بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
اتوار, 25 نومبر 2012 11:45

کیا محرم سوگ کا مہینہ ہے ؟ Featured

مقرر/مصنف  قاری لیاقت علی باجوہ فیروز پوری حفظہ اللہ

محرم عظیم الشان اور مبارک مہینہ ہے ۔ یہ ہجری سال کا پہلا مہینہ اور حرمت والے چار مہینوں میں سے ایک ہے مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ مہینہ خصوصاً پاکستان کی تاریخ میں فتنہ وفساد اور روسوم وبدعات کا پلندہ بن کر رہ گیاہے اگر ایک طرف دہشت گردی کی سنگین وارداتیں اس مہینہ میں رونما ہوتی ہیں تو دوسری جانب بے تحاشا رسوم وبدعات کو اسی مہینہ میں دہرایا جاتاہے اور یوں نئے سال کی ابتداء دہشت گردی اور بدعات سے ہوتی ہے اکثر لوگوں کا عقیدہ بن چکا ہے کہ محرم میں سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت ہوئی لہٰذا یہ سوگ کا مہینہ ہے اس میں شادی نہ کرنا،خوشی کی حالت نہ اپنانا اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس مہینہ کو بڑا محترم ٹھہرایا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے نہ اسے سوگ کے لیے مقرر فرمایا اور نہ ہی توہمانہ خیالات کے لیے۔

سوگ کی مدت :

سیدہ زینت رضی اللہ عنہا کا بھائی فوت ہوگیا تو انہوں نے تین دن کے بعد خوشبوا وغیرہ منگوا کر لگائی اور فرمایا اللہ کی قسم! مجھے خوشبو وغیرہ کی ضرورت یا شوق نہ تھا میں نے تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت گزاری کے لیے لگائی کیونکہ آپ  صلی اللہ علیہ و سلم  نے منبر فرمایا :

لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

کسی مومنہ عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ تین راتوں سے زیادہ کسی میت پر سوگ منائے ، ہاں البتہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے اسے چاہیے کہ وہ چار ماہ دس دن تک سوگ منائے۔‘‘ (بخاری ، کتاب الطلاق ، باب تحد المتوفی عنہا زوجہا أربعۃ أشہر وعشر ، 5335)

ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی وفات ، ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا سوگ :

زینت بنت ابو سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے (تین دن کے بعد) خوشبو منگوائی جس میں خلوق خوشبو وغیرہ کی زردی تھی ، ایک لونڈی نے یہ خوشبوان کو لگائی اور رخساروں پر ام المؤمنین نے خو د لگائی پھر فرمایا کہ مجھے اس کا شوق نہ تھا ، میں نے صرف سوگ سے نکلنے کے لیے لگائی کیونکہ آپ  صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی مومنہ عورت کو خاوند کے علاوہ کسی فوتیدگی پر تین دن سے زیادہ سوگ منانے کی اجازت نہیں دی۔ ( بخاری ، کتاب الطلاق ، 5334)

اُم عطیہ رضی اللہ عنہا کا بیٹے کی وفات پر سوگ :

محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کا بیٹا فوت ہوا تو (فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ دَعَتْ بِصُفْرَةٍ فَتَمَسَّحَتْ بِهِ)تیسرے دن انہوں نے زرد خوشبو لگائی اور فرمایا کہ ہمیں خاوند کی وفات کے علاوہ کسی بھی فوتیدگی پر تین دن سے زیادہ سوگ کی اجازت نہیں دی گئی۔ ( بخاری ، کتاب الجنائز ، باب احداد المرأۃ علی غیر زوجہا ، حدیث : 1279)

سیدنا ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہمیں خاوند کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ سے منع کیاگیا (سوگ اس طرح ہے کہ) لاَ نَکتَحِلَ ہم سرمہ نہ لگائیں ، نہ خوشبو استعمال کریں اور نہ رنگین کپڑا پہنیں ، البتہ وہ کپڑا پہن لیں جس کا بننے سے پہلے دھاگہ رنگین ہو (شوخ رنگ نہ ہو) اور حیض کے بعد حیض کی جگہ پر مقام اظفار کا تھوڑا سا عود استعمال کرلیں اور جنازہ کے پیچھے چلنے سے بھی ہمیں منع فرمایا گیا۔ (بخاری ، کتاب الطلاق ، 5341)

ہر سال محرم کو بعض لوگوں نے سوگ کا مہینہ بنادیا ہے حالانکہ مرد کے لیے تو کسی دن کا بھی سوگ جائز نہیں اگر کوئی عورت بھی اس ماہ کا سوگ مناتی ہے تو تب بھی جائز نہیں کیونکہ خاوند کی وفات کے علاوہ کسی بھی وفات پر کسی مسلم عورت کو تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں۔ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو شہید ہوئے صدیاں بیت گئیں لہٰذا اب ان کا سوگ منانا کسی مومنہ عورت کے لیے قطعاً جائز نہیں۔

مردوں کے لیے تو کسی وقت بھی سوگ کی حالت بنانا جائز نہیں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر سبز یا سیاہ لباس پہننا، چارپائیاں الٹ دینا، ننگے پاؤں چلنا وغیرہ یہ سب خود ساختہ اعمال ہیں جن کی قدر اللہ کے نزدیک یہ ہے کہ ۔

عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ تَصْلَى نَارًا حَامِيَةً (الغاشیۃ 3۔4)

عمل کرکے تھک جانے والے جہنم میں جائیں گے۔

سیاہ لباس :

شیعہ مذہب کی صحاح اربعہ میں سے معروف اور معتبر کتاب ’’من لا یحضرہ الفقیہ ‘‘ میں ہے ۔

’’امام جعفر صادق سے سوال کیاگیا کہ سیاہ ٹوپی میں نماز پڑھنا کیسا ہے تو فرمایا : اس میں نماز نہ پڑھو کیونکہ یہ جہنمیوں کا لباس ہے۔ (من لا بحضرہ الفقیہ ج۱،ص ۱۶۲)

’’امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو تعلیم دیتے ہوئے فرمایا کہ سیاہ لباس نہ پہنو کیونکہ یہ فرعون کا لباس ہے۔ (من لا بحضرہ الفقیہ ج ۱،ص ۱۶۳)

محرم میں شادی :

محرم کو کیونکہ سوگ کا مہینہ قرار دیا جاتاہے اس لیے اس مہینہ میں شادی کرنا بھی ممنوع سمجھا گیا ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ سورۃ النور میں فرماتے ہیں :

وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَاۗىِٕكُمْ ۭ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاۗءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ ۭ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ

تم سے جو مرد عورت بےنکاح ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک بخت غلام لونڈیوں کا بھی اگر وہ مفلس بھی ہونگیں تو اللہ تعالٰی انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا اللہ تعالیٰ کشادگی والا علم والا ہے۔

محرم کے مہینے میں جاہل لوگ شادی کرنے کو منحوس خیال تصور کرتے ہیں اسی لیے محرم سے پہلے شادیوں کا تانتا بند جاتاہے۔ تقریباً ہر چوک اور گلی شادی کے لیے لگائے شامیانوں سے بلاک نظر آتی ہے جیسے ہی محرم کا مہینہ شروع ہوا سوگ کی مختلف صورتوں پر عمل شروع ہوگیا حتی کہ فلم انڈسٹری سے لے کر سیاست تک سب ہی اس سوگ میں مشغول ہوجاتے ہیں رمضان المبارک کے مہینے میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر گانے بھی چلتے ہیں حالانکہ اس وقت مسلمان روزے سے ہوتے ہیں اور گانا سننا روزے کی خرابی کا باعث بھی ہے لیکن رمضان المبارک میں گانے بند نہیں ہوتے اور محرم میں بند ہوجاتے ہیں۔

بعض کہتے ہیں کہ اس مہینہ میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اس لیے سوگ کا مہینہ ہے کتنے تعجب کی بات ہے کہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ کا واقعہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے پچاس سال بعد آیا اور دین تو رحمت کائنات کی زندگی میں ہی مکمل ہوگیا تھا خود رب کعبہ نے ان کی زندگی میں ارشاد فرمادیا۔

اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا

آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔(المائدۃ:۳)

آج کل لوگ بعض جاہل مولویوں کی باتیں مان کر محرم میں شادی کو منحوس خیال کرتے ہیں۔ عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس (مسلمان ہونے کے لیے) آیا تو میرے گلے میں چاندی کی صلیب تھی آپ نے فرمایا کہ اس بت کو اتارو۔ پھر آپ  صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ آیت پڑھی۔

اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ

ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے ۔(التوبۃ : ۳۱)

رب بنانے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ان کی عبادت کرتے تھے بلکہ ان کےعلم والے اور درویش جب کسی چیز کو حلال کہتے تو وہ حلال سمجھتے جب کسی چیز کو حرام کرتے تو وہ حرام سمجھتے۔ ( ترمذی ، کتاب التفسیر ، حدیث :۳۰۹۵ حسنہ الالبانی)

ثابت ہوا کہ جو اللہ کی حلال چیز کو کسی مولوی یا پیریا ملنگ کے کہنے پر حرام یا سوگ کے لیے بند کرے اس نے اس پیر،مولوی، ملنگ کو اللہ کے علاوہ رب بنایا۔ اس لیے لوگوں کے کہنے پر محرم میں شادیوں کو حرام یا مکروہ نہ سمجھو۔ بلکہ محرم میں قصداً شادیاں کرو تاکہ جہالت کا رد ہو۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا فقیر :

جس طرح محرم میں کئی کام شریعت سے ہٹ کر کیے جاتے ہیں ایک کام یہ بھی کیا جاتاہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا منگتا بناتےہیں۔ اپنے بچے کو سبز کپڑے پہنا کرکہا جاتاہے کہ اسے ہم نے امام حسین رضی اللہ عنہ کا منگتا بنا دیا ہےپھر گھر گھر لوگوں کا دروازہ کھٹکھٹا کے فقیروں کی طرح عورتیں اور جوان لڑکیاں مانگتی پھرتی ہیں کہ ہمارا بیٹا یا بھائی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا منگتا بن گیا ہے اس لیے کچھ دواگر پوچھا جائے کہ وہ کیوں منگتا بن گیا ہے ؟ اسے کیا ضرورت پیش آئی بھکاری بننے کی؟ جواب ملتا ہے کہ اللہ نے مدت کے بعد بچہ عطا کیا ہے اگر اسے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا منگتا بناکے ان کے نام پر کچھ مانگ کے کھلا دیا جائے تو اللہ بیماری سے محفوظ رکھتے ہیں۔ ایک دو نہیں تو ہم پرست لوگ اپنے بچوں کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا منگتا بنائے گھر گھر مانگ رہے ہیں اگر اس طرح منگتا بنانا جائز ہوتا تو کسے معلوم نہیں حسین کا نانا محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم سے زیادہ مرتبے والا انسان نہ تو آج تک پیدا ہوا اور نہ قیامت تک پیدا ہوگا پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے بچوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا منگتا بنالیتے ان کے نام کا مانگ کے بچوں کو کھلا دیتے کہ وہ بیماریوں سے محفوظ ہوجائیں اور کچھ نہیں تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ہی اپنے بچوں کو نانا کا منگتا بنا لیتے مگر ایسا کام نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا نہ ائمہ دین رحمہم اللہ نے ۔ پھر جس بچے کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا منگتا بناتے ہیں اس کے سر پر بالوں کی ایک لٹ سی رکھ دیتے ہیں اور اردگرد کے بال موندھ دیں گے درمیان میں بالوں کی لٹ کو اس لیے چھوڑا جاتا ہے کہ تاکہ پتہ چل سکے کہ یہ بچہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا منگتا ہے حالانکہ یہ کام صریحاً اسلام کے خلاف ہے۔ سر پر اس طرح سے کچھ بالوں کا چھوڑنا عربی میں قزع کہلاتاہے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے روکا ہے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔

أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ و سلم  نَهٰى عَنْ الْقَزَعِ

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قزع(کچھ بالوں کے مونڈھنے) سے منع فرمایا۔‘‘(بخاری ، کتاب اللباس 5921)

کیا آج اس طرح بالوں کی ایک لٹ چھوڑ کے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا منگتا بنانے والے فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو توہین نہیں کرتے اور پھر اللہ کا فقیر اور مانگت بننے کی بجائے بندے کا مانگت بننا پسند کرتے ہیں حالانکہ اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں دو ٹوک فرمادیا ہے۔

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ

اے لوگو! تم اللہ کے محتاج ہو اور اللہ بےنیاز اور خوبیوں والا ہے ۔(الفاطر : ۱۵)

کیا بندے کا فقیر بن کے مانگنا اور اسے بیماریاں دور کرنے والا نفع ونقصان کا مالک سمجھنا عقیدئہ توحید کے منافی نہیں اور کیا ایسا کرنے والوں کے پاس قرآن وحدیث سے کوئی دلیل ہے یا وہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے ایسا عمل ثابت کرسکتے ہیں؟

نوحہ سوگ کی شکل میں :

ماہ محرم میں کئی لوگ ماتمی لباس پہن کر نوحہ اور ماتم کرتے ہیں ، پیٹتے اور سینہ کوبی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم لوگ امام حسین کا سوگ مناتے ہیں حالانکہ یہ بھی ظلم کی ایک قسم ہے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے ’’جاہلیت کے کاموں سے چار کام میری امت میں سے ایسے ہوں گے جنہیں وہ چھوڑنے پر تیار نہیں ہوں گے حسب کی بنیاد پر فخر کرنا، کسی کے نسب میں طعنہ زنی کرنا، ستاروں کے ذریعے قسمت کے احوال معلوم کرنا اور نوحہ کرنا نیز آپ  صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : نوحہ کرنے والی عورت اگر موت سے پہلے توبہ نہیں کرتی تو قیامت کے روز اس حال میں اٹھائی جائے گی کہ اس پر تارکول کی ایک قمیص ہوگی اور بیماری کے ایک لباس نے اس کے جسم کو ڈھانپ رکھا ہوگا۔ ( مسلم ، کتاب الجنائز ، باب التشدید فی النیاحۃ ، 934)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نوحہ وغیرہ کرنا جاہلیت کے امور میں سے ہے اور اس کا اسلام سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نوحہ وغیرہ کرنے والے شخص سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:

لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ

’’جوشخص رخساروں پر طمانچے مارے،گریبانوں کو چاک کرکے جاہلیت کی پکار کے ساتھ پکارے ، واویلا کرے اور مصیبت کے وقت ہلاکت اور موت کو پکارے وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘ (بخاری ، کتاب الجنائز ، باب لیس منا من شق الجیوب 1294)

أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى قَالَ وَجِعَ أَبُو مُوسَى وَجَعًا فَغُشِيَ عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ فَصَاحَتْ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِهِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ أَنَا بَرِيءٌ مِمَّا بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِنْ الصَّالِقَةِ وَالْحَالِقَةِ وَالشَّاقَّةِ

ابوبردہ بن ابوموسی سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ سخت بیمار ہو گئے اتنے سخت بیمار کہ غشی طاری ہوگئی اور آپ کا سر آپ کی اہلیہ کی گود میں تھا اہلیہ یہ حالت دیکھ کر چلاّ پڑیں، حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت کچھ کہنے پر قادر نہ تھے پھر جب آپ کو اس سے افاقہ ہوا تو ان کو فرمایا کہ میں اس چیز سے بری ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برات فرمائی بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مصیبت کے وقت چلانے والی اور بال مونڈنے والی اور گربیان پھاڑنے والی عورتوں سے برات ظاہر فرمائی۔(بخاری ، کتاب الجنائز ، باب ینہی عن الحلق عند المصیبۃ : 1296، ومسلم ، کتاب الایمان ، باب تحریم ضرب الخدود وشق الجیوب : 167)

ان احادیث سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ماتم اور سینہ کوبی کرنا حرام ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان اعمال سے اور ان اعمال کے کرنے والوں سے براءت اور لا تعلقی کا اظہار فرمایا ہے لہذا تمام مسلمانوں کو اس سے باز آجانا چاہیے اور فوری طور پر ان سے سچی توبہ کرنی چاہیے۔

محرم میں نوحہ اور ماتم نواسۂ رسول سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے سوگ میں کیا جاتاہے۔ جس طرح ہر صدمہ میں صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے اسی طرح شہادت حسین پر بھی صبر وتحمل کا ہی مظاہرہ کرنا چاہیے نہ کہ نوحہ ماتم اور سینہ کوبی جیسے جاہلیت والے اعمال وافعال کا۔ شہادت رنج وغم کی چیز نہیں ہے بلکہ یہ تو وہ مقام بلند ہے جس کی آرزوسید الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم بھی کرتے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم کافرمان ہے’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میرادل چاہتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کیاجاؤں۔(بخاری : 2797)

امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔

اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ(بخاری: 1890)

شہادت کی اس عظمت کی وجہ سے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ لشکر کفار کو خطاب کرکے کہا کرتے تھے ’ظالمو! تمہیں شراب اتنی محبوب نہیں جتنی ہمیں اللہ کے رستے میں شہادت محبوب ہے۔الغرض شہادت تو ایسی چیز نہیں کہ اس پر رنج وغم کا اظہار کیا جائے ماتم کیاجائے یا انگاروں پر رقص بسمل کیاجائے۔

کس کس کا ماتم کریں؟

اگر شہیدوں کے ماتم کی اجازت ہوتی تو سال بھر کے دنوں میںہمارا کوئی بھی دن ماتم سے خالی نہ ہوتا۔ اللہ کے دین کی حفاظت اور اشاعت کے لیے جتنی قربانیاں مسلمانوں نے دیں ہیں اتنی قربانیاں کسی قوم نے اپنے مذہب اور دھرم کی حفاظت کے لیے نہیں دیں۔ اگر تاریخ کھنگالی جائے تو سال بھر میں کوئی مہنیہ کوئی ہفتہ بلکہ کوئی دن ایسا نہیں ہوگا جس میں شہادت کا کوئی واقعہ یا رنج والم سے بھر پور کوئی سانحہ پیش نہ آیا ہو اگر ہم ہر ایک کا ماتم کرنے لگیں تو پھر تو ہمارے لیے ماتم کے سوا کوئی دوسرا کام کرنا ممکن ہی نہیں ہوگا اگر ہمیں ماتم کی اجازت ہوتی تو ہم بارہ ربیع الاول کو ضرور ماتم کرتے کیونکہ اس دن رحمت دو جہاں صلی اللہ علیہ و سلم اس دنیا سے رخصت ہوئے اور آپ کی رحلت سے بڑا صدمہ امت کے لیے کوئی نہیں ہوسکتا۔

اگر ماتم کی اجازت ہوتی تو ہم یکم محرم کو ضرور ماتمی مجلس برپا کرتے کیونکہ اس دن خلیفۂ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہید ہوئے جن کے بارے میں کہا جاتاہے کہ اگر دنیا میں ایک عمر اور پیدا ہوجاتا تو کفر کا نام ونشان مٹ جاتا۔

اگر ہم سوگ مناسکتے تو ہم اٹھارہ ذوالحجہ کو ضرور سوگ مناتے جس دن داماد نبی ، جامعِ قرآن سیدنا عثمان بن عفان کو 50دن کے محاصرے کے بعد انتہائی مظلومیت کے عالم میں شہید کیاگیا۔

اگر سینہ کوبی کی اجازت ہوتی تو ہم 21 رمضان کو حسین رضی اللہ عنہ کے والد محترم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ضرور سینہ کوبی کرتے۔

اگر تعزیہ کی اجازت ہوتی تو ہم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا تعزیہ ضرور نکالتے جن کی دردناک شہادت پر چشم فلک بھی چھلک پڑی تھی جن کی نعش مبارک کا یوں مثلہ کیا گیا تھا کہ پہچانی نہ جاتی تھی ناک ،کان ، انگلیاں کاٹ دی گئیں پیٹ چاک کیاگیا ، وہ آپ  صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا بھی تھے خالہ زاد بھائی بھی اور رضاعی بھائی بھی تھے۔

اگر ہمیں نوحہ خوانی کی اجازت ہوتی تو ہم سمیہ رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر یاسر رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت پر نوحے اور مرثیے ضرور پڑھتے جن کی مظلومیت کے تصور سے آج بھی جسم کانپ اٹھتا ہے ، غزوہ موتہ میں سیدنا جعفر طیار رضی اللہ عنہ شہید ہوئے جن کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے آپ کو ان کی شہادت کا بہت رنج تھا مگر آپ  صلی اللہ علیہ و سلم نے اس دن کو کبھی سوگ کے لیے مقرر نہیں کیا۔

رب العزت کا فرمان ہے :

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ الَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ ۙ قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ اُولٰۗىِٕكَ عَلَيْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ   ۣوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُهْتَدُوْنَ (البقرۃ: 155۔157)

اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔جنہیں جب کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالٰی کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔

فرمان الٰہی ہے : 

اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ (الزمر:10)

بلاشبہ صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بلا حساب دیا جائےگا

پانی کم خرچ کرنا:

بعض لوگ محرم کے مہینے میں پانی کا بھی سوگ مناتے ہیں کہ محرم کے مہینے میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا پانی بند کیاگیا تھا لہذا تم محرم میں پانی کم سے کم خرچ کرو۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی سبیل :

محرم میں جگہ جگہ امام حسین کے نام کی سبیلیں لگا کر لوگوں کو مشروبات وغیرہ پلاتے ہیں حالانکہ شریعت نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے ۔التحیات للہ والصلوٰت والطیبات ۔ کہ زبانی بدنی اور مالی عبادات اللہ کے لیے ہیں۔ اگر یہ سبیلیں اللہ کے نام پر ہیں تو صرف محرم میں ہی کیوں دوسرے مہینوں میں کیوں نہیں؟

قبروں پر مٹی ڈالنا:

محرم کے پہلے عشرہ میں لوگ قبروں پر کثرت سے مٹی ڈالتے ہیں حالانکہ آپ  صلی اللہ علیہ و سلم نے قبر پر ہر قسم کی تعمیر اور قبر پر اضافی مٹی ڈالنے اور قبر پکی بنانے سے منع کیاہے۔ ( نسائی ، کتاب الجنائز ، باب الزیادۃ علی القبر ، حدیث :2029 صحیح)

کجیاں ٹھوٹھیاں:

محرم کی آمد کے ساتھ ہی کئی دکاندار کجیوں کا ڈھیر لگا کر بیٹھ جاتےہیں جیسے ہی دس محرم کا سورج طلوع ہوتاہے عورتیں اور مرد بھی ان کجیوں میں کھیر لسی دودھ یا حلوہ بھرتے ہیں اور بچوں میں بانٹنا شروع کردیتے ہیں کچھ مٹی کے پیالے میں کھیر اور کچھ حلیم کی دیگیں پکا کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے نام کی تقسیم کرتے ہیں۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی فضیلت :

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت کا کون منکر ہے نبی صلی اللہ علیہ و سلم حسن وحسین رضی اللہ عنہما سے نہایت درجے کی محبت رکھتے تھے ، سیدنا ابو بکر ،عمر،عثمان اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایسی محبت اور شفقت کی جس کے یہ مستحق تھے آپ کی ذات گرامی فضائل واخلاف کا مجموعہ تھی ارباب سیر لکھتے ہیں:

سیدنا حسین بڑے نمازی، بڑے روزہ دار،بڑے حج کرنے والے ، صدقہ دینے والے اور تمام اعمال حسنہ کو کثرت سے کرنے والے تھے۔ ( استیعاب واسد الغابۃ)

عمومی اعتبار سے آپ رضی اللہ عنہ کو اللہ نے جیسی فارغ البالی عطا کی تھی۔ اسی طرح فیاضی سے آپ اس کی راہ میں خرچ کرتے تھے ( تہذیب الاسماء للنووی ص: 163)

ابن عساکر لکھتے ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اللہ کی راہ میں کثرت سے خیرات کرتے تھے۔ ( ابن عساکر ، ص : 234۔323)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حسن وحسین کے متعلق فرمایا تھا :

ھُمَا رَیحَانَیَّ مِنَ الدُّنیَا ۔ (بخاری ، 3753)

یہ میرے دنیا کے دو پھول ہیں۔

مزید فرمایا : ’’اے اللہ ! میں ان سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت رکھ اور ان سے بھی محبت رکھ جو ان سے محبت کرے۔ ( ترمذی : 3769)

کبھی فرمایا :

الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ (مسند أحمد ۳/۳، ترمذی ۴/۳۳۹)

’’حسن اور حسین جنت کے نوجوان مردوں کے سردار ہیں۔‘‘

ایک اور جگہ فرمایا : فاطمہ رضی اللہ عنہا جنت کی عورتوں کی سردار ہیں اور سیدنا حسن اور حسین نوجوان جنتیوں کے سردارہیں۔ (ترمذی ۴/۳۴۲ ، کتاب المناقب ، حدیث : ۳۷۸۱)

الغرض محرم کا مہینہ سوگ کا مہینہ نہیں بلکہ حرمت والے چار مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے۔

Read 8533 times Last modified on جمعرات, 13 اکتوبر 2016 08:14