈا ہونا ، اور سارے جسم میں تھکاوٹ محسوس ہونا ، اس کے ساتھ ساتھ وہ تنگی اور گھٹن بھی ہے جس میں ڈکار جمائیوں اور شدید اشتعال شامل ہے ۔

ششم : اگر وہ کسی معین کو مورد الزام نہیں لگاتا تو اس وقت اسے چاہئے کہ وہ قراء ت کا آغاز کردے ، لیکن اس سے قبل مریض کیلئے چند ضروری ہدایات کی پیروی ضروری ہے جس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا (ان شاء اللہ )

نظر بد لگنے کا پتہ کیسے چلے گا ؟

   نظر بد سے متاثرہ انسان کی چند علامات ہیں جن میں ۔ سردرد، چہرے کی پیلاہٹ ، زیادہ پسینہ آنا، زیادہ پیشاب آنا ،ڈکار اور جمائیوں کا زیادہ آنا ، نیند کی کمی یا کثرت ، بھوک کا نہ لگنا ، دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں رطوبت کا پایا جانا اور ان میں سونے کی کیفیت کا پید اہونا۔ دل کی دھڑکن کا کم ہونا، دل بیٹھنا ، غیر طبیعی خوف، شدید ترین غصہ اور اشتعال ، غم اور دل میں گھٹن کا احساس ، کمر کے نچلے حصے میں اور دونوں کندھوں کے درمیان درد محسوس کرنا ، رات کو پسینے میں شرابور ہونا۔یہ علامات نظر بد کی قوت اور نظر لگانے والوں کی قلت وکثر ت کے اعتبار سے تمام کی تمام بھی پائی جاسکتی ہیں یا ان میں سے چند علامات پائی جاتی ہیں ۔ اور ایسے بھی ہوسکتاہے کہ یہ علامات اس شخص میں بھی پائی جائیں جو نظر بد کا شکار نہ ہو جس کی وجہ کوئی جسمانی یا نفسیاتی مرض ہوتاہے ۔

جس پر دم کیا جائے اس کیلئے دم سے قبل چند ضروری ہدایات :

1 : یقین کامل اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسنِ ظن رکھنا : اور یہ کامل یقین رکھے کہ قرآن میں شفا ہے ، اسے چاہئے کہ قرآن کریم کا علاج بطور تجربہ نہیں بلکہ یقین کامل سے کرے ۔

2: تصوراتی قراءت کا اہتمام کرنا : وہ یہ کہ پڑھنے والا اور جس پر پڑھا جا رہاہے یہ تصور رکھیں کہ یہ آیات اس مریض کو شفا دیں گی اور اس ایذا دینے والے جن وغیرہ کی اللہ کے حکم سے ہدایت کا باعث بنیں گی ۔

3 :  شک کا طریقہ استعمال کرنا : وہ یہ کہ کسی پر شک ظاہر کرنے کے طریقہ کا استعمال کرنا جیسا کہ عامر بن ربیعہ کی گزشتہ حدیث میں گذرا کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سے پوچھا ’’ تم کسے مورد الزام ٹھہراتے ہو ‘‘ یہ صحیح حدیث ہے جس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ نظربد کو ثابت کرنے کیلئے اس شخص پر شک کا اظہار کیا جائے جس پر گمان غالب ہو کہ اس سے نظر لگی ہے یا لگ سکتی ہے ، اور یہ چیز ظلم یا فساد نہیں کہلائے گی کیونکہ یہاں متاثرہ شخص جس پر دم کیا جا رہاہے اسے یہ احساس دلانا لازمی ہے کہ وہ اس متہم شخص سے حسن ظن رکھے اور یہ کہ اس نے جو اس کی تعریف کی ہے وہ حسد میں نہیں بلکہ مذاق اورہنسی میں کی ہے۔ ہاں البتہ اس نے تعریف کرتے وقت اللہ کا ذکر نہیں کیا اس لئے اس تعریف میں شیطان شامل ہوگیااور اس کو لیکر مریض کو نقصان پہنچانے لگا جبکہ تعریف کرنے والے کو اس کا پتہ تک بھی نہ تھا کہ ایسا ہوگیاہے ۔ کیونکہ یہ مس شیطانی جو اس تعریف کی وجہ سےجاری ہوا ہے یہ وصف جزوی اور بیرونی ہے جو انسان کو باہر سے تکلیف پہنچاتاہے اور اس کے ساتھ اس کا کچھ اثرجزوی طور پر جسم کے اندرونی حصہ پر بھی اثر انداز ہوتاہے جس کے ساتھ جسم کی کیمیائی حالت میں تبدیلی آجاتی ہے ، اسصورت میں ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوجاتے ہیں ، اور آنکھوں اور کمر میں حرارت پیدا ہوجاتی ہے ، ہونٹ خشک ہوجاتے ہیں اور زائداشتعال اور عجیب وغریب افکار کا ظہور ہوتاہے ، تو یہ جزوی مس ایسا نہیں کہ ایسے دخول کلی قرار دیا جائے کہ اس سے مخطابت ممکن ہو[54]تو یہ بات محض شک تک محدود رہے گی جس کے بارے میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم   نے رہنمائی کی ہے ۔ کہ اس شخص ان افراد سے متعلق پوچھا جائے جن کی اسے نظر لگنے کا خدشہ ممکن تھا ۔ تو وہ تمام لوگ اس شک کی فہرست میں آجائیں گے جن کا اس نے نام لیا ۔ ( اس بنا پر ان سے ان کا لعاب، پسینہ یا دیگر چیز لیکر مریض کا علاج ممکن ہوجائے گا )۔

 نظر بد سے متاثرہ شخص پر پڑھے جانے والے اوراد واذکار

قرآنی آیات : سورہ فاتحہ ، سورہ بقرۃ کا ابتدائی حصہ ، آیت الکرسی ، سورہ بقری کی آخری دو آیات ، سورہ آل عمران کا ابتدائی حصہ ، سورہ حشری کی آخری آیات ( 22تا24 )

فرمان باری تعالیٰ :

 { فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ } [البقرة: 137]

 { وَإِنْ يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ} [القلم: 51]

  { أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا} [النساء:54]

 { فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ} [الملك: 3]

 {يَا قَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّهِ وَآمِنُوا بِهِ يَغْفِرْ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ} [الأحقاف: 31]

 معوذتین ( سورہ الفلق اور سورۃ الناس ) ۔ سورہ اخلاص ۔ اور اس کےساتھ شفاء والی آیات پڑھی


 جائیں جوکہ یہ ہیں :

 { وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا} [الإسراء: 82]

 {قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ} [فصلت: 44]

 {يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ} [يونس: 57]

 {وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ} [التوبة: 14]

 { وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ} [الشعراء: 80]

 مسنون دعائیں :

 ( اَسْئَلُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَّشْفِیَکَ)سات مرتبہ

 ( اُعِیْذُکَ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَّھَامَّۃٍ وَّمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَّامَّۃٍ )تین مرتبہ

 (اَللّٰهُمَّ ربَّ النَّاسِ ، أَذْهِب الْبَأسَ ، واشْفِ ، أَنْتَ الشَّافي لا شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ ، شِفاءً لا يُغَادِرُ سقَماً) تین مرتبہ

 (حَسْبِيَ اللّٰهُ لَا إِلٰـهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ) سات مرتبہ

 ( بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِی لاَیَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآئِ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ) تین مرتبہ

 (اَللّٰهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا)

چند ضروی ہدایات :

قرآن کریم کی تمام آیات شفا ءاور ہدایت کی نیت سے دم کیا جاسکتاہے ۔

 دم کرنے کے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے چند طریقے منقول ہیں جو یہ ہیں ۔

1: دم پڑھنا اور اس کے ساتھ تھتکارنا ہرآیت کے اختتام پر یا چند آیات کے بعد یا مکمل قراءت کے بعد ۔

2: تھتکارنے کے بغیر دم کرنا۔

3: آیات وادعیہ پڑھنا پھر انگلی سےلعاب لیکر اس کو مٹی سے ملاکر تکلیف کی جگہپر ملنا ۔

4: متاثرہ جگہ پرملنے  کے ساتھ دم کرنا۔

ابتدا میں یہ خیال رکھا جائے کہ بہتر یہ ہے کہ ابتدا میں مریض پر زیادہ دم نہ پڑھا جائے بلکہ بعض دعاؤں اوراذکار پر ہی اکتفا کیا جائے ۔ کیونکہ ( دم )  دعا کے مثل ہے ، جس میں افراط وتفریط نہیں ، اور اس لئے بھی کہ دم کرنے والا اور جس پر کیا جارہاہے اکتا نہ جائیں ، اس شخص کو جسے کسی زہریلی چیز نے کاٹ لیا تھا اور ایک صحابی نے اس پر صرف سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تھا یہ اس امر کی واضح دلیل ہے ۔

 

چوتھی فصل

حسد اور جادو

حسد کی اقسام :

مندوب اور جائز حسد : اسے غبطہ( یعنی رشک ) کہا جاتاہے ۔ا ور اس کا معنیٰ یہ ہے کہ کوئی انسان کسی دوسری مسلمان بھائی کی خود پر برتری کو دیکھ کر یہ چاہے کہ میں بھی اس جیسا ہوجاؤں یا اس سے بہتر ہوجاؤں لیکن اس کے ساتھ وہ اپنے اس بھائی سے اس نعمت کے زوال کی تمنا نہ کرے ، اسے نیکمیں مقابلہ کہا جاتاہے ۔ جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہا کہ ’’ میں کبھی کسی چیز میں آپ کا مقابلہ نہیں کروں گا ‘‘ یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جب ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے گھر کا سارا سامان لیکر حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوگئے ۔

شیخ الاسلام فرماتے ہیں :’’ جو عمر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا وہ جائز مقابلہ اور رشک تھا تو یہ چیز محمود اور قابل ستائش ہے ، لیکن صدیق رضی اللہ عنہ کی حالت ان سے افضل اور بہتر تھی ، وہ اس طرح کہ ان کی طبیعت مقابلہ سے مطلقا خالی تھی وہ دوسرے کے حال کی جانب بالکل نہیں دیکھتے تھے ‘‘[55]

یہی حال اس صحابی کا تھا جس کے بارے میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا تھا کہ ’’ ابھی تم پر ایک جنتی شخص داخل ہوگا‘‘ ۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی ۔ تو جب ان صحابی سے سیدنا عبد اللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہنے اس کی وجہ دریافت کی تو وہ فرمانے لگے :’’ میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے متعلق کوئی کینہ نہیں رکھتا اور کسی مسلمان کو ملنے والی نعمتوں اور خیر پر اس سے حسد نہیں کرتا‘‘ تو عبد اللہ  فرمانے لگے ’’ یہی وہ چیز ہے جس نے آپ کو اس درجے تک پہنچایا اور جس کی ہم میں طاقت نہیں ہے‘‘۔ [56]

اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کی ہمارے پیارے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ صورت حال تھی کہ جب آپ اسراء ومعراج کے موقع پر موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گذرے تو وہ رونے لگے۔

 تو یہ رشک ہےجسے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے ایک فرمان میں حسد کا نام دیاہےچنانچہ آپ نے فرمایا ’’  کسی شخص پر حسد ( رشک ) کرنا سوائے دو شخصوں کے جائز نہیں، ایک وہ شخص جسے اللہ نے کتاب دی اور وہ اٹھ کر اسے رات کو پڑھتا ہے اوردوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور وہ دن رات اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہے‘‘  ۔ [57]

اسی اعلیٰ صفت کی بنیاد پر ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ایمان کا وزن پوری امت کے ایمان سے کیا گیا ۔

وہ ان میں سے ہیں جن کے بارے میں باری جل وعلا نے یہ فرمایا :

{وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ (10) أُولَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ} [الواقعة: 10، 11]

ترجمہ :’’اور جو سبقت لے گئے تو وہ سبقت لے گئے ،یہ وہ (خوش نصیب) ہیں جن کو نوازا گیا ہوگا قرب (خاص) سے‘‘۔

دوم : جائز حسد :دنیا کے معاملات میں دو شرائط کے ساتھ رشک جائز ہے ۔

پہلی شرط : برکت کی دعا اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ ۔

دوسری شرط :اپنے مومن بھائی سے اس نعمت کے زوال کی تمنا نہ کی جائے ۔

صحیح بخاری ، 2/ 201

سوم : مکرہ حسد : اپنے بھائی کی کوئی توصیف بیان کرنا اللہ کا نام لئے بغیر ، اور برکت کی دعا دئے بغیر ۔ جس شخص نے ایسا کیا گویا کہ اس نے اپنے بھائی کیلئے شیطان کے تکلیف دینے کا دروازہ کھول دیاہے ، اگرچہ وہ اس سے نعمت کے زوال کا متمنی نہیں تھا ، وہ چونکہ ذکر نہیں کرتا اس لئے مذموم ہے۔ اصل تو یہ ہے کہ انسان ہر وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے ،اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تعریف ومدح کی ہے جو اٹھتے بیٹھتے اور اپنے پہلؤوں پر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ۔ صرف اللہ کا ذکر مقصود نہیں بلکہ اس میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ اپنے دیگرمسلمان بھائیوں کیلئے شیطانی ایذا رسانی کا دروازہ نہ کھولا جائے ۔ جیسا کہ عامر بن ربیعہ اور سہل بن سعد کے واقعہ میں آپ ملاحظہ کر چکے ہیں ۔ [58]

چہارم : حرام حسد : اگر کوئی حسد سابقہ شرائط سے عاری ہے تو وہ حرام کہلائے گا ، لہذا جس نے کسی کی تعریف کے وقت برکت کی دعا نہ دی ، اور اپنے بھائی سے نعمت کے زوال کی تمنا کی ، تو یہ قاتل نظر بد ہے ۔ اور اس طرح کی نظر بد صرف اور صرف نفسِ خبیثہ سے ہی صادر ہوتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ، اس کی مثال یہود کے حسد کی مانند ہے ۔[59]

نظر بد کا جادو سے تعلق :

   باری جل وعلا کا سورہ فلق میں یہ فرمان :

{ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ (4) وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ } [الفلق: 4، 5]

’’اور گرہ (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی)۔اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وہ حسد کرے‘‘۔

( ملاحظہ کریں کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے کیسے ‘‘نفاثات ‘‘ کو معرفہ اور اس سے قبل  ( غاسق اور حاسد) کونکرہ بیان کیا ہے ؟ کیونکہ ہر گرہ پر پھوکنے والے جادوگر میں شر ہے ، جبکہ ہر غاسق اور حاسد صاحبِ شر نہیں ہوتا ) ۔ [60]

فائدہ : بعض عامۃ الناس کا خیال ہے کہ اگر نظر بد لگانے والے کو پتہ چل جائے کہ اس سے اثر لیا گیاہے تو ، یہ اثر فائدہ نہیں دے گا ، جبکہ یہ سوچ سراسر غلط ہے اور عامر بن ربیعہ اور سہل کے حوالے سے مروی روایت کے برخلاف ہے کیونکہ اس روایت میں ہے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے عامر کو کہا کہ : ’’اپنے بھائی کیلئے غسل کرو تو وہ تو جانتاتھا ، اس کے باوجود نظر بد کا اثر ختم ہوگیا ‘‘۔

فائدہ : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جادو اور حسد کو یکجا کرکے بیان کیا ہے ، یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ان دونوں میں باہمی ربط موجودہے ۔جادوگر بالوں یا ناخنون کی گرہ پر پھونکتاہے جس کے ذریعے وہ ایک شیطان خاص کردیتاہے تاکہ وہ مسحور شخص کو ایذا پہنچاتارہے ۔ اور حاسد ( نظر بد والا شخص ) بھی شیطان کو ایک وصف جو اسے پسند آیا ہوتاہے جس پر وہ اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا سے خاص کردیتاہے جو شیطان نظر بد سے متاثرہ شخص کو نقصان پہنچاتارہتاہے ۔ یہ دونوں نقصان پہنچاتے ہیں  لہذا اثر میں مشترک ہیں اور وسیلہ میں مختلف ۔

فائدہ :  فرمان باری تعالیٰ ہے :   {وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ} [الفلق: 4]

ترجمہ : ’’ اور گرہ (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی)‘‘۔

فائدہ: زہریلی نظر جس کا ذکر اہل علم نے کیا ہے اوراسے سانپوں میںدم بریدہ اور سفید دھاری دارکو قیاس کیا ہے ، کیونکہ اسے ذاتی طور پر زہریلی طاقت ودیعت کی گئی ہوتی ہے۔ جیساکہ مرغے کی آنکھ کو ملائکہ کے دیکھنے کی قوت عطا کی گئی ہے ، اور کتے اور گدھے کیآنکھ کو شیاطین کے دیکھنے کی صلاحیت عطا کی گئی ہے ، جبکہ انسان کاجہاں تک تعلق ہے تو اسے جوایذا دینے والی زہریلی طاقت دی گئی ہے وہ ذاتی نہیں ہے ،بلکہ وہ وصف ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا جاتاجیساکہ گذشتہ حدیث میں بیان ہوا کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :’’ نظر بد حق ہے اس میں شیطان شامل ہوتاہے ‘‘ یہ اثرنظر کے دیکھنے کی وجہ سے نہیں ہے [61]

جیسا کہ ابن حجر رحمہ اللہ نے سابقہ بحث میں واضح کردیاہے ۔ اس کی مزید توضیح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس فرمان سے بھی ہوجاتی ہے جس میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  ’’ جنوں اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے ‘‘۔کیونکہ ان دونوں میں باہمی تعلق وربط ہوتا ہے ۔

فائدہ : عامۃ الناس کے ہاں یہ بھی تصور پایا جاتاہے کہ اگر کسی پر جن مسلط ہوا ہے تو اگر وہ عورت ہے تو اس پر مرد جن مسلط ہوگا اور اگر مرد ہے تو اس پر عورت جن مسلط ہوگی ۔ یہ نظریہ بھی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی اس حدیث کے خلاف ہے جس میں جب آپ کے پاس ایک پاگل مرد علاج کیلئے لایا گیا تو آپ نے اس کے جن کو کہا ’’ اللہ کے دشمن نکل جاؤ میں اللہ کا رسول ہوں ‘‘ یعنی آپ نے مذکر کے خطاب سے مخاطب کیا ( جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ جن مرد تھا ) ۔

فائدہ : بعض علماء نے ذکر کیا ہے کہ جادو میں بیری کے پتوں کا استعمال اور ان سے غسل کرنا فائدہ مند ہوتاہے ۔ یہ چیز نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت نہیں بلکہ یہ وہ تجربات ہیں جو وھب بن منبہ نے کیے جسے ابن حجرنے فتح الباری میں نقل کیا ہے ۔ بیری کی خاصیت یہ ہے کہ وہ جنوں کو سدرۃ المنتہی ٰ کی یاد دلاتی ہے جس کے پاس جنت الماویٰ ہے ، اور جنت میں سدر مخضود (بغیر کانٹوں کے بیری ) کی یاد دلاتی ہے،  جس سے وہ ڈر جاتے ہیں کیونکہ وہ حساس طبیعت کےمالک ہوتے ہیں۔ لہٰذا بیری کا استعمال چاہے وہ جادو میں ہویا کسی اور چیز میں اس سے جنات کو تکلیف ہوتی ہے ۔ اور اس کامحض جادو سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے ۔

دعوت الی اللہ کی نیت سے دم کرنے کی اہمیت پر مشتمل اہم فائدہ:

فرمان باری تعالیٰ ہے :{وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ} [ا ٰل عمران: 104]

ترجمہ :’’اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں‘‘۔

علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :’’ وہ کسے دعوت دیتے ہیں ؟ اس میں مفعول محذوف ہے ۔ اس میں ہر وہ شامل ہے جس کو دعوت دی جائے ، کوئی بھی انسان ، اور کیا جنوں کو بھی دعوت دی جائے گی ؟ جی ہاں انہیں بھی دعوت دی جائے گی ، اس لئے یہاں عموم کی وجہ سے مفعول محذوف ہے ۔ ‘‘ [62]

پانچویں فصل

نظر بد اور جادو سے بچاؤ کی تدابیر

مصیبت کے نزول سے قبل اس سے بچانے اور محفوظ رکھنے والے اعمال :

 ۱: بندہ اپنے رب کو یاد رکھے اس کے اوامر کی اطاعت کرتے ہوئے : جیساکہ مسجد میں باجماعت پانچ وقت کی نماز وں کی پابندی کرے۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:’’ جس آدمی نے صبح کی نماز پڑھی تو وہ اللہ کی ذمہ داری میں ہے اللہ کی ذمہ داری میں خلل نہ ڈالو تو جو اس طرح کرے گا اللہ اسے اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دے گا‘‘۔[63]

والدین کی اطاعت اور ان سے حسنِ سلوک ۔

نفلی نمازوں ، روزوں اور قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کرنا ۔

اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے منع کردہ امور سے اجتناب کرے ۔ حرام چیزوں پر نظر ڈالنے سے بچے ، بیہودہ چینلز سے دور رہے ، گانوں کے گانے اور سننے کو ترک کردے ، منکرات پر مبنی مجالس کا بائیکاٹ کرے ۔ ایسا کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی وہ حفاظت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتاہے ، جس کے بارے میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے اس فرمان کے ذریعے بشارت دی کہ ’’ احفظ اللہ یحفظک ‘‘[64]اللہ کو ہمیشہ یاد رکھ وہ تجھے محفوظ رکھے گا ‘‘۔

۲:اذکار واوراد کا کثرت سے اہتمام کرے ۔

قرآن وسنت سے ثابت شدہ اذکار اور داعاؤں کا اہتمام کرنا ، ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہنا ، جیساکہ نماز کے بعد کے اذکار کا اہتمام کرنا ، یومیہ بنیاد پر قرآن مجید کی تلاوت کا اور صبح وشام کے اذکار کا اہتمام کرنا ۔ نیز اس کے ساتھ سوتے وقت اور جاگتے وقت کی دعاؤں کا اہتمام کرنا ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے :

{وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَإِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمٰى} [طه: 124]

ترجمہ :’’ اور (ہاں) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی، اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کرکے اٹھائیں گے‘‘۔

مصیبت اور بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد کے وہ اعمال جو اللہ کے حکم سےاس بیمارے کے خاتمے کا باعث بنتے ہیں 

1: دوران دم یقین ِ کامل اور اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن رکھنا : انسان یہ نہ کہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے کلام کا تجربہ کرکے دیکھتاہوں ۔ بلکہ یقین رکھے کہ اسی میں شفا ء ہے ۔ اور علاج کی اصل اور بنیادی دوا یہی ہے ۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :

{ وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظَّالِمِيْنَ إِلَّا خَسَارًا}

ترجمہ :’’قرآن جو ہم نازل کر رہے ہیں مومنوں کے لئے تو سراسر شفا اور رحمت ہے۔ ہاں ظالموں کو بجز نقصان کے اور کوئی زیادتی نہیں ہوتی‘‘۔ [الإسراء: 82]

2: خالق ومالک کی تعظیم وتکریم بجالانا اور اسی سے التجا کرنا: اسی سے تعلق جوڑنا توبہ کرنا اور ہر وقت اسے پکارتے رہنا ، کیونکہ وہ اکیلا ویکتا ہی شفاء دے سکتاہے ۔ اور اگر آپ کو تکلیف پہنچتی ہے تو آپ کا خود اپنے اوپر دم کرنا اس سے بہتر ہے کہ کوئی اور آپ پر دم کرے ۔

3 : لوگوں سے احسان کا معاملہ کرنا ، اور صدقہ وخیرات کرتے رہنا :نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان مبارک ہے : ’’جس آدمی نے کسی مومن سے دنیا میں مصیبتوں کو دور کیا اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی مصیبتوں کو دور کرے گا اور جس نے تنگ دست پر آسانی کی اللہ اس پر دنیا میں اور آخرت میں آسانی کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس بندے کی مدد میں ہوتاہے اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرےگا اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندہ کی مدد میں لگا


رہتاہے کہ جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے‘‘[65]

اور ابی امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ اپنے بیماروں کا علاج صدقہ سے کیا کرو ‘‘ ۔[66]

آیۃ الکرسی

صبح وشام ایک مرتبہ، سوتے وقت ایک مرتبہ، ہرفرض نماز کے بعد ایک مرتبہ۔

فرشتوں کےذریعہ حفاظت، شیاطین کو گھروں سےبھگانے کا ذریعہ، جنت میں داخلے کا سبب۔

سورہ ِبقرۃ آخری دو آیتیں

ایک مرتبہ شام میں یا نیند سے قبل  یا اپنے گھر میں  پڑھیں۔

ہر قسم کی شریر چیزوں کے شرسے حفاظت اور تین راتوں تک شیاطین کو گھر سے دور رکھنے کا ذریعہ۔

سورہ اخلاص، (قل ھو اللہ احد)، اور معوذتان،(سورہ فلق) (سورہ الناس)

صبح وشام تین تین مرتبہ، سوتے وقت ایک مرتبہ، ہرفرض نماز کے بعد ایک مرتبہ۔

ہر قسم کی شریر چیزوں کے شرسے بچاؤ اور انسانی نظربد سے حفاظت۔

بِسْمِ اللهِ الّذِيْ لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِيْ الأَرْضِ وَلَا فِيْ السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيْعُ العَلِيْمُ۔

   صبح وشام  تین بار۔

کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا،اچانک افتاد سے حفاظت، ہرتکلیف سے بچاؤ کا ذریعہ۔