بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
منگل, 20 مارچ 2018 15:10

بچوں کی تربیت کے رہنما اصول

Written by  بنت محمد رضوان

بچوں کی تربیت کے رہنما اصول!

بنت محمد رضوان[1]

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد:

              نعم الا لہ علی العباد کثیرۃ واجلھن نجابۃ الاولاد

’’ نعمتیں معبود کی بندوں پر بے شمار ہیں پھولوں جیسے بچے ان میں سب سے بڑھ کر نعمت ہے‘‘

ابتدائیہ: 

            اولاد والدین کے لیے ایک انمول تحفہ ہے جس کو حاصل ہوجائے ان کی زندگیاں ایک نیا رخ اختیار کر لیتی ہیں ان کی زندگیوں کا محور ان کی اولاد بن جاتی ہے۔ بعض اوقات اولاد کی خواہش میں انسان کے کئی ماہ و سال انتظار میں صعوبتیں جھیلتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور جن کو یہ نعمت حاصل

 ہو تی ہے تو کبھی والدین کی طرف سے بے رغبتی لا پرواہی نظر آتی ہے اور کہیں بے جا لاڈو پیار ۔ دین اسلام انسانی فطرت کی عکاسی کرتا ہے اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اولاد کی خواہش نبیوں نے بھی کی۔

اولاد کی خواہش انبیاء علیھم السلام کی سنت ہے

اولادکی خواہش رکھنا ایک فطری عمل ہے: قرآنمجید میںسیدنا زکریا علیہ السلام کی دعا مذکور ہے۔

[وَاِنِّىْ خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَّرَاۗءِيْ وَكَانَتِ امْرَاَتِيْ عَاقِرًا فَهَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا Ĉ۝ۙ][سورہ مریم :5]

’’ ( اے اللہ ) مجھے اپنے مرنے کے بعد قرابت داروں کا ڈر ہے اور میری بیوی بانجھ ہے پس تو مجھے اپنے پاس سے بہترین وارث عطا کر۔

سیدنازکریا علیہ السلام کی اس دعا کا محور نیک اولاد تھی جو ان کے لیے اور آنے والے دور کے لوگوں کے لیے ہدایت کا سر چشمہ ہو۔ زکریا علیہ السلام کی ایک اور دعا اس ضمن میں قرآن میں موجود ہے۔

[ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيْعُ الدُّعَآءِ ][اٰل عمران:38]

ترجمہ: ’’ اے اللہ اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر دے۔ بےشک تو دعاؤں کو سننے والاہے‘‘

اولاد کے مزاج کی تشکیل اور سیرت و کردار کا انحصار بچپن پر ہوتا ہے کیوں کہ ان واقعات کی حیثیت ’’النقش علی الحجر‘‘ (پتھرکی لکیر)جیسی ہوتی ہے ۔ ماہرین نفسیات کہتے ہیں چھ ماہ کا بچہ جو دیکھتا ہے وہ اس کے ذہن پر نقش اور اس کے نہاں خانہ دماغ میں محفوظ ہوجاتا ہے۔ جدید تحقیقات نے اس بات کو بھی ثابت کر دیا ہے کہ دوران حمل میں کیے گئے والدین کے خصوصاً ماں کے کیے ہوئے عمل اخلاقیات ، ایمانیات کے اثرات بچوں پر رونما ہوتے ہیں اور ان کے اندر جذب ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’ کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیتہ‘‘[2] (تم میں سے ہرایک ذمہ دارہےاوراس سےاس کی ذمہ داری کی بابت پوچھاجائےگا)کا بنیادی اصول طے کر کے ہمیں اولاد کی تربیت کی ذمہ داری سونپی ہے۔

ہم مختصر طور پر ان مرحلوں کی جانب آتے ہیں جو والدین تربیت اولاد میں طے کرتے ہیں اور قرآن و حدیث سے صحیح طور پر ان مراحل کے لئے راہ نمائی لیتے ہیں ۔

پہلا مرحلہ:             ولادت سے قبل

دوسرا مرحلہ:            ولادت سے 3سال کی عمر تک

تیسرا مرحلہ:            چار سال سے دس سال کی عمر تک

چوتھا مرحلہ: دس سال سے چودہ سال کی عمر تک

پانچواں مرحلہ:          پندرہ سال سے اٹھارہ سال کی عمر تک

پہلا مرحلہ

شریعت کی راہ نمائی ولادت سے قبل :

اللہ رب العالمین نے نیک اولاد کی پرورش ،نسل انسانی کی بقاء کے لیے ان کی ایمانی قوتوں کے لیے ابتدائے انسانیت کے مرحلوں پر میاں بیوی کو’’ وظیفۂ زوجیت‘‘ سےقبل دعا کی خصوصی تلقین کی ہے:

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان ہے نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس تعلق قائم کرنے کے لئے آئے تو یہ دعا پڑھے:

’’ بِسْمِ اللہِ اَللّٰھُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیْطٰنَ مَا رَزَقْتَنَا‘‘ [3]

اللہ کے نام کے ساتھ ! اے اللہ ہمیں شیطان مردود سے بچا اور ( اس اولاد کو بھی) شیطان سے بچا جو تو ہمیں عطا فرمائے۔

قرآن سے ہمیں یہ بات پتہ چلتی ہے کہ سیدہ مریم علیھا السلام کی پیدائش سے قبل ہی ان کی والدہ نے انہیں اور ان کی نسل کو شیطان سے بچانے کے لئے اللہ کی حفاظت میں دے دیا تھا۔

               [ وَاِنِّىْٓ اُعِيْذُھَابِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ  36؀][اٰل عمران:36]

ترجمہ : ’’بے شک میں اس بچے کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں‘‘۔

لڑکا اور لڑکی دونوں نعمت ہیں

اللہ رب العالمین کا ارشاد گرامی ہے:

[ يَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ الذُّكُوْرَ   49؀ۙ اَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّاِنَاثًا  ۚ وَيَجْعَلُ مَنْ يَّشَاۗءُ عَــقِـيْمًا ۭ اِنَّهٗ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ    50؀][الشوریٰ:49-50]

ترجمہ:’’ اللہ جوکچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے

لڑکیاں دیتا ہے جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملا جلا کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے۔ وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔

لڑکی کی پیدائش آج بھی اس ترقی یافتہ دور سے خود کو منسوب کرنے والوں کے لیے اسی طرح ہے جیسے جاہلیت کے ادوار میں ہمیں جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ (الٹرا ساؤنڈ) جدید دور کی اس تحقیق کے نتیجے میں قبل ازوقت معلومات حاصل کر کے لڑکی کو ابارٹ(Abort) کرانا اللہ ربّ العالمین کی نافرمانی ، سخت گناہ کی طرف انسان کو راغب کر دیتا ہے۔

[قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ قَتَلُوْٓا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ ]  [الانعام:140]

ترجمہ:’’ یقینا خسارے میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت و نادانی کی بناء پر قتل کیا‘‘۔

انسان اپنی نادانی اور مفلسی کے خوف سے اس گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے اور اللہ رب العالمین نے اس فعل کو قتل کے نام سے منسوب کیا جس کا ایک نیا نام ہمارے ہاں Abortion کے نام سے معروف ہے۔ اللہ رب العالمین نے انسان کو سخت تنبیہ کی کہ یہ نہ کرو ۔

[وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ   ۭ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ ۭ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا  31؀]

 ترجمہ: ’’اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی۔ درحقیقت ان کا قتل ایک بڑی خطا ہے‘‘  [بنی اسرائیل:31]

اولاد آزمائش اور امانت ہے

پھراے انسان! یہ بھی یاد رکھ یہ اولاد آزمائش ہے اور یہ بچپن کا دور انتہائی زرخیز قدرے طویل اور بہت اہم ہے آپ نے ان کی کردار سازی کے لیے بلند پایہ مہاراتِ حیات اور صحیح نظریات کا بیج بونا ہے لیکن یہ اتنی آسانی سے ممکن نہ ہوگا۔

[وَاعْلَمُوْٓا اَ نَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ  ۙ   ][الانفال:28]

ترجمہ: ’’اور جان رکھو تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں سامان آزمائش ہیں‘‘

[اَلْمَالُ وَالْبَنُوْنَ زِيْنَةُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا  ۚ   ]

ترجمہ:’’ یہ مال اور یہ اولاد محض دنیاوی زندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہیں‘‘ [الکھف:46]

امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

جان لیں کہ بچہ / بچی والدین کے پاس امانت ہے اور اس کا دل منقش پاکیزہ موتی کی طرح ہوتا ہے جس پر کچھ بھی نقش کیا جاسکتا ہے۔ اگر اس کی ا چھی پرورش کی جائے تو وہ دنیا اور آخرت میں سعادت مند رہتا ہے اور اپنے والدین و اساتذہ کے لیے صدقہ جاریہ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر اس کی غلط تربیت کی جائے اور اس پرصحیح توجہ نہ دی جائے تو یہ اس کے لیے باعث شقاوت و ہلاکت بن جاتا ہے جو کہ نہ صرف اس بچے کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے بلکہ اس کا وبال بچے کے سر براہ اور ذمہ دار پر بھی پڑتا ہے۔ ترجمہ: ارشاد ربانی :

[يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ][التحریم:6]

ترجمہ: ’’ اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ‘‘۔

 اس لیے والدین کو دنیا کی آگ کے مقابلے میں جہنم کی آگ سے اپنے بچے کی حفاظت کی زیادہ فکر کرنی چاہیے۔ [4]

بچوں کی تعلیم و تربیت ایک بھاری ذمہ داری ہے یہ اولاد اللہ کی عطا کردہ نعمت ہے یقینا کسی بھی امانت کی حفاظت کے لئے مکمل توجہ اور ہوشیاری کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان امور اور اسباب سے بچاجاسکے جو اس امانت میں خیانت کا باعث بن سکتے ہیں۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ اس کی حفاظت کریں یا اس کے کردار و اخلاقیات کو معاشرے کے سپرد کر دیں۔ اس آزمائش پر پورا اترنے کے لیے آپ نے ان تمام پہلوؤں کو اپنے عمل میں لا کر اسی پہلو پر ان کی تربیت کرنی ہوگی جس کے لیے آپ کو پہلے سے تیاری کرنی پڑے گی۔ اور یہ مراحل پوری زندگی آپ کو مسلسل کرنے ہوں گے جن کی ابتداء ان امور سے ہوگی۔

1۔ایمانی تربیت:

کلمہ طیبہ توحیدسے خودکومعمورکرنا ہوگا اور تمام توہمات و بدعات سے خود کو بھی محفوظ رکھنا ہوگا تاکہ اس کے اثرات آپ کی اولاد میں منتقل نہ ہوں۔ ایمان کا چراغ ابتداء سے ان میں جلانا ہوگا جس کے لیے خود کو ایمان سے منور کرنا ہوگا۔ مثلا دوران حمل کے توہمات اور بدعات سے خود کو محفوظ رکھنا ہوگا۔

٭جیسے سورج گرھن چاند گرھن یہ صرف سائنسی حقیقت ہےان سےمتعلق امورکےبارےمیں توہمات کاشکارنہ ہوں، اس سے آنے والے بچے کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا کوئی دن یاگھڑی منحوس نہیں ہوتی۔

٭گود بھرائی بدعات میں سے ہے ، ہندو انہ رسم ہے سنت سے اس کاکوئی تعلق نہیں۔

٭یہ تصورغلط ہے کہ دوران حمل کسی بیمار کی بیمار پرسی کے لیے جانے سے یا جنازے سے حمل ضائع ہوجاتا ہے۔ اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ان تمام باتوں کے لیے کافی ہے۔ آپ نے فرمایا: کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا، نہ ہی الو (کی نحوست) نہ ہی ستارے( کی وجہ سے بارش) اور نہ ہی صفر ( کے مہینے کی کوئی حقیقت ہے۔) [5]

اپنی ایمانی تربیت کر کے اس کی ایمانی تربیت کی تیاری پہلے سے کرنا ہوگی۔ ان میں اللہ رب العالمین کی محبت دوران حمل سےہی ڈالنا ہوگی۔ جدید تحقیق اس بات کو ثابت کر چکی ہے کہ ہمارا بچہ سنتا بھی ہے، سمجھتا بھی ہے Reactبھی کرتا ہے اس کو اس گود حمل سے ہی محبت الٰہی اور محبت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کادرس دیں۔

2۔اخلاقی تربیت:

دوران حمل آپ کا بچہ آپ سے سیکھتا ہے۔ آپ کس قسم کے الفاظ بولتے ہیں۔ آپ کیا سننا پسند کرتے ہیں۔ آپ کیا دیکھتے ہیں یہ سب جو آپ دوران حمل کر رہے ہوں گےآپ کا بچہ وہ سب اثرات قبول کرے گا۔ تلاوت قرآن کا اہتمام کرنا خاص طور پر اس حالت میں، پھر کم بولنا اچھا بولنا، ہنسنا مسکرانا، شکر کے ساتھ اللہ کی طرف سے ملنے والی نعمت کو قبول کرنا اور خود جھوٹ غیبت گندے الفاظ کی ادائیگی سے بچنا تاکہ بری عادات و اخلاق ان میں جذب نہ ہوجائیں۔ ماں ہونے کے ناطے ایک ماں کو سسرال سے ہونے والے معمولی تنازعوں پر قوت برداشت کرنا اور غلطی پر Sorry کرنے کی عادت ڈالنا کہ ان کے اندر بھی غلطی پر جواز (Justification) کی عادت نہ آنے پائے۔

3۔جسمانی تربیت:

ایسا کیوں ہوتا ہے اکثر جو ہمیں پسندہو وہ ہماری اولاد کو بھی پسند ہوتا ہے۔ جو خوراک ہم کھاتے ہیں دوان حمل ایک ماں جو کھاتی ہے و ہی ذائقہ بچوں میں منتقل ہوتا ہے اشد ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ صحت مند غذا سنت کے مطابق کھائیں تاکہ و ہی عوامل آپ کی اولاد میں نظر آئیں۔ اپنی صفائی طہارت کا اہتمام کریں تاکہ آپ کی عادتیں خصلتیں ان میں بھی منتقل ہوں اور عمر کے ساتھ ساتھ آگے جاکے آپ نے ان کو اس کے فوائد اہمیتیں اور اجاگر کرنا ہوں گی۔ اور ان کو ابتداء سے ہی خود یاد رکھیں ان میں بھی ڈالنا ہوگا۔ اللہ نے جیسے چاہا ہمیں اپنی پسند سے بنایا یہ اعزاز ہے ۔

4۔عقلی تربیت:

ان کی تعلیم کا خاص خیال رکھنا۔ دوران حمل سے انتہائے عمر تک انہیں جنت و جہنم کی آگاہی دینا جس کے لیے آپ نے دوران حمل خود بھی وہ کام اپنانے ہیں جو جنت کے مستحق بنائیں اور جہنمیوں والے کاموں سے خود بھی بچنا ہوگا۔ ایسا ہر گز نہ کریں کہ آپ خود 9th Month Duration  ٹی وی، فضول لٹریچر زنماز سے بے رغبتی جیسے فضولیات میں اپناوقت بربادکریں ،یاد رکھیں اس کے گہرے اثرات آپ کے بچوں پر آئیں گے۔

5۔نفسانی تربیت:

اگر والدین خود دین کی راہ نمائی پر چلنے والے ہوں تو بچیوں میں ہر گز EQ develop نہیں ہوگا۔ دین پر عمل کرنے میں جب ابتداء سے آپ نہ خود شرمندہ ہونے والے ہوں تو وہ بھی نہ ہوں گے اور خود کو بہت معزز سمجھیں گے۔

6۔معاشرتی و جنسی تربیت:

 آپ خود اس مرحلے میں ذمہ دار ہوں گے یہ سب ان میں بھی منتقل ہوگا۔ احساس کمتری کا آپ شکار نہ ہوں گے ان میں بھی یہ کمیاں نہیں آئیں گی۔ اور وقت آنے پر ان کی بھی جسمانی تربیت کی جائے انہیں ان میں آنے والی تبدیلیوں کو وقت پر بتایا جائے اور دوران حمل اپنے جنسی جذبات پر خصوصی ضبط کر کے جائز حلال طریقے سے ہی پورا کیا جائے۔

 

دوسرا مرحلہ

ولادت سےتین سال کی عمر تک

بچے کو شیطان سے محفوظ رکھنے کے لیے اللہ کی پناہ میں دیا جائے:

سیدناابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’ کوئی بچہ ایسا نہیں جس کی پیدائش پرشیطان اس کو کونچانہ مارے، کہ وہ اس کے کونچا مارنے سے روتا ہے۔ مگر مریم علیہاالسلام اور ان کے بچے کو شیطان کو نچا نہ دے سکا‘‘۔[6]

 سیدہ مریم علیہا السلام کی والدہ نے انہیں اور ان کی نسل کو شیطان سے بچانے کے لیے اللہ کی حفاظت میں دے دیا تھا انہوں نے دعا کی۔

               [ وَاِنِّىْٓ اُعِيْذُھَابِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ  36؀][اٰل عمران:36]

 ترجمہ: ’’بےشک میں اس بچے کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں‘‘۔

نومولود کے کان میں اذان و اقامت:

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :’’جس کے ہاں بچہ ہو وہ اس کے دائیں کان میں اذان دے اور بائیں میں اقامت۔[7]

امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

اذان اور تکبیر کہنے کا راز یہ ہے کہ انسان کے کان میں سب سے پہلے اس عظیم اعلان کے الفاظ پڑیں جو باری تعالیٰ کی عظمت و کبریائی پر مشتمل ہوں۔ اسے وہ حکم شہادت سنائی دے جو اسلام میں داخل ہونے کی اولین شرط ہے۔ بچے کے سامنے ان الفاظ کی ادائیگی دنیا میں اس کی آمد کا اسلامی شعار ہے جیسا کہ دنیا سے جاتے ہوئے اس کے سامنے کلمہ توحید پڑھا جاتا ہے۔ اس چیز کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بچے نے اگر اسے نہ سمجھا ہو پھر بھی اس کے دل میں اس کا اثر سرایت کرجاتاہے اور وہ اس سے متاثر ہوجاتاہے۔[8]

 

سنت نبوی   صلی اللہ علیہ وسلم  ’’ تحنیک‘‘

تحنیک رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے۔ جو وہ ہر نومولود بچے کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ کھجور چباکر بچے کے تالو پر ملنا اور تھوڑا سامنہ میں ڈالنا۔

سیدناابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا تو میں اسے لے کر نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور کھجور کو منہ مبارک میں نرم کر کے اسے چٹایا اور اس کے لیے برکت کی دعا کی‘‘[9]۔

شکر کثیر:

 ارشاد ربانی ہے:[وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ    Ċ۝]

ترجمہ: اگر تم شکر ادا کروگے تو اور زیادہ عطا کروں گا اور لیکن اگر نا شکری کرو گے (اسے ضائع کروگے) تو بےشک میرا عذاب بہت سخت ہے۔ [ابراھیم:7]

اچھا نام رکھنا:

سیدناابو وہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ تم پیغمبروںکے نام پر نام رکھا کرو اللہ کے نزدیک زیادہ پیارا نام عبد اللہ اور عبد الرحمن ہے‘‘۔[10]

عقیقہ کرنا بال منڈھوانا:

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ تم میں سے اگر کوئی اپنے بچے کی طرف سے عقیقہ کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ لڑکے کی طرف سے دوبکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری دے‘‘[11]

سیدناحسن رضی اللہ عنہ کے پیدا ہونے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’اے فاطمہ رضی اللہ عنہا اس کا سر منڈھواؤ اور بالوں کے ہم وزن چاندی صدقہ کرو‘‘[12]۔

مدت رضاعت:

ارشاد باری تعالیٰ ہے:[وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ   ۭ]

 ترجمہ: ’’جو باپ چاہتے ہوں کہ ان کی اولاد پوری مدت رضاعت تک دودھ پیے تو مائیں اپنے بچوں کو مکمل دوسال تک دودھ پلائیں‘‘۔[البقرہ:233]

ختنہ کرانا:

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’پانچ کام اعمال فطرت میں سے ہیں: ختنہ، زیر ناف بال صاف کرنا، مونچھیں کاٹنا، ناخن اتارنا اور بغلوں کے بال نوچنا‘‘[13]۔ 

تعلیم وتربیت:

دین عقیدہ توحید کی معرفت کروانا: رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:’’ جب تمہاری اولاد بولنے لگے تو اسے  لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہسکھاؤ‘‘ [14]

محبت و شفقت کا برتاؤ:

سیدنااسامہ بن زیدرضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:’’ اللہ کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  مجھے ایک ران پر بٹھالیتے اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو دوسری ران پر پھر ہم دونوں کو گلے لگالیتے اور کہتے اے اللہ میں ان پر شفقت کرتا ہوں تو بھی ان پر مہربانی فرما‘‘۔[15]

آداب لبا س سکھانا:

 سیدناعبد اللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ نے فرمایا: ’’نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  نے مجھے زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا: تمہاری ماں نے تمہیں یہ پہننے کو کہا تھا؟ میں نے عرض کیا میں انہیں دھو کر ( ان کا رنگ اتار) دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: بلکہ انہیں جلاد و‘‘[16]

 دوسری روایت میں فرمایا:’’ یہ کافروں کا لباس ہےاسے نہ پہنا کرو‘‘[17]

تحفے دینا:

سیدناسائب بن یزیدرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:’’ ایک دفعہ میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو دیکھا میرے ساتھ کچھ اور لڑکے بھی تھے ہم آپ کے پاس گئے تو آپ کھجوریں کھارہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان میں سے ایک ایک مٹھی ہمیں بھی عطا فرمائی اور ہمارے سر پر ہاتھ پھیرا‘‘،[18]

سچ بولنے کی تاکید کرنا:

سیدناعبد اللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے ایک دفعہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ہمارے گھر میں تھے کہ مجھے میری والدہ نے بلاتے ہوئے کہا آؤ میں تمہیں کچھ دیتی ہوں یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا تم اسے کیا دینا چاہتی ہو؟ اس نے عرض کیا: کھجور، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’ اگر اسے کچھ نہ دیتی تو تمہارے نامہ اعمال میں ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا‘‘[19]

تیسرا مرحلہ

چارسے دس سال کی عمر تک

 حسن آداب و اچھی سیرت دینا:

سیدناسعد بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دیتا ہے اس میں سب سے بہتر عطیہ تحفہ حسن ادب اور اچھی سیرت سے بہتر کوئی چیزنہیں‘‘۔[20]

فرائض کی تاکید:

سیدناعبد اللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ عنھماسے روایت ہے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’تمہارے بچے جب سات سال کے ہوجائیں تو ان کو نماز کی تاکید کرو‘‘[21]

حیا کی آبیاری:

سیدناعبد اللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے بچے جب دس سال کے ہوجائیں تو ان کے بستر بھی الگ الگ کر دو‘‘[22]

اچھی تربیت:

اولاد کے لیے والدین خصوصا ماں کی گود پہلی در س گاہ ہوتی ہے لہذا ان پر تربیت کی بھاری ذمہ داری آتی ہے۔ کسی بھی عمارت کی بنیاد میں اگر پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی لگ جائے تو پوری دیوار ٹیڑھی ہوجاتی ہے۔ آج کے والدین اولاد کے اعلیٰ مہنگے تعلیمی اداروں میں داخلوں پر تو توجہ دیتے ہیں لیکن اچھے با کردار انسان بنانے کی فکر نہیں کرتے۔

سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہےرسول اللہ نے فرمایا:’’ ہر ایک بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مشرک بناتے ہیں اس لیے اپنے بچوں کو ادب سکھاؤ اور ان کی اچھی تربیت کرو‘‘[23]۔

دنیا پر آخرت کو ترجیح دیں:

والدین غیر شعوری طور پر اللہ کے مقرر کردہ فرائض مؤخر کر کے بچے کے سامنے دنیاوی کاموں کو اہمیت دیتے ہیں مثلاًاکثر والدین بچوں کو فجر کے لیے نہیں اٹھاتے کہ وہ تھکے ہوئے ہیں روزے نہ رکھنے کا کہتے ہیں کہ پڑ ھ پڑھ کر کمزور ہوجائیںگے امتحانات کے ابتداء میں قرآن پڑھانے والوں کی چھٹی کردیتےہیں، وقت نہیں ہے۔ یہ ساری فکر کا محور یہ ہوتا ہے یہ اولاد پڑھ لکھ کر ایک کامیاب انسان بن جائے جس کا معاشرے میں Statusہو۔ گھر ، گاڑی، بنگلہ۔

لیول:

کیا دوران تربیت یہ Level یاد آتا ہے کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’جنت کےسو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیا ن سوسال کی مسافت کا فرق ہے‘‘[24]۔

کیایہ فکر ہوئی کہ میری اولاد کا Level  کیا ہوگا کہاں گھر ملے گا جنت میں ملے گا بھی یا نہیں؟ پڑھائی پر Compromiseنہیں کیا والدین نے بچوں کو جنت الفردوس کی طرف دوڑنے والوں کی صف میں دوڑایا؟ اس کےلیےمحنت کا کہا؟ان کو مقصد حیات بتایا؟

بچے کو خوبصورت نصیحت:

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نےسیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے فرمایا:’’ اے بیٹا! میں کچھ باتیں سکھا تاہوں۔ تم اللہ کی شریعت کی پابندی کروگے وہ تمہاری حفاظت کرے گا۔ تم اس کی شریعت کی پابندی کرو گے تم اسے اپنی مدد کے لیے تیار پاؤ گے تم جب بھی مانگو اللہ سے مانگو اور جب مدد چاہو تو اللہ سے چاہو اور یہ بات ذہن میں رکھو اگر سارے لوگ اکٹھے ہو کر تمہیں کچھ فائدہ پہنچانا چاہیں تو تمہیں اس کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تمہارے لیے لکھا ہے اور اگر پوری دنیا تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچانے کے لیےاکٹھی ہوجائے تو وہ تمہیں اس کے علاوہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھ رکھا ہے‘‘[25]

بچوں کے کھلونوں کی قدر:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا شادی کے وقت نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے گھر اپنے کچھ کھلونے لے کر گئیں تھیں جس سے کھیلا کرتی تھیں اور آپ ان کو سہیلیوں کے ساتھ کھیلنے کی ترغیب بھی دلاتے تھے۔

امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بچے کو کھیل سے روکنا اور اسے ہر وقت پڑھتے رہنے کو کہنا اس کے ضمیر کو مردہ کر دیتا ہے ۔ بچے کو دن کے کسی حصے میں سیر اور ورزش کا عادی بنایا جائے تاکہ اس پر سستی غالب نہ آئے[26]۔

ملامت نہ کرنا:

زیادہ ڈانٹ سننا آدمی کے اپنے لیے باعث ندامت ثابت ہوتا ہے اس سے بچہ ضد کرنے لگتا ہے یہی وجہ ہے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  اس سے بہت گریز کرتے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے تربیت یافتہ صحابی سیدنا انس فرماتے ہیں مجھے دس سال تک نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت کا شرف حاصل ہوا اللہ کی قسم نہ تو کبھی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مجھے اف کہا اور نہ یہ کہا کہ تم نے ایسے کیوں کیا یا ایسے کیوں نہیں کیا۔[27]

راز چھپانے کی تلقین:

سیدناعبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے ایک دن رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مجھے اپنے پیچھے سواری پر بٹھالیا اس کے بعد مجھے ایک راز کی بات بتائی جسے میں لوگوں میں سے کسی کو نہ بتاؤ ں گا[28]۔

بچوں کے ساتھ کھانا کھانا:

سیدناعمر وبن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںایک دفعہ کھانے کے دوران میں اپنے ہاتھ کو برتن میں جا بجا گھما رہا تھا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے لڑکے ! بسم اللہ پڑھ لیا کرو۔ اپنے دائیں ہاتھ سے اور اپنے قریب سے کھایا کرو۔

بچوں کے لیے نظر بد کا دم:

سیدناابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے نواسوں حسن اور حسین رضی اللہ عنھماکو نظر بد اور تکلیف سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ دعاپڑھ کر دم کرتے تھے۔

’’ اُعِیْذُ کُمَا بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَّھَامَّۃٍ وَّمِنْ کُلِّ عَیْنٍ  لَّامَّۃٍ ‘‘  [29]

ترجمہ:  میں تم دونوں کو اللہ کے مکمل کلمات کی پناہ دیتا ہوں ہر شیطان اور زہریلے جانور اور ہر نظر لگانے والی آنکھ سے۔ اس کے علاوہ معوذتین اور آیۃ الکرسی بھی پڑھنا اس کا علاج بتایا۔


 

 

چوتھا اور پانچواں مرحلہ

عشاء کے بعد سونے کی تربیت:

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے[30]۔

کام کرنے کا ڈھنگ سکھانا:

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ایک لڑکے کے پاس سے گزرے وہ بکری کی کھال اتار رہا تھا اسے دیکھ کر فرمایا: ’’ایک طرف ہوجاؤ میں تمہیں کھال اتار کر دکھاتا ہوں‘‘[31]۔

گھر میں داخلے کے آداب سکھانا:

سیدناانس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا! اے میرے پیارے بیٹے ! جب تم اپنے گھر میں جاؤ تو السلام علیکم کہا کرو یہ چیز تمہارے اپنے لیے اور تمہارے گھر والوں کے لیے باعث برکت ہوگی۔[32]

علماء کی ہم نشینی و احترام:

 سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ :’’ نیک اور متقی لوگ ہمارے سردار ہیں اور فقہا ہمارے پیش رو، ان کے ساتھ بیٹھنا علم میں اضافے کا باعث ہے‘‘[33]۔

بڑوں کا ادب سکھانا:

ایک دفعہ عبد الرحمن بن سہل اور حویصہ بن مسعود رضی اللہ عنہما، نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئے عبد الرحمن نے بات شروع کر دی تو فرمایا:’’ بڑے کو بات کرنے دو بڑے کو بات کرنے دو‘‘[34]۔

قرآن و حدیث کو اہم رکھنا اس کی محبت دل میں بٹھانا:

سیدناعبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنھماکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اے اللہ اسے دین کی فہم و فراست عطا فرما اور اسے قرآن کی تفسیر سکھا دے‘‘[35]۔

علم کی پیاس پیدا کرنا:

لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو یہ وصیت کی تم نہ علم کو مقابلے کے لیے سیکھو اور نہ جہلاء سے جھگڑنے کے لیےاور نہ ہی محفلوں میں ریاء و غرور کے لیے جب تم کچھ لوگوں کو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے دیکھو تو ان کے پاس بیٹھ جاؤ اگر تم صاحب علم ہوئے تو تمہارا علم مفید ہوگا اور اگر تم جاہل ہوگے تو وہ تمہیں اپنے علم سے مستفید کریں گے۔

بچوں کو کتابت سکھانا:

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

 [نۗ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ ][القلم 1،2]۔ن ،قلم کی قسم ہے، اور ان کی تحریر کی قسم ہے۔

اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ کے نزدیک یہ ایک قابل محترم چیزہے اور اس سے لکھنے والے بھی اسی طرح محترم ہیں۔

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ترغیب:

[كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ۭ وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ ۭمِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَ     ١١٠؁]  [اٰل عمران:110]

ترجمہ: (مومنو!) جتنی امتیں ( یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ عزوجل پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا ۔ ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں ( لیکن تھوڑے) اور اکثر نافرمان ہیں۔

 

صبر:

[يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلٰي مَآ اَصَابَكَ ۭ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ 17۝ۚ][لقمان:17]

ترجمہ: ’’ بیٹا نماز کی پابندی رکھنا اور (لوگوں کو) اچھے کاموں کے کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تجھ پر واقع ہو اس پر صبر کرنا، بےشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں‘‘۔ 

غرور تکبر سے بچانا:

[وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا  ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ 18؀ۚ]

ترجمہ: ’’اور (از راہ غرور) لوگوں سے گال نہ پھلانا اور زمین میں اکڑ کر نہ چلناکہ اللہ تعالیٰ کسی اترانے والے خود پسند کو پسند نہیں کرتا‘‘۔[لقمان:18]

دھیمی آواز:

[وَاقْصِدْ فِيْ مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ ۭ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ  19؀ۧ][لقمان:19]

ترجمہـ:’’ اور اپنی چال میں اعتدال کیےرہنا اور (بولتے وقت) آواز نیچی رکھنا کیونکہ ( اونچی آواز گدھوں کی سی ہے اور کچھ شک نہیں کہ) سب سے بری آواز گدھوں کی ہے‘‘۔

خلاصہ کلام:

 رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان مبارک ہے۔ آدمی کے گنہگار ہونے کے لیےیہ بات ہی کافی ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو ضائع کردے[36]۔

جس طرح اولاد کے لیے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا متعدد بار حکم ہے اسی طرح والدین کے لیے بھی اولاد کی صحیح منہج پر تربیت کرنا لازم و ملزوم ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ شریعت کے مطابق اپنی اولاد کی تربیت کرتے ہوئے ایک اسلامی معاشرہ قائم کریں۔

 درود و سلام ہوںمحمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  پر جنہوں نے بحیثیت والد یہ کردار عملاً کرکے ہی نہیں دکھایا بلکہ بحیثیت نبی امت کے والد بن کر بھی عملاً تربیت کر کے دکھائی اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے جو تمام جہانوں کا مالک ہے عزت و ذلت کے تمام اختیار اس کے ہاتھ میں ہیں۔

سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم

 

 

 

 

 

 

 



[1] انچارج ’’علم النافع سینٹر‘‘مرکزالفرقان،کراچی

[2] مسند احمد:4495

[3] بخاری و مسلم

[4] التربیۃ الاسلامیۃ اصولھا وتطور ھا فی البلادالعربیۃ199:

[5] صحیح مسلم

[6] صحیح مسلم

[7]  ابن سنی

[8] التربیۃ الإسلامیۃ

[9] بخاری

[10]ابو داؤد نسائی

[11]ابو داؤد

[12]مشکوٰۃ

[13] بخاری

[14] سنن ترمذی

[15] بخاری

[16] مسلم

[17] مسلم

[18] معجم اوسط طبرانی

[19] ابی داؤد

[20] ترمذی

[21] ابو داؤد

[22] ابو داؤد

[23] بخاری

[24] ترمذی

[25] جامع ترمذی و مسند احمد

[26]  احیاء علوم الدین

[27] بخاری

[28] صحیح مسلم

[29] بخاری

[30] صحیح بخاری

[31] سنن ابی داؤد: کتاب الطہارۃ، باب الوضوء من اللحم

[32] سنن ترمذی

[33]  مجمع الزوائد

[34] صحیح بخاری

[35] صحیح بخاری

[36] ابو داؤد

Read 635 times
  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

بچوں کی تربیت کے رہنما اصول!

بنت محمد رضوان[1]

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد:

              نعم الا لہ علی العباد کثیرۃ واجلھن نجابۃ الاولاد

’’ نعمتیں معبود کی بندوں پر بے شمار ہیں پھولوں جیسے بچے ان میں سب سے بڑھ کر نعمت ہے‘‘

ابتدائیہ: 

            اولاد والدین کے لیے ایک انمول تحفہ ہے جس کو حاصل ہوجائے ان کی زندگیاں ایک نیا رخ اختیار کر لیتی ہیں ان کی زندگیوں کا محور ان کی اولاد بن جاتی ہے۔ بعض اوقات اولاد کی خواہش میں انسان کے کئی ماہ و سال انتظار میں صعوبتیں جھیلتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور جن کو یہ نعمت حاصل

 ہو تی ہے تو کبھی والدین کی طرف سے بے رغبتی لا پرواہی نظر آتی ہے اور کہیں بے جا لاڈو پیار ۔ دین اسلام انسانی فطرت کی عکاسی کرتا ہے اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اولاد کی خواہش نبیوں نے بھی کی۔

اولاد کی خواہش انبیاء علیھم السلام کی سنت ہے

اولادکی خواہش رکھنا ایک فطری عمل ہے: قرآنمجید میںسیدنا زکریا علیہ السلام کی دعا مذکور ہے۔

[وَاِنِّىْ خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَّرَاۗءِيْ وَكَانَتِ امْرَاَتِيْ عَاقِرًا فَهَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا Ĉ۝ۙ][سورہ مریم :5]

’’ ( اے اللہ ) مجھے اپنے مرنے کے بعد قرابت داروں کا ڈر ہے اور میری بیوی بانجھ ہے پس تو مجھے اپنے پاس سے بہترین وارث عطا کر۔

سیدنازکریا علیہ السلام کی اس دعا کا محور نیک اولاد تھی جو ان کے لیے اور آنے والے دور کے لوگوں کے لیے ہدایت کا سر چشمہ ہو۔ زکریا علیہ السلام کی ایک اور دعا اس ضمن میں قرآن میں موجود ہے۔

[ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيْعُ الدُّعَآءِ ][اٰل عمران:38]

ترجمہ: ’’ اے اللہ اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر دے۔ بےشک تو دعاؤں کو سننے والاہے‘‘

اولاد کے مزاج کی تشکیل اور سیرت و کردار کا انحصار بچپن پر ہوتا ہے کیوں کہ ان واقعات کی حیثیت ’’النقش علی الحجر‘‘ (پتھرکی لکیر)جیسی ہوتی ہے ۔ ماہرین نفسیات کہتے ہیں چھ ماہ کا بچہ جو دیکھتا ہے وہ اس کے ذہن پر نقش اور اس کے نہاں خانہ دماغ میں محفوظ ہوجاتا ہے۔ جدید تحقیقات نے اس بات کو بھی ثابت کر دیا ہے کہ دوران حمل میں کیے گئے والدین کے خصوصاً ماں کے کیے ہوئے عمل اخلاقیات ، ایمانیات کے اثرات بچوں پر رونما ہوتے ہیں اور ان کے اندر جذب ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’ کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیتہ‘‘[2] (تم میں سے ہرایک ذمہ دارہےاوراس سےاس کی ذمہ داری کی بابت پوچھاجائےگا)کا بنیادی اصول طے کر کے ہمیں اولاد کی تربیت کی ذمہ داری سونپی ہے۔

ہم مختصر طور پر ان مرحلوں کی جانب آتے ہیں جو والدین تربیت اولاد میں طے کرتے ہیں اور قرآن و حدیث سے صحیح طور پر ان مراحل کے لئے راہ نمائی لیتے ہیں ۔

پہلا مرحلہ:             ولادت سے قبل

دوسرا مرحلہ:            ولادت سے 3سال کی عمر تک

تیسرا مرحلہ:            چار سال سے دس سال کی عمر تک

چوتھا مرحلہ: دس سال سے چودہ سال کی عمر تک

پانچواں مرحلہ:          پندرہ سال سے اٹھارہ سال کی عمر تک

پہلا مرحلہ

شریعت کی راہ نمائی ولادت سے قبل :

اللہ رب العالمین نے نیک اولاد کی پرورش ،نسل انسانی کی بقاء کے لیے ان کی ایمانی قوتوں کے لیے ابتدائے انسانیت کے مرحلوں پر میاں بیوی کو’’ وظیفۂ زوجیت‘‘ سےقبل دعا کی خصوصی تلقین کی ہے:

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان ہے نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس تعلق قائم کرنے کے لئے آئے تو یہ دعا پڑھے:

’’ بِسْمِ اللہِ اَللّٰھُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیْطٰنَ مَا رَزَقْتَنَا‘‘ [3]

اللہ کے نام کے ساتھ ! اے اللہ ہمیں شیطان مردود سے بچا اور ( اس اولاد کو بھی) شیطان سے بچا جو تو ہمیں عطا فرمائے۔

قرآن سے ہمیں یہ بات پتہ چلتی ہے کہ سیدہ مریم علیھا السلام کی پیدائش سے قبل ہی ان کی والدہ نے انہیں اور ان کی نسل کو شیطان سے بچانے کے لئے اللہ کی حفاظت میں دے دیا تھا۔

               [ وَاِنِّىْٓ اُعِيْذُھَابِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ  36؀][اٰل عمران:36]

ترجمہ : ’’بے شک میں اس بچے کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں‘‘۔

لڑکا اور لڑکی دونوں نعمت ہیں

اللہ رب العالمین کا ارشاد گرامی ہے:

[ يَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ الذُّكُوْرَ   49؀ۙ اَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّاِنَاثًا  ۚ وَيَجْعَلُ مَنْ يَّشَاۗءُ عَــقِـيْمًا ۭ اِنَّهٗ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ    50؀][الشوریٰ:49-50]

ترجمہ:’’ اللہ جوکچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے

لڑکیاں دیتا ہے جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملا جلا کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے۔ وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔

لڑکی کی پیدائش آج بھی اس ترقی یافتہ دور سے خود کو منسوب کرنے والوں کے لیے اسی طرح ہے جیسے جاہلیت کے ادوار میں ہمیں جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ (الٹرا ساؤنڈ) جدید دور کی اس تحقیق کے نتیجے میں قبل ازوقت معلومات حاصل کر کے لڑکی کو ابارٹ(Abort) کرانا اللہ ربّ العالمین کی نافرمانی ، سخت گناہ کی طرف انسان کو راغب کر دیتا ہے۔

[قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ قَتَلُوْٓا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ ]  [الانعام:140]

ترجمہ:’’ یقینا خسارے میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت و نادانی کی بناء پر قتل کیا‘‘۔

انسان اپنی نادانی اور مفلسی کے خوف سے اس گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے اور اللہ رب العالمین نے اس فعل کو قتل کے نام سے منسوب کیا جس کا ایک نیا نام ہمارے ہاں Abortion کے نام سے معروف ہے۔ اللہ رب العالمین نے انسان کو سخت تنبیہ کی کہ یہ نہ کرو ۔

[وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ   ۭ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ ۭ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا  31؀]

 ترجمہ: ’’اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی۔ درحقیقت ان کا قتل ایک بڑی خطا ہے‘‘  [بنی اسرائیل:31]

اولاد آزمائش اور امانت ہے

پھراے انسان! یہ بھی یاد رکھ یہ اولاد آزمائش ہے اور یہ بچپن کا دور انتہائی زرخیز قدرے طویل اور بہت اہم ہے آپ نے ان کی کردار سازی کے لیے بلند پایہ مہاراتِ حیات اور صحیح نظریات کا بیج بونا ہے لیکن یہ اتنی آسانی سے ممکن نہ ہوگا۔

[وَاعْلَمُوْٓا اَ نَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ  ۙ   ][الانفال:28]

ترجمہ: ’’اور جان رکھو تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں سامان آزمائش ہیں‘‘

[اَلْمَالُ وَالْبَنُوْنَ زِيْنَةُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا  ۚ   ]

ترجمہ:’’ یہ مال اور یہ اولاد محض دنیاوی زندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہیں‘‘ [الکھف:46]

امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

جان لیں کہ بچہ / بچی والدین کے پاس امانت ہے اور اس کا دل منقش پاکیزہ موتی کی طرح ہوتا ہے جس پر کچھ بھی نقش کیا جاسکتا ہے۔ اگر اس کی ا چھی پرورش کی جائے تو وہ دنیا اور آخرت میں سعادت مند رہتا ہے اور اپنے والدین و اساتذہ کے لیے صدقہ جاریہ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر اس کی غلط تربیت کی جائے اور اس پرصحیح توجہ نہ دی جائے تو یہ اس کے لیے باعث شقاوت و ہلاکت بن جاتا ہے جو کہ نہ صرف اس بچے کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے بلکہ اس کا وبال بچے کے سر براہ اور ذمہ دار پر بھی پڑتا ہے۔ ترجمہ: ارشاد ربانی :

[يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ][التحریم:6]

ترجمہ: ’’ اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ‘‘۔

 اس لیے والدین کو دنیا کی آگ کے مقابلے میں جہنم کی آگ سے اپنے بچے کی حفاظت کی زیادہ فکر کرنی چاہیے۔ [4]

بچوں کی تعلیم و تربیت ایک بھاری ذمہ داری ہے یہ اولاد اللہ کی عطا کردہ نعمت ہے یقینا کسی بھی امانت کی حفاظت کے لئے مکمل توجہ اور ہوشیاری کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان امور اور اسباب سے بچاجاسکے جو اس امانت میں خیانت کا باعث بن سکتے ہیں۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ اس کی حفاظت کریں یا اس کے کردار و اخلاقیات کو معاشرے کے سپرد کر دیں۔ اس آزمائش پر پورا اترنے کے لیے آپ نے ان تمام پہلوؤں کو اپنے عمل میں لا کر اسی پہلو پر ان کی تربیت کرنی ہوگی جس کے لیے آپ کو پہلے سے تیاری کرنی پڑے گی۔ اور یہ مراحل پوری زندگی آپ کو مسلسل کرنے ہوں گے جن کی ابتداء ان امور سے ہوگی۔

1۔ایمانی تربیت:

کلمہ طیبہ توحیدسے خودکومعمورکرنا ہوگا اور تمام توہمات و بدعات سے خود کو بھی محفوظ رکھنا ہوگا تاکہ اس کے اثرات آپ کی اولاد میں منتقل نہ ہوں۔ ایمان کا چراغ ابتداء سے ان میں جلانا ہوگا جس کے لیے خود کو ایمان سے منور کرنا ہوگا۔ مثلا دوران حمل کے توہمات اور بدعات سے خود کو محفوظ رکھنا ہوگا۔

٭جیسے سورج گرھن چاند گرھن یہ صرف سائنسی حقیقت ہےان سےمتعلق امورکےبارےمیں توہمات کاشکارنہ ہوں، اس سے آنے والے بچے کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا کوئی دن یاگھڑی منحوس نہیں ہوتی۔

٭گود بھرائی بدعات میں سے ہے ، ہندو انہ رسم ہے سنت سے اس کاکوئی تعلق نہیں۔

٭یہ تصورغلط ہے کہ دوران حمل کسی بیمار کی بیمار پرسی کے لیے جانے سے یا جنازے سے حمل ضائع ہوجاتا ہے۔ اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ان تمام باتوں کے لیے کافی ہے۔ آپ نے فرمایا: کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا، نہ ہی الو (کی نحوست) نہ ہی ستارے( کی وجہ سے بارش) اور نہ ہی صفر ( کے مہینے کی کوئی حقیقت ہے۔) [5]

اپنی ایمانی تربیت کر کے اس کی ایمانی تربیت کی تیاری پہلے سے کرنا ہوگی۔ ان میں اللہ رب العالمین کی محبت دوران حمل سےہی ڈالنا ہوگی۔ جدید تحقیق اس بات کو ثابت کر چکی ہے کہ ہمارا بچہ سنتا بھی ہے، سمجھتا بھی ہے Reactبھی کرتا ہے اس کو اس گود حمل سے ہی محبت الٰہی اور محبت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کادرس دیں۔

2۔اخلاقی تربیت:

دوران حمل آپ کا بچہ آپ سے سیکھتا ہے۔ آپ کس قسم کے الفاظ بولتے ہیں۔ آپ کیا سننا پسند کرتے ہیں۔ آپ کیا دیکھتے ہیں یہ سب جو آپ دوران حمل کر رہے ہوں گےآپ کا بچہ وہ سب اثرات قبول کرے گا۔ تلاوت قرآن کا اہتمام کرنا خاص طور پر اس حالت میں، پھر کم بولنا اچھا بولنا، ہنسنا مسکرانا، شکر کے ساتھ اللہ کی طرف سے ملنے والی نعمت کو قبول کرنا اور خود جھوٹ غیبت گندے الفاظ کی ادائیگی سے بچنا تاکہ بری عادات و اخلاق ان میں جذب نہ ہوجائیں۔ ماں ہونے کے ناطے ایک ماں کو سسرال سے ہونے والے معمولی تنازعوں پر قوت برداشت کرنا اور غلطی پر Sorry کرنے کی عادت ڈالنا کہ ان کے اندر بھی غلطی پر جواز (Justification) کی عادت نہ آنے پائے۔

3۔جسمانی تربیت:

ایسا کیوں ہوتا ہے اکثر جو ہمیں پسندہو وہ ہماری اولاد کو بھی پسند ہوتا ہے۔ جو خوراک ہم کھاتے ہیں دوان حمل ایک ماں جو کھاتی ہے و ہی ذائقہ بچوں میں منتقل ہوتا ہے اشد ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ صحت مند غذا سنت کے مطابق کھائیں تاکہ و ہی عوامل آپ کی اولاد میں نظر آئیں۔ اپنی صفائی طہارت کا اہتمام کریں تاکہ آپ کی عادتیں خصلتیں ان میں بھی منتقل ہوں اور عمر کے ساتھ ساتھ آگے جاکے آپ نے ان کو اس کے فوائد اہمیتیں اور اجاگر کرنا ہوں گی۔ اور ان کو ابتداء سے ہی خود یاد رکھیں ان میں بھی ڈالنا ہوگا۔ اللہ نے جیسے چاہا ہمیں اپنی پسند سے بنایا یہ اعزاز ہے ۔

4۔عقلی تربیت:

ان کی تعلیم کا خاص خیال رکھنا۔ دوران حمل سے انتہائے عمر تک انہیں جنت و جہنم کی آگاہی دینا جس کے لیے آپ نے دوران حمل خود بھی وہ کام اپنانے ہیں جو جنت کے مستحق بنائیں اور جہنمیوں والے کاموں سے خود بھی بچنا ہوگا۔ ایسا ہر گز نہ کریں کہ آپ خود 9th Month Duration  ٹی وی، فضول لٹریچر زنماز سے بے رغبتی جیسے فضولیات میں اپناوقت بربادکریں ،یاد رکھیں اس کے گہرے اثرات آپ کے بچوں پر آئیں گے۔

5۔نفسانی تربیت:

اگر والدین خود دین کی راہ نمائی پر چلنے والے ہوں تو بچیوں میں ہر گز EQ develop نہیں ہوگا۔ دین پر عمل کرنے میں جب ابتداء سے آپ نہ خود شرمندہ ہونے والے ہوں تو وہ بھی نہ ہوں گے اور خود کو بہت معزز سمجھیں گے۔

6۔معاشرتی و جنسی تربیت:

 آپ خود اس مرحلے میں ذمہ دار ہوں گے یہ سب ان میں بھی منتقل ہوگا۔ احساس کمتری کا آپ شکار نہ ہوں گے ان میں بھی یہ کمیاں نہیں آئیں گی۔ اور وقت آنے پر ان کی بھی جسمانی تربیت کی جائے انہیں ان میں آنے والی تبدیلیوں کو وقت پر بتایا جائے اور دوران حمل اپنے جنسی جذبات پر خصوصی ضبط کر کے جائز حلال طریقے سے ہی پورا کیا جائے۔

 

دوسرا مرحلہ

ولادت سےتین سال کی عمر تک

بچے کو شیطان سے محفوظ رکھنے کے لیے اللہ کی پناہ میں دیا جائے:

سیدناابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’ کوئی بچہ ایسا نہیں جس کی پیدائش پرشیطان اس کو کونچانہ مارے، کہ وہ اس کے کونچا مارنے سے روتا ہے۔ مگر مریم علیہاالسلام اور ان کے بچے کو شیطان کو نچا نہ دے سکا‘‘۔[6]

 سیدہ مریم علیہا السلام کی والدہ نے انہیں اور ان کی نسل کو شیطان سے بچانے کے لیے اللہ کی حفاظت میں دے دیا تھا انہوں نے دعا کی۔

               [ وَاِنِّىْٓ اُعِيْذُھَابِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ  36؀][اٰل عمران:36]

 ترجمہ: ’’بےشک میں اس بچے کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں‘‘۔

نومولود کے کان میں اذان و اقامت:

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :’’جس کے ہاں بچہ ہو وہ اس کے دائیں کان میں اذان دے اور بائیں میں اقامت۔[7]

امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

اذان اور تکبیر کہنے کا راز یہ ہے کہ انسان کے کان میں سب سے پہلے اس عظیم اعلان کے الفاظ پڑیں جو باری تعالیٰ کی عظمت و کبریائی پر مشتمل ہوں۔ اسے وہ حکم شہادت سنائی دے جو اسلام میں داخل ہونے کی اولین شرط ہے۔ بچے کے سامنے ان الفاظ کی ادائیگی دنیا میں اس کی آمد کا اسلامی شعار ہے جیسا کہ دنیا سے جاتے ہوئے اس کے سامنے کلمہ توحید پڑھا جاتا ہے۔ اس چیز کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بچے نے اگر اسے نہ سمجھا ہو پھر بھی اس کے دل میں اس کا اثر سرایت کرجاتاہے اور وہ اس سے متاثر ہوجاتاہے۔[8]

 

سنت نبوی   صلی اللہ علیہ وسلم  ’’ تحنیک‘‘

تحنیک رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے۔ جو وہ ہر نومولود بچے کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ کھجور چباکر بچے کے تالو پر ملنا اور تھوڑا سامنہ میں ڈالنا۔

سیدناابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا تو میں اسے لے کر نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور کھجور کو منہ مبارک میں نرم کر کے اسے چٹایا اور اس کے لیے برکت کی دعا کی‘‘[9]۔

شکر کثیر:

 ارشاد ربانی ہے:[وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ    Ċ۝]

ترجمہ: اگر تم شکر ادا کروگے تو اور زیادہ عطا کروں گا اور لیکن اگر نا شکری کرو گے (اسے ضائع کروگے) تو بےشک میرا عذاب بہت سخت ہے۔ [ابراھیم:7]

اچھا نام رکھنا:

سیدناابو وہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ تم پیغمبروںکے نام پر نام رکھا کرو اللہ کے نزدیک زیادہ پیارا نام عبد اللہ اور عبد الرحمن ہے‘‘۔[10]

عقیقہ کرنا بال منڈھوانا:

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ تم میں سے اگر کوئی اپنے بچے کی طرف سے عقیقہ کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ لڑکے کی طرف سے دوبکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری دے‘‘[11]

سیدناحسن رضی اللہ عنہ کے پیدا ہونے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’اے فاطمہ رضی اللہ عنہا اس کا سر منڈھواؤ اور بالوں کے ہم وزن چاندی صدقہ کرو‘‘[12]۔

مدت رضاعت:

ارشاد باری تعالیٰ ہے:[وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ   ۭ]

 ترجمہ: ’’جو باپ چاہتے ہوں کہ ان کی اولاد پوری مدت رضاعت تک دودھ پیے تو مائیں اپنے بچوں کو مکمل دوسال تک دودھ پلائیں‘‘۔[البقرہ:233]

ختنہ کرانا:

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’پانچ کام اعمال فطرت میں سے ہیں: ختنہ، زیر ناف بال صاف کرنا، مونچھیں کاٹنا، ناخن اتارنا اور بغلوں کے بال نوچنا‘‘[13]۔ 

تعلیم وتربیت:

دین عقیدہ توحید کی معرفت کروانا: رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:’’ جب تمہاری اولاد بولنے لگے تو اسے  لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہسکھاؤ‘‘ [14]

محبت و شفقت کا برتاؤ:

سیدنااسامہ بن زیدرضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:’’ اللہ کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  مجھے ایک ران پر بٹھالیتے اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو دوسری ران پر پھر ہم دونوں کو گلے لگالیتے اور کہتے اے اللہ میں ان پر شفقت کرتا ہوں تو بھی ان پر مہربانی فرما‘‘۔[15]

آداب لبا س سکھانا:

 سیدناعبد اللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ نے فرمایا: ’’نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  نے مجھے زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا: تمہاری ماں نے تمہیں یہ پہننے کو کہا تھا؟ میں نے عرض کیا میں انہیں دھو کر ( ان کا رنگ اتار) دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: بلکہ انہیں جلاد و‘‘[16]

 دوسری روایت میں فرمایا:’’ یہ کافروں کا لباس ہےاسے نہ پہنا کرو‘‘[17]

تحفے دینا:

سیدناسائب بن یزیدرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:’’ ایک دفعہ میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو دیکھا میرے ساتھ کچھ اور لڑکے بھی تھے ہم آپ کے پاس گئے تو آپ کھجوریں کھارہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان میں سے ایک ایک مٹھی ہمیں بھی عطا فرمائی اور ہمارے سر پر ہاتھ پھیرا‘‘،[18]

سچ بولنے کی تاکید کرنا:

سیدناعبد اللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے ایک دفعہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ہمارے گھر میں تھے کہ مجھے میری والدہ نے بلاتے ہوئے کہا آؤ میں تمہیں کچھ دیتی ہوں یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا تم اسے کیا دینا چاہتی ہو؟ اس نے عرض کیا: کھجور، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’ اگر اسے کچھ نہ دیتی تو تمہارے نامہ اعمال میں ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا‘‘[19]

تیسرا مرحلہ

چارسے دس سال کی عمر تک

 حسن آداب و اچھی سیرت دینا:

سیدناسعد بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دیتا ہے اس میں سب سے بہتر عطیہ تحفہ حسن ادب اور اچھی سیرت سے بہتر کوئی چیزنہیں‘‘۔[20]

فرائض کی تاکید:

سیدناعبد اللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ عنھماسے روایت ہے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’تمہارے بچے جب سات سال کے ہوجائیں تو ان کو نماز کی تاکید کرو‘‘[21]

حیا کی آبیاری:

سیدناعبد اللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے بچے جب دس سال کے ہوجائیں تو ان کے بستر بھی الگ الگ کر دو‘‘[22]

اچھی تربیت:

اولاد کے لیے والدین خصوصا ماں کی گود پہلی در س گاہ ہوتی ہے لہذا ان پر تربیت کی بھاری ذمہ داری آتی ہے۔ کسی بھی عمارت کی بنیاد میں اگر پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی لگ جائے تو پوری دیوار ٹیڑھی ہوجاتی ہے۔ آج کے والدین اولاد کے اعلیٰ مہنگے تعلیمی اداروں میں داخلوں پر تو توجہ دیتے ہیں لیکن اچھے با کردار انسان بنانے کی فکر نہیں کرتے۔

سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہےرسول اللہ نے فرمایا:’’ ہر ایک بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مشرک بناتے ہیں اس لیے اپنے بچوں کو ادب سکھاؤ اور ان کی اچھی تربیت کرو‘‘[23]۔

دنیا پر آخرت کو ترجیح دیں:

والدین غیر شعوری طور پر اللہ کے مقرر کردہ فرائض مؤخر کر کے بچے کے سامنے دنیاوی کاموں کو اہمیت دیتے ہیں مثلاًاکثر والدین بچوں کو فجر کے لیے نہیں اٹھاتے کہ وہ تھکے ہوئے ہیں روزے نہ رکھنے کا کہتے ہیں کہ پڑ ھ پڑھ کر کمزور ہوجائیںگے امتحانات کے ابتداء میں قرآن پڑھانے والوں کی چھٹی کردیتےہیں، وقت نہیں ہے۔ یہ ساری فکر کا محور یہ ہوتا ہے یہ اولاد پڑھ لکھ کر ایک کامیاب انسان بن جائے جس کا معاشرے میں Statusہو۔ گھر ، گاڑی، بنگلہ۔

لیول:

کیا دوران تربیت یہ Level یاد آتا ہے کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’جنت کےسو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیا ن سوسال کی مسافت کا فرق ہے‘‘[24]۔

کیایہ فکر ہوئی کہ میری اولاد کا Level  کیا ہوگا کہاں گھر ملے گا جنت میں ملے گا بھی یا نہیں؟ پڑھائی پر Compromiseنہیں کیا والدین نے بچوں کو جنت الفردوس کی طرف دوڑنے والوں کی صف میں دوڑایا؟ اس کےلیےمحنت کا کہا؟ان کو مقصد حیات بتایا؟

بچے کو خوبصورت نصیحت:

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نےسیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے فرمایا:’’ اے بیٹا! میں کچھ باتیں سکھا تاہوں۔ تم اللہ کی شریعت کی پابندی کروگے وہ تمہاری حفاظت کرے گا۔ تم اس کی شریعت کی پابندی کرو گے تم اسے اپنی مدد کے لیے تیار پاؤ گے تم جب بھی مانگو اللہ سے مانگو اور جب مدد چاہو تو اللہ سے چاہو اور یہ بات ذہن میں رکھو اگر سارے لوگ اکٹھے ہو کر تمہیں کچھ فائدہ پہنچانا چاہیں تو تمہیں اس کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تمہارے لیے لکھا ہے اور اگر پوری دنیا تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچانے کے لیےاکٹھی ہوجائے تو وہ تمہیں اس کے علاوہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھ رکھا ہے‘‘[25]

بچوں کے کھلونوں کی قدر:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا شادی کے وقت نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے گھر اپنے کچھ کھلونے لے کر گئیں تھیں جس سے کھیلا کرتی تھیں اور آپ ان کو سہیلیوں کے ساتھ کھیلنے کی ترغیب بھی دلاتے تھے۔

امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بچے کو کھیل سے روکنا اور اسے ہر وقت پڑھتے رہنے کو کہنا اس کے ضمیر کو مردہ کر دیتا ہے ۔ بچے کو دن کے کسی حصے میں سیر اور ورزش کا عادی بنایا جائے تاکہ اس پر سستی غالب نہ آئے[26]۔

ملامت نہ کرنا:

زیادہ ڈانٹ سننا آدمی کے اپنے لیے باعث ندامت ثابت ہوتا ہے اس سے بچہ ضد کرنے لگتا ہے یہی وجہ ہے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  اس سے بہت گریز کرتے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے تربیت یافتہ صحابی سیدنا انس فرماتے ہیں مجھے دس سال تک نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت کا شرف حاصل ہوا اللہ کی قسم نہ تو کبھی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مجھے اف کہا اور نہ یہ کہا کہ تم نے ایسے کیوں کیا یا ایسے کیوں نہیں کیا۔[27]

راز چھپانے کی تلقین:

سیدناعبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے ایک دن رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مجھے اپنے پیچھے سواری پر بٹھالیا اس کے بعد مجھے ایک راز کی بات بتائی جسے میں لوگوں میں سے کسی کو نہ بتاؤ ں گا[28]۔

بچوں کے ساتھ کھانا کھانا:

سیدناعمر وبن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںایک دفعہ کھانے کے دوران میں اپنے ہاتھ کو برتن میں جا بجا گھما رہا تھا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے لڑکے ! بسم اللہ پڑھ لیا کرو۔ اپنے دائیں ہاتھ سے اور اپنے قریب سے کھایا کرو۔

بچوں کے لیے نظر بد کا دم:

سیدناابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے نواسوں حسن اور حسین رضی اللہ عنھماکو نظر بد اور تکلیف سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ دعاپڑھ کر دم کرتے تھے۔

’’ اُعِیْذُ کُمَا بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَّھَامَّۃٍ وَّمِنْ کُلِّ عَیْنٍ  لَّامَّۃٍ ‘‘  [29]

ترجمہ:  میں تم دونوں کو اللہ کے مکمل کلمات کی پناہ دیتا ہوں ہر شیطان اور زہریلے جانور اور ہر نظر لگانے والی آنکھ سے۔ اس کے علاوہ معوذتین اور آیۃ الکرسی بھی پڑھنا اس کا علاج بتایا۔


 

 

چوتھا اور پانچواں مرحلہ

عشاء کے بعد سونے کی تربیت:

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے[30]۔

کام کرنے کا ڈھنگ سکھانا:

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ایک لڑکے کے پاس سے گزرے وہ بکری کی کھال اتار رہا تھا اسے دیکھ کر فرمایا: ’’ایک طرف ہوجاؤ میں تمہیں کھال اتار کر دکھاتا ہوں‘‘[31]۔

گھر میں داخلے کے آداب سکھانا:

سیدناانس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا! اے میرے پیارے بیٹے ! جب تم اپنے گھر میں جاؤ تو السلام علیکم کہا کرو یہ چیز تمہارے اپنے لیے اور تمہارے گھر والوں کے لیے باعث برکت ہوگی۔[32]

علماء کی ہم نشینی و احترام:

 سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ :’’ نیک اور متقی لوگ ہمارے سردار ہیں اور فقہا ہمارے پیش رو، ان کے ساتھ بیٹھنا علم میں اضافے کا باعث ہے‘‘[33]۔

بڑوں کا ادب سکھانا:

ایک دفعہ عبد الرحمن بن سہل اور حویصہ بن مسعود رضی اللہ عنہما، نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئے عبد الرحمن نے بات شروع کر دی تو فرمایا:’’ بڑے کو بات کرنے دو بڑے کو بات کرنے دو‘‘[34]۔

قرآن و حدیث کو اہم رکھنا اس کی محبت دل میں بٹھانا:

سیدناعبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنھماکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اے اللہ اسے دین کی فہم و فراست عطا فرما اور اسے قرآن کی تفسیر سکھا دے‘‘[35]۔

علم کی پیاس پیدا کرنا:

لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو یہ وصیت کی تم نہ علم کو مقابلے کے لیے سیکھو اور نہ جہلاء سے جھگڑنے کے لیےاور نہ ہی محفلوں میں ریاء و غرور کے لیے جب تم کچھ لوگوں کو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے دیکھو تو ان کے پاس بیٹھ جاؤ اگر تم صاحب علم ہوئے تو تمہارا علم مفید ہوگا اور اگر تم جاہل ہوگے تو وہ تمہیں اپنے علم سے مستفید کریں گے۔

بچوں کو کتابت سکھانا:

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

 [نۗ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ ][القلم 1،2]۔ن ،قلم کی قسم ہے، اور ان کی تحریر کی قسم ہے۔

اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ کے نزدیک یہ ایک قابل محترم چیزہے اور اس سے لکھنے والے بھی اسی طرح محترم ہیں۔

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ترغیب:

[كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ۭ وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ ۭمِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَ     ١١٠؁]  [اٰل عمران:110]

ترجمہ: (مومنو!) جتنی امتیں ( یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ عزوجل پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا ۔ ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں ( لیکن تھوڑے) اور اکثر نافرمان ہیں۔

 

صبر:

[يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلٰي مَآ اَصَابَكَ ۭ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ 17۝ۚ][لقمان:17]

ترجمہ: ’’ بیٹا نماز کی پابندی رکھنا اور (لوگوں کو) اچھے کاموں کے کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تجھ پر واقع ہو اس پر صبر کرنا، بےشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں‘‘۔ 

غرور تکبر سے بچانا:

[وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا  ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ 18؀ۚ]

ترجمہ: ’’اور (از راہ غرور) لوگوں سے گال نہ پھلانا اور زمین میں اکڑ کر نہ چلناکہ اللہ تعالیٰ کسی اترانے والے خود پسند کو پسند نہیں کرتا‘‘۔[لقمان:18]

دھیمی آواز:

[وَاقْصِدْ فِيْ مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ ۭ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ  19؀ۧ][لقمان:19]

ترجمہـ:’’ اور اپنی چال میں اعتدال کیےرہنا اور (بولتے وقت) آواز نیچی رکھنا کیونکہ ( اونچی آواز گدھوں کی سی ہے اور کچھ شک نہیں کہ) سب سے بری آواز گدھوں کی ہے‘‘۔

خلاصہ کلام:

 رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان مبارک ہے۔ آدمی کے گنہگار ہونے کے لیےیہ بات ہی کافی ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو ضائع کردے[36]۔

جس طرح اولاد کے لیے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا متعدد بار حکم ہے اسی طرح والدین کے لیے بھی اولاد کی صحیح منہج پر تربیت کرنا لازم و ملزوم ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ شریعت کے مطابق اپنی اولاد کی تربیت کرتے ہوئے ایک اسلامی معاشرہ قائم کریں۔

 درود و سلام ہوںمحمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  پر جنہوں نے بحیثیت والد یہ کردار عملاً کرکے ہی نہیں دکھایا بلکہ بحیثیت نبی امت کے والد بن کر بھی عملاً تربیت کر کے دکھائی اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے جو تمام جہانوں کا مالک ہے عزت و ذلت کے تمام اختیار اس کے ہاتھ میں ہیں۔

سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم

 

 

 

 

 

 

 



[1] انچارج ’’علم النافع سینٹر‘‘مرکزالفرقان،کراچی

[2] مسند احمد:4495

[3] بخاری و مسلم

[4] التربیۃ الاسلامیۃ اصولھا وتطور ھا فی البلادالعربیۃ199:

[5] صحیح مسلم

[6] صحیح مسلم

[7]  ابن سنی

[8] التربیۃ الإسلامیۃ

[9] بخاری

[10]ابو داؤد نسائی

[11]ابو داؤد

[12]مشکوٰۃ

[13] بخاری

[14] سنن ترمذی

[15] بخاری

[16] مسلم

[17] مسلم

[18] معجم اوسط طبرانی

[19] ابی داؤد

[20] ترمذی

[21] ابو داؤد

[22] ابو داؤد

[23] بخاری

[24] ترمذی

[25] جامع ترمذی و مسند احمد

[26]  احیاء علوم الدین

[27] بخاری

[28] صحیح مسلم

[29] بخاری

[30] صحیح بخاری

[31] سنن ابی داؤد: کتاب الطہارۃ، باب الوضوء من اللحم

[32] سنن ترمذی

[33]  مجمع الزوائد

[34] صحیح بخاری

[35] صحیح بخاری

[36] ابو داؤد