بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
بدھ, 25 ستمبر 2013 12:33

اسلام میں حدیث کی اہمیت و حیثیت

Written by 

اسلام میں حدیث کی اہمیت

تصحیح و  اضافہ: حافظ حماد چاؤلہ

الحمدُ للہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسول اللہ وعلیٰ آلہ وصحبہ وازواجہ و من والاہ وبعد!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!

اﷲ تعالیٰ کے نزدیک دین کیا ہے ؟

اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :

اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ  (آل عمران:19)       ''بے شک اﷲ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے''۔

کیا اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر عمل جائز ہے؟

اﷲ تعالیٰ کا حکم ہے:   اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ  ۭ (الاعراف:3)

''لوگو تمہارے رب کی طرف سے جو نازل ہوا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے علاوہ اولیاء کی پیروی نہ کرو''۔

یہ بھی فرمایا :  وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ  ۚ وَھُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ  85؀  (آل عمران :85)

''اور جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اوردین کا طلبگار ہوگاتو وہ اس سے ہر گز قبول نہیں کیاجائیگا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانیوالوں میں سے ہوگا''۔

اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسالت کے ساتھ مخصوص فرماکر آپ پر اپنی کتابِ ھدایت نازل فرمائی اورآپ ﷺ کواس کی مکمل تشریح ووضاحت کرنےکا حکم دیا :

 وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ (النحل :44)

''اور ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو(ارشادات) نازل ہوئے ہیں وہ لوگوں سے بیان کر دو''۔

آیت کریمہ کے اس حکم میں دو باتیں شامل ہیں :

(1) الفاظ اور ان کی ترتیب کا بیان یعنی قرآن مجید کا مکمل متن امت تک اس طرح پہنچا دینا جس طرح اﷲ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔

(2) الفاظ، جملہ یا مکمل آیت کا مفہوم و معانی بیان کرنا تاکہ امتِ مسلمہ قرآن حکیم پر عمل کرسکے۔

قرآن مجید کی جو شرح رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی اسکی کیا حیثیت ہے؟

دینی امو رمیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین اﷲ کے حکم کے مطابق ہوتے ہیں:

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى   Ǽ۝ۭ  اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى  Ć۝ۙ         (النجم:3-4)

’’اور وہ صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے جو کہتے ہیں وہ وحی ہوتی ہے‘‘۔

اسی لئے فرمایا : مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ ۚ (النساء :80)

’’جس نے رسول کی اطاعت کی پس تحقیق اس نے اﷲ کی اطاعت کی‘‘۔

یہی وجہ ہے کہ دینی امور مین فیصلہ کن حیثیت فقط اﷲ تعالیٰ اور اس کےرسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو حاصل ہے، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:  فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ (النساء :59)

''پس اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر تم اﷲ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اﷲ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو''۔

معلوم ہوا کہ اسلام اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کانام ہے ۔

انبیاء علیہم السلام پر کتبِ سماوی کے علاوہ بھی وحی کا نزول ہوتاہے۔

یقینا انبیاء علیہم السلام کو کتبِ سماوی کے علاوہ بھی وحی آتی ہے اور اس وحی پر عمل بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اﷲ کے کلام پر۔ (جس کی کچھ وضاحت شروع میں بھی کی گئی ہے)

کتاب اﷲکےعلاوہ وحی کی اقسام میں سےایک قسم انبیاءعلیہم السلام کےخواب ہیں ۔

ابراہیم علیہ السلام کا خواب ملاحظہ فرمائیں :

فَلَمَّا بَلَــغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يٰبُنَيَّ اِنِّىْٓ اَرٰى فِي الْمَنَامِ اَنِّىْٓ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰى ۭ قَالَ يٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُــؤْمَرُ ۡ سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ    ١٠٢؁  فَلَمَّآ اَسْلَمَا وَتَلَّهٗ لِلْجَبِيْنِ   ١٠٣؀ۚ وَنَادَيْنٰهُ اَنْ يّـٰٓاِبْرٰهِيْمُ    ١٠٤؀ۙ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْيَا ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ    ١٠٥؁ (الصافات :102۔105)

’’ ابراہیم علیہ السلام نے کہا اے بیٹے میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تم کو ذبح کر رہا ہوں تم بتاؤ تمہارا کیاخیال ہے ؟؟؟ اُس(بیٹے)نے کہا ابا جان جو آپ کو حکم ہوا وہ کر گزرئیے اﷲ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا دیا تو ہم نے ان پکارا کہ ابراہیم تم نے اپنا خواب سچا کر دکھایا ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیاکرتے ہیں‘‘ ۔

اس آیت میں خواب میں بیٹے کو ذبح کئے جانے والے عمل کو اﷲ کا حکم کہاگیا ہے ۔

کیارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی خواب میں وحی نازل ہوئی؟

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ آپ بیت اﷲ میں داخل ہوکر طواف کر رہے ہیں چونکہ یہ خواب بھی وحی کی قسم سے تھا لہٰذا صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم بہت خوش ہوئے ۔1400 صحابہ رضی اﷲ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ عمرہ کی نیت سے مکہ روانہ ہوئے لیکن کفار مکہ نے حدیبیہ کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک دیا اور وہاں صلح حدیبیہ ہوئی جس کی رو سے یہ طے پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سال کی بجائے اگلے سال بیت اﷲ کا طواف کرینگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کے بارے میں صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم میں خلجان پیدا ہواتو سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا آپ نے ہمیں خبر نہیں دی تھی ۔ کہ ہم مکہ میں داخل ہونگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں نے تمہیں بتایا تھا مگر میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ ایسا اسی سفر میں ہوگا واپسی پر اﷲ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں :

لَـقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْيَا بِالْحَقِّ ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ ۙ (الفتح:27)

’’بلاشبہ اﷲ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا تم ضرور مسجد حرام میں امن و امان سے داخل ہوگے۔ اگر اﷲ نے چاہا‘‘۔

معلوم ہوا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خواب میں وحی ہوئی ۔

قرآن حکیم کے علاوہ وحی کے ذریعے بھی احکامات نازل ہوئے!

بلاشبہ قرآن مجید کے علاوہ بھی احکامات نازل ہوئے مثلاً مسلمانوں کا پہلاقبلہ بیت المقدس تھا جس کی طرف14 سال تک منہ کرکے مسلمان نماز ادا کرتے رہے ، بیت المقدس کو قبلہ مقرر کرنے کا حکم قرآن حکیم میں نہیں ہے لیکن اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِىْ كُنْتَ عَلَيْهَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِـــعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰي عَقِبَيْهِ ۭ  (البقرۃ::143)

’’اور ہم نے وہ قبلہ جس پر آپ اب تک تھے اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتا ہے اورکون الٹے پاؤں پھرتا ہے‘‘۔

معلوم ہوا کہ بیت المقدس کو قبلہ مقرر کرنے کا حکم اﷲ نے بذریعہ وحی خفی دیا قرآن حکیم کے علاوہ دوسری وحی کو وحی خفی (سنت) بھی کہتے ہیں ۔

کیا حدیثِ رسولﷺ کے بغیر قرآن حکیم کو سمجھا جاسکتا ہے ؟

سنت کے بغیر قرآن حکیم کو سمجھنا ممکن نہیں ہے اﷲ تعالیٰ نے ایمان لانے کے بعد سب سے زیادہ تاکید ''اقامت الصلوۃ'' کی فرمائی مگر سنت کے بغیر اس حکم پر عمل بھی ممکن نہیں چند آیات ملاحظہ فرمائیں :

حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى ۤ (البقرۃ:238)

’’(مسلمانو ) سب نمازیں خصوصاً بیچ کی نماز (یعنی نماز عصر ) پورے التزام کے ساتھ ادا کرتے رہو ‘‘۔

وسطی نماز سے کیا مراد ہے جب تک نمازوں کی کل تعداد معلوم نہ ہو وسطی نماز کیسے معلوم ہوسکتی ہے نمازوں کی تعداد کا ذکر قرآن حکیم میں نہیں معلوم ہوا کہ وحی خفی کے ذریعے سے مسلمانوں کو اطلاع دی ہوئی تھی اسی طرح فرمایا :  وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ  ڰ (النساء :101)

’’جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کم کرکے پڑھو‘‘۔

اس آیت میں یہ نہیں بتایاگیاکہ نمازکوسفرمیں کتناکم کیاجائےپھرنمازکےکم کرنےکاتصوراسی صورت ممکن ہےجب یہ معلوم ہوسکےکہ پوری نمازکتنی ہے یہ بھی فرمایا :

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا ۚ فَاِذَآ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ   ٢٣٩؁ (البقرۃ:239)

’’اگر تم کو خوف ہو تو نماز پیدل یا سواری پر پڑھ لو لیکن جب امن ہوجائے تو اسی طریقہ سے اﷲ کا ذکر کرو جس طرح اس نے تمہیں سکھایا اور جس کو تم پہلے نہیں جانتے تھے‘‘۔

اس آیت میں  واضح ہےکہ نمازپڑھنےکاکوئی خاص طریقہ مقررہےجوبحالت جنگ معاف ہےاس طریقہ تعلیم کواﷲنےاپنی طرف منسوب کیا،نمازکاطریقہ اوراسکےاوقات وغیرہ قرآن مجیدمیں کہیں مذکورنہیں پھراﷲنےکیسےسکھایا،معلوم ہواکہ قرآن مجیدکےعلاوہ بھی وحی آئی ہے یہ آیت بھی قابل غور ہے:

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۭ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ      ۝  (الجمعۃ:9)۔

’’اے ایمان والو!جب تم کو جمعہ کے دن نماز کے لئے بلایا جائے تو اﷲ کے ذکر کی طرف جلدی آیا کرو اور خریدو فروخت چھوڑ دو‘‘۔

معلوم ہوا کہ جمعہ کی نماز کا اہتمام باقی دنوں کے علاوہ خاص درجہ رکھتا ہے اس نماز کا وقت کونسا ہے؟؟؟ـــ بلانے کا طریقہ کیا ہے؟؟ـــ اس کی رکعات کتنی ہیں؟؟؟ـــ قرآن مجید اس سلسلہ میں خاموش ہے اور کوئی شخص آیات قرآنی کے ذریعے نماز کی تفصیل نہیں جان سکتا جب تک وہ حدیث کی طرف رجوع نہ کرے ۔

کیا صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم بھی قرآن مجید کا مفہوم حدیث کے بغیر سمجھنے میں غلطی کھا سکتے ہیں ؟

یقینا صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم بھی قرآن مجید کا مفہوم سمجھنے کے لئے حدیث رسول کے محتاج ہیں ۔ دیکھئے کہ قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی :

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ   82؀ۧ  (الانعام :82)

’’اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے اندر ظلم کی ملاوٹ نہیں کی، وہی امن والے ہیں اور وہی ہدایت یافتہ ہیں‘‘۔

مذکورہ بالا آیت کریمہ سے بعض صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو ظلم سمجھا اس لئے یہ آیت ان لوگوں پر گراں گزری لہٰذا عرض کیا، اے اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں ایسا کون ہے کہ جس نے ایمان کے ساتھ کوئی گناہ نہ کیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ظلم سے مراد عام گناہ نہیں بلکہ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے کیاتم نے قرآن حکیم میں لقمان کا یہ قول نہیں پڑھا:   '' اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ    13 ؀  ''۔ (لقمان : 13)  شرک ظلم عظیم ہے۔ (بخاری و مسلم )

کیا سنت قرآن مجید کی آیت میں موجود کسی شرط کو ختم کرسکتی ہے؟

جی ہاں اور اس کی مثال سفر کی نمازِ قصر ہے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :

(وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ  ڰ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ يَّفْتِنَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭ) (النساء:101)

’’اور جب تم سفر پر جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کچھ کم کرکے پڑھو ، بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر تم کو ایذا دیں گے ‘‘۔

آیتِ بالا میں نماز قصر ایسے سفر کے ساتھ مشروط ہے جس میں خوف بھی ہو اس لئے بعض صحابہ رضی اﷲ عنہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اب تو امن کازمانہ ہے اور ہم پھر بھی قصر کرتے ہیں تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ ہم حالتِ امن کے سفر میں قصر کریں یہ تمہارے لئے اﷲ تعالیٰ کی رعایت ہے پس اس رعایت کو قبول کرو۔ (مسلم ) ۔

کیاحدیث قرآن مجید کی کسی آیت کے مطلق حکم کو مقید کرسکتی ہے؟

جی ہاں اور اس کی مثال قرآن حکیم کی یہ آیت ہے:

وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَهُمَا (المائدۃ:38)

''اور چوری کرنیوالے مرد اور چوری کرنیوالی عورت کا ہاتھ کاٹ دیا جائے''۔

اس آیت میں چوری کا مطلقاً ذکر ہے جبکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ''چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری پر کاٹا جائے''۔ (بخاری و مسلم )

کیا حدیث قرآن حکیم کے حکم سے کسی چیز کو مستثنیٰ کرسکتی ہے؟

جی ہاں اور اس کی مثال اﷲ تعالیٰ کا یہ حکم ہے :

حُرِّ‌مَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ‌ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ‌ اللَّـهِ بِهِ ۔۔۔۔۔ ﴿٣ ۔ (المائدۃ:3)

’’تم پر مرا ہوا جانور، خون ،سور کا گوشت اور جس چیز پر اﷲ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام ہے‘‘۔

رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ ہمارے واسطے دو مردار ٹڈی اور مچھلی اور دوخون کلیجی اور تلّی حلال ہیں ۔  (بیہقی)

معلوم ہوا کہ حدیث نے مچھلی اور ٹڈی کو مردار اور کلیجی اور تلی کو خون سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔

ایک اور مثال پر غور فرمائیں ۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :

قُلْ مَنْ حَرَّ‌مَ زِينَةَ اللَّـهِ الَّتِي أَخْرَ‌جَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّ‌زْقِ ۚ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ ۔۔۔۔﴿٣٢(الاعراف:۳۲)

’’پوچھو کہ جو زینت (و آرائش) اورکھانے(پینے) کی پاکیزہ چیزیں اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیں ان کو کس نے حرام کیا ہے کہہ دیجئیے یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لئے بھی ہیں اور قیامت کے دن خاص انہی کیلئے ہوں گی‘‘۔

رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ریشم اور سونا میری امت کے مردوں کیلئے حرام اور عورتوں کیلئے حلال ہے۔  (مستدرک حاکم )

اگر حدیث سے رہنمائی نہ لی جائے تو اس آیت سے مردوں کے لئےریشم اور سونے جیسی حرام چیزوں کو حلال سمجھ لیاجاتا۔

کیاکوئی حدیثِ صحیح قرآن مجید کے خلاف ہوسکتی ہے؟

امام بخاری رحمۃ اﷲ ، مسلم رحمۃ اﷲ اور دیگر ائمہ حدیث نے اصولِ حدیث کی رو سے جن احادیث مبارکہ کو روایۃً صحیح کہا ہے یقینا وہ قرآن و سنت کےعین مطابق ہیں صحیح بخاری ومسلم میں صرف صحیح احادیث درج کی گئی ہیں ۔ اسلئے ان میں کوئی ایسی روایت نہیں جو قرآن کریم  کے خلاف ہو۔

جن لوگوں کو:

(1)  سیدنا عیسی ابن مریم علیہ السلام کا دوبارہ دنیامیں تشریف لاناـ

(2)  رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر ذاتی حیثیت سے جادو کے چند اثرات ہوجاناـ

(3)  دجال کے خروج وغیرہ سےمتعلق۔

(4) عذاب قبر سے متعلق ۔

 احادیث اور ان سے متعلقہ باتیں قرآن حکیم کے خلاف نظر آتی ہیں تو یہ دراصل ان کی کم علمی اور جہالت ہے۔ مذکورہ امور سے متعلقہ روایات وہ ہیں جنہیں تحقیق کے بعد محدثین نے صحیح کہا ہے ،جو قرآن حکیم کے خلاف نہیں بلکہ ان منکرین کے خود ساختہ مفہوم کےمخالف ہیں۔

مندرجہ ذیل آیت پرغور کیجئے :

قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّ‌مًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ‌ فَإِنَّهُ رِ‌جْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ‌ اللَّـهِ بِهِ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ‌ غَيْرَ‌ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَ‌بَّكَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿١٤٥ (الانعام:145)

’’ آپ (ﷺ) کہہ دیجئے کہ جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ان میں تو میں کوئی حرام نہیں پاتا کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھائے، مگر یہ کہ وه مردار ہو یا کہ بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو، کیونکہ وه بالکل ناپاک ہے یا جو شرک کا ذریعہ ہو کہ غیراللہ کے لئے نامزد کردیا گیا ہو۔ پھر جو شخص مجبور ہوجائے بشرطیکہ نہ تو طالب لذت ہو اور نہ تجاوز کرنے وا ہو تو واقعی آپ کا رب غفور و رحیم ہے‘‘۔

سوچئے کیا کتے اور دیگر درندوں کوا اور دیگر نوچنے ، چیر پھاڑ کرنے والے پرندوں کو حرام قرار دینے والی احادیثِ مبارکہ اس آیت کے خلاف ہیں؟؟ 

اگرچہ ظاہر ایسا ہی محسوس ہوتا ہے مگر حقیقتاً قرآن و حدیث میں کوئی تضاد نہیں،ظاہری نظر آنے والے اختلاف کی صورت میں دونوں کے مابین  جمع وتطبیق کرنا لازم ہے۔ یاد رکھیئے جو دین صحابہ رضی اﷲ عنہم کے ذریعے امت کو تواتر کیساتھ ملا ، وہی صراط مستقیم ہے جو لوگ اپنی خواہشات اور اھواء کے ساتھ قرآن حکیم کی تفسیر بیان کرتے ہیں ان کے ہاں  حدیث وسنت کا حیثیت یہ ہے کہ جو ان کی خواہشِ نفس کے موافق ہو اس کی پیروی کیجائے اور جو ان کی  اھواء کے خلاف ہو اسے ترک کیاجائے۔

ایک حدیثِ صحیح میں ایسے ہی لوگوں کا ذکر ہے جس کا مفہوم درج ذیل ہے :

سیدنامقدام رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اسی کی مثل (جیسی)  ایک اور چیز بھی دی گئی ہے(یعنی حدیث)  خبردار عنقریب ایک پیٹ بھرا ہوا شخص تخت پر بیٹھ کر کہے گا کہ پس قرآن ہی کو لازم  وکافی سمجھو جو اسمیں حلال ہے اس کو حلال مانو اور جو اسمیں حرام ہے اسکو حرام مانو حالانکہ جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا وہ ایسا ہی ہے جیسے اﷲ نے حرام کیا، خبردار تمہارے لئے شہری گدھا حلال نہیں۔ (ابو داؤد ، مسند احمد، دارمی، ابن ماجہ، صحیح مرعاۃ جلد اوّل صفحہ 156)

معلوم ہوا کہ شریعت اسلامیہ سے مراد قرآن و حدیث دونوں  ہیں، جس نے ان میں سے صرف ایک کو اختیار کیا اوردوسرے کو ترک کیا اس نے کسی ایک کو بھی اختیار نہیں کیا کیونکہ دونوں ایک دوسرے سے تمسک کا حکم دیتی ہیں ۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:۔

مَّن يُطِعِ الرَّ‌سُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّـهَ ۖ (النساء :80)    ’’جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے در حقیقت اﷲکی اطاعت کی‘‘۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے منہج  وطریقہ کی کیا حیثیت ہے؟

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے براہِ راست صحابہ کرام کو اسلام کی تعلیم دی یعنی صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم آپ کے ''براہ است'' تربیت یافتہ تھےلہٰذا صحابہ معیاری مسلمان تھے ۔صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے ''اقوال و افعال رسول''  تابعین نے اخذ کئے اور محدثین نے ان کو جمع کیا یہ تمام ادوار اسلام کے عروج کے ادوار ہیں جنہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے  بہترین زمانے قرار دیئے، سلف صالحین اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے طریق اور منہج سے وہی شخص انکار کرتا ہے جو قرآن مجید کی من مانی تفسیر کرنا چاہتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے : 

وَمَن يُشَاقِقِ الرَّ‌سُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ‌ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرً‌ا ﴿١١٥ (النساء :115)

’’اور جو شخص سیدھا راستہ معلوم ہونے کے بعد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرے اور مومنوں کے راستے کے سوا اور راستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن ) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے‘‘۔

مومنین کے رستے سے مراد اسلام کی وہ تعبیر و تفسیر ہے جس پر قرونِ اولی کے مسلمان جمع تھے۔یعنی وہ منہج جس میں مردوں سے استغاثہ، قبر پر چلہ کشی اور فیض حاصل کرنے کی ، اور امر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی کی بھی رائے کی کوئی حیثیت یا شریعت کے مقابلے میں دنیا کے کسی قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی گنجائش نہ تھی۔

کیا صحابہ رضی اﷲ عنہم حدیث و سنت رسولﷺ کو بھی وحی یعنی اﷲ کی بات سمجھتے تھے؟

جی ہاں صحابہ رضی اﷲ عنہم حدیث ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اﷲ کی بات سمجھتے تھے اسکی بہت سی مثالیں موجود ہیں صرف ایک ملاحظہ فرمائیں :

ایک عورت سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ کیا آپ کہتے ہیں کہ اﷲ نے گودنے والی اور گدوانے والی عورت  پر لعنت فرمائی ہے آپ نے فرمایا ہاں وہ عورت کہنے لگی کہ میں نے شروع سے آخر تک قرآن حکیم کی تلاوت کی ہے مگر اس بات کو کہیں نہیں پایا ؟ پس آپ نے فرمایا اگر تو نےصحیح طرح قرآن پڑھا ہوتا تو اس میں یہ  ضرور پاتی،کیا تو نے یہ آیت نہیں پڑھی :

وَمَا آتَاكُمُ الرَّ‌سُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۔۔۔ (الحشر:7)

’’اور جو کچھ میرا رسول (ﷺ) تمہے دے دے اُسے لے لو اور جس سے منع کرے اُس سے رک جاؤ‘‘۔

وہ کہنے لگی ہاں اب (بات سمجھ آگئی)  سیدناعبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا :میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ لعنت کرتے ہوئے سنا ہے ۔ (بخاری و مسلم باب تحریم فصل الواصلۃ)

یہ بھی واضح ہو کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ قرآن و حدیث میں تفریق نہ کریں اور یاد رکھیں کہ  ان دونوں پر ایمان و عمل فرض ہے اور شریعت ِاسلامیہ کی بنیاد ان  دونوں پر قائم ہے۔

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

میں تم میں دوباتیں چھوڑ کر جارہا ہوں کتاب اﷲ اور میری سنت۔جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھوگے گمراہ نہ ہوگے۔ (موطاء امام مالک ، مستدرک حاکم جلد اوّل صفحہ 93)۔

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت کی حفاظت کے سلسلے میں کیا اقدام کئے؟

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت کی حفاظت کے سلسلے میں خصوصی توجہ دی جب بھی کوئی مسئلہ بیان فرماتے تو اس کو تین مرتبہ دہراتے یہاں تک کہ وہ مسئلہ سمجھ میں آجاتا۔ (بخاری کتاب العلم )

ایک دفعہ عبدالقیس کا وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ نے انہیں امور دین کی تعلیم دینے کے بعد فرمایا اس کو یاد کرو اور اپنے پیچھے آنے والوں کو اس کی خبر دو (بخاری کتاب الایمان ) یقینا پیچھے آنے والوں سے مراد آنے والی نسلیں بھی ہیں۔

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو تشہد یوں سکھاتے جیسے قرآن کی سورت۔ (مسلم )

نو ہجری میں مدینہ میں بہت سے وفود آئے مالک بن حویرث نے بھی نو ہجری میں مدینہ منورہ میں قیام کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی کا مشاہدہ کیااور ضروری تعلیم حاصل کی آپ نے ان سے فرمایا نماز ایسے پڑھنا جیسے مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔ (بخاری )

حجۃ الوداع میں منیٰ کے مقام پر آپ نے خطبہ دیاسامعین کی تعداد سوا لاکھ کے لگ بھگ تھی خطبہ کے اختتام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :حاضر کو چاہیئے کہ غائب کو میری باتیں پہنچا دے اسلئے کہ شاید تم کسی ایسے شخص کوبیان کرسکو جو تم سے زیادہ اسکو محفوظ کرسکے۔(بخاری کتاب العلم)

یہ پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوئی محدثین نے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی بیان کردہ احادیث کو بالکل محفوظ کر لیا۔

کیا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث کی کتابت بھی کروائی؟

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر احادیث لکھوائیں چند حوالے ملاحظہ فرمائیں :

(1)  عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب الصدقۃ تحریر کروائی امام محمد بن مسلم فرماتے ہیں آپ کی یہ کتاب عمر رضی اﷲ عنہ کے خاندان کے پاس تھی اور مجھے عمر رضی اﷲ عنہ کے پوتے سالم نے یہ کتاب پڑھائی اور میں نے ا س کو پوری طرح محفوظ کرلیا ۔ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اﷲ علیہ نے ا س کتاب کوسیدنا عمر رضی اﷲ عنہ کے پوتوں سالم اور عبداﷲ سے لے کر لکھوایا۔ (ابو داؤد کتاب الزکوۃ)

(2) ابو راشد الحزنی فرماتے ہیں کہ عبداﷲ بن عمرو بن عاص نے میرے سامنے ایک کتاب رکھی اور فرمایا یہ وہ کتاب ہے جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوا کر مجھے دی تھی (ترمذی ابواب الدعوات)ـ

(3) موسی بن طلحہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس وہ کتاب ہے جو سیدنا معاذ کیلئے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائی تھی (الدارقطنی فی کتاب الزکوۃ) ۔خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے اس کتاب کو منگوایا اور اس کو سنا (مصنف ابن ابی شیبہ نصب الرایہ کتاب الزکوۃ جلد 2صفحہ 352)

(4)  جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزام کو یمن کا عامل بنا کر بھیجا تو اہل یمن کیلئے ایک کتاب بھی لکھوا کر دی جس میں فرائض سنت اور دیت کے مسائل تحریر تھے۔ امام زہری فرماتے ہیں کہ میں نے اس کتاب کو پڑھا یہ کتاب ابوبکر بن حزم کے پاس تھی سعید بن مسیّب نے بھی اس کتاب کوپڑھا (نسائی جلد دوم صفحہ 218)

کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی احادیث لکھیں ؟

جی ہاں خود رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو احادیث لکھوائیں آپ نے عبداﷲ بن عمررضی اللہ عنہما سے فرمایا :

احادیث لکھا کرو قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس منہ سے حق کے سوا کوئی بات نہیں نکلتی۔ (ابو داؤد جلد 1صفحہ 158)

سیدناانس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے جب ان کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا تو زکوۃ کے فرائض لکھ کر دیئے ۔(بخاری کتاب الزکوۃ ) ۔ حماد بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ کتاب انس رضی اﷲ عنہ کے پوتے ثُمامہ سے حاصل کی ۔ (نسائی کتاب الزکوۃ)

خلیفہ الثانی سیدناعمر رضی اﷲ عنہ نے بھی زکوۃ کے متعلق ایک کتاب تحریر فرمائی تھی ۔امام مالک فرماتے ہیں کہ میں نے سیدناعمر رضی اﷲ عنہ کی کتاب پڑھی۔ (موطا امام مالک صفحہ 109)

سیدناعلی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ہمارے پاس کوئی چیز نہیں سوائے کتاب اﷲ کے اور اس صحیفہ کے جس میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ہیں۔ (بخاری و مسلم کتاب الحج )

سیدناابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم میں سے کوئی شخص مجھ سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان نہیں کرتاسوائے عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ کے۔اور وہ اسلئے کہ وہ لکھا کرتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔ (بخاری )

سیدناعبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ کی یہ کتاب ان کی اولاد میں منتقل ہوتی رہی اوران کے پڑپوتے عمرو بن شعیب رحمۃ اﷲ علیہ سے محدثین رحمۃ اﷲ علیہم نے اخذ کرکے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا ایسے واقعات صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم  سے مروی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ احادیث کو لکھا کرتے تھے ۔

مثلاً سیدنا عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲعنہما فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف بیٹھے ہوئے لکھ رہے تھے اسی اثناء میں آپ ﷺسے پوچھا گیا کہ کون سا شہر پہلے فتح ہوگا؟؟؟ـــ قسطنطنیہ یا رومیہ؟؟؟ـــ آپﷺ نے فرمایا ہرقل کا شہر قسطنطنیہ (دارمی صفحہ 126)۔

کیا 250 سال تک احادیث تحریر میں نہیں آئیں؟

یہ صرف منکرینِ حدیث کا پروپیگنڈہ ہے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم  اوردیگرصحابہ رضی اللہ عنہم نے احادیث کی حفاظت کا خاص اہتمام کیا پھر تابعین رحمہم اللہ کے دور میں کئی کتب لکھی گئیں موطا امام مالک اب بھی موجود ہے جو صرف 100سال بعد لکھی گئی ان کی عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ کی روایت میں صرف امام نافع راوی ہیں، انس رضی اﷲ عنہ کی روایت میں امام زہری راوی ہیں، غرض موطا میں سینکڑوں سندیں ایسی ہیں جن میں صحابہ اور امام مالک کے درمیان ایک یا دو راوی ہیں اور وہ زبردست امام تھے۔ امام بخاری سے پہلے کی کتب صحیفہ ہمام ،صحیفہ صادقہ، مسند احمد، مسند حمیدی، موطا مالک مصنف ابن ابی شیبہ، مصنف عبدالرزاق ، موطا محمد ،مسند شافعی آج بھی موجود ہیں دیگر ائمہ نے بھی درس و تدریس کا ایسا اہتمام کیا ہوا تھا کہ کوئی کذاب حدیث گھڑ کر احادیث صحیحہ میں شامل نہ کر سکا۔

(1)  جس نے احادیث گھڑ کر صحیح احادیث میں شامل کرنے کی کوشش کی اسکی کوشش کامیاب نہ ہوسکی وہ جھوٹی روایت پکڑی گئی ۔

اگر احادیث کی اتنی حفاظت ہوئی ہے تو پھرامام بخاری نے چھ لاکھ احادیث میں سے صرف 7275 احادیث کا انتخاب کیوں کیااور باقی کو  رد  کیوں کردیا ؟؟؟

پہلے تو چھ لاکھ احادیث کی حیثیت سمجھئے محدثین کی اصطلاح میں ہر سند کو حدیث کہاجاتاہے مثلاً رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات فرمائی جو پانچ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ نے سنی ہر صحابی نے اپنے 5,5 شاگردوں کو وہ بات سنائی اس طرح تابعین تک اسکی 25 اسناد بن گئیں اب اگر تابعی راوی اپنے 10,10 شاگردوں کو روایت بیان کرے تو اس طرح اس حدیث کی 250 اسناد بن گئیں محدثین کی اصطلاح میں یہ 250 احادیث کہلاتی ہیں اس لئے امام بخاری فرماتے ہیں۔

مجھے ایک لاکھ صحیح احادیث یاد ہیں (مقدمہ ابن صلاح) اس کا مطلب ہے ایک لاکھ صحیح اسناد یاد ہیں ان ایک لاکھ میں سے 7275 اسناد صحیح بخاری میں درج کرلیں۔

 اور یہ بھی درست ہے کہ بعض راویوں نے دینِ اسلام میں گمراہ کن عقائد داخل کرنے کے لئے حدیث کا سہارا لیا اسی لئے ضعیف اور من گھڑت روایات کی کثرت ہے مگر محدثین نے ایسے اصول مقرر کئے کہ کوئی من گھڑت روایت حدیث کادرجہ نہ پاسکی ۔ امام بخاری رحمۃ اﷲعلیہ اور امام مسلم رحمۃ اﷲعلیہ نے اپنے پاس موجود احادیث میں سے صرف احادیثِ صحیحہ جمع کرکے دین پر چلنے والوں کے لئے مزید آسانی کر دی ۔

اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا صحیح بخاری قرآن حکیم کی طرح لاریب کتاب ہے؟

صحیح بخاری کو کتبِ احادیث میں وہ مقام حاصل ہے جو کسی اور کتاب کو نہیں ہے  اور امتِ مسلمہ بشمول جمیع مسالک کے اس بات پر متفق ہے کہ اللہ کی کتاب قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے ، جس میں موجود تمام روایات صحیح و مقبول ہیں ۔ اور یہ اچھی طرح ازبر کرلینا چاہئے کہ یقیناً صحیح  بخاری اور دیگر کتبِ احادیث میں موجود احادیثِ صحیحہ کا وہ حصہ جو شرعی احکام پر مشتمل ہے ’’مُنزَّل منَ اﷲِ‘‘ ہے جس پر قرونِ اولی کے مسلمان جمع ہوئے اور جسے امت سے تلقی بالقبول حاصل ہے مگرصحیح  بخاری میں امام بخاری رحمہ اللہ  نے ابواب قائم کئے ہیں اور ابواب میں مختلف ائمہ کہ اقوال بھی  درج کئے پھر اسناد  درج کیں جو منزل من اﷲ نہیں ۔ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے اقوال اور واقعات بھی کتبِ احادیث میں موجود ہیں جو منزل من اﷲ نہیں ۔ اور جہاں تک  احادیثِ رسول اللہ کا تعلق ہے تو وہ منزل من اﷲ ہیں اُن پر ایمان واجب ہےاور اُن کا انکاروحی کا انکار ہےاور وحی کا انکار کفر ہے۔

خلاصہ  کلام!

  ثابت شدہ صحیح احادیث ِ رسول ﷺ قرآن مجید کی تشریح و وضاحت کرتی ہیں اور اتنی ہی اہمیت رکھتی ہیں جتنا کہ قرآن مجیداور اتنی ہی  ضروری ہیں کہ اس کے بغیر قرآن حکیم کو سمجھا ہی نہیں جاسکتا جو لوگ اس وحی کا انکار کرتے ہیں وہ دراصل قرآن حکیم کا انکار کرتے ہیں اور اُن کا حدیث ِ رسولﷺکی حجیت یا دین ہونے سے یا قابلِ اتباع و عمل ہونے سے انکار کرنے کا مقصد ِ حقیقی محض قرآن مجید کی اپنی من مانی اور گمراہ کن تفسیر کرناہے، کیونکہ اُنکے باطل مقاصد کی تکمیل میں صرف ایک ہی چیز رکاوٹ ہے اور وہ حدیثِ رسولﷺہے ، یہ حدیث ِ رسولﷺہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے حقیقی مطلوب و مقصود کو متعین کرتی ہے،یعنی اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے مطالبہ جو قرآن مجید کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے ، اس کی حقیقی وضاحت ، تبیین و تشریح  اللہ تعالیٰ کے عین مقصود کے مطابق محمد رّسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کون کرسکتا ہے کہ جنﷺ کی زبانِ مبارک سے نکلی ہوئی بات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں وحی سے تعبیر فرمایا ہےاور جن کی اطاعت کو عین اپنی اطاعت قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں بھی قرآن مجید میں اجمال موجود ہے تو اُس کی وضاحت و تشریح اور جہاں کہیں اطلاق و عموم ہے تو اُ س کی تقیید و تخصیص اور جہاں کہیں کسی حکم سے کچھ مثتثنیٰ رکھنا ہو ،اور جہاں کہیں کوئی اضافی حکم دینا چاہا اور جہاں کسی حکم کو منسوخ فرمانا چاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علیٰ ھٰذا القیاس، تو اللہ تعالیٰ نے کبھی قرآن حکیم ہی میں فرمادیا اور کبھی اپنے حبیب جناب محمّدﷺکے ذریعہ فرمادیا ۔اب یہ اللہ تعالیٰ  کی مشیت ہے کہ اُس نے قرآن مجید ہی کو کافی قرار نہیں دیا بلکہ قرآن کریم کے ساتھ ساتھ پیغمبر کو مبعوث فرمایا اور اُس پیغمبر پر بھی قرآن کے علاوہ وحی کا نزول فرمایا اور اُس کی حدیث و سنت کو ہمارے لئے قرآن ہی کی طرح واجبِ ایمان و اتباع قرار دیا۔

 خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ہر  رسول مبعوث ہی اس لئے فرمایا ہے کہ اُس کی  ہر معاملہ میں ،ہر وقت ،ہر بات  کی بلا چوں چراں اطاعت کی جائے ۔جیساکہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:  وَمَا أَرْ‌سَلْنَا مِن رَّ‌سُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۔۔۔۔۔ (النساء: ۶۴)۔ ’’ ہم نے ہر ہر رسول کو صرف اسی لئے بھیجا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی فرمانبرداری کی جائے ‘‘۔

 اور رسولِ اکرمﷺ کے بارے میں خاص طور سے فرمایا: فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ‌ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَ‌جًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ﴿٦٥(النسا: ۶۵) ’’  سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ(ﷺ) کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سےاپنے دل میں اور کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں ‘‘۔

اور یہ حکم فقط اُن کے لئے نہیں تھا جن میں رسولِ اکرم ﷺ مبعوث  کئے گئے تھے یعنی فقط عرب یا صحابہ کے لئے نہیں تھا  بلکہ آپ ﷺ کے اقوال و افعال و اعمال ، آپﷺ کی سیرت و کردار قیامت تک کے لئے اور ہر اُس شخص کے لئے ہے جو ایمان کا دعویدار اور اللہ سے ملاقات کا خواہشمند اور آخرت پر یقن رکھتا ہے ، جیساکہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَ‌سُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْ‌جُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ‌ وَذَكَرَ‌ اللَّـهَ كَثِيرً‌ا ﴿٢١(الاحزاب: ۲۱) ’’ یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے ‘‘

الغرض آپ مکمل قرآن حکیم پڑھ لیجئے ،جہاں جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت و اتباع کا ذکر فرمایا ہے وہاں اس سے متصل ہی رسولِ اکرم جناب محمّد ﷺکی اطاعت و اتباع کا ذکر فرمایا ہےجس سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ رسولِ اکرمﷺکی حدیث حجت و دلیل ہی نہیں بلکہ عین دین و شریعت ہے جس کے بغیر اسلام و ایمان  کا کوئی معنی نہیں اور جس کے بغیر اسلام و ایمان کی کوئی حیثیت نہیں۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں دینِ اسلام قرآن و حدیث  کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور شرک و بدعت اور باطل افکار و نظریات  سے بچنے کی توفیق بخشے۔ آمین ۔

وآخرُ دعوانا ان الحمدُ للہ ربّ العالمین

***

Read 8292 times Last modified on ہفتہ, 04 نومبر 2017 14:50