بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
جمعہ, 23 نومبر 2012 21:18

واقعہ کربلا اور غزوہ قسطنطینیہ کی امارت کا مسئلہ Featured

Written by  شیخ عبد الرّحمٰن عزیز الہ آبادی

واقعہ کربلااورغزوۂ قسطنطنیہ کی امارت کامسئلہ   1

(۱) جناب حسن رضی اللہ عنہ کی جناب امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ سے مصالحت اور بیعت اور کوفیوں کی جناب حسین رضی اللہ عنہ کو ورغلانے کی کوشش : 1

(۲) جناب امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات اور امیریزید کی تخت نشینی: 1

(۳) اہل کوفہ کے خطوط اور جناب مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی سوئے کوفہ روانگی.. 1

(۴) جناب مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا خط: 1

(۵) اہل کوفہ کی بغاوت اور گورنر ِکوفہ جناب نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی تقریر. 1

(۶) نئے گورنر کا تقرر: 1

(۷) جناب مسلم رحمہ اللہ کا قصر  اِمارت پر حملہ. 2

(۸) جناب مسلم بن عقیل کی شہادت اور وصیت.. 2

(۹) جناب حسین رضی اللہ عنہ کی بجانب ِکوفہ تیاری.. 2

(۱۰) ابن زیاد کے نام یزید کا حکم نامہ. 2

(۱۱) اہل کوفہ کے نام جناب حسین رضی اللہ عنہ کا خط.. 2

(۱۲) شہادت ِمسلم کی خبر جناب حسین رضی اللہ عنہ کو ملی تو برادرانِ مسلم جوشِ انتقام میں آگئے.. 2

(۱۳) کوفہ کی بجائے شام کی طرف روانگی اور مقامِ کربلا پر رکاوٹ.. 3

(۱۴) جناب حسین رضی اللہ عنہ کا اپنے موقف سے رجوع. 3

(۱۶) شہادت ِحسین رضی اللہ عنہ کا یزید پر اثر اورقاتل سے سلوک.. 3

(۱۷) شہاد تِ حسین رضی اللہ عنہ کے بعد محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کی یزید سے ملاقات.. 4

(۱۸) واقعہ کر بلااور حجة الاسلام امام غزالی  رحمہ اللہ (۵۰۵ھ). 4

(۱۸) واقعہ کر بلا سے متعلق ایک شیعہ مؤرخ کے تاثرات.. 4

(۱۹) سالارِ فوج. 4

(۲۰) شیعہ مؤرخین نے بھی یزید کی سپہ سالاری کو تسلیم کیا ہے ! 5 

 

واقعہ کربلا اور غزوۂ قسطنطنیہ کی امارت کا مسئلہ

زیر نظر مضمون میں واقعہ کربلا میں افراط وتفریط کا ایک جائزہ پیش کرتے ہوئے غزوئہ قسطنطنیہ میں امارت کے مسئلہ پر تحقیقی انداز سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ جس سے تاریخ اسلام کے اہم ترین واقعہ’’کربلا‘‘ کے بارے میں حقیقت پر مبنی بعض پہلوئوں کی نشاندہی کرکے حقیقی صورتحال اورصحیح تاثر اُجاگر کرنا مقصود ہے…

وما توفیقی الا باللہ

(۱) جناب حسن رضی اللہ عنہ کی جناب امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ سے مصالحت اور بیعت اور کوفیوں کی جناب حسین رضی اللہ عنہ کو ورغلانے کی کوشش :

 جناب حسن رضی اللہ عنہ نے جب اپنے حواریوں سے تنگ آکر جناب امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ سے مصالحت کرکے بیعت خلافت کی تو سبائیوں کو انتہائی ناگوار گزرا، ان کی برابر کوشش یہی تھی کہ صلح نہ ہونے پائے چنانچہ سبائی لیڈر حجر بن عدی نے جناب حسن رضی اللہ عنہ سے اس سلسلہ میں گفتگو کی تو جناب حسن رضی اللہ عنہ نے اسے بڑی سختی سے ڈانٹا تو اس نے جناب حسین رضی اللہ عنہ سے رابطہ کیا تو جناب حسین نے فرمایا کہ

إنا قد بایعنا وعا ھدنا ولا سبیل إلی نقض بیعتنا (اخبار الطوال ، ص ۲۳۴)

’’بلاشبہ ہم نے بیعت کی اور معاہدہ کیا ہے اور اب اس معاہدہ کو توڑنے کا کوئی امکان نہیں‘‘

ڈاکٹر طہٰ حسین نے اپنی تازہ تصنیف میں اس کی وضاحت اس طرح کی ہے کہ:۔

’’جناب حسین رضی اللہ عنہ اپنے بھائی جناب حسن رضی اللہ عنہ سے اتفاق رائے نہ رکھتے تھے بلکہ اس پر لڑائی میں چلنے پر زور دیا تو جناب حسن رضی اللہ عنہ نے منع کیا اور ڈرایا کہ اگر میری اطاعت نہ کی تو بیڑیاں پہنا دی جائیں گی۔ ‘‘(علی وبنوہ، ص۲۰۳)

نیز الإمامۃ والسیاسۃکے مؤلف نے لکھا ہے کہ ۱۷۳)

’’جناب حسین رضی اللہ عنہ نے کوفی لیڈر سلیمان بن صرد کو یہ جواب دیا تھا کہ تم میں سے ہر شخص اپنے گھر میں خاموشی سے بیٹھا رہے ،جب تک معاویہ زندہ ہے کیونکہ واللہ میں نے اس کی بادل ناخواستہ بیعت کی ہے‘‘  …

’’فإن ھلک معاویۃ نظرنا و نظرتم ورأینا ورأیتم‘‘

جناب حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر سن کر کوفیوں نے پھر جناب حسین  رضی اللہ عنہ کو ورغلانے کی کوشش کی اور جعدہ بن ہبیرہ بن ابی وہب نے جناب حسین رضی اللہ عنہ کو خط لکھا جس میں مرقوم تھا کہ…

فإن کنت تحب أن تطلب ھذا الامر فاقدم علینا فقد وطئنا أنفسنا معک

’’اگر آپ کو خلافت کی طلب ہے تو ہمارے پاس تشریف لائیے ،ہم نے اپنی جانوں کو آپ کے ساتھ مرنے پر وقف کر دیا ہے‘ ‘  (اخبار الطوال، ص ۲۳۵)

جناب حسین رضی اللہ عنہ نے جواباً لکھا کہ’’تم اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے رہو جب تک معاویہ زندہ ہے کوئی حرکت نہ کرو، جب ان کا وقت آگیا اور میں زندہ رہا تو اپنی رائے سے مطلع کر دوں گا… ایضاً‘‘

(۲) جناب امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات اور امیریزید کی تخت نشینی:

چنانچہ۲۲ ؍رجب ۴۰ھ کو جناب امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ اپنے مالک ِحقیقی سے جاملے، اور امیریزید تخت نشین ہوا تو والئ مدینہ جناب ولید بن عقبہ بن ابی سفیان نے جناب حسین رضی اللہ عنہ اور جناب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بیعت کا مطالبہ کیا تو انہوں نے مہلت مانگی، جونہی مہلت ملی تو دونوں نے مکہ مکرمہ کا رخ کیا ـ۔راستہ میں جناب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو جناب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا :کیا خبر ہے؟ تو جناب حسین رضی اللہ عنہ اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ’’موت معاویۃ و بیعۃ یزید‘‘ تو جناب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ

اتقیا اللہ ولا تفرقا جماعۃ المسلمین

’’ تم دونوں اللہ سے ڈرو اور مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ نہ ڈالو۔ ‘‘  (طبری، ص۶؍۱۹۱)

لیکن جناب حسین رضی اللہ عنہ اور جناب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ واپس نہ ہوئے اورجناب ابن عمر رضی اللہ عنہما مدینہ منورہ چلے گئے اور جناب ولید بن عقبہ کے پاس جاکر بیعت کی اور تادمِ آخر اسی پر قائم رہے۔(طبری ص۱۶۶)

یہی مضمون بتغیر الفاظ، تاریخ ابن خلدون، ص ۵؍۷۱ کتاب ِثانی، تاریخ اسلام از صادق حسین، ص۴۰ ج۲، تاریخ بنوامیہ ص۳۶، پر موجود ہےـ۔ طالب تفصیل کو کتب ِمذکورہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے ـ۔

(۳) اہل کوفہ کے خطوط اور جناب مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی سوئے کوفہ روانگی

جب اہل کوفہ کو آپ کے مکہ مکرمہ تشریف لانے کا علم ہوا تو انہوں نے آپ کی خدمت میں قاصد اور خطوط بھیجے کہ نواحی کوفہ لہلہا رہے ہیں ،میوے پختہ ہوچکے ہیں، چشمے چھلک رہے ہیں ،آپ کا جب جی چاہے آئیے آپ کا لشکر یہاں تیار موجودہے۔(جلاء العیون ص۵؍۴۳۱، طبری ص۲؍۱۷۷، شہید ِانسانیت ص۲۵۱)

اور آخری خطوط کوفہ کے بڑے بڑے سرداروں کی جانب سے تھے جن میں سے،سلیمان بن صرد، شیث بن ابی یزید، عزرہ بن قرن، عمر بن حجاج زیدی، عمر بن تمیمی، حبیب بن نجد، رفاعہ بن شداد اور حبیب بن مظاہر قابل ذکر ہیں۔ (جلاء العیون باب ۵ ؍ص۴۳۰، طبری ۲؍۱۷۷)  اور خطوط کی تعداد بارہ ہزار سے متجاوز تھی۔(ناسخ التواریخ، ۳؍۱۳۱)

جناب حسین رضی اللہ عنہ نے حالات کی نزاکت کے پیش نظر کوفہ جانے کا پروگرام بنا لیا مگر کوفہ کے حالات سے بے خبر تھے، آپ نے اپنے چچا زاد جناب مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا تاکہ کوفہ کے حالات بچشم خود ملاحظہ فرما کر مطلع کریں۔ جب مسلم بن عقیل کوفہ پہنچے تو لوگوں نے جناب حسین رضی اللہ عنہ کی امارت کے لئے جناب مسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور قسمیں کھائیں کہ ’’اس کام میں ان کی مدد کی جائے گی یہاں تک کہ اپنی جانوں اور مالوں سے بھی گریز نہیں کریں گے۔‘‘

چنانچہ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ رقم طراز ہیں کہ:

’’فبا یعوہ علی أمر الحسین وحلفوا لینصرنہ بأنفسھم و أموالھم‘‘

چنانچہ انہوں نے جناب حسین کی امارت کی بیعت کی اور قسمیںکھائیں کہ وہ لازماً اپنی جانوں اور مالوں سے ان کی مدد کریں گیـ۔‘‘ (البدایہ والنھایہ ص۱۵۲ ؍جلد ۸)

 

(۴) جناب مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا خط:

جناب مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے جناب حسین رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ

’’قد بایعنی من أھل الکوفۃ ثمانیۃ عشر ألفا فعجّل الإقبال حین یأتیک کتابی فان الناس کلھم معک ولیس لھم من آل معاویۃ رأی فلا ھوی‘‘

’’اہل کوفہ سے اٹھارہ ہزار اشخاص نے میرے ہاتھ پربیعت کر لی ہے لہٰذا جب میرا خط آپ کے پاس پہنچے تو جلدی آنے کی کوشش کیجئے کیونکہ اہل کوفہ کو آلِ معاویہ کے ساتھ کوئی سروکار نہیں۔‘‘  (طبری ص۲۲۱، ج۴)

(۵) اہل کوفہ کی بغاوت اور گورنر ِکوفہ جناب نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی تقریر

جب گورنر ِکوفہ جناب نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو اہل کوفہ کی ان سرگرمیوں کا علم ہوا تو انہوں نے لوگوں کو اختلاف و فساد سے باز رکھنے کے لئے پرجوش تقریر کی ،فرمایا ’’کہ لوگو !فتنہ و فساد سے بچو، اتفاق و اتحاد اور سنت کی پیروی کرو، جو مجھ سے نہ لڑے ،میں اس سے نہیں لڑوں گا لیکن …

’’واللہ الذی لا إلہ الا ھو لئن فارقتم إمامکم و نکثتم بیعتہ لأقاتلنکم مادام فی یدي سیفی قائمۃ‘‘ (البدایہ و النھایہ، ص۱۵۲ ج۸)

’’اور اللہ کی قسم جسکے سوا کوئی معبود نہیں، اگر تم نے اپنے امام سے بغاوت کی اور اس کی بیعت توڑ ڈالی تو میں تم سے تب تک جنگ کروں گا جب تک میرے ہاتھ میں میری تلوار موجود ہے‘‘

مگر جناب نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ حالات پر قابو نہ پاسکے۔

 

(۶) نئے گورنر کا تقرر:

ان حالات کا جب یزید کو علم ہوا تو اس نے عبیداللہ بن زیاد کو کوفہ کے حالات درست کرنے کے لئے بصرہ کے ساتھ کوفہ کی گورنری بھی سونپ دی ، اس نے عہد ے کا چارج لیتے ہی کوفہ کی جامع مسجدمیں تقریر کی:

حمدو صلوٰۃ کے بعد امیرالمؤمنین یزید (اللہ تعالیٰ ان کی بہتری کرے) نے تمہارے شہر اور سرحدی حدود کا مجھے والی مقرر کیا ہے۔

وأمرنی بانصاف مظلومکم واعطاء محرومکم وبالاحسان إلی سامعکم و مطیعکم و بالشدۃ علی مرمیکم وعاصیکم، وأنا متبع فیکم أمرہ و منفذ فیکم عھدہ فأنا لمحسنکم ومطیعکم کالوالد البر وسوطي و سیفي علی من ترک أمری وخالف عھدي فلیتق امرأ علی نفسہ… الخ ‘‘

’’اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے مظلوموں سے انصاف کروں اور محروموں کو عطا کروں، جو شخص بات سنے اور اطاعت کرے، ان پر احسان کروں اور جو دھوکہ باز، نافرمان ہو ،اس پر تشدد کروںـ۔تم لوگوں کے معاملہ میں، میں اُن کے فرمان کو نافذ کروں گا، تم میں سے جو اچھے کردار کا ،مطیع وفرماں بردار ہے میں اس کے ساتھ مہربان باپ کی طرح پیش آئوں گا، اور جو میرا کہا نہ مانے اور میرے فرمان کی بجا آوری نہیں کرے گا، اس کے لئے میرا تازیانہ اور میری تلوار موجود ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ اپنی جان کی خیر منائے ،بات چیت سچی ہو کر سامنے آئے تو پتہ چلتا ہے محض دھمکی سے کچھ نہیں ہوتا‘‘(طبری۶؍۲۰۱)

 

(۷) جناب مسلم رحمہ اللہ کا قصر  اِمارت پر حملہ

اس کے بعد ابن زیاد نے مسلم بن عقیل کے میزبان ہانی بن عروہ کو گرفتار کر لیا تو جناب مسلم نے ہانی کو قید سے چھڑانے اور ابن زیاد کا قلع قمع کرنے کے لئے اپنے بیعت کنندگان کو جمع کیا اور فوجی قاعدہ کے مطابق ترتیب دیا چنانچہ چالیس ہزار کا لشکر قصر امارت کی طرف بڑھا اور قصر امارت کا محاصرہ کیا۔ ابن زیاد گورنر ِکوفہ، بمعہ رفقاء ِمجلس، ممتاز اہل کوفہ اور پولیس اہلکار (جن کی تعداد دو صد کے قریب تھی) محصور ہوگئے۔(اخبار الطوال ،ص۳۵۲)

انہی راویوں کا بیان ہے کہ ابن زیاد کی فرمائش پر اَشراف ِاہل کوفہ نے (جو قصر امارت میں موجود تھے)  اپنے ساتھیوں کو (جو جناب مسلم کے لشکر میں شامل ہو کر قصر امارت کا اِحاطہ کئے ہوئے تھے) فتنہ و فساد کے نتائج بد سے ڈرایا اور کہا:اے کوفہ والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور فتنہ و فساد کو نہ بھڑکائو، اور اُمت کے اتحاد و اتفا ق کو ٹکڑے ٹکڑے نہ کرو، اور اپنی جانوں پر شام کی فوج کو حملہ آور ہونے کے لئے مت آنے دو ،جس کا ذائقہ تم چکھ چکے ہو۔  (اخبار الطوال ،ص۳۵۲)

اس تقریر کا یہ اثر ہوا کہ جو لوگ قصر امارت کا محاصرہ کئے ہوئے تھے، انہی کے قریبی رشتہ دار اور دوست و احباب آ آ کر اُن کو ہٹانے اور واپس لے جانے لگے:

 ’’حتی تجیئ المرأۃ إلی ابنھا و زوجھا و أخیھا فتعلق حتی یرجع‘‘  (حوالہ مذکور)

 

(۸) جناب مسلم بن عقیل کی شہادت اور وصیت

الغرض چالیس ہزار کی فوجی جمعیت چند ساعتوں میں ایسی منتشر ہوئی کہ جناب مسلم اکیلے رہ گئے اور ایک عورت کے گھر پناہ لی ۔مخبری ہونے پر جب پولیس گرفتار کرنے کے لئے گئی تو جناب مسلم بن عقیل تلوار سونت کر میدان میں آگئے ،بالآخر گرفتار کئے گئے، گورنر ِکوفہ اور رفقاء ِگورنر پر تلوار چلانے، قصر امارت پر لشکر کشی کرنے اور پولیس پر شمشیر زنی کرنے کی پاداش میں قتل کئے گئے…  انا للہ وانا الیہ راجعون

قتل کئے جانے سے قبل انہوں نے جناب عمر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو بوجہ ِقرابت وصیت کی کہ

(۱)  ایک ہزار دینار مجھ پر قرض ہے، ادا کرنا،

(۲) میری لاش کی تدفین کرنا،

(۳)  جناب حسین رضی اللہ عنہ کو قاصد بھیج کر تمام حالات سے مطلع کرنا اور کہلوا دینا کہ یہاں آنے کا قصد نہ کریں کیونکہ اہل کوفہ بڑے غدار ہیں۔ (اخبار الطوال ،ص۳۵۴)

عمر بن سعد نے جناب مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی وصیتوں کی پوری پوری تعمیل کی ،چنانچہ علامہ ابن کثیر رقم فرماتے ہیں کہ عبید اللہ بن زیاد نے جناب حسین رضی اللہ عنہ کو جناب مسلم کا پیغام پہنچانے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں کی بلکہ عمربن سعد کو مکمل اجازت دے دی۔(البدایہ والنھایہ ،ص۱۵۷ ؍جلد۸)

 

(۹) جناب حسین رضی اللہ عنہ کی بجانب ِکوفہ تیاری

 جناب حسین رضی اللہ عنہ کو جناب مسلم بن عقیل کا ابتدائی خط ملا تو آپ رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے لئے تیاری شروع کردی جب آپ کے ہمدردوں، بزرگوں، عزیزوں کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ جناب حسین رضی اللہ عنہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس کے نتیجہ میں بجائے اتحاد ِاُمت کے امت میں تفرقہ پڑے بعض ثقہ مورخین نے ان کی نصیحتوں کے فقرات بھی نقل کئے ہیں… ملاحظہ فرمائیں:

٭ جناب ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ :

’’غلبنی الحسین علی الخروج وقلت لہ: اتق اللہ فی نفسک والزم بیتک ولا تخرج علی إمامک‘‘ (البدایہ والنھایہ ص۱۶۳، جلد۸)

’’مجھے جناب حسین نے اصرار کیا کہ میں بھی ان کے ساتھ نکلوں، جب کہ میں نے انہیں کہا کہ اللہ سے اپنے بارے میں ڈرئیے ، اپنے گھر میں ہی ٹھہرئیے اور اپنے امام کے خلاف نہ نکلیں‘‘

جناب ابوواقدلیثی رضی اللہ عنہ :

’’فناشدتہ اللہ أن لایخرج فإنہ یخرج في غیر وجہ خروج إنما خرج یقتل نفسہ‘‘

’’میں نے انہیں اللہ کی قسم دے کر کہا کہ آپ خروج نہ کریں ، اس لئے کہ جو بغیر وجہ کے خروج کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کوقتل کرتا ہے‘‘(حوالہ مذکور)

٭  جناب جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ :

’’کلّمت حُسینا فقلت لہ اتق اللہ ولا تضرب الناس بعضَھم ببعض‘‘ 

’’میں نے حسین  رضی اللہ عنہ سے کہا : اللہ سے ڈریں اور لوگوں کو آپس میں نہ لڑائیں‘‘(حوالہ مذکور)

جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ : ’’قسم ہے اس وحدہ لاشریک کی کہ اگر میں سمجھتا کہ تمہارے بال اور گردن پکڑ کر روک لوں۔کہ تم میرا کہنا مان جائو گے تو میں ایسا ہی کرتا‘‘  (طبری ۶؍۲۱۷)

تو جناب حسین رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ’’إنک شیخ قد کبرت‘‘ ’’آپ سٹھیا گئے ہیں‘‘(البدایہ والنھایہ ۸؍۱۶۴)

لیکن جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو اُمت کے مفاد، بھتیجے کی محبت، اُن کی اور ان کے اہل و عیال کی سلامتی کا خیال پریشان کئے ہوئے تھا، مجبوراً کہا :اے میرے بھیتجے!

’’فإن کنت سائرا فلا تسر بأولادک ونسائک فو اللہ إنی لخائف أن تقتل کما قتل عثمان ونساء ہ وولدہ ینظرون إلیہ‘‘(البدایہ والنھایہ ص۶۰، طبری ص۶؍۲۱۷)

’’اگر آپ کوضرور ہی جانا ہے تو اپنی خواتین اور بچو ں کو ہمراہ نہ لے جائیے، بخدا میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ آپ کو اس طرح شہید کردیا جائے جس طرح جناب عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیااور آپ کی عورتیں اور بچے آپ کو دیکھ رہے تھے‘‘

ان سب سے بڑھ کر جناب حسین رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی جناب عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے متعدد بار روکا جب جناب حسین رضی اللہ عنہ نہ رکے تو اس نے جناب حسین رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ زینب کو طلاق دے دی اور اپنا اکلوتا بیٹا علی الزنیبی ان سے چھین لیا لیکن جناب حسین رضی اللہ عنہ ، عزیز و اَقارب، اَجلہ صحابہ رضی اللہ عنہ اور دیگر ہمدردوں کے پندو نصائح، ہمشیرہ کی طلاق اور دیگر امور کے باوجود بھی اپنے موقف پرڈٹے رہے اور عازمِ کوفہ ہوئے۔

 

(۱۰) ابن زیاد کے نام یزید کا حکم نامہ

جب جناب حسین رضی اللہ عنہ کی کوفہ روانگی کا علم یزید کو پہنچا تو اس نے عبیداللہ بن زیاد کو لکھا:

’’حمد وصلوٰۃ کے بعد …مجھے اطلاع پہنچی ہے کہ جناب حسین رضی اللہ عنہ عراق کی طرف روانہ ہوچکے ہیں ،سرحدی چوکیوں پر نگران مقرر کرو، جن سے بدگمانی ہو اُنہیں حراست میں لو، جن پر تہمت ہو ،انہیں گرفتار کر لو۔‘‘ …

 ’’غیر أن لا تقتل إلا من قاتلک و اکتب إلی فی کل ما یحدث من خبر، والسلام‘‘ 

یعنی ’’جو خود تجھ سے جنگ نہ کرے ،اس سے تم بھی جنگ نہ کرنا اور جو واقعہ پیش آئے، اس کا حال لکھنا … والسلام ‘‘ (طبری ۶؍۲۱۵، البدایہ ۸؍۱۶۵)

بلکہ ناسخ التواریخ کے مؤلف نے لکھا ہے کہ ایک خط مروان کی طرف سے بھی ابن زیاد کو موصول ہوا جس میں مرقوم تھا کہ

’’أما بعد فإن الحسین بن علی قد توجہ إلیک وھو الحسین ابن فاطمۃ و فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  وتاللہ ما أحد یسلمہ اللہ أحب الینا من الحسین فإیاک أن تھیج علی نفسک ما لا یسدہ شیئ و لاتنساہ العامۃ ولا تدع ذکرہ آخر الدھر، والسلام  (البدایہ والنھایہ ص۸؍۱۶۵) ناسخ التواریخ مطبوعہ ایران ۱۳۰۹ھ

’’امابعد تمہیں معلوم ہے کہ حسین بن علی تمہاری طرف روانہ ہوچکے ہیں (یہ تو تمہیں معلوم ہے کہ) حسین فاطمہ کے بیٹے ہیں اور فاطمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیٹی ہے ـ۔اللہ کی قسم حسین سے زیادہ (اللہ انہیں سلامت رکھے) کوئی شخص بھی ہم کو محبوب نہیں ،خبردار ایسا نہ ہو کہ نفس کے ہیجان میں کوئی ایسا کام کر بیٹھو جس کے برے نتائج کو اُمت فراموش نہ کرسکے۔ اور رہتی دنیا تک اس کا ذکر نہ بھولے اور قیامت تک اس کا تذکرہ ہوتا رہے  (ملاحظہ ہو شیعہ مؤرخ مرزا محمد تقی سپہر کاشانی کی مشہور تالیف ناسخ التواریخ :کتاب دوم ص۶؍۲۱۲)

 

(۱۱) اہل کوفہ کے نام جناب حسین رضی اللہ عنہ کا خط

جناب حسین رضی اللہ عنہ ۱۱ ؍ذوالحجہ ۶۰ھ کو مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئے جب آپ بارہ منزلیں طے کرکے مقام الحاجر پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ نے قیس بن مسہر صیداوی کے ہاتھ یہ خط روانہ کیا کہ

’’بسم اللہ الرحمن الرحیم من الحسین ابن علی لإخوانہ من المؤمنین والمسلمین سلام علیکم فإني أحمد إلیکم اللہ الذی لا إلٰہ إلا ھو، أما بعد فإن کتاب مسلم جاء نی یخبرنی فیہ بحق رأیکم…الخ‘‘

 ’’میرے پاس مسلم کا خط پہنچ چکا ہے جس میں انہوں نے مجھے اطلاع دی ہے کہ تم لوگ میرے متعلق اچھی رائے رکھتے ہو اور ہماری نصرت اور حق کے طلب کرنے پر متفق ہو ـ۔خدا سے دعا کرتا ہوں کہ ہمارا مقصد برلائے اور تم لوگوں کو اس پر اَجر عظیم دے… جب میرا قاصد پہنچے تو تم لوگ اپنے کام میں کوشش کرو۔ کیونکہ میں انہی دنوں میں تمہارے پاس پہنچ جائوں گا ان شاء اللہ تعالیٰ  والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ  (طبری ص۲؍۲۲۳، البدایہ والنھایہ ص۸؍۱۶۸)

(۱۲) شہادت ِمسلم کی خبر جناب حسین رضی اللہ عنہ کو ملی تو برادرانِ مسلم جوشِ انتقام میں آگئے

جب آپ اکیس منازل طے کرکے یکم محرم الحرام  ۶۱ھ کو  زُبالۃ کے مقام پر پہنچے تو آپ کو عمر بن سعد اور محمد بن اشعث کا پیغام ملا کہ جناب مسلم شہید ہوچکے ہیں، آپ واپس لوٹ جائیں۔ (اخبار الطوال ص۳۱۰)   … 

مرزا محمد تقی سپہرکاشانی رقم طراز ہیں کہ:

’’جناب حسین رضی اللہ عنہ نے فرزندانِ عقیل کی جانب نظر ڈال کر کہا :اب رائے کیا ہے؟ انہوں نے کہا: واللہ ہم سے جو کچھ بن پڑے گا، ہم اُن کے خون کا بدلہ لینے کی کوشش کریں گے یا ہر وہ شربت ہم بھی نوش کریں گے جو انہوں نے نوش کیا۔ آنجناب (حسین رضی اللہ عنہ ) نے فرمایا کہ ان لوگوں کے بعد ہم کو بھی زندگانی کا کیا لطف رہے گا۔ (ناسخ التواریخ، کتاب ِدوم ص۳۱۶، جلد۶)

طبری رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ’’شہادت ِمسلم کی خبر سنتے ہی برادرانِ مسلم جوشِ انتقام میں اُٹھ کھڑے ہوئے۔‘‘  (طبری ص۶؍۲۲۶)

اور البدایہ والنھایہ میں ہے کہ :

’’إن بنی عقیل قالوا واللہ لا نرجع حتی ندرک ثأرنا أونذوق ما ذاق أخونا‘‘ (البدایہ ص۸؍۱۶۹، طبری ۶؍۲۲۵)

’’عقیل  رضی اللہ عنہ کے بیٹوں (مسلم کے بھائیوں) نے کہا: ہم اس وقت واپس نہ جائیں گے جب تک ہم انتقام نہ لے لیں یا ہم بھی اس موت کا مزہ چکھ لیں جو ہمارے بھائی نے چکھا‘‘

خلاصۃ المصائب کے مصنف نے لکھا ہے کہ جناب حسین رضی اللہ عنہ نے ایک مبسوط خطبہ ارشاد فرمایا جس کے آخری الفاظ یہ ہیں کہ

’’من أحب منکم الانصراف فلینصرف في غیر حرج لیس علیہ زمام‘‘ (خلاصۃ المصائب، مطبوعہ نولکشور ص۵۶)

’’جو تم میں سے واپس جاناچاہے ، تو وہ چلا جائے، اس پر کوئی حرج نہیں‘‘

اور خود بھی جناب حسین  رضی اللہ عنہ نے واپسی کا ارادہ کر لیا جیساکہ ایک شیعہ مؤرخ نے رقم کیا ہے کہ

’’واتصل بہ خبر مسلم فی الطریق فاراد الرجوع فامتنع بنو عقیل من ذلک‘‘ (عمدۃ الطالب فی انساب آل ابی طالب، مطبوعہ لکھنؤ، طبع اوّل ص ۱۷۹)

’’رستے میں مسلم کے قتل کی خبر ملی تو جناب حسین  رضی اللہ عنہ نے واپسی کا ارادہ کیا ، لیکن عقیل رضی اللہ عنہ کے بیٹوں نے واپس جانے سے انکار کردیا‘‘

مگر بُر ا ہو اُن حواریوں کا جو جناب حسین رضی اللہ عنہ پر ظاہراً جان قربان کرنے کے مدعی تھے مگر باطنا ًوہ جناب حسین رضی اللہ عنہ کے خون کے پیاسے تھے، اس ارادہ کی تبدیلی پر انہوں نے کہا کہ

’’إنک واللہ ما أنت مثل مسلم بن عقیل ولو قدمت الکوفۃ لکان الناس إلیک أسرع ‘‘

’’واللہ آپ کی کیا بات ہے ،کہاں مسلم اور کہاں آپ؟ آپ کوفہ میں قدم رکھیں گے تو سب لوگ آپ کی طرف دوڑیں گے‘‘ (طبری ص۶؍۲۲۵)

جناب حسین رضی اللہ عنہ نے اَپنے سفر کا پھر آغاز کیا جب آپ قادسیہ کے قریب پہنچے تو حر بن یزید تمیمی سے ملاقات ہوئی تو حرُ بن یزید نے پوچھا :کہاں کا ارادہ ہے؟

تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’اس (کوفہ) شہر کو جارہا ہوں‘‘

تو حرُ نے کہا:’’خدارا ،واپس لوٹ جائیے، وہاں آپ کے لئے کسی بہتری کی امید نہیں۔‘‘ اس پر آپ نے پھر واپس لوٹ جانے کا ارادہ کیا مگر مسلم کے بھائیوں نے کہا کہ’’واللہ ہم اس وقت تک واپس نہیں لوٹیں گے جب تک ہم اپنا انتقام نہ لے لیں یاہم سب قتل نہ کر دیئے جائیں‘‘

تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے بعد ہمیں بھی زندگی کا کوئی لطف نہیں‘‘ یہ کہہ کر آپ آگے بڑھے تو ابن زیاد کے لشکر کا ہراول دستہ سامنے آگیا تو آپ کربلا کی طرف پلٹ گئے۔ (طبری ص۶؍۲۲۰)

 

(۱۳) کوفہ کی بجائے شام کی طرف روانگی اور مقامِ کربلا پر رکاوٹ

عمدۃ الطالب کے مؤلف نے لکھا ہے کہ

جناب حسین رضی اللہ عنہ نے واپس لوٹ جانے کا ارادہ کیا مگر فرزندانِ عقیل مانع ہوئے جب کوفہ کے قریب گئے تو حر بن یزید الریاحی سے مڈ بھیڑ ہوئی۔ اس نے کوفہ لے جانے کا ارادہ کیا تو آپ نے منع کیا اور ملک شام کی طرف مڑ گئے تاکہ یزید بن معاویہ کے پاس چلے جائیں لیکن جب آپ کربلا پہنچے تو آگے بڑھنے سے روک دیا گیا اور کوفہ لے جانے اور ابن زیاد کا حکم ماننے کے لئے کہا گیا تو آپ نے اس سے انکار کردیا اور ملک شام جانا پسند کیا (عمدۃ الطالب، طبع اول، لکھنؤ، ص۱۷۹) جب آپ کو مقام کربلا پر روکا گیا تو آپ نے کوفہ کے گورنر کے افسروں کے سامنے تین شرطیں پیش کیں:  

(۱) مجھے چھوڑ دو ،میں واپس چلا جائوں  ،

 (۲) ممالک اسلامیہ کی حد پر چلا جائوں  ،

(۳) مجھے براہِ راست یزید بن معاویہ کے پاس جانے دو ۔

(طبری طبع بیروت، ص۳؍۲۳۵، ناسخ التواریخ ص۱۷۵)

شریف المرتضی المتوفی ۴۴۶ھ رقم فرماتے ہیں کہ:

’’رُوي أنہ علیہ السلام قال لعمر بن سعد اختاروا منی، أمّا الرجوع إلی مکان الذی أقبلت منہ أو أن أضع یدی فی ید یزید وھو ابن عمی فیری فی رأیہ وأما أسیر إلی ثغر من ثغور المسلمین فأکون رجلا من أھلہ‘‘(کتاب الشافی شریف المرتضی المتوفی ۴۳۶ ھجری ص۴۷۱)

یعنی جناب حسین رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد کے سامنے تین شرطیں پیش کیں:

(۱) یعنی میں جہاں سے آیا ،واپس چلا جائوں

(۲) براہِ راست یزید کے پاس جانے دو، وہ میرا چچا زاد بھائی ہے،  وہ میرے متعلق خود اپنی رائے قائم کرے گا

(۳) یا مسلمانوں کی سرحد پر چلا جائوں اور وہاں کا باشندہ بن جائوں۔‘‘

( نیز  الإمامۃ والسیاسۃ کے مؤلف نے بھی ’’أن أضع یدي فی ید یزید‘‘ کا تذکرہ کیا ہے۔ مزید تفصیل کے لئے البدایہ ص۸؍۱۷۰، طبری طبع بیروت ۳؍۲۳۵، اصابہ طبع مصر ص۱؍۳۳۴، ابن اثیر طبع بیروت ص۳؍۲۸۳، مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر ص۳۲۵، جلد۴ و ص۳۳۷، جلد ۴  ملاحظہ فرمائیں ) ۔

 

(۱۴) جناب حسین رضی اللہ عنہ کا اپنے موقف سے رجوع

جناب حسین رضی اللہ عنہ کی تیسری شرط کی منظوری سے متعلق جو تحریر امیر لشکر جناب عمر بن سعد نے گورنر ِکوفہ کو ارسال کی تھی ،ناسخ التواریخ کے مؤلف نے اس کا اِن الفاظ میں تذکرہ کیا ہے کہ

أویأتی أمیر المؤمنین یزید بن معاویۃ فیضع یدہ فی یدہ فیما بینہ و بینہ فیری رأیہ و فی ھذا لک رضی وللأمۃ صلاح

’’یا وہ امیر المؤمنین یزید بن معاویہ کے پاس چلے جائیں اور اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیں اس معاملے میں جو ان دونوں کے درمیان ہے۔ اس کے بعد وہ اپنا فیصلہ کرے گا، اس میں تیری رضامندی اور امت کی بہبود ہے‘‘(ناسخ التواریخ، کتاب دوم طبع ایران، ص۲۳۷)

بہرحال جناب حسین رضی اللہ عنہ کی پاکیزگی ،سرشت اور طہارت ِطینت تھی کہ انہوں نے اپنے مؤقف سے رجوع کر لیا ۔یہ وہ چیز تھی جو اکابر علما اور عقلا کے نزدیک جناب حسین رضی اللہ عنہ کو ان احادیث کی زد سے بچا لے گئی جن احادیث میں امارت ِقائمہ میں خروج کرنے والے کو واجب ُالقتل قرار دیا گیا ہے، چنانچہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ رقم فرماتے ہیں کہ(منہاج السنۃ ص۲؍۲۵۶)

’’صحیح مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان روایت ہوا ہے کہ ’’تمہارا نظم مملکت کسی ایک شخص کی سربراہی میں قائم ہوجائے تو اس وقت جو بھی جماعت میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کرے اس کی گردن تلوار سے اُڑا دو ،چاہے وہ کوئی بھی ہو۔‘‘ لیکن جناب حسین رضی اللہ عنہ اس روایت کی زد میں نہیں آتے، کیونکہ انہیں تو اس وقت شہیدکیا گیا جب انہوں نے اپنے موقف سے دست برداری دے کر یہ چاہا تھا کہ ’’یا تو مجھے اپنے شہر واپس لوٹ جانے دو، یا کسی سرحدی چوکی پر جانے دو، یا یزید کے پاس بھیج دو تاکہ میں اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دوں۔ اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ جناب حسین رضی اللہ عنہ خروج اور طلب ِخلافت کا خیال چھوڑ کر داخل فی الجماعۃ ہوگئے تھے، اور تفریق سے رجوع فرما لیا تھا،لہٰذا حریف پر لازم تھا کہ ان میں سے کوئی بات تسلیم کرتا اور قتل نہ کرتا، یہ باتیں تو ایسی تھیں کہ اگر ایک معمولی آدمی بھی ان کا مطالبہ کرتا تو منظور کرلینا چاہئے تھا، تو جناب حسین رضی اللہ عنہ جیسے معظم انسان کا مطالبہ کیوں نہ منظور کیا گیا؟ اور جناب حسین رضی اللہ عنہ سے کمتر آدمی بھی ایسے مطالبہ کے بعد اس کا مستحق نہ تھا کہ اس کی راہ روکی جائے چہ جائیکہ اُسے قید یا قتل کیا جائے … یہ ماننا پڑے گا کہ جناب حسین رضی اللہ عنہ مظلوم قتل کئے گئے اور یقینا شہید ہوئے …رضی اللہ عنہ‘‘

نیز طبری رحمہ اللہ نے زہیر بن قیس کے اس وقت کے الفاظ نقل کئے ہیں جس وقت ان کا راستہ روکا جارہا تھا اور ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جارہا تھا کہ

فخلوا بین ھذا الرجل وبین ابن عمہ یزید بن معاویۃ  ان یزید لیرضی من طاعتکم بدون قتل الحسین۔ (طبری ص۲۴۳، جلد۶)

’’جناب حسین رضی اللہ عنہ کو اس کے چچا زاد بھائی یزید کے پاس جانے دو اس کا رستہ مت روکو، یزید تمہاری اطاعت گزاری سے قتل حسین رضی اللہ عنہ کے بغیر بھی راضی رہیں گے۔ ‘‘ 

(۱۵) جملہ معترضہ

یہی تیسری بات ہی مبنی بر حقیقت تھی کیونکہ جناب حسین  رضی اللہ عنہ نے جن امیدوں کے سہارے کوفہ کا سفر اختیار کیا تھا وہ اُمیدیں ایک ایک کر کے دم توڑ چکی تھیں اورآپ کی فہم وفراست جو کوفیوں کے خطوط کی بھر مار میں دَب کر رہ گئی تھی، تبدیلی حالات سے اب پھر اُبھر کے سامنے آچکی تھی ، مگر گیا وقت ہاتھ آتا نہیں ۔

 دَراصل فوج کامطالبہ ہتھیاروں کی سپردگی کااس بنا پر تھا کہ آپ کو بحفاظت دمشق پہنچایا جائے اور آئینی تقاضہ بھی یہی تھا مگر آپ کو بھی اس بات کا اندیشہ تھا کہ مکہ سے جو کوفی ہمراہ آئے ہیں وہ کوئی نقصان نہ پہنچائیںکیونکہ آپ وہ خطوط یزید کے سامنے پیش کرنا چاہتے تھے۔ اور حقیقت بھی یہی تھی کہ اگر وہ خطوط یزید کے سامنے پیش کیے جاتے تو یہ خطوط بھیجنے والے مجرم گردانے جاتے ۔یہی تکرار بالآخر جنگ وجدل کی صورت اختیار کر گئی اورکوفیوں کی یہی گستاخی جناب حسین  رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تلوار کے قبضے تک پہنچنے کا سبب بنی ۔کوفی بدکردار جناب حسین  رضی اللہ عنہ کے مقام سے کب آشنا تھے ،انہوں نے ہلہ بول دیا اور جناب حسین  رضی اللہ عنہ بمعہ چنداقربا شہید کر دیئے گئے …

انا للہ وانا الیہ راجعون۔

 

(۱۶) شہادت ِحسین رضی اللہ عنہ کا یزید پر اثر اورقاتل سے سلوک

شہادت ِحسین رضی اللہ عنہ کی خبر جب یزید تک پہنچی تو اسے بڑا دکھ ہوا ۔راوی کا بیان ہے کہ ’’

"بیدہ مندیل یمسح دموعہ"  اُس کے ہاتھ میں رومال تھا جس سے وہ اپنے آنسو پونچھتاجاتا تھا،

 (مزید تفصیل کے لیے خلاصۃ المصائب ص ۲۹۲ تا ۲۹۴ دیکھئے)

اور جب شمر جناب حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک دربار ِیزید میں پیش کرتا او ریہ رجز پڑھتا ہے کہ ٖ

أفلا رکابی فضۃ وذھبا

قتلت خیر الخلق أما وأبا

’’کاش !میرے پائے رکاب سونے چاندی کے ہوتے، میں نے ماں اور باپ ہر دو لحاظ سے اعلیٰ ترین شخصیت کو قتل کیا ہے‘‘

تو یزید انتہائی غصے کی حالت میں کہتا ہے :

’’اللہ تیرے رکا ب کو آگ سے بھر دے تیرے لیے بربادی ہو جب تجھے معلوم تھا کہ حسین خیر الخلق ہے پھر تو نے اسے قتل کیوں کیا؟  میری آنکھوں سے دور ہو جا ‘‘ (خلاصۃ المصائب ص ۳۰۴)

بلکہ ناسخ التواریخ میں ہے کہ یزید نے شمر کو کہا کہ ’’میری طرف سے تجھے کوئی انعام نہیں ملے گا ‘‘یہ سن کر شمر خائب وخاسر واپس ہوا اور اسی طرح وہ دین ودنیا سے بے نصیب رہا  (ناسخ التواریخ ص ۲۶۹) نیز اسی کتاب کے ص: ۲۷۸ پر ہے کہ یزید نے کہا :

’’ اللہ اس کوغارت کرے جس نے حسین  رضی اللہ عنہ کو قتل کیا  ‘‘

طراز مذہب مظفری میں ہے کہ یزید نے کہا کہ ’’اللہ  ابن زیاد کو غارت کرے اس نے حسین کو قتل کیا اور مجھے دونوں جہاں میں رسوا کیا۔‘‘( ص ۴۵۶)

(۱۷) شہاد تِ حسین رضی اللہ عنہ کے بعد محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کی یزید سے ملاقات

واقعۂ شہادت ِحسین رضی اللہ عنہ کے عرصہ بعد جب جناب محمد بن حنفیہ دمشق تشریف لائے تو یزید نے ان کے ساتھ اسی طرح اظہار ِتاسف کیا اورتعزیت کی ۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر یزید نے محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ علیہ کو ملاقات کے لیے بلایا اوراپنے پاس بٹھا کر ان سے کہا کہ

’’حسین کی موت پرخدا مجھے اور تمہیں اجر عطا فرمائے۔ بخدا حسین کا نقصان جتنا بھاری تمہارے لیے ہے ،اتنا ہی میری لیے بھی ہے اور ان کی موت سے جتنی اذیت تمہیں ہوئی ہے، اتنی ہی مجھے بھی ہوئی ہے۔ اگر ان کا معاملہ میر ے ہاتھ میں سپرد ہوتا او رمیں دیکھتا کہ ان کی موت کو اپنی انگلیاں کاٹ کر اوراپنی آنکھیں دے کر ٹال سکتا ہوں تو بلا مبالغہ دونوں کواُن کے لیے قربان کر دیتا ‘‘ تو محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ نے کہا :’’خدا تمہارا بھلا کرے اورحسین رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے اور ان کے گناہوں کو معاف فرمائے یہ معلوم کر کے مجھے مسرت ہوئی ہے کہ ہمارا نقصان ،تمہارا نقصان ،ہماری محرومی، تمہاری محرومی ہے ! حسین رضی اللہ عنہ اس بات کے مستحق نہیں کہ تم اُن کوبرا بھلا کہو اور ان کی مذمت کرو۔ امیر المؤمنین میںدرخواست کرتا ہوں کہ حسین کے بارہ میں کوئی ایسی بات نہ کیجئے جو مجھے ناگوار ہو۔ ‘‘ تو یزید نے کہا: ’’میرے چچیرے بھائی !میں حسین رضی اللہ عنہ کے متعلق کوئی ایسی بات نہیں کروں گا جس سے تمہارا دل دُکھے ‘‘ (انساب الاشراف از بلاذری ،ج ۳)

(۱۸) واقعہ کر بلااور حجة الاسلام امام غزالی  رحمہ اللہ (۵۰۵ھ)

جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ یزید نے قتل حسین کا حکم دیا تھا، یا اس پررضامندی کا اظہار کیا تھا، وہ شخص پرلے درجہ کا احمق ہے ۔اکابر ،وزراء اور سلاطین میں سے جو جو اپنے اپنے زمانہ میں قتل ہوئے اگر کوئی شخص ان کی یہ حقیقت معلوم کرنا چاہے کہ قتل کا حکم کس نے دیا تھا؟ کون اس پر راضی تھا ؟ اور کس نے اس کو ناپسند کیا ؟ تو وہ ا س پر قادر نہ ہو گا کہ اس کی تہہ تک پہنچ سکے اگرچہ یہ قتل اس کے پڑوس میںاس کے زمانہ میں، اور اس کی موجودگی میں ہی کیوں نہ ہوا ہو تو اس واقعہ تک کیونکر رسائی ہو سکتی ہے جو دور دراز شہروں ،اور قدیم میں گزرا ہو پس کیونکر اس واقعہ کی حقیقت کا پتہ چل سکتا ہے جس پر چار سو برس کی طویل مدت ،بعید مقام میں گزرہو چکی ہو۔

امر واقعہ یہ ہے کہ اس بارے میں شدید تعصب کی راہ اختیار کی گئی اس وجہ سے اس واقعہ کے بارہ میں مختلف گروہوں کی طرف سے بکثرت روایتیں مروی ہیں پس یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی حقیقت کا ہرگز پتہ نہیں چل سکتا او رحقیقت تعصب کے پردوں میں روپوش ہے تو پھر ہر مسلمان کے ساتھ حسن ظن رکھنا واجب ہے جہاں حسن ظن کے قرائن ممکن ہوں …الخ

(وفیات الاعیان لابن خلکان بذیل ترجمہ الکیا الہراسی ص ۴۶۰)

 آپ ابو حامد الغزالی  رحمہ اللہ  ۵۰۵ء کے آخری فقرہ’’ فھذا الامر لایعلم حقیقتہ أصلا ‘‘ پر غور فرمائیں جو انہوںنے آج سے نو سوبرس پہلے سپرد ِقلم کیا تھا ، جب کہ اس وقت بھی واقعہ کی صورت ِکا ذبہ کی تصویر کشی کے لیے وضعی روایات کا انبار موجود تھا ۔

(۱۸) واقعہ کر بلا سے متعلق ایک شیعہ مؤرخ کے تاثرات

 واقعہ کربلا سے متعلق ایک مشہور شیعہ مؤرخ جناب شاکر حسین امر وہی کے تاثرات بھی ملاحظہ فرمائیں … فرماتے ہیں کہ

’’ صدہا باتیںطبع زاد تراشی گئیں۔ واقعات کی تدوین عرصہ دراز کے بعد ہوئی۔ رفتہ رفتہ اختلافات کی اس قدر کثر ت ہو گئی کہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کوسچ سے علیحدہ کرنا مشکل ہو گیا ابو مِخْنَفْ لوط بن یحییٰ ازدی کربلا میں خود موجود نہ تھا، اس لیے یہ سب واقعات انہوں نے سماعی لکھے ہیں لہٰذا مقتل ابو مِخْنَفْ پر پورا وثوق نہیں۔ پھر لطف یہ کہ مقتل ابو مِخْنَفْ  کے متعدد نسخے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف البیان ہیں اوران سے صاف پایا جاتا ہے کہ خود ابو مخنف واقعات کو جمع کرنے والا نہیں بلکہ کسی اورشخص نے ا ن کے بیان کردہ سماعی واقعات کو قلمبند کیا ہے ـ ۔ مختصر یہ کہ شہادت ِامام حسین رضی اللہ عنہ کے متعلق تمام واقعات ابتدا سے انتہا تک اس قدر اختلاف سے پرہیں کہ اگر ان کو فرداً فردا ًبیان کیا جائے تو کئی ضخیم دفتر فراہم ہوجائیں …اکثر واقعات مثلاً:

اہل بیت پر تین شبانہ روز پانی کابند رہنا ،فوجِ مخالف کا لاکھوں کی تعداد میں ہونا ، شمر کاسینہ مطہر پربیٹھ کر سر جدا کرنا ، آپ کی لاشِ مقدس سے کپڑوں تک کا اتا ر لینا ، نعش مبارک کا سم اسپاں کئے جانا ، سر بازار اہل بیت کی غارت گری،نبی زادیوں کی چادریں تک چھین کر رعب جمانا  وغیرہ وغیرہ…بہت ہی مشہور اور زبان زد خاص وعام ہیں حالانکہ ان میں سے بعض غلط،بعض مشکوک ،بعض ضعیف ،بعض مبالغہ آمیز اوربعض من گھڑت ہیں۔ (مجاہد اعظم ص ۱۷۸ مؤلف جناب شاکر حسین امروہی)

دوسرے مقام پر رقم فرماتے ہیں کہ:

’’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ بعض واقعات جو نہایت مشہور اور سینکڑوں برس سے سُنّیوں اورشیعوں میں نسلاً بعد نسل منتقل ہوتے چلے آرہے ہیں ،سرے سے بے بنیاد اوربے اصل ہیں ہم اس کو بھی مانتے ہیں کہ طبقہ علماء کے بڑے اراکین مفسرین ہویامحدثین ،مؤرخین یادوسرے مصنّفین ،متقدمین ہویا متأخرین ان کویکے بعد دیگرے بلا سوچے سمجھے نقل کرتے آئے ہیں۔ اوران کی صحت وغیر صحت کو معیارِ اصول پر نہیں جا نچا۔ اس تساہل وتسامح کا نتیجہ یہ ہوا کہ غلط اور بے بنیاد قصے عوام تو عوام خواص کے اذہان وقلوب میںایسے راسخ اور استوار ہو گئے کہ اب ان کا انکار گویا کہ بدیہیات کاانکار ہے ۔ (مجاہد اعظم از شاکر حسین امروہی :ص ۱۶۴)

محترم قارئین !   اب سانحۂ کربلا کی تصویر :

ذرا سی بات تھی اندیشہ عجم نے جسے

بڑھا دیا ہے یونہی زیب داستان کے لیے

 کی مصداق بن گئی اللہ کریم تمام مسلمانوں کو حق سمجھنے اور حق پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔آمین

(۱۹)  سالارِ فوج  مغفور لھم کون تھا  ؟

 سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور ِخلافت میں جناب یزید رضی اللہ عنہ بن ابی سفیان (جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے بھائی) ، جناب ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بن جراح ، جناب خالد رضی اللہ عنہ بن ولیداور دیگر امراء کو جہاد ِشام پر متعین کیا ۔انہوں نے شام وفلسطین وغیرہ کو فتح کیا اور رومیوں کو عبرتناک شکستیں دیں ۔جناب یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کوان کی جگہ پر مقرر کیاگیا انہو ںنے دورِ فاروقی اور دورِ عثمانی میں ر ومیوں کو بری وبحری شکستیں دیں لیکن مدینہ  ٔقیصر (قسطنطنیہ) پر ابھی تک پیش قدمی نہیںکی گئی تھی ، اورشجاعانِ عرب ،رومی نصرانیت کے صدر مقام قسطنطنیہ کے فتح کرنے کا خیال اس وقت سے دل میں بٹھائے ہوئے تھے جب سے انہوں نے ملک شام کو فتح کیا۔

چنانچہ حاضر العالم الاسلامی ص ۲۱۴ پر مرقوم ہے کہ :

’’إن العرب منذ فتحوا الشام فکروا فی فتح القسطنطنیۃ لأنھا کانت لذلک العھد عاصمۃ النصرانیۃ وکان الإسلام لو فتحھا غَلَبَ علی شمالی أوربا بلا نزاع‘‘

’’شجاعانِ عرب شام کو فتح کرنے کے وقت سے قسطنطنیہ کو فتح کرنے کی فکر میں تھے کیونکہ اس دور میں قسطنطنیہ نصرانیت کا دار السلطنت تھا اور اگر قسطنطنیہ  فتح ہو جاتا تو اسلام بلا نزاع شمالی یورپ میں غلبہ حاصل کر لیتا‘‘

لیکن صفین کی خانہ جنگی نے جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی رومی نصرانیت کے خلاف سرگرمیوں کو ملتوی کر دیا  ۴۱ھ میں جب جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مسند ِخلافت پر متمکن ہوئے تو متعدد سالوں کی جدوجہد سے انہوں نے جہازوں کا بیڑا تیا رکیا ، یہ سب سے پہلا جنگی بیڑا تھا، ۴۹ھ میں جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جہادِ قسطنطنیہ کے لئے بری و بحری حملوں کا انتظام کیا۔ فوج میں شامی عرب بالخصوص بنو کلب اور ان کے علاوہ حجازی اور قریشی غازیوں کا دستہ بھی تھا، اور اس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی جماعت بھی تھی۔ اس فوج کے سپہ سالار یزید بن معاویہ تھے، یہ وہی پہلا لشکر تھا جس نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا جس کی بشارت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم  نے بایں الفاظ دی تھی کہ

’أول جیش من أمتی یغزون مدینۃ قیصر مغفورلھم‘‘(صحیح بخاری، ص۱؍۴۱۰)

کہ میری امت کی پہلی فوج جو مد ینۂ قیصر پر جہاد کرے گی ،اُن کے لئے مغفرت ہے۔

علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فتح الباری میں رقم طراز ہیں کہ

قال المھلب فی ھٰذا الحدیث منقبۃ لمعاویۃ لأنہ أول من غزا البحر وولدہ یزید لانہ  اول من غزا مدینۃ قیصر (فتح الباری، مطبوعہ مصر و ریاض، ص۱۰۲، جلد۶)

’’اس حدیث کے بارے میں (محدث) مہلب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ حدیث جناب امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی منقبت میں ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے بحری جہاد کا آغاز کیا اور اس کے فرزند یزید کی منقبت میں ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے مدینہ قیصر پر جہادکیا۔‘‘

علامہ قسطلانی رحمہ اللہ شارحِ بخاری مدینۃ قیصر کی تشریح فرماتے ہیں کہ:

اس سے مرادرومی سلطنت کا صدر مقام قسطنطنیہ ہے اور صحیح بخاری زیر حدیث أول جیش…الخ

کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ کان أول من غزا مدینۃ قیصر یزید بن معاویۃ ومعہ جماعۃ من الصحابۃ کابن عمر وابن عباس وابن الزبیر وأبی أیوب الأنصاري رضی اللہ عنھم أجمعین(صحیح بخاری ص۱؍۴۱۰، اصح المطابع ۱۳۵۷ھ)

’’مدینہ قیصر (قسطنطنیہ) پر سب سے پہلے حملہ کرنے والے یزید بن معاویہ تھے اور ان کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہ کی ایک جماعت تھی :جیسے ابن عمر رضی اللہ عنہ ، ابن عباس رضی اللہ عنہ ، عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ ‘‘اور قسطلانی میں ہے کہ(قسطلانی طبع بیروت، ص۱۰۴ جلد۵)

واستدل بہ المھلب علی ثبوت خلافۃ یزید وأنہ من أھل الجنۃ

’’اس سے محدث مہلب رحمہ اللہ نے یزید کی خلافت پر استدلال کیا ہے اور یہ کہ وہ اہل جنت میں سے ہے‘‘

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ رقم طراز ہیں کہ

وقد ثبت فی صحیح البخاری عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم  قال أول جیش یغزوا القسطنطنیۃ مغفور لھم وأول جیش غزاھا کان امیرھم یزید والجیش عدد معین لا مطلقٌ وشمول المغفرۃ لأحاد ھذا الجیش أقوی… ویقال أن یزید انما غزا القسطنطنیۃ لأجل ذلک ھذا الحدیث… الخ

’’صحیح بخاری میں جناب ابن عمر ، نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ پہلا لشکر جو قسطنطنیہ کو جہاد کرے گا وہ بخشا ہوا ہےـ۔پہلا لشکر جس نے اس کے خلاف جہاد کیا،اس کا امیر یزید تھا۔لشکر کی تعداد معین ہوتی ہے نہ کہ غیر محدود، اور مغفرت میں لشکر کے ایک ایک آدمی کا شامل ہونا زیادہ قوی بات ہے…بعض لوگوں نے یہ بات بھی کہی ہے کہ یزید کے قسطنطنیہ پر جہاد میں جانے کی غرض بھی نبی اکرم کا یہی فرمان ہے۔‘‘ (تفصیل کے لئے منھاج السنۃ النبویۃ فی نقض کلام الشیعۃ والقدریۃ مطبوعہ ۱۳۹۶ھ ص۲؍۲۵۲، المنتقیمن منہاج اعتدال فی نقض کلام الرفض والا عتزال مطبوعہ ۱۳۷۶ھ ص۲۹۰ ملاحظہ فرمائیں۔)

دوسرے مقام پر رقم فرماتے ہیں کہ

’’جب یزید نے اپنے باپ معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قسطنطنیہ پر حملہ کیا تو اس کی فوج میں جناب ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ بھی شریک تھے، یہ مسلمانوں کی سب سے پہلی فوج تھی جس نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا اور صحیح بخاری میں جناب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے پہلی فوج میری امت کی جو قسطنطنیہ پر حملہ کرے گی وہ مغفور ہوگی۔ ‘‘(حسین و یزید مطبوعہ کلکتہ ص۲۸، منہاج السنہ مطبوعہ مصر ص۲۴۵، ج۲)

ایک اور مقام پر یوں تحریر فرماتے ہیں کہ

’’أول جیش یغزوا القسطنطنیۃ مغفورلہ وأول جیش غزاھا کان أمیرھم یزید بن معاویۃ وکان معہ أبوأیوب الأنصاری و توفی ھناک و قبرہ ھناک الآن‘‘ (منہاج السنہ، مطبوعہ ۱۳۹۶ھ، ص۲؍۲۴۵۔۲۵۲، فتاویٰ شیخ الاسلام مطبوعہ ۱۳۸۱ھ، ص۳؍۴۱۴،۴۷۵،۴؍۴۸۶، البدایہ والنھایہ مطبوعہ ۱۳۹۸ھ، ص۶؍۲۲۳، ص۵۹، ص۸۱، ص۲۲۹ جلد۸)

علامہ  ابن حجر عسقلانی  رحمہ اللہ نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ

’’فإنہ کان أمیر ذلک الجیش بالاتفاق‘‘

کہ وہ متفقہ طور پر اس لشکر کا امیر تھا‘‘(فتح الباری مطبوعہ ۱۳۰۵ھ، ص۹۲، جلد۱۱)

مشہور شیعہ مؤرخ المسعودی نے کتاب التنبیہ والاشراف میں لکھا ہے کہ

وقد حاصر القسطنطنیۃ في الاسلام من ھذا العدوۃ ثلاثہ امرآئ: آبائھم ملوک و خلفائ، أولھم یزید بن معاویۃ بن أبی سفیان، والثانی مسلمۃ بن عبدالملک بن مروان والثالث ھارون الرشید بن المھدي (التنبیہ والاشراف مطبوعہ لندن ۱۸۹۴، ص۱۴۰)

یعنی’’ اسلامی دور میں اس  ساحل بحر سے چل کر تین امرائے جیوشِ اسلام نے (جن کے آبائو واجداد خلیفہ و بادشاہ تھے) قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا :سب سے اول یزید بن معاویہ بن ابی سفیان، دوسرے مسلمہ بن عبدالمالک بن مروان اور تیسرے ہارون الرشیدمہدی تھے۔‘‘

ان حوالہ جات سے اظہر من الشمس ہے کہ جس حدیث میں قسطنطنیہ پر حملہ آور فوج کو مغفرت کی بشارت ہے ،ان کے امیر بالاتفاق یزید بن معاویہ تھے اور اسی لشکر میں جناب حسین، جناب ابن عمر، جناب ابن عباس اور جناب ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہم شامل تھے، اگر پہلا حملہ ۴۶ھ میں زیرقیادت جناب عبدالرحمن بن خالد بن ولید تھا تو جناب ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ حصولِ مغفرت کی اس سعادت سے کیوں محروم رہے؟

’’اور پھر اسی(۸۰) سال سے متجاوز عمر میں یزید بن معاویہ کے لشکر میں شمولیت کی اور ارضِ روم کے قریب ہی بیمار ہوئے اور یزید ان کی تیمار داری کرتا تھا۔‘‘ (اصابہ مطبوعہ، مصر ص۱؍۴۰۵)  …  اور جناب ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق یزید بن معاویہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی(البدایہ :۸؍۵۸)

اور الاستعاب میں ہے:

وکان أبوأیوب الأنصاری مع علي بن أبی طالب فی حروب کلھا ثم مات بالقسطنطنیۃ فی بلاد الروم في زمن معاویۃ کانت غزاتہ تحت رأیۃ یزید بن معاویۃ وھوکان امیرھم یومئذ (الاستعاب ،ص۱۵۷)

’’جناب ابو ایوب رضی اللہ عنہ انصاری تمام جنگوں میں جناب علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے پھر ان کی وفات جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں رومیوں کے ملک قسطنطنیہ میں ہوئی۔ ان کا جہاد یزید بن معاویہ کے جھنڈے تلے تھا، جو اس وقت اُن کا امیر تھا‘‘

روض الانف میں ہے کہ یزید بن معاویہ کی قیادت میں قسطنطنیہ پر حملہ کیا گیا تو جناب ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اور انہوں نے یزید بن معاویہ کو وصیت کی تھی کہ مجھے بلادِروم کے بہت ہی قریب دفن کیا جائے چنانچہ مسلمانوں نے ان کی وصیت کے پیش نظر انہیں بلادِ روم کے قریب دفن کردیا جب رومیوں نے یہ منظر دیکھا تو کہا: یہ تم کیا کر رہے ہو؟ تو یزید بن معاویہ نے جواب دیا کہ ’’ہم پیغمبر اعظمصلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابی کودفن کر رہے ہیں۔‘‘ تو رومیوں نے کہا: تم کس قدر احمق ہو ،کیا تمہیں اس بات کا خوف نہیںکہ ہم تمہارے جانے کے بعد اس کی قبر کھود کر اس کی ہڈیاں بھی جلا دیں گے۔ تویزید بن معاویہ یہ الفاظ برداشت نہ کرسکا، للکار کرکہا:واللہ العظیم! اگر تم ایسا کرو گے تو یاد رکھو سرزمین عرب میں جس قدر گرجے ہیں، ہم ان کو گرا دیں گے اور تمہاری جتنی قبریں ہیں ہم اُن کو اُکھاڑ دیں گے۔ یہ جواب سن کر رومیوں نے اپنے دین کی قسمیں اٹھائیں اور جناب ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی قبر کی حفاظت و احترام کا عہد کیا۔

(ملاحظہ ہو: روض الانف شرح ابن ہشام لامام سہیلی طبع قدیم، ص۲؍۲۴۶)

 

(۲۰) شیعہ مؤرخین نے بھی یزید کی سپہ سالاری کو تسلیم کیا ہے!

اغانی شیعہ رقم طراز ہے کہ:

’’ جب قیصر روم نے لاش نکال کر جلا دینے کی بات کہی تو یزید یہ توہین آمیز الفاظ برداشت نہ کرسکا ۔فوراً رومیوں پر دھاوا بول دیا اور لشکر کو اِدھر اُدھر پھیر کر ایسا زبردست حملہ کیا کہ رومیوں کو شکست دے کر شہر کے اندر محصور کردیا اور قسطنطنیہ کے دروازے کو لوہے کی گرز سے ضربیں لگائیں ۔ان ضربوں کی وجہ سے دروازہ جگہ جگہ سے پھٹ گیا۔‘‘  (اغانی شیعہ، ص۱۶؍۳۳)

بلکہ عقد الفرید میں ہے کہ ’’جس وقت قیصر روم نے یہ الفاظ کہے تو اس وقت امیر یزید نے رومیوں کو للکارا اور کہا کہ

لئن بلغنی أنہ نُبّش من قبرہ أو مُثّل بہ ما ترکت بأرض العرب نصرانیا الا قتلتہ ولا کنیسۃ إلا ھدمتھا(عقد الفرید مطبوعہ مصر ج۲ ص۱۳۳)

(مطلب وہی ہے جوگزر چکا ہے)

امیر یزید کے یہ الفاظ بلا تغیر و اختلاف ،الاستعاب ص۲؍۶۳۸، ناسخ التواریخ ص۶؍۴۶، کتاب دوم پر بھی موجود ہیں۔ کیاپورے لشکر اورسالار ِلشکر کی موجودگی میں ایسے الفاظ کوئی معمولی سپاہی یا عہدیدار کہہ سکتا ہے۔ ہرگز نہیں جبکہ ان الفاظ میں ایک سالار ِلشکر کا طنطنہ اور رعب و دبدبہ کارفرما ہے۔

نیز مشہور شیعہ مؤرخ سید امیر علی نے ہسٹری آف سیریز مطبوعہ لندن ۱۹۸۱ء، ص۸۴ پر، ابن جریر طبری نے تاریخ الامم و الملوک ص ۱۷۳؍ج۴ پر، المسعودی نے التنبیہ والاشراف ص۱۴۰ پر، ابوالعلی شاہ محمد کبیرشاہ دانا پوری نے تذکرۃ الکرام مطبوعہ لکھنؤ ص۲۷۶ پر اور محرم نامہ ص۱۱۶ پر تفصیلاً جہاد ِقسطنطنیہ کے واقعات لکھے ہیں اور امیر یزید کی سپہ سالاری کو تسلیم کیاہے، ان شیعہ سنی مؤرخوں اور مصنفوں کے علاوہ عیسائی مصنّفین میں سے پروفیسر ہٹی نے تاریخ عرب میں، ایڈورگبن نے تاریخ عروج و زوال رومۃ الکبریٰ ص۲۸۶ پر اور بازنطین ایمپائر کے ص۱۷۰ پر امیر یزید کی سپہ سالاری کو تسلیم کیا ہے۔

 

وآخرُ دعوانا ان الحمدُ للہ ربّ العالمین

Read 6020 times Last modified on جمعرات, 13 اکتوبر 2016 08:14