بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

جمعرات, 15 نومبر 2012 12:06

خلیفہ ثانی سُسرِ رسول سیدنا عمر الفاروق رضی اللہ عنہ

مقرر/مصنف  مراجعہ: حافظ حماد چاؤلہ

خلیفہ ثانی

 

سیدناعمر الفاروق رضی اللہ عنہ

 

مکمل نام

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ

والدکا نام

خطاب

کنیت

لقب

ابوحفص

الفاروق

تاریخ ِولادت

ہجرتِ نبوی سے ۴۰ سال پہلے

جائے ولادت

مکہ مکرمہ

   

تاریخ وفات

یکم محرم ۲۴ ہجری

جائے وفات

مدینہ منوّرہ

وجۂ وفات

بدبخت و ناپاک قاتل

شہادت

ابو لؤلؤ فیروز مجوسی

 

سلسلہ نسب:

عمر بن الخطاب بن نفیل بن عبدالعزیٰ بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوئی۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب آٹھویں پشت پر جاکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے۔

تمام اہل السنۃ و الجماعۃ اس بات پر متفق ہیں کہ رسولوں اور انبیاء علیہم السلام کے بعد اس روئے زمین پر سب سے افضل سیدنا ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) ہیں پھر اُنکے بعد سیدنا عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) سب سے افضل صحابی ہیں اور وہی ان کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ تھے۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، ہجرتِ نبوی سے 40 برس پہلے پیدا ہوئے۔ زمانۂ جاہلیت میں جو لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے ، ان میں سے ایک سیدنا عمر (رضی اللہ عنہ) بھی تھے۔

بحوالہ : الاستيعاب في معرفۃ الأصحاب ، تذکرہ عمر رضی اللہ عنہ.

قبولِ اسلام!

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مسجدِ حرام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے دوران سورۃ الحاقہ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اور وہ قرآن کریم کے نظم و اسلوب سے حیرت زدہ ہو گئے۔ مکمل سورت کی تلاوت سن کر بالآخر انہیں محسوس ہوا کہ اسلام ان کے دل میں پوری طرح گھر کر گیا ہے۔ (بحوالہ : الوسيط في تفسير القرآن المجيد ، سُورَةِ الْفَاتِحَۃ )

مؤرخینِ اسلام کی رائے کے مطابق سیدنا عمر رضي اللہ عنہ نبوت کے ساتویں سال میں ایمان لے آئے۔

فضائل و مناقبِ عمر الفاروق رضی اللہ عنہ !

*  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تھی کہ :

اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ : بِأَبِي جَهْلٍ , أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ

اے اللہ ! ابوجہل اور عمر بن خطاب میں سے جو آپ کو زیادہ محبوب ہو اس کے ذریعے اسلام کو عزّت و غلبہ عطا فرما۔

*  سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ یہ روایت بیان کر کے آگے کہتے ہیں کہ :  وَكَانَ أَحَبَّهُمَا إِلَيْهِ عُمَرُ .

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں میں سے عمر (رضی اللہ عنہ) زیادہ محبوب تھے۔ (سنن ترمذی ، کتاب الدعوات ، باب المناقب )

*  سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:  مَا زِلْنَا أَعِزَّةً مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ

کہ : سیدنا عمر (رضی اللہ عنہ) نے جب سے اسلام قبول کیا تب سے ہماری عزت و طاقت و قوت میں اضافہ ہوتا گیا۔ (صحیح بخاری ، کتاب المناقب )
*  سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دین میں اس قدر پختہ تھے کہ انسان کا سب سے بڑا دشمن شیطان بھی ان کے مقابلے میں آنے سے کتراتا تھا۔
اسی حقیقت کے متعلق نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی ہے کہ :

إِيهًا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجًّا قَطُّ إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ   (صحیح بخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی)

اے ابن خطاب ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جب کبھی شیطان کا سرِ راہ تم سے سامنا ہوتا ہے تو وہ تمہارا راستہ چھوڑ کر دوسرے راستے پر چل دیتا ہے۔

*  سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں یہ بات بھی انتہائی قابلِ توجہ و فہم ہے کہ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جو موقف اختیار کرتے اس کی تائید میں قرآن مجید نازل ہو جاتا تھا۔

جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ:

مقام ابراہیم کو مستقل جائے نماز بنانے کی رائے  ،    امہات المومنین کو حجاب کا حکم دینے کی رائے  ،   بدر کے قیدیوں سے متعلق رائے  ،  کے ذریعے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے رب سے موافقت کی تھی۔  (صحيح مسلم ، كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَۃ)  :

*  یہی بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انداز سے بیان فرمائی :  إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ

بےشک اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور ان کے دل پر حق رکھ دیا ہے۔  (جامع الترمذي ، كِتَاب الدَّعَوَاتِ ، أبوابُ الْمَنَاقِبِ)  : 

*  اورفرمایا:  لَقَدْ كَانَ فِيمَا قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ فَإِنْ يَكُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَإِنَّهُ عُمَرُ۔

تم لوگوں سے پہلی امتوں میں محدثون (الہامی) لوگ ہوا کرتے تھے۔ اگر میری امت میں کوئی ایسا ہے تو وہ عمر ہے۔ (صحيح البخاري ، كِتَاب الْمَنَاقِبِ)  :

*  اسی طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فرزند ارجمند صحابی جلیل سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی کچھ ایسی ہی گواہی دیتے ہوئے کہتے ہیں:

جب بھی لوگوں کو کوئی مسئلہ پیش آتا جس میں آراء مختلف ہوتیں اور عمر (رضی اللہ عنہ) کوئی اور رائے پیش کرتے تو قرآن کریم انہی کی رائے کی تائید میں نازل ہو جاتا۔ (مسند احمد)  :

خلافتِ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ !

* سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاف اشارہ ایک حدیث سے یوں ملتا ہے :

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ایک مرتبہ دورانِ خواب میں نے اپنے آپ کو ایسے کنویں پر پایا جس کی منڈیر نہیں تھی ، اس میں ایک ڈول تھا۔ میں نے اس کنویں سے جتنے اللہ تعالیٰ نے چاہے ڈول کھینچے پھر اس ڈول کو ابن ابی قحافہ (سیدنا ابوبکر) نے تھام لیا۔ انہوں نے اس کنویں سے ایک یا دو ڈول کھینچے ، ان کے کھینچنے کی کمزوری کو اللہ معاف فرمائے ، اس کے بعد ڈول بڑے ڈول میں تبدیل ہو گیا اور اس کو ابن الخطاب نے پکڑ لیا۔ میں نے انسانوں میں کوئی ایسا مضبوط و طاقتور شخص نہیں دیکھا جو عمر کی طرح ڈول کھینچتا ہو۔ اس نے اتنے ڈول کھینچے کہ سب کے سب لوگ ، جانوروں اور زمین سمیت سیراب ہو گئے۔ (صحيح البخاري ، كِتَاب الْمَنَاقِبِ) 

یہ حدیث سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کی واضح دلیل ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد سیدنا ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) کا ذکر فرمایا پھر اُن کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا کہ پہلے ابو بکر پھر عمر ہی خلیفہ راشد قرار پائیں گے۔

اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بذاتِ خود بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب کو جاننے والے اور مدّاح تھے ، اور اُنکا انتہائی عزت و احترام کیا کرتے تھے ۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں کھڑا تھا جو سیدنا عمر (رضی اللہ عنہ) کیلئے اُس وقت دعا کر رہے تھے جب آپ کو زخمی حالت میں چارپائی پر لٹایا گیا تھا۔ اچانک میرے پیچھے سے ایک شخص نے اپنی کہنی میرے کندھوں پر رکھی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو مخاطب فرماتے ہوئے یوں دعا کی :

{اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ، مجھے اللہ تعالیٰ سے امید تھی کہ وہ آپ (سیدنا عمر) کو آپ کے دونوں ساتھیوں (رسول اللہ اور سیدنا ابو بکر ) کے ساتھ ہی جمع فرمادے گا، کیونکہ میں اکثر و بیشتر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ الفاظ سنا کرتا تھا ا ٓپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرماتے رہتے تھے کہ : " میں تھا ، ابوبکر اور عمر تھے، میں نے ، ابوبکر اور عمر نے یوں کیا ، میں ، ابوبکر اور عمر گئے" (یعنی ہر وقت اپنے ساتھ سیدنا ابو بکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا تذکرہ فرماتے)  تو اسی لیے مجھے (پہلے سے) امید تھی کہ آپ (سیدنا عمر) کو اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھیوں (رسول اللہ و سیدنا ابو بکر) کے ساتھ ہی اکٹھا کر دے گا (یعنی جس طرح دنیامیں اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابو بکر ع سیدنا عمر کو رسول اللہ کے ساتھ رکھا ، وفات کے بعد بھی اُنہیں ساتھ ہی رکھے گا) ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا (کہ یہ سب باتیں کرنے والے کون ہیں ) تو وہ سیدنا علی (رضی اللہ عنہ) تھے جو یہ دعا کر رہے تھے۔  (صحيح البخاري ، كِتَاب الْمَنَاقِبِ) 

شہادت !

دس سالہ کامیاب ، عدل و انصاف پر مشتمل خلافت کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دورانِ نماز ایک بدبخت و ناپاک مجوسی فیروز ابولولو کے قاتلانہ حملہ کے باعث  ہوئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون 

اور یکم محرم سن 24ھ کو جنت کی طرف اپنا رختِ سفر باندھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں مدفون ہوئے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا ہی میں سیدنا عمر کو جنت کی بشارت دی رضی اللہ عنہ وارضاہ۔

رب تعالی ٰ سیدنا عمر پر لا تعداد و بے شمار رحمتیں نازل فرمائے اور اُنکی اسلام و مسلمانوں کی بے مثال و عظیم خدمات پر اجرِ کریم عطاء فرمائے اور اُمتِ مسلمہ کو اُنکی سیرت کو پڑھنے ، سمجھنے اور اُس پر عمل کرکے اُسے قولاً و عملاً پھیلانے اور نافذ کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

اگر دنیا میں ایک عمر اور پیدا ہوجاتے تو دنیا میں کوئی علاقہ ایسا نہ باقی رہتا جہاں اسلام کا جھنڈا نہ لہرہا ہوتا۔

وآخرُ دعوانا ان الحمدُ للہ ربّ العالمین

***

Read 3727 times Last modified on اتوار, 24 نومبر 2013 21:10