بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

جمعہ, 02 نومبر 2012 17:16

شہیدِ اسلام خلیفہ ثالث سیدناعثمان رضی اللہ عنہ

Written by  مراجعہ: حافظ حماد چاؤلہ

 

خلیفہ ثالث

 

سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ

 

مکمل نام

عثمان بن عفان

والدکا نام

عفان

لقب

غنی ،ذوالنورین

تاریخ ِولادت

17 جولائی، 579ء

جائے ولادت

مکہ مکرمہ

   

تاریخ وفات

656ء

جائے وفات

مدینہ منوّرہ

وجۂ وفات

شہادت

 

 

 

 

 

 

 

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ راشد تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے 644ء سے 656ء تک خلافت کی ذمہ داریاں سر انجام دیں۔

 

ابتدائی زندگی !

آپ قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنو امیہ میں پیدا ہوئے۔ آپ پہلے اسلام قبول کرنے والےابتدائی  لوگوں میں شامل ہیں۔ آپ ایک  انتہائی نیک، رحم دل اور سخی و غنی انسان تھے۔ آپ فیاض دلی سے دولت اللہ کی راہ میں خرچ کرتے۔ اسی بنا پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو غنی کا خطاب دیا۔

 

ذوالنورين!

ذوالنورين کا مطلب ہے ’’دو نور والا ‘‘۔  آپ کو اس لئے ذوالنورين  ’’دونور والا ‘‘  کہاجاتاہے کیونکہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کي دو صاحبزادیاں یکےبعددیگرے آپ کے نکاح میں آئیں یہ وہ واحد اعزاز ہے جوصرف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حق میں آیا،اُنکے علاوہ  اور کسی کوحاصل نہ ہو سکا.آپ کا شمار عشرہ مبشرہ میں کیاجاتا ہے یعنی وہ دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جن کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی حیات ِمبارکہ ہی جنت کی بشارت دی تھی.

 

ہجرت!

آپ نے اسلام کی راہ میں دو ہجرتیں کیں، ایک حبشہ کی طرف اور دوسری مدینہ منورہ کی طرف۔

 

خلافتِ راشدہ !

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے پہلے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں چھ صحابی شامل تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ، سیدنا علی ، سیدنا طلحہ ،سیدنا زبیر ، سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کمیٹی میں شامل تھے۔ اس کمیٹی نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کیا۔ آپ نے بارہ سال خلافت کی زمہ داریاں سرانجام دیں۔ آپ کے دورِ خلافت میں ایران اور شمالی افریقہ کا کافی علاقہ اسلامی سلطنت میں شامل ہوا۔

 

جامع قرآن !

سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو جامع القرآن  یعنی ’’ قرآن کریم کو ایک قراءت پر جمع کرنے والے‘‘ کہا جاتا ہے۔ سانچہ:قرآن کیسے جمع ہوا ازمحمد احمد اعظمی مصباحی ابن ابی داود نے بسند صحیح سیدنا سوید بن غفلہ سے روائت کی انہوں نے فرمایا:سیدنا علی کا فرمان ہے کہ: سیدنا عثمان کے بارے میں خیر ہی کہو ،کیونکہ انہوں نے مصاحف کے بارے میں جو کچھ بھی کیا صرف اپنی رائے سے نہیں بلکہ ہماری جماعت کے مشورہ سے کیا ۔سانچہ:الاتقان ص 61 سیدنا علی رضی اللہ عنہ  ہی سے روایت ہےکہ:میں خلیفہ ہوتا تو مصحف کے بارے میں وہی کرتا جو سیدنا عثمان نے کیا۔

{{ ===اختلاف لغات===}}

قبائل عرب میں عربی زبان میں کافی اختلافات تھے مثلا جس کلمہ مضارع کا عین ماضی مکسور ہو اس کی علامات ۔مضارع: ا ۔ ت ۔ن کو غیر اہلِ حجاز کسرہ دیتے تھے۔ اسی طرح علاماتِ مضارع’’ ی‘‘  کو جب کہ اس کے بعد کوئی دوسری ’’یا ‘‘  ہو اس لئے وہ تعلم م پیش کے ساتھ کو تعلم ت زیر اور م زبر کے ساتھ بولتے سانچہ:شرح کافیہ للرضی ص 187 ج ۲ مطبوعہ نولکشور لکھنو۱۲۷۹ ھ اسی طرح نبی ھذیل حتی کو عتی اھل مدینہ کے یہاں’’ تابوت‘‘  کا تلفظ ’[تابوہ‘‘  تھا بنی قیس ’’ کاف تانیث‘‘ کے بعد’’  ش ‘‘ بولتے ضربک کی بجاءے ضربکش کہتے اس طریقہ تلفظ کو کشکشہ قیس سے تعبیر کیا جاتا، بنی تمیم ان ناصبہ کو عن کہتے، اسی طرح ان کے نزدیک’’ لیس‘] کے مشابہ ماولا مطلقا وامل نہیں ، ماہذا بشرا ان کے لغت پر ماہذا بشر ہو گا اسی طرح کے اور بہت سے اختلاف تھے۔

 

شہادت!

اسلام کے دشمنوں خاص کر مسلمان نما منافقوں کو خلافتِ راشدہ اک نظر نہ بھاتی تھی. يہ منافق رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی دنیاوی بادشاہوں کی طرح یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ بھی اپنا کوئی ولی عہد مقرر کر یں گے. ان منافقوں کی ناپاک خواہش پر اس وقت کاری ضرب لگی جب امت نے خلیفہ اوّل سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اسلام و مسلمانوں کا پہلا ’’ متفقہ  خلیفہ ‘‘  بنا لیا. سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافتِ راشدہ کے بعد ان منافقوں کے سینے پر اس وقت سانپ لوٹ گیا جب امت نے کامل اتفاق سے خلیفہ ثانی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ  کو اسلام و مسلمانوں کا دوسرا خلیفہ  چُن لیا.سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعدآپ کا سریرآرائے خلافت ھونابھی ان مسلمان نمامنافقوں کےلیےصدمہ جانکناہ سے کم نہ تھا۔ انھوں نےآپ کی نرم دلی کا ناجائز فائدہ اٹھایا اورآپ کو شہیدکرنے کی ناپاک سازش کی اور ايسے وقت ميں کاشانہ خلافت کا محاصرہ کيا جب اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حج کے ليے مکہ گئے ہوئےتھے.آپ نے فقط اپنی جان کی خاطر کسی بھی مسلمان کومزاحمت کرنےکی اجازت نہ دی. سیدنا علی اس صورتحال سے سخت پریشان تھے انہوں نے اپنے دونوں صاحبزادوں سیدنا حسن اور سیدنا حسین  رضی اللہ عنہما کے ہمراہ کئی صحابہ زادوں جن میں سیدنا طلحہ کے صاحبزادوں سمیت سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے، ان سب کو کاشانہ خلافت کی حفاظت پر مامور کیا۔

 تاہم دامادِ رسول خلیفہ ثالث شہیدِ اسلام مظلوم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ چالیس روز تک محبوس رہے. چالیس روز بعد باغی آپ کے گھر میں داخل ہو گئے اورظالموں نے  آپ کو شھيد کرديا.اس دلخراش سانحہ ميں آپ کی زوجہ محترمہ سیدہ نائلہ رضی اللہ عنہا کی انگشت مبارک بھی شھيد ھو گئیں. آپ کی شہادت کے بعد سیدنا علی نے خلافتِ راشدہ کے چوتھے خلیفہ کی حییثیت سے خلافت کا مبارک منصب سنبھالا۔

مؤرّخ ابن عساکرسیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ : امام الانبیاءمحمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک دن عثمان میرے پاس سے گزرے اور اس وقت ایک فرشتہ میرے قریب تھا جس نے کہا یہ شخص  (عثمان) شہید ھو گا۔

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اگر صحابہ  کرام رضی اللہ عنہم کو باغیوں  کے فتنہ کی سرکوبی کی اجازت  دیدیتے  تو باغیوں  کووہ نصیحت حاصل ہوتی کہ  دوبارہ کبھی سر نہ اُٹھاتے ۔

پر رب تعالیٰ کی قضاء و قدر کےبعداس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی معصومانہ شہادت  رہتی دنیا  تک کے لیے یہ سبق  دے گئی کہ خلیفہ ثالث دامادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان قربان کردی ،لیکن اپنی ذات کے لیے زمین پر ایک بھی مسلمان کا خون  بہے ، یہ گوارہ نہیں کیا۔

 

رب تعالیٰ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی ذات پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے اور مسلمانوں کو اُن کی سیرت  و کرادار کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

 

 
Detect language » Hungarian
 
 
Detect language » Hungarian
 
Read 3754 times Last modified on پیر, 24 اکتوبر 2016 04:26