بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
جمعرات, 19 جولائی 2018 18:00

مروجہ اسلامی بینکوں کے ذرائع تمویل(مروجہ مرابحہ ، اجارہ اور مشارکہ متناقصہ) کی شرعی حیثیت

Written by 

مروجہ اسلامی  بینکوں کے ذرائع تمویل(مروجہ مرابحہ ،  اجارہ اور مشارکہ متناقصہ) کی شرعی حیثیت

یہ مضمون اور اس سے متعلقہ بینکاری، تجارت سے متعلق اہم مضامین ادارے کی جانب سے شائع شدہ مجلہ’’ سہ ماہی البیان مروجہ اسلامی بینکاری و جدید معیشت نمبر ‘‘میں ملاحظہ فرمائیں

عثمان صفدر [1]

اسلامی بینکوں میں کیا جانے والا مرابحہ ، اجارہ اور مشارکہ متناقصہ وہ معاملات ہیں جو ان بینکوں کے دیگر معاملات پر حاوی ہیں ۔سب سے زیادہ معاہدے اور ٹرانزیکشن انہی معاملات کے تحت ہوتی ہیں۔بلکہ اگر یوں بھی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جس طرح سودی بینکوں کا اصل کاروبار سود پر قرض دینا ہے ، اسی طرح اسلامی بینکوں کا اصل کاروبار’’مرابحہ ، اجارہ اور مشارکہ متناقصہ‘‘ ہیں۔مروجہ ذرائع تمویل (Financing) کی شرعی حیثیت کے تعین کے لئے اس کاشرعی مرابحہ ، اجارہ اور مشارکہ متناقصہ کی شرائط و ضوابط سے تقابل ضروری ہے۔

’’مرابحہ‘‘: مرابحہ کا اصل ماخذ ’’ربح‘‘ یعنی منافع ہے۔مرابحہ کا لغوی طور پر مطلب یہ ہوگا کہ ایسا معاملہ کرنا جس میں ربح یعنی منافع طے ہو۔

فقہاء کے نزدیک مرابحہ کی اصطلاحی تعریف:

’’کسی چیز کی خرید وفروخت اس کی اصل قیمت اور معلوم منافع کے ساتھ‘‘۔

یعنی ایک شخص کسی چیز کی فروخت کرتے وقت خریدنے والے کو چیز کی اصل قیمت اور اپنا منافع بیان کر کے فروخت کرے ۔

 یہی وہ تعریف ہے جو فقہاء اسلام نے کتب فقہ مثلاً ہدایہ[2]بدائع الصنائع[3] ، المغنی[4] روضۃ الطالبین4میں بیان کی ہےاگرچہ ان کی عبارات میں کچھ فرق ہے۔

بیع مرابحہ کے جواز کی دلیل:

(1)   اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَاَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا}(البقرة: 275)’’اللہ تعالی نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے‘‘۔لہٰذا ہر وہ معاملہ جو بیع کے زمرے میں آتاہے وہ حلال ہے، اور مرابحہ بھی بیع کی ایک قسم ہے۔

(2)    علماء نے یہ قاعدہ ذکر کیا ہے کہ :’’الأصل فی المعاملات الحل‘‘ کہ تجارتی و عوضی معاملات میں اصل یہ ہے کہ وہ حلال ہیں سوائے ان معاملات کے جنہیں شریعت نے حرام قرار دیا ہے۔اور چونکہ بیع مرابحہ بھی معاملات سے متعلق ہے اور قرآن و حدیث میں کوئی ایسی نص نہیں ملتی جس میں اس کی حرمت کا تذکرہ ہو لہٰذا یہ بیع حلال ہے۔

بیع مرابحہ اور عام بیع میں فرق اور مرابحہ کی ضرورت

عام بیع (خرید وفروخت کا معاملہ) میں بھی اگرچہ بیچنے والا اپنا منافع رکھ کر بیچتا ہے لیکن اس میں اور بیع مرابحہ میں فرق اس منافع کو بیان کرنے کا ہے۔بیع مرابحہ میں دوکاندار چیز کی اصل قیمت اور اپنا منافع دونوں بیان کرتا ہے۔بیع مرابحہ کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ خریدار کو ہمیشہ یہ خدشہ رہا ہے کہ بیچنے والاجائز منافع سے زیادہ وصول نہ کرلے، اسی لئے جب بیچنے والاچیز کی صحیح قیمت اور اپنا منافع بیان کردیتا ہے تو خریدار مطمئن ہوجاتا ہے ۔اسی لئے ’’بیع مرابحہ ‘‘ کو علماء نے بیوع الامانہ کی ایک قسم قرار دیا ہے کہ یہ عام بیع کی نسبت زیادہ امانتداری کی متقاضی ہے۔

اسلامی بینکوں میں رائج مرابحہ

مروجہ مرابحہ ، شرعی مرابحہ سے کافی مختلف ہے۔ مروجہ مرابحہ دراصل مرابحة للآمر بالشراء کہلاتا ہے۔اس کی بنیادی صورت یوں ہوتی ہے کہ صارف بینک سے مخصوص چیز خریدنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے جسے وہ خود خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ بینک مطلوبہ سامان صارف کے کہنے پر خرید کر مرابحہ کی صورت میں اسے فروخت کردیتا ہے، اور صارف اس کی قیمت اقساط میں ادا کرتا ہے۔

مروجہ مرابحہ اور شرعی مرابحہ میں فرق

مروجہ مرابحہ اور شرعی مرابحہ میں کافی حوالوں سے فرق پایا جاتا ہے جس میں سے تین بنیادی فرق یہ ہیں:

(1)   شرعی مرابحہ میں بیچنے والے کے پاس سامان پہلے سے موجود ہوتا ہے جسے وہ معلوم منافع پر فروخت کرتا ہے۔ مروجہ مرابحہ میں بینک کے پاس سامان موجود نہیں ہوتا بلکہ وہ صارف کے کہنے پر مطلوبہ سامان خرید کر اسے فروخت کرتا ہے۔

(2)   شرعی مرابحہ میں ادائیگی عموماً نقد ہوتی ہے ، جبکہ مروجہ مرابحہ میں نقد ادائیگی کا کوئی تصور نہیں۔

(3)   شرعی مرابحہ دراصل ایک بیع یعنی خرید وفروخت کا معاملہ ہے، جبکہ مروجہ مرابحہ اسلامی بینکوں میں طریقہ ہائے تمویل (mode of financing) کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔اسلامی بینکوں کے حامی مفتی تقی عثمانی صاحب خود یہ اقرار کرتےہیں کہ :’’ بنیادی طور پر مرابحہ طریقہ تمویل نہیں بلکہ بیع کی ایک خاص قسم ہے‘‘۔ [5]


 

مروجہ مرابحہ کی تفصیل

مروجہ مرابحہ کی تفصیل تصویر نمبر (۱) اور اس کی وضاحت میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے:

 

وضاحت:

(1)   سب سے پہلے صارف بینک سے ایک معاہدہ کرتا ہے جسے (Master Murabaha Facility Agreement) کہا جاتا ہے۔اس معاہدہ میں :

  صارف بینک سے یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ مطلوبہ سامان بینک سے خریدے گا۔

  اس وعدہ کو مزید پختہ کرنے کیلئے بینک صارف سے ایک مخصوص رقم بطور سیکیورٹی جمع کرانے کا تقاضا کرتا ہے، تاکہ صارف کے وعدہ سے مکر جانے کی صورت میں اگر بینک وہ سامان خرید چکا ہو تو اسے واپس کرنے یا کسی اور کو بیچنے کی صورت میں ہونے والے نقصان کو اس سیکیورٹی سے پورا کرے۔

  بینک صارف کو یہ یقین دلاتا ہے کہ وہ مطلوبہ سامان خرید کر مقررہ مدت میں اسے بیچے گا۔

  ادائیگی کا طریقہ کاراور بینکاری کے دیگر معاملات کی تفصیلات طے کی جاتی ہیں۔

(2)   پھر بینک اسی صارف سے ایک معاہدہ کرتا ہے جسے (Agency Agreement) کہا جاتا ہے۔ اس معاہدہ کے تحت بینک اسی صارف کو اپنا وکیل مقرر کرتا ہے کہ وہ بینک کی وکالت یا نیابت میں جا کر مطلوبہ سامان خرید لے۔

(3)   بینک اس سامان کی قیمت ادا کرتا ہے جو کبھی تو وکیل کے ذریعہ یاکبھی براہ راست بیچنے والے تک پہنچتی ہے۔

(4)   سامان صارف کو موصول ہوتا ہے اور جب تک وہ سامان صارف تک نہ پہنچے اور صارف اسے خرید نہ لے وہ بینک کی ملکیت ہوتا ہے اور سامان کی تلفی یا کسی نقصان کی صورت میں بینک اس کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

(5)   پھر ایک الگ معاہدہ کے تحت صارف بینک سے وہ سامان خرید لیتا ہے اور اس کی ملکیت حاصل کرتا ہے۔

(6)   صارف اس سامان کی قیمت اقساط میں بینک کو ادا کرتا ہے۔

اسلامی بینکوں کے (Murabaha Financing) اور سودی بینکوں کے (Interest base Financing ) میں بنیادی فرق:

اسلامی بینکوں کے ربح(منافع) اور سودی بینکوں کے ربا(سود) میں بنیادی فرق مخاطرت (Risk)کا ہے۔ سودی بینک قرض دیتے ہیں اور اس پر سود وصول کرتے ہیں اور اس میں کسی قسم کا خطرہ نہیں ہوتا ۔ مرابحہ میں اسلامی بینک صارف کا مطلوبہ سامان خریدتے ہیں پھر صارف کو بیچتے ہیں اور اس دوران انہیں نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے، یہی اندیشہ اور رسک اسلامی بینکوں کے منافع کو ربا سے نکال کر ربح بناتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اسلامی بینک اس پورے عمل میں کسی قسم کے اندیشہ ، رسک ،یاضمانت کو قبول کرتے ہیں ؟

کیا مرابحہ میں اسلامی بینک حقیقی خرید و فروخت کرتے ہیں؟ کیونکہ ضمانت اور رسک حقیقی خرید و فروخت میں ہے ، کاغذی بیع میں نہیں!۔

کیا اسلامی بینک حقیقی بیع کی تمام شرعی شرائط پر عمل پیرا ہوتے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ اگر سرسری نظر سے بھی اسلامی بینکوں میں جاری مرابحہ کا جائزہ لیا جائے تو اس میں کسی قسم کا رسک ، مخاطرت نظر نہیں آتی۔

حقیقی خرید وفروت میں بازارمیں موجود ایک تاجر کو عمومی طور پر دوبنیادی اندیشوںکا سامنا ہوتا ہے:

1.   جو سامان اس کے پاس موجود ہے وہ کوئی خریدے گا بھی یا نہیں؟۔

2.   سامان فروخت ہو کر خریدنے والے کے پاس اس کی منتقلی تک اس کے ضائع ہونے تلف ہوجانے اور دیگر ہر قسم کے نقصان کوتاجر نے ہی برداشت کرنا ہوتا ہے۔

اسلامی بینک کو عملی طور پر ان دونوں اندیشوں کا سامنا نہیں ہوتا۔

1.   بینک کے پاس کوئی سامان نہیں جس کے نہ بکنے کا اسے کوئی اندیشہ ہو۔

2.   صارف کے کہنے پر بینک کوئی بھی سامان خریدنے سے پہلے صارف سے تحریری صورت میں وعدہ لیتا ہے کہ وہ یہ سامان بینک سے لازماً خریدے گا۔

3.   بینک اس وعدہ پر ہی اکتفاء نہیں کرتا بلکہ پہلے سے صارف سے ایک مخصوص رقم سیکیورٹی کی مد میں وصول کرتا ہے تاکہ صارف کے وعدہ سے مکر جانے کی صورت میں ہونے والے نقصا ن کو پورا کیا جاسکے۔

4.   سامان خریدنے سے لے کر صارف تک پہنچنے تک بینک کا عملاً کوئی کردار نہیں ہوتا۔بلکہ سامان بیچنے والے کے پاس سے براہ راست صارف تک منتقل ہوتا ہے اور بینک پہلے اسے اپنے قبضہ میں لینے کی کوئی زحمت نہیں کرتا۔

ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کیسے تصورکیا جاسکتا ہے کہ اسلامی بینک مرابحہ کے حوالہ سے کسی قسم کا رسک یا مخاطرت کا سامنا کرتا ہے؟ اور اگر بینک کو مرابحہ میں تمویل کے ذریعہ جو منافع حاصل ہورہا ہے اس کا دارومدار مخاطرت پر نہیں تو اس ’’ربح‘‘ کو’’ ربا‘‘ سے الگ حکم دینے کا کیا جواز ہے؟۔

مروجہ مرابحہ پر چند بنیادی شرعی اعتراضات:

 ( پہلا اعتراض )

(Master Murabaha Facility Agreement ) میں صارف سے لیا جانے والا وعدہ اور اس کا لازمی ایفاء:

وعدہ کی پاسداری شریعت میں اخلاقی طور پر یقیناً فرض ہے ، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَأَوْفُوْا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا} ( الإسراء: 34)، ’’وعدے پورے کرو، بیشک وعدوں کی پاسداری کے متعلق پوچھا جائے گا‘‘۔اسی لئے ایک مسلمان کا یہ دینی تقاضا ہے کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے، لیکن قانونی طور پر کسی وعدے کو جبراً پورا کرانا یا قانونی طور پر وعدے کے ایفاء کو لازم قرار دینا خصوصا ً بیوع کے معاملات میں بہت سے شبہات کو جنم دیتا ہے۔اسلامی بینکنگ کے کتنے ہی مسائل ایسے ہیں جس میں صارف سے وعدہ لیا جاتا ہے اور اسے قانوناً لازم قرار دیا جاتا ہے اور اس حیلہ کے ذریعہ بینک اپنے حصہ کا سارا رسک صارف کے کھاتے میں ڈال کر بے نیاز ہوجاتا ہے۔

مروجہ مرابحہ میں بھی اسی حیلہ کا استعمال کیا گیا ہے ، صارف سے وعدہ لیا جاتا ہے کہ جب بینک اس کا مطلوبہ سامان حاصل کرلے گا تو صارف اسے ضرور خریدے گا، یا یہ وعدہ لیا جاتا ہے کہ اگر صارف نے اس سامان کو نہ خریدا تو بینک کو ہونے والا نقصان صارف برداشت کرے گا، اور اس حیلہ کے استعمال سے مرابحہ میں جو شرعی مخالفات سامنے آتی ہیں ان سے قطعی طور پر صرف نظر کیا جاتا ہے۔ان شرعی مخالفات میں سب سے بدتر مخالفت مروجہ مرابحہ کا سودی تمویل سے مشابہ ہوجانا ہے۔ان مخالفات کا ذکر آئندہ سطور میں ہوگاان شاء اللہ۔

مروجہ مرابحہ میں صارف سے لئے جانے والے یکطرفہ وعدہ اور اس کے لازمی ایفاء کے حوالہ سے اسلامی بینکوں کےذمہ داران دو بنیادی دلائل پیش کرتے ہیں:

(پہلی دلیل) مذہب مالکیہ میں ایفاءوعدہ کو لازم قرار دیا گیا ہے ، لہٰذا اسی کو دلیل بناتے ہوئے مرابحہ میں صارف پر ایفاءوعدہ کو لازم قرار دیا گیا ہے۔[6]

اس دلیل کے جواب میں چند باتیں عرض کرنا چاہوں گا:

(1)    پاکستان میں بالخصوص اسلامی بینکاری کی بنیاد مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب اور ان کے رفقاء نے رکھی ہے ، اورمفتی صاحب اور ان کے رفقاء نے اسلامی بینکاری کی بنیادوں کو عموماً فقہ حنفی پر استوار کیا ہے کیونکہ مفتی صاحب کا تعلق مسلک حنفی سے ہے۔یہاں سوال یہ ہے کہ جب تمام بنیادیں اور اصول فقہ حنفی سے مستمد و مستفاد ہیں تو اس معاملہ میں فقہ حنفی سے درخور اعتناء کا کیا مطلب؟ کیا یہ خروج عن  المذھب نہیں ؟ ۔ خود مفتی تقی عثمانی صاحب اسلامی بینکاری کے متعلق غلط فہمیوں کے ازالہ میں فرماتے ہیں : ’’خروج عن المذھب اس کو کہتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں کوئی مسئلہ مصرح ہو کہ یہ چیز ناجائز ہے اور ہم اس کو چھوڑ کر مالکی یا شافعی مذہب سے مسئلہ لے لیں جب کہ وہاں اس کو جائز کہا گیا ہو ۔ یہ خروج عن المذھب ہے‘‘۔[7]

عرض یہ ہےکہ فقہ حنفی میں بھی وعدہ کے ایفا ء کو مستحب تو کہا گیا ہے لیکن قانونی طور پر اس ایفاءِوعدہ کو لازم قرار نہیں دیا گیا۔ جیسا کہ ابن عابدین نے ’’العقود الدرية‘‘ میں ذکر کیا ہے2۔سوال یہ ہے کہ جب فقہ حنفی میں یہ مسئلہ صراحت کے ساتھ موجود ہے توپھر فقہ مالکی کی طرف جانے کی کیا ضرورت پیش آئی؟۔کیا یہ خروج عن المذھب نہیں؟۔

بہرحال یہ ایک الزامی توجیہ ہے ، ہمارا تعلق الحمد للہ اہلحدیث مسلک سے ہے جس میں مذہب قرآن و حدیث ہے اور اس میں خروج عن المذھب کا کوئی تصور نہیں۔

(2)   فقہ مالکیہ کی طرف جس بات کی نسبت کی گئی ہے ، میں بہت احترام سے ذکر کرنا چاہوں گا کہ یہ نسبت غلط ہے۔ مالکیہ نے ایفاءوعدہ کو اخلاقاً اور قانوناً دونوں لحاظ سے واجب قرار تو دیا ہے لیکن وہ صرف تبرعات میں ہے ، یعنی جب ایک شخص کسی سے بھلائی کا ارادہ کرے، اس سے وعدہ بھی کرلے ، تو دینی لحاظ سے بھی اور قانونی لحاظ سے بھی اس پر یہ واجب ہے کہ اس وعدہ کو پورا کرے، اور اس کے لئے بھی انہوں نے ایک شرط رکھی ہے کہ جب اس وعدہ کی وجہ سے جس سے وعدہ کیا گیا ہو وہ کسی معاملہ میں یا کام میں داخل ہوجائے تو وعدہ کرنے والے پر ایفاء دینی اور قانونی طور پر واجب ہے۔

امام سحنون مالکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’ جس وعدہ کا ایفاء لازم ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص کہے کہ تم اپنا مکان گرادو میں تمہیں قرض دوں گا تا کہ تم نیا مکان بنا سکو، یا تم حج کے لئے نکلو میں تمہیں زاد راہ فراہم کروں گا، یا تم فلاں سامان خرید لو میں تمہیں ادھار پیسے دوں گا، یا تم شادی کرلو میں تمہیں قرضہ فراہم کروں گا تو ایسے وعدہ کو پورا کرنا لازم ہے، کیونکہ وہ شخص اس وعدہ کی بناء پر اس کام میں داخل ہوا ہے ، جہاں تک محض وعدہ کا تعلق ہے تو اسے پورا کرنا مکارم اخلاق سے تعلق رکھتا ہے لیکن واجب نہیں ہے‘‘۔[8]

جہاں تک عقود معاوضات (یعنی تجارتی معاملات) کا تعلق ہے تو اس میں فقہاء مالکیہ نے وعدہ ایفاء کو واجب قرار نہیں دیا ، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جس معاملہ میں وعدہ کو شامل کرکے اس کے ایفاء کو مالکیہ کی طرف نسبت کر کے لازم قرار دیا جارہاہے ، مالکیہ نے تو اس معاملہ کو ہی سرے سے ناجائز قرار دیا ہے اگرچہ وہ بغیر وعدہ کے ہی کیوں نہ ہو!!۔

اما م ابن جزی رحمہ اللہفرماتے ہیں : ’’ بیع عینہ کی تین اقسام ہیں : پہلی قسم : یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے سے کہے کہ تم فلاں سامان میرے لئے دس درہم میں خرید لو میں تمہیں کچھ عرصہ بعد پندرہ درہم دوں گا۔ یہ سود ہے اور حرام ہے‘‘۔[9]

امام ابن رشد مالکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ اگر کوئی شخص یوں کہے کہ تم میرے لئے فلاں سامان دس درہم نقد میں خرید لو میں تم سے بارہ درہم ادھار میں خرید لوں گا، تو یہ معاملہ حرام ہے‘‘[10]۔ یہی بات دیگر فقہاء مالکیہ نے بھی کہی ہے جن میں الباجی[11]، ابن عبدالبر[12] اور قاضی عیاض رحمہم اللہ [13]جیسے جلیل القدر فقہاء شامل ہیں۔ اور جس حرام معاملہ کی ان علماء نے نشاندہی کی ہے وہ بعینہ مروجہ مرابحہ کی صورت ہے۔تو ایک ایسے معاملہ میں وعدہ کے لازمی ایفاء کی نسبت ان علماء کی طرف کیسے کی جاسکتی ہے جس معاملہ کو انہی علماء نے صریح حرام قرار دیا ہو؟

عقود معاوضات میں الوعد الملزم(لازمی ایفاء کا وعدہ ) کی مالکیہ کی طرف نسبت کو بہت سے علماء نے غلط قرار دیا ہے ، ان میں سے اسلامی بینکاری کے ماہر علماء میں ڈاکٹر سلیمان الاشقر[14]، ڈاکٹر رفیق یونس المصری[15]، محترم ربیع محمود الروبی[16]، علامہ عبداللہ بن بیہ[17]، ڈاکٹر علی احمد سالوس[18]، فضیلۃ الشیخ بکر ابو زید[19] جیسے جلیل القدر علماء بھی شامل ہیں۔

 

(دوسری دلیل ) نبی    صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے : ’’لا ضرر ولاضرار‘‘۔ کہ ’’ نہ کسی کو نقصان پہنچاؤ نہ خود نقصان اٹھاؤ‘‘۔ اس حدیث کی روشنی میں صارف سے لیا جانے والاوعدہ بالکل جائز ہے، کیونکہ اگر بینک صارف کے کہنے کے مطابق سامان خرید لے پھر صارف سامان لینے سے انکاری ہوجائے اور بینک کو کوئی اور ایسا صارف نہ ملے جو بینک سے یہ سامان خرید ے تو بینک کو بہت نقصان ہوگا، اسی لئے بینک صارف سے وعدہ لیتا ہے ، کیونکہ بینک نے یہ سامان صارف کے کہنے پر خریدا تھا ، اپنے لئے تو نہیں خریدا !، لہٰذا صارف کے انکاری ہوجانے پر بینک کو ہونے والے نقصان کا ذمہ دار صارف ہے اور اسے یہ نقصان برداشت کرنا چاہئے۔

اس دلیل کا جواب چند نکات کی صورت میں دینا چاہوں گا:

   اگر بینک نے یہ سامان صارف کے لئے خریدا ہے تو بینک تو صارف کا وکیل ہوا ، اور اس صورت میں بینک کا سامان کی قیمت ادا کر کے صارف سے اس سے زیادہ وصول کرنا قرض دے کر سود طلب کرنے کے مترادف ہے اور قطعی حرام ہے۔

  اگر بینک نے یہ سامان اپنے لئے خریدا ہے تو صارف اس کے نقصان کاذمہ دار نہیں ہے ، کیونکہ اگر صارف وہ سامان خریدنے سے انکار کردیتا ہے اور بینک وہ سامان کسی اور کو بیچے اور اس میں بینک کو منافع ہو تو کیا وہ منافع بینک اپنے پاس رکھے گا یا صارف کو دے گا؟۔اگر نقصان صارف نے برداشت کرنا ہے تو اصولی طور پر منافع بھی صارف ہی کو ملنا چاہئے، اس منافع کا تذکرہ بینک کیوں نہیں کرتا؟۔

  اگر بینک اس پورے معاملہ میں رسک نہیں اٹھاتا تو پھر منافع کا حقدار کیسے ہوسکتاہے؟۔ فضیلۃ الشیخ بکر ابو زید بیع مرابحہ کے جواز کی صورت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ یہ جواز اس لئے ہے کہ اس صورت میں  ایفاءوعدہ کا التزام نہیں ہے ، نہ ہی نقصان کا عوض ادا کرنے کی شرط ہے ، تو اگر سامان تلف ہوجائے تو صارف پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوگی ، بینک یہ سامان خریدتے وقت رسک لیتا ہے، اسے مکمل یقین نہیں ہوتا کہ صارف اس سے یہ سامان خریدے گا یا نہیں ؟ اور یہی مخاطرت (رسک اٹھانا) اس معاملہ کو جواز کی شکل دیتا ہے ‘‘۔ یعنی اگر بینک اس معاملہ میں کسی قسم کا رسک اٹھانے پر رضامند نہیں تو مرابحہ کی صورت میں حاصل ہونے والا منافع بھی اس کے لئے جائز نہیں ۔ کیونکہ عدم مخاطرت کی صورت میں یہ معاملہ قرض پر سود لینے کے مشابہ ہوجائے گا۔

  ’’لا ضرر و لاضرار ‘‘ والا قاعدہ بینک صرف اپنے لئے ہی کیوں استعمال کرتا ہے ، کیا یہ قاعدہ صارف پر منطبق نہیں ہوتا، جو بیچا رہ سامان نہ لینے کے باوجود بھی ایک بھاری رقم ادا کرنے کا پابند ہے!، کیا یہ اس کے لئے نقصان اور ضرر نہیں؟۔

وعدہ کا لازمی ایفاء : ایک جادو کی چھڑی!

اسلامی بینکاری نظام میں ’’وعدہ کا لازمی ایفا ء ‘‘ ایک جادو کی چھڑی ثابت ہوئی ہے ، جہاں کوئی شرعی قباحت آئی وہاں اس جادو کی چھڑی کو استعمال کر کے اس حرام کو حلال بنا لیا گیا ہے، مثلاً:

   مشارکہ متناقصہ میں مشارکہ کے معاہدہ میں ہی صارف سے وعدہ لے لیا جاتا ہے کہ وہ اس مشارکہ کے ذریعہ جو چیز خریدی گئی ہے اس میں بینک کے جو حصص (شیئرز) ہیں انہیں خریدے گا۔ اب اگر ظاہری طور پر دیکھا جائے تو یہ ایک معاہدہ میں دو معاہدے ہیں: (1) مشارکہ کا معاہدہ ۔ (2) مشارکہ کے تناقص (بتدریج ختم کرنے ) کا معاہدہ ، جسے (Diminishing Musharakah) کہا جاتا ہے۔ اور اس سے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے منع فرمایا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے : ’’ نهى رسول الله    صلی اللہ علیہ وسلم  عن صفقتين في صفقة واحدة‘‘۔[20]کہ’’ نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک معاہدہ میں دو معاہدے کرنے سے منع فرمایا ہے‘‘۔ اب یہاں معاہدے کو لازمی وعدہ کا نام دے کر جائز کرلیا گیا ہے ، اور راقم یہ سمجھنے سے قاصر ہےکہ معاہدہ میں اور وعدہ کے لازمی ایفاء میں سوائے نام کے اور کیا فرق ہے؟ کیا لازمی ایفاء ، معاہدہ کی خصوصیت نہیں کہ جسے وعدہ کے ساتھ منطبق کردیا گیا ہے؟۔

اسلامی بینکوں میں لیزنگ جسے اجارہ المنتہیہ بالتملیک کہا جاتا ہے میں صارف سے یہ وعدہ کیا جاتا ہے کہ اگر صارف نے ایک مخصوص عرصہ تک کرایہ ادا کیا تو بینک اسے وہ چیز جس کا وہ کرایہ ادا کررہا تھا بالکل معمولی قیمت میں بیچ دے گا یا ہدیہ کردے گا۔ کسی چیز کو بیچنا یا عوض کے بدلہ ہدیہ کرنا دونوں ایک معاہدہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور دونوں میں سے ایک معاہدہ کا ذکر اجارہ کے معاہدہ میں ضرور ہوتا ہے ، یعنی پھر ایک معاہدہ میں دو معاہدے (1) اجارہ کا معاہدہ۔ (2) ہدیہ یا بیچنے کا معاہدہ۔ اور اس معاملہ کو بھی لازمی وعدہ کہہ کر حلال کر لیا جاتا ہے۔

مضاربہ میں سرمایہ کی ضمانت لینا سود ہے ، اسلامی بینک اول تو کسی سے مضاربہ کرتے نہیں ہیں اگر کسی کو مضاربہ پر سرمایہ فراہم کرتے ہیں تو اس سے یہ وعدہ لیتے ہیں کہ وہ ان کا سرمایہ انہیں ضرور لوٹائے گا، اور اس سود کو بھی لازمی وعدہ کا نام دے کر جائز کرلیا جاتا ہے۔

مرابحہ میں بھی صارف سے لئے جانے والا وعدہ جو کہ دراصل معاہدہ ہے اس سے بہت سی شرعی قباحتیں جنم لیتی ہیں :

(1)  ملکیت میں آنے سے پہلے چیز کی فروخت

جب صارف سے یہ وعدہ لیا جاتا ہے کہ وہ بینک سے مطلوبہ سامان ضرورخریدے گا تو یہ وعدہ بذات خود ایک معاہدہ کی حیثیت اختیارکر جاتا ہے کیونکہ معاہدہ میں بھی وہی خصوصیات ہوتی ہیں جو اس وعدہ میں پائی جارہی ہیں ، یعنی سامان کی تعیین ، قیمت کا تعین ، ادائیگی کا طریقہ کار، ایجاب و قبول ،یہ سب کچھ اس وعدہ میں شامل ہوتا ہے ، اور پھر بعد میں جو الگ سے مرابحہ کا ایگریمنٹ کیا جاتا ہے وہ صرف دکھلاوا ہوتا ہے، کیونکہ صارف تو اس وعدہ کے ذریعہ سامان خریدنے کا پابند ہوچکا ہوتا ہے۔ تو اس میں سب سے پہلی قباحت یہ آتی ہے کہ بینک جب صارف سے یہ وعدہ لے رہا ہوتا ہے اس وقت مطلوبہ سامان بینک کے پاس موجود نہیں ہوتا تو گویا کہ بینک صارف کو وہ چیز بیچ رہا ہے جس کا وہ مالک نہیں اور اس سے نبی    صلی اللہ علیہ وسلم  نے منع فرمایا ہے ۔حکیم بن حزام فرماتے ہیں : ’’ میں نے نبی    صلی اللہ علیہ وسلم  سے عرض کیا کہ اللہ کے رسول    صلی اللہ علیہ وسلم  ، اگر ایک شخص میرے پاس آکر مجھ سے ایسی چیز مانگتا ہے جو اس وقت میرے پاس نہیں ہوتی تو کیا میں بازار سے خرید کر پھر اس کو بیچ دوں ؟ تو نبی    صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : ’’نہیں ، جو چیز تمہارے پاس نہیں تم اس کا معاہدہ نہ کرو‘‘۔[21]اس حدیث میں بالکل واضح ہے کہ اگر کسی شخص سے کوئی سامان طلب کیا جائے جو اس کے پاس موجود نہیں تو وہ طالب سے اس سامان کے متعلق کوئی وعدہ یا معاہدہ ہرگز نہ کرے جب تک کہ وہ سامان اس کی ملکیت میں نہ آجائے۔جبکہ بینک سامان کی ملکیت حاصل کرنا تو درکنار ابھی اسے اس کی مکمل معلومات بھی نہیں ہوتیں کہ وہ پہلے ہی صارف سے تمام وعدے لے چکا ہوتا ہے ، اور اس شرعی قباحت کو یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ یہ تو صرف ایک وعدہ ہے کوئی معاہدہ تو نہیں !۔

(2)     خيار البيع کی نفی

نبی    صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے : ’’البيعان بالخيار مالم يتفرقا ، وکانا جميعا‘‘[22]کہ تاجر اور صارف دونوں کو  بیع فسخ کرنے کا اختیار ہے جب تک وہ دونوں بیع کی جگہ پر اکٹھے ہوں ۔ یعنی جب جدا ہوجائیں تو یہ اختیار ختم ہوجاتا ہے ۔ اس اختیار کو علماء خیار البیع کہتے ہیں ، یہ اختیار تاجر اور خریدار دونوں کے لئے ہے اور شریعت کا عطا کردہ ہے اسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا ، اور تمام علماء کا اس پر اتفاق و اجماع ہے۔ لیکن مروجہ مرابحہ میں صارف سے وعدہ لے کر اس اختیار کو چھین لیا جاتا ہےاور شریعت کے حکم کی صریحاً نافرمانی کی جاتی ہے۔

(4)    سودی معاملہ سے مشابہت

جیسا کہ بحث کے آغاز میں یہ ذکر ہوا کہ سودی بینکوں اور اسلامی بینکوں کے معاملات میں بنیادی فرق مخاطرت (رسک ) کا ہے۔ سودی بینک کے کسی معاملہ میں مخاطرت نہیں ہے اس لئے ان کا منافع ربا (سود) کہلاتا ہے۔ اسلامی بینکوں کا منافع اس وقت تک جائز ہوگا جب تک ان کے معاملات میں مخاطرت کا عنصر موجود رہے گا۔ لیکن مرابحہ میں جو تھوڑا بہت مخاطرت کا عنصر موجود تھا اسے بھی صارف سے لئے گئے وعدہ کے ذریعہ ختم کردیا گیا ۔

مروجہ مرابحہ میں الوعد الملزم     ( لزوم وعدہ ) کے معاشرہ پر اثرات

مروجہ مرابحہ میں صارف سے لئے گئے لازمی وعدہ کے معاشرہ پر بھی بہت گہرےمنفی اثرات مرتب ہوتےہیں ۔ جب بینک کو یہ اطمئنان ہوتا ہے کہ صارف نے اس سے یہ سامان لازمی خریدنا ہے تو اسے نہ اس بات سے کوئی غرض ہوتی ہے کہ یہ سامان ضرورت کا ہے یا تعیش کا؟ یہ چیز معاشرہ میں زیادہ پھیل رہی ہے اور مقبول ہے یا کوئی اور چیز ؟ اور نہ ہی اسے اس بات سے کوئی غرض ہوتی ہے کہ یہ سامان مناسب قیمت میں کہاں سے ملے گا؟ ، اسے صرف یہ غرض ہوتی ہے کہ یہ سامان مل جائے، چاہے جتنی قیمت پر ملے اور یہ سامان صارف کے سپرد کر کے اس سے زائد رقم وصول کی جائے ۔اسلامی بینکوں میں جو (Assets Financing) ہے اس میں عموماً ایسی چیزیں طلب کی جاتی ہیں جو معاشرہ میں زیادہ رائج نہیں ہوتیں ۔ اسلامی بینک کے اس رویہ کی وجہ سے معاشرہ میں حقیقی تجارتی ماحول پیدا نہیں ہوسکتا ، تاجروں کے درمیان چیز بیچنے میں مقابلہ بازی کا جو رجحان ہوتا ہے اور اس رجحان کی وجہ سے اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوتی ہے یہ رجحان بھی مروجہ مرابحہ کی وجہ سے ختم ہوسکتا ہے ، اور بینک کا صرف اپنے منافع کو سامنے رکھنے کی وجہ سے ایسی چیزوں کی خریداری کرنا جو معاشرہ میں رائج نہ ہوں اس سے معاشرہ کی حقیقی تجاری سرگرمیوں کے متاثر ہوجانے کا اندیشہ بھی ہوتا ہے۔

مرابحہ میں الوعد الملزم ( لازمی وعدہ ) کا شرعی متبادل

صارف کا مطلوبہ سامان کی خریداری سے انکاری ہونے کے سبب اسلامی بینک کو ہونے والے نقصان سے بچنے کے لئے دیگر شرعی متبادل موجود ہیں جنہیں اختیار کر کے بینک ممکنہ نقصان سے تحفظ بھی حاصل کرسکتا ہے اور اس میں کوئی شرعی قباحت بھی موجود نہیں ۔ان متبادل میں سے چند اہم یہ ہیں:

  اسلامی بینک سامان خریدتے وقت تین دن کے خیار الشر ط کا مطالبہ کرے ۔ خیار الشرط سے مراد یہ ہے کہ خریدار یہ شرط لگائے کہ مجھے تین دن کا اختیار دیا جائے اگر میں سامان لوٹانا چاہوں تو ان تین دنوں میں لوٹا سکتا ہوں ، اگر بیچنے والا اس پر رضامند ہوجائے تو یہ اختیار خریدار کو مل جاتا ہے اور بیچنے والا پابند ہوتا ہے کہ تین دن میں سامان واپس ہونے کی صورت میں اس کی قیمت لوٹا دے۔یہ اختیار شریعت کی طرف سے بیچنے والے اور خریدار دونوں کو حاصل ہے ، نبی    صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے :’’ أو يخير أحدهما الآخر فتبايعا علی ذلك فقد وجب البيع‘‘[23]۔ کہ تاجر یا خریدار میں سے کوئی ایک دوسرے کو اختیار دیدے، اور وہ دونوں اس پر معاہدہ کرلیں تو بیع ہوجائے گی‘‘۔ یعنی وہ اختیار بھی حاصل ہوجائے گا اور بیع بھی مکمل ہوجائے گی۔ بیع مرابحہ میں اس سہولت کی جانب سب سے پہلے امام محمد بن الحسن الشیبانی رحمہ اللہنے ’’کتاب الحيل ‘‘[24]میں اور پھر علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے ’’إعلام الموقعين‘‘3 میں ذکر کیا ہے۔ جب اسلامی بینک کے پاس تین دن کا اختیار ہوگا تو وہ صارف سے یہ کہہ سکتا ہے کہ آپ سامان دیکھ لیں اگر صارف کو منظور ہو ا تو بیع کر لے گا اور صارف کے انکار کرنے پر بینک یہ سامان خیار الشرط کی بناء پر واپس لوٹا سکتا ہے ، اور اس کا کوئی نقصان بھی نہ ہوگا۔

  اسلامی بینک بیع مرابحہ میں ہر ایک سے معاہدہ نہ کرے ، بلکہ صرف انہی سے معاہدہ کرے جن کے حوالہ سے اسے مکمل اطمئنان ہو کہ اپنے وعدے سے نہیں پھریں گے۔

  نقصان سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اسلامی بینک صارف کی ہر مطلوبہ چیز نہ خریدے ، بلکہ صرف انہی چیزوں کے متعلق بیع مرابحہ کرے جو معاشرہ میں رائج ہو ں تاکہ صارف کے انکار کی صورت میں یہ چیز بازار میں بیچ سکے اور اسے نقصان نہ ہو۔

( دوسرا اعتراض )

اسلامی بینک کا مطلوبہ سامان کی خریداری میں صارف ہی کو وکیل مقرر کردینا۔

مروجہ مرابحہ میں مطلوبہ سامان کی خریداری کے لئے بینک اسی صارف کو اپنا وکیل بنادیتا ہے کہ وہ بینک کی طرف سے جاکر مطلوبہ سامان خرید لے اور پھر بینک وہ سامان صارف کو زائد نفع پر بیچ دیتاہے۔ جیسا کہ اسٹیٹ بینک مرابحہ کے بارے میں اصول بیان کرتے ہوئے کہتا ہے :

"Agency Agreement" means the Agency Agreement between the Institution and the Client as provided in the Murabaha Document # 2". [25]

’’ایجنسی ایگریمنٹ سے مراد وہ وکالتی معاہدہ ہے جو ادارہ (بینک) اور صارف کے درمیان ہوتا ہے ، جیسا کہ مرابحہ کی دستاویز نمبر 2 میں تحریر ہے‘‘۔

اس کے جواز کے لئے یہ کہاجاتا ہے کہ جو سامان صارف کو درکار ہے اس کے بارے میں بینک یا کسی اور سے زیادہ معلومات صارف کو ہی ہوتی ہیں اور وہی بہتر چیز کی خریداری کرسکتا ہے ، بینک کو اس معاملہ میں چونکہ کوئی تجربہ نہیں ہوتا اس لئے وہ صارف ہی کو وکیل بنا دیتا ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اگر بینک کو اس معاملہ کا تجربہ نہیں ہے تو اسے یہ معاملہ کرناہی نہیں چاہئے ، اور اگر صارف کو زیادہ معلومات ہیں تو اس کی معلومات سے استفادہ کا یہ طریقہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے یہ پوچھ لیا جائے کہ یہ سامان کہاں سے مل سکے گا، یا کہاں سے لینا زیادہ بہتر ہے،اسے وکیل بنادینا ہی تو واحد حل نہیں۔

صارف ہی کو سامان کی خریدار میں وکیل بنادینے سے مرابحہ کا معاملہ مزید مشتبہ ہوجاتا ہے:

  صارف ہی کو وکیل بنادینے سے بینک کا عملی طور پر مرابحہ میں کوئی کردار باقی نہیں رہتا اس کی کوئی محنت نہیں ہوتی تو مرابحہ کے منافع کو جائز کہنے کا پھر کیا جواز رہ جاتا ہے؟۔

بعض بینک صارف کو وکیل بنا دینے کے بعد مطلوبہ سامان کی قیمت کے برابر رقم صارف کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردیتے ہیں ، اور پھر صارف کی طرف سے ملنے والی سامان کی رسید پر مرابحہ کا معاہدہ کرلیتے ہیں۔یہ معاملہ تو بالکل ایسا ہے کہ کوئی شخص کسی کو کوئی چیز خریدنے کے لئے قرض فراہم کرے اور پھر اس قرض پر سود وصول کرے۔

  صارف کو وکیل بنادینے کا کچھ افراد ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں ، اور جھوٹی رسید بناکر بینک سے رقم لیتے ہیں اور پھر اسے کسی اور مدمیں استعمال کر کے زائد رقم قسطوں میں بینک کو لوٹاتے رہتے ہیں اور یہ معاملہ صریحاً سود اور حرام ہوجاتا ہے۔

اسی لئے خود مفتی تقی عثمانی صاحب کہتے ہیں : ’’ کلائنٹ کو وکیل بنادینا تاکہ وہ تمویل کار کی طرف سے اس چیز کو خرید لے ، مرابحہ کو مشتبہ بنادیتا ہے‘‘[26]اسی طرح اسلامی بینکوں کے لئے شرعی معیار مقرر کرنے والی کتاب ’’ المعاییر الشرعیہ ‘‘ میں ہے کہ :’’الأصل أن تشتري المؤسسة السلعة بنفسها مباشرة من البائع ويجوز لها تنفيذ ذلك عن طريق وكيل غير الآ مر بالشراءو ولا يلجأ لتوكيل العميل (الآمر بالشراء) إلا عند الحاجة الملحة‘‘[27]۔’’ اصل یہ ہے کہ بینک خود براہ راست بیچنے والے سے سامان خریدے ، اور اس کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ وہ کسی وکیل کے ذریعہ خریداری کرے لیکن یہ وکیل صارف نہ ہو، اور صارف کو کسی انتہائی ضرورت کے بنا  وکیل نہ بنایا جائے‘‘۔

 اس کے باوجود بھی تقریباً تمام اسلامی بینک بنا کسی خاص ضرورت کے صارف ہی کو وکیل مقرر کرتے ہیں۔

( تیسرا اعتراض )

مروجہ مرابحہ میں نفع کے لئے شرح سود کے بینچ مارک (KIBOR) یا ( LIBOR) کو معیار مقرر کرنا۔

اسلامی بینک مروجہ مرابحہ میں نفع کے تعین کے لئے شرح سود کو معیار مقرر کرتا ہے۔ (KIBOR) سے مراد ہے Karachi Interbank Offered Rate جو کہ دراصل قرض پر سود وصول کرنے کے لئے ایک تناسب یا شرح ہے جوپاکستان کے تمام سودی بینکوں کے سود کی شرح کو دیکھ کر یومیہ ، یا ہفتہ وار یا ماہانہ طے کیا جاتا ہے۔اسی طرح بین الاقوامی سطح پر (LIBOR) ایک شرح سود ہے جو کہ London Interbank Offered Rate کا مخفف ہے، اور یہ دنیا کے تقریباً دس بڑے بینکوں کے شرح سود کو سامنے رکھ کر لندن میں بینکرز کی ایک فرم طے کرتی ہے اور دنیا کےتمام بینک اس شرح کو مستقبل کے سودوں کے لئے معیار بناتےہیں۔

اسلامی بینک کا شرح سود کو معیار بنانا نہ صرف یہ کہ مروجہ مرابحہ کو مشتبہ کردیتا ہے بلکہ پورے اسلامی بینکاری نظام کو مشکوک کردیتا ہے ۔ ایک عام شخص کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ آخر اسلامی بینک کا شرح سود سے کیا تعلق ہے؟۔

شرح سود کو معیار بنانے کے حوالہ سے اسلامی بینک کے سرکردہ افراد کا یہ کہنا ہے کہ یہ اسلامی بینک کی مجبوری ہے کیونکہ اسے مارکیٹ میں رہنا ہے اور چونکہ دیگر بینکوں سے بھی اس کے معاملات ہوتے ہیں اس لئے اپنے معاملات کو منضبط کرنے کے لئے اسے یہ انتہائی قدم اٹھانا پڑتا ہے۔

اس دلیل کو دیکھتے ہوئے تو ہمارے ذہن میں ایک اور انتہائی کربناک سوال جنم لیتا ہے کہ کیا اسلامی بینک جس کے قیام کا بنیادی مقصد سود کو بینکاری نظام سے مٹانا تھا وہ خود سودی بینکوں سے سودی لین دین میں اس حد تک ملوث ہوچکا ہے کہ اسے مجبوراً شرح سود کو اپنے شرعی معاملات میں بھی معیار مقرر کرنا پڑ رہا ہے؟۔اگر اسلامی بینکوں کے معاملات کا طائرانہ جائزہ لیا جائے  تو بادی النظر میں معاملات ایسے ہی محسوس ہوتے ہیں ، کیونکہ :

اسلامی بینکوں میں ملنے والا منافع سودی بینکوں سے ملنے والے منافع سے بالکل قریب ہوتا ہے، اور جس طرح سودی بینکوں میں شرح منافع بڑھتا ہے اسلامی بینک بھی اپنامنافع بڑھاتے ہیں ۔

اس کی وضاحت درج ذیل چارٹ میں ملاحظہ کیجئے۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ مختلف بینکوں کا ماہ ستمبر 2012 میں (Saving Account) پر منافع کا کیا تناسب تھا۔ ان بینکوں میں اسلامی اور سودی دونوں بینکوں کا شرح منافع بیان کیا گیا ہے، جو کہ ان بینکوں کی ویب سائٹ پر دیکھا جاسکتا ہے۔

 

 اس چارٹ میں چھ بینکوں کا شرح منافع درج ہے ، ان میں سے تین اسلامی بینک ہیں اور تین سودی بینک ہیں اور تمام بینکوں کا ایک مہینہ کا شرح منافع بالکل یکساں ہے۔

*اسلامی بینکوں سے ہونے والے مرابحہ، اجارہ میں لئے جانے والے منافع یا کرایہ کی شرح  بھی سودی بینکوں سے دئیے جانے والے قرضہ پر سود کی شرح کے بالکل قریب یا کبھی کبھی زیادہ ہوتی ہے۔

  اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی زیادتی کا اسلامی بینک کے مارک اپ اور ڈیپازٹرز کو ادا کئے جانے والے منافع پربہت نمایاں اثر ہوتا ہے۔

ان تمام باتوں سے یہی ظاہر ہوتاہے کہ اسلامی بینک کا شرح سود کو معیار مقرر کرنا خالی از معنی نہیں ہے ، بلکہ یقیناً اسلامی بینکوں کے معاملات میں ایسی خامیاں موجود ہیں جن کی بناء پر انہیں اپنے منافع کو شرح سود سے مربوط کرنا پڑتا ہےاور یہی چیز ان بینکوں کو اسلامی قرار دینے میں اصل رکاوٹ ہے۔

(ایک اور دلیل)

مفتی تقی عثمانی صاحب ، مرابحہ میں منافع کو شرح سود سے مربوط کرنے کے جواز کی دلیل دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ : اس کی مثال یوں ہے کہ دو بھائی کاروبار کرتے ہیں ، ایک بھائی شراب بیچتا ہے اور اس میں وہ منافع کی شرح پانچ فیصد رکھتا ہے ، دوسرا بھائی شراب نہیں بیچتا بلکہ کوئی حلال مشروب بیچتا ہے لیکن اس میں وہ اپنے بھائی کی شرح منافع کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا منافع بھی پانچ فیصد ہی رکھتا ہے ، تو ہم دوسرے بھائی کے کاروبار کو حرام تو نہیں کہیں گے ، کیوں کہ وہ تو بالکل جائز چیز بیچ رہا ہے بس شرح منافع میں وہ اپنے بھائی کے شرح منافع کو معیار مقرر کرتا ہے، اسی طرح اسلامی بینک کا مرابحہ کا معاملہ بالکل حلال ہے اور شریعت کے مطابق ہے ، وہ صرف شرح منافع میں سودی بینکوں کے شرح منافع کو معیار مقرر کرتا ہے سودی کام تو نہیں کرتا لہٰذا ایسا کرنے سے اسلامی بینک کا معاملہ حرام نہیں ہوتا‘‘[28]

اس دلیل کے جواب میں دو باتیں عرض کروں گا:

(1)  اگرچہ یہ ایک عقلی دلیل ہے اور اس کا نصوص سے کوئی تعلق نہیں اس کے باوجود بھی یہ دلیلبرمحل نہیں ہے ، کیونکہ مفتی صاحب نے جو مثال دی ہے اس میں دوسرے بھائی نے پہلے بھائی کی اس چیز کو اپنایا ہے جو حرام نہیں تھی یعنی شرح منافع ، پہلے بھائی کے کاروبار میں اصل جو چیز حرام تھی وہ شرح منافع نہیں تھا بلکہ وہ چیز تھی جو بیچی جارہی تھی یعنی شراب۔ اگر دوسرا بھائی اس شراب کو اپناتے ہوئے کوئی ایسی چیز بیچتا جو شراب کے مثل ہوتی یعنی کوئی نشہ آور چیز بیچتا تو وہ حرام کے زمرے میں داخل ہوجاتا۔ جبکہ اسلامی بینک اس چیز کو اپنارہے ہیں جو اصلاً حرام ہے یعنی شرح سود! دونوں مثالوں میں زمین آسمان کا فرق ہے، لہٰذا اس مثال کو یہاں منطبق نہیں کیا جاسکتا۔

(2)  دوسری بات یہ ہے کہ مرابحہ کے منافع کو (KIBOR) سے منسلک کردینے کی صورت میں مرابحہ کے جواز کیلئے علماء کی بیان کردہ ایک انتہائی اہم شرط میں خلل واقع ہوجا تا ہے۔ وہ شرط یہ ہے کہ مرابحہ میں بیچنے والا اپنا منافع صاف اور متعین کر کے بتائے ۔ جبکہ (KIBOR) اور (LIBOR) منضبط شرح سود نہیں ہیں بلکہ ان میں یومیہ، ہفتہ وار، یا ماہانہ بنیادوں پر تغیر واقع ہوتا رہتا ہے اور اس کے کم یا زیادہ ہونے کی صورت میں منافع میں کمی یا زیادتی واقع ہوتی رہے گی جو کہ ناجائز ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی بینکوں کے لئے قوانین مرتب کرنے والی کتاب ’’المعايير الشرعية‘‘ میں درج ہے کہ :’’ مرابحہ میں واجب ہے کہ سامان کی قیمت اور منافع معین ہو اور معاہدہ کرتے وقت طرفین کے علم میں ہو۔ اور کسی بھی حال میں یہ جائز نہیں کہ سامان کی قیمت یا منافع کو کسی نامعلوم تناسب پر چھوڑ دیا جائے یا کسی ایسے تناسب پر جو مستقبل میں قیمت یا منافع تعیین کرے۔ جیسا کہ یہ جائز نہیں کہ بیع مرابحہ کرتے وقت منافع کو (LIBOR) کے تناسب پر چھوڑ دیا جائے‘‘۔[29]

( چوتھا اعتراض )

اقساط کی ادائیگی میں تاخیر پر جرمانہ ۔اس جرمانہ کو صدقہ کا نام دیا جاتا ہے ۔

المعاییر الشرعیہ میں ہے :

 ’’ يجوز أن ينص في عقد المرابحة للآمر بالشراء على التزام العميل المشتري بدفع مبلغ أو نسبة من الدين تصرف في الخيرات في حالة تأخره عن سداد الأقساط في مواعيدها المقررة، على أن تصرف في وجوه الخير بمعرفة هيئة الرقابة الشرعية للمؤسسة ولا تنتفع بها المؤسسة‘‘.[30]

’’جائز ہے کہ مرابحہ کے معاہدے میں صارف (خریدار ) کا مقررہ وقت پر اقساط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں ایک مخصوص رقم یا قرض کے تناسب سے کچھ رقم کی ادائیگی کا التزام بھی تحریر کردیا جائے جو کہ فلاحی کاموں میں استعمال کی جائے گی، ایسے فلاحی کام جو اس بینک کے شریعہ سپروائزری بورڈ کی معرفت میں ہوں ، اور اس رقم سے بینک کوئی فائدہ حاصل نہ کرے‘‘۔

اسٹیٹ بینک کی ہدایات کے مطابق :

 "Where any amount is required to be paid by the Client under the Principal Documents on a specified date and is not paid by that date, or an extension thereof, permitted by the Institution without any increase in the Contract Price, the Client hereby undertakes to pay directly to the Charity Fund, constituted by the Institution2 "[31].

’’ جب بنیادی معاہدہ کے تحت صارف پر ایک مقررہ وقت میں مخصوص رقم کی ادائیگی لازم ہو اور وہ ادائیگی نہ کر سکے ، اگرچہ بغیر کسی اضافی رقم کے بینک کی جانب سے اس مدت میں توسیع کردی جائے تو بھی نادہندہ رہے، تو اس معاملہ میں صارف اپنے اوپر یہ لازم کرے کہ وہ بینک کے خیراتی فنڈ میں کچھ رقم دے گا‘‘۔

مفتی تقی عثمانی صاحب لکھتےہیں : ’’ تاخیر کے سد باب کا ایک معقول طریقہ وہ ہے جو میں نے ابتداء میں پیش کیا تھا اور وہ بعد میں کافی مقبول ہوا ، وہ یہ کہ مرابحہ یا اجارہ کے معاہدے میں مدیون یہ بات بھی لکھے کہ اگر میں نے ادائیگی میں تاخیر کی تو اتنی رقم کسی خیراتی کام میں خرچ کروں گا۔یہ رقم دین ( قرض ) کے تناسب سے بھی طے کی جاسکتی ہے ۔ایسی رقم سے ایک خیراتی فنڈ بھی قائم کیا جاسکتا ہے ۔اس فنڈ سے کسی کی امداد بھی کی جاسکتی ہے اور اس سے لوگوں کو بلا سود قرض بھی دیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ رقم بینک کی آمدنی میں شامل نہیں ہوگی۔ یہ طریقہ زیادہ مفید اس لئے ہے کہ اس طریقہ میں رقم کی شرح متعین نہیں ، زیادہ سے زیادہ بھی رکھی جاسکتی ہے ، اس سے قرضدار پر دباؤ ہوگا‘‘۔[32]

دلیل : اس صدقہ کے جواز کے لئے دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ بعض مالکیہ کا مؤقف ہے کہ اگر کوئی شخص قرض لیتے ہوئے ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں اپنے اوپر صدقہ کی شرط لگا لے تو اس پر واجب ہے کہ وہ اس شرط کو پورا کرے اور اس کے لئے امام حطاب المالکی کی اس عبارت کو پیش کیا جاتا ہے :

 ’’إذا التزم أنه إذا لم يوفه حقه في وقت كذا، فعليه كذا وكذا لفلان أو صدقة للمساكين فهذا محل الخلاف المعقود له هذا الباب،فالمشهور أنه لا يقضي به … وقال ابن دينار يقضى به‘‘۔

’’ جب قرضدار اپنے اوپر یہ لازم کرے کہ اس نے قرض خواہ کا حق اس کے وقت پر ادا نہیں کیا تواس پر فلاں (غیر قرض خواہ) کے لئے اتنا مال لازم ہے یا مساکین کو صدقہ کرنا لازم ہے ، تو اس میں اختلاف ہے ، اور اسی کو بیان کرنے کے لئے یہ باب باندھا گیا ہے، پس مشہور (راجح قول ) یہ ہے کہ اس پر فیصلہ نہیں کیا جائے گا ، اور ابن دینار کہتے ہیں کہ اس پر فیصلہ کیا جائے گا‘‘۔[33]

 اس دلیل کے جواب میں چند نکات پر بات کرنی ہوگی:

(1) راجح قول کے مقابلہ میں مرجوح کا اختیار: اس معاملہ میں مالکیہ کے علاوہ دیگر تمام مسالک میں اجماع ہے کہ ادائیگی قرض میں تاخیر کی صورت میں قرضدار پرکسی بھی قسم کا جرمانہ یا قرضدار کا اپنے اوپر التزام جائز نہیں۔ صرف مالکیہ میں اختلاف ہے اور وہ بھی جیسا کہ امام حطاب مالکی رحمہ اللہ نے خود ذکر کیا کہ یہ قول مالکیہ میں سے صرف ابن دینار اور ابن نافع کا ہے اور مالکی مسلک میں یہ قول’’ مرجوح یعنی ناقابل قبول‘‘ ہے، اور راجح قول وہی ہے جو دیگر تمام ائمہ و مفتیان کا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اپنے مسلک کو چھوڑ کر دوسرے مسلک کی راجح بات یا قول پر عمل کرنا تو شاید بعض علماء کے نزدیک بعض صورتوں میں جائز ہو ، لیکن کسی اور مسلک کے مرجوح قول کو اختیار کرنا تو کسی بھی عالم کے نزدیک جائز نہیں خاص طور پر اس صورت میں جبکہ وہ قول سود جیسے گناہ کی طرف لے جائے، بلکہ صاحبِ مسلک کا اپنے مسلک کے راجح قول کو چھوڑ کر مرجوح اختیار کرنے کو بھی علماء نے ناجائز قرار دیا ہے تو پھر کسی اور مسلک کے مرجوح اقوال کو اختیار کرنا کیسے جائز ہوسکتا ہے؟۔

علامہ قاسم ابن قطلوبغا حنفی کہتے ہیں :

 ’’ إني قد رأيت من عمل في مذهب أئمتنا بالتشهي، حتى سمعت من لفظ بعض القضاة: وهل ثمّ حجر؟ فقلت: نعم. اتباع الهوى حرام، والمرجوح في مقابلة الراجح بمنزلة العدم‘‘[34]۔

’’ میں نے ان لوگوں کو دیکھا ہے جو ہمارے ائمہ کے مسلک میں اپنی خواہشات سے عمل کرتے ہیں ، حتی کہ میں نے بعض قاضیوں کو یہ کہتے سنا : کہ کیا یہ ممنوع ہے ؟ ، میں نے کہا: جی ہاں بالکل ، خواہشات کی پیروی حرام ہے ، اور راجح قول کے مقابلہ میں مرجوح ،معدوم (بالکل نہ ہونے) کی حیثیت رکھتا ہے۔

اسی طرح ابن عابدین حنفی لکھتے ہیں:

’’الواجب على من أراد أن يعمل لنفسه، أو يفتي غيره أن يتبع القول الذي رجّحه علماء مذهبه، فلا يجوز له العمل أو الافتاء بالمرجوح‘‘.

’’جو شخص خود کوئی عمل کرنا چاہے یا کسی اور کو فتوی دینے لگے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس قول کو اختیار کرے جسے اس کے مذہب کے علماء نے راجح قرار دیا ہے ، اور اس کے لئے کسی مرجوح قول پر عمل کرنا یا فتوی دینا جائز نہیں‘‘[35]

خودمالکی مسلک کے عالم ابو الولید الباجی فرماتے ہیں : ’’وأما الحكم والفتيا بما هو مرجوح  فخلاف الإجماع‘‘